Kismat Ka Likha by Khanzadi NovelR50493 Kismat Ka Likha (Episode 26)
Rate this Novel
Kismat Ka Likha (Episode 26)
Kismat Ka Likha by Khanzadi
وہاج بھائی آپ پاکستان واپس جا رہے ہیں’کیا ہوا سب خیریت تو ہے؟
حنان سوال پر سوال کر رہا تھا مگر وہاج فون پر مصروف تھا۔جیسے ہی اسے اپنے ڈیڈ کا ٹکٹ کنفرمیشن میسیج ملا وہ فون جیب میں رکھتے ہوئے حنان کی طرف متوجہ ہوا۔
نہی کچھ خیریت نہی ہے حنان!
عمارہ۔۔۔یعنی میری بیوی پر شاہزیب کی بہن نے جان لیوا حملہ کیا ہے۔
جان سے مارنے کی کوشش کی ہے اس نے عمارہ کو،مجھے جلد از جلد پاکستان پہنچنا ہو گا۔
عمارہ ہاسپٹل میں ہے۔اسے میری ضرورت ہے۔
بس یہ شاہزیب جلدی آ جائے تو میں ہوٹل پہنچوں۔میرا بس چلے تو ابھی اڑ کر پہنچ جاوں پاکستان۔
ویسے تم تو سب جانتے ہی ہو میرے بارے میں،میرا مطلب میرے نکاح،عمارہ کی طلاق،سب کچھ جانتے تو ہو تم۔تو کیا اس بات کی خبر نہی ملی تمہیں۔
آپ کی وائف کے ساتھ جو ہوا مجھے اس کا افسوس ہے مگر آپ کے اس سوال کا کوئی جواب نہی ہے میرے پاس۔حنان واپس صوفے پر چلا گیا۔
شاہزیب کو یہاں سے گئے ایک گھنٹہ ہو چکا تھا۔حنان ابھی اسے فون کرنے ہی والا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
حنان گن لوڈ کرتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا۔دروازہ کھولا تو سامنے شاہزیب کھڑا تھا۔
حنان نے اس کے لیے راستہ چھوڑا تو وہ اندر آ گیا اور شرافت سے وہ پیپرز وہاج کی طرف بڑھا دئیے۔
وہاج نے پیپرز اس سے لے کر اچھی طرح کھول کر دیکھے۔یہ اصلی پیپرز تھے۔
وہاج نے سکھ کا سانس لیا اور پیپرز اپنی جیب میں رکھ لیے۔
اگر شرافت سے میری بات مان لیتے تو مجھے تمہاری بیوی اور بیٹے کے ساتھ ایسا کچھ نہ کرنا پڑتا مگر تمہارا قصور نہی ہے اس میں شاہزیب،”یہ سب تو ممانی جان کی تربیت کا اثر ہے۔
مجھے امید ہے تم اپنے بیٹے کی تربیت ایسی نہی کرو گے۔
“زندگی میں دولت ہی سب کچھ نہی ہوتی،رشتے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔
پیسے کی بجائے رشتوں کی قدر زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
“پیسہ تو ہاتھ کی میل ہے،پانی کی طرح بہہ جائے گا مگر رشتے ہمیشہ ساتھ رہیں گے،،
امید ہے تم میری بات سمجھ گئے ہو گے۔امید ہے اپنے بیٹے کی تربیت اپنی تربیت جیسی نہی کرو گے۔
کوشش کرو کہ پاکستان واپس آ جاو اور ماموں جان سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لو۔
ہو سکتا ہے ان کے دل میں تمہارے لیے کوئی نرم گوشہ پیدا ہو جائے اور وہ تمہیں معاف کر دیں۔
“کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ماں،باپ بچوں سے معافی کی امید رکھتے ہیں اور بچے اسے ان کی انا سمجھ بیٹھتے ہیں،،
ابھی بھی کچھ نہی بگڑا بہت وقت ہے تمہارے پاس،اپنے بیٹے کا مستقبل یہاں رہ کر خراب مت کرو۔
عبدللہ بہت پیارا بچہ ہے۔اسے اپنوں کے پیار کی ضرورت ہے۔
اس کے دل میں اپنے وطن اور اپنوں کی محبت تو ڈال دی ہے تم نے مگر اسے اپنوں سے دور رکھ کر۔
اسے لے کر جاو پاکستان،ملواو اس کے اپنوں سے۔
وہ بچہ ہے شاید کبھی نا بول سکے تم سے مگر میں نے اس کی آنکھوں میں محبت دیکھی ہے سب کے لیے۔
چلتا ہوں،ہو سکے تو میری باتوں پر غور کرنا۔
وہاج اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے عبدللہ کی طرف بڑھا۔
عبدللہ کو گود میں اٹھا کر اسے پیار کیا اور خدا حافظ کہتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔حنان بھی اس کے ساتھ باہر آ گیا۔
ان کے جاتے ہی شاہزیب تیزی سے اپنی بیوی اور بیٹے کی طرف بڑھا۔
Maryam…listen to me!
مگر اس کی بیوی اسے دھکا دیتے ہوئے اوپر چلی گئی اپنے کمرے میں۔
You are a cheater!
اس کے منہ پر بس یہی الفاظ تھے۔
شاہزیب نے غصے سے ٹیبل کو ٹھوکر ماری۔تم دونوں کو میں چھوڑنے والا نہی۔
عبدللہ شاہزیب کے پاس آ گیا۔
بابا آپ کو چوٹ تو نہی لگی؟
مام آپ سے کیوں ناراض ہیں؟
کچھ نہی بیٹا آپ جاو اپنے کمرے میں،بابا کچھ دیر تک گھر واپس آئیں گے۔
شاہزیب اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اوپر کی طرف بڑھا تا کہ اپنی بیوی سے بات کر سکے مگر وہ کمرے کا دروازہ بند کیے بیٹھی تھی۔
“میری گاڑی میں چلیں ہوٹل!
حنان نے وہاج کو لفٹ کی آفر دی۔
وہاج مسکرا دیا۔
اگر میں ناں کہہ دوں تو؟
تو پھر میں میں یہ طریقہ اپنا لوں گا۔حنان نے اس کے سامنے شاہزیب کی گن لہرائی۔
وہاج مسکرا دیا،نہی مجھے پہلے والی آفر واپس دے دو۔میری فلائٹ ہے آج رات۔
ہممم گڈ۔۔۔حنان نے قہقہ لگایا۔
اگر آپ پیار سے مان جاتے تو مجھے یہ دھمکی نا لگانی پڑتی۔
دونوں مسکراتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئے۔حنان نے گاڑی ہوٹل کی طرف بڑھا دی۔
اب تو بتا دو آخر تم میرے بارے میں سب کیسے جانتے ہو حنان؟
اب تو سب ٹھیک ہو چکا ہے۔
جیسے ہی حنان نے گاڑی ہوٹل کے باہر پارک کی وہاج نے سوال کر ڈالا یہ سوچتے ہوئے کہ پتہ نہی دوبارہ ملاقات ہو یا نہ ہو۔
حنان نے فقط مسکرانے پر اکتفا کیا۔
اسے مسکراتے دیکھ وہاج نے افسوس سے سر ہلایا۔مطلب تم نہی بتانے والے۔
اگر ہم دوبارہ ملے تو ضرور بتاوں گا،
حنان کے جواب پر وہاج گاڑی سے باہر نکل گیا،پھر واپس پلٹا۔
Thanks!
بس اتنا بولتے ہوئے وہاج ہوٹل کی طرف بڑھ گیا۔
حنان نے مسکراتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کر دی مگر اسی وقت اس کے فون پر منال کی کال آنےگی۔
حنان نے گاڑی سائیڈ پر پارک کی اور منال کی کال پک کی۔
ہیلو۔۔۔۔حنان کے کانوں میں ایک مردانہ آواز گونجی۔
آواز تو پہچان لی ہو گی ملک حنان!
غصے سے حنان کی رگیں تن گئیں وہ گاڑی سے باہر نکل گیا۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟
حنان غصے سے چلایا۔
دوسری طرف سے قہقہ بلند ہوا۔
ہمت تو ابھی دیکھی ہی نہی تم نے ملک حنان!
ویسے تمہیں داد تو دینی پڑے گی میری ہمت کی۔
اب آئے گا شکار پنجرے میں!
بہت شوق ہے نہ تمہیں دوسروں کی کمزوری کا فائدہ اٹھانا کا،اب تمہاری کمزوری میرے قبضے میں ہے۔
ہمت ہے تو آ کر بچا لو اپنی بیوی اور بیٹی کو۔
“اگر میری بیوی اور بیٹی کو ہاتھ بھی لگایا تو میں تمہاری جان لے لوں گا شاہزیب۔۔حنان غصے سے چلایا۔
ہاتھ تو لگانا پڑا مجھے اس کے ہاتھ پیر باندھنے کے لیے،بہت پھڑ پھڑا رہی تھی۔
حنان۔۔۔حنان۔۔۔بس تمہارے نام کی رٹ لگا رکھی تھی اس نے۔بہت مشکل سے سلایا ہے اسے۔آخری بات پر شاہزیب نے قہقہ لگایا۔
تمہاری بیٹی بھی سو رہی ہے آرام سے۔۔۔پورا فیڈر خالی کر دیا اس نے۔
شاہزیب کے سر پر جنون سا سوار تھا۔
حنان غصے سے چلایا۔
“اگر میری بیوی یا بیٹی دونوں میں سے کسی کو کوئی نقصان پہنچا تو میں تمہاری جان لے لوں گا یہ بات یاد رکھنا،،
کیا چاہیے تمہیں؟
حنان غصے سے دھاڑا۔
یہ ہوئی ناں بات،شاہزیب ہنستے ہوئے بولا۔
مجھے وہ پیپرز واپس چاہیے!
اگلے ہی پل شاہزیب سنجیدگی سے بولا۔
“مل جائیں گے مگر میری بات یاد رکھنا تم،میری بیوی اور بیٹی کو کچھ نہی ہونا چاہیے۔
اگر تم وقت پر پہنچ گئے تو ٹھیک۔۔۔ورنہ نقصان کے زمہ دار تم خود ہو گے ملک حنان!
شاہزیب نے کال کاٹ دی۔
حنان نے غصے سے فون گاڑی کی سیٹ پر پھینک دیا۔
******************************************
یہ بتاو کام ہو گا یا نہیں۔۔۔اگر وہ پیپرز تم نے وہاج سے واپس نہی لیے تو ہم دونوں کے لیے بہت بڑا مسلہ ہو جائے گا۔
مسز حسن رازدانہ انداز میں شاہزیب سے بات کرنے میں مصروف تھیں۔
ممی آپ فکر مت کریں۔ہر کسی کو اپنی فیملی بہت پیاری ہوتی ہے اور مجھے یقین ہے کہ ملک حنان وہاج سے وہ پیپرز ضرور واپس لائے گا۔
ملک حنان!
یہ کون ہے۔۔۔؟
مسز حسن نا سمجھی کے انداز میں بولیں۔
یہ نام میں پہلے بھی کہی سن چکی ہوں مگر یاد نہی کہاں۔
پتہ نہی ممی یہ کون ہے،ہر وقت وہاج کے ساتھ رہتا ہے سایے کی طرح۔
اسی کی وجہ سے اب تک میں وہاج کا کام تمام نہی کر پایا۔ورنہ آج تک میرے ہاتھ سے کوئِی شکار بچا نہی کبھی۔
جو بھی کرنا ہے جلدی کرو شاہزیب۔۔۔یہاں ایک نئی مصیبت کھڑی ہو گئی ہے۔
منیبہ نے عمارہ کو جان سے مارنے کی کوشش کی ہے۔کل رات سے وہ ہاسپٹل میں ہے۔اگر مر کھپ گئی ناں تو لینے کے دینے پڑیں گے۔
میں جانتی ہوں وہاج چپ نہی بیٹھے گا،جیسے ہی وہ یہاں آئے گا پولیس کاروائی کرائے گا۔
اگر منیبہ کو حملہ کرتے دیکھ لیا ہو عمارہ نے تو بہت بڑی مصیبت ہو جائے گی۔
منیبہ تو جیل جائے ہی گی ساتھ میں بھی۔۔۔عمارہ کی طلاق چھپانے کے جرم میں۔
ایسا کچھ نہہی ہو گا ممی!
سب ٹھیک ہی ہو گا،جیسا آپ چاہتی ہیں۔
وہاج پاکستان واپس نہی پہنچ سکے گا یہ میرا وعدہ ہے آپ سے۔
آپ یہ سب سوچنا بند کریں اور ریلکس رہیں۔کہی ایسا نا ہو کسی کو آپ پر شک ہو جائے۔
مجھ سے بات کرنے سے بھی گریز کریں۔
اب میں کال کاٹ رہا ہوں۔۔۔خدا حافظ
ٹھیک ہے۔۔۔!
مسز حسن جیسے ہی رسیور رکھ کر واپس پلٹیں پیچھے حسن صاحب کھڑے تھے۔
مسز حسن کے ہاتھ،پیر پھولنے لگے اور چہرہ پسینے سے بھرنے لگا۔
آ آ آ آپپپ۔۔۔۔ککککب آئے؟
مسز حسن کے لیے ایک ایک لفظ بولنا محال ہو رہا تھا۔
حسن صاحب چہرے پر سنجیدگی لیے پلٹے اور اپنی گھڑی اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی۔
بس ابھی ابھی جب تم فون پر باتیں کرنے میں مصروف تھی۔
ان کے جواب پر مسز حسن کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔
وہ میں عاصم سے بات کر رہی تھی۔وہ انیسہ سے ناراض ہو کر جو چلا گیا تھا۔
میں نے سوچا میں خود بات کر لوں اس سے!
کککیسی طبیعت ہے اب عمارہ کی؟
مسز حسن بات بدلتے ہوئے بولیں۔
پہلے سے بہتر ہے اب وہ،لیکن یہ عاصم کس بات پر ناراض ہے انیسہ سے؟
وہ انیسہ سے کسی بات پر جھگڑا ہو گیا تھا بس اسی لیے،آپ تو جانتے ہیں انیسہ کتنی ضدی ہے۔
عاصم چاہتا تھا کہ وہ گھر چلے اس کے ساتھ مگر انیسہ نے انکار کر دیا کیونکہ وہ کچھ دن اور منیبہ کے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔
یہ سب کب ہوا اور کسی نے مجھے بتانا ضروری نہی سمجھا؟
حسن صاحب غصے اور صدمے کی ملی جلی کیفیت میں بولے۔
وہ چھوٹی سی بات تھی حسن صاحب!
کیا یہ چھوٹی سی بات لگتی ہے تمہیں؟
سمجھاو انیسہ کو اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔
“عورت کا حقیقی گھر اس کے شوہر کا گھر ہوتا ہے،،
تم نے سمجھایا نہی اسے؟
وہ میں بس سمجھانے ہی والی تھی اسے۔۔۔۔
کب؟
کب سمجھاو گی؟
جب سب کچھ لٹ جائے گا،تمہیں اسی وقت انیسہ کو عاصم کے ساتھ گھر بھیجنا چاہیے تھا۔
“عورت جب مرد کی انا کو آزمانے لگے تو انا جیت جاتی ہے اور رشتے ہار جاتے ہیں،،
حسن صاحب شدید غصے میں لگ رہے تھے۔
جی جی میں اس کو ابھی بھیجتی ہوں گھر۔۔۔آپ غصہ مت کریں۔وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئیں۔
انیسہ کے کمرے میں پہنچیں تو عاصم وہاں پہلے سے ہی موجود تھا۔
اچھا ہوا عاصم تم آ گئے۔۔۔میں انیسہ کو گھر بھیجنے ہی والی تھی۔
میاں،بیوی میں چھوٹی چھوٹی لڑائیاں ہو حاتی ہیں۔اس طرح ناراض نہی ہونا چاہیے ایک دوسرے کو۔
عاصم مسکرا دیا۔
جی۔۔بلکل سہی کہا آپ نے آنٹی جی!
مگر میں ان مردوں میں سے نہی ہوں جو اہنی بیوی کو ماں،باپ پر ترجیح دیتے ہیں۔
کچھ لوگوں کی سچائی وقت سے پہلے ہی سامنے آ جاتی ہے۔
یہ تو بہت اچھا ہوا میرے لیے کہ انیسہ کی سچائی وقت پر میرے سامنے آ گئی ورنہ ساری زندگی پچھتانا پڑ سکتا تھا مجھے۔
“جس عورت کی نظر میں میرے باپ کی کوئی قدر نہی،اس عورت کے ساتھ میں پوری زندگی نہی گزار سکتا،،
کیا مطلب میں سمجھی نہی بیٹا۔۔۔مسز حسن کی گھبراہٹ ان کے چہرے پر واضح نظر آ رہی تھی۔
آئِٙیے میں سمجھاتا ہوں آپ کو!
وہاج کمرے سے باہر نکل گیا اور انیسہ کا نام پکارنے لگا۔
انیسہ۔۔۔۔انیسہ!
انیسہ اپنے نام کی پکار سن کر وہاں آ پہنچی اور اس کے ساتھ ولی،حسن صاحب اور منیبہ بھی باہر آ گئے۔
عاصم کو سامنے دیکھ کر انیسہ نے گردن غرور سے اکڑائی اور منہ دوسری طرف موڑ لیا۔
مسز حسن انیسہ کے پاس آ رکیں۔
دیکھا ممی آپ نے آ گیا ناں مجھے منانے،میں جانتی تھی عاصم میرے بغیر نہی رہ سکتا۔
وہ اپنی ماں کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولی،مسز حسن نے اسے گھورا۔
اچھا ہوا آپ سب یہاں آ گئے ہیں!
مجھے معاف کیجئیے گا انکل مگر اب میں یہ رشتہ مزید نہی نبھا سکتا۔
یہ رہے طلاق کے پیپرز۔۔۔۔
انیسہ حسن میں ان سب گواہوں کے سامنے تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔
طلاق دیتا ہوں۔۔۔
طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔
انیسہ کے چہرے کا رنگ فق پڑ گیا عاصم کے الفاظ سن کر۔
وہ لڑکھڑاتی ہوئی سیڑھیوں پر بیٹھ گئی۔
عاصم۔۔۔۔آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟
اس کے مزید بولنے سے پہلے ہی عاصم نے ہاتھ کے اشارے سے اسے مزید بولنے سے روک دیا۔
“جو عورت اپنے شوہر کی فرمانبردار نہی بن سکتی،وہ زندگی بھر ساتھ کیا نبھائے گی،،
اب آرام سے زندگی گزارو اپنی بہن کے ساتھ۔۔۔
خدا حافظ!
عاصم حسن صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔
مسز حسن اور باقی سب جہاں کھڑے تھے وہی کھڑے رہ گئے۔
حسن صاحب وہ پیپرز میز پر رکھتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔
مسز حسن اور منیبہ دونوں انیسہ کی طرف بڑھیں مگر انیسہ سیڑھیاں پھلانگتی ہوئی اپنے کمرے میں چل گئی۔
