Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kismat Ka Likha (Episode 01)

Kismat Ka Likha by Khanzadi

رنگ برنگی روشنیوں سے جمگ مگ روشن گھر،گارڈن میں لگے پھول،درخت بھی روشنیوں میں نہائے ہوئے تھے آج۔

حسن ہاوس میں آج خوشی کا ماحول چھایا ہوا تھا۔

آج اس گھر کی بڑی بیٹی انیسہ کی مہندی کا فنکشن ہے۔ہر طرف خوشی کا ماحول چھایا ہوا ہے۔

ہر طرف ہنستے مسکراتے چہرے،ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے دولہے کے دوست۔

ڈھولک کی تھاپ پر گیت گنگاتی ہنستی مسکراتی لڑکیاں ہر طرف خوشی کا ماحول چھایا ہوا تھا۔

سٹیج پر دُلہا اور دُلہن کی رسمِِِ حنا جاری تھی۔

اچانک سے ساری لائیٹس بند ہو گئیں۔

ہر طرف گہما گہمی ہو گئی۔

لائٹ کیوں چلی گئی؟

کوئی جنریٹر چلاو بھئی’ہر طرف سے ایسی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔

اچانک داخلی راستے کی طرف روشنی ہوئی کوئی دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا اندر کی طرف بڑھا۔

سب کی نظریں اسی طرف جم گئیں۔

مہرون پینٹ کوٹ،وائٹ شرٹ،اور مہرون لیدر کے شوز پہنے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ سجائے وہ آگے بڑھ رہا تھا۔

وہاج۔۔۔۔!!

منیبہ چلائی۔۔۔!

یاہو۔۔سب کزنز نے ایک ساتھ یاہو کا نعرہ لگایا بلند آواز میں۔

لائٹس پھر سے روشن ہو گئیں۔

یہ آئیڈیا حمزہ اور ولی تھا۔

بس وہ دونوں ہی جانتے تھے کہ وہاج آ رہا ہے۔

تھینکس بڈیز”

وہاج ولی کے اور حمزہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بولا۔

تیرے شکریہ کی کوئی ضرورت نہی ہے ہمیں’آٹھ سال بعد واپس آئے ہو تم۔

اتنا تو کر ہی سکتے ہیں ہم۔جواب حمزہ کی طرف سے آیا۔

وہاج سب سے باری باری ملنے لگے۔

منیبہ بے باقی سے وہاج کے گلے لگ گئی۔

وہاج حیرت سے بس اس کی حرکت کو دیکھتا رہ گیا۔

بھائیوں کے سامنے ہی اس نے یہ حرکت کر ڈالی۔

سلیولیس میکسی پہنے،میک سے تر چہرہ وہاج کو شدید الجھن ہونے لگی منیبہ کے اس حلیے سے۔

واوو۔۔۔واٹ آ سرپرائز وہاج۔

تم نے بتایا ہی نہی کہ تم آنے والے ہو،

اگر تم بتا دیتے تو بہت اچھا سا ویلکم کرتے ہم تمہارا۔

منیبہ ایک ادا سے اپنے چہرے پر آئے بال پیچھے جھٹکتے ہوئے بولی۔

وہاج اس کی بات کا کوئی جواب نہی دیا۔

ماموں جان سے مل کر آتا ہوں میں’وہاج بہانا بناتے ہوئے وہاں سے چل پڑا۔

وہاج خوش اخلاقی سے سب سے ملنے لگا۔

احمد صاحب کے گلے لگتے ہی اپنی ماما کا پوچھنے لگا۔

ماموں جان مام کدھر ہیں؟

وہ اندر گئی ہے شاید جاو مل لو جا کر!

انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

وہاج اِدھر اُدھر دیکھنے لگا’

اس کی نظریں جس چہرے کی تلاش میں تھیں وہ اسے کہی نظر نہی آئی۔

وہ سر جھٹکتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گیا۔

آٹھ سال بعد اس گھر میں واپس آیا تھا وہ’سب بہت خوش تھے اس کے آنے سے۔

مگر جس کے لیے وہ واپس آیا تھا وہ اسے کہی دکھائی نہی دے رہی تھی۔

وہ اندرونی حصے کی جانب بڑھا تو اس کی نظر ممانی پر پڑی۔

اسلام و علیکم ممانی جان!

وہاج کی آواز پر وہ پلٹی اور ساکت رہ گئیں۔

ان کو یقین نہی آ رہا تھا کہ ان کے سامنے وہاج کھڑا ہوا۔

وعلیکم اسلام۔۔۔وہ گھبرا چکی تھیں۔

وہاج بیٹا تم اچانک یہاں اتنے سال بعد!

وہ بول رہی تھیں اور آواز میں لڑکھراہٹ واضح تھی۔

کیا ہوا ممانی جان آپ کو میرا آنا اچھا نہی لگا کیا؟

وہاج کے چہرے کی مسکراہٹ پل بھر میں غائب ہوئی۔

ننہی۔۔وہاج میں تو بہت خوش ہوں تمہیں دوبارہ واپس دیکھ کر’وہ وہاج کا کندھا تھپکتے ہوئے بولیں۔

وہاج مسکرا دیا۔

وہاج۔۔۔!

وہاج کی ماما سیڑھیاں اترتے ہوئے حیران ہوئیں وہاج کو سامنے دیکھ کر۔

وہاج مسکراتے ہوئے ان کی طرف بڑھا۔

وہ تیزی سے نیچے اتریں۔

وہاج کو گلے سے لگا لیا۔

میرا بچہ”

وہاج کا ماتھا چومتے ہوئے بولیں۔

وہاج نے بھی مسکراتے ہوئے ان کے ہاتھ چوم لیے۔

بہت یاد کرتا تھا آپ کو ترس گیا تھا اس لمس کے لیے۔

وہاج ماں کے ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگاتے ہوئے بولا۔

اب آپ کا بچہ ایک ہنڈسم بوائے بن چکا ہے مام اب تو بچہ نا بولا کریں۔

وہاج مسکراتے ہوئے بولا تو وہ بھی مسکرا دیں۔

اب آپ کو چھوڑ کر کہیں نہی جانے والا میں”آئی پرامس۔

وہاج ماں کی آنکھوں کی نمی صاف کرتے ہوئے بولا۔

اچھا آ جاو اب سب باہر انتظار کر رہے ہو گے وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔

ڈیڈ نہی آئے؟

وہاج کے سوال پر ان کے باہر کی طرف بڑھتے قدم رکے۔

نہی وہ گھر پر ہی ہیں کل تک آ جائیں گے۔

ٹھیک ہے آپ چلیں میں آتا ہوں ڈیڈ سے بات کر لوں۔

ٹھیک ہے کر لو بات!

جلدی آ جانا باہر۔۔وہ مسکراتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گئیں۔

وہاج فون کان سے لگاتے ہوئے ڈرائینگ روم کی طرف بڑھ گیا۔

عمارہ۔۔۔!

اے لڑکی کہاں رہ گئی ہو؟

ایک تو یہ لڑکی کوئی بھی کام ٹھیک سے نہی کرتی۔

جہاں بیٹھ جائے وہی کی ہو کر رہ جاتی ہے۔

عمارہ۔۔!

جیسے ہی وہاج ڈرائنگ روم سے باہر نکلا ممانی کو عمارہ کا نام لے کر چلاتے ہوئے سُنا۔

آخر کار وہ جب بول بول کر تھک گئیں تو باہر کی طرف بڑھ گئیں۔

وہاج سامنے لگے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔ممانی جان کا رویہ آج بھی ویسے کا ویسا ہے عمارہ کے لیے وہاج کو یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔

وہ انہی سوچوں میں گُم بیٹھا تھا جب اس کی نظر سیڑھیوں سے نیچے آتی عمارہ پر پڑی۔

پنک اور اونج گولڈن ستاروں سے سجا لہنگا پہنے،ماتھے پر بندیا سجائے،بالوں کو ایک سائیڈ سے آگے کندھے پر ڈالے۔

ایک ہاتھ سے اپنا لہنگا سنبھالے اور دوسرے ہاتھ سے پلیٹ سنبھالے نظریں جھکائے سیڑھیاں اترتی آ رہی تھی۔

وہاج بس وہیں بیٹھے اسے دیکھتا رہ گیا۔

آٹھ سال پہلے جب وہ یہاں سے گیا تھا تب عمارہ ایسی بلکل بھی نہی تھی۔

وہ ایسے ہیوی کپڑے اور میک اپ،جیولری بلکل پسند نہی کرتی تھی۔

لیکن اب وہ پہلے والی عمارہ نہی رہی تھی جو سکول یونیفارم میں گھبرائی ہوئی سکول سے واپس آتی تھی۔

وہاج بھائی۔پلیز یہ سوال حل کروا دیں۔

پلیزمیری ہیلپ کر دیں۔

اور وہاج کا اسے غصے سے گھورنا۔

عمارہ مجھے بھائی مت بولا کرو!

بھائی نہی ہوں میں تمہارا!

تو کیا لگتے ہیں آپ میرے؟

اب بھائی کو بھائی نہی بولوں گی تو اور کیا بولوں گی۔

عمارہ چڑ جاتی۔

بس وہاج بولا کرو تم!

آپ مجھ سے پورے تین سال بڑے ہیں۔

میں میٹرک میں ہوں اور آپ سیکنڈ ائیر میں’

آپ بڑے ہیں مجھ سے آپ کو وہاج نہی کہہ سکتی میں۔

تو پھر ٹھیک ہے جاو یہاں سے میں بھی تمہاری مدد نہی کروانے والا۔

لیکن کیوں وہاج بھائی؟

میں آپ کو بھائی کیوں نہی بول سکتی؟

یہ تمہیں سہی وقت آنے پر پتہ چلا جائے گا۔

ابھی لاو سمجھا دوں تمہیں۔۔لیکن!

یہ لاسٹ ٹائم ہے۔دوبارہ اگر مجھے بھائی بولا تو میں کبھی تمہاری مدد نہی کروں گا۔

تھینک یو۔۔عمارہ جلدی سے رجسٹر وہاج کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی۔

سارے سوال سمجھنے کے بعد رجسٹر بیگ میں رکھا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگی۔پھر رُک گئی۔

تھینکس وہاج۔۔بھائی!

وہاج کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلی ہی تھی عمارہ کے وہاج کہنے پر لیکن اگلے ہی پل وہ مسکراہٹ غائب ہو گئی اس کے منہ سے پھر سے بھائی سُن کر۔

عمارہ ہنسے ہوئے اپنے کمرے میں بھاگ گئی۔

وہاج کے ہونٹوں پر آج بھی وہی مسکراہٹ پھیل گئی۔

عمارہ باہر کی طرف بڑھ گئی۔

اچانک وہ رُکی’

وہاج کی طرف پلٹی اور اس کے ہاتھ سے پلیٹ گرتے گرتے بچی۔

وہاج۔۔۔!

بے ساختہ اس کے ہونٹوں پر وہاج کا نام آیا۔

شاید وہ یہاں سے گزرتے ہوئے وہاج کی خود پر جمی نظروں کو محسوس کر گئ۔

اسی لیے اس کے قدم رک گئے۔

وہ پلٹے بنا نا رہ سکی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *