Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kismat Ka Likha (Episode 04)

Kismat Ka Likha by Khanzadi

وہاج بھی اٹھ کر اپنی ماما کے پاس بیٹھ گیا دوسری طرف۔

میں بھی آپ کے ساتھ ہوں۔

ماں کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے بولا۔

اور میں بھی!

وہاج کے بابا نے بھی ہاتھ اٹھا دئیے۔

مطلب ہم سب ایک ساتھ ہیں۔

عمارہ مسکراتے ہوتے ہوئے بولی۔

جی ہاں بہت جلد۔

وہاج کی آواز پر عمارہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔

وہ مسکرا دیا۔

پھوپھو ہم چلیں پھر بہت کام ہیں ہم دونوں کو۔

عمارہ وہاج کی بات کا مطلب سمجھ چکی تھی۔

اسی لیے جلدی سے بات پلٹنے لگی۔

ہاں بھئی چلتے ہیں ہم ان مرد حضرات کو تو کوئی کام ہے نہی۔

لیکن ہمیں بہت کام ہیں۔وہ دونوں مسکراتی ہوئیں کمرے سے باہر نکل گئیں۔

وہ دونوں باپ،بیٹا بھی مسکرا دئیے۔

اچھا بھئی میں چلتا ہوں اپنے کمرے میں۔

آرام کر لوں کچھ دیر۔

شام کو ملتے ہیں پھر!

وہاج کے بابا بھی باہر کی طرف بڑھ گئے۔

وہاج مسکراتے ہوئے لیپ ٹاپ پھر سے گود میں رکھے کام کرنے میں مصروف ہو گیا۔

پورے گھر میں شور شرابہ پھیلا ہوا تھا۔

حمزہ اور ولی وہاج کے کمرے میں داخل ہوئے۔

ہیلو۔۔۔دونوں مسکراتے ہوئے وہاج کے پاس آ بیٹھے۔

اسلام و علیکم۔۔وہاج نے مسکراتے ہوئے سلام کیا۔

اوہ۔۔ہاں وعلیکم اسلام۔

دونوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

ویسے وہاج اتنے سال ہو گئے تمہیں پاکستان سے دور رہتے ہوئے۔پھر بھی تم بدلے نہی۔

آج بھی ویسے کے ویسے ہی ہو۔

وہی سلام کرنے کا انداز،مدھم سا لہجہ،چہرے پر مسکراہٹ۔

تم اتنے اچھے کیوں ہو؟

ولی مسکراتے ہوئے بولا۔

وہاج نے لیپ ٹاپ بند کر کے سائیڈ پر رکھ دیا۔

“ایمان دل میں ہوتا ہے”

کوئی فرق نہی پڑتا آپ پاکستان میں ہیں یا امریکہ میں۔

“اگر آپ کے دل میں ایمان زندہ ہے۔تو چاہے کوئی لاکھ کوشش کر لے۔آپ کے دل سے ایمان ختم نہی کر سکتا۔”

بے شک!

ولی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

ہم یہ پوچھنے آئے تھے کہ اگر شاپنگ پر جانا ہے تو آ جاو چلتے ہیں۔

نہی۔۔۔مجھے کسی چیز کی ضرورت نہی ہے۔تم لوگ جاو۔

وہاج کندھے اچکاتے ہوئے بولا۔

یہ ہمارے آتے ہی لیپ ٹاپ کیوں بند کر دیا تم نے؟

کسی سے چیٹ کر رہے تھے کیا؟

حمزہ آنکھ دباتے ہوئے بولا۔

وہاج نے اسے گھورا۔

ہاں میں نے بھی نوٹ کیا ہے وہاج بتاو ناں؟

ولی نے بھی حمزہ کا ساتھ دیا۔

نکل جاو دونوں میرے کمرے سے’وہاج دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔

نہی ہم ایسے تو نہی جائیں گے پہلے بتاو ہمیں کون تھی وہ؟

حمزہ ڈھٹائی سے صوفے پر لیٹتے ہوئے بولا۔

وہاج حیرانگی سے دونوں کی طرف دیکھنے لگا۔

شرم کرو تم دونوں کیسی جاہلانہ باتیں کر رہے ہو۔بڑا ہوں میں تم دونوں سے کم ازکم عمر کا ہی لحاظ کر لو۔

عمر کون؟؟

ولی مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا۔

وہاج مسکرا دیا۔

تم دونوں جو سوچ رہے ہو ایسا کچھ نہی ہے میں بس ضروری کام کر رہا تھا۔

ولی اور حمزہ مسکرا دئیے۔

ہم بھی بس مزاق کر رہے تھے بھائی۔

حمزہ مسکراتے ہوئے بولا۔

ہاں ہاں جانتا ہوں۔۔جاو اب تم دونوں شاپنگ پر۔

شام کو ملتے ہیں۔

وہاج پھر سے لیپ ٹاپ آن کرتے ہوئے بولا۔

اوکے بھائی۔۔۔دونوں مسکراتے ہوئے جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔

ویٹ!

وہاج کی آواز پر دونوں بھائی رک گئے۔

شاہزیب نہی آیا ابھی تک؟

وہاج لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر ان دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔

دونوں نے پریشانی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

شاہزیب بھائی نہی آئیں گے۔

حمزہ لمبی سانس لیتے ہوئے بولا۔

کیوں؟

وہاج آنکھیں سکوڑتے ہوئے بولا۔

یہ تو مام ڈیڈ ہی بتا سکتے ہیں آپ ان سے ہی پوچھ لیں۔

حمزہ نے جلدی سے جواب دیا۔

دونوں تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئے۔

وہاج بس لب بھینچ کر رہ گیا۔

تو اس کا مطلب ہے۔ماموں جان بھی سب جانتے ہیں۔

شاہزیب کے کارناموں سے انجان نہی ہیں وہ!

سب کچھ جانتے ہوئے بھی عمارہ کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں میں برابر کے شریک رہے وہ۔

بس یہ شادی ختم ہو جائے ایک بار’ اس کے بعد میں عمارہ کو ایک دن نہی رہنے دوں گا یہاں۔

بہت ظلم سہہ لیے اس نے اب اور نہی!

“عمارہ کے لیے چاہے مجھے سارے زمانے سے کیوں نا لڑنا پڑے میں لڑوں گا،،

“عمارہ کو اب میری ہونے سے کوئی نہی روک سکتا”

وہاج لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

اس کا رخ ممانی کے کمرے کی طرف تھا۔

کمرہ میں تو نہی تھیں وہ۔

وہاج جیسے ہی ان کے کمرے سے باہر نکلنے لگا عمارہ سے ٹکرا گیا۔

وہاج کا سر اچانک پلٹنے پر عمارہ کے ماتھے پر جا لگا۔

عمارہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے تارے ناچتے ہوئے دکھائی دئیے۔

اوہ۔۔۔آئی ایم سوری عمارہ!

وہاج نے عمارہ کے ماتھے پر اپنا ہاتھ رکھا۔

اٹس اوکے!

عمارہ نے وہاج کا ہاتھ ہٹانے کے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ہی تھا کہ منیبہ کمرے میں داخل ہوئی۔

عمارہ اور وہاج کو اتنے قریب دیکھ کر وہ پیر پٹختی وہاں سے نکل گئی۔

اٹس اوکے!

میں ٹھیک ہوں۔

عمارہ نے وہاج کا ہاتھ ہٹا دیا۔اور ماتھا مسلتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔

عمارہ دیکھ کر چلا کرو اگر چوٹ لگ جاتی تو پھر!

وہاج کی آواز پر عمارہ پلٹ کر مسکرا دی۔

آپ میری اتنی فکر مت کیا کریں”

عمارہ بول کر پلٹ گئی۔

وہاج تیزی سے عمارہ کی طرف بڑھا۔

اس کا ہاتھ تھام کر اپنے سینے پر رکھ دیا دل کے قریب۔

یہ سب اتنا اچانک ہوا عمارہ کچھ سمجھ ہی نہی پائی۔

وہ حیران سی وہاج کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔

“جس دن یہ دل دھڑکنا بند ہو جائے گا ناں اس دن فکر کرنی چھوڑ دوں گا میں’لیکن جب تک اس دل کی دھڑکن چل رہی ہے میں تمہاری فکر کرتا رہوں گا۔”

“اس دل پر میرا اختیار نہی ہے یہ جب بھی دھڑکتا ہے تمہارا نام لیتا ہے’اس کی ہر ایک دھڑکن پر تم قبضہ جما چکی ہو۔”

تو کیسے فکر نا کروں میں تمہاری؟

عمارہ کی نظریں اپنے ہاتھ پر مظبوطی سے جمے وہاج کے ہاتھ پر تھم سی گئیں۔

وہاج کے دل کی دھڑکن اسے اپنے ہاتھ پر محسوس ہو رہی تھی۔

دل میں اِک عجیب سی خواہش جاگی کہ کاش یہ لمحے یہی تھم جائیں۔

“کاش یہ شخص میرا نصیب بن جائے”

مگر اگلے ہی پل ایک خیال دل و دماغ پر چھا گیا۔

“”قسمت کا لکھا””۔۔قسمت کا لکھا کوئی نہی مٹا سکتا اور میری قسمت میں شاہزیب ہیں وہاج نہی!

عمارہ نے اپنا ہاتھ آزاد کروا لیا اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔

کمرے سے باہر نکلتے ہی اس کا ٹکراو مسز حسن سے ہو گیا۔

کیا کر رہی ہو عمارہ دیکھ کر نہی چل سکتی تم!

آئی ایم سوری چچی جان!

وہ میں نے آپ کو دیکھا نہی!

آپ کے کپڑے اندر رکھ دئیے ہیں میں نے۔

بس اتنا بول کر عمارہ تیزی سے آگے بڑھ گئی۔

ایک تو یہ لڑکی بھی ناں!

کوئی کام ٹھیک سے نہی کرتی ضرور کوئی نا کوئی الٹا کام کیا ہو گا اس نے۔

تب ہی تو اتنی جلدی میں تھی۔

وہاج اپنے خالی ہاتھ کو دیکھ رہا تھا۔جس میں چند لمحے پہلے عمارہ کا ہاتھ تھا۔

کیا ہوا وہاج؟

کوئی کام تھا بیٹا؟

مسز حسن کی آواز پر وہاج چونک گیا اور ظبط سے مٹھی بند کر لی۔

جی ممانی جان آپ سے ہی کام تھا مجھے۔

وہاج ایک لفظ چباتے ہوئے بولا۔

ہاں بیٹا بولو کیا کام تھا۔وہ مصروف سے انداز میں بولیں۔

شاہزیب کے بارے میں پوچھنا تھا آپ سے!

وہاج کی آواز پر وہ گھبرا کر پلٹیں۔

کککیا پوچھنا ہے وہاج تم نے شاہزیب کے بارے میں؟

ان کی آواز کی گھبراہٹ دیکھ کر وہاج کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

شاہزیب کہاں ہے ممانی جان؟

وہاج کی آواز پر وہ حیرانگی سے وہاج کی طرف دیکھنے لگیں۔

کیا ہوا ممانی جان آپ چپ کیوں ہیں؟

میں نے کچھ غلط تو نہی پوچھ لیا۔۔۔شاہزیب کا ہی پوچھا ہے۔

مہندی کے فنکشن میں بھی نظر نہی آیا وہ مجھے اور اب بارات کا وقت آنے میں بھی چند گھنٹے رہ گئے ہیں۔

لیکن ابھی تک شاہزیب نظر نہی آ رہا مجھے۔

اب وہ کیا جواب دیتیں وہاج کو کوئی جواب جو نہی تھا ان کے پاس۔

وہ اس کو کمپنی کی طرف سے چھٹی نہی مل سکی ورنہ آنا تھا اس نے۔

جب کوئی اور جواب نا ملا تو یہی بول دیا۔

کیا مطلب ممانی جان؟

ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ شاہزیب کو چھٹی نا ملے۔پچھلے ساڑھے سات سالوں میں وہ ایک بار بھی نہی آیا پاکستان۔

تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کو چھٹی نا ملی ہو؟

بڑی بہن کی شادی ہے اور وہ نہی آیا۔

یہ بات مجھے کچھ سمجھ نہی آ رہی۔

وہی تو میں خود حیران ہوں۔اس سے کہہ رہی ہوں کہ واپس آ جائے پاکستان۔

یہ کیسی نوکری ہے جو بندہ اپنوں کی خوشی میں شامل ہی نہ ہو سکے۔

تم بھی سمجھانا اس کو واپس آ جائے۔

وہ بات گول مول کرتی ہوئیں کمرے سے باہر نکل گئیں۔

وہاج لب بھینچتے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

شام کو سب لوگ ہال کے لیے نکل گئے۔

بارات آنے میں ایک گھنٹہ باقی تھا ابھی۔

سارا گھر خالی ہو چکا تھا۔

وہاج ابھی تک اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔

اس کا دل نہی کر رہا تھا جانے کو۔

پانی پینے کے لیے کچن کی طرف بڑھا۔

اچانک اس کے کانوں میں سسکیوں کی آواز گونجی۔

آواز عمارہ کے کمرے سے آ رہی تھی۔

وہاج تیزی سے کمرے کی جانب بڑھا۔

کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔

عمارہ ڈریسنگ ٹیبل پر سر گرائے آنسو بہا رہی تھی۔

اس کے پاس ایک ڈریس پڑا تھا۔جس پر استری کے جلنے سے بڑا سا سوراخ بنا ہوا تھا۔

وہاج کو عمارہ کے رونے کی وجہ سمجھ آ گئی۔

اس نے دل پر ہاتھ رکھ کر اپنی تیز ہوتی دھڑکن کو سنبھالا اور عمارہ کی طرف بڑھا۔

عمارہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر آہستہ آواز میں عمارہ کا نام پکارا۔

عمارہ۔۔۔!

اپنے ہاتھ پر کسی لمس کے احساس پر عمارہ نے تیزی سے سر اوپر اٹھایا۔

سامنے وہاج کھڑا تھا رف سے حلیے میں۔

بکھرے بال،نیند کے غمار سے بھری آنکھیں۔عمارہ بجلی سی تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

وہاج آپ یہاں؟

آپ ہال نہی گئے؟

عمارہ کو جیسے اپنی آنکھوں پر یقین نہی آ رہا تھا کہ وہاج سامنے ہے۔

ہاں میں نہی گیا میرا دل نہی چاہ رہا تھا جانے کو۔

لیکن تم یہاں بیٹھی کیوں رو رہی ہو تمہیں تو اس وقت وہاں ہونا چاہیے تھا ناں؟

عمارہ پھر سے رونے لگی اور اپنا ڈریس اٹھا کر وہاج کے سامنے رکھ دیا۔

پتہ نہی یہ کیسے جل گیا مجھے اچھی طرح سے یاد ہے میں استری بند کر کے سائیڈ پر رکھ کر کمرے سے باہر گئی تھی۔

سمجھ نہی آ رہا کہ کیسے جل گیا۔

تو اس میں رونے والی کون سی بات ہے عمارہ؟

تم کوئی اور ڈریس پہن لو!

میرے پاس اور کوئی نیا ڈریس نہی ہے وہاج۔

عمارہ شرمندگی سے سر جھکاتے ہوئے بولی۔

اگر میں کوئی اور ڈریس پہن بھی لوں تو چچی جان ناراض ہو جائیں گی۔

چچی جان نے وہ انیسہ آپی کا ڈریس دیا ہے مجھے لیکن وہ سلیو لیس ہے۔

آپ تو جانتے ہیں میں ایسے کپڑے نہی پہنتی۔

پھر بھی چچی جان نے مجھ سے کہا کہ جلدی سے یہ پہن کر تیار ہو جاوں اور ہال پہنچ جاوں۔

واٹ۔۔۔؟

وہاج چلایا۔۔کیا ہو گیا ہے ممانی جان کو؟

تمہیں اکیلا چھوڑ کر چلی گئیں!

اگر میں گھر پر موجود نا ہوتا تو تم اکیلی جاتی۔

وہاج کا غصے سے برا حال ہو رہا تھا۔

اچھا چلو چھوڑو عمارہ تم رونا بند کرو پلیز؛

عمارہ کو آنسو بہاتے دیکھ وہاج نے اپنا غصہ ختم کیا۔

چلو میرے ساتھ ہم مارکیٹ چلتے ہیں۔

پریشان ہونے کی ضرورت نہی ہے۔تمہیں جیسا ڈریس چاہیے خرید لینا۔

میرے ہوتے ہوئے تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہی ہے۔

تم میری گاڑی میں بیٹھو میں دو منٹ میں آیا۔

وہاج تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔

گاڑی کی چابیاں اور پرس اٹھا کر گاڑی کی طرف بڑھا۔

عمارہ پہلے سے ہی گاڑی میں بیٹھ چکی تھی۔

عمارہ کو فرنٹ سیٹ پر اپنے ساتھ بیٹھے دیکھ کر وہاج کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

آج سے آٹھ سال پہلے جب ایف ایس سی کے امتحان پاس ہونے پر جب اس کے بابا نے اسے یہ کار گفٹ کی تو اس کی بہت خواہش تھی کہ عمارہ کو اپنے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر لانگ ڈرائیو پر جائے۔

مگر ایسا نہی ہو سکا۔۔عمارہ اور شاہزیب کے نکاح کی خبر سن کر وہاج کے سارے خواب چکنا چور ہو گئے۔

لیکن آج آٹھ سال بعد اس کی یہ خواہش پوری ہو گئی۔مگر عمارہ کو ابھی عمارہ وہاج بننے میں کچھ وقت اور لگے گا۔

وہاج نے گہری سانس لیتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کر دی۔مارکیٹ پہنچ کر گاڑی پارک کر دونوں اندر کی طرف بڑھے۔

عمارہ کو کچھ سمجھ نہی آ رہا تھا کونسا ڈریس خریدے۔

وہ اتنی بڑی مارکیٹ میں پہلی بار آئی تھی۔وہ تو چھوٹی موٹی دکانوں سے اپنے لیے کپڑے خریدنے کی عادی تھی۔

یہاں پر کپڑوں کے ریٹ دیکھ کر ہی عمارہ پیچھے ہٹی جا رہی تھی۔

وہاج عمار کے ساتھ ساتھ چلتا جا رہا تھا۔

کیا ہوا عمارہ کوئی ڈریس اچھا نہی لگا؟

وہاج گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوا بولا۔

ہاں۔۔۔ہم کسی اور مارکیٹ چلتے ہیں۔

کیوں یارر اتنے اچھے کلرز ہیں۔ڈیزائنز بھی اچھے ہیں۔

ہم لیٹ ہو رہے ہیں عمارہ۔

ڈرِیسز تو اچھے ہیں مگر پرائس!

عمارہ بولتے بولتے رک گئی۔

کیا مطلب پرائس ٹھیک تو ہے۔

وہاج اس کی بات حیرانگی سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔

پرائس بہت زیادہ ہیں یہاں۔

عمارہ نظریں چراتے ہوئے بولی۔

تو تم سے کون کہہ رہا ہے پیمنٹ کرنے کو۔۔وہاج نے افسوس سے عمارہ کی طرف دیکھا۔

تم نا رہنے ہی دو عمارہ!

وہاج آگے بڑھ کر خود ڈریس پسند کرنے لگا عمارہ کے لیے۔

عمارہ بس دور کھڑی دیکھنے لگی۔

وہاج ایک بلیک کلر کی لانگ فراک جس پر گولڈن کلر میں ہیوی کام ہوا تھا لے کر عمارہ کی طرف بڑھا۔

یہ دیکھو عمارہ میرا خیال ہے یہ ٹھیک ہے۔

وہاج عمارہ کے سامنے کرتے ہوئے بولا۔

عمارہ سامنے شیشے میں دیکھ رہی تھی۔وہاج کی چوائس بہت اچھی تھی۔

ہمیشہ کی طرح آج بھی اس کا پسندیدہ رنگ بلیک ہی تھا۔

عمارہ نے سر ہاں میں ہلا دیا۔

تب ہی ایک لڑکی وہاں آئی۔

واوو۔۔۔سر یہ کلر بہت سوٹ کرے گا آپ کی وائف کو۔۔ایک دم پرفیکٹ۔

وہ مسکراتے ہوئے بولی۔

تھینکس۔۔!

عمارہ کچھ بولنے ہی والی تھی کہ وہاج نے مسکراتے ہوئے تھینکس بول دیا۔

وہ لڑکی وہاں سے آگے بڑھ گئی۔

عمارہ بس صدمے کی سی حالت میں وہاج کو دیکھنے لگی۔

وہاج مسکراتے ہوئے پیمنٹ کرنے چلا گیا۔

گاڑی میں بیٹھتے ہی عمارہ بولنے لگی۔

آپ نے بتایا کیوں نہی اس لڑکی کو کہ میں آپ کی وائف نہی ہوں۔

وہاج نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکا دئیے۔

اب اس میں میرا کیا قصور!

ہم دونوں ایک ساتھ اچھے لگتے ہیں تو اس بیچاری نے بول دیا۔

لیکن آپ کو اسے بتانا چاہیے تھا ناں!

اٹس اوکے یارر۔۔ریلکیس

ابھی ہمارے پاس ان سب باتوں کے لیے وقت نہی ہے ہمیں تیار ہو ہال پہنچنا ہے۔

وہاج بات پلٹ گیا۔

عمارہ بھی خاموش ہو گئی۔

گھر پہنچ کر دونوں اپنے اپنے کمروں کی طرف بڑھ گئے۔

عمارہ نے کمرے میں جا کر شاپنگ بیگز کھولے تو اس میں ایک نہی دو ڈریسز تھے۔

ایک پرپل کلر میں الگ ڈیزائن میں لانگ فراک بھی تھا۔

عمارہ نے مسکراتے ہوئے وہ ڈریس الماری میں رکھ دیا اور تیار ہونے لگی۔

وہاج بھی بلیک پینٹ کوٹ پہنے دس منٹ بعد تیار ہو کر نیچے آ گیا۔

عمارہ کا انتظار کرنے لگا۔

تھوڑی دیر بعد ہی عمارہ تیار ہو کر نیچے آ گئی۔

بلیک فراک کے ساتھ میچنگ گولڈن جویلری،گولڈن سینڈل،بال سٹریٹ کیے ہوئے،ڈوپٹا ایک سائیڈ پر کندھے پر ڈالے، ہاتھوں میں چوڑیاں پہنتے ہوئے وہ وہاج کے پاس آ رکی۔

لائٹ سے میک اپ میں بھی وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔

وہاج کی نظر چند لمحوں کے لیے عمارہ پر ٹک سی گئی۔

پھر نظر لگ جانے کے ڈر سے وہ مسکراتے ہوئے نظریں جھکا گیا۔

عمارہ چوڑیاں پہن کر وہاج کی طرف متوجہ ہوئی۔

چلیں۔۔!

عمارہ وہاج کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔

بارات آنے میں بس دس منٹ رہ گئے تھے۔

وہاج ایک نظر گھڑی پر ڈالتے ہوئے باہر کی طرف بڑھا۔

عمارہ بھی اس کے پیچھے چل دی۔

گاڑی میں بیٹھ کر دونوں ہال کے لیے روانہ ہو گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *