Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kismat Ka Likha (Episode 19)

Kismat Ka Likha by Khanzadi

ناشتہ کرنے کے بعد وہاج سو گیا۔احمد صاحب بھی کچھ دیر آرام کرنے چلے گئے۔

وہاج صبح کا سویا ہوا تھا۔اب شام ہو چکی تھی۔

احمد صاحب نے اسے اٹھایا۔

چلو بھئی صاحبزادے اٹھ جاو۔کھانا کھانے چلیں۔

اس کے بعد اپنے ویزے آنے والے ہیں۔

آج رات گیارہ بجے کی فلائٹ ہے ہماری۔سامان پیک کر لو۔

کیا کرنا ہے سامان ڈیڈ۔۔میرا بیگ تو آل ریڈی پیک ہے۔میری بیوی نے پرسوں رات پیک کر دیا تھا۔

آپ اپنی فکر کریں۔

احمد صاحب مسکرا دئیے۔

ہاں بھئی دیکھ لو اب تمہارے کام کرنے والی تو آ گئی اور میرے بیوی کو فرصت ہی نہی۔

وہاج مسکراتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔

ڈونٹ وری ڈیڈ!

میں پیک کر دیتا ہوں آپ کا بیگ۔

ویسے ہمیں جانا کہاں ہے؟

میرا مطلب امریکہ کے کس شہر میں ہے شاہزیب؟

ہمیں کیسے پتہ چلے گا؟

سب پتہ چل چکا ہے شاہزیب کے بارے میں تم فکر مت کرو۔

یہ دیکھو یہ امریکہ کا شہر چیکاگو ہے۔

احمد صاحب نے اپنا فون وہاج کی طرف بڑھایا۔

ہمیں چیکاگو ائیرپورٹ پہنچ کر اومنی ہوٹل پہنچنا ہے۔

ہم اس ہوٹل میں رکیں گے۔

بکنگ ہو چکی ہے۔ائیرپورٹ سے میرے دوست کا بیٹا سمِتھ ہمیں پک کر لے گا۔

ہمیں اومنی ہوٹل پہنچائے گا۔شاہزیب کا فلیٹ وہاں سے کچھ کلو میڑ کی دوری پر ہے۔

جیسے ہی ہمیں شاہزیب کی ہوٹل میں موجودگی کا پتہ چلے گا۔ہم وہاں پہنچ جائیں گے۔

ہممم گڈ پلان ڈیڈ!

وہاج نے مسکراتے ہوئے فون ان کی طرف بڑھا دیا۔

میں فریش ہو کر آتا ہوں۔پھر چلتے ہیں ڈنر پر۔

وہاج اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

ناشتہ کرنے کے بعد ٹی وی لاونج میں صوفے پر ہی سو گیا تھا۔

احمد صاحب اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے اپنا بیگ پیک کرنے۔

وہاج فریش ہو کر نیچے آیا تو احمد صاحب وہاں نہی تھے۔

وہاج ان کے کمرے میں گیا تو وہ بیگ پیک کر رہے تھے۔

وہاج بھی ان کی مدد کروانے لگ گیا۔

ان کا بیگ پیک ہوا تو دونوں باہر کی طرف بڑھ گئے۔

ایک ہوٹل سے کھانا کھایا اور گھر واپس آ گئے۔

کچھ دیر بعد ہی احمد صاحب کو ویزہ کنفرمیشن میسیج مل گیا۔

ایک آدمی گھر پر ہی ان کے ویزے اور ٹکٹس دے گیا۔

چلو وہاج ائیرپورٹ کے لیے نکنا ہے ہمیں۔تم تو جانتے ہو انٹرنیشنل فلائٹ کے لیے جلدی پہنچنا ہوتا ہے۔

جی ڈیڈ!

میں بیگز رکھ دیتا ہوں گاڑی میں آپ دروازے لاک کر دیں۔

وہاج نے گاڑی باہر نکالی اور احمد صاحب اچھی طرح گھر کو لاک کرنے کے بعد گاڑی میں آ بیٹھے۔

وہاج نے گاڑی اسلام آ باد انٹرنیشنل ائیر پورٹ کی طرف بڑھا دی۔

ٹریفک زیادہ ہونے کی وجہ سے آخر کار وہ لوگ نو بجے ائیر پورٹ پہنچ گئے۔

چیکنگ کے بعد ویٹنگ ائیریا میں بیٹھ گئے۔

ڈیڈ میں زرا گھر کال کر لوں!

وہاج فون کان سے لگائے آگے بڑھ گیا۔

گھر نہی گھر والی سے بات کرنے گیا ہے صاحبزاہ۔

احمد صاحب وہاج کو فون کان سے لگائے جاتے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولے۔

اسلام و علیکم!

عمارہ نے وہاج کی کال رسیو کی۔

وعلیکم اسلام۔۔۔

کیسی ہو؟

میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں؟

میں بھی ٹھیک ہوں۔ائیرپورٹ میں ہوں۔

گیارہ بجے فلائٹ ہے امریکہ کے لیے،پھر وہاں پہنچنے سے پہلے بات نہی ہو سکے گی۔

اسی لیے میں نے سوچا ابھی بات کر لوں۔

میں صبح سے آپ کی کال کا انتظار کر رہی تھی۔

اوہ رئیلی؟

جی عمارہ مسکرا دی۔

تو خود فون کیوں نہی کیا؟

وہ اس لیے کیونکہ آپ نے کہا تھا کہ آپ آرام کرنے لگے ہیں۔تو میں نے کال نہی کی تا کہ آپ ڈسٹرب نا ہو۔

وہاج کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

اتنی فکر ہے میری؟

جی۔۔عمارہ دبی دبی سی آواز میں بولی۔

مجھے لگتا ہے تم شرما رہی ہو،ہے ناں عمارہ؟

وہاج اسے تنگ کرنے لگا۔

ننہہی تو۔۔۔میں کیوں شرماوں گی۔

لگ تو رہا ہے مجھے۔۔

وہاج۔۔۔آپ تنگ نا کریں مجھے۔

اچھا اچھا۔۔۔مزاق کر رہا تھا۔

یہ بتاو گھر کے حالات کیسے ہیں؟

ممانی جان نے کچھ کہا تو نہی؟

نہی وہاج ابھی تک تو سب ٹھیک ہے۔وہ منیبہ کے کمرے میں ہی ہیں۔

پھوپھو جان نے مجھے کمرے سے باہر نکلنے سے منع کیا ہے اور گھر کے کام کرنے سے بھی۔

گڈ۔۔۔جیسا مام کہہ رہی ہیں۔ویسا ہی کرو۔

لیکن میں کمرے میں بیٹھے بیٹھے بور ہو رہی ہوں۔مجھے فارغ بیٹھنے کی عادت ہی نہی ہے۔

آپ سمجھائیں نہ پھوپھو کو،ان سے کہیں مجھے کچن کے کام کرنے دیں۔

نہی عمارہ۔۔۔ایسا سوچنا بھی مت!

مام سے میں نے ہی کہا ہے تم سے ایسا بولنے کو۔

گھر کے کام کرنے کے لیے ملازمہ موجود ہیں۔تم اب اس گھر کا کوئی کام نہی کرو گی۔

اٹس مائی آرڈر!

وہاج۔۔۔!

نو عمارہ۔۔۔”اب تم میری زمہ داری ہو۔

تمہارا خیال رکھنا میرا فرض ہے،،

بہت کر لیے گھر کے کام!

اب بس اپنا خیال رکھو اور مستقبل کے سنہرے خواب دیکھو۔

“ہماری شادی کے خواب!

ہماری شادی تو ہو گئی ناں وہاج؟

پاگل لڑکی تم نہی سمجھ سکتی میرے جزبات!

ابھی تو بس نکاح ہوا ہے،شادی ہونا باقی ہے۔

اس گھر سے دلہن بنا کر دھوم دھام سے اپنے گھر لانا ہے تمہیں۔

ابھی تو بس نکاح ہوا ہے،تمہارا دلہن بننا باقی ہے ابھی۔

سمجھی میری بھولی مسز وہاج؟

جی۔۔عمارہ نے شرماتے ہوئے مختصر جواب دیا۔

اب تم یہ مت کہنا کہ نہی شرما رہی،میں شرط لگا سکتا ہوں تم شرما رہی ہو۔

عمارہ مسکرا دی۔

اب شرمانا بند کر دو مسز وہاج ابھی ٹائم دور ہے۔وہاج مسکراتے ہوئے اسے تنگ کر رہا تھا۔

پھوپھو جان سے بات کروا دوں آپ کی؟

عمارہ جان بوجھ کر بات بدل گئی۔

نہی۔۔۔مجھے تم سے ہی بات کرنی ہے۔

تو پھر تنگ نا کریں۔

عمارہ رونے کو تیار تھی۔

اچھا یار مزاق کر رہا تھا،عمارہ تم ہر بات پر رونے کیوں لگ جاتی ہو یار۔

مجھے یاد کرو گی ناں؟

وہاج کی بات پر عمارہ کے آنسو بہنے لگے۔

آپ ایسا کیوں بول رہے ہیں؟

یاد تو ان کو کیا جاتا ہے جو دور ہوتے ہیں۔

آپ تو ہر وقت میرے پاس ہیں۔میرے دل میں۔

جلدی سے جائیں اور خیریت سے واپس آئیں جلدی سے۔

ٹھیک ہے میری جان!

اپنا خیال رکھنا اور مام کا بھی۔خدا حافظ مسز وہاج احمد۔

پھوپھو آئی ہیں آپ بات کر لیں ان سے!

وہاج کا قہقہ گونجا عمارہ کی بات پر،وہ جانتا تھا عمارہ جان بوجھ کر ایسا بول رہی ہے۔

پھوپھو جان وہاج آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

عمارہ نے مسز احمد کی طرف فون بڑھایا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔

کیسا ہے میرا بیٹا؟

گڈ مام!

آپ کیسی ہیں؟

میں بھی ٹھیک ہوں میری جان۔

کتنے بجے کی فلائٹ ہے امریکہ کے لیے۔

گیارہ بجے کی فلائٹ ہے مام!

ابھی ہم لوگ ائیرپورٹ ہی ہیں۔ویٹ کر رہے ہیں فلائٹ کے لیے۔

آپ نے کھانا کھایا؟

جی کھا لیا تھا اور عمارہ کو بھی کھلا دیا تھا۔

عمارہ کے ساتھ میں ہوں،اس کی فکر مت کرو تم۔

خیریت سے جاو اور خیریت سے واپس آو۔

“اللہ تمہیں تمہارے مقصد میں کامیابی عطا کرے۔

آمین۔

انشااللہ۔۔۔آمین۔

مام آپ کی دعائیں ساتھ ہیں تو مجھے کوئی فکر نہی ہے۔

آپ اپنا خیال رکھیں اور میڈیسن ٹائم پر لیتی رہیں۔

ڈیڈ سے بات کر لیں آپ!

بہت لمبی فلائٹ ہے۔جلدی بات نہی ہو سکے گی پھر مام۔

ٹھیک ہے میں کر لیتی ہوں۔

اپنا خیال رکھنا۔خدا حافظ۔

خدا حافظ مام۔

وہاج کال ڈسکنیکٹ کرتے ہوئے واپس اپنی سیٹ پر چلا گیا۔

احمد صاحب فون پر مصروف تھے۔وہاج ان کو دیکھ کر مسکرا دیا۔

آخر کار دو گھنٹے انتظار کرنے کے بعد فلائٹ کا اعلان ہوا۔

وہاج نے جانے سے پہلے ایک بار پھر سے عمارہ کو فون کیا۔

حسبِ توقع فون عمارہ نے کے پاس ہی تھا۔

“عمارہ میں جا رہا ہوں۔فلائٹ کے لیے اعلان ہو چکا ہے۔تم اپنا خیال رکھنا۔ہو سکتا ہے وہاں پہنچ کر بات کرنے کا ٹائم نا ملے مصروفیات کی وجہ سے۔پریشان مت ہونا،،

ٹھیک ہے اللہ آپ کا نگہبان۔

عمارہ گال پر آیا آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔

“میرا انتظار کرنا،جلدی واپس آوں گا میں!

وہاج کے لہجے میں اداسی سی تھی۔

انشا اللہ۔۔۔آپ بھی اپنا خیال رکھنا۔میں ٹھیک ہوں۔

میری طرف سے فکر مند مت رہنا آپ۔

اوکے۔۔۔دل تو نہی کر رہا کال بند کرنے کو مگر یہ لاسٹ اناونسمنٹ ہے۔جانا پڑا گا۔

“اللہ نگہبان۔۔

خدا حافظ!

وہاج نے بے دلی سے کال بند کر دی۔

احمد صاحب نے اس کے کندھے پر ہلکی سی تھپکی دی۔سب ٹھیک ہو جائے گا یار۔

وہاج مسکرا دیا۔اور دونوں آگے بڑھ گئے۔

گیارہ بجے ان کی فلائٹ امریکہ کے لیے روانہ ہو گئی۔

کئی گھنٹوں کے لمبے سفر کے بعد وہ لوگ امریکہ کے شہر چیکاگو ائیر پورٹ پہنچ گئے۔

کچھ دیر بعد ہی احمد صاحب کے دوست کا بیٹا سمِتھ ان کو لینے پہنچ گیا۔

ہیلو جینٹل مین!

مائی سیلف سمِتھ جاہن۔۔۔اس نے وہاج کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

مائی سیلف وہاج احمد!

وہاج نے مسکراتے ہوئے اس سے ہاتھ ملایا۔

ہیلو انکل۔۔۔۔ہاو آر یو؟

وہاج سے ملنے کے بعد وہ احمد صاحب کی طرف بڑھا۔

آئی ایم گڈ جینٹل مین!

انہوں نے بھی ہاتھ ملایا۔

سمِتھ نے ان کے بیگ گاڑی میں رکھے اور گاڑی اومنی ہوٹل کی طرف بڑھا دی۔

ان کو ہوٹل ڈراپ کرنے کے بعد وہ اپنے گھر واپس چلا گیا۔

انہوں نے کاونٹر سے کمرے کی چابی لی۔اور کمرے کی طرف بڑھ گئے۔

یہ کہنے کو تو کمرہ تھا۔مگر دو بیڈ رومز پر مشتمل ایک لگثری فلیٹ تھا۔

ضروت کی ہر چیز موجو تھی یہاں۔

وہ دونوں کمرے میں داخل ہوتے ہی فریش ہونے چلے گئے۔

کھانا آرڈر کیا اور کھانا کھانے کے بعد سونے کے لیے لیٹ گئے۔

احمد صاحب سو گئے تو وہاج نے ان کے فون سے شاہزیب کے فلیٹ کا ایڈریس لیا اور نیچے چلا گیا۔

سڑک پر ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا۔اس وقت رات کے دو بج رہے تھے وہاں۔

سڑک پر جگہ جگہ لوگ سائیکلنگ کرتے نظر آ رہے تھے۔

وہاج نے بھی ایک سائیکل کرائے پر لی اور شاہزیب کے فلیٹ کی طرف چل پڑا۔

رات کے سناٹے میں وہ اکیلا سڑکوں پر گھوم رہا تھا۔جتنا اس نے سوچا تھا۔اتنا بھی نزدیک نہی تھا شاہزیب کا فلیٹ۔

کچھ دیر سائیکلنگ کرنے کے بعد وہاج کو ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔

جیسے ہی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔تقریباً چھ لڑکوں کا گروہ اس کا پیچھا کر رہا تھا۔

وہ سارے شکل سے ہی غنڈے لگ رہے تھے۔

وہاج نے اپنی سائیکل کی رفتار بڑھا دی۔

ایسی سنسان جگہوں پر اکثر ایسے لوگ لوٹ لیتے ہیں۔وہاج کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔

مجھے رات کے اس وقت اکیلے نہی آنا چاہیے تھا۔صبح تک کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔

فون بھی نہی ہے میرے پاس۔۔شِٹ!

وہاج تیز رفتار سے سائیکل چلا رہا تھا۔مگر وہ سب مسلسل اس کا پیچھا کر رہے تھے۔

اچانک وہاج کی سائیکل کو زور دار کک لگی اور وہ لڑکھڑاتے ہوئے سائیکل سے نیچے گر گیا۔

وہ سب بھی اپنی اپنی سائیکل پھینکتے ہوئے وہاج کی طرف بڑھے۔

وہاج تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ایک لڑکے کے ہاتھ میں چاقو دیکھ کر وہاج کے ہوش اڑ گئے۔

اس نے سائیکل کی پرواہ کیے بغیر مخالف سمت دوڑ لگا دی۔

وہ سب بھی اس کے پیچھے دوڑنے لگے۔

وہاج تیز تیز بھاگتا چلا گیا۔

بھاگتے ہوئے اچانک وہ کسی سے ٹکرا گیا۔

آئی ایم سوری!

وہ تیزی سے کہتا آگے بڑھا۔

سامنے سے آنے والے شخص نے ہڈ پہن رکھا تھا اور اپنا چہرہ اور سر ہڈ کیپ سے ڈھانپ رکھا تھا۔

وہاج کے ذہن میں اس شخص کا خیال آیا۔وہ تیزی سے واپس پلٹ۔

اب وہ غنڈے اس کے پیچھے نہی تھے۔

وہاج نے واپسی کی طرف دوڑ لگ دی۔

سامنے کا منظر دیکھ کر وہاج حیران رہ گیا۔

وہ اکیلا ان چھ لڑکوں سے لڑائی کر رہا تھا۔

وہاج کو واپس آتے دیکھ ان میں سے ایک لڑکا ہاتھ میں چاقو لیے وہاج کی طرف بڑھا۔

اس سے پہلے کہ وہ وہاج پر حملہ کرتا گولی چلنے کی آواز آئی اور اس لڑکے کے ہاتھ سے چاقو زمین پر گر گیا۔

گولی اس کے ہاتھ کو چھوتے ہوئے گزری۔اس کے ہاتھ سے خون بہنے لگا۔

گولی کی آواز سن کر وہ سب وہاں سے بھاگ گئے۔

وہاج تیزی سے اس شخص کی طرف بڑھا۔

“پاگل ہو تم؟

تم نے گولی چلا دی اس پر!

اگر اسے کچھ ہو جاتا تو جانتے ہو کیا انجام ہوتا تمہارا؟

وہاج یہ بھی نہی جانتا تھا کہ وہ اس کی اردو زبان سمجھ بھی رہا ہے یا نہی۔۔وہ بس غصے سے اس پر چلا رہا تھا۔

“انجام کی پرواہ نہی کرتا میں!

کہتے ہی اس نے اپنے سر سے ہڈ کیپ ہٹا دی۔

اگر میں اس پر گولی نہی چلاتا تو وہ آپ پر حملہ کر دیتا۔جو میں نہی دیکھ سکتا تھا۔

یہ گن ہے کوئی کھلونا نہی!

آخر ضرورت ہی کیا ہے تمہیں گن رکھنے کی؟

وہاج غصے سے چلایا۔

“میرے لیے یہ کھلونا ہی ہے!

،آنکھ دباتے ہوئے بول کر اس نے اپنی جیب میں پسٹل واپس رکھ لی۔

وہاج بس حیرانگی سے اسے دیکھتا رہ گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *