Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kismat Ka Likha (Episode 22)

Kismat Ka Likha by Khanzadi

حنان ان کو ساتھ لیے اپنے فلیٹ کی طرف بڑھا۔

چابی گھما کر لاک کھولا اور اندر داخل ہو گیا۔

آپ لوگ یہاں بیٹھیں آرام سے میں اپنی وائف کو بلا کر لاتا ہوں۔

منال۔۔۔!

منال کہاں ہو یار؟

حنان شور مچاتے ہوئے کچن میں داخل ہوا۔

منال کچن میں ناشتہ بنانے میں مصروف تھی۔

جی۔۔کیا ہوا سب خیریت تو ہے ناں؟

حنان آپ اتنی زور زور سے کیوں آوازیں دے رہے ہیں مجھے؟

ہاں سب خیریت ہے،جنت کہاں ہے؟

حنان عجلت میں بولا۔

جنت تو سو رہی ہے مگر ہوا کیا ہے؟

منال پریشان ہو چکی تھی۔

کچھ نہی تم پریشان مت ہو جایا کرو ہر چھوٹی چھوٹی بات پر۔

کچھ مہمان آئے ہیں،اگر ناشتہ تیار ہے تو لے آئیں۔

جی ناشتہ تیار ہے بس۔

منال مسکراتے ہوئے پراٹھے کی سائیڈ چینج کرتی ہوئی بولی۔

ہممم۔۔لگتا ہے تم تھک گئی ہو منال۔

حنان،منال کے چہرے پر آئے بال کان کے پیچھے سنوارتے ہوئے بولا۔

نہی حنان آپ کے کام کرتے ہوئے میں کبھی تھکاوٹ محسوس نہی کرتی۔

اوہ رئیلی۔۔!

حنان اس کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے بولا۔

جی۔۔۔منال نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

اتنی دیر میں جنت کی آواز حنان کے کانوں میں ہڑی۔

بابا۔۔وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کرتی ہوئی حنان کی ٹانگ سے لپٹ گئی۔

حنان نے اسے گود میں اٹھا کر پیار کیا تو وہ ننھی سی بچی کھلکھلا اٹھی۔

اف۔۔۔دیکھیں تو سہی مہارانی کو کمرے سے باہر آ گئی۔ابھی تو سلایا تھا اسے۔

منال کی آواز پر جنت نے ماں کی طرف دیکھا اور منہ پھلانے لگی۔

یہ کیا منال تم اسے ڈانٹ کیوں رہی ہو؟

دیکھو تو سہی یار کتنی ڈری ہوئی لگ رہی ہے۔

میں نے اسے کبھی نہی ڈانٹا یہ تو میری جان ہے،منال نے ہاتھ دھو کر جلدی سے جنت کی طرف ہاتھ پھیلائے۔

وہ کھلکھلاتی ہوئی حنان سے چپک گئی۔

دیکھا آپ نے۔۔یہ بس مجھے ڈانٹ لگوا کر خوش رہتی ہے۔

حنان بھی مسکرا دیا۔

منال ڈوپٹہ سیٹ کرتے ہوئے ناشتے کی ٹرے اٹھائے حنان کے ساتھ چل دی۔

وہ تینوں ایک ساتھ کمرے میں داخل ہوئے تو وہاج نے حیران کن نگاہوں سے یہ منظر دیکھا۔

وہ تینوں ایک ساتھ بہت اچھے لگ رہے تھے،ایک مکمل فیملی۔

یہ ہے میری چھوٹی سی فیملی میری مسز منال اور پیاری سی شہزادی جنت حنان۔

اسلام و علیکم!

منال نے احمد صاحب کو سلام کیا تو احمد صاحب نے مسکراتے ہوئے منال کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔

وہاج نے بھی مسکراتے ہوئے سلام کا جواب دیا۔

ماشا اللہ۔۔۔اللہ پاک نظرِ بد سے بچائے۔آمین

احمد صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

آپ لوگ ناشتہ کریں میں آتی ہوں!

منال کمرے سے باہر نکل گئی۔

وہاج نے منال کو دیکھا تو اسے عمارہ کی یاد آ گئی۔وہ بھی بلکل ایسی ہی ہے،سادگی پسند۔

وہاج اپنے ہی خیالوں میں مگن ہو گیا۔

احمد صاحب نے پکارا تو وہاج ناشتہ کرنے میں مصروف ہوا۔

منال واپس آئی تو حنان کی گود سے جنت کو لے لیا۔

حنان بھی ان کے ساتھ ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گیا۔

آپ لوگ یہاں کس سلسلے میں آئے ہیں؟

وہاج نے بات شروع کی۔

حنان مسکرا دیا،

میں یہاں ایک بزنس میٹنگ کے سلسلے میں آیا ہوں۔

سوچا اکیلے بور ہوتا رہوں گا کیوں نہ فیملی کو بھی ساتھ لے آوں۔

گڈ۔۔۔احمد صاحب مسکراتے ہوئے بولے۔

اور آپ لوگ؟

حنان نے ان سے بھی سوال کر ڈالا۔

ہم بھی یہاں بزنس کے سلسلے میں ہیں،ایک ہفتے بعد واپسی کی فلائٹ ہے۔

ایک ضروری مشن پر نکلے ہیں،دعا کرو اس میں کامیابی حاصل ہو۔

احمد صاحب کچھ سوچتے ہوئے بولے۔

انشا اللہ۔۔۔ضرور کامیابی حاصل ہو گی۔حنان ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے بولا۔

تھینکس بیٹا!

آلو کے پراٹھے بہت اچھے تھے،آپ نے تو گھر کی یاد دلا دی۔

میری بیٹی عمارہ بھی بلکل ایسے ہی پراٹھے بناتی ہے۔ہے ناں وہاج؟

احمد صاحب نے زبردستی وہاج کو بھی گھسیٹا۔

جی ڈیڈ۔۔۔وہاج مسکراتے ہوئے بولا۔

دراصل میری بیٹی بھی ہے اور بہو بھی،احمد صاحب کی بات پر حنان اور منال دونوں مسکرا دئیے۔

اب ہمیں چلنا ہو گا بیٹا،بہت شکریہ آپ کا۔

جی۔۔۔لیکن دوبارہ آنا ہو گا آپ کو،جب آپ کا دل چاہے۔

اسے اپنا ہی گھر سمجھیں انکل۔

منال بہت عقیدت مند لہجے میں مخاطب ہوئی۔

وہاج کے فون پر بیل ہوئی تو وہ فون کان سے لگائے بالکونی کی طرف بڑھ گیا۔

عمارہ کی کال تھی۔

آئی مِس یو،وہاج فون کان سے لگائے بولا۔

آئی مِس یو ٹو میری جان!

اوہ۔۔یہ تو مام ہیں،وہاج نے نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبایا اور خود ہی اپنی بے وقوفی پر مسکرا دیا۔

ہممم۔۔مام کیسی ہیں آپ؟

وہاج جلدی سے بات پلٹتے ہوئے بولا۔

میں ٹھیک ہوں میری جان،تم کیسے ہو؟

ڈیڈ کہاں ہیں تمہارے؟

ان کو فرصت نہی ملی کہ اپنی بیوی کو کال ہی کر لیں۔

وہاج مسکرا دیا۔

مام پاس ہی ہیں،ایک پاکستانی فیملی نے ناشتے پر انوائٹ کیا تو ہم وہی ہیں۔ابھی ناشتہ کیا ہے۔

اچھا۔۔۔یہ تو اچھی بات ہے۔

عمارہ نے بتایا تمہاری کال آئی تھی۔اس وقت میں بازار تھی۔

عمارہ کے لیے کچھ شاپنگ کرنی تھی اور جیولری کا آرڈر دینا تھا۔

اوکے مام۔۔تھینکس میری بیوی کا اتنا خیال رکھنے کے لیے۔

وہ تمہاری بیوی بعد میں پہلے میری بیٹی ہے!

ہممم۔۔۔ویسے وہ ہے کہاں؟

نماز پڑھ رہی ہے۔کچھ دیر بعد کال کر لینا۔

اوکے مام۔۔آپ اپنا خیال رکھیں۔خدا حافظ۔

وہاج واپس پلٹا تو حنان مسکراتے ہوئے اس کے پاس آرکا۔

“تمہاری بیوی جانتی ہے کہ تم گن رکھتے ہو؟

وہاج کے سوال پر حنان مسکرا دیا۔

جانتی ہے مگر وہ کچھ بولتی نہی،کیونکہ مجھ سے ڈرتی ہے۔جانتی ہے میں جو بھی کرتا ہوں ٹھیک کرتا ہوں۔

تو تم گن رکھنے کو اچھا سمجھتے ہو؟

نہی۔۔۔مگر یہ بہت کام کی چیز ہوتی ہے،وقت آنے پر بہت اچھا ساتھ دیتی ہے۔

“میری وائف کا کہنا ہے کہ میں نے تمہیں ڈانٹ کر اچھا نہی کیا،مجھے تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا بس،،

گڈ۔۔۔حنان نے قہقہ لگایا۔

“جبکہ میری وائف کا کہنا ہے کہ میں نے گن چلا کر اچھا نہی کیا،مجھے اس غنڈے سے معافی مانگنی چاہیے،،

اس بات پر وہاج بھی مسکرا دیا۔

وہ واقعی عمارہ جیسی تھی،نرم دل۔

ہمیں اب چلنا چاہیے دیر ہو رہی ہے۔وہاج مسکراتے ہوئے بولا۔

جی کیوں نہی۔۔دوبارہ ضرور آئیے گا اور یہ رہا میرا کارڈ،میرا نمبر مینشن ہے یہاں،جب بھی ضرورت پڑے یاد کر لیجیئے گا۔

ملک حنان حاضر ہو گا!

وہاج نے مسکراتے ہوئے کارڈ تھام کر پرس میں رکھ لیا۔اور احمد صاحب کی طرف بڑھ گیا۔

وہاج کو آتے دیکھ احمد صاحب بھی مسکراتے ہوئے جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔

خدا حافظ کہتے ہوئے دونوں باہر کی طرف چل دئیے۔

حنان جنت کو اٹھائے دروازے تک ان کو چھوڑنے آیا۔

جنت وہاج سے چپک گئی۔

حنان اور احمد صاحب ہنس دئیے۔

دیکھا میری بیٹی بھی چاہتی ہے آپ دوبارہ یہاں آئیں۔

حنان کی بات پر وہاج بھی مسکرا دیا اور جنت کو حنان کو تھما دیا۔

ہم نہی اب کی بار تم آو گے ہماری گڑیا کو لے کر پاکستان ہمارے گھر۔

وہاج کی بات پر جنت کھلکھلا دی۔

ہممم۔۔ضرور وہاج بھائی،اگر آپ نے بلایا تو!

حنان آنکھ دباتے ہوئے بولا۔

وہاج اور احمد صاحب بھی مسکرا دئیے،اور دونوں باہر کی طرف بڑھ گئے۔

حنان دروازہ بند کر کے پلٹا تو سامنے منال کھڑی تھی ناراضگی سے حنان کی طرف دیکھ رہی تھی۔

کیا ہوا مسز حنان؟

حنان اس کی ناک دباتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔

جیسا کہ آپ کچھ جانتے ہی نہی!

“آپ نے سچ کیوں نہی بتایا انکل اور وہاج بھائی کو؟

کونسا سچ منال؟

حنان اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے بولا۔

حنان آپ سب جانتے ہیں میں کس بارے میں بات کر رہی ہوں۔آپ جان بوجھ کر انجان بن رہے ہیں۔

آخر کب سدھریں گے آپ؟

منال کی بات پر حنان مسکرا دیا۔

“سدھر جاوں اور وہ بھی میں”ملک حنان!

ایسا کبھی نہی ہونے والا۔

جو جیسے چل رہا ہے ویسے ہی چلنے دو،سہی وقت آنے پر سچ بتا دوں گا میں ان کو۔

تم فکر مت کرو منال۔

“میں جو دِکھتا ہوں وہ میں ہوں نہی اور جو میں ہوں وہ میں دِکھتا نہی،،

مجھے جانتی تو ہو تم!

ہاں ہاں جانتی ہوں میں آپ کو،جب دیکھو اپنی ہی من مانی کرتے ہیں آپ۔

منال آہستہ آواز میں بڑبڑائی۔

کیا کچھ کہا تم نے؟

ننہی تو،منال ڈرتے ہوئے برتن سمیٹ کر کچن کی طرف بڑھ گئی۔

حنان اسے جاتے دیکھ مسکرا دیا اور فون کان سے لگائے کسی سے باتیں کرنے میں مصروف ہو گیا۔

“اب کیا کرنا ہے ڈیڈ؟

شاہزیب کے بارے میں کوئی خبر؟

نہی وہاج ابھی تک کوئی خبر نہی ہے،وہ اپنی فیملی کے ساتھ کہی گیا ہوا ہے۔

کہاں گیا ہے؟یہ جاننا مشکل ہے۔مگر ہماری نظر ہے اس کے فلیٹ پر۔

جیسے ہی کوئی خبر ملے گی ہم وہاں پہنچ جائیں گے۔

ٹھیک ہے ڈیڈ!

آپ کمرے میں جائیں میں کچھ دیر تک آ رہا ہوں۔

احمد صاحب کمرے میں چلے گئے۔جبکہ وہاج پھر سے سائیکل رینٹ پر لیے شاہزیب کے فلیٹ کی طرر چل دیا۔

شاہزیب کے فلیٹ سے تھوڑے فاصلے پر موجود ایک درخت کے پاس سائیکل روک کر درخت سے ٹیک لگائے دیکھنے لگا۔

وہاج کچھ دیر یونہی کھڑا رہا،پھر اس نے فون باہر نکالا اور فون پر مصروف ہو گیا۔

اچانک سے فرنٹ کیمرہ آن ہوا اور خوش قسمتی سے وہاج پلٹ گیا۔

سامنے وہی رات والے لڑکے کھڑے تھے۔ایک کے ہاتھ میں لوہے کی سلاخ تھی۔جو ابھی وہ وہاج کے سر میں مارنے والا تھا۔

وہاج تیزی سے واپس پلٹا اور وہ سلاخ اس کے ہاتھ سے کھینچ کر الٹا اسی پر نشانہ لگایا۔

اس لڑکے کے سر سے خون بہنے لگا،وہاج اس کی پرواہ کیے بغیر ہی آگے بڑھا۔

وہ باقی لڑکے وہاج کو آگے بڑھتے دیکھ تیزی سے واپس پلٹے۔

وہاج نے وہ سلاخ وہی پھینک دی اور سائیکل کی طرف بڑھا۔

اتنا تو سمجھ آ چکا تھا وہاج کو کہ یہ لڑکے چوری کی غرض سے نہی بلکہ اسے مارنے کی غرض سے آئے تھے۔

کل بھی جب میں نے شاہزیب کے فلیٹ میں پہنچنے کی کوشش کی تو یہ سب میرے راستے میں آ گئے اور آج بھی ایسا ہی ہوا۔

اس کا مطلب کہ یہ شاہزیب کے بھیجے ہوئے غنڈے ہیں اور شاہزیب یہی ہے اپنے فلیٹ میں۔

وہاج سائیکل چھوڑ کر غصے سے شاہزیب کے فلیٹ کی طرف بڑھا۔مگر اچانک اسے اپنے بازو پر ہلکی سی چھبن محسوس اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔

آخری نظر جب وہاج نے پلٹ کر دیکھا تو بے ساختہ منہ سے ایک نام نکلا۔

حنان۔۔۔!

بس اس کے بعد وہاج بے ہوش ہو گیا۔

حنان نے اسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹایا اور گاڑی وہاں سے دور لے گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *