Kismat Ka Likha by Khanzadi NovelR50493 Kismat Ka Likha (Episode 14)
Rate this Novel
Kismat Ka Likha (Episode 14)
Kismat Ka Likha by Khanzadi
عمارہ ڈائیننگ ٹیبل کے برتن اور کچن کا باقی کام سمیٹنے کے بعد اپنے کمرے میں آ گئی۔عصر کی اذان ہو رہی تھی۔
عمارہ وضو کرنے چلی گئی۔نماز ادا کرنے کے بعد کچھ دیر باہر لان میں ٹہلنے چلی گئی۔
سردی کی شدت بڑھنے لگی تھی۔
ہر طرف ہلکی دھند چھائی ہوئی تھی۔سورج غروب ہونے سے پہلے ہی چھپ چکا تھا۔
عمارہ یونہی ٹہلتی رہی۔
مغرب کی اذان کی آواز کانوں میں پڑی تو وہ اندر کی طرف بڑھی۔مگر اسی وقت گیٹ کی آواز پر واپس پلٹی۔
وہاج گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے باہر نکلا۔
پھوپھو اور پھوپھا جی بھی اس کے ساتھ گاڑی سے باہر نکلے۔
منیبہ اپنے بابا کی گاڑی میں واپس آئی۔
منیبہ کو دیکھ کر عمارہ کو عجیب سی جلن کا احساس ہوا۔
منیبہ صبح سے ہاسپٹل میں ہی تھی۔
یہ بات عمارہ کو کسی کانٹے کی طرح چبنے لگی۔
عمارہ دل پر پتھر رکھتے ہوئے آگے بڑھی۔
ویلکم بیک ٹو ہوم!
وہاج کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
تھینکس!
وہاج کا لہجہ بہت سرد تھا۔
اجنبی سا رویہ۔۔۔۔۔
عمارہ کو شدت سے اپنے اندر کچھ ٹوٹنے کا احساس سا ہوا۔
جس شخص کے چہرے پر اسے دیکھتے ہی خوشی چھا جاتی تھی۔آج اس چہرے پر مسکراہٹ کے دور دور تک کوئی آثار نہی تھے۔
سب کچھ بدل چکا تھا۔بس دو دنوں میں۔
وہاج نے عمارہ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہی دیکھا۔
چلو بھی وہاج۔۔۔۔!
اب یہی رکنے کا ارادہ ہے کیا؟
منیبہ کی آواز پر وہاج مسکراتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گیا۔
منیبہ نے فخر سے گردن اکڑاتے ہوئے پلٹ کر پیچھے کھڑی عمارہ کو دیکھا اور اندر کی طرف بڑھ گئی۔
عمارہ وہی کھڑی رہ گئی۔
وہاج کا اتنا سرد لہجہ اس نے پہلے کبھی نہی دیکھا تھا۔
ایسا کبھی ہوا ہی نہی تھا کہ وہاج عمارہ سے ایسا رویہ اپناتا۔
تو اب ایسا کیا ہو گیا؟
عمارہ خود سے ہی سوال کر رہی تھی۔
ہوا کا سرد جھونکا اسے چھو کر گزرا اور وہ اندر کی طرف بڑھ گئی۔
وہاج ٹی وی لاونج میں سب کے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔
عمارہ چپ چاپ اپنے کمرے میں چلی گئی۔
نماز پڑھ کر ابھی بیٹھی ہی تھی کہ مسز حسن کمرے میں داخل ہوئیں۔
یہاں بیٹھی کیا کر رہی ہو تم؟
دماغ تو ٹھکانے پر ہے تمہارا؟
نظر بھی آ رہا ہے کہ سب تھکے ہارے ہاسپٹل سے واپس آئے ہیں۔
تم کھانا لگانے کی بجائے کمرے میں آرام فرما رہی ہو۔
نہی چچی جان میں نماز پڑھنے آئی تھی!
بس کر دو تم!
سب جانتی ہوں میں۔۔۔۔نماز کا بہانہ بنا کر تم کام سے جان چھڑاتی ہو۔
چلو جاو اب کھانا لگاو جا کر!
بخث کرنے کا ٹائم نہی ہے۔
وہ عمارہ پر لعن طعن کرتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئیں۔
عمارہ بھی کمرے سے باہر نکل گئی۔
سر میں شدید درد اٹھا۔مگر پرواہ کیے بغیر کھانا لگانے لگی۔
کھانا لگانے کے بعد اوپر ٹیرس پر آ کر بیٹھ گئی۔
خوبصورت لائیٹنگ روشن ہو چکی تھیں۔
انیسہ کی شادی کی لائیٹنگ ابھی تک لگی تھیں۔
کسی کو فرصت ہی نہی ملی یہ کام کروانے کی۔
عمارہ چھت کی طرف جاتی سیڑھیوں پر بیٹھ گئی۔
گرم شال کندھوں پر پھیلا لی اچھی طرح۔
سردی کی یہ سرد شام عمارہ کو بہت بھاتی تھی۔وہ جب کبھی بھی اداس ہوتی یہی آ جاتی۔
اکیلی بیٹھ کر آنسو بہاتی رہتی۔جب رو رو کر جی بھر جاتا تو نیچے چلی جاتی۔
اس گھر میں کسی کو اس کے رونے یا اکیلی بیٹھنے پر کوئی فرق نہی پڑتا تھا۔
اگر کسی کو فرق پڑتا تھا تو وہ تھا وہاج!
مگر اب تو وہاج بھی اس سے منہ موڑ چکا تھا۔
آج بھی عمارہ سر گھٹنوں پر گرائے آنسو بہا رہی تھی۔
اس لیے نہی کہ چچی جان نے اسے ڈانٹا تھا”۔
بلکہ اس لیے کہ وہاج اس کے ساتھ بے رخی برت رہا تھا۔
وہ انجان تھی کہ وہاج ایسا کیوں کر رہا ہے۔
کچھ دیر آنسو بہانے کے بعد عمارہ نے سر اٹھایا تو چونک اٹھی۔
سامنے وہاج کھڑا تھا۔دونوں بازو سینے پر فولڈ کیے۔
ماتھے پر پٹی،بکھرے بال،سرخ سی آنکھیں۔
عمارہ چونک کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
وہاج لب بھینچے اسی کو دیکھ رہا تھا۔
وہاج آپ یہاں؟
سردی ہے اوپر!
آپ نیچے چلے جائیں۔۔۔آپ نے سویٹر بھی نہی پہنا ہوا۔
سردی لگ جائے گی۔پہلے ہی طبیعت خراب ہے آپ کی!
عمارہ بول رہی تھی۔مگر وہاج سرد نگاہوں سے اسے دیکھنے میں مصروف تھا۔
“میری پرواہ کرنے کی ضرورت نہی تمہیں!
“میں اپنا خیال خود رکھ سکتا ہوں۔
راستہ دو مجھے چھت پر جانا ہے!
وہاج کی بات پر عمارہ نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا۔
سنا نہی تم نے عمارہ!
میں نے کہا راستے سے ہٹو!
وہاج کی آواز میں اب تھوڑا غصہ تھا۔
عمارہ ڈر کر پیچھے ہٹی۔
وہاج سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے تیزی سے اوپر چلا گیا۔
دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔
عمارہ سے ایسا رویہ رکھنا بہت مشکل لگ رہا تھا وہاج کو۔
مگر اب اس کے سوا اور کوئی چارہ بھی نہی تھا اس کے پاس۔
عمارہ بھی تو یہی چاہتی تھی کہ وہ اس سے دور چلا جائے۔
وہاج وہی تو کر رہا تھا۔
عمارہ کی خاطر اس سے دور جا رہا تھا وہ!
عمارہ کے دل میں اپنے لیے نفرت پیدا کرنا چاہتا تھا۔
مگر یہ کام بہت مشکل تھا اس کے لیے۔
عمارہ آنسو پونچھتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئی۔
وہاج کے کمرے میں گئی۔الماری سے جیکٹ نکال کر اوپر کی طرف بڑھ گئی۔
جیکٹ وہاج کی طرف بڑھائی۔
کیا میں نے تم سے کہا یہ لانے کو؟
وہاج غصہ سے بولا۔
عمارہ نے وہاج کا غصہ اگنور کرتے ہوئے وہاج کو جیکٹ پہنا دی۔
وہاج بس عمارہ کو دیکھتا رہ گیا۔عمارہ سے اتنی ہمت کی توقع نہی تھی اسے۔
عمارہ نے جیکٹ کی زپ بند کی اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔
وہاج نے آگے بڑھ کر بازو سے کھینچتے ہوئے اسے اپنے سامنے لا کھڑا کیا۔
“تم میری بیوی نہی ہو!
“یہ سارے حق میری بیوی کے ہیں,جو تم زبردستی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہو,,
“جانتی ہوں!
“میں جانتی ہوں کہ میں آپ کی بیوی نہی ہوں۔
“دوست ہونے کے ناطے آپ کا خیال رکھنا اپنی زمہ داری سمجھتی ہوں,,
اگر آپ کو برا لگا تو معزرت!
آئیندہ اپنی حدود یاد رکھوں گی میں!
“اسی میں ہم دونوں کی بھلائی ہے!
وہاج اس کا بازو چھوڑتے ہوئے تیزی سے پلٹا۔
“میں چاہتا ہوں کہ میں تم سے دور چلا جاوں!
“اتنی دور کہ میری پرچھائی بھی نہ دیکھ سکو تم!
کیونکہ اسی میں تمہاری خوشی ہے!
ہے ناں؟
وہ پھر سے عمارہ کی طرف پلٹا۔
عمارہ نے آنسو بہاتے ہوئے سر نفی میں ہلا دیا۔
“تم نے ہی تو کہا تھا میری زندگی سے نکل جاو!
دیکھ لو تمہاری خاطر میں اس دنیا سے جانے کو تیار تھا۔مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا شاید۔
“ابھی مرنا میری قسمت میں نہی لکھا!
ورنہ میں نے تو پوری کوشش کی تھی مرنے کی۔۔۔۔۔
عمارہ بے یقینی سے وہاج کی طرف دیکھ کر آنسو بہا رہی تھی۔
وہاج نے آگے بڑھ کر عمارہ کے بہتے آنسو صاف کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔۔۔
مگر پھر ظبط سے مٹھی بند کرتے ہوئے ہاتھ واپس کھینچ لیا۔
نہی۔۔۔۔سر نفی میں ہلا دیا۔
نہی۔۔۔مجھے کوئی حق نہی تمہارے آنسو صاف کرنے ک۔
کوئی حق نہی مجھے!
مسز شاہزیب!
“سارے حق شاہزیب کے ہیں۔
سہی کہا ناں میں نے؟
عمارہ نے سر نفی میں ہلا دیا۔
نہی وہاج!
“میں سچ جان چکی ہوں!
“میں جان چکی ہوں کہ شاہزیب مجھے طلاق دے چکا ہے,,
“مجھے معاف کر دیں میں نے آپ پر یقین نہی کیا۔
“آپ کا کہا گیا ایک ایک لفظ سچ تھا وہاج!
عمارہ دل میں سوچ کر ہی رہ گئی۔۔مگر وہاج کے سامنے بولنے کی ہمت نہی کر سکی۔
تو ٹھیک ہے اب وہی ہو گا جو تم چاہو گی!
“میں تم سے دور چلا جاوں گا بہت جلد!
بس چند دن مزید برداشت کر لو مجھے،پھر کبھی لوٹ کر واپس نہی آوں گا اس گھر میں,,
وہاج سر تھامتے ہوئے وہی سیڑھیوں پر بیٹھ گیا،سر میں شدید درد سا اٹھا۔
عمارہ تیزی سے وہاج کی طرف بڑھی۔
وہاج آپ ٹھیک تو ہیں؟
عمارہ نے وہاج کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
وہاج نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
“ہاتھ مت لگاو مجھے!
جاو یہاں سے عمارہ۔۔مجھے اکیلا چھوڑ دو۔
وہاج دبی دبی سی آواز میں بولا۔
عمارہ نے سر نفی میں ہلایا۔
نہی۔۔۔میں آپ کو چھوڑ کر نہی جاوں گی۔
آپ اپنے کمرے میں چلیں،طبیعت ٹھیک نہی لگ رہی مجھے آپ کی۔
ابھی تو آئے ہیں ہاسپٹل سے۔۔۔آتے ہی پھر سے وہی باتیں!
آپ کو آرام کی ضرورت ہے۔
چلیں میرے ساتھ!
عمارہ اس کا بازو تھامتے ہوئے نیچے کی طرف بڑھ گئی۔
وہاج نا چاہتے ہوئے بھی بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ عمارہ کے ساتھ کھینچتا چلا گیا۔
آپ بیٹھیں یہاں۔۔۔میں آپ کی میڈیسنز لے کر آتی ہوں۔
عمارہ وہاج کو کمرے میں چھوڑتے ہوئے تیزی سے باہر کی طرف بڑھی۔
کھانے کی ٹرے اور دوائیاں لے کر کمرے میں آئی۔
وہاج ابھی تک صوفے پر ہی بیٹھا تھا سر کو تھامے ہوئے۔
یہ کھانا کھا لیں جلدی سے۔پھر دوائی کھا لیں۔
میں کھانا پہلے ہی کھا چکا ہوں۔بس مجھے میڈیسنز دے دو!
عمارہ نے پانی کا گلاس اور ٹیبلیٹس وہاج کی طرف بڑھائیں۔
وہاج نے عمارہ کے ہاتھ سے پانی کا گلاس تھام لیا۔
میں خود کھا لوں گا!
عمارہ نے ٹیبلیٹس بھی وہاج کی طرف بڑھا دیں۔
وہاج بیڈ کی طرف بڑھ گیا۔
کمبل اوڑھ کر سونے کے لیے لیٹ گیا۔
عمارہ نے الماری سے ہیٹر نکال کر بیڈ کے پاس رکھ کر چلا دیا۔
کچھ ہی دیر میں وہاج سو گیا۔
عمارہ کمرے سے باہر نکل گئی۔
سامنے سے پھوپھو آ رہی تھیں۔
عمارہ کیا ہوا وہاج ٹھیک تو ہے ناں؟
تم کمرے میں آئی تھی۔میں تب نماز پڑھ رہی تھی۔
جی پھوپھو جان وہ ٹھیک ہیں۔بس سر میں تھوڑا درد تھا۔میڈیسن دے دی ہے میں نے۔اب سو رہے ہیں۔
وہی لینے آئی تھی میں آپ کے کمرے میں!
ٹھیک ہے۔۔اور یہ کھانا؟
عمارہ کے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے دیکھ کر وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔
یہ کھانا میں وہاج کے لیے لائی تھی۔لیکن انہوں نے کھایا ہی نہی۔کہہ رہے تھے پہلے ہی کھا چکے ہیں۔
اچھا۔۔۔تم ایسا کرو خود کھا لو یہ کھانا۔
بلکہ آو میرے ساتھ ہم دونوں مل کر کھائیں۔
وہ دونوں مسکراتی ہوئیں عمارہ کے کمرے میں چلی گئیں۔اور مل کر کھانا کھایا۔
کھانا کھانے کے بعد پھوپھو اپنے کمرے میں چلی گئیں۔
عمارہ پھر سے وہاج کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
کمبل درست کرنے کر رہی تھی کہ وہاج نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
عمارہ گھبرا گئی۔۔۔
اس نے آہستہ آہستہ وہاج کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ آزاد کروایا۔
لیمپ آن کیے۔۔۔اور کمرے کی لائٹ بند کرتے ہوئے باہر نکل گئی۔
دن اسی طرح گزرتے چلے گئے۔آہستہ آہستہ وہاج کی طبیعت سنبھلنے لگی۔
سر کا زخم بھی ٹھیک ہو گیا۔
وہاج کا رویہ عمارہ کے ساتھ ٹھیک نہی تھا۔مگر عمارہ پھر بھی زبردستی اس کے چھوٹے چھوٹے کام کرتی رہتی۔
آج ہفتے کی شام تھی۔
عمارہ نے سوچ لیا تھا کہ آج وہاج کو چچی اور شاہزیب کی سننے والی گفتگو کے بارے میں بتا دے گی۔اور وہاج سے اپنی محبت کا اظہار کر دے گی۔
اپنی غلطی کی معافی مانگ لے گی۔جو اس نے وہاج کی باتوں پر یقین نہی کیا۔
سب ڈنر کر رہے تھے۔ہنسی مزاق چل رہا تھا۔
ولی اور حمزہ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں مصروف تھے اور سب ان کی باتوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
عمارہ بھی پھوپھو کے ساتھ بیٹھی ہنس رہی تھی۔کہ اچانک مسز حسن اٹھ کھڑی ہوئیں۔
آپ سب سے ایک ضروری بات کرنی تھی!
“منیبہ اور وہاج کے رشتے کی بات!
ڈائِینگ ٹیبل پر موجود سب گھر والوں کے چہروں پر حیرانگی چھا گئی۔
حمزہ کے ہاتھ سے پلیٹ فرش پر گر کر ٹوٹ گئی۔
وہ ساکن سا ماں کو دیکھنے لگا۔
مسز حسن نے چونک کر حمزہ کی طرف دیکھا۔
کیا دو منٹ کے لیے تم اپنی یہ فضول حرکتیں بند کر سکتے ہو؟
ان کا اشارہ حمزہ کی طرف تھا۔
حمزہ نے کندھے اچکا دئیے۔
“میں جانتی ہوں میں بیٹی والی ہوں اور میرا اس طرح سے بات کرنا آپ سب کو عجیب لگ رہا ہو گا۔مگر یہاں کونسا کوئی غیر ہے!
سب اپنے ہی تو ہیں۔۔۔
وہاج جیسا اچھا لڑکا اگر میری بیٹی کا نصیب بن جائے تو اس سے بڑھ کر اور کیا خوش نصیبی ہو گی ہمارے لیے۔
سہی کہا ناں میں نے حسن صاحب؟
حسن صاحب نے مسکراتے ہوئے ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔
جی۔۔میں جانتا ہوں میری بہن اور بھائیوں جیسے بہنوئی کو اس رشتے سے کوئی اعتراض نہی ہو گا۔
احمد صاحب اور مسز احمد نے چونک کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر اگلی نظر دونوں نے سب سے بے نیاز بیٹھی عمارہ پر ڈالی۔
“بھائی صاحب ہمیں تو کوئی اعتراض نہی!
آپ ایک بار وہاج سے۔۔۔۔
“مجھے یہ رشتہ منظور ہے,,
مسز احمد کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی وہاج بول پڑا۔
“مجھے اس رشتے سے کوئی اعتراض نہی!
وہاج عمارہ پر نظریں جمائے ایک ایک لفظ چبا کر بولتا چلا گیا۔
عمارہ نے چونک کر وہاج کی طرف دیکھا۔
وہ امید لگائے بیٹھی تھی کہ وہاج اس رشتے سے انکار کر دے گا۔
مگر نہی!
وہاج نے اس کے سارے ارمانوں پر پانی پھیر کر رکھ دیا۔
عمارہ نے ایک نظر اپنے ساتھ بیٹھی پھوپھو پر ڈالی اور وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
