Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kismat Ka Likha (Episode 08)

Kismat Ka Likha by Khanzadi

وہاج حیران رہ گیا عمارہ کے رویے پر۔۔۔

عمارہ اس پر ہاتھ اٹھائے گی ایسا اس نے کبھی نہی سوچا تھا۔

وہاج بے یقینی سے عمارہ کو وہاں سے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔

وہ کچھ دیر سوچوں میں گُم بیٹھا رہا۔پھر وہی سے ہال سے باہر نکل گیا۔

کوٹ اتار کر گاڑی کی پچھلی سیٹ پر پھینک دیا۔

کھینچنے کے انداز میں ٹائی اتار کر پچھلی سیٹ پر پھینکی۔

واسکٹ اتار کر شرٹ کے اوپر والے دو بٹن اس قدر غصے سے کھنچے کہ بٹن ٹوٹ کر زمین پر گر گئے۔

شرٹ کے بازو بٹن کھول کر فولڈ کیے اور گاڑی سے پانی کی بوتل نکال کر منہ پر پانی کے چھینٹے مارنے لگا۔

غصہ پھر بھی کم ہونے کا نام نہی لے رہا تھا۔

وہاج نے پانی کی بوتل پچھلی سیٹ پر پھینکی۔

ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہوئے ڈیش بورڈ سے اپنا فون اٹھایا۔

اپنی مام کا نمبر ڈائل کیا۔

مسلسل بیل جا رہی تھی۔مگر وہ فون ریسیو نہی کر رہی تھیں۔

وہاج نے ان کے نمبر پر ایک میسیج سینڈ کیا۔اور فون غصے سے ساتھ والی سیٹ پر پھینک کر گاڑی سٹارٹ کر دی۔

اندر فنکشن اپنے عروج پر تھا۔

دلہا،دلہن سٹیج کی شان بنے ہوئے تھے۔

ہر طرف سے مبارک باد کی صدائیں آ رہی تھیں۔

کوئی سٹیج پر آ رہا تھا،کوئی جا رہا تھا۔

گفٹس دئیے جا رہے تھے۔

ہر طرف گہما گہمی پھیلی ہوئی تھی۔

تیز میوزک بج رہا تھا۔

مگر اس گہما گہمی کے ماحول میں بھی دور ایک کونے میں کرسی پر بیٹھی عمارہ سب سے انجان بیٹھی تھی۔

کسی نے اس کی طرف نہی دیکھا۔

ہر کوئی اپنے آپ کو سنوارنے میں مصروف تھا۔

سب کو اپنی اپنی پڑی تھی۔

عمارہ سب سے الگ ایک کونے میں بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔

وہ یہ بھی بھول چکی تھی وہ کہاں ہے اس وقت۔

سب سے بیگانی بیٹھی وہ آنسو بہاتے ہوئے اپنے ہاتھ کو تک رہی تھی۔

وہی ہاتھ جو اس نے وہاج پر اٹھایا تھا۔

وقت گزرتا گیا۔سب مہمان اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہونے لگے۔

وہ ویسے ہی سب سے بیگانی بیٹھی رہی۔

اچانک کسی نے اس کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا۔

وہ چونک کر پلٹی!

دل میں جس کا خیال تھا وہ سامنے ہو۔

ایسا ضروری تو نہی!

عمارہ۔۔۔بیٹا کہاں تھی تم؟

میں کب سے تمہیں ڈھونڈ رہی تھی۔

تم یہاں چھپ کر بیٹھی ہو۔

وہاج بھی نظر نہی آ رہا مجھے۔۔!

تمہیں پتہ ہے کہاں ہے وہ؟

سامنے پھوپھو کھڑی تھیں وہاج نہی!

عمارہ نا سمجھی سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی۔

وہ بول رہی تھیں۔مگر عمارہ تو سن ہی نہی رہی تھی۔

وہ تو کسی اور ہی دنیا میں گُم لگ رہی تھی۔

عمارہ۔۔۔!

انہوں نے عمارہ کو کندھے سے تھام کر ہلایا۔

عمارہ چونکی!

جی پھوپھو جان۔۔۔؟

آپ کچھ کہہ رہی تھیں؟

عمارہ کیا ہوا ہے تمہیں؟

تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟

وہ فکر مندی سے عمارہ کا ماتھا چھوتے ہوئے بولیں۔

جی پھوپھو میں بلکل ٹھیک ہوں!

سب چلے گئے کیا؟

عمارہ اِردگرد نظر دوڑاتے ہوئے بولی۔

ہاں بیٹا سب چلے گئے ہیں۔

وہاج کی کوئی خبر نہی ہے۔

تم جانتی ہو وہاج کہاں ہے؟

کچھ بتا کر گیا کیا وہ تمہیں؟

نہی پھوپھو جان!

میں نہی جانتی وہاج کہاں ہیں۔وہ مجھے کچھ بھی بتا کر نہی گئے۔

عمارہ نظریں چراتے ہوئے بولی۔

کیا ہوا عمارہ سب خیریت تو ہے ناں بیٹا؟

تمہاری آنکھیں کیوں سرخ ہو رہی ہیں۔

ایسا لگ رہا ہے جیسے تم رو رہی تھی۔

ننہی۔۔۔پھوہھو جان ایسا کچھ نہی ہے۔۔۔دراصل آنکھ میں کچھ چلا گیا تھا۔

بس اسی لیے آنکھوں سے پانی نکل آیا۔

ہم چلیں۔۔۔؟

عمارہ بات پلٹنے ہوئے بولی۔

نہی عمارہ میں جانتی ہوں تم روتی رہی ہو۔

مجھے بتاو بیٹا کیا ہوا ہے؟

کسی نے کچھ کہا ہے کیا؟

بھابی نے تو نہی کچھ کہہ دیا؟

نہی پھوپھو جان!

ایسا کچھ بھی نہی ہے!

کسی نے کچھ نہی کہا مجھ سے’بس مجھے ماما،بابا بہت یاد آ رہے تھے آج۔

بس اسی لیے تھوڑی اداس ہو گئی تھی میں۔اس کے علاوہ اور کوئی بات نہی۔

میری بچی۔۔۔مت رویا کرو۔

میرے ہوتے ہوئے تمہیں اداس ہونے کی کوئی ضرورت نہی ہے۔

وہ عمارہ کا سر اپنے کندھے سے لگاتے ہوئے بولیں۔

عمارہ پھر سے رونے لگی۔

آپ سب کا ہی تو سہارا ہے مجھے!

آپ سب کے بغیر بہت تنہا ہو جاتی ہوں میں۔

ایسا مت سوچا کرو بیٹا تم!

ہم سب ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں۔اور اب تو وہاج بھی واپس آ گیا ہے۔

وہ تمہاری خاطر ہی تو۔۔۔۔!

اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی گاڑی کے ہارن پر وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔

چلو چلتے ہیں تمہارے پھوپھا جی ٹیکسی لے آئے ہیں شاید۔

وہاج تو بتائے بغیر ہی چلا گیا۔

اب ٹیکسی پر ہی واپس جانے پڑے گا ہمیں۔

وہ دونوں باہر کی طرف بڑھ گئیں۔

وہاج کے بابا ان دونوں کا باہر ہی انتظار کر رہے تھے۔

وہ دونوں آ کر گاڑی میں بیٹھ گئیں۔تو ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کر دی۔

گھر پہنچ کر عمارہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

سب اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔

گیارہ بج رہے تھے۔

عمارہ نے ایک نظر سامنے بند وہاج کے کمرے کے بند دروازے پر ڈالی۔

عمارہ بہت ہمت کرتے ہوئے بند دروازے کی طرف بڑھی۔

دروازہ ناک کیا۔۔۔!

مگر کوئی جواب نہی ملا۔

عمارہ نے ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھل گیا۔

عمارہ اندر داخل ہو گئی۔

وہاج کمرے میں نہی تھا۔

عمارہ وہیں سے واپس پلٹ گئی۔

کمرے کا دروازہ بند کیا اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔

کپڑے تبدیل کیے اور سونے کے لیے لیٹ گئی۔

سونے کے لیے لیٹ تو گئی۔مگر نیند کے کوئی آثار نہی تھے آنکھوں میں۔

عمارہ افسوس کے دلدل میں دھنستی جا رہی تھی۔

افسوس اس بات کا ہو رہا تھا کہ اس نے وہاج پر ہاتھ اٹھایا۔

وہاج سچ بول رہا تھا!

یا پھر اسے کوئی غلط فہمی ہوئی تھی۔عمارہ سچ سے انجان تھی۔

جو بھی ہو اسے وہاج پر ہاتھ نہی اٹھانا چاہیے تھا۔

اب وہ اپنی حرکت پر افسوس کر رہی تھی۔

مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔

وہاج جا چکا تھا۔

اسے وہاج پر اتنا تو یقین تھا کہ وہ جھوٹ نہی بول سکتا!

مگر اتنی بڑی بات وہاج نے کیوں کہہ دی عمارہ سمجھ پا رہی تھی۔

وہاج کیا ہو گیا ہے آپ کو؟

کیوں کر رہے ہیں آپ یہ سب؟

کیوں اتنے خود غرض بن رہے ہیں آپ۔۔؟

آپ تو مجھ سے محبت کرتے تھے ناں؟

اب بھی کرتے ہیں!

تو پھر کیوں میرا گھر اجاڑنا چاہتے ہیں آپ؟

کیوں مجھ سے شاہزیب کا نام چھین لینا چاہتے ہیں آپ؟

“قسمت کے فیصلے اللہ کے لکھے ہوتے ہیں’خدا کہ سوا انہیں کوئی نہی مٹا سکتا!

تو پھر کیوں وہاج۔۔؟

“کیوں لڑ رہے ہیں آپ قسمت کے لکھے کے ساتھ!

آپ جانتے ہیں اللہ کی یہی مرضی ہے۔

“ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے نہی بنے”

“ہماری منزل الگ ہے’راستے الگ ہیں،،

تو پھر کیوں آپ غلط راستے پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں؟

“بھول کیوں نہی جاتے آپ مجھے؟

عمارہ انہی سوچوں میں گم تھی کہ اچانک کمرے کا دروازہ ناک ہوا۔

عمارہ ڈوپٹہ سر پر ٹکاتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی۔

دروازہ کھولا تو باہر پھوپھو کھڑی تھیں۔کھانے کی ٹرے اٹھائے وہ مسکراتی ہوئیں کمرے میں داخل ہوئیں۔

میں جانتی تھی تم نے کھانا نہی کھایا ہو گا!

اسی لیے کھانا لے کر آئی ہوں۔

تم اپنا خیال بلکل بھی نہی رکھتی!

دیکھو تو سہی۔۔۔کتنی کمزور ہو گئی ہو۔

عمارہ کا دل تو نہی چاہ رہا تھا کھانا کھانے کو۔مگر پھوپھو کے اتنے پیار اور خلوص سے کھانا لانے پر عمارہ انکار نا کر سکی۔

وہ مسکراتی ہوئی پھوپھو کے ہاتھ سے کھانا کھانے لگی۔

وہ ایسے ہی عمارہ کو کھانا کھلاتی تھیں بچپن میں۔

عمارہ ان کے بھائی کی بہت لاڈوں اور منتوں والی اولاد تھی۔

باقی سب بچوں سے زیادہ عزیز تھی انہیں۔

جس دن عمارہ پیدا ہوئی اسی دن انہوں نے عمارہ کو گود میں لیتے ہوئے اسے اپنی بیٹی بنانے کا عہد کر لیا۔

عمارہ جب اس دنیا میں آئی وہاج اس وقت چار سال کا تھا۔

ماں کی گود میں عمارہ کو دیکھ کر اسے جلن سی محسوس ہونے لگتی۔

وہ کسی نا کسی طرح ماں سے اپنی ناراضگی ظاہر کرتا رہتا۔

کبھی شاہزیب سے جھگڑنے لگتا۔تو کبھی انیسہ کے بال کھینچتا۔

کبھی ولی اور حمزہ کو تنگ کرنے لگتا۔

سارے گھر میں وہاج،وہاج ہو رہی ہوتی۔

وہاج نے یہ کر دیا،وہاج نے وہ کر دیا۔

ولی اور حمزہ دونوں جڑواں تھے۔

یہ دونوں عمارہ سے دو سال بڑے تھے۔

جبکہ وہاج،شاہزیب اور انیسہ تینوں ہم عمر تھے۔

شاہزیب اور انیسہ یہ دونوں بھی جڑواں تھے۔

منیبہ،عمارہ سے ایک سال چھوٹی تھی۔

وہاج کے بابا ان دنوں ملک سے باہر رہتے تھے۔

وہاج کے دادا اور دادی کی دیتھ ہو چکی تھی۔

اسی لیے ان کے لیے اکیلے وہاں رہنا مشکل ہو رہا تھا وہاج کے ساتھ۔

اسی لیے وہ اسلام آباد سے لاہور آ کر رہنے لگیں۔

وہاج جب جب ماں کی گود میں عمارہ کو دیکھتا اپنا غصہ دکھانا شروع کر دیتا۔

مسز احمد مسکرا کر اسے اپنے پاس بٹھا لیتیں۔

وہاج یہ دیکھو یہ ہماری گڑیا ہے۔

کتنی پیاری ہے ناں۔

وہ بہانے بہانے سے وہاج کو مخاطب کرتی رہتیں۔

شروع شروع میں تو وہاج رونا شروع کر دیتا یا پھر کھلونے اٹھا اٹھا کر پھینکنے لگتا۔

مگر آہستہ آہستہ وہ عمارہ سے مانوس ہونے لگا۔

اس کی آنکھیں وہاج کو اچھی لگنے لگیں۔وہ گول گول آنکھیں مٹکا کر وہاج کی توجہ اپنی جانب کھینچنے لگی۔

وہاج سکول سے آتے ہی عمارہ کے پاس چلا جاتا۔

وہ بھی ننھے ننھے قدم اٹھاتی وہاج کی طرف بڑھتی۔

ایک دن وہاج اس گول مٹول سی گڑیا کے ساتھ کھیل رہا تھا۔

مسز احمد مسکراتے ہوئے ان کے پاس آ بیٹھیں۔

ان کو دیکھ کر عمارہ جلدی سے ان کی طرف بڑھی۔

مگر وہاج نے اس کا راستہ روک دیا۔

نہی۔۔۔تم صرف میری گڑیا ہو!

تم کسی اور کے پاس نہی جا سکتی۔

مسز احمد مسکرا دیں۔

انہوں نے مسکراتے ہوئے دونوں کو اپنے سامنے بٹھایا۔

جی وہاج بیٹا یہ آپ کی گڑیا ہے!

آپ کو ہمیشہ اس کے ساتھ رہنا ہے۔اس کا خیال رکھنا ہے۔

پرامس۔۔۔؟

مسز احمد نے وہاج کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا۔

پرامس۔۔۔وہاج نے مسکراتے ہوئے اپنی ماما کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔

عمارہ نے بھی اپنا ننھا ہاتھ وہاج کے ہاتھ پر رکھ دیا۔

وقت اسی طرح تیزی سے گزرتا گیا۔دیکھتے ہی دیکھتے بچے بڑے ہونے لگے۔

جب وہاج آٹھویں جماعت کے پیپرز سے فری ہوا تو اس کے بابا پاکستان واپس آ گئے۔

وہاج کو اپنے گھر واپس جانا پڑا۔

مگر چند دنوں بعد ہی مجبوراً مسز احمد اسے لیے یہاں آ گئیں۔

وہاج کا وہاں دل ہی نہی لگ رہا تھا۔

تو پھر مجبورا انہوں نے یہی لاہور میں ہی وہاج کا دوبارہ داخلہ کروا دیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور عمر بڑھنے کے ساتھ وہاج کو اپنی زندگی میں عمارہ کی اہمیت سمجھ آنے لگی۔

مگر عمارہ اس کی فیلنگز کو سمجھنے سے قاصر تھی ابھی۔

آخر کار ایک دن وہاج نے ہمت کر کے عمارہ سے اپنے دل کی بات کہہ دی۔

اس دن کے بعد عمارہ بدلنے لگی۔

اب وہ وہاج کے سامنے آنے سے کترانے لگی تھی۔

وہاج اس کی ساری حرکتوں سے واقف تھا۔

بس مسکرا کر اگنور کر دیتا۔

عمارہ کے دل میں بھی وہاج کے لیے محبت پیدا ہونے لگی۔

اس کا شرمانا،گھبرانا،سامنے آنے سے کترانا وہاج سے چھپا نہی تھا۔

مگر وہ ابھی کوئی فیصلہ نہی کر سکتا تھا۔

وہ پڑھ کر کسی قابل بننا چاہتا تھا پہلے،اور عمارہ کی بھی پڑھائی مکمل کروانا چاہتا تھا۔

“قسمت کا لکھا کون جانتا تھا!

وہاج نے کہاں سوچا تھا کہ بہت جلد اس کی گڑیا اس سے چھین لی جائے گی۔

وہ تو بہت پرسکون تھا کہ اس کی گڑیا کو کوئی چھین نہی سکتا اس سے۔

عمارہ کے ماما،بابا کی اچانک موت پر عمارہ بکھر کر رہ گئی۔

چند دنوں بعد وہاج اکیڈمی سے واپس آیا تو شاہزیب کے کمرے سے آتی آوازوں پر اس کے قدم رک گئے۔

شاہزیب میری بات مان لو بیٹا!

اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے،ورنہ سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے گا۔

بس نکاح ہی تو کرنا ہے۔

باقی جیسے تمہاری مرضی۔

دل چاہے تو دوسری شادی کر لینا،میں تمہیں نہی روکوں گی۔

ہر حال میں تمہارا ساتھ دوں گی۔

بس تم میری بات مان لو!

نہی ماما۔۔۔میں یہ نہی کر سکتا!

آپ ولی یا حمزہ میں سے کسی سے پوچھ لیں اگر وہ راضی ہوتے ہیں۔

مگر مجھ سے اس کام کی امید بلکل مت رکھنا آپ!

میں ابھی شادی نہی کرنا چاہتا!

شادی اور وہ بھی عمارہ سے!

ایمبوسبل۔۔۔!

یہ شاہزیب کی آواز تھی۔

عمارہ کے نام پر وہاج چونکا!

تو ممانی جان عمارہ اور شاہزیب کی شادی کی بات کر رہی ہیں۔

وہاج کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا!

یہ کیا کہہ رہے ہو تم شاہزیب؟

ممانی جان کی آواز اب غصے سے بھری تھی۔

ولی اور حمزہ چھوٹے ہیں،تم بڑے ہو۔

پہلے تمہاری شادی ہو گی۔اور شادی کی بات نہی کر رہی میں۔

ابھی تو صرف نکاح کی بات کر رہی ہوں!

شادی جب تمہاری مرضی ہو تب کر لینا۔

تم بس نکاح کر لو عمارہ سے!

یہ میرا مسئلہ نہی ہے ماما!

آپ وہاج سے پوچھ لیں۔۔۔۔!

وہاج کر لے عمارہ سے نکاح!

عمارہ کو تخفظ ہی تو دینا ہے تو وہاج کیوں نہی!

ویسے بھی ان دونوں کی آپس میں بہت بنتی ہے۔اچھے لگیں گے دونوں ایک ساتھ۔

خبردار۔۔۔۔۔!

خبردار۔۔۔جو وہاج کا نام لیا تم نے!

عمارہ کا نکاح تم سے ہی ہو گا۔۔۔بھاڑ میں گیا تخفظ!

مجھے اپنی جائیداد کی فکر ہے۔۔۔اور تمہیں تخفظ کی پڑی ہے۔

اگر عمارہ کا نکاح وہاج سے کر دیا تو تہمارے بڑے پاپا کی ساری جائیداد جو اب عمارہ کی ہے وہاج کو مل جائے گی۔

اور میں کسی بھی صورت یہ جائیداد ہاتھ سے جانے نہی دوں گی۔

سن لو تم کان کھول کر۔۔۔!

جتنی جلدی ہو سکے مجھے اپنا فیصلہ بتا دو۔

نہی تو میرے غصے سے تو واقف ہی ہو تم!

وہ غصے سے کمرے سے باہر نکل گئیں۔

وہاج تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔مسز حسن نے پلٹ کر نہی دیکھا۔ورنہ وہ وہاج کو ان کی اور شاہزیب کی باتیں سنتے دیکھ لیتیں۔

وہاج نے اسی وقت اپنی ماما کا نمبر ڈائل کیا اور ان کو ساری بات بتا دی۔

ان کو تو جیسے صدمہ لگا بھابی کی باتیں سُن کر۔

“وہاج تم فکر نہی کرو بیٹا عمارہ کا نکاح تم سے ہی ہو گا۔

میں ابھی بات کرتی ہوں تمہارے بابا سے۔۔۔!

اچھا کیا تم نے بتا دیا مجھے۔

ویسے بھی میں خود ہی بھائی صاحب سے اس بارے میں بات کرنے ہی والی تھی۔

میں نے بچپن سے ہی عمارہ کو تمہارے لیے چن رکھا تھا۔

میں تو بس ابھی گھر کے حالات دیکھ کر مناسب نہی سمجھ رہی تھی بات کرنا۔

مگر تم فکر نہی کرو۔

میں تمہارے بابا کو لے کر جلدی وہاں آوں گی۔

ٹھیک ہے مام۔۔۔آپ جلدی آ جائیں۔

میں کسی بھی حال میں عمارہ کو کھونا نہی چاہتا۔

آپ جلد از جلد عمارہ کا نکاح مجھ سے کروا دیں۔

اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔

وہاج دیوانہ وار بول رہا تھا۔

اس بات سے انجان کہ دروازے کے باہر کوئی اس کی باتیں سن رہا ہے۔

وہ مسز حسن تھیں۔۔۔وہ سکتے سی حالت میں دروازے کے باہر کھڑیں وہاج کی باتیں سن رہی تھیں۔

وہ تیزی سے شاہزیب کے کمرے کی طرف بڑھیں۔

“مام مجھے عمارہ کی جائیداد نہی،بس عمارہ چاہیے”

آپ ممانی جان سے بولیں وہ سب کچھ رکھ لیں!

“بس عمارہ کو مجھ سے دور مت کریں!

وہاج بیٹا پریشان نا ہو میری جان!

ہم ایک دو دن تک آ رہے ہیں وہاں۔

اپنا خیال رکھنا۔

خدا حافظ!

انہوں نے فون بند کر دیا۔

مگر اگلے دن جو ہوا وہاج کبھی سوچ بھی نہی سکتا تھا۔

ولی کا فون آیا وہاج کو!

کہاں ہو یار تم؟

گھر میں شاہزیب بھائی اور عمارہ کا نکاح ہے اور تم گھر پر ہی نہی ہو۔

جلدی پہنچو گھر!

وہاج سکتے میں رہ گیا۔

وہ ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے گھر پہنچا،مگر تب تک نکاح ہو چکا تھا۔

مسز حسن مٹھائی کی پلیٹ اٹھائے وہاج کی طرف بڑھیں۔

یہ لو وہاج مٹھائی کھاو!

عمارہ اور شاہزیب کے نکاح کی!

یہ الفاظ وہاج کی سماعتوں پر کانٹوں کی طرح چُبے۔

مسز حسن اور شاہزیب کے چہرے پر فاتخانہ مسکراہٹ تھی۔

حسن صاحب اپنے کمرے میں جا چکے تھے۔

عمارہ بھی یہاں نہی تھی۔

وہاج سکتے سی کیفیت میں عمارہ کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

“قسمت کا لکھا یہی تھا!

عمارہ وہاج کی قسمت میں نہی تھی۔شاہزیب کی قسمت میں لکھ دیا گیا تھا اس کو۔

وہاج کی گڑیا اس سے چھین لی گئی تھی۔

“مسز احمد عمارہ کو کھانا کھلاتے ہوئے ماضی میں کھو چکی تھیں۔

آخر کار آٹھ سال بعد ان کو پھر سے امید کی ایک کن ملی تھی۔

وہاج آٹھ سال بعد واپس آیا اپنی گڑیا کی خاطر!

اب تم سو جاو آرام سے۔۔۔صبح ملتے ہیں۔

وہ عمارہ کو کھانا کھلا کر برتن سمیٹتے ہوئے چل پڑیں۔

عمارہ مسکراتے ہوئے دروازہ بند کرتے ہوئے سونے کے لیے لیٹ گئی۔

کچھ دیر بعد اچانک سے عمارہ کو سر میں شدید قسم کا درد شروع ہو گیا۔

عمارہ کا دل گھبرانے سا لگا۔

وہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔

اس کا رخ کچن کی جانب تھا،تا کہ دوائی کھا سکے۔

اچانک اس کے کانوں میں فون کی رنگ ٹون کی آواز گونجی۔

کچن کے ساتھ بنے ڈرائینگ روم سے آ رہی تھی وہ آواز۔

عمارہ تیزی سے ڈرائینگ روم کی طرف بڑھی۔

سامنے صوفے پر پڑا پھوپھو کا فون بج رہا تھا۔

عمارہ صبح فون یہیں پر بھول گئی تھی وہاج سے بات کرنے کے بعد۔

عمارہ نے فون دیکھا تو وہاج کا نام جگمگا رہا تھا۔

عمارہ نے ڈرتے ڈرتے کال رسیو کر کے فون کان سے لگا لیا۔

ہیلو۔۔!

آواز پر عمارہ چونکی!

یہ آواز وہاج کی نہی تھی۔

جی آپ کون؟

عمارہ گھبراتے ہوئے بولی۔

میم یہ جن کا فون ہے ان کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے بہت بری طرح۔

گاڑی درخت سے ٹکرائی ہے۔

ان صاحب کو سر پر چوٹ لگی ہے۔

ان کو ہاسپٹل پہنچا دیا گیا ہے۔ان کی حالت بہت زیادہ خراب ہے۔

آپ اپنے گھر والوں کو بتا دیں۔

ہیلو۔۔۔میم آپ سن رہی ہیں؟

عمارہ سکتے میں آ چکی تھی۔

وہاج کا ایکسیڈنٹ!

نہِ۔۔۔اس نے سر نفی میں ہلایا۔

صوفے پر گر سی گئی۔فون اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر جا گرا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *