Kismat Ka Likha by Khanzadi NovelR50493 Kismat Ka Likha (Episode 16)
Rate this Novel
Kismat Ka Likha (Episode 16)
Kismat Ka Likha by Khanzadi
اگلی صبح گھر میں رونق سی لگی ہوئی تھی۔پورے گھر کو خوبصورت پھولوں اور روشنیوں سے سجایا جا رہا تھا۔
عمارہ سب سے لا تعلق اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔اس کا دل ہی نہی چاہ رہا تھا باہر جانے کو۔
مسز حسن اور منیبہ صبح سے مارکیٹ گئی ہوئی تھیں۔انیسہ اور عاصم بھی ان کے ساتھ تھے۔
حسن صاحب اور احمد صاحب گھر کی سجاوٹ اور کھانے کی زمہ داریوں میں لگے تھے۔
ولی اور حمزہ بھی اسی کام میں مصروف تھے۔
وہاج صبح سے گھر سے باہر تھا۔ابھی واپس لوٹا تھا۔
عمارہ کمرے سے باہر نکل کر ٹیرس پر جا رکی۔
نیچے گارڈن میں سجتے ہوئے سٹیج کو دیکھنے لگی۔
وہاج بھی وہی اس کے پاس آ رُکا۔
“کیا دیکھ رہی ہو؟
نظر لگاو گی کیا؟
وہاج کی آواز پر عمارہ چونک کر پلٹی۔
نہی۔۔۔اس نے سر نفی میں ہلایا۔
بہت خوش ہو نا تم؟
وہاج ایک ایک لفظ پر زور ڈالتے ہوئے بولا۔
عمارہ مسکرا دی۔
“آپ خوش ہیں تو میں بھی خوش ہوں!
“آپ کی خوشی میں ہی میری خوشی ہے۔
عمارہ مزید سوالات سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے تیزی سے وہاں سے چلی گئی۔
وہاج نے مسکراتے ہوئے ایک نظر جاتی ہوئی عمارہ پر ڈالی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
جیسے جیسے شام ہوتی گئی۔مہمانوں کی آمد شروع ہونے لگی۔
مسز حسن نے چھوٹے سے فنکشن کے نام پر اپنا پورا خاندان بلا لیا تھا۔
اپنے بچوں کی خوشی میں سب کو شامل کرنا چاہتی تھیں وہ۔
کسی بھی قسم کی کمی نا رہ جائے بس یہی فکر ستائی جا رہی تھی ان کو۔
وہ غصے سے عمارہ کے کمرے میں داخل ہوئیں۔
سامنے عمارہ کو تیار دیکھ کر ان کے چہرے کے زاویے بگڑے۔
عمارہ سفید جوڑا پہنے،شیشے کے سامنے بیٹھی تیار ہونے میں مصروف تھی۔
مسز حسن تو دھنگ رہ گئیں عمارہ کو تیار ہوتے دیکھ کر۔
عمارہ ان کی طرف پلٹ کر مسکرا دی۔
کوئِی کام تھا چچی جان؟
نہی۔۔۔مسز حسن کی آواز جیسے گلے میں ہی اٹک کر رہ گئی۔
وہ تو سمجھ رہی تھیں کہ عمارہ گھر کے کسی کونے میں بیٹھ کر آنسو بہا رہی ہو گی۔مگر یہاں تو سب الٹ تھا۔
عمارہ ایسے تیار ہو کر بیٹھی تھی جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو۔
مسز حسن مزید طیش میں آ گئی۔
کیا ثابت کرنا چاہتی ہو تم؟
یہی ناں کہ تمہیں کوئی فرق نہی پڑتا وہاج اور منیبہ کی شادی سے؟
مگر تمہارے دل کا درد میں جانتی ہوں،تم چہرے پر جھوٹی مسکراہٹ سجائے اپنا درد چھپانے کی کوشش کر رہی ہو۔
خیر بہت اچھی ایکٹنگ کر رہی ہو،بہت اچھا فیصلہ کیا تم نے۔
اسی میں تمہاری بھلائی ہے!
یہی بات تو میں تمہیں سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
مگر تم ہی ضد پر اٹکی ہوئی تھی۔
یہ ہوئی نا بات!
پہلی بار تمہیں دیکھ کر خوشی ہوئی مجھے۔
بس اسی طرح میری باتیں مانتی رہا کرو۔اچھی لگتی ہو۔
اسی میں تمہاری بھلائی ہے اور فائدہ بھی۔
اگر میرے خلاف جانے کی کوشش بھی کی تو برباد کر دوں گی میں تمہیں۔
کہی کی نہی رہو گی!
گھر سے بے گھر ہو جاو گی اور اپنی جائیداد سے بھی۔
اسی لیے بہتری اسی میں ہے کہ وہاج کا پیچھا چھوڑ دو۔
میری بیٹی کی خوشیوں میں کوئی بھی رکاوٹ برداشت نہی کروں گی میں۔
امید ہے میری بات اچھی طرح سمجھ گئی ہو گی تم؟
جی چچی جان!
عمارہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولی۔
اب اسے کوئی فرق نہی پڑتا کسی کی باتوں سے۔
اپنی زندگی کی سچائی کو قبول کر چکی تھی عمارہ۔
اتنا تیار ہونے کی بھی ضرورت نہی تھی،منیبہ کی منگنی ہے تمہاری نہی!
مسز حسن کو عمارہ کا ڈریس اور تیاری دیکھ کر جلن سی محسوس ہوئی۔
عمارہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی اس سفید ڈریس میں،وہ ڈریس میں لگے جمگ مگ چمک چمکتے موتیوں اور نگینوں کا ہی ایک حصہ سا لگ رہی تھی۔
ڈوپٹہ خوبصورتی سے سر پر ٹکائے،سفید زیورات پہنے،سر تا پاوں تک سفید مورت سی بنی ہوئی تھی۔
یہ جوڑا آیا کہاں سے تمہارے پاس؟
مسز حسن یاد آنے پر چونکتے ہوئے بولی۔
عمارہ ایک نظر شیشے میں ابھرتے اپنے وجود پر ڈالتی ہوئی اٹھ کھڑِی ہوئی۔
چچی جان یہ ڈریس مجھے پھوپھو جان نے تخفے میں دیا ہے۔خاص طور پر آج کے فنکشن کے لیے۔
اس گھر کی اکلوتی اور بڑی بہو ہوں میں،اتنا سجنا سورنا تو حق بنتا ہے میرا؟
میری بہنوں جیسی نند کی خوشی کا دن ہے آج،میں کیسے پیچھے رہ سکتی ہوں سب سے۔
سہی کہہ رہی تھیں آپ،اسی میں میری بھلائی ہے۔
میں ہی انجان بنی رہی اور خود ہی اپنے پاوں پر کلہاڑی مارنے جیسے کام کر رہی تھی۔
عمارہ کی باتوں پر مسز حسن کے چہرے پر ایک رنگ آیا اور ایک رنگ گیا۔
عمارہ کا یہ بدلہ ہوا روپ ان کو کچھ عجیب سا لگا۔
اچھا،اچھا ٹھیک ہے!
وہ بے زار ہوتے ہوئے بولیں۔
اب بڑی بہو ہونے کے فرائض بھی نبھا لو،سب مہمان آچکے ہیں۔
جاو جا کر خیال رکھو مہمانوں کا۔
منیبہ بھی بس آنے ہی والی ہے،فنکشن شروع ہونے والا ہے۔
جی چچی جان،آپ چلیں میں بس پانچ منٹ میں آ رہی ہوں۔
مسز حسن فون کی رنگ ٹون بجنے پر عمارہ کے کمرے سے باہر نکل گئی۔
دیکھتے ہی دیکھتے ہی دیکھتے سارا گارڈن مہمانوں سے بھر گیا۔
روشنیاں جگمگانے لگیں،ہر طرف روشنی ہی روشنی دکھائی دینے لگی۔
ہر طرف مہمانوں کی چہل پہل ہو گئی۔
سٹیج پر سجی سنوری بیٹھی منیبہ اور اس کے ساتھ بیٹھا وہاج دونوں سب کی نظروں کا مرکز بنے ہوئے تھے۔
عمارہ ٹیرس پر کھڑی یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔
چلیں۔۔۔۔؟
مسز احمد کی آواز پر عمارہ پلٹی۔
جی۔۔۔مختصر جواب دیا
مسکراتی ہوئی ان کے ساتھ چل پڑی۔
وہ دونوں سٹیج کی طرف بڑھیں۔
جیسے ہی عمارہ سٹیج کے زینوں کو طے کرنے لگی،وہاج اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
عمارہ کی طرف مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ بڑھایا۔
عمارہ نے بھی چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہاج کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔اور وہاج کے ساتھ آ رکی۔
وہاج نے بھی سفید جوڑا پہن رکھا تھا۔
دونوں ایک ساتھ کھڑے بہت اچھے لگ رہے تھے۔
منیبہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
وہاج۔۔۔؟
یہ کیا بدتمیزی ہے؟
وہاج مسکراتے ہوئے منیبہ کی طرف پلٹا۔مگر بولا کچھ نہی۔
باقی سب کے چہروں پر بھی حیرانگی نمایاں تھی۔
وہاج آگے بڑھ کر ٹیبل پر پڑی انگوٹھی اٹھا کر عمارہ کی طرف بڑھا۔
اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا۔
عمارہ نے اپنا ہاتھ وہاج کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
وہاج نے مسکراتے ہوئے عمارہ کا ہاتھ تھام کر اسے انگوٹھی پہنا دی۔
مسز احمد نے اب عمارہ کی طرف انگوٹھی بڑھائی۔
عمارہ نے وہ انگوٹھی وہاج کو پہنا دی۔
سب کے چہرے حیرت سے کھلے رہ گئے۔
حمزہ نے مسکراتے ہوئے سٹیج کی طرف بڑھا۔
مسز حسن جہاں کھڑی تھیں،وہی کھڑی رہ گئیں۔
کسی میں بھی آگے بڑھنے کی ہمت نہی رہی۔
منیبہ وہی صوفے پر بیٹھ گئی سر تھامتے ہوئے۔
وہاج بنا کسی جھجک کے سب کے سامنے عمارہ کا ہاتھ تھامے کھڑا تھا۔
مسز حسن غصے سے عمارہ کی طرف بڑھیں۔
عمارہ کو تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ وہاج سامنے آ گیا۔
نہی ممانی جان!
وہاج نے سر نفی میں ہلایا۔
چہرے پر مسکراہٹ کی جگہ اب غصے نے لے لی تھی۔وہ لب بھینچے مسز حسن کو گھور رہا تھا۔
عمارہ نے وہاج کو اپنے سامنے ڈھال بنے دیکھا تو آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
وہاج عمارہ کی طرف پلٹا،ہاتھ بڑھا کر عمارہ کی آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کیے۔
حسن صاحب غصے سے وہاج کی طرف بڑھے اور بازو سے کھینچتے ہوئے اس کا رخ اپنی طرف موڑا۔
وہاج۔۔۔!
یہ سب کیا ہے؟
وہ غصے سے چلائے اور وہاج کی طرف ہاتھ اٹھایا۔
تب ہی وہاج کے بابا آگے بڑھے اور ان کا ہاتھ تھام لیا۔
نہی حسن صاحب!
میرے بیٹے پر ہاتھ اٹھانے کی غلطی مت کیجئیے گا،ورنہ میں برداشت نہی کروں گا۔
آج تک اپنے بیٹے کے ساتھ ہوئی نا انصافیوں کو خاموشی سے برداشت کرتا آیا ہوں میں۔مگر اب میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔
وہاج کی ماما جلدی سے آگے بڑھیں۔
بھائِی صاحب آپ ہمیں غلط مت سمجھیں،وہاج نے جو کیا بلکل ٹھیک کیا ہے۔
تم بھی اپنے بیٹے کا ساتھ دے رہی ہو؟
حسن صاحب غصے سے بہن کی طرف بڑھے۔
بھائی جان آپ ابھی سچ سے انجان ہیں!
وہاج کی ماما نے بھائی کو سمجھانا چاہا۔
سچ سب کے سامنے ہے!
تمہارے لاڈلے بیٹے وہاج نے میرے گھر کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے۔اور تم کہہ رہی ہو میں سچ سے انجان ہوں۔
میری بیٹی کا تماشہ بنا کر رکھ دیا سب کے سامنے اور کیا باقی رہ گیا۔
حسن صاحب غصے سے چلا رہے تھے۔
نہی بھائی صاحب ایسا کچھ نہی ہے آپ غلط سمجھ رہے ہیں،منیبہ میری بھی بیٹی ہے۔
مام چلیں یہاں سے!
وہاج عمارہ کا ہاتھ تھامے ماں کی طرف بڑھا۔
ماموں جان آپ کو جو بھی پوچھنا ہے ممانی جان سے پوچھ لیں۔
آپ کے سارے سوالات کے جواب ہیں ان کے پاس!
وہاج نے گم سم سی کھڑیں مسز حسن کی طرف اشارہ کیا۔
مسز حسن چونک کر وہاج کی طرف بڑھیں۔
جواب تم دو گے وہاج!
یہاں نہی،پولیس سٹیشن میں!
ایک تو تم نے میرے گھر کی عزت پر ہاتھ ڈالا اور دوسرا میری بیٹی کی عزت نیلام کر دی سب کے سامنے۔
مسز حسن کو جب کوئی اور ترکیب نہی سوجھی تو پولیس کا نام لے لیا۔
شوق سے ممانی جان!
بہت اچھا آئیڈیا ہے،بلا لیں پولیس۔
ویاج دونوں بازو سینے پر فولڈ کیے چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولا۔
سارے مہمانوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔
توبہ،توبہ کیسا زمانہ آ گیا ہے۔شاہزیب واپس نہی آیا تو عمارہ نے وہاج سے دل لگا لیا۔
شوہر سے بے وفائی کی اس لڑکی نے،اتنے سالوں ست ماں،باپ کے گزرنے کے بعد سر آنکھوں پر بٹھا کر رکھا انہوں نے۔آخر کار یہ صلہ ملا ان کو۔
استغفرالله۔۔۔۔
عورتیں کانوں پر ہاتھ رکھ کر عمارہ کے کردار پر کیچڑ اچھال رہی تھیں۔
وہاج غصے سے سب کی طرف متوجہ ہوا۔
بہت شکریہ آپ سب کا میری خوشی میں شامل ہونے کا،کھانا تو کھا لیا ہو گا آپ سب نے!
فنکشن ختم ہوا۔۔۔آپ سب اپنے اپنے گھر واپس جا سکتے ہیں۔
وہاج ایک ایک لفظ غصے سے چباتے ہوئے بولا۔
آہستہ آہستہ سارے مہمان وہاں سے نکلتے چلے گئے۔
دیکھتے ہی دیکھتے سارا گارڈن خالی ہو گیا۔
ہمیں بھی اب چلنا چاہیے ڈیڈ!
وہاج اپنے بابا کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
چلو عمارہ!
وہاج عمارہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔
رک جاو وہاج!
کس حق سے تم نے عمارہ کا ہاتھ تھاما ہے؟
کس حق سے اسے اپنے ساتھ لے جا رہے ہو؟
حسن صاحب غصے سے بولتے ہوئے وہاج کے سامنے آ رکے۔
وہاج نے ایک نظر عمارہ پر ڈالی،گہری سانس لی اور حسن صاحب کی طرف متوجہ ہوا۔
“شوہر ہونے کی حیثیت سے تھاما ہے میں نے عمارہ کا ہاتھ,,
“بیوی ہے میری،پورا حق رکھتا ہوں میں عمارہ پر!
________________________________________
اب آپ لوگ سوچ رہے ہو گے کہ ان دونوں کا نکاح کب ہوا؟![]()
تو آئیں لے چلتے ہیں آپ سب کو کل رات کی طرف![]()
________________________________________
عمارہ کچھ دیر سوچنے کے بعد کمرے سے باہر نکل گئی۔اس کا رخ وہاج کے کمرے کی طرف تھا۔
کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور وہاج کمرے میں نہی تھا۔عمارہ جانتی تھی کہ اس وقت وہاج کہاں ہو گا۔
وہ ٹیرس کی طرف بڑھی۔
حسبِ توقع وہاج وہی بیٹھا تھا فرش پر دیوار سے سر لگائے آنکھیں بند کیے۔
عمارہ چپ چاپ وہاج کے پاس جا بیٹھی۔
وہاج کو اپنے پاس کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو جھٹ سے آنکھیں کھول دیں۔
عمارہ کو اپنے ساتھ بیٹھے دیکھا تو وہاں سے اٹھنے لگا تھا کہ عمارہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
وہاج نے آنکھیں سکوڑتے ہوئے عمارہ کی طرف دیکھا۔
مجھے آپ سے بات کرنی ہے!
عمارہ گھبراتے ہوئے بولی۔
لیکن مجھے تم سے کوئی بات نہی کرنی مسز شاہزیب!
وہاج مسز شاہزیب پر زور ڈالتے ہوئے بولا۔
عمارہ نے سر نفی میں ہلا دیا۔
“مسز شاہزیب تھی اب نہی ہوں!
“مسز وہاج بننا چاہتی ہوں،
“میری غلطیوں کو معاف کر کے مجھے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہیں گے آپ؟
وہاج نے بھنوئیں اچکا کر عمارہ کی طرف دیکھا۔
نہی۔۔۔۔اس نے سر نفی میں ہلا دیا۔
عمارہ آنسو بہانے لگی۔
کیا آپ مجھے معاف نہی کر سکتے وہاج؟
وہاج کے ہاتھ پر گرفت مزید مظبوط کرتے ہوئے بولی۔
بس یہی وہ لمحہ تھا،جب وہاج کا دل پگھل گیا۔
عمارہ سے ناراض نہی تھا وہ،اپنے رویے سے بس اسے اپنی غلطی کا احساس دلانا چاہتا تھا۔
منیبہ سے شادی کے لیے ہاں بھی عمارہ کی وجہ سے کی تھی اس نے،تا کہ عمارہ کو اپنی غلطی کا احساس ہو۔
وہاج اپنے پلان میں کامیاب ہوا۔
وہاج مسکراتے ہوئے عمارہ کی طرف پلٹا۔
نہی عمارہ!
مجھے عملی ثبوت چاہیے ابھی!
مطلب؟
عمارہ آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔
مطلب یہ کہ۔۔۔۔۔
“ابھی نکاح کرنا ہو گا مجھ سے!
وہ بھی ابھی اسی وقت۔۔۔،
تو بولو عمارہ۔۔۔جواب دو۔
کرو گی مجھ سے نکاح؟
مجھے منظور ہے!
عمارہ نے سر ہاں میں ہلا دیا۔
تو پھر دیر کس بات کی چلو میرے ساتھ۔
عمارہ وہاج کے ساتھ چل پڑی۔
وہاج اپنی ماما کے کمرے کی طرف بڑھا۔ان کو ساتھ چلنے کو بولا۔
حمزہ نے ان سب کو گاڑی کی طرف جاتے دیکھا تو وہ بھی ان کے ساتھ چل پڑا۔
عمارہ نے وہاج سے کہا حمزہ کو ساتھ لے چلیں،میرا بھائی سمجھ کر۔
وہ لوگ مسجد گئے اور عمارہ اور وہاج کا نکاح پڑھوا کر گھر آ گئے۔
