Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kismat Ka Likha (Episode 23)

Kismat Ka Likha by Khanzadi

وہاج کی آنکھ کھلی تو خود کو ہوٹل کے کمرے میں پایا۔اٹھ کر پانی کا گلاس اٹھانا چاہا مگر سر چکرانے کی وجہ سے دوبارہ بستر پر گر گیا۔

بہت کوشش کی اٹھنے کی مگر سر بہت چکرا رہا تھا۔آنکھوں میں نیند کا غمار سا تھا۔

آخر کار ہمت کر کے اٹھا اور پانی کا گلاس اٹھا کر جلدی سے پانی کے چھینٹے منہ پر مارے۔تا کہ ہوش میں آ سکے۔

پانی کے چھینٹے مارنے پر وہاج کو کچھ بہتر محسوس ہونے لگا۔

بے ہوش ہونے سے پہلے جو کچھ ہوا اسے سب یاد آنے لگا۔

حنان۔۔۔۔۔غصے سے حنان کا نام لیا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔

احمد صاحب باہر صوفے پر بیٹھے تھے۔وہاج کو آتے دیکھ تیزی سے اس کی طرف بڑھے۔

شکر ہے تمہیں ہوش آ گیا وہاج۔

میں تو بہت پریشان ہو گیا تھا۔تم صبح سے بے ہوش پڑے ہو۔ساری رات گزر گئی اب تو اگلا دن شروع ہونے والا ہے۔

آخر یہ سب ہوا کیسے؟

ڈیڈ مجھے یہاں کون لے کر آیا؟

وہاج ان کے سوال کا جواب دئیے بغیر بولا۔

تمہیں کچھ یاد نہی وہاج؟

انہوں نے الٹا وہاج سے سوال کر ڈالا۔

نہی ڈیڈ۔۔۔وہاج سر نفی میں ہلاتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا۔

مگر مجھے اتنا یاد ہے ڈیڈ یہ سب کس نے کیا ہے میرے ساتھ۔

کس نے؟

احمد صاحب حیران ہوتے ہوئے بولے۔

حنان نے۔۔۔۔حنان کے نام پر اس کا لہجہ غصیلہ ہو گیا۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

وہی تو لے کر آیا ہے تمہیں یہاں۔۔۔۔اس کا کہنا تھا کہ کچھ غنڈوں سے لڑتے ہوئے تمہیں سر پر چوٹ لگی ہے۔

نہی ڈیڈ ایسا کچھ نہی ہے،جھوٹ بولا ہے حنان نے آپ سے۔

میں شاہزیب کے فلیٹ کی طرف جا رہا تھا کہ اچانک کچھ آوارہ لڑکے میرے راستے میں آ گئے اور مار پیٹ کرنے لگے۔

ان سے نمٹ کر میں شاہزیب کے فلیٹ کی طرف بڑھا ہی تھا کہ مجھے اپنے بازو پر ہلکی سی چھبن کا احساس ہوا۔

جیسے ہی میں نے پلٹ کر دیکھا پیچھے حنان کھڑا تھا۔اس کے بعد میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور مجھے کچھ یاد نہی پھر کیا ہوا۔

اب آنکھ کھلی تو خود کو کمرے میں دیکھا۔

ڈیڈ ہو نا ہو اس حنان کا شاہزیب کے ساتھ کوئی کنکشن تو ضرور ہے۔

جیسے ہی میں شاہزیب کے فلیٹ کی طرف جانے کی کوشش کرتا ہوں۔یہ حنان میرے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

کل رات بھی ایسا ہوا تھا!

وہاج اپنا سر دونوں ہاتھوں پر گرائے بولا۔

کل رات؟

احمد صاحب نے سوالیہ نظروں سے وہاج کی طرف دیکھا۔

کیا ہوا تھا کل رات وہاج؟

وہاج جو حادثہ ان سے چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔وہی بات بول گیا۔

اب اپنے ہی بولنے پر پچھتاوا ہوا۔

کچھ نہی ڈیڈ کل رات جب ہم یہاں پہنچے تو آپ سو گئے۔

میں نے سوچا کیوں ناں میں شاہزیب کے فلیٹ جاوں۔

ابھی میں شاہزیب کے فلیٹ سے تھوڑی دور ہی تھا کہ اچانک چھ غنڈے مجھ پر حملہ آوار ہو گئے۔

تبھی اچانک حنان وہاں آ گیا اور اس نے فائرنگ کی۔اس نے جو گولی چلائی اس سے ایک لڑکے کا ہاتھ زخمی ہو گیا اور وہ سب وہاں سے بھاگ گئے۔

میری جان بچ گئی۔

یوں میں واپس ہوٹل آ گیا!

اگلی صبح پھر سے حنان سے ملاقات ہوئی۔باقی سب تو آپ جانتے ہیں ڈیڈ۔

آج بھی ایسا ہی ہوا ڈیڈ!

جیسے ہی میں شاہزیب کے فلیٹ کے قریب پہنچا،اچانک پھر وہی رات والے غنڈے سامنے آ گئے۔

آخری بار میں نے اپنے سامنے حنان کو دیکھا بس اتنا یاد ہے مجھے۔

یہ حنان والا معاملہ کچھ سمجھ نہی آ رہا مجھے،یا تو یہ ہماری مدد کرنے والا ہے یا پھر یہ شاہزیب کے ساتھ ہے۔

شاہزیب کا بھی کچھ پتہ نہی چل رہا،وہ تو جیسے یہاں سے غائب ہی ہو چکا ہے۔

کہی سے اس کے بارے میں کوئی خبر نہی مل رہی۔

احمد صاحب بھی پریشان ہو چکے تھے۔

ڈیڈ آپ پریشان نہ ہو،سب سمجھ آ چکی ہے مجھے!

مطلب۔۔۔؟

احمد صاحب نے چونک کر وہاج کی طرف دیکھا۔

مطلب یہ ہے ڈیڈ کہ شاہزیب کہی نہی گیا۔

وہ یہی ہے،اپنے فلیٹ کے آس پاس۔

اسے ہمارے یہاں آنے کی خبر پہلے سے ہی مل چکی تھی۔

اس نے یہاں سے فرار ہونے کی بجائے یہی پناہ اختیار کی۔

اپنی فیملی کو یہاں سے کہی دور بھیج دیا ہے اس نے اور خود چھپ کر بیٹھا ہے یہیں۔

وہ ہمیں فالو کر رہا ہے ڈیڈ!

جیسے ہی ہم اس کے قریب پہنچنے کی کوشش کریں گے۔وہ ہمیں اتنا ہی خود سے دور بھیجے گا۔

تو پھر کیسے ممکن ہو گا اس تک پہنچنا؟احمد صاحب نے سوالیہ نظریں وہاج پر گاڑ دیں۔

“نہی ڈیڈ اب ہم اس تک نہی،وہ ہم تک پہنچے گا۔

مگر کیسے وہاج؟

وہاج نے ٹیبل سے اپنا فون اٹھایا اور ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے فون احمد صاحب کی طرف بڑھایا۔

انہوں نے پہلے تو حیرانگی سے فون کی طرف دیکھا اور پھر مسکرا دئیے۔

ویل ڈن مائی سن!

مگر دھیان رہے،کسی قسم کا کوئی نقصان نہی پہنچانا کسی کو۔

وہ فون دوبارہ وہاج کی طرف بڑھاتے ہوئے بولے۔

ڈونٹ وری ڈیڈ!

آپ صبح تک میرا کام کروا دیں،تا کہ جتنی جلدی ہو سکے میں اپنا کام شروع کر سکوں۔

ٹھیک ہے۔۔۔جیسے ہی صبح ہوتی ہے تمہارا کام ہو جائے گا۔اب تم کچھ کھا لو۔

صبح بس ناشتہ کیا تھا اور بے ہوش ہو۔

اگر مجھے پتہ ہوتا کہ ہمیں اس ناشتے کی اتنی بڑی قیمت ادا کرنی ہو گی۔تو میں کبھی حنان کی بات نا مانتا۔

ان کی بات پر وہاج مسکرا دیا مگر اگلے ہی پل اس کی آنکھیں غصے سے بھر گئیں۔

“ملک حنان”۔۔۔وہاج نے غصے سے حنان کا نام پکارا۔

فریج میں پزا پڑا ہے۔میں گرم کر لاتا ہوں۔

احمد صاحب کی آواز پر وہاج کے غصے کا تسلسل ٹوٹا۔

کچھ دیر میں ہی احمد صاجب وہاج کے لیے پزا اور اپنے لیے کافی بنا لائے۔

تھینکس ڈیڈ!

وہاج ہاتھ دھونے کے بعد پزا کھانے میں مصروف ہو گیا۔

احمد صاحب کافی کے سپ لینے لگے۔

جانتے ہو وہاج جب تم چھوٹے تھے۔وہ وقت جب مجھے تمہارے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔

وہ کئی سال میں نے ہمارے مستقبل کو سنوارنے کی خاطر گنوا دئیے۔

مگر آج مجھے بہت افسوس ہوتا ہے اپنی غلطی پر!

ڈیڈ۔۔۔ایسا کیوں کہہ رہے ہیں آپ؟

وہاج ان کو اداس ہوتے دیکھ خود بھی اداس ہو گیا۔

“اسے یاد آئے وہ دن،جب پیرنٹس ڈے پر سب بچے اپنے ڈیڈ کا ہاتھ تھامے سکول میں داخل ہوتے،جب وہ اپنے دونوں ماموں کو اپنی فیملی کے ساتھ ہنستے مسکراتے دیکھتا۔

اس وقت اپنے ڈیڈ کی کمی شدت سے محسوس ہوتی اسے،اس بات پر وہ اپنی ماں سے بھی اکثر جھگڑتا مگر کچھ نہی ہوتا تھا۔

وہ ہر بار وہاج کو پیار سے سنبھال لیتیں اور اسے سمجھاتی کہ اس کے ڈیڈ اس سے کیوں دور ہیں اور یوں وہاج سنبھل جاتا۔

گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ وہ سمجھدار ہوتا گیا۔مگر دل میں باپ کے لیے محبت کبھی کم نہی ہوئی بلکہ محبت کی جگہ اب عزت و احترام نے لے لی۔

نہی وہاج آج مجھے بولنے دو بیٹا!

میں نے اپنے بیٹے کی زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ،اپنے بیٹے کا بچپن چھین لیا اس سے اور دولت کمانے میں جٹاں رہا۔

جب کہ اس وقت مجھے ساتھ ہونا چاہیے تھا تمہارے۔

احمد صاحب کا لہجہ افسوس بھرا تھا۔

جب میں واپس آیا تو تم نے گھر آنے سے انکار کر دیا۔اس وقت سے مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہونا شروع ہو گیا۔

دولت کمانے کی آڑ میں خوشیاں گنوا دیں میں نے،حالانکہ میرے پاس دولت کی کمی نہی تھی۔

سب کچھ تو تھا،پیسہ،گھر،گاڑی!

مگر پھر بھی میں نے مزید دولت کمانی چاہی اور اپنے بیٹے کے سکھ، دکھ میں اس سے دور رہا۔

جس دن تم ہمیں چھوڑ کر لندن چلے گئے تھے۔اس دن مجھے شدت سے اس بات کا احساس ہوا۔

“مجھے اس دن پتہ چلا کہ میری حقیقی دولت،میرا سکون تو تم ہو،،

میری اکلوتی اولاد،میرا وہاج ہی تو ہے میری جائیداد۔

اس دن مجھے اپنی ساری دولت بہت پھیکی محسوس ہونے لگی،مجھے احساس ہوا کہ میں نے کیا کھویا ہے۔

مگر اس وقت تک دیر ہو چکی تھی۔۔۔۔

تم دور جا چکے تھے مجھ سے،بہت کوشش کی کہ تم سے کہہ دوں واپس آ جاو۔

مگر کبھی ہمت ہی نہی کر پایا!

بس یہی سوچ کر چپ رہا کہ یہ تمہاری زندگی ہے،تمہارا حق ہے کہ تم اپنے فیصلے خود سے کرو،بلکل ویسے ہی جیسے میں نے اپنے فیصلے خود کیے۔

اور جب تم نے واپس آنے کی بات کی تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہی رہا۔

ایسا لگتا ہے تمہارے ساتھ جو کچھ ہوا۔اس کا قصور وار میں ہوں۔

اگر میں اپنے بیٹے کے ساتھ ہوتا تو شاید میرا بیٹا آج اس حال میں نا ہوتا۔

نہی ڈیڈ ایسا کچھ نہی ہے۔

جو کچھ میرے ساتھ ہو رہا ہے۔

“یہ قسمت کا لکھا ہے”

قسمت کا لکھا خدا کے سوا کوئی نہی مٹا سکتا،،

اس میں آپ کا کوئی قصور نہی ہے ڈیڈ۔

وہاج نے آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگا لیے۔

وہ نم آنکھوں سے مسکرا دئیے۔

صبح شاہزیب کو اس کے انجام تک پہنچاتے ہیں۔بہت کھیل لیا اس نے یہ چوہے،بلی کا کھیل۔

اب اس کھیل کا سیمی فائنل ہے کل۔۔۔اور فائنل ہو گا تب،جب شاہزیب میرے شکنجے میں ہو گا۔

اس حنان کا بھی کچھ کرنا پڑے گا ڈیڈ!

اب اگر یہ میرے راستے میں آیا تو میرے ہاتھ سے نہی بچے گا یہ۔۔۔

نہی وہاج مجھےلگتا ہے تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔

نہی ڈیڈ۔۔۔ہو نا ہو اس کا شاہزیب سے کوئی لنک تو ضرور ہے۔

ٹھیک ہے۔۔۔تم کہتے ہو تو مان لیتا ہوں۔

وہ مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔

وہاج فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد ہوٹل سے باہر نکل گیا۔صبح ہو چکی تھی۔ایک نئی صبح”امید کی کرنوں کے ساتھ۔

وہاج گرے شرٹ اور بلیک جینز پہنے فون پر مصروف سا چلتا جا رہا تھا۔

آخر کار اپنی مطلوبہ جگہ پہنچ کر اس نے ڈور بیل پر ہاتھ رکھا۔

چند لمحوں بعد اس کے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔

اسلام و علیکم مسز حنان!

سامنے منال کھڑی تھی۔۔۔

وعلیکم اسلام وہاج بھائی۔۔۔منال کے چہرے پر حیرانگی کے آثار تھے۔

یقیناً وہ وہاج کو اتنی صبح یہاں دیکھ کر پریشان ہو چکی تھی۔

آپ آئیں وہاج بھائی۔۔۔منال نے اس کے لیے راستہ چھوڑا۔

نہی مسز حنان،آپ کائینڈلی حنان کو باہر بھیج دیں۔

میں یہی اس کا انتظار کر رہا ہوں۔

مگر وہ تو گھر پر نہی ہیں!

منال تیزی سے بول پڑی۔

وہاج نے بھنویں اچکاتے ہوئے منال کی طرف دیکھا۔

اتنی صبح وہ کہاں جا سکتا ہے مسز حنان؟

ایک ضروری بزنس میٹنگ کے لیے،جلدی اس لیے تا کہ وہ لیٹ نا ہو جائیں۔

وقت کی پابندی ان کی عادت ہے۔

منال کی آواز میں واضح لڑکھراہٹ تھی۔

وہاج کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

ٹھیک ہے جیسے ہی حنان گھر آئے اس کو بتا دئیجیے گا میرے بارے میں۔

میں شام کو پھر سے آوں گا!

وہاج اپنی بات مکمل کرتے ہوئے تیزی سے واپسی کے لیے پلٹ گیا۔

منال افسوس سے دروازہ بند کرتے ہوئے واپس پلٹی۔

حنان بکھرے بال لیے ٹراوزر اور ٹی شرٹ میں ملبوس دروازے کے پیچھے سے باہر نکلا۔

منال اسے گھورتی ہوئی کچن کی طرف بڑھ گئی۔

حنان بھی مسکراتے ہوئے اس کے پیچھے چل دیا۔منال کے گرد دونوں بازو پھیلا دئیے اور سر منال کے کندھے پر ٹکا دیا۔

ناراض کیوں ہو رہی ہو منال؟

جیسے آپ جانتے نہی!

منال اس کے بازووں کا گھیراو توڑتی ہوئی سینک کی طرف بڑھی اور کیتلی میں پانی بھرنے لگی۔

حنان دونوں بازو سینے پر فولڈ کیے منال کو گھورنے لگا۔

جھوٹ بولنا بری بات ہے حنان۔

منال کیتلی چولہے پر رکھتے ہوئے بولی۔

ہاں میں جانتا ہوں منال!

حنان کرسی کھینچتے ہوئے ٹیبل پر سر گرائے بولا۔

آپ جانتے ہیں پھر بھی جھوٹ بول رہے ہیں۔

مجھے لگتا ہے وہاج بھائی کو آپ پر شک ہو چکا ہے۔تبھی تو وہ اتنی صبح ہمارے گھر آئے اور آپ نے انہیں دیکھ لیا۔

اپنے ساتھ ساتھ مجھ سے بھی جھوٹ بلوایا۔

آخر کب تک جھوٹ بولیں گے آپ؟

مجھے لگتا ہے اب آپ کو سچ بتا دینا چاہیے ان کو۔

نہی منال۔۔۔ابھی سہی وقت نہی ہے۔جیسا چل رہا ہے چلنے دو۔

جب تک میرا کام مکمل نہی ہو جاتا،تب تک تو بلکل بھی نہی۔

مطلب آپ ان کو نہی بتائیں گے؟

منال آنکھیں سکوڑتے ہوئے بولی۔

نہی۔۔۔حنان بھی اسی کے انداز میں آنکھیں سکوڑتے ہوئے منال کی طرف بڑھا۔

بند کرو یہ منال،کیا صبح صبح کچن میں آ جاتی ہو۔

ہم یہاں گھومنے آئے ہیں نا کہ کچن کے کام کرنے۔

چلو آرام کرو کمرے میں جا کر،پھر کہی چلتے ہیں جنت اٹھ جائے تو۔

آج ناشتہ ہم باہر کریں گے۔

نہی حنان مجھے ناشتہ بنانے دیں۔منال بولتی رہ گئی۔

مگر حنان اس کی ایک بھی سنے بغیر کچن کی لاِٹ بند کرتے ہوئے منال کا ہاتھ تھامے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

“”وہاج واپس ہوٹل آ گیا اور احمد صاحب کے اٹھنے پر ناشتہ آرڈر کر دیا۔

ناشتہ کرنے کے بعد احمد صاحب نے کسی کو فون ملایا اور چند گھنٹوں بعد ان کو ایک میسیج موصول ہوا۔

انہوں نے وہ میسج وہاج کو فاروڈ کیا۔

میسیج دیکھتے ہی وہاج کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

مجھے ابھی نکلنا ہو گا ڈیڈ!

آپ یہی ہوٹل میں میرا انتظار کریں۔فون پر بات ہوتی رہے گی۔

آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہی ہے ڈیڈ،بس دعا کریں آپ۔

وہاج مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *