Kismat Ka Likha by Khanzadi NovelR50493 Kismat Ka Likha (Episode 12)
Rate this Novel
Kismat Ka Likha (Episode 12)
Kismat Ka Likha by Khanzadi
کچھ دیر بعد حمزہ کمرے میں آیا۔
عمارہ پھوپھو کچھ دیر کے لیے گھر چلی گئی ہیں پھوپھا جی کے ساتھ۔
میں باہر ہی ہوں۔اگر کوئی کام ہو تو بتا دینا۔
ٹھیک ہے!
عمارہ نے مختصر جواب دیا۔
حمزہ مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
عمارہ وہی صوفے پر ٹیک لگائے آنکھیں موند گئی۔
پتہ ہی نہی چلا اسے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔
وہاج کی آنکھ کھلی تو خود کو ہاسپٹل کے کمرے میں پایا۔
اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی تو جسم میں شدید درد اٹھا۔اور سر درد کی وجہ سے وہ کراہ اٹھا۔
آرام سے!
عمارہ نے آگے بڑھ کر وہاج کا ہاتھ تھام لیا تا کہ اسے بیٹھنے کے لیے سہارا دے سکے۔
وہاج نے حیرانگی سے عمارہ کی طرف دیکھا۔
اسے اپنی آنکھوں پر جیسے یقین نہی آیا۔
اس رات والا سارا منظر وہاج کے دماغ میں چھا گیا۔
سر میں مزید درد اٹھا۔
وہ پھر سے سر تکیے پر گر گیا۔
عمارہ کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔
عمارہ ہکا بکا سی رہ گئی۔
وہاج۔۔۔!
عمارہ نے کچھ بولنا چاہا،مگر وہاج نے ہاتھ کے اشارے سے اسے مزید بولنے سے روک دیا۔
چلی جاو یہاں سے!
منہ دوسری طرف موڑے بولا۔
وہاج آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟
عمارہ۔۔۔جاو یہاں سے!
وہاج پھر سے بے رخی سے بولا۔
میں کہی نہی جا رہی۔یہی ہوں آپ کے پاس۔
“آپ کو میری ضرورت ہے!
عمارہ کی بات پر وہاج نے چونک کر عمارہ کی طرف دیکھا۔
کیا کہا تم نے؟
زرا پھر سے کہنا!
کچھ نہی کہا میں نے۔۔۔آپ زیادہ بات مت کریں۔
آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔
عمارہ اس کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی۔
میں حمزہ کو بلا کر لاتی ہوں۔
“تم کہنا چاہتی ہو میں لاچار ہو گیا ہوں؟
محتاج بن گیا ہوں!
مجھ پر ترس کھا کر آئی ہو یہاں!
وہاج ایک ہاتھ سر پر رکھے درد برداشت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بول رہا تھا۔
عمارہ دروازے سے پلٹ کر وہاج کے پاس آ گئی۔اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر ہلکا سا دبانے لگی۔
آپ زیادہ بات مت کریں طبیعت خراب ہو جائے گی آپ کی!
عمارہ فکر مندی سے بولی۔
اب کی بار وہاج نے اس کا ہاتھ نہی ہٹایا۔
اچھا ہوتا کہ میں مر ہی جاتا!
عمارہ نے وہاج کے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
“اللہ نا کرے وہاج!
“اللہ نا کرے کہ آپ کو کچھ ہو۔
“میری زندگی بھی آپ کو لگ جائے۔
عمارہ آنسو بہاتے ہوئے بولی۔
“ترس کھا رہی ہو مجھ پر؟
وہاج اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے ہٹاتے ہوئے بولا۔
عمارہ نے بے یقینی سے وہاج کی طرف دیکھا۔
ایسا کیوں سوچ رہے ہیں آپ؟
میں یہاں آپ پر ترس کھا کر نہی آئی۔اپنے دوستی کے رشتے کو بچانے آئی ہوں۔
کیسا رشتہ عمارہ؟
مجھے تو یاد نہی کہ ہمارے درمیان ایسا کوئی رشتہ تھا!
دوستی ہو یا پیار۔۔۔۔اعتبار بہت اہمیت رکھتا ہے ہر رشتے میں۔اور تم مجھ پر اعتبار نہی کرتی۔
تو پھر کیسا رشتہ؟
آپ یہ سب باتیں چھوڑ دیں وہاج!
ابھی آپ کو آرام کی ضرورت ہے۔مکمل صحت یاب نہی ہوئے ابھی آپ۔
جب آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔تب ہم اس بارے میں بات کریں گے۔
ابھی آپ اٹھ کر بیٹھیں کچھ کھا لیں۔
مجھے کچھ نہی کھانا!
جاو تم یہاں سے۔۔۔!
وہاج آنکھوں پر بازو رکھتے ہوئے آنکھیں موند گیا۔
میں کہی نہی جانے والی وہاج!
ایک بار کہہ دیا سو کہہ دیا۔
اب آپ بچوں کی طرح ضد مت کریں۔
کھانا کھا لیں۔پھر میڈیسن بھی کھانی ہے آپ کو۔
آپ کے کپڑے بھی لائی ہوں چینج کر لیں۔ساری شرٹ خون سے بھری ہوئی ہے۔
وہاج نے ایک نظر اپنی شرٹ پر ڈالی اور گہری سانس بھر کر رہ گیا۔
“کام سارے بیویوں والے کرتی ہے اور بیوی بننا نہی چاہتی,بیوی کی طرح خیال رکھتی ہے اور میرا یقین بھی نہی کرتی’یہ لڑکی پاگل کر دے گی مجھے”
وہاج سر کو تھامتے ہوئے سرگوشی میں بولا۔
کچھ کہا آپ نے؟
عمارہ اس کی سرگوشی سن چکی تھی۔
کچھ نہی۔۔۔!
عمارہ پلٹ کر مسکرا دی۔
وہاج بھی مسکرا دیا۔
مام،ڈیڈ کہاں ہیں؟
وہاج اوپر اٹھتے ہوئے بولا۔
وہ لوگ گھر چلے گئے۔آ جائیں گے کچھ دیر تک۔
وہاج آخر کار بہ مشکل خود کو سنبھالتے ہوئے اٹھ کر بیٹھنے میں کامیاب ہو ہی گیا۔
عمارہ نے پانی کا گلاس وہاج کی طرف بڑھایا۔
یہ پانی پی لیں آپ پھر کپڑے چینج کر کے ہاتھ منہ دھو لیں۔
کھانا کھا لیں پھر!
وہاج نے پانی کا گلاس تھامنا چاہا مگر ہاتھ پر بھی شیشہ چھبنے کی وجہ سے گہرا زخم تھا۔پانی کا گلاس نہی تھام سکا وہ۔
عمارہ نے ہاتھ آگے بڑھا کر پانی کا گلاس اس کے منہ سے لگا دیا۔
وہاج نے پانی پی لیا تو عمارہ نے گلاس واپس رکھ دیا۔
وہاج کے کپڑے اٹھا کر واش روم میں ہینگ کر دئیے۔
جائیں کر لیں چینج!
آپ کا فیس واش،ٹاول،سوپ سب رکھ دیا ہے میں نے۔
وہاج نے حیرانگی سے عمارہ کی طرف دیکھا۔
عمارہ یہ ہاسپٹل ہے گھر نہی!
وہاج حیران ہوتے ہوئے بولا۔
جی میں جانتی ہوں!
فی الحال آپ جا کر چینج کریں۔منہ ہاتھ دھو کر باہر آئیں۔تا کہ کھانا کھلا سکوں میں آپ کو۔
مگر میرا ہاتھ تو زخمی ہے میں کیسے منہ دھو سکتا ہوں۔
وہاج زخمی ہاتھ عمارہ کے سامنے لہراتے ہوئے بولا۔
آپ ایسا کریں آپ کپڑے چینج کر لیں۔میں ٹاول سے آپ کا چہرہ صاف کر دوں گی۔
وہاج اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھ گیا۔
کپڑے چینج کر کے باہر آیا تو عمارہ باول میں پانی لے کر ٹاول بھگو کر وہاج کا چہرہ صاف کرنے لگی۔
خون کے دھبے جمے ہوئے تھے۔
عمارہ نے اچھی طرح وہاج کا چہرہ صاف کیا۔
پھر ہاتھ صاف کیے۔اور خود ہاتھ دھو کر وہاج کے لیے سوپ لے کر آئی۔
وہاج بے یقینی سے عمارہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔مگر عمارہ اپنے کام میں مصروف تھی۔
عمارہ سوپ والا باول وہاج کے پاس لے آئی۔جلدی سے ختم کریں سارا سوپ۔
وہاج نے اپنا ہاتھ عمارہ کے سامنے لہرایا۔
اوہ۔۔۔عمارہ بھول گئی تھی۔
اس نے چمچ میں سوپ بھر کر وہاج کی طرف بڑھایا۔
وہاج نے سوپ پی لیا۔مگر ساتھ ہی چہرہ بگاڑنے لگا۔
عمارہ یہ کیسا سوپ ہے۔۔نہ میٹھا نہ نمکین؟
میں یہ نہی پینے والا۔
یہ آپ کو پینا پڑے گا،بیماری میں ایسے ہی پھیکے کھانے کھانے پڑتے ہیں۔
عمارہ کی ضد پر آخر کار وہاج کو سارا سوپ ختم کرنا ہی پڑا۔
عمارہ برتن سمیٹنے چلی گئی۔
ڈاکٹر دروازہ ناک کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔
واو۔۔آپ تو بہت فریش لگ رہے ہیں مسٹر وہاج!
وہاج بس پھیکا سا مسکرا دیا۔
شکر ہے اللہ کا آپ کو ہوش آ گیا۔
اب سر کا درد کیسا ہے۔
زیادہ درد تو نہی ہے ناں؟
وہاج نے سر نفی میں ہلا دیا۔
نہی۔۔۔کبھی کبھی ہوتا ہے درد۔لیکن جب ہوتا ہے بہت تکلیف ہوتی ہے۔وہاج نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
اوکے۔۔۔آپ پریشان مت ہو۔
جلدی ٹھیک ہو جائیں گے۔۔۔ابھی ہم کل تک آپ کو یہی رکھیں گے۔
کل تک اگر آپ کی طبعت بہتر لگی تو ڈسچارج کر دیا جائے گا آپ کو۔
ابھی یہ ٹیبلیٹ کھا لیں آپ اور آرام کریں۔
زیادہ باتیں مت کریں ابھی آپ کو آرام کی ضرورت ہے۔ورنہ درد مزید بڑھ سکتا ہے۔
مسز وہاج آپ ان کا خیال رکھیں!
ڈاکٹر نے عمارہ کو متوجہ کیا۔
جی۔۔۔عمارہ نے سر ہاں میں ہلاتے ہوئے مختصر جواب دیا۔
وہاج نے حیرانگی سے عمارہ کی طرف دیکھا۔عمارہ چہرہ دوسری طرف موڑ گئی۔
ڈاکٹر مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
عمارہ پانی کا گلاس لے کر وہاج کی طرف بڑھی۔
اسے ٹیبلیٹ کھلا کر واپس صوفے پر بیٹھ گئی
وہاج کو حیرت ہوئی عمارہ نے ڈاکٹر سے کچھ کہا کیوں نہی۔
وہاج کو یہ بات پریشان کرنے لگی۔
وہاج ابھی لیٹنے ہی لگا تھا کہ حمزہ کمرے میں داخل ہوا۔اور ساتھ ہی وہاج کے مام،ڈیڈ بھی کمرے میں داخل ہوئے۔
مسز احمد کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ رہا بیٹے کو مسکراتے دیکھ کر۔
وہ جلدی سے وہاج کی طرف بڑھیں اور اس چہرہ تھام کر چومنے لگیں۔
آنکھوں سے آنسو برسنے لگے۔
وہاج نے بھی ان کے ماتھا چوم لیا۔مام میں ٹھیک ہو!
پلیز آپ رونا بند کر دیں۔
وہاج اپنے زخمی ہاتھ سے ان کے آنسو صاف کرنے کی نا کام کوشش کرنے لگا۔
بس کر دیں مسز ہمارا بیٹا اب بلکل ٹھیک ہے۔
وہاج کے بابا نے آگے بڑھ کر ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ آنسو پونچھتے ہوئے عمارہ کے پاس جا بیٹھیں۔
عمارہ ان کے ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگاتے ہوئے مسکرا دی۔
کیسے ہو بڈی؟
وہاج حمزہ کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا۔
میں ٹھیک نہی ہوں!
حمزہ منہ بناتے ہوئے بولا۔
کیوں؟
وہاج پریشان ہوتے ہوئے بولا۔
تم نے جو پریشان کر رکھا ہے کل سے,کتنی دفعہ سمجھایا ہے گاڑی آہستہ چلایا کریں مگر آپ سنتے ہی نہی ہیں۔
ہاں شاید گاڑی بہت تیز ڈرائیو کر رہا تھا میں۔
اب مجھے کچھ یاد نہی۔
میں ہال سے باہر نکلا تو خالی روڈ کی طرف بڑھ گیا۔ِ
غصے میں تھا تو پتہ ہی نہ چلا گاڑی کی رفتار کب تیز ہو گئی۔
اچانک سامنے سے گاڑی آ گئی۔۔بریک نہی لگی اور گاڑی گاڑی دوسری طرف موڑ دی میں نے۔سامنے درخت تھا۔
اس کے بعد کچھ یاد نہی مجھے!
اچھا چلیں چھوڑیں۔۔۔جو ہونا تھا ہو گیا۔
اب اپنا خیال رکھیں اور جلدی سے گھر واپس چلیں۔
ویسے غصے میں کیوں تھے آپ؟
حمزہ کی آخری بات پر وہاج نے چونک کر عمارہ کی طرف دیکھا۔
پھر سے وہ ساری باتیں اس کے ذہن میں منڈلانے لگیں۔
عمارہ نے اسے تھپڑ مارا تھا۔
وہاج پھر سے سوچ میں گم ہو گیا۔
عمارہ اس پر اعتبار نہی کرتی۔۔۔!
سر میں درد کی شدید لہر دوڑ گئی۔
وہاج سر کو تھامتے ہوئے لیٹ گیا۔
کیا ہوا وہاج بھائی آپ ٹھیک تو ہیں؟
وہاج کو سر تھام کر لیٹتے دیکھ کر حمزہ پریشانی سے بولا۔
حمزہ کی آواز پر سب چونک کر وہاج کی طرف بڑھے۔
کچھ نہی ہوا۔میں ٹھیک ہوں!
آپ لوگ پریشان نہ ہو۔بس سر میں تھوڑا درد ہے۔
مجھے نیند آ رہی ہے شاید!
ٹھیک ہے تم آرام کرو بیٹا ہم لوگ سب باہر جا رہے ہیں۔
احمد صاحب سب کو باہر لے گئے۔
عمارہ بیٹا تم گھر چلی جاو!
صبح چاہو تو پھر سے آ جانا۔
بھابی کو تو جانتی ہی ہو تم!
خوامخواہ گھر سر پر اٹھا لیں گی اگر تم نظر نہ آئی ان کو گھر میں۔
پھوپھو جان آپ فکر مت کریں۔
چچی جان کو میں سنبھال لوں گی۔آپ اور پھوپھا جان گھر چلے جائیں۔
کل رات سے آپ لوگ ہاسپٹل میں ہیں۔آپ کی طبیعت خراب نہ ہو جائے۔
آپ آرام کریں گھر جا کر۔یہاں حمزہ اور میں وہاج کے ساتھ ہیں۔
ہم سنبھال لیں گے ان کو۔
صبح آپ لوگ جیسے ہی ہاسپٹل آئیں گے ہم دونوں گھر چلیں جائیں گے۔
آپ دونوں بے فکر ہو کر گھر جائیں۔
عمارہ سہی کہہ رہی ہے پھوپھو جان!
حمزہ نے بھی اس کا ساتھ دیا۔
ممی کی فکر مت کریں آپ لوگ۔ان کو میں سمجھا دوں گا۔
آپ دونوں کو آرام کی ضرورت ہے۔
ٹھیک ہے بیٹا ہم صبح ملتے ہیں پھر۔
احمد صاحب مسکراتے ہوئے وہاں سے چل پڑے۔
