Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kismat Ka Likha (Episode 09)

Kismat Ka Likha by Khanzadi

عمارہ کا سر بہت وزنی ہو رہا تھا۔

وہ اپنے حواس میں نہی لگ رہی تھی۔۔۔وہ صدمے میں جا چکی تھی۔

وہاج کے ایکسیڈنٹ کی خبر اس کے لیے کسی قیامت سے کم نہی تھی۔

کال کٹ چکی تھی!

عمارہ صدمہ کی حالت پر نیچے گرے فون کو دیکھ رہی تھی۔

فون کی رنگ ٹون پھر سے بجنے لگی۔

رنگ ٹون کی آواز پر عمارہ چونک کر حوش میں آئی۔

وہ بہ مشکل خود کو سنبھالتے ہوئے فون کی طرف بڑھی۔

فون اٹھا کر ڈرائنگ روم سے باہر نکل کر پھوپھو کے کمرے کی طرف بڑھی۔

عمارہ کو ایک ایک قدم اٹھانا بہت بھاری لگ رہا تھا۔

اسے پتہ ہی نہی چلا کب اس کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔

وہ بہ مشکل پھوپھو کے کمرے کی طرف بڑھی۔

کمرے کا دروازہ ناک کیا۔

ایک،دو،تین۔۔آخر کار تیسری دفعہ دروازہ ناک کرنے پر وہاج کے بابا نے دروازہ کھولا۔

عمارہ کو روتے دیکھ وہ پریشان ہو گئے۔

کیا ہوا بیٹا سب خیریت تو ہے ناں؟

وہ بے چینی میں بولے۔

عمارہ نے سر ناں میں ہلا دیا۔

اس کے ہاتھ میں فون مسلسل بج رہا تھا۔

عمارہ نے وہ فون ان کی طرف بڑھا دیا۔

انہوں نے حیرانگی سے فون تھام لیا۔

سکرین پر انجان نمبر چمک رہا تھا۔

انہوں نے فون کان سے لگا لیا۔

ہیلو۔۔۔!

بس اتنا ہی بول سکے۔

اس سے آگے مزید ان میں بولنے کی ہمت نہی رہی۔

پھوپھو نماز پڑھ کر باہر آ گئیں۔

کیا ہوا عمارہ!

تم رو کیوں رہی ہو؟

وہ ایک نظر فون کان سے لگائے پریشان سے کھڑے احمد صاحب پر ڈالتے ہوئے عمارہ کی طرف بڑھیں۔

اوکٙ۔۔۔انہوں نے بس اتنا بولتے ہوئے فون کان سے ہٹا دیا۔

کیا ہوا سب خیریت تو ہے ناں احمد صاحب؟

آپ پریشان لگ رہے ہیں مجھے۔۔۔۔اور کس سے بات کر رہے تھے آپ؟

خیریت ہی تو نہی ہے بیگم!

وہ پریشان سے بولے۔

عمارہ الگ آنسو بہا رہی تھی۔

آخر ہوا کیا ہے؟

آپ کچھ بتا کیوں نہی رہے؟

میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔

وہ بھی پریشان ہو چکی تھیں۔

وہاج کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے!

سر پر چوٹ لگی ہے،،،

آئی سی یو میں ایڈمٹ ہے وہاج۔

وہ بہت ہمت کرتے ہوئے بولے۔

انہوں نے جیسے بم پھوڑا۔۔۔ان کے الفاظ ماں کے دل پر پتھر کی طرح برسے۔

کیا۔۔۔ایکسیڈنٹ!

کہاں ہے وہاج۔۔۔؟

میرا بیٹا ٹھیک تو ہے ناں۔۔۔؟

آپ مجھے اس کے پاس لے چلیں جلدی!

وہ اپنے حواس کھو بیٹھی تھیں ایکسیڈنٹ کا نام سن کر۔

ہاں ہم جا رہے ہیں ہاسپٹل۔۔۔!

تم پریشان مت ہو۔کچھ نہی ہو گا وہاج کو۔

سنبھالو خود کو!

میں حسن بھائی کو بتا کر آتا ہوں۔

وہ تیزی سے نیچے کی طرف بڑھے۔

عمارہ پھوپھو کی طرف بڑھی۔ان کو کمرے میں لے گئی۔

پانی کا گلاس ان کی طرف بڑھایا۔

مگر انہوں نے پانی پینے سے انکار کر دیا۔

اس وقت دونوں کی حالت ایک سی تھی۔

دونوں ہی وہاج کے لیے رو رہی تھیں،،،

دونوں کی آنکھیں برس رہی تھیں۔

پتہ نہی کس حال میں ہو گا میرا بچہ!

پھوپھو روتے ہوئے بول رہی تھیں۔

عمارہ ان کو چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھی۔مگر وہ مسلسل آنسو بہا رہی تھیں۔

پھوپھو پلیز چپ ہو جائیں!

کچھ نہی ہو گا وہاج کو۔۔۔!

ہم سب کی دعائیں ہیں ان کے ساتھ۔۔۔

آپ آئیں میں آپ کو نیچے لے چلوں۔۔ہمیں ہاسپٹل جانا ہے۔

وہ ان کو لے کر نیچے کی طرف بڑھی۔

سب لوگ اٹھ چکے تھے۔

سب پریشان ہو چکے تھے۔سوائے منیبہ کے!

حسن صاحب نے جلدی سے اپنی گاڑی نکالی،مسز حسن اور وہاج کے مام،ڈیڈ ان کے ساتھ ہاسپٹل کے لیے روانہ ہو گئے۔

عمارہ جانا چاہتی تھی۔مگر چچی کے گھورنے پر رک گئی۔

ولی اور حمزہ کو گھر پر ہی رکنا پڑا۔۔کیونکہ عمارہ اور منیبہ گھر میں اکیلی تھیں۔

شادی والا گھر تھا کچھ بھی ہو سکتا تھا!

اسی لیے حسن صاحب دونوں کو سختی سے گھر میں رکنے کی تاکید کرتے ہوئے ہاسپٹل کے لیے روانہ ہو گئے۔

عمارہ اپنے کمرے میں بیٹھ کر آنسو بہانے لگی۔

اس ایکسیڈنٹ کا قصور وار وہ خود کو سمجھ رہی تھی۔

نا وہ وہاج پر ہاتھ اٹھاتی نا وہ غصے میں وہاں سے جاتا۔

“نا یہ اہکسیڈنٹ ہوتا۔

عمارہ آنسو بہاتے ہوئے اپنے آپ کو کوس رہی تھی۔

سب میری وجہ سے ہوا ہے!

پلیز وہاج مجھے معاف کر دیں۔

مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی۔

میں نے آپ پر ہاتھ اٹھایا۔

آپ کو برا بھلا کہا۔

جھوٹا بولا آپ کو!

آپ کو اپنی زندگی سے دور جانے کو بولا۔

مگر میں نے ایسا کچھ نہی چاہا تھا وہاج!

میں تو ہر وقت آپ کی سلامتی کی دعائیں کرتی آئی پچھلے آٹھ سالوں سے۔

ایسا کوئی پل نہی گزرا جب میں نے آپ کو یاد نا کیا ہو۔

“ہر پل،بس آپ کو یاد کیا!

آپ کی یاد میں راتیں جاگ کر گزاریں۔

کاش آپ مجھے تنہا چھوڑ کر نا جاتے۔

اپنے پیار کے جنگ لڑتے!

مگر آپ نے فرار کا راستہ چن لیا۔

مجھے غلط سمجھ کر اپنے دل میں میرے لیے بدگمانیاں پیدا کر لیں۔

آٹھ سال کے لیے مجھ سے دور چلے گئے۔

مگر آپ دور ہو کر بھی ہمیشہ میرے پاس رہے۔

“میں آپ کو کبھی بھلا نا پائی۔

ہاں میں مانتی ہوں وہاج!

“مجھے محبت ہے آپ سے!

“آج میں سچے دل سے اپنی محبت کا اقرار کر رہی ہوں،،

“میں مانتی ہوں میں نے آپ سے محبت کی ہے۔۔مگر “قسمت کا لکھا” جو سامنے تھا۔

“قسمت کا لکھا مجھے ماننا پڑا۔اور میں اس محبت سے دور بھاگتی آئی۔

وہاج میں نہی جانتی حقیقت کیا ہے!

“شاہزیب مجھے طلاق دے چکا ہے یا نہی!

میں نہی جانتی۔۔۔

میں بس اتنا جانتی ہوں۔جب سے ہوش سنبھالا ہے بس آپ کو چاہا ہے۔

“محبت لفظ سے آپ نے آشنا کروایا مجھے!

مجھے محبت میں جینا سکھایا’

مگر ضروری نہی کہ محبت مل جائے۔۔۔!

“محبت میں دوری نا ہو تو محبت پھر محبت نہی لگتی۔

“محبت میں قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔۔

“محبت قربانی کا نام ہے۔

“محبت ایک جزبہ ہے!

ایک نام ہے ایثار کا!

میں نہی جانتی حقیقت کیا ہے وہاج۔

آپ مجھ سے دور رہیں چاہے پاس۔

مجھ سے محبت کریں یا نفرت۔

میں بس آپ کی سلامتی چاہتی ہوں۔

عمارہ آنسو پونچھتے ہوئے اٹھ کر وضو کرنے چلی گئی۔

جائٙے نماز بچھا کر وہاج کی سلامتی کے لیے دعائیں مانگنے لگی۔

سب لوگ ہاسپٹل پہنچے تو جس لڑکے نے فون کیا تھا وہ ابھی تک وہیں پر تھا۔

وہاج کا فون اس نے حسن صاحب کی طرف بڑھا دیا اور بتانے لگا کہ وہ گزر رہا تھا تو اچانک اسے سڑک سے دور درخت سے ٹکرائی گاڑی نظر آئی۔

جیسے ہی آگے بڑھ کر دیکھا تو اندر یہ بھائی بے ہوش پڑے ہوئے تھے۔

ان کا سر سٹیرنگ وہیل پر گرا ہوا تھا۔

میں نے نبض چیک کی تو چل رہی تھی۔مگر بہت مدھم۔

میں نے وقت ضائع کیے بغیر ہی ان کو اپنی گاڑی میں ہاسپٹل لے آیا۔

اور گاڑی سے ان کا فون بھی مل گیا مجھے۔

میں بہت دیر سے فون کر رہا تھا میں۔

ان کے فون پر تو لاک لگا ہوا تھا۔تو میں نے ان کے فون سے سم نکال کر اپنے فون میں منتقل کر دی۔

مجھے بس ڈائلنگ میں یہی ایک نمبر شو ہوا تو میں اسی نمبر پر کال کرتا رہا۔

بہت بہت شکریہ بیٹا!

آپ نے بہت بڑا احسان کیا ہے ہم سب پر۔

حسن صاحب اس کا کندھا تھپتپاتے ہوئے بولے۔

نہی انکل آپ ایسا مت بولیں۔

اللہ نے وسیلہ بنا کر بھیجا مجھے!

میرا کوئی احسان نہی اس میں۔

بس دعاووں میں یاد رکھئیے گا۔

میں چلتا ہوں۔ان کا سم کارڈ واپس فون میں رکھ دیا ہے میں نے۔

وہ ہاتھ ملاتے ہوئے وہاں سے چل پڑا۔

احمد صاحب ریسپشن سے انفارمیشن لینے چلے گئے۔

نرس نے کہا آپ لوگ ایک ایک کر کے اندر جا سکتے ہیں۔

مگر پیشنٹ کو ڈسٹرب نہی کرنا آپ لوگ!

بس ان کو دیکھ کر واپس آ جائیں۔

ان کی حالت بہت زیادہ خراب ہے۔

احمد صاحب نے وہی بات سب کو آ کر بتا دی۔

مسز احمد تیزی سے آگے بڑھیں۔

پہلے مجھے جانے دیں احمدصاحب۔۔مجھے دیکھنا ہے اپنے بچے کو۔

احمد صاحب نے سر ہاں میں ہلا دیا۔

وہ آئی سی یو کا دروازہ کھولتے ہوئے اندر داخل ہوئیں۔

سامنے مشینوں میں جکڑے اپنے لختِ جگر کو دیکھ کر ان کا دل تڑپ اٹھا۔

سر پر پٹیاں،سفید چہرے پر خون کے نشان،منہ پر آکسیجن ماسک۔

سفید شرٹ بھی خون کے دھبوں سے لتھی پڑی تھی۔

وہاج ہوش و حواس سے بیگانہ پٹیوں اور مشینوں سے جکڑا لیٹا ہوا تھا۔

دل کی دھڑکن بہت مدھم چل رہی تھی۔

بلیڈ پریشر بھی بہت کم تھا۔

نہی۔۔یہ وہاج نہی ہو سکتا!

انہوں نے سر نفی میں ہلایا۔

وہاج کا ہاتھ تھامتے ہوئے ہونٹوں سے لگا کر آنکھوں سے لگا لیا۔

یہ سب کیا ہو گیا میرے بچے کو۔

کچھ دیر پہلے تو ہنسی خوشی شادی میں تھا۔

مجھے پتہ ہی نہی چلا کب وہاں سے نکل گیا۔

اگر مجھے پتہ ہوتا کہ یہ سب ہونے والا ہے تو میں اپنے بیٹے کو وہاں سے جانے ہی نہی دیتی۔

وہاج اٹھو نا میری جان!

کیوں ایسے لیٹے ہو۔

مجھے میرا ہنستا مسکراتا وہاج واپس چاہیے۔

اپنی ماما کو تنگ مت کرو وہاج۔

وہ آنسو بہاتے ہوئے بول رہی تھیں۔

تب ہی ایک نرس وہاں آ گئی۔

میم آپ پلیز باہر چلی جائیں۔پیشنٹ ڈسٹرب ہو گا اس طرح۔

اللہ سب بہتر کرے گا۔خدا پر بھروسہ رکھیں آپ۔

مسز حسن خود کو سنبھالتی ہوئیں باہر آ گئیں۔

وہ باہر آِئیں تو مسز حسن ان کو سہارا دیتی ہوئیں بینچ تک لے آئیں۔

آپی ہمت رکھیں آپ۔۔۔اللہ سب بہتر کرے گا۔

وہ وہاج کی ماما کو دلاسے دینے لگیں۔

احمد صاحب اور حسن صاحب کی حالت بھی مسز احمد سے کم نہی تھی۔

وہاج کو اس حال میں دیکھ کر ان کا بھی دل تڑپ اٹھا۔

مسز حسن اندر نہی گئیں۔ان کا کہنا تھا وہ وہاج کو اس حال میں نہی دیکھ سکتیں۔

ساری رات وہ لوگ وہی ویٹنگ ایریا میں بیٹھے وہاج کی سلامتی کی دعائیں مانگتے رہے۔

صبح تک بھی وہاج کو ہوش نہی آیا۔

ڈاکٹرز کا کہنا تھا سر کی چوٹ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

سی ٹی سکین میں دماغ پر معمولی سی چوٹ کا اندیشہ ہے۔

زیادہ نہی بس معمولی!

لیکن ان کا ہوش میں آنا بہت ضروری ہے۔ورنہ یہ معمولی سی چوٹ بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

“یہ کوما میں جا سکتے ہیں!

منیبہ اٹھی تو شور مچاتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی۔

گھر میں کوئی ہے بھی یا نہی!

کب سے آوازیں دے رہی ہوں۔

ناشتہ چاہیے مجھے۔۔۔مگر مجال ہے جو کسی نے میری آواز سنی ہو۔

خود بنا لو اپنے لیے ناشتہ!

یہ آواز حمزہ کی تھی۔

تم سے کسی نے بات کی ہے۔جو بکواس کر رہے ہو صبح صبح۔

منیبہ حمزہ پر تپ گئی۔

جاو جا کر اپنا کام کرو۔۔

ماما۔۔۔ماما۔۔۔منیبہ چلانے لگی۔

ماما گھر پر نہی ہیں منیبہ!

تم اپنا ناشتہ خود بنا لو اگر زیادہ بھوک لگی ہے تو۔

حمزہ ڈھٹائی سے جواب دیتا ہوا صوفے پر جا بیٹھا۔

کیوں ماما کہاں گئی ہیں اتنی صبح صبح؟

صبح صبح نہی۔۔۔کل رات سے گھر پر نہی ہیں سب!

ہاسپٹل میں ہیں سب لوگ!

ہاسپٹل میں کیوں؟

منیبہ شرمندہ ہوتے ہوئے بولی۔

وہاج بھائی کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے کل رات سے وہ آئی سی یو میں بے ہوش پڑے ہیں۔

مگر تمہیں کیا خبر!

تمہیں سونے سے فرصت ملے تو گھر میں دھیان دو گی ناں!

اوہ۔۔۔سو سیڈ!

یہ تو بہت برا ہوا ہے۔

مجھے کسی نے جگایا ہی نہی۔۔۔!

اگر مجھے پتہ ہوتا تو میں ہاسپٹل میں ہوتی اس وقت۔

اونہہہ۔۔۔حمزہ نے غصے سے اسے گھورا۔

عمارہ ناشتہ بنا کر بیگز میں رکھ کر حمزہ کی طرف آئی۔

حمزہ یہ ناشتہ لے جاو ہاسپٹل۔۔۔پریشانی میں سب نے کچھ کھایا بھی نہی ہو گا۔

جی بھابی میں لے جاتا ہوں۔۔!

میں بھی چلتی ہوں تمہارے ساتھ!

منیبہ فون جلدی سے حمزہ کی طرف بڑھی۔

کوئی ضرورت نہی ہے!

تم آرام سے بیٹھو گھر۔۔۔ناشتہ کرو اور آرام کرو۔

خوامخواہ تم ڈسٹرب ہو گی ہاسپٹل جا کر۔

بہتر ہے تم گھر پر ہی رکو۔

حمزہ تیزی سے اپنی بات ختم کرتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔

منیبہ غصے سے پاوں پٹختی واپس صوفے پر بیٹھ گئی۔

اب تم یہاں کھڑِی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو؟

جاو ناشتہ لے کر آو میرے لیے!

منیبہ عمارہ پر حکم چلاتے ہوئے بولی۔

عمارہ سر ہلاتے ہوئے چپ چاپ کچن کی طرف بڑھ گئی۔

اس گھر کی ساری زمہ داریاں عمارہ پر ہی تھیں۔

کیونکہ وہ اس گھر کی بڑی بہو جو تھی۔

بہو کم نوکرانی زیادہ تھی۔

مسز حسن نے عمارہ کے شاہزیب سے نکاح کے بعد آہستہ آہستہ گھر کی زمہ داریاں عمارہ پر ڈالنی شروع کر دیں۔

عمارہ کی پڑھائی خراب ہونے لگی۔مگر کسی نے اس پر دھیان نہی دیا۔

پہلے تو وہاج ساتھ تھا تو عمارہ پڑھائی میں وہاج سے مدد مانگ لیتی تھی۔

چچی سے اکیڈمی کی بات کی تو وہ عمارہ پر برس پڑیں۔

تمہارے باپ نے مرنے سے پہلے ہمیں رقم نہی تھمائی۔جو تمہارے اکیڈمیوں کے خرچے اٹھاتے پھریں ہم۔

بہ مشکل تمہاری کالج کی فیس جمع کروائی ہے۔

پڑھنا ہے تو پڑھ لو۔

نہی دل مانتا تو نہ پڑھو۔

تمہاری مرضی ہے!

ہمارے سر کوئی احسان نہی کر رہی تم۔۔۔

عمارہ چپ چاپ اپنے کمرے میں واپس آ گئی۔

پھر اکثر ہی عمارہ کالج سے غیر حاضر رہتی اور پڑھائی کی بجائے گھر کے کاموں میں زیادہ وقت گزرنے لگا اس کا۔

ایگزامز میں فیل ہونے پر عمارہ نے دل برداشتہ ہوکر پڑھائی ہی چھوڑ دی۔

حسن صاحب کے سر پر آفس کی ساری زمہ داریاں آ گئیں۔

وہ گھر پر کم آفس میں زیادہ وقت گزارتے۔

بس اسی بھاگم دوڑ میں وہ عمارہ کو بھول گئے۔

بھول گئے کہ ان کے سر پر ایک یتیم بیٹی کی کفالت کی زمہ داری ہے۔

وقت اسی طرح گزرتا چلا گیا۔

شاہزیب امریکہ چلا گیا۔کبھی نا واپس آنے کے لیے۔

عمارہ کو لاوارثوں کی طرح اپنے نام کی قید ڈالے اسے تنہا چھوڑ گیا۔

عمارہ کا آخری سہارا بس اب یہ گھر ہی تھا۔

مسز احمد نے بھی آنا جانا کم کر دیا۔

اپنے بیٹے کی دوری کی وجہ اس گھر کے مکین جو تھے۔بس اسی وجہ سے رابطے کمزور پڑنے لگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *