Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kismat Ka Likha (Episode 25)

Kismat Ka Likha by Khanzadi

Phone switched off,

وہ پریشان سی وہاج کی طرف مڑی۔

OK,no problem.

Let’s go Abdullah,we are going to Pakistan .

وہاج تیکھے تیوڑ لیے عبدللہ کی طرف بڑھا۔

Oh really chachu?

عبدللہ پرجوش ہوتے ہوئے بولا۔

Yes,

وہاج نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور اسے گود میں اٹھائے دروازے کی طرف بڑھا۔

I am so happy,

عبدللہ بہت خوش ہو رہا تھا پاکستان کے نام پر۔

اوہ۔۔۔مجھے یاد نہی رہا۔

وہاج پھر سے واپس پلٹا۔

شاہزیب کی بیوی حیران و پریشان سی عبدللہ کو وہاج کے ساتھ جاتے دیکھ رہی تھی۔

Where is Abdullah’s documents?

I really need it!

Can you please….

وہاج مسکرا دیا۔

NO,

وہ ڈھٹائی سے بولی۔

Oh dear bhabi,i think you are forgetting some one!

وہاج کا اشارہ عبدللہ کی طرف تھا۔

وہ وہاج کا اشارہ اچھی طرح سمجھ گئی۔

Don’t Do this…

Your enemy is shahzaib,not Abdullah.

(مت کرو ایسا،تمہارا دشمن شاہزیب ہے عبدللہ نہی)

Yeah,i know that shahzaib is my enemy but Abdullah is her weekness.

(میں جانتا ہوں میرا دشمن شاہزیب ہے مگر عبدللہ اس کی کمزوری ہے)

So i think i choose right design,i know how i can reached to shahzaib.

(مجھے لگتا ہے میں نے سہی راستہ چنا ہے،میں جانتا ہوں کیسے پہنچ سکتا ہوں میں شاہزیب تک۔

عبدللہ کی تربیت دیکھ کر وہاج کو اندازہ ہو چکا تھا کہ شاہزیب اپنے بیٹے سے بہت مخلص ہے۔اسی لیے اس نے یہ راستہ چنا،وہ جانتا ہے یہ سب غلط ہے۔مگر پھر بھی کبھی نہ کبھی انسان خود غرض بن ہی جاتا ہے۔

وہاج عبدللہ اور اس کی ماں کو کوئی نقصان نہی پہچانا چاہتا۔بس شاہزیب تک پہنچنے کے لیے انہیں استعمال کر رہا ہے۔

Documents?

وہاج نے پھر سے اپنی بات دہرائی۔

Actually what you want?

وہ آنسو بہاتے ہوئے بولی۔

I wants amarah and Shahzaib’s divorce proof.

عمارہ کے نام پر وہ سوچ میں پڑ گئی۔

But this case was closed before seven years.

(لیکن یہ شادی تو سات سال پہلے ختم ہو گئی تھی)

اس کی بات پر وہاج مسکرا دیا۔

Just for shahzaib but Amarah was still waiting for shazaib from last eight years.

Nobodt tell her that,

Now she is my wife,but shahzaib father wants this divorce’ proof!

Before seven years ago shahzaib’s mother fired this divorce papers,therefore i came here to meet shahzaib to take this divorce proof.

(بس شاہزیب کے لیے لیکن عمارہ پچھلے آٹھ سال سے وہاج کا انتظار کر رہی تھی۔اس طلاق کے متعلق کسی نے نہی بتایا اسے۔

اب عمارہ میری بیوی ہے،ہماری شادی ہو چکی ہے مگر شاہزیب کے والد کو اس بات پر یقین نہی ہے کہ شاہزیب عمارہ کو طلاق دے چکا ہے۔ان کو اس طلاق کا ثبوت چاہیے۔

جو طلاق کے پیپرز شاہزیب نے پاکستان بھجوائے تھے۔وہ پیپرز شاہزیب کی ماں نے جلا دئیے تھے۔

اسی لیے میں یہاں آیا ہوں،تا کہ شاہزیب سے کر وہ پیپرز دوبارہ حاصل کر سکوں)

Oh….it’s really sad!

Shahzaib is a cheater,i will report to the police and make sure his punished but please don’t do this,my son is my life.

He is just a Innocent baby,please leave hum.

(شاہزیب نے بہت برا کیا۔وہ ایک دھوکے باز انسان ہے۔میں اسے پولیس کے حوالے کروں گی اور کڑی سے کڑی سزا دلواوں گی اسے مگر پلیز تم ایسا مت کرو۔

میرا بیٹا میری زندگی ہے۔یہ تو بس ایک معصوم سا بچہ ہے۔اس کا کوئی قصور نہی اس میں۔اسے چھوڑ دو۔

Sorry dear bhabi,i can’t do this.

(سوری محترم بھابی،میں یہ نہی کر سکتا۔

ابھی وہاج اس سے بات کر ہی رہا تھا کہ چھت سے آواز آئی۔جیسے کسی نے چھلانگ لگائی ہو۔

وہاج کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔اس کی نظر ریسیور پر پڑی جو نیچے اپنی جگہ پر موجود نہی تھا۔مطلب شاہزیب سے کال مل چکی تھی اور وہ اس کی ساری باتیں سن چکا تھا۔

چند سیکنڈز بعد ہی شاہزیب سیڑھیاں پھلانگتا ہوا وہاج تک آ پہنچا۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی اور بیٹے کو دھمکانے کی۔

وہاج فقط مسکرا دیا۔

اب آیا بلی شکنجے میں،مجھے پتہ تھا تم ضرور آو گے۔

وہاج عبدللہ کو ساتھ لیے صوفے پر جا بیٹھا۔

چھوڑ دو میرے بیٹے کو وہاج،شاہزیب غصے سے غرایا۔

بابا یہ وہاج چاچو ہیں،پاکستان سے آئے ہیں۔بہت اچھے ہیں یہ۔عبدللہ معصومیت سے بولا۔

وہاج نے شاہزیب کی طرف دیکھتے ہوئے کندھے اچکا دئیے اور مسکرا دیا۔

شاہزیب کو اس کی یہ مسکراہٹ زہر لگی۔

عبدللہ یہاں آو میرے پاس!

باپ کی آواز پر عبدللہ وہاج کی گود سے نیچے اتر گیا۔

ارے یہ کیا عبدللہ؟

میں تو سوچ رہا تھا آپ کو پاکستان لے جاوں۔دادا اور دادو سے ملواوں۔

حمزہ اور ولی چاچو آپ کا انتظار کر رہے ہیں اور آپ ہیں کہ واپس جا رہے ہیں اپنے بابا کے پاس۔

وہاج کی چال کامیاب ہوئی۔پاکستان کے نام پر عبدللہ واپس وہاج کے پاس بیٹھ گیا۔

وہاج نے شاہزیب کی طرف مسکراہٹ اچھالی۔

دیکھو شاہزیب وقت ضائع مت کرو۔

مجھے وہ پیپرز دو تا کہ میں یہ سب ختم کروں۔

وہاج کی بات پر شاہزیب مسکرا دیا۔

اگر میں وہ پیپرز نا دوں تو کیا کر لو گے تم؟

شاہزیب کے سوال پر وہاج بھی سوچ میں پڑ گیا۔

تم نے یہاں آ کر بہت بڑی غلطی کر دی وہاج!

تم آئے تو اپنی مرضی سے مگر جاو گے میری مرضی سے۔

شاہزیب ہاتھ میں گن لیے وہاج کی طرف بڑھا۔

مگر اس کے گولی چلانے سے پہلے ہی شاہزیب کے ہاتھ سے گن گر کر فرش پر جا گری۔

سامنے سیڑھیوں میں حنان کھڑا تھا،گن سے نکلتے دھویں کو پھونک سے اڑاتے ہوئے وہ مسکرا دیا۔

“میرا نشانہ کبھی نہی چونکتا”

حنان کی بات پر سب نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔

سب سے زیادہ حیرت وہاج کو ہوئی حنان کو سامنے دیکھ کر۔

“تم یہاں کیا کر رہے ہو حنان؟

وہاج تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔

یہ میرا پرسنل معاملہ ہے،تم اس معاملے میں مت پڑو۔

جاو یہاں سے،چھپا لو اس گن کو بچہ ڈر رہا ہے۔

گولی چلنے کی آواز پر عبدللہ رونا شروع ہو گیا اور ڈر کر اپنی ماں سے لپٹ گیا۔

“اگر میں وقت پر نا پہنچتا تو اب تک آپ کا یہ بھائی آپ کا کام تمام کر چکا ہوتا،،

حنان تیزی سے بولتا ہوا نیچے گری گن اٹھانے کے لیے بڑھا جو شاہزیب بس اٹھانے ہی والا تھا۔مگر اس سے پہلے حنان اس تک پہنچ چکا تھا۔

آج پھر آ گئے تم اسے بچانے ہمیشہ کی طرح،شاہزیب کڑوے تیوڑ لیے حنان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔

آخر تمہارا رشتہ ہی کیا ہے وہاج کے ساتھ؟

شاہزیب کی بات پر حنان مسکرا دیا۔

“بھائی کا رشتہ ہے،یہ میرے وہاج بھائی ہیں،،

حنان کی بات پر وہاج نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔

جو سوال شاہزیب نے کیا وہی اس کے ذہن میں بھی آیا۔جب جب میں مشکل میں پڑا یہ مجھے بچانے آیا مگر کیوں؟

وہاج سارے سوال نظر انداز کرتے ہوئے حنان کی طرف بڑھا۔

حنان تم جاو یہاں سے یہ میرا پرسنل معاملہ ہے۔میں خود حل کر لوں گا اسے۔

ہاں وہ تو میں نے دیکھ ہی لیا ہے آپ کیسے ہینڈل کر رہے تھے۔

وہ آپ کا طریقہ تھا،اب میرے طریقہ دیکھیں۔

حنان آگے بڑھا اور شاہزیب کی بیوی کے سر پر گن رکھ دی۔

یہ کیا بدتمیزی ہے؟

شاہزیب تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔

دور۔۔۔۔۔خبردار جو ایک قدم بھی آگے بڑھانے کی کوشش کی تو میرے ہاتھ سے گولی چل جائے گی اور میرا نشانہ چونکتا نہی یہ تو تم دیکھ ہی چکے ہو۔

حنان کی آواز پر شاہزیب کے بڑھتے قدم وہی رک گئے۔

میرے پاس کوئی پیپرز نہی ہیں۔عمارہ کو طلاق نہی دی میں نے،شاہزیب ابھی بھی جھوٹ بول رہا تھا۔

وہاج چپ چاپ کھڑا سب دیکھ رہا تھا۔

حنان نے غصے سے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور گولی چلا دی۔

گولی شاہزیب کی بیوی کے پاوں کے پاس چلی مگر اسے کوئی نقصان نہی پہنچا۔

لاسٹ وارننگ!

حنان نے پھر سے گن اس کے سر پر رکھ دی۔

یہ تم ٹھیک نہی کر رہے۔شاہزیب چلاتے ہوئے بولا۔

مجھے ابھی وہ پیپرز لا کر دو جلدی ورنہ اس بار میرا نشانہ تمہاری بیوی کے سر پر ہو گا۔

وہ پیپرز یہاں نہی ہیں،میرے گھر پر ہیں۔مجھے اپنے فلیٹ پر جانا پڑے گا۔

تو جاو لے کر آو!

ہم یہی تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔

حنان کے جواب پر شاہزیب کڑوے تیور لیے حنان کی طرف بڑھا۔

وہ طلاق کے پیپرز تمہیں مل جائیں گے لیکن اگر میری بیوی یا بچہ دونوں میں سے کسی کو بھی کچھ ہوا تو تمہیں چھوڑوں گا نہی میں۔

آوٹ۔۔۔۔!

حنان چٹکی بجاتے ہوئے بولا۔

شاہزیب ایک کڑوی نگاہ وہاج پر ڈالتے ہوئے دروازے سے باہر نکل گیا۔

ایکسکیوزمی میم۔۔۔۔پلیز سٹ ہئیر!

حنان نے شاہزیب کی بیوی کے لیے کرسی آگے بڑھائی اور خود صوفے پر بیٹھ گیا آرام سے دونوں پاوں میز پر ٹکائے۔

وہاج نا چاہتے ہوئے مسکرا دیا اور حنان کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔

عبدللہ ڈرا سہما سا حنان کو دیکھ رہا تھا۔

آخر تم چیز کیا ہو؟

وہاج کے سوال پر حنان نے پاوں ٹیبل سے نیچے اتارے اور وہاج کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا۔

“ملک حنان ہوں میں,دشمن میرے نام سے تھر تھر کانپتے ہیں،،

دیکھ لیں کیسے آپ کے کزن ٹائپ بھائی کو سیدھی لائن پر لایا ہوں۔

ان جیسے لوگوں سے کیسے نپٹنا ہے اچھی طرح پتہ ہے مجھے۔

اگر تم نہ بھی آتے تو بھی میں شاہزیب سے وہ پیپرز نکلوانے ہی والا تھا۔

وہاج کی بات پر حنان نے قہقہ لگایا،سہی کہا آپ نے۔

وہاج اٹھ کر عبدللہ کی طرف بڑھا اور اسے گود میں اٹھاتے ہوئے صوفے پر بٹھا دیا حنان کے پاس۔

Don’t worry little boy,

حنان نے اسے سہمے دیکھا تو بول پڑا۔

بڑی جلدی خیال آ گیا تمہیں بچے کا،حنان جوس کا گلاس عبدللہ کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔

اب اس کے باپ کی حرکتیں ہی ایسی ہیں بیٹا کیا کرے۔

وہ سب چھوڑو مجھے یہ بتاو تم یہاں تک پہنچے کیسے اور تم شاہزیب کے بارے میں کیسے جانتے ہو؟

طلاق کے کاغذات۔۔۔۔

تمہیں کیسے پتہ ہے یہ سب؟

اور اس دن مجھے بے ہوش کیوں کیا تھا تم نے؟

کیا مجھے بتانا ضروری سمجھو گے؟

حنان گہری سانس لیتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔

آپ کو بے ہوش میں نے نہی کیا تھا وہاج بھائی۔

شاہزیب نے کیا تھا!

مطلب۔۔۔؟

ایسا کیسے ممکن ہے۔اس وقت شاہزیب وہاں تھا ہی نہی۔آخری بار میں نے تمہیں دیکھا تھا اپنے پاس۔

اس گن سے کیا تھا شاہزیب نے آپ کو بے ہوش،حنان نے شاہزیب کی گن وہاج کی طرف بڑھائی۔

اس گولی میں ایک چھوٹی سی پن ہے جو جسم میں چھبتے ہی انسان ہو یا جانور بے ہوش ہو جاتا ہے۔کیونکہ یہ عام گولی نہی ہے۔نشے سے بھری گولی ہے یہ۔

اسی سے شاہزیب نے آپ کو نشانہ بنایا تھا اور یقینً آج بھی وہ یہی کرنے والا تھا اگر میں وقت پر نہ پہنچتا تو۔اس دن میں لیٹ ہو گیا تھا۔

مگر تم یہ سب میرے لیے کیوں کر رہے ہو،اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ہر بار میری جان بچانے کیوں آ جاتے ہو تم؟

کچھ باتیں نہی بتائی جا سکتیں،آپ بس یہی سمجھ لیں کہ میں آپ کا چھوٹا بھائی ہوں۔حنان نے مختصر سا جواب دیا۔

یہ میری سوالوں کا جواب نہی ہے حنان،سچ بتاو مجھے۔وہاج نے اس کا بازو تھامتے ہوئے اس کا رخ اپنی طرف موڑا۔

حنان نظریں چرا گیا۔

سہی وقت آنے پر سچ بتا دوں گا میں آپ کو۔

اور وہ سہی وقت کب آئے گا ملک حنان؟

وہاج ملک حنان پر زور ڈالتے ہوئے بولا۔

بہت جلد!

حنان دوبارہ صوفے کی طرف بڑھ گیا۔جس کا مطلب تھا کہ وہ مزید اس ٹاپک پر بات نہی کرنا چاہتا۔

وہاج جیب سے موبائل نکال کر اپنے ڈیڈ کا نمبر ڈائل کرنے لگا اور ان کو ساری بات بتا دی۔

ان سے بات کرنے کے بعد وہاج عمارہ کو فون کرنے لگا،بیل جا رہی تھی مگر وہ کال نہی ریسیو کر رہی تھی۔

وہاج پریشان ہو گیا،ایسا پہلے تو کبھی نہی ہوا۔عمارہ دوسری بیل پر ہی کال ریسیو کر لیتی ہے مگر آج کیوں نہی۔۔۔

وہاج لگا تار کال کرتا رہا آخر کار کال ریسیو ہو ہی گئی۔

عمارہ کہاں مصروف تھی تم،کب سے فون کر رہا ہوں یار؟

ہاسپٹل میں ہے عمارہ،زندگی کی آخری سانسیں گن رہی ہے۔

منیبہ۔۔۔۔تم؟

جی میں منیبہ ہی ہوں۔

یہ فون تمہارے پاس کیسے آیا اور عمارہ کہاں ہے؟

وہاج غصے سے دبی دبی آواز میں بولا۔

ابھی بتایا تو ہے وہاج وہ ہاسپٹل میں ہے آئی سی یو میں اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہی ہے۔

رات کو سو رہی تھی کہ کسی نے اس پر چھری سے حملہ کر دیا۔

بازو پر گہری چوٹ آئی ہے،بہت گہرا زخم!

خون بھی بہت بہا تھا اور ہو سکتا ہے کوئی وین بھی کٹ گئی ہو۔مگر حملہ آوار کا کچھ پتہ نہی چلا کون تھا،کہاں سے آیا اور کہاں گیا۔

ساتھ ہی منیبہ نے زور دار قہقہ لگایا۔

منیبہ میں تمہاری جان لے لوں گا اگر عمارہ کو کچھ ہوا تو۔

وہاج غصے سے چلایا۔

وہاج کو چلاتے دیکھ حنان بھی اس کے پاس آ رکا۔

چچچچچ۔۔۔۔۔بہت تکلیف ہو رہی ہے اپنی بیوی کے لیے،تو منع کس نے کیا ہے آ جاو واپس۔

میں بھی تمہیں اپنی بیوی کے لیے ٹرپتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں،بلکل ویسے ہی جیسے میں تڑپ رہی ہوں تمہارے لیے۔

منیبہ تم نے یہ ٹھیک نہی کیا،میں آ رہا ہوں واپس ابھی۔

“عمارہ کے ایک ایک خون کے قطرے کا حساب لوں گا میں تم سے!

بس اپنی فکر کرو تم!

وہاج نے فون بند کر دیا۔

منیبہ نے زور دار قہقہ لگایا،اگر کل رات انیسہ آپی میرے پیچھے نا آتی تو اب تک عمارہ کے کفن،دفن کی تیاری چل رہی ہوتی گھر میں مگر ابھی بھی کافی چانسز ہیں۔

وہ فون بیڈ پر اچھالتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔

کیا ہوا سب خیریت ہے ناں؟

نہی حنان۔۔۔کچھ خیریت نہی ہے۔وہاج حمزہ کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے بولا۔

حمزہ سلام بعد میں پہلے یہ بتاو عمارہ کہاں ہے۔

وہاج کے اس طرح اچانک فون کرنے پر حمزہ گھبرا گیا۔

حمزہ میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے!

وہاج غصے سے چلایا۔

ہاسپٹل میں ہے وہ وہاج بھائی،اب طبیعت ٹھیک ہے عمارہ کی۔

میں بات کرواتا ہوں آپ کی۔

حمزہ نے فون عمارہ کی طرف بڑھایا۔

وہاج۔۔۔۔عمارہ بہ مشکل بس اتنا ہی بول سکی اور آنسو بہانے لگی۔

عمارہ۔۔۔شکر ہے اللہ کا تم ٹھیک ہو۔

میں بہت جلد آ رہا ہوں تمہارے پاس،بس ابھی ٹکٹ بک کرواتا ہوں۔

تم پریشان مت ہونا پلیز۔۔۔۔جس نے بھی یہ سب کیا ہے اسے معاف نہی کروں گا میں۔

آپ جلدی آ جائیں وہاج مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔

عمارہ گھبراتی ہوئی بولی۔

ہاں میں بس آ رہا ہوں جلدی تمہارے پاس،ڈرنے کی ضرورت نہی ہے۔وہاج نے فون بند کیا اور اپنے ڈیڈ کو کال کی اور سارے معاملات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے پاکستان کے لیے ٹکٹ بک کروائی آن لائن اور آج رات ہی کی ٹکٹس مل گئیں ان کو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *