Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kismat Ka Likha (Episode 05)

Kismat Ka Likha by Khanzadi

دونوں ایک ساتھ ہال میں داخل ہوئے۔سب کی نظریں ان دونوں کی طرف اٹھیں۔

داخلی راستہ اس وقت خالی تھا۔

بارات لیٹ ہو چکی تھی۔

اسی لیے سب کی نظریں داخلی راستے پر ہی جمی تھیں۔

گھر والے تو سب حیرت زدہ ہی رہ گئے عمارہ اور وہاج کو ایک ساتھ آتے دیکھ۔

سب سے زیادہ جلن اس وقت منیبہ کو ہو رہی تھی۔

کیونکہ اس کا بنایا ہوا منصوبہ تباہ ہو چکا تھا۔

عمارہ کا ڈریس اسی نے تو جلایا تھا۔تا کہ عمارہ انیسہ کا سلیو لیس ڈریس پہن کر آئے۔

اور منیبہ وہاج کو عمارہ کی پاکیزگی کا طعنہ دے سکے۔

مگر ایسا نہی ہوا۔۔۔یہاں تو سب الٹا ہو گیا۔

وہ جو وہاج کے دل میں عمارہ کے لیے بدگمانیاں پیدا کرنا چاہتی تھی۔

الٹا دونوں کی دوستی مزید گہری ہو گئی تھی۔

منیبہ جلتی بھنتی اپنا شرارہ سنبھالتی ہوئی عمارہ کی طرف بڑھی۔

عمارہ پھوپھو اور وہاج کے ساتھ ہی کھڑی تھی۔

کہاں تھی تم؟

اتنی دیر سے کیوں آئی ہو؟

وہاج کے ساتھ کیوں آئی ہو تم!

اسے اور بھی ضروری کام ہوتے ہیں۔تمہیں رسیو اور ڈراپ کی زمہ داری نہی اٹھا رکھی اس نے۔

خوامخواہ اس کا اتنا ٹائم ضائع کروا دیا تم نے۔

تمہاری وجہ سے وہ بھی لیٹ ہو گیا۔

اب اپنی منحوس شکل لے کر یہاں کیوں کھڑی ہو۔

جاو برائیڈل روم میں ماما کب سے تمہارا انتظار کر رہی ہیں۔

منیبہ ساری بھڑاس عمارہ پر نکالنے لگی۔

شٹ اپ منیبہ!

وہاج عمارہ کے سامنے آ رکا۔

خبردار!

خبردار۔۔۔اب اگر تم نے عمارہ کے لیے ایک لفظ بھی بولا تو اچھا نہی ہو گا۔

حسن صاحب اور وہاج کے بابا ہال سے باہر چلے گئے تھے انتظامات دیکھنے۔

ولی اور حمزہ بھی یہاں نہی تھے۔وہ بھی ان کے ساتھ ہی تھے۔

سارے مہمان مڑ مڑ کر منیبہ کی تیز چلتی زبان دیکھ رہے تھے۔

تو کیا کر لو گے تم وہاج؟

منیبہ کسی کی بھی فکر کیے بغیر بولی۔

تو میں تمہارا لحاظ نہی کروں گا منیبہ!

بھول جاو گا کہ تم مجھ سے چھوٹی ہو اور میرا تم سے کوئی رشتہ ہے۔

اچھا۔۔۔سب سمجھ رہی ہوں میں کیا چل رہا ہے تم دونوں کے درمیان۔

شاہزیب بھائی کو سب بتا دوں گی میں۔

پھر دیکھنا وہ واپس آ کر کیا حشر کرتے تم دونوں کا۔

منیبہ اب حد سے آگے بڑھ رہی تھی۔

یہ کیا کہہ رہی ہو تم منیبہ ایسا کچھ نہی ہے!

تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔

ہم دونوں بس اچھے دوست ہیں اور کچھ نہی!

عمارہ آگے بڑھ کر صفائیاں پیش کرنے لگی۔

تم سے ماما ہی نپٹیں گی!

منیبہ منہ سکوڑتے ہوئے بولی۔

میں جاتی ہوں چچی جان کے پاس منیبہ پلیز تم اس بات کو یہیں ختم کر دو۔

عمارہ جیسے التجا کر رہی تھی۔

اسے ڈر تھا کہی اس کے اس کھوکھلے رشتے پر کوئی آنچ نا آ جائے۔

وہاج نے افسوس سے عمارہ کی طرف دیکھا۔

عمارہ۔۔!

وہاج نے عمارہ کو پکارا۔۔۔!

عمارہ نے وہاج کی طرف دیکھا۔

وہاج نے سر نفی میں ہلا دیا۔

عمارہ مت کرو ایسا!

اپنی عزتِ نفس کو مزید مجروح نا کرو ان بے حس لوگوں کے سامنے۔

اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں جیسے عمارہ کو سمجھانا چاہا۔

عمارہ تیزی سے وہاں سے چلی گئی۔وہاج کی نظروں کا سامنا نہی کرنا چاہتی تھی وہ۔

وہاج بس عمارہ کو جاتے ہوئے دیکھتا رہ گیا۔

پھوپھو جان آپ سمجھا لیں وہاج کو!

اب یہ حد سے آگے بڑھ رہا ہے۔

عمارہ میری بھابھی ہے۔میری مرضی میں اس کے ساتھ جیسے مرضی سلوک کروں۔

یہ کون ہوتا ہے بولنے والا؟

منیبہ وہاج کی ماما کو مخاطب کرتے ہوئے بولی۔

وہاج کی ماما اب تک خاموش تماشائی بنی سب دیکھ رہی تھیں۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتیں۔وہاج آگے بڑھا۔

مجھے پورا حق ہے بولنے کا!

جانتی ہو کیوں؟

کیونکہ بہت جلد میں تمہاری بھابی سے شادی کرنے والا ہوں۔

وہاج چہرے پر مسکراہٹ سجائے منیبہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔

جاو بتا دو جا کر اپنے شاہزیب بھائی کو سب کچھ!

اس سے بولو ہمت ہے تو آ کر روک لے اس شادی کو”

وہاج کی بات پر منیبہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

یہ کیا بکواس ہے وہاج؟

منیبہ چلائی۔

اس سے پہلے کہ وہاج کچھ کہتا۔بارات آ گئی۔

ہر طرف بارات آگئی۔۔۔بارات آ گئی۔۔شور مچ گیا۔

تمہیں تو میں بعد میں دیکھ لوں گی!

منیبہ اپنا شرارہ سنبھالتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔

شیور!

وہاج نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکا دئیے۔

بس کر دو وہاج۔۔وہاج کی ماما مسکراتے ہوئے بولیں۔

جی جی۔۔ٹھیک ہے مام”

وہاج نے ہاتھ اوپر اٹھا دئیے اور دونوں مسکراتے ہوئے بارات کے استقبال کے لیے چل پڑے۔

وہاج وہی جا رکا جہاں عمارہ کھڑی تھی۔

عمارہ نے وہاج کو گھورا۔۔۔۔!

پلیز وہاج آپ کہی اور جا کر کھڑے ہو حائیں۔

منیبہ پہلے ہی ہم پر شک کر رہی ہے۔

اس کو چھوڑو تم عمارہ اس کی عادت ہے۔۔۔وہاج ڈھٹائی سے عمارہ کے ساتھ کھڑا رہا۔

کوئِی بھی دیکھنے والا تو یہی سمجھتا کہ دونوں میاں بیوی ہیں۔

وہاج کا مسکرا کر عمارہ سے باتیں کرنا اور اس کے ساتھ رکنا۔

عمارہ کو یہ سب اچھا نہی لگ رہا تھا۔

وہ بہت ڈری سہمی سی کھڑی تھی وہاج کے حصار میں۔

وہاج کو عمارہ کا گھبرانا،شرمانا بہت اچھا لگ رہا تھا۔

وہ بہت انجوائے کر رہا تھا عمارہ کی اس حالت کو۔

جبکہ دوسری طرف منیبہ کا جلن سے سرخ ہوتا چہرہ دیکھ کر وہاج کو بہت خوشی محسوس ہوئی۔

جیسے ہی بارات ہال میں داخل ہوئی سب لڑکیوں نے گلاب کی پتیاں نچھاور کرنی شروع کر دیں۔

وہاج بھی پاس کھڑی بچی کی پلیٹ میں سے پتیاں اٹھا کر عمارہ پر نچھاور کرنے لگا۔

عمارہ وہاج کو گھور کر وہاں سے آگے بڑھنے لگی۔۔تب ہی وہاج نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

عمارہ کو حیرتوں کا جھٹکا لگا وہاج کی اس حرکت پر۔

وہاج یہ کیا حرکت ہے؟

ہاتھ چھوڑیں میرا۔۔!

عمارہ چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجائے مہمانوں کو سلام کر رہی تھی۔

اس کا ہاتھ مسلسل وہاج کی گرفت میں تھا۔

وہاج اس کی آواز کو اگنور کیے چہرے پر مسکراہٹ سجائے کھڑا رہا۔

عمارہ نے اپنی ہیل وہاج کے شوز پر رکھ دی۔

وہاج نے پھر بھی ہاتھ نہی چھوڑا۔

عمارہ حیرت سے وہاج کی طرف دیکھنے لگی۔

وہاج نے مسکراتے ہوئے عمارہ کی طرف دیکھا۔

“چپ چاپ یہاں کھڑِی رہو میرے ساتھ۔۔ورنہ ہاتھ نہی چھوڑوں گا میں۔

باقی انجام کی زمہ دار تم خود ہی ہو گی۔

“مجھے تو جانتی ہی ہو تم!

میں انجام سے نہی ڈرتا’جو دل میں آئے کر دیتا ہوں۔

وہاج عمارہ کے کان کے پاس ہلکی آواز میں بول رہا تھا۔

اچھا ٹھیک ہے!

نہی جاتی میں کہی اور۔۔اب تو میرا ہاتھ چھوڑ دیں آپ۔

کوئی دیکھے گا تو کیا سوچے گا!

عمارہ رو دینے کو دی تھی۔

وہاج کو اس کی حالت پر ترس آ ہی گیا۔

وہاج نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔

سارے مہمان اندر جا چکے تھے۔

عمارہ نے پاس کھڑِی ننھی بچی کے ہاتھ سے پھولوں والی پلیٹ پکڑی اور ساری پتیاں وہاج کے سر پر ڈال دیں۔

وہاج اس حملے کے لیے تیار نہی تھا اور عمارہ سے اس جواب کی امید بھی نہی تھی اسے۔

وہ بس دھنگ سا کھڑا عمارہ کو ہنستے ہوئے دیکھنے لگا۔

آس پاس کھڑی سب لڑکیاں اس پر ہنس رہی تھیں مگر اسے کہاں پرواہ تھی۔

وہ تو ان لمحوں میں کھو سا گیا تھا۔

عمارہ کی یہ مسکراتی آنکھیں بہت لمبے عرصے بعد دیکھی تھیں اس نے۔

دل چاہ رہا تھا کہ ان لمحوں کو ہمیشہ کے لیے قید کر لے۔

یہ لمحے کبھی ختم ہی نا ہو۔

اردگرد کی ساری آوازیں ساکن ہو چکی تھیں وہاج کے لیے۔

اس کے کانوں میں گونج رہی تھی تو بس عمارہ کی ہنسی اور ایسا لگ رہا تھا جیسے عمارہ کے سوا یہاں کوئی اور ہے ہی نہی!

عمارہ مسکراتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔۔تب جا کر وہاج کا حصار ٹوٹا۔

اس نے اپنے اردگرد سب کو خود پر ہنستے پایا تو ہوش میں آیا۔

منیبہ اچانک سے وہاں آ گئی اور وہاج کے بالوں سے پتیاں ہٹانے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا ہی تھا کہ وہاج نے اس کا ہاتھ روک دیا۔

وہاج اپنے بالوں سے اور کپڑوں سے اچھی طرح گلاب کی پتیاں جھاڑتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔

منیبہ غصے سے پیر پٹختی آگے بڑھ گئی۔

کچھ دیر بعد کھانے کا دور چلا’پھر دلہن کو دلہے کے ساتھ لا کر بٹھا دیا گیا۔

اس کے بعد گفٹس اور سیلفیز کا دور چلا۔

پھر رخصتی ہوئی۔۔۔اور فنکشن ختم!

سب اپنے اپنے گھروں کو چل دئیے۔

عمارہ واپسی پر بھی وہاج اور پھوپھو کے ساتھ گھر آئی۔

سب لوگ تھکے ہارے اپنے اپنے کمروں کی طرف بڑھ گئے۔

عمارہ جیولری اتارنے کے بعد انہی کپڑوں میں تھکی ہاری سی ٹیرس پر آ بیٹھی۔

رنگ برنگی روشنیوں اور چاند کی روشنی میں چمکتا یہ ٹیرس اسے بہت بھلا لگ رہا تھا۔

وہ اکثر راتوں کو یونہی اکیلی ٹیرس پر دیر رات تک چاند کی روشنی ٹہلتی رہتی۔

مگر آج وہ اکیلی نہی تھی!

اس کی زندگی کے اکیلے پن اور اس کے دکھوں کو ختم کرنے کوئی آ چکا تھا۔

“وہاج احمد”

وہ دھیرے سے عمارہ کے پاس آ بیٹھا۔

“یہ چاند کی روشنی،چاندنی راتیں،جگماتے جگنو،سب تمہیں پسند ہیں ناں؟

وہاج کی آواز پر عمارہ تیِزی سے پلٹی۔۔اور اپنا ڈوپٹہ اچھی طرح کندھوں پر پھیلا لیا۔

آپ یہاں۔۔۔؟

وہ بھی اس وقت!

عمارہ وہاج کو اس طرح اپنے قریب بیٹھے دیکھ کر گھبرا گئی۔

وہاج کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی عمارہ کی گھبراہٹ دیکھ کر۔

ڈرو مت عمارہ!

کچھ نہی کہتا میں۔۔۔

عمارہ کا چہرہ چاند کی روشنی میں دمک رہا تھا۔

وہاج کے لیے اس کے چہرے سے نظریں ہٹانا مشکل ہو رہا تھا۔

عمارہ مسکرا دی۔

جانتی ہوں آپ مجھے کچھ نہی کہیں گے’

مگر میں اس دنیا سے ڈرتی ہوں!

ہم دونوں کو اس وقت ایک ساتھ دیکھ کر بہت سے سوال اٹھیں گے۔

اور مجھ میں اتنی ہمت نہی کہ میں سب کے سوالوں کے جواب دے سکوں۔

“وہ چاند سی روشن لڑکی۔

پھولوں سی نازک لڑکی۔

گھبرائی ہوئی سی لڑکی۔

وہ چاند سی روشن لڑکی۔

ڈرتی ہے تجھے اپنانے سے۔

ڈرتی ہے سارے زمانے سے۔

ڈرتی ہے غم اپنانے سے۔

وہ چاند سی روشن لڑکی۔

وہ ڈرتی ہے مجھے اپنانے سے۔

ڈرتی ہے میرے کھو جانے سے۔

چاند سی روشن راتوں میں۔

ڈرتی ہے میرے ہی سائے سے۔

وہ چاند سی روشن لڑکی۔

نہی سمجھتی میرے افسانے کو۔

در جاتی ہے دنیا والوں سے۔

کرتی ہے مجھ سے پیار بہت۔

پر ڈرتی ہے زمانے سے۔

وہ چاند سی روشن لڑکی۔

وہاج کسی حصار کے زیرِاثر عمارہ کے چہرے پر آئے بال کان کے پیچھے سمیٹتے ہوئے بولتا چلا گیا۔

عمارہ کچھ سمجھ نہی پائی یہ سب کیا ہو رہا ہے۔وہ وہاج کی آنکھوں میں کھو سی گئی۔

جب ہوش آیا تو تیزی سے وہاں سے اٹھ کر اندر بھاگ گئی۔

اپنے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے آنسو بہانے لگی۔

“ہاں میں ہوں وہ چاند سی لڑکی۔

کرتی ہوں محبت اس دیوانے سے۔

مرتی ہوں اس پروانے پے۔

جلتی ہوں محبت کے آستانے میں۔

ہاں میں ڈرتی ہوں زمانے سے۔

ڈرتی ہوں تجھے کھو جانے سے۔

ہاں میں ڈرتی ہوں تیرے پاس آنے سے۔

ڈرتی ہوں نظریں ملانے سے۔

ہاں میں ڈرتی ہوں زمانے سے۔

کیونکہ میں ہوں وہ چاند سی لڑکی۔

جو جیتی ہے تنہائی میں۔

جو ڈرتی ہے زمانے سے!

عمارہ آنسو بہاتے ہوئے بولتی چلی گئی۔

وہاج آپ چھوڑ کیوں نہی دیتے یہ ضد!

مجھے بھول کیوں نہی جاتے!

کیوں واپس آ گئے ہیں پھر سے؟

جو نہی مل سکتا۔۔اس کی طلب چھوڑ کیوں نہی دیتے آپ۔

کیوں۔۔۔وہاج۔۔۔کیوں؟

آخر کیوں نہی بھلا پائے آپ اب تک مجھے؟

کیوں آگے نہی بڑھے اپنی زندگی میں؟

کیوں تکلیف دے رہے ہیں خود کو بھی اور مجھے بھی!

کیوں وہاج۔۔۔؟

عمارہ روتے ہوئے ایسے سوال کر رہی تھی جیسے وہاج اس کے سامنے ہو۔

وہاج اپنے خالی ہاتھ کو دیکھتا رہ گیا۔

“تمہاری خاطر آیا ہوں میں واپس عمارہ!

تمہیں اپنی زندگی بنانے کے لیے آیا ہوں واپس!

میں نہی بھول پایا تمہیں۔۔۔!

تم میری ایک یا دو دن کی محبت نہی یا پھر مہینوں کی۔۔!

نہی۔۔۔تم میری برسوں کی محبت ہو۔

بچپن سے لے کر اب تک بس ایک ہی چہرہ بھایا ہے دل کو۔

بس اسی لیے میں اپنی زندگی میں آگے نہی بڑھ سکا عمارہ۔

جب سے ہوش سنبھالا بس تمہیں ہی چاہا ہے۔۔تو پھر کیسے بھول سکتا ہوں میں تمہیں۔

بس اب اور نہی!

اب اور دکھ نہی دیکھنے دوں گا میں تمہیں۔۔

اب غم دور ہو گے تمہارے اور خوشیاں آئیں گی زندگی میں۔

“میرا وعدہ ہے تم سے عمارہ”

وہاج اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

آج کی رات دونوں کے غم کی آخری رات تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *