Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kismat Ka Likha (Episode 20)

Kismat Ka Likha by Khanzadi

اچھا۔۔۔تو یہ گن کھلونا ہے تمہارے لیے؟

وہاج نے اپنے الفاظ پھر سے دہرائے۔

جی سہی سنا آپ نے!

وہ پھر سے ڈھٹائی سے بولا۔

ویسے آپ کو میرا شکریہ ادا کرنا چاہیے مسٹر!

وہاج احمد!

وہاج نے مسٹر کہنے پر اسے اپنا تعارف کروایا۔

ہاں ہاں۔۔مسٹر وہاج!

وہ ایک ایک لفظ کھینچتے ہوئے بولا۔

آپ کو میرا شکریہ ادا کرنا چاہیے،میں نے اُن غنڈوں سے آپ کی جان بچائی ہے۔

“کس بات کا شکریہ؟

“تم نے اس بے قصور انسان پر گولی چلا دی اور مجھ سے شکریہ کی توقع کیے ہوئے ہو،،

وہاج واپسی کی طرف چلتے ہوئے بولا۔

“سر اگر میں اس پر گولی نہی چلاتا تو وہ آپ پر حملہ کر دیتا اور میرے سامنے کوئی میرے ہم وطن پر ہاتھ بھی اٹھائے میں برداشت نہی کر سکتا،،

وہ وہاج کے ساتھ قدم سے ملاتے چلتے ہوئے بولا۔

وہاج نے رک کر اس کم عمر نوجوان کو دیکھا،دیکھنے میں تو یہ خوش شکل،خوش اخلاق لگ رہا تھا۔مگر وہاج کو اس کی گن رکھنے والی بات زرا پسند نہی آئی۔

تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں تمہارا ہم وطن ہوں؟

وہاج رک کر اس کی طرف پلٹا۔

آپ کے اخلاق سے اور آپ اس غصہ کرنے والے انداز سے۔

ہممم ویری فنی!

وہاج اس کے جواب پر ہلکا سا مسکرا دیا اور آگے بڑھ گیا۔

وہ بھی مسکراتے ہوئے وہاج کے ساتھ چل پڑا۔

آپ نئے آئے ہیں یہاں لگتا ہے،ورنہ کبھی بھی رات کے اس وقت اکیلے باہر آنے کی غلطی نا کرتے۔

رات ہوتے ہی سوئے ہوئے مجرم جاگ جاتے ہیں،ان مجرموں کا کوئی دین مزہب نہی ہوتا۔یہ لوگ بس پیسے کے بھوکے ہوتے ہیں۔

انہیں بس پیسے سے مطلب ہوتا ہے اور اس کام کے لیے یہ کسی کی جان لینے سے بھی نہی کتراتے۔

آخر چلتے چلتے وہاج اپنی سائیکل تک پہنچ گیا۔

اس نے اپنی گری ہوئی سائیکل اٹھائی۔اچھی طرح اس کا جائزہ لیا۔

شکر ہے سائیکل کو کوئی نقصان نہی پہنچا ورنہ وہ آدمی بہت چلاتا۔پہلے ہی وہ سائیکل دینے پر راضی نہی تھا۔

جو بھی ہو تمہیں اس پر گولی نہی چلانی چاہیے تھی۔آئیندہ دھیان رکھنا۔

“ایک انسان کا قتل،گویا ساری انسانیت کا قتل!

“آج کل مجرم کون نہی ہے،ہمارے اپنے گھروں میں ہمارے اپنے ہی دولت کے پجاری بنے ہوئے ہیں۔جو اپنے مفاد کی خاطر اپنوں کی زندگیاں برباد کرنے سے بھی نہی کتراتے،،

وہاج کو مسز حسن کی یاد آ گئی۔

سہی کہا آپ نے سر!

میں کوشش کروں گا۔

وہ لب بھنیچے گہری سانس لیتے ہوئے بولا۔

اگر آپ کہیں تو آپ کو ڈراپ کر دوں؟

وہ سامنے میری گاڑی کھڑی ہے،اُن غنڈو کو آپ کا پیچھا کرتے دیکھا تو میں اِس گلی سے اُس گلی کی طرف پہنچا جہاں آپ بھاگ رہے تھے۔

اٹس اوکے،میں چلا جاوں گا۔

تھینکس!

شکریہ کس لیے سر؟

میری جان بچانے کے لیے،وہاج مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔

“یہ تو میرا فرض تھا سر!

وہ بھی مسکراتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔

وہاج نے سائیکل واپس کی اور کرایہ ادا کیا۔

ہوٹل پہنچا تو احمد صاحب مزے کی نیند سو رہے تھے۔

وہاج مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

موبائل اٹھایا اور واٹس ایپ پر اپنی مام کا نمبر ڈائل کیا۔

کچھ دیر بعد عمارہ نے وہاج کی کال پک کر لی۔

فون پر جگمگاتی وہاج کی تصویر دیکھ کر عمارہ کے چہرے پر خوشی کی مسکان پھیل گئی۔

اسلام و علیکم!

وہاج نے مدھم سی آواز میں بولا۔

وعلیکم اسلام،کیسے ہیں آپ؟

خیریت سے پہنچ گئے تھے آپ؟

آپ نے فون کیوں نہی کیا،میں کب سے آپ کے فون کا انتظار کر رہی تھی۔

پریشان ہو گئی تھی میں،شکر ہے آپ نے کال کر لی۔

عمارہ بولتی چلی گئی۔

وہاج کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

بہت فکر ہو رہی تھی میری؟

وہاج مدھم سے لہجے میں بولا۔

عمارہ مسکرا دی اور سر کو ہلکا سا تھپکا۔

جی۔۔بس مختصر سا جواب دیا۔

ہممم۔۔مجھے بھی فکر ہو رہی تھی اپنی مسز کی،اسی لیے تو کال کی۔

اچھا یہ بتاو گھر پر سب خیریت تو ہے ناں؟

چچی جان نے کچھ کہا تو نہی تمہیں؟

نہی۔۔۔ایسا کچھ بھی نہی ہے۔سب خیریت ہے۔

پھوپھو جان بھی ٹھیک ہیں،آپ کو یاد کر رہی تھیں بہت۔ابھی بازار گئی ہیں نہی تو بات کروا دیتی آپ سے۔

اٹس اوکے پھر کال کر لوں گا میں۔

کچھ دیر پہلے ہی پہنچیں ہیں ہم،شاہزیب کا فلیٹ ہوٹل سے تھوڑے فاصلے پر ہے۔

ابھی وہ وہاں موجود نہی ہے۔جیسے ہی اس کی موجودگی کی خبر ملے گی ہم وہاں پہنچ جائیں گے۔

میں نے کوشش کی اکیلے وہاں جانے کی ابھی مگر!

مگر کیا؟

سب ٹھیک ہے ناں وہاج؟

ہاں سب ٹھیک ہے عمارہ،پریشان مت ہو۔

اصل میں ہوا یہ کہ راستے میں غنڈوں نے میرا پیچھا کیا۔

قریب تھا کہ وہ مجھ پر حملہ کر دیتے۔مگر ایک نیک دل انسان نے آ کر گولی چلائی اور وہ لوگ وہاں سے بھاگ گئے۔

آخری بات پر وہاج نے قہقہ لگایا۔

میری جان پر بنی چکی ہے اور آپ ہنس رہے ہیں،عمارہ رونے کو تیار تھی۔

عمارہ۔۔۔میری جان میں بلکل ٹھیک ہوں۔

اللہ کا شکر ہے کہ وہ لڑکا اچانک وہاں آ گیا اور میری جان بچ گئی۔ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔

میرے لیے فرشتہ بن کر آیا وہ۔

اب سب ٹھیک ہے۔پریشانی والی کوئی بات نہی ہے۔

میں ہوٹل میں ہوں اس وقت،اب پریشان ہونے کی ضرورت نہی ہے۔

لیکن آپ کو اکیلے باہر جانے کی ضرورت ہی کیا تھی وہاج؟

انجان شہر،اجنبی لوگ۔۔اگر کچھ ہو جاتا تو!

ہوا تو نہی ناں یار!

اچھا ناں سوری یار۔۔۔آئیندہ دھیان رکھوں گا۔

وہ تھا کون جس نے آپ کی مدد کی؟

آپ نے اس کا شکریہ ادا کیا؟

کون تھا یہ تو نہی جانتا۔۔۔نام پوچھنا یاد نہی رہا۔

بس اتنا پتہ ہے وہ پاکستانی تھا۔

ایسا جوش اور جذبہ میں نے پہلے کبھی نہی دیکھا،اتنی کم عمر میں اتنا بہادر شخص میں نے آج تک نہی دیکھا۔

اس کی عمر بائیس یا تیئس سال ہو گی۔مگر گن رکھتا ہے اپنے پاس،وہ بھی انجان ملک میں۔

میں نے شکریہ ادا کیا اس کا مگر اس سے پہلے اسے گن رکھنے پر ڈانٹا بھی۔

امید ہے آئیندہ کسی پر گولی نہی چلائے گا وہ۔

آپ بھی کمال کرتے ہیں ایک تو اس نے آپ کی مدد کی،الٹا آپ نے اسے ڈانٹ دیا۔

آپ کو ایسا نہی کرنا چاہیے تھا وہاج۔

ہاں جانتا ہوں۔مگر اس کو ڈانٹنا ضروری تھا۔

اگر انجان ملک میں اس سے کوئی قتل ہو جاتا تو ساری زندگی وہاں کی جیل میں گزارنی پڑتی۔یا پھر جان سے ہاتھ دھونا پڑتا۔

ٹھیک ہے۔۔۔جیسا آپ کو مناسب لگا آپ نے کیا۔

آپ ٹھیک ہیں۔میرے لیے بس اتنا ہی کافی ہے۔

آپ آرام کر لیں۔تھک گئے ہو گے،اتنا لمبا سفر تھا۔

کہی طبیعت نہ خراب ہو جائے آپ کی تھکن کی وجہ سے۔

ہممم۔۔۔ٹھیک ہے میں کچھ دیر تک کال کرتا ہوں۔

اگر نا بھی کروں کال تو پریشان مت ہونا،مصروف ہو سکتا ہوں۔

جی ٹھیک ہے،خدا حافظ۔

خدا حافظ۔۔۔وہاج نے مسکراتے ہوئے کال کاٹ دی۔

“تم کب تک آرام فرماتی رہو گی اب؟

عمارہ نے جیسے ہی فون کان سے ہٹایا مسز حسن کمرے میں داخل ہوئیں۔

چچی جان آپ!

عمارہ چونک کر اٹھ کھڑی ہوئی۔

ہاں میں ہی ہوں،مجھے بھول گئی ہو کیا؟

ننہی چچی جان۔۔۔عمارہ کو ان کا سوال عجیب لگا۔

یہ فون کہاں سے آیا تمہارے پاس؟

مسز حسن کی نظر جب عمارہ کے ہاتھ پر پڑی تو عمارہ کے ہاتھ سے فون کھینچ لیا۔

یہ پھوپھو جان کا فون ہے۔

اس کا فون تمہارے پاس کیسے آیا؟

مسز حسن غصے سے چلائیں۔

وہاج سے بات کرنے کے لیے دیا تھا انہوں نے مجھے!

عمارہ خود کو ریلیکس کرتے ہوئے بولی۔

کیوں؟

اس کیوں کا مطلب اچھی طرح جانتی ہیں آپ چچی جان۔

میرا نہی خیال کہ آپ کو سب کچھ بتانا پڑے گا۔

مسز حسن غصے سے عمارہ کی طرف بڑھیں۔اس کا جبڑہ دبوچ لیا۔

تم جتنی مرضی کوشش کر لو،اس قید سے رہائی نہی ملنے والی تمہیں۔

تم اسی گھر میں قید رہو گی ہمیشہ!

کہہ دو وہاج سے جتنی مرضی کوشش کر لے وہ،شاہزیب تک پہنچنا نا ممکن ہے۔

اگر پہنچ بھی گیا تو وہ کبھی نہی مانے گا کہ تمہیں طلاق دے چکا ہے۔

جانتی ہو پھر کیا ہو گا؟

اسی کشمکش میں وہاج کے دس دن گزر جائیں گے۔

دس دن کے بعد وہ خالی ہاتھ واپس آئے گا پاکستان اور پھر باقی کی زندگی جیل میں گزارے گا۔اور تم رہو گی اس قید خانے میں،ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔

سن لیا تم نے؟

مسز حسن عمارہ کو چھوڑتے ہوئے بولیں۔

عمارہ لڑکھڑاتی ہوئی بیڈ پر جا گری۔

“مجھے یقین ہے وہاج پر،وہ ثبوت کے ساتھ ہی واپس آئیں گے،،

آپ کی یہ قید تو اسی دن ختم ہو چکی تھی جس دن میں عمارہ حسین سے عمارہ وہاج بنی۔

اب آپ کی یہ قید مجھے تکلیف نہی دیتی،میری آزادی کا پروانہ ہے یہ چند دن کی قید۔

وہاج جلدی واپس آئیں گے اور آپ کے بیٹے کو اور آپ کو اپنے کیے سزا ضرور دلوائیں گے۔

“جو شخص آٹھ سال تک سات سمندر پار رہ کر بھی میری محبت نہی بھلا پایا،اپنی زندگی میں آگے نہی بڑھ پایا۔

“جو آٹھ سال بعد بھی میری خاطر ہی واپس آیا،وہ شخص میرے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے کچھ بھی!

مگر یہ باتیں آپ کی سمجھ میں نہی آنے والی کیونکہ آپ محبت سے نا واقف ہیں۔آپ تو بس نفرت کرنا جانتی ہیں اور خود غرضی ہی آپ کے لیے سب کچھ ہے۔

“یہ دولت،یہ جائیداد بس یہی آپ کی تمنا ہے،پیار،رشتے اور خلوص ان سب کی کوئی قدر نہی آپ کی زندگی میں،،

بند کرو اپنی یہ بکواس!

مسز حسن غصے سے چلائیں۔

ساری زندگی تمہاری پرورش کی،تمہیں آنکھوں پر سجا کر رکھا۔

تمہیں سر ڈھانپنے کو چھت دی،اپنے بیٹے کی زندگی میں شامل کیا۔مگر تم نے شاہزیب کو کبھی دل سے قبول ہی نہی کیا۔

تمہیں تو بس وہاج کی پرواہ تھی۔تم نے کبھی اس رشتے کو نبھانے کی کوشش ہی نہی کی،

اگر کوشش کی ہوتی تو شاہزیب آج تمہارے ساتھ ہوتا!

نہی چچی جان آپ ابھی بھی غلطی پر ہیں!

اگر مجھے یہ رشتہ نبھانا ہی نہ ہوتا تو میں کبھی اس رشتے کو قبول ہی نا کرتی۔

“میرا خدا جانتا ہے،میں نے ہر رشتہ خلوص سے نبھایا مگر مجھے بدلے میں مخلصی کی بجائے ہمیشہ نفرت ہی ملی،،

“بس ایک رشتہ تھا جو ہمیشہ مجھ سے مخلص رہا،وہ تھا وہاج کی محبت کا رشتہ،،

جس رشتے کو میں نے آپ کے خود غرضی کے رشتے کی خاطر ٹھکرایا۔

آپ سب سے مجھے کیا ملا؟

بس نفرت!

نفرت کے سوا کچھ نہی دیا آپ سب نے مجھے،مگر ایک رشتہ ایسا بھی تھا جس نے نفرت کے بدلے بھی محبتیں ہی نچھاور کی ہمیشہ۔

“وہ رشتہ تھا محبت کا رشتہ،جو کل بھی میرے ساتھ تھا اور آج بھی میرے ساتھ ہے،،

اس رشتے سے تمہیں کچھ حاصل نہی ہونے والا،یاد کر لو میری بات۔

اب چلو باہر چل کر کھانا بناو،دو دن سے تھک گئی ہوں میں باہر کا کھانا کھا کھا کر۔

عاصم بھی آنے والا ہے،اچھا نہی لگتا گھر کے داماد کو بار بار باہر کا کھانا کھلانا۔

سوری چچی جان!

“میرے شوہر کا حکم ہے کہ جب تک میں یہاں ہوں کوئی کام نہی کروں گی،،

آپ اپنے کاموں کے لیے کسی ملازمہ کا انتظام کر لیں پلیز۔

مسز حسن کی تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں عمارہ کے جواب پر۔

تمہاری اتنی ہمت کے تم مجھے جواب دو گی اب!

مسز حسن نے عمارہ کو تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا۔

مام۔۔۔۔حمزہ اچانک سے عمارہ کے سامنے آ گیا۔

یہ کیا کر رہی ہیں آپ؟

تم ہٹو سامنے سے حمزہ،یہ تمہارا معاملہ نہی ہے۔

دور رہو اس معاملے سے!

نہی مام یہ میرا بھی معاملہ ہے،جب تک وہاج بھائی واپس نہی آ جاتے عمارہ ہماری زمہ داری ہے۔

اب تم بھی زبان لڑانا سیکھ گئے ماں سے؟

سہی تو کہہ رہا ہے حمزہ مام!

ولی بھی وہاں آ گیا۔

عمارہ ہم سب کی زمہ داری ہے۔

آپ غلط کر رہی ہیں اس کے ساتھ،

مسز حسن عمارہ کے حق میں آواز اٹھائے اپنے دونوں بیٹوں کو بس دیکھتی ہی رہ گئیں۔

دیکھ لوں گی میں تم سب کو بس چند دن اور!

بس چند دن اور صبر کر لو،پھر دیکھنا میں کیسے اپنی بیٹی کے ساتھ ہوئے ایک ایک ظلم کا بدلہ لیتی۔

میری بیٹی کی آنکھوں سے گرے ایک ایک آنسو کا بدلہ چکانا ہو گا عمارہ اور وہاج کو،وہ غصے سے بولتی ہوئیں کمرے سے باہر نکل گئیں۔

عمارہ تم فکر مت کرو ہم دونوں ہیں تمہارے ساتھ،ان دو بھائیوں کے ہوتے ہوئے تمہیں کسی سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہی ہے۔

نہی حمزہ اور ولی،تم دونوں ایسا مت کرو۔

چچی جان سے ایسے بات نہی کرنی چاہیے تھی تم دونوں کو۔

نہی عمارہ کسی نا کسی کو تو آواز اٹھانی ہی پڑے گی۔جواب ولی کی طرف سے آیا۔

“ظلم کرنے والے کے ساتھ ساتھ،چپ چاپ ظلم ہوتے دیکھنا بھی جرم ہے۔جرم کرنے والا اور چپ چاپ ظلم ہوتے دیکھنے والا بھی مجرم ہوتا ہے،،

وہ دونوں بول کر کمرے سے باہر نکل گئے۔

“پتہ نہی کیا پٹی پڑھا رہی ہے یہ میرے بیٹوں کو،دونوں ہی میرے خلاف ہو رہے ہیں۔

اگر ایسے ہی چلتا رہا تو بہت جلد یہ اس گھر پر قبضہ جما لے گی۔

مسز حسن بڑبڑاتے ہوئے چلتی جا رہی تھیں کہ اچانک عاصم سے ٹکرا گئیں۔

اوہ آئی ایم سوری آنٹی،آپ ٹھیک ہیں؟

جی عاصم بیٹا میں ٹھیک ہوں،اب تو بس تم ہی ہو جو میرا احساس کرتے ہو۔

باقی سب کے لیے تو مر ہی چکی ہوں میں۔

آنٹی آپ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں،سب ٹھیک ہے ناں؟

کچھ بھی ٹھیک نہی ہے بیٹا،میرے اپنے سگے بیٹے ہی میرے خلاف ہو رہے ہیں۔

صرف اور صرف اس عمارہ کے لیے مجھ سے زبان لڑانے لگے ہیں۔

تم ہی سمجھاو ان دونوں کو کچھ!

جی آپ فکر مت کریں،میں ابھی بات کرتا ہوں ان دونوں سے۔

کہاں ہیں وہ دونوں؟

عمارہ کے کمرے میں،لاسٹ والا کمرہ اسی کا ہے،مسز حسن جھوٹے آنسو صاف کرتے ہوئے عمارہ کے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولیں۔

ٹھیک ہے میں ابھی بات کرتا ہوں،عاصم عمارہ کے کمرے کی طرف چل دیا۔

ہیلو بے بی ڈول!

عاصم کمرے کا دروازہ ناک کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔

عمارہ کو عاصم کی آنا اچھا نہی لگا،اور اس کا بے بی ڈول کہنا عمارہ کو سخت نا پسند محسوس ہوتا مگر کچھ بولتی نہی تھی۔

“عاصم بھائی میرا نام بے بی ڈول نہی عمارہ ہے!

“بلکہ بہتر یہی ہو گا کہ آپ مجھے مسز وہاج کہہ کر پکاریں۔

عمارہ نظریں جھکائے بہت با ادب انداز میں بولی۔

عاصم مسکرائے بنا نا رہ سکا۔

اوکے مسز وہاج!

سو کیسے ہیں آپ کے ہسبینڈ،خیریت سے پہنچ گئے امریکہ؟

جی الحمدللہ۔۔۔۔

عمارہ نے مختصر جواب دیا۔

میری خواہش کے تمہیں اپنی محبت مل جائے،خوش قسمت ہے وہاج جو اسے تم جیسی ہم سفر ملے گی۔

عاصم مسکراتے ہوئے بول کر تیِزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔

عمارہ حیرانگی سے عاصم کو جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی۔

تھوڑی دیر بعد مسز احمد گھر واپس آ گئیں۔

عمارہ ان کے لیے پانی لینے کچن کی طرف چل دی،اس کے قدم کچن کے باہر ہی تھم گئے اندر سے آنے والی آوازیں سن کر۔

دیکھو عاصم میں ابھی گھر نہی جا سکتی،منیبہ کی حالت تمہارے سامنے ہی ہے۔اسے ایسے تنہا چھوڑ کر نہی جا سکتی میں۔

اپنی مام سے کہہ دو کہ ساری دعوتیں کینسل کر دیں۔ابھی میرے پاس وقت نہی ہے۔

مگر انیسہ سارے ریلیٹوز کے فون آ رہے ہیں بار بار،ماموں کی طرف جانا ہے آج لازمی۔

امی ان کو شام کا بول چکی ہیں،منیبہ اب پہلے سے بہتر ہے۔

چلو اب گھر،کل پھر سے آ جانا،مگر آج جانا ضروری ہے۔

اگر مگر میں کچھ نہی جانتی،تمہیں جانا ہے تو جاو۔

میں منیبہ کس اکیلی چھوڑ کر نہی جا سکتی۔

تو ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی!

عاصم غصے سے کچن سے باہر نکل گیا۔جیسے ہی اس کی نظر باہر کھڑی عمارہ ہر پڑی شرمندگی زے نظریں جھکاتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔

عمارہ کچن میں داخل ہو گئی۔

پانی کا گلاس اٹھایا اور اپنے کمرے کی طرف چل دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *