Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kismat Ka Likha (Episode 24)

Kismat Ka Likha by Khanzadi

عمارہ بہت پریشان تھی۔وہاج نے فون نہی کیا تھا اسے۔وہ خود کال کرنا چاہتی تھی مگر یہ سوچ کر رک جاتی تھی کہ ہو سکتا ہے وہاج مصروف ہو۔

ادھر مسز حسن کی عمارہ کے لیے نفرت دن بدن بڑھتی جا رہی تھی۔

جیسے ہی وہ عمارہ کو کمرے سے باہر دیکھتیں،اپنے دل کی بھڑاس عمارہ پر نکالنے لگتیں۔

مجبوراً عمارہ ان کو نظر انداز کرتی ہوئی واپس اپنے کمرے میں چلی آتی۔

عمارہ اپنے کمرے میں سو رہی تھی کہ اچانک اسے کمرے میں کسی اور موجودگی کا احساس ہوا۔

جیسے ہی عمارہ نے اٹھنے کی کوشش کی اسے اپنی گردن پر بھاری دباو سا محسوس ہوا۔

وہ خود کو آذاد کروانے کے لیے ہاتھ پیر مارنے لگی۔

تب ہی اچانک عمارہ کا بازو کسی نوکیلی چیز پر لگی اور اس کے بازو سے خون بہنا شروع ہو گیا۔

عمارہ نے پورا زور لگا کر اپنی گردن آذاد کروائی اور اس کی ایک زور دار چیخ پورے گھر میں گونجی۔

عمارہ نے اٹھنے کی کوشش کی مگر سر چکرانے لگا اور وہی بیڈ پر گر گئی۔

دیکھتے ہی دیکھتے سب عمارہ کے کمرے میں آ گئے۔

مسز احمد کے تو جیسے پاوں تلے زمین سرک گئی ہو عمارہ کو اس حالت میں دیکھ کر۔

وہ چیختی ہوئی عمارہ کے پاس پہنچیں۔

عمارہ۔۔۔۔عمارہ۔۔۔وہ چلا رہی تھیں مگر عمارہ بے خبر بیڈ پر پڑی تھی۔

حسن صاحب جلدی سے عمارہ کی طرف بڑھے اور اس کی نبض چیک کی۔جو بہت مدھم چل رہی تھی۔

گاڑی نکالو جلدی،حسن صاحب حمزہ اور ولی دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولے۔

حسن صاحب کی آواز پر ولی تیزی سے باہر کی طرف دوڑا اور حمزہ عمارہ کو بازووں میں اٹھائے تیزی سے باہر کی طرف دوڑا۔

مسز احمد نے عمارہ کا ڈوپٹہ اس کے بازو پر رکھ کر ہاتھ سے دباو ڈالا تاکہ خون بہنے سے رک سکے۔

حمزہ ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے گاڑی ہاسٹل کی طرف بڑھا دی۔

ولی اور مسز حسن گھر پر ہی موجود تھے۔انیسہ اور منیبہ دونوں آرام سے اپنے کمرے میں سو رہی تھیں۔

جیسے ہی وہ لوگ عمارہ کو لے کر ہاسپٹل پہنچے۔اسے فوراً ٹریٹمنٹ کے لیے ایڈمٹ کر لیا گیا۔

مگر ہاسپٹل انتظامیہ کے انکشاف نے ان سب کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔

ڈاکٹر کا کہنا تھا۔کیا انہوں نے خود کشی کی ہے؟

سب کے چہروں پر حیرانگی کے اثرات تھے ڈاکٹر کے سوال پر۔

نہی میری بیٹی خود کشی نہی کر سکتی!

اس کے ساتھ کوئی حادثہ ہوا ہے ڈاکٹر صاحب یا پھر یوں کہہ لیں کہ اسے کسی نے مارنے کی کوشش کی ہے۔مسز احمد نے آخری بات اپنے بھائی کی طرف دیکھتے ہوئے کی۔

یہ سب ہوا کیسے’میرا مطلب یہ کہاں تھی جب یہ حادثہ پیش آیا؟

ڈاکٹر صاحب نے ایک اور سوال کر ڈالا۔

یہ اپنے کمرے میں سو رہی تھیں۔

اچانک ہم سب کو چلانے کی آواز آئی۔جب ہم کمرے میں پہنچے تو ان کی یہ حالت تھی۔جواب حمزہ نے دیا۔

اوہ۔۔۔تو اس کا مطلب ان پر حملہ ہوا ہے!

ڈاکٹر نے افسوس سے جواب دیا۔

ان کو مارنے کی کوشش کی گئی ہے۔مطلب ان کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ پولیس کیس ہے!

ہمیں پولیس کو اس معاملے میں بتانا ہو گا۔

آپ کو جیسا ٹھیک لگے آپ کریں ڈاکٹر صاحب،میں بھی اس قاتلانہ حملہ کرنے والے کو سزا دینا چاہتی ہوں۔جس نے میری پھول سی بچی کو جان سے مارنے کی کوشش کی ہے۔مسز احمد بہتے آنسووں اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں حسن صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے بول رہی تھیں۔

آپ کو کسی پر شک؟

ڈاکٹر کے سوال پر حسن صاحب نے چونک کر بہن کی طرف دیکھا۔

نہی داکٹر صاحب ہمیں کسی پر شک نہی ہے،مجھے یقین ہے یہ کام کسی باہر والے کا ہو سکتا ہے۔

مطلب کسی چور کا!

ہو سکتا ہے کوئی چور گھر میں گھسا ہو چوری کی غرض سے اور عمارہ اسے دیکھ کر چلائی ہو۔

بدلے میں اس نے عمارہ پر حملہ کر دیا ہو۔احمد صاحب ڈاکٹر کو مطمئن کرنے لگے۔

ہاں یہ ہو بھی سکتا ہے،خیر جو بھی ہوا ہو۔

پولیس اس معاملے کی جڑ تک پہنچ کر رہے گی۔میں پولیس کو اطلاع دے کر آتا ہوں۔

ڈاکٹر صاحب میری بچی۔۔۔وہ ٹھیک تو ہے ناں؟

مسز احمد تیزی سے ڈاکٹر کی طرف بڑھیں۔

خون بہت بہہ چکا ہے،ابھی کچھ نہی کہا جا سکتا۔ٹریٹمنٹ چل رہا ہے۔آپ لوگ دعا کریں۔

ڈاکٹر اپنے پروفیشنل انداز میں کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔

پھوپھو جان آپ یہاں بیٹھیں،سب ٹھیک ہو جائے گا۔

حمزہ تیزی سے ان کی جانب بڑھا۔

آپ پریشان نہ ہو پھوپھو جان،عمارہ ٹھیک ہو جائے گی۔

بس تھوڑی سی چوٹ ہے،زیادہ خون بہنے کی وجہ سے بے ہوش ہو گئی ہے۔

حمزہ ان کو دلاسہ دینے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ وہ خود بھی پریشان ہو چکا ہے عمارہ کی اس حالت پر۔

نہی حمزہ یہ تھوڑی سی چوٹ نہی ہے بیٹا،بہت خون بہہ رہا تھا میری بچی کا۔

میں وہاج کو کیا جواب دوں گی!

اس کی امانت،اس کی بیوی کا خیال بھی نہی رکھ سکی میں۔

وہ تو میرے بھروسے عمارہ کو اس گھر میں چھوڑ کر گیا تھا۔

کیسے سامنا کروں گی میں اس کا،کیا بتاوں اسے؟

نہی پھوپھو جان آپ سنبھالیں خود کو۔

عمارہ بلکل ٹھیک ہو جائے گی،وہاج بھائی کو کچھ مت بتانا آپ۔

وہ پہلے ہی بہت پریشان ہیں،کیسے آئیں گے وہاں سے واپس۔

بہت مشکل ہو جائے گی ان کے لیے۔

آپ بس دعا کریں عمارہ کے لیے۔۔۔۔میں آپ کے لیے پانی لے کر آتا ہوں۔

ہمت سے کام لو سب ٹھیک ہو جائے گا۔

عمارہ ٹھیک ہو جائے گی۔

حمزہ کے وہاں سے جاتے ہی حسن صاحب بہن کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔

آپ تو رہنے ہی دیں بھائی صاحب!

اچھی طرح جانتی ہوں میں آپ کے دل میں کتنی محبت ہے عمارہ کے لیے۔

یہ سب آپ ہی مہربانی ہے!

آج تک عمارہ کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا ہے۔آپ برابر کے شریک دار ہیں۔

آپ نے اور بھابی نے مل کر اس معصوم بچی کے ساتھ بہت نا انصافیاں کی ہیں۔

اپنے بیٹے سے زبردستی نکاح کروا دیا اور اس کے بعد اسے امریکہ بھیج دیا اپنی مرضی سے شادی کرنے اور عمارہ کو بہو کے نام پر اس گھر کی نوکرانی کا درجہ دے دیا گیا۔

جبکہ شاہزیب وہ رشتہ ساتھ سال پہلے ہی ختم کر چکا تھا۔

ایک جھوٹے بندھن کے نام پر عمارہ کو اپنے گھر میں قید کیے رکھا آپ لوگوں نے اور آج!

آج تو حد ہی کر دی آپ سب نے،عمارہ کو جان سے مارنے کی کوشش کی۔وہ اس لیے تا کہ وہاج ثبوت لیے بنا ہی پاکستان واپس آ جائے۔

مگر نہی اب اور نہی بھائی صاحب!

اب میں ہرگز عمارہ کو اس گھر میں واپس نہی جانے دوں گی۔

جیسے ہی عمارہ کی طبیعت سنبھلتی ہے۔اسے اپنے گھر لے کر جاوں گی۔

“اس گھر میں جہاں رہنے کی اب وہ حقدار ہے،وہاج کی بیوی بن کر،،

آپ کے اعتراضات سے مجھے کوئی فرق نہی پڑتا بھائی صاحب۔

اگر میرا بیٹا چاہتا تو قانون کا سہارا لے سکتا تھا،اسے عمارہ کو اپنی بیوی ثابت کرنے کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہی تھی،مگر جانتے ہیں بھائی صاحب وہ کیوں گیا امریکہ؟

کیوں وہ طلاق نامہ اتنا ضروری ہو گیا اس کے لیے؟

کیونکہ آپ نے اس کے ماں،باپ کے رشتے پر انگلی اٹھائی ہے۔

وہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ نا تو اس کے ماں،باپ غلط تھے اور نا ہی ان کی تربیت۔

اگر وہ چاہتا تو اسی دن عمارہ کو یہاں سے لے جاتا،مگر نہی گیا۔

سچ کیا ہے میں نہی جانتا!

مگر ایک بات تم بھی سمجھ لو۔

“آج تک عمارہ کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا اس میں میرا کوئی قصور نہی ہے۔

شاہزیب نے دوسری شادی کر لی۔یہ بات تو میں جانتا تھا مگر عمارہ کو طلاق دی یا نہی اس نے،اس بارے میں مجھے کچھ علم نہی ہے۔

آج جو کچھ بھی ہوا ہے عمارہ کے ساتھ اس معاملے میں تخقیق ہو گی اور حملہ آور کو سزا ضرور ملے گی،یہ میرا وعدہ ہے تم سے!

“اگر آپ کو علم نہی ہے تو جاننے کی کوشش کیجیئے بھائی صاحب۔

سچائی خود بخود آپ کی آنکھوں کے سامنے آ جائے گی۔

پھوپھو جان یہ لیں پانی۔

حمزہ نے پانی کا گلاس ان کی طرف بڑھایا۔

حسن صاحب گہری سوچ میں ڈوب چکے تھے۔

*************************************

اپنی مطلوبہ جگہ پہنچ کر وہاج نے بیل بجائی۔

دروازہ کھلنے کی آواز پر وہاج نے پلٹ کر دیکھا۔

“ہیلو ڈئیر!

وہاج نے مسکراتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھایا۔

سامنے ایک پانچ سالہ بچہ غور سے وہاج کو دیکھ رہا تھا۔

جیسے پہچاننے کی کوشش کر رہا ہو۔

“I,am your uncle,from pakistan.

اس بچے کو سوچ میں گُم دیکھ کر وہاج نے اپنا تعارف کروایا۔

From pakistan?

پاکستان کا نام سن کر اس بچے کے چہرے پر مسکان پھیل گئی۔

Yes,

وہاج نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

اس بچے نے جلدی سے وہاج کا ہاتھ تھام لیا۔

اسلام و علیکم!

اس کے سلام کرنے پر وہاج کو حیرت کا جھٹکا لگا۔

حمزہ چاچو؟

اس سے پہلے کے وہاج کچھ اور بولتا اس پر مزید حیرت کا پہاڑ ٹوٹا۔

NO!

وہاج نے سر نفی میں ہلا دیا۔

Hmmm,

وہ بچہ سوچ میں پڑ گیا۔

ولی چاچو؟

اس نے پھر سے سوال کر ڈالا۔

NO!

وہاج نے پھر سے سر نفی میں ہلا دیا۔

تو پھر کون ہیں آپ؟

اس بچے کو اردو میں بات کرتے دیکھ وہاج حیران رہ گیا۔

Hey,you can speak urdu?

وہاج نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔

YES,i can speak but who are you?

وہ چہرے پر دلفریب مسکراہٹ سجائے بولا۔

Hmmm,

وہاج مسکرا دیا۔

میں آپ کا وہاج چاچو ہوں،لگتا ہے آپ کے بابا نے میرے بارے میں نہی بتایا آپ کو۔

نہی۔۔۔بابا مجھے مام سے چھپ کر کبھی کبھی ولی اور حمزہ چاچو کے بارے میں بتاتے رہتے ہیں۔کیونکہ مام کو وہ لوگ پسند نہی۔

Hmm۔…what’s your name?

وہاج نے اس کا نام پوچھا۔

بابا کے لیے عبدللہ،مام کے جاہن!

اس کا جواب افسردگی بھرا تھا۔

میرے لیے بھی عبدللہ ہو آپ،بہت پیارا نام ہے آپ کا۔

Where is your mom?

وہاج کے سوال پر وہ اندر کی طرف بڑھ گیا۔

Mom۔…He is uncle wahaj,from pakistan.

وہ اپنی ماں کو بازو سے کھینچتے ہوئے دروازے پر لےآیا۔

وہاج کو دیکھتے ہی وہ حیرت میں ڈوب گئی اور دروازہ بند کرنے ہی لگی تھی کہ وہاج نے آگے بڑھ کر دروازہ بند ہونے سے روک دیا۔

“Not fare dear bhabi g!

وہاج نے لفظ بھابی پر تھوڑا زور ڈالا۔

بابا تو گھر نہی ہیں انکل!

جواب عبدللہ کی طرف سے آیا۔وہ حیرانگی سے وہاج کے اس بدلتے روئیے کو نوٹ کر رہا تھا۔

وہاج دروازہ کو دھکا مارتے ہوئے گھر میں داخل ہو گیا اور دروازہ بند کر دیا۔

What you want?

شاہزیب کی بیوی چلائی اور عبدللہ کو اپنے پیچھے چھپا لیا۔

Your Husband,Shahzaib!

Call him and tell him that,wahaj wants to meet him!

وہاج بڑے آرام سے صوفے پر بیٹھ کر دونوں بازو سینے پر فولڈ کیے ٹانگ پر ٹانگ جمائے بولا۔

He is out of country at this time!

وہ ڈرتے ہوئے بولی۔

NO!

I know, He is here in chicago….near your home!

So don’t trying to be over smart,and called him.

Otherwise i will forget our relation and i will traet you and your son like a target.so come on hurry up!

“Dont waste my time!

You have just five minutes!

I want shahzaib here!

Don’t try to call the police or any one other,

وہاج نے آگے بڑھ کر عبدللہ کو گود میں اٹھا لیا۔

And۔…Done try to be over smart!

Don’t forgett,your son is with me.

وہاج اپنی بات مکمل کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گیا۔

وہ تیزی سے فون کی طرف بڑھی اور شاہزیب کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔

وہاج فریج سے پانی کی بوتل نکالتے ہوئے اس کے پاس آ رکا۔

عبدللہ وہاج کا ہاتھ تھامے اس کے پاس ہی رک گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *