Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kismat Ka Likha (Episode 18)

Kismat Ka Likha by Khanzadi

زندگی برباد کر کے رکھ دی میری بیٹی کی۔مسز حسن ان دونوں کے جاتے ہی منیبہ کی طرف بڑھیں۔

ان کا اشارہ مسز احمد کی طرف تھا۔

وہاج نے تو نہی کہا تھا کہ وہ منیبہ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔

یہ فیصلہ آپ کا اور بھائی صاحب کا تھا بھابی!

آپ دونوں نے اپنا فیصلہ میرے بیٹے پر تھوپ دیا تھا۔اس میں وہاج کا کوئی قصور نہی۔

مسز احمد اب مزید اپنے بیٹے کے خلاف سننے کے موڈ میں نہی لگ رہی تھیں۔

وہاج نے جو کیا سب کے سامنے ہے۔پھر بھی تمہیں اپنے بیٹے کی برائی نظر نہی آ رہی۔

کیا حال ہو گیا میری بیٹی کا رو رو کر،دیکھو تو زرا۔

مسز حسن منیبہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔

بس دس دن کی بات ہے،جیسے ہی یہ دس دن ختم ہوئے۔میں وہاج اور عمارہ دونوں سے اپنی بیٹی پر کیے گئے ظلم کا بدلہ لوں گی۔

یاد رکھنا میری بات تم!

وہ مسز احمد کو دیکھتے ہوئے بولیں۔

یہ تو وقت ہی بتائے گا بھابی!

وہاج کی ماما جواب دیتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئیں۔

حسن صاحب خاموش تماشائی بنے سب سن رہے تھے،آخر کار تنگ آ کر اندر کی طرف بڑھ گئے۔

مام چھوڑیں آپ کیوں بخث کر رہی ہیں۔کوئی فائدہ نہی اب۔

جو ہونا تھا،سو ہو گیا۔

چلو منیبہ،انیسہ ماں کو جواب دیتے ہوئے انیسہ کو ساتھ لیے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

تم خاموش تماشائی بنے کھڑے ہو دونوں بھائی کچھ بولے کیوں نہی؟

تمہاری بہن کے ساتھ اتنا کچھ ہو گیا اور تم دونوں چپ چاپ منہ اٹھائے کھڑے دیکھتے رہے۔

مسز حسن حمزہ اور ولی کی کلاس لینے لگیں۔

مام وہاج بھائی نے کچھ غلط نہی کیا!

حمزہ کے جواب پر ولی اور عاصم نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔

شاہزیب بھائی عمارہ کو طلاق دے چکے ہیں۔میں سب جان چکا ہوں۔

اب آپ بھی بس کر دیں جھوٹ بولنا۔

ڈیڈ کو سب کچھ بتا دیں۔اسی میں سب کی بھلائی ہے۔

اس سے پہلے کہ وہاج بھائی ثبوت لے کر یہاں پہنچیں۔آپ خود ڈیڈ کو ساری سچائی بتا دیں۔

کیا بکواس کر رہے ہو حمزہ؟

تم اپنی ماں پر شک کر رہے ہو؟

تمہیں لگتا ہے کہ میں جھوٹ بول رہی ہوں؟

مسز حسن غصے سے تپ گئیں۔

نہی مام مجھے شک نہی ہے۔۔۔بلکہ پورا یقین ہے کہ آپ جھوٹ بول رہی ہیں۔

آپ کی آنکھوں پر دولت کی پٹی بندھ چکی ہے۔

احساس ختم ہو چکا ہے آپ کے دل سے۔

عمارہ کے ساتھ کی گئی نا انصافیوں پر ڈریں اللہ سے۔

“خدا کی پکڑ سے ڈریں!

جھوٹ کا انجام ہمیشہ برا ہی ہوتا ہے۔

ابھی بھی وقت ہیں سنبھل جائیں،کہی دیر نا ہو جائے۔

حمزہ اپنی بات مکمل کرتے ہوئے تیزی سے وہاں سے نکل گیا۔

مسز حسن بس دیکھتی ہی رہ گئیں۔

دیکھو تو سہی کیسے زبان درازی کر کے گیا ہے ماں کے ساتھ۔

سب کو میں ہی بری لگتی ہوں،مسز حسن جھوٹے آنسو بہانے لگیں۔

ممی آپ اندر جائیں،آرام کریں چھوڑیں اس کو ابھی اتنی سمجھ نہی ہے اسے۔

بس ایسے ہی بول رہا تھا۔

عاصم جلدی سے مسز حسن کی طرف بڑھا۔

ولی دور کھڑا سارا معاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

مسز حسن آنسو پونچھتے ہوئے عاصم کے ساتھ اندر کی طرف بڑھ گیں۔جبکہ ولی حمزہ کے کمرے میں چلا گیا۔

“اب کیا کرنا ہے ڈیڈ؟

وہاج نے گاڑی اسلام آباد کی سڑک پر موڑ دی۔

پہلے گھر جائیں گے۔وہاں سے اپنے پاسپورٹ اٹھائیں اور امریکہ جانے کی تیاری کریں گے۔

احمد صاحب فون پر مصروف سے بولے۔

مگر ڈیڈ امریکہ کا اتنا لمبا سفر۔۔۔۔ویزہ ملنے میں پتہ نہی کتنے دن لگ جائیں۔اور پھر وہی پہنچتے پہنچتے ایک سے دو دن لگ جائیں گے۔

کیسے ہو گا سب کچھ؟

ہمارے پاس بس دس دن ہیں!

وہاج پریشان سا ڈرائیونگ کرتے ہوئے بولا۔

تم فکر مت کرو سب ہو جائے گا۔

کل شام تک ہمارے ویزے مل جائیں گے۔میرا دوست سب کچھ جلدی کروا دے گا۔

پرانی جان پہچان ہے۔جلدی ویزہ لگوا دے گا۔

شاہزیب کا ایڈریس بھی مل جائے گا۔تم پریشان نہی ہونا میرے ہوتے ہوئے۔

ڈیڈ پریشان ہونا تو بنتا ہے آخر میری زندگی کا سوال ہے۔

ہاں یہ تو ہے۔۔۔مگر اب تمہاری زندگی تمہارے نام ہو چکی ہے۔تو ڈرنے کی ضرورت نہی ہے۔

ہم ثبوت کے ساتھ واپس لوٹیں گے۔

فرض کرو اگر ثبوت نہی بھی ملتا،تو بھی تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہی ہے۔عمارہ اب تمہاری بیوی ہے۔

تمہیں اس سے کوئی الگ نہی کر سکتا۔

وہاج مسکرا دیا عمارہ کے ذکر پر۔

بس اب زیادہ مسکراو نہی،دھیان سے گاڑی چلاو۔

ابھی ابھی تو پرانے زخم ٹھیک ہوئے ہیں تمہارے۔۔یہ نا ہو اب میری گاڑی ٹھوک دو۔

ہاہاہاہا۔۔۔۔ڈیڈ آپ بھی ناں!

وہاج کا قہقہ گونجا گاڑی میں۔۔۔احمد صاحب بھی مسکرا دئیے۔

عمارہ کپڑے چینج کرنے کے بعد نماز پڑھ کر سونے کے لیے لیٹ گئی۔

ایک رات میں اس کی زندگی بدل چکی تھی۔

عمارہ حسین سے عمارہ وہاج بن چکی تھی وہ۔مگر دشمنوں کی سازشوں کی پھر سے شکار ہو گئی۔

“جب اپنے خود غرضی کا لباس اوڑھ لیں تو وہ بھی کسی دشمن سے کم نہی ہوتے،،

“رشتے احساس سے بنتے ہیں،چھوٹی چھوٹی قربانیوں سے بنتے ہیں،اگر رشتوں سے احساس ہی ختم ہو جائے تو ایسے رشتے بس نام کے ہی رشتے رہ جاتے ہیں۔

عمارہ بستر پر لیٹ گئی۔نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔

عمارہ کے دل و دماغ پر بس وہاج ہی چھایا ہوا تھا۔

رشتہ بدل چکا تھا اور احساس بھی۔

ساری رات یونہی سوچوں میں گم گزر گئی۔

فجر کی اذان کی آواز کانوں میں پڑی تو عمارہ وضو کرنے چلی گئی۔

نماز پڑھ کر ابھی بیٹھی ہی تھی کہ کمرے کا دروازہ ناک ہوا۔

عمارہ نے دروازہ کھولا تو سامنے مسز احمد کھڑی تھیں۔ہاتھ میں فون لیے۔

عمارہ کو دیکھ کر مسکرا دیں۔

تمہارے لیے وہاج کا فون ہے۔لو بات کر لو۔

مسز احمد نے عمارہ کو فون تھماتے ہوئے دروازہ بند کر دیا۔

عمارہ فون کان سے لگائے آنسو بہانے لگی۔

عمارہ پھر سے رو رہی ہو تم!

وہاج کی آواز کانوں میں پڑی تو عمارہ کو سکون سا محسوس ہوا۔

نہی میں رو نہی رہی۔۔بس ایسے ہی۔

بس ایسے ہی کیا عمارہ؟

منع کیا تھا ناں میں نے رونے سے؟

بس اب رونا بند کر دو۔

پہلے ہی بہت تھکا ہوا ہوں میں۔پوری رات گاڑی ڈرائیو کی ہے ابھی گھر پہنچے ہیں ہم۔

“تمہارے آنسو مجھے تکلیف دیتے ہیں عمارہ!

میں نہی رو رہی،چپ ہوں اب۔

آپ پریشان مت ہو۔

عمارہ آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔

ناشتہ کر لیا آپ نے؟

عمارہ کے سوال پر وہاج مسکرا دیا۔

آ گئی بیوی والی ٹون میں واپس۔

وہاج کی بات پر عمارہ مسکرائے بنا نا رہ سکی۔

ایسے ہی مسکراتی رہا کرو ہمیشہ۔

وہاج نے دل سے عمارہ کی خوشی کے لیے دعا کی۔

آپ واپس کب آئیں گے؟

عمارہ کے سوال پر وہاج مسکرا دیا۔

“مجھے مس کر رہی ہو تم؟

نہی۔۔۔۔،

میرا مطلب ہاں!

وہاج مسکرا دیا۔

جلدی آوں گا واپس،وہاج کا لہجہ اداس سا تھا۔

تم نے کچھ کھایا؟

نہی۔۔۔بس جانے ہی والی تھی ناشتہ بنانے۔

آپ نے کر لیا ناشتہ؟

ہاں بس کرنے ہی لگا تھا۔

اب ناشتہ کرنے کے بعد کچھ دیر آرام کروں گا۔پھر امریکہ جانے کی تیاری۔

اپنا خیال رکھنا۔۔ناشتہ آ گیا ہے۔میں بعد میں بات کرتا ہوں۔

خدا حافظ!

اور ایک بات!

عمارہ کال کاٹنے ہی لگی تھی کہ وہاج بول پڑا۔

جی۔۔

ماما کا فون اپنے پاس ہی رکھ لو۔

کہتے ہی وہاج نے کال کاٹ دی۔

عمارہ مسکرا دی۔

مسز احمد عمارہ کے لیے اور اپنے لیے ناشتہ بنا کر عمارہ کے کمرے میں ہی آ گئی۔

کیا کہہ رہا تھا وہاج؟

وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔

کہہ رہے تھے ابھی کچھ دیر پہلے ہی گھر پہنچے ہیں۔ناشتہ کرنے لگے ہیں۔

شاید آج رات کی فلائٹ ہو ان کی امریکہ کے لیے۔

گڈ۔۔۔چلو ناشتہ کر لو ٹھنڈا ہو رہا ہے۔

وہ دونوں ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *