Kismat Ka Likha by Khanzadi NovelR50493 Kismat Ka Likha (Episode 11)
Rate this Novel
Kismat Ka Likha (Episode 11)
Kismat Ka Likha by Khanzadi
عمارہ وہی بیٹھی آنسو بہاتی رہی۔اچانک کسی نے عمارہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
عمارہ نے چونک کر سر اٹھا کر دیکھا۔اور خود کو سنبھالتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
سامنے حمزہ کھڑا تھا۔
عمارہ یہ سب ٹھیک نہی مام اور بھائی نے تمہارے ساتھ!
میں نے تمہاری اور مام کی ساری باتیں سن لیں۔
تم فکر مت کرو!
میں ڈیڈ کو سب کچھ بتا دوں گا۔
شاہزیب بھائی نے دوسری شادی کر لی تھی۔ہم سب یہ جانتے تھے۔
مگر تہمارا دل نا ٹوٹ جائے اسی لیے میں نے کبھی بات نہی کی اس بارے میں۔
شاہزیب بھائی تمہیں طلاق دے چکے ہیں یہ ہم نہی جانتے تھے۔
مگر آج جو سچائی میرے سامنے آئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کل ان سب کے ساتھ ساتھ میں بھی تمہارا گناہ گار ہوں۔
اگر میں شاہزیب بھائی کی شادی کے بارے میں بتا دیتا تمہیں۔۔تو شاید اب تک تم خود ان سے طلاق لے لیتی۔
یا پھر کسی نا کسی طرح یہ سچائی سب کے سامنے آ جاتی۔
ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا عمارہ!
نہی حمزہ۔۔جو کچھ بھی ہوا اس میں تمہارا تو کوئی قصور نہی تھا۔
جو کچھ بھی کیا چچی جان اور شاہزیب نے کیا۔
تم معافی مت مانگوں۔
عمارہ آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔
نہی عمارہ۔۔۔ہم سب قصور وار ہیں اس معاملے میں۔
اس گھر میں بہت نا انصافیاں ہوئی ہیں تمہارے ساتھ،مگر کسی نے تمہارا ساتھ نہی دیا۔
مام کے ڈر کی وجہ سے ہم کبھی کچھ بول ہی نہی سکے۔
مگر اب اور نہی۔۔۔!
اب اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانی ہی ہو گی مجھے۔
چاہے کچھ بھی ہو ڈیڈ کے سامنے شاہزیب بھائی اور مام کی سچاِئی لانی ہی پڑے گی۔
وہاج بھائی تم سے محبت کرتے تھے،میں اس بات سے بھی انجان تھا۔
مگر اب مجھے سچ پتہ چل چکا ہے۔میں وہاج بھائی اور تمہارے ساتھ ہوں۔
اس کہانی کو منزل تک پہنچا کر چھوڑوں گا میں۔
“یہ وعدہ ہے میرا تم سے،ایک بھائی کا وعدہ ہے اپنی بہن سے!
عمارہ نے چونک کر حمزہ کی طرف دیکھا،آنکھوں سے آنسو پھر سے بہنے لگے۔
ہاں عمارہ۔۔۔۔میں سہی کہہ رہا ہوں۔
تم نے ہمیشہ بھائیوں والی اہمیت دی ہے مجھے۔مگر میں اپنے بھائی ہونے کا فرض نہی نبھا سکا۔
مگر اب اس فرض سے غفلت نہی برتوں گا میں۔
چاہے جو بھی ہو ہر حال میں تمہارا ساتھ دوں گا۔
سنبھالو خود کو،وہاج بھائی کو کچھ نہی ہو گا۔
“اللہ پر بھروسہ رکھو!
وہاج بھائی بہت جلد گھر واپس آ جائیں گے۔
اگر تمہیں ہاسپٹل جانا ہو تو مجھے بتا دینا۔
کسی سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہی ہے۔
جب کوئی کچھ بولے گا تو میں خود سنبھال لوں گا۔
حمزہ،عمارہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے حیران کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
عمارہ گم سم سی کھڑِی آنسو بہاتی رہ گئی۔
ابھی تک گئی نہی تم؟
مسز حسن کی آواز پر عمارہ پلٹی۔ اور بنا کوئی جواب دئیے کمرے سے باہر نکل گئی۔
مسز حسن کے چہرے کے تیور بدلے عمارہ کا رویہ دیکھ کر۔
کیا نئی مصیبت میں ڈال دیا اس لڑکی نے مجھے!
وہ عمارہ جو کبھی آنکھ اٹھا کر بات نہی کرتی تھی۔اب آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتی ہے۔
وہ عمارہ کے روئیے سے پریشان ہو چکی تھیں۔مگر ظاہر نہی کرنا چاہتی تھی۔
ان کو لگ رہا تھا اگر عمارہ کو لگا کہ میں کمزور پڑ رہی ہوں۔یا ڈر گِئی ہوں۔
تو اس میں مزید ہمت پیدا ہو جائے گی۔
عمارہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔
سمجھ نہی آ رہی تھی کس سے اپنے دل کا حال بیان کرے۔
جو بنا بتائے اس کے دل کا حال جان لیتا تھا وہ اس خود اس وقت ہوش میں نہی تھا۔
عمارہ اپنی بے بسی پر آنسو بہاتی رہی۔
وہ تو خود سے ملنے بھی نہی جا سکتی تھی وہاج سے۔
پھوپھو کا فون گھر پر ہی تھا۔ان سے بھی بات نہی کر سکتی تھی۔
حمزہ نے کہہ تو دیا تھا کہ وہ اسے لے جائے گا،مگر وہ خود ہی حمزہ کے لیے کسی پریشانی کا باعث نہی بننا چاہتی تھی۔
وہ آنسو پونچھتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔
کچن میں آ کر رات کے کھانے کی تیاری کرنے لگی۔
چلو حمزہ مجھے ہاسپٹل لے چلو۔۔۔بہت دیر ہو گئی ہے۔
اب تمہارے ڈیڈ کو کچھ دیر کے لیے گھر بھیج دوں گی۔
کل رات سے ہاسپٹل میں خوار ہو رہے ہیں۔
مسز حسن حمزہ کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولیں۔
مام آپ کو جانے کی کوئی ضرورت نہی ہے۔میری بات ہوئی ہے ڈیڈ سے وہ کہہ رہے تھے آپ گھر پر ہی رکیں۔
انہوں نے مجھ سے تو ایسی کوئی بات نہی کی۔تم اپنے پاس سے ہی باتیں بنانے لگے ہو۔
وہ حمزہ پر تپ گئیں۔
تو آپ کال کر لیں نا ان کو مام!
مجھ پر کیوں چلا رہی ہیں۔
حمزہ کے جواب پر مسز حسن کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
کیا کہا تم نے حمزہ۔۔؟
میں چلا رہی ہوں!
زرا پھر سے کہنا۔۔۔
مام پلیز مجھے تنگ مت کریں۔ایک تو پہلے ہی بہت پریشانی ہے۔
اب آپ میرا وقت ضائع کر رہی ہیں۔
پلیز جائیں آپ!
ڈیڈ سے بات کریں۔آپ کو خود ہی یقین آ جائے گا۔
مسز حسن کا تو منہ ہی کھلا رہ گیا حمزہ کے جوابات سن کر۔
وہ ہکا بکا سا چہرہ لیے حمزہ کو دیکھتی رہ گئیں۔
مام۔۔۔انیسہ کی آواز پر وہ چونک کر پلٹیں۔
انیسہ بھاگتی ہوئی ماں سے گلے لگ گئی۔
میری بچی۔۔۔کیسی ہو؟
وہ بھی انیسہ کو پیار کرتے ہوئے بولیں۔
میں بلکل ٹھیک ہوں مام،آپ کیسی ہیں؟
ہائے حمزہ!
کیسے ہو؟
فائن۔۔۔حمزہ نے بس اتنا ہی جواب دیا۔اور فون میں مصروف ہو گیا۔
اس کو کیا ہوا ہے؟
انیسہ ماں کے کان میں سرگوشی کرنے لگی۔
کچھ نہی۔۔۔زبان بہت چلنے لگی ہے اس کی،
اس کو بعد میں دیکھتی ہوں میں۔۔۔ابھی تم چلو باہر سے تھکی ہوئی آئی ہو۔
عاصم بھی آیا ہے ناں؟
جی مام۔۔ظاہری سی بات ہے اس کے ساتھ ہی آئی ہوں میں۔
باہر ٹی وی لاونج میں بیٹھا ہے آپ کا انتظار کر رہا ہے۔
انیسہ اپنے شوہر کا بتانے لگی ماں کو۔
آپ کو کیا ہوا ہے؟
بہت تھکی تھکی سی لگ رہی ہیں مجھے؟
ہونا کیا ہے کل رات سے ہاسپٹل میں خوار ہو رہے ہیں ہم سب!
اوہ۔۔۔کیوں کیا ہوا مام سب خیریت تو ہے نا؟
انیسہ پریشان ہوتے ہوئے بولی۔
ہاں ہاں سب خیریت ہے۔وہاج کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا کل۔
کل رات سے بے ہوش پڑا ہے۔سر میں چوٹ آئی ہے۔
اوہ۔۔۔بہت برا ہوا!
خیر چھوڑیں مام۔۔۔ہمیں کیا۔
آپ کیوں اس کی فکر میں نڈھال ہو رہی ہیں۔
ٹھیک ہو جائے گا۔
آ جائیں آپ عاصم انتظار کر رہا ہو گا۔
انیسہ ماں کو ساتھ لیے کمرے سے باہر نکل گئی۔
حمزہ نے افسوس سے دونوں کو جاتے ہوئے دیکھا۔
عمارہ کھانا بنانے میں مصروف تھی۔انیسہ کے آنے پر ڈشز میں مزید اضافہ ہو چکا تھا۔
عمارہ کا اپنا سر چکرا رہا تھا بھوک کی وجہ سے۔
کل رات سے اس نے بس ایک پیس بریڈ ہی کھایا تھا۔وہ بھی بہ مشکل۔
کچھ بھی کھانے کو دل نہی کر رہا تھا۔
عمارہ پہلے انیسہ اور اس کے شوہر کے لیے چائے،سینڈوچ اور کباب فرائی کیے ٹی وی لاونج میں دینے چلی گئی۔
منیبہ نے حقارت بھری نظر عمارہ پر ڈالی اور کباب پلیٹ میں رکھ کر کھانے میں مصروف ہو گئی۔
عمارہ کا سر چکرایا اور وہ گرتے گرتے بچی!
حمزہ سیڑھیوں سے بھاگتے ہوئے آیا۔
عمارہ کیا ہوا تمہیں سب خیریت تو ہے ناں؟
وہ پریشانی سے عمارہ کے پاس آ رکا۔
کچھ نہی ہوا اسے،ڈرامے کرنے کی عادت ہے اس کو۔
حمزہ تم جاو اپنے کمرے میں،انیسہ نخوست سے بولی۔
آپی عمارہ کی طبیعت خراب ہے اور آپ کہہ رہی ہیں یہ ڈرامے کر رہی ہے۔
حمزہ نے غصے سے جواب دیا۔
ہم ان کو ڈاکٹر کے پاس لے چلتے ہیں۔
عاصم بھی عمارہ کے پاس آ رکا۔
کوئی ضرورت نہی آپ کو کہی بھی جانے کی۔
اس لڑکی کی یہی عادتیں ہیں۔کام سے جان چھڑوانے کے بہانے ہیں سارے اس کے۔
مسز حسن غصے سے بولتی ہوئی عمارہ کے پاس آ رکیں۔
جاو کام کرو جا کر کچن میں!
اسے تو عادت ہے سب کی ہمدردیاں بٹورنے کی۔
جی چچی جان میں جاتی ہوں۔
عاصم بھائی میں ٹھیک ہوں۔
آپ لوگ پریشان نا ہو۔
عاصم کندھے اچکاتے ہوئے واپس اپنی سیٹ پر جا بیٹھا۔
انیسہ نے اسے غصے سے گھورا،مگر بولی کچھ نہی۔
عمارہ خود کو سنبھالتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گئی۔
حمزہ بھی اس کے ساتھ کچن میں آ گیا۔
عمارہ تم نے صبح سے کیا کھایا ہے؟
حمزہ کی آواز غصے بھری تھی۔
بریڈ۔۔۔عمارہ گھبراتے ہوئے بولی۔
حمزہ کو افسوس ہوا۔۔۔عمارہ سارے کام چھوڑو اور بیٹھو یہاں۔
حمزہ کرسی عمارہ کے سامنے رکھتے ہوئے بولا۔اور باہر کی طرف بڑھ گیا۔
کچھ دیر بعد ہاتھ میں سینڈوچ والی پلیٹ اٹھائے کچن میں داخل ہوا۔
عمارہ ختم کرو یہ سب جلدی!
سامنے ٹیبل پر پلیٹ رکھتے ہوئے عمارہ کو بولا۔
نہی حمزہ مجھے بھوک نہی ہے!
بس۔۔۔مجھے یہ مت سناو کہ بھوک نہی ہے۔بس چپ چاپ جلدی سے یہ ختم کرو۔
حمزہ نے عمارہ کو مزید بولنے سے ٹوک دیا۔
عمارہ چپ چاپ بیٹھ گئی۔اور سینڈوچ اٹھا کر کھانے لگی۔
بہ مشکل تین سینڈوچ ہی کھا سکی وہ۔اس نے التجائیہ نظروں سے حمزہ کی طرف دیکھا۔
جس کا مطلب تھا کہ میں مزید نہی کھا سکتی۔
کیا۔۔۔؟
میری طرف کیوں دیکھ رہی ہو۔
حمزہ کندھے اچکاتے ہوئے بولا۔
میں اور نہی کھا سکتی پلیز حمزہ!
عمارہ کی بات پر حمزہ مسکرا دیا۔
چلو ٹھیک ہے کچھ تو کھایا تم نے۔۔صبح سے بھوکی بیٹھی ہو۔
تم سب کا خیال رکھتی ہو۔مگر تمہارا کسی کو خیال نہی ہے۔
لاو میں مدد کروا دیتا ہوں کھانا بنانے میں۔
نہی۔۔میں سب کر لوں گی۔میں اب ٹھیک ہو تم جاو اپنے کمرے میں۔
ہاسپٹل سے کوئی خبر آئی وہاج کے بارے میں،عمارہ چہرے پر اداسی لیے بولی۔
نہی عمارہ۔۔!
وہاج بھائی کو ابھی تک ہوش نہی آیا۔
ڈیڈ سے بات ہوئی تھی میری۔
عمارہ پھر سے آنسو بہانے لگی۔
عمارہ تم چپ ہو جاو پلیز۔۔۔وہاج بھائی ٹھیک ہو جائیں گے۔
تم کھانا بنا لو پھر ہم ہاسپٹل چلتے ہیں۔
ولی اور بابا گھر آ جائیں گے پھر اور تم چاہو تو رات رک جانا پھوپھو کے ساتھ۔
لیکن چچی جان۔۔۔!
وہ مجھے نہی جانے دیں گی۔
عمارہ آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔
تم فکر مت کرو تمہارا بھائی سب سنبھال لے گا۔
تم بس جلدی سے کھانا بنا لو پھر چلتے ہیں ہم۔
حمزہ اسے تسلی دیتے ہوئے کچن سے باہر نکل گیا۔
عمارہ نے جلدی سے کھانا بنایا،ہاسپٹل ساتھ لے جانے کے لیے کھانا پیک کیا۔اور اپنے کمرے میں چلی گئی کپڑے چینج کرنے کے لیے۔
حمزہ اسے ساتھ لیے گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
مسز حسن کی نظر نہی پڑی ان دونوں پر۔ورنہ وہ پورا گھر سر پر اٹھا لیتیں۔
ہاسپٹل پہنچ کر عمارہ جلدی سے پھوپھو کی طرف بڑھی۔
ان کے گلے لگ کر آنسو بہانے لگی۔
پھوپھو یہ سب کیا ہو گیا۔
وہاج کو ہوش کیوں نہی آ رہا۔
عمارہ آنسو بہاتے ہوئے بولنے لگی۔
عمارہ چپ ہو جاو میری گڑیا۔
پریشان مت ہو تم۔وہاج کو ہوش آ گیا ہے۔
مگر وہ ابھی دوائیوں کے زریرِاثر نیند میں ہے۔
ابھی کچھ دیر پہلے ہی ہوش آیا ہے وہاج کو۔
دوسرے کمرے میں شفٹ کرنے لگے ہیں اس کو۔
تم پریشان مت ہو میری جان!
مسز احمد عمارہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولیں۔
عمارہ کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
سچ پھوپھو جان۔۔؟
عمارہ کو جیسے اپنے کانوں پر یقین نا آیا ہو۔
ہاں بیٹا۔۔۔مسز احمد مسکراتے ہوئے بولیں۔
عمارہ نے صدقِ دل سے خدا کا شکریہ ادا کیا اور نماز ادا کرنے چل پڑی۔
ولی اور حسن صاحب گھر جا چکے تھے۔
تھوڑی دیر بعد ہی وہاج کو دوسرے کمرے میں شفٹ کر دیا گیا۔
عمارہ نماز پڑھ کر آئی تو وہاج کے بابا بھی آ چکے تھے۔
وہ عمارہ کو ساتھ لیے وہاج کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔
وہ عمارہ کے انتظار میں ہی یہاں رکے ہوئے تھے۔
عمارہ کمرے میں داخل ہوئی تو وہاج کی حالت دیکھ کر اس کا دل تڑپ اٹھا۔
سر پر ابھی بھی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔
چہرے پر جمے ہوئے خون کے نشان،وہاج بے سدھ سا لیٹا ہوا تھا۔
عمارہ کی آنکھوں سے پھر سے آنسو بہنے لگے۔
مسز احمد اسے اپنے ساتھ صوفے تک لے آئیں۔
عمارہ ادھر آو۔۔پریشان ہونے کی ضرورت نہی ہے اب۔
تم کھانا کھاو بیٹھ کر۔
حمزہ نے ان کو عمارہ کی کھانا نا کھانے کی وجہ سے خراب ہونے والی طبیعت کا بتا دیا۔
نہی پھوپھو جان مجھے بھوک نہی ہے۔
عمارہ نے سر نفی میں ہلا دیا۔
مگر پھر انہوں نے اپنے ہاتھ سے عمارہ کو کھانا کھلایا تو وہ انکار نا کر سکی۔
ہم لوگ باہر ہیں کچھ چاہیے تو بتا دینا آپ!
حمزہ احمد صاحب کے ساتھ ویٹنگ ایریا میں چلا گیا۔
عمارہ کو زبردستی کھانا کھلا ہی دیا مسز احمد نے اور خود بھی تھوڑا سا کھا لیا۔
حمزہ کچھ دیر بعد آیا اور باقی بچا کھانا لے کر باہر چلا گیا۔
پھوپھو جان وہاج کب اٹھیں گے۔میں ان کے لیے الگ سے سوپ اور کھچڑی بنا کر لائی ہوں۔
کل سے کچھ بھی نہی کھایا انہوں نے،عمارہ پریشان ہوتے ہوئے بولی۔
مسز احمد مسکرا دیں۔
اب تم آ گئی ہو ناں۔۔جلدی اٹھ جاِئے گا وہاج۔
کیونکہ تم ہی تو اس کے ہر مرض کی دوا ہو۔
عمارہ نے چونک کر پھوپھو کی طرف دیکھا اور ان کے گلے لگ کر آنسو بہانے لگی۔
پھوپھو جان مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے۔
عمارہ نے مسز حسن اور شاہزیب کے بارے میں سب بتا دیا ان کو۔
میں سب جانتی ہوں میری جان!
وہ عمارہ کے گال تھپتپاتے ہوئے بولیں۔
بھابی نے میرے وہاج کو اور میری بیٹی کو بہت دکھ دئیے ہیں۔
مگر اب تم فکر مت کرو۔ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔
کسی سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہی ہے تمہیں۔
سب سے بڑھ کر وہاج تمہارے ساتھ ہے۔
تمہارے لیے ہی تو آیا ہے وہ واپس!
اب تم بے فکر ہو جاو’جیسے ہی وہاج کی طبیعت ٹھیک ہو جائے۔
مکمل صحت یاب ہو جائے وہاج،پھر ہم اس بارے میں بات کریں گے گھر میں۔
ابھی تم آرام سے بیٹھو یہاں!
وہاج جب اٹھ جائے تو اسے کھانا کھلاتے ہیں ہم۔
میں نماز پڑھ کر آتی ہوں۔
وہ کمرے سے باہر نکل گئیں۔
عمارہ وہی صوفے پر بیٹھی وہاج کے ہوش میں آنے کا انتظار کرنے لگی۔
