Kismat Ka Likha by Khanzadi NovelR50493 Kismat Ka Likha (Episode 02)
Rate this Novel
Kismat Ka Likha (Episode 02)
Kismat Ka Likha by Khanzadi
وہاج مسکراتے ہوئے عمارہ کے سامنے آ رُکا۔
جی وہاج ہی ہوں!
میرا نام یاد ہے عمارہ حسین کو یہ جان کر بہت خوشی ہوئی مجھے۔
اوہ سوری!
عمارہ حسین نہی۔۔۔عمارہ شاہزیب!
وہاج ایک ایک لفظ نفرت سے بول رہا تھا۔
ویسے آئے نہی آپ کے شوہرِ نامدار؟
آج بھی نہی بدلے آپ ویسے کے ویسے ہی ہیں۔
جیسے آٹھ سال پہلے یہاں سے گئے تھے۔
“میں تو سمجھی تھی آپ بہت بدل چکے ہو گے۔
لیکن نہی آپ بس ظاہری طور پر سب کو یہ دیکھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آپ بدل چکے ہیں۔
مگر اندر سے آپ آج وہی آٹھ سال پہلے والے وہاج ہی ہیں،
خوشی ہوئی آپ کو ایک لمبے عرصے بعد دوبارہ سامنے دیکھ کر۔
اوہ رئیلی؟
وہاج بھنویں اچکاتے ہوئے بولا۔
جیسے تصدیق کرنا چاہتا ہو عمارہ کی بات کی۔
میں چلتی ہوں مجھے دیر ہو رہی ہے چچی جان بلا رہی تھیں مجھے۔
عمارہ رکو!
وہاج اس کا راستہ روکے سامنے جا رکا۔
بات کو پلٹنے کی کوشش مت کرو!
جو پوچھا ہے اس کا جواب دو!
شاہزیب کہاں ہے؟
وہ نہی آئے۔۔۔عمارہ نے مختصر جواب دیا۔
کیوں؟
کیوں نہی آیا؟
میں نہی جانتی!
شاید کل تک آ جائیں۔
“کیوں نہی جانتی تم عمارہ؟
“تمہارا شوہر ہے وہ’
اس کے بارے میں سب کچھ پتہ ہونا چاہیے تمہیں۔
تمہارا اس سے رابطہ بھی ہے یا نہی؟
وہاج کی بات پر عمارہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
ننہی۔۔ایسی بات نہی ہے۔
وہ بہت مصروف رہتے ہیں بس اسی لیے نہی آ سکے شاید۔
آپ چچی جان سے کیوں نہی پوچھ لیتے!
مجھے تم سے جاننا ہے سب کچھ عمارہ!
“تمہاری ضد کی وجہ سے دو زندگیاں برباد ہو گئیں اور تم آج بھی اسی ضد پر قائم ہو۔
یہ ضد چھوڑ کیوں نہی دیتی تم؟
مان جاو کہ تمہارا فیصلہ غلط تھا۔
“عمارہ میں آٹھ سال پہلے بھی تمہاری خاطر یہاں سے گیا تھا۔
آج آٹھ سال بعد بھی تمہارے لیے ہی واپس آیا ہوں،،
“ضد پر میں نہی آپ اٹکے ہوئے ہیں۔
وقت آگے بڑھ چکا ہے۔
آپ نے مجھے اپنی ضد بنا لیا ہے بس’
کسی بھی حال میں مجھے حاصل کرنا چاہتے ہیں آپ!
“عمارہ میں تمہیں حاصل نہی کرنا چاہتا میں تو بس!
تم یہاں کھڑی ہو!
میں کب سے تمہارا باہر انتظار کر رہی ہوں۔
مسز حسن کی آواز پر وہاج بولتے بولتے رک گیا۔
جی چچی جان میں بس آ ہی رہی تھی!
عمارہ ڈرتے ڈرتے بولی۔
وہاج کو بہت افسوس ہوا عمارہ کا گھبراہٹ بھرا لہجہ دیکھ کر۔
چلو پھر یہاں کیوں کھڑی ہو؟
تم بھی چلو وہاج!
نہی ممانی جان میری طبیعت کچھ ٹھیک نہی ہے۔
میں آرام کرنا چاہتا ہوں۔
کیا ہوا بیٹا زیادہ طبیعت خراب ہے تو ڈاکٹر کو بلوا لوں؟
نہی ممانی جان بس زرا سا سر میں درد ہے سفر کی تھکان کی وجہ سے آرام کروں گا تو اچھا محسوس کروں گا۔
ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی جاو اپنے کمرے میں آرام کر لو۔
جی۔۔۔وہاج سر جھٹکتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
تم بھی چلو ابھی تک یہی کھڑی ہو وہ گم سم سی کھڑی عمارہ کو دیکھتے ہوئے بولیں۔
عمارہ جلدی سے باہر کی طرف بڑھ گئی۔
وہاج اپنے کمرے میں آیا تو اس کی حیرت کی انتہا نا رہی۔
یہ کمرہ آج بھی ویسے کا ویسا ہی تھا جیسا وہ آٹھ سال پہلے چھوڑ کر گیا تھا۔
ہر چیز کی ترتیب پہلے جیسی ہی تھی۔
جیسے کسی نے بہت نفاست سے اس کمرے کی ایک ایک چیز کو سنبھال کر رکھا۔
عمارہ۔۔میں جانتا ہوں یہ تم ہی کر سکتی ہو۔
وہاج لمبی سانس لیتے ہوئے بیڈ پر گر سا گیا۔
عمارہ آخر کب تک مجھ سے پیچھا چھڑواتی رہو گی۔
ایک طرف کہتی ہو مجھ سے محبت نہی کرتی اور دوسری طرف اپنی محبت یوں لٹاتی ہو۔
بس اب اور نہی۔۔۔!
“اس شاہزیب نام کی آگ میں مزید جھلسنے نہی دوں گا میں تمہیں۔
اب یہ قصہ ہی ختم کر دوں گا میں!
“مجھے حالات سے پیچھا نہی چھڑانا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہو گا”
وہاج تیزی سے اٹھ کر نیچے کی طرف بڑھ گیا۔
وہاج نیچے آیا تو اپنی ماما کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔
“وہ دشمنِ جان بھی وہیں بیٹھی تھی۔
وہاج کو اپنے ساتھ والی کرسی پر بیٹھتے دیکھا تو وہاں سے اٹھ کر مہمانوں سے ملنے لگی۔
وہاج بس اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہ گیا۔
وہاج کی امی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
وہاج مسکرا دیا۔
تم فکر مت کرو میں ہوں اپنے بیٹے کے ساتھ!
ان کی تسلی پر وہاج مسکرا دیا۔
یہ آپ کی تسلیاں ہی ہیں جو مجھ میں واپس آنے کی ہمت پیدا ہو سکی ہے۔
ورنہ میں تو ہمت ہار چکا تھا۔
ماں کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے بولا۔
انہوں نے پیار سے بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
یار تم یہاں بیٹھے ہو میں تمہیں اندر ڈھونڈنے گیا ہوا تھا۔
حمزہ وہاج کے پاس آ کھڑا ہوا۔
کیوں مجھے کیوں ڈھونڈ رہے تھے تم؟
وہاج مسکراتے ہوئے بولا۔
وہ اس لیے کہ سارے فرینڈز تمہارا انتظار کر رہے ہو جلدی چلو۔
حمزہ اسے بازو سے کھینچتے ہوئے بولا۔
اچھا چلو یار ایک تو تم اور تمہارے دوست!
صرف تمہارے نہی ہمارے دوست!
حمزہ نے سامنے ٹیبل کی طرف اشارہ کیا۔جہاں سب دوست بیٹھے تھے۔
سامنے فائز اور قاسم کو بیٹھے دیکھ کر وہاج کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نا رہا۔
وہ دونوں تیزی سے وہاج کی طرف بڑھے اور ایک ساتھ اس کے گلے لگ گئے۔
بیتے لمحوں کی یادیں پھر سے تازہ ہونے لگیں۔
اب بس بھی کر دو تم لوگ بچوں کی طرح رونے لگے ہو کیا؟
حمزہ ان کو الگ کرتے ہوئے بولا۔
تینوں مسکرا دئیے۔
یقین نہی آ رہا وہاج تم ہمارے سامنے ہو’قاسم وہاج سے پھر سے گلے لگتے ہوئے بولا۔
ہاں ویسے تصویروں میں تو دیکھتے ہی رہتے تھے مگر حقیقت می۔ دیکھنے کی بات ہی الگ ہے۔
ہم اپنی خوشی الفاظوں میں بیان نہی کر سکتے فائز بھی مسکراتے ہوئے بولا۔
میں نے بھی بہت یاد کیا تم سب کو۔
آو بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔
چاروں ٹیبل کی طرف بڑھ گئے۔
ویسا تم نے اچھا نہی کیا وہاج!
کم ازکم آنے سے پہلے ہمیں بتا دو دیتے ایک اچھی سی سرپرائزڈ پارٹی ارینج کرتے ہم تمہارے لیے۔
قاسم ناراض ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا۔
ہاں ہم سب ناراض ہیں تم سے!
جب ائیر پورٹ پہنچ گئے تب جا کر فون کیا ہے مجھے اس نے کہ مجھے آ کر یہاں سے لے جاو۔
حمزہ نے بھی اُن کی ہاں میں ہاں ملائی۔
اچھا بڈیز رئیلی سوری میں بس سب کو سرپرائزڈ کرنا چاہتا تھا۔
جو خوشی اب تم سب کے چہروں پر دیکھنے کو مل رہی ہے۔اگر میں بتا کر آتا تو یہ کہاں نصیب ہونی تھی مجھے۔
تجھ سے باتوں میں نہی جیت سکتے ہم’
ہر بات کا جواب تیار رہتا ہے تمہارے پاس۔۔۔چاروں ہنس دئیے۔
اور پارٹی کا کیا ہے ہم کبھی بھی کر لیں گے۔
اب میں ہمیشہ کے لیے واپس آ گیا ہوں۔
جب دل چاہے دیتے رہنا پارٹی تم لوگ۔
وہاج نے مسکراتے ہوئے اپنی بات مکمل کی۔
سب کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔
مہندی کا فنکشن اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا۔
مہمان آہستہ آہستہ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہونے لگے۔
دلہے والے بھی رخصت ہو گئے کچھ دیر بعد۔
بس اب مسز حسن کے بھائی اور بہنوں کی فیملیز تھیں یہاں۔
بس سارے کزنز مل کر ہلا گلا کر رہے تھے اب۔
لیڈیز اور مرد حضرات کمروں میں آرام کرنے جا چکے تھے۔
منیبہ اپنی کزنز کے ساتھ سٹیج کی شان بنی ہوئی تھی۔
کوئی روکنے ٹوکنے والا نہی تھا یہاں۔
وہاج بہت حیران تھا یہ سب کچھ دیکھ کر ماموں نے کبھی اپنی بیٹیوں پر کسی قسم کی پابندی نہی لگائی۔
اور دوسری طرف عمارہ تھی وہ بھی تو اسی گھر میں پلی بڑھی تھی پھر وہ ان سب سے کیوں الگ ہے۔
وہ ان جیسی بولڈ کیوں نہی ہے۔
وہ اس لیے کہ اس کی تربیت ہی ایسی کی گئی تھی بچپن سے۔
“اولاد کی عادتیں تربیتوں کی پہچان کروا دیتی ہیں۔
وہاج نے ادھر اُدھر نظر دوڑائی مگر عمارہ اسے کہیں نظر دوڑائی مگر عمارہ اسے کہیں نظر نہی آئی۔
اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
وہ اندر جا چکی تھی۔
وہاج بھی سب کو الوداع کہتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گیا۔
کمرے میں گیا تو ٹیبل پر کھانا پڑا ہوا نظر آیا اسے اور ساتھ میں پین کلر بھی۔
اچھا۔۔۔تو میری فکر ہو رہی ہے جناب کو!
وہاج کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
وہاج نے کپڑے نکالنے کے لیے جیسے ہی اپنا بیگ کھولا حیران رہ گیا۔
سارا بیگ خالی تھا۔اس نے بیگ کو اچھی طرح الٹ پلٹ کر دیکھا کہ شاید غلطی سے کسی اور کا بیگ تو نہی لے آیا۔
مگر نہی وہ بیگ اسی کا تھا۔
وہاج نے الماری کھول کر دیکھی تو مسکرا دیا۔
اس کے سارے کپڑے سلیقے سے الماری میں رکھے ہوئے تھے۔
“یہ لڑکی پاگل کر دے گی مجھے”
وہاج مسکراتے ہوئے ٹراوزر اور ٹی شرٹ نکالتے ہوئے فریش ہونے چلا گیا۔
باہر کا کر کھانا کھایا اور ٹیبلیٹ کھا کر سونے کے لیے لیٹ گیا۔
کمرے کی لائٹ بند کر کے لیمپ آن کر دیا اس نے۔
کمرے میں اب ہلکی سی روشنی تھی۔
کچھ دیر بعد اسے کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز پڑی وہاج کے کانوں میں۔
وہ جاگ رہا تھا مگر بازو آنکھوں کے اوپر رکھے سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی سونے کی ایکٹنگ کرنے لگا۔
عمارہ چپ چاپ بنا کوئی شور پیدا کیے کمرے میں داخل ہوئی اور برتن اٹھا کر باہر کی طرف بڑھ گئی۔
وہاج اس کے کمرے سے جاتے ہی اٹھ کر بیٹھ گیا۔
عمارہ تم جتنا چاہے دور بھاگ لو مجھ سے مگر میں سب جانتا ہوں تمہیں میری کتنی فکر ہے۔
ایک بار یہ شادی ختم ہو جائے پھر سب ٹھیک کر دوں گا۔
وہ مسکراتے ہوئے سونے کے لیے لیٹ گیا۔
اگلی صبح وہاج نماز پڑھ کر گھر واپس آیا تو پورے گھر میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔
وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھنے ہی لگا تھا کہ دور کرسی پر بیٹھی عمارہ نظر آ گئی اسے۔
سفید چادر اچھی طرح چہرے کے اردگرد لپٹے ہوئے۔ایسے لگ رہا تھا جیسے ابھی نماز پڑھ کر آئی ہو۔
اس کا میک اپ سے پاک روشن مسکراتا چہرہ وہاج کے قدم خودبخود اس کی طرف بڑھنے لگے۔
اسلام و علیکم!
وہاج اچانک سے اس کے سامنے جا رکا۔
عمارہ چونک گئی۔
آپ۔۔؟
میرا مطلب آپ اتنی جلدی اٹھ گئے۔
مجھے تو لگا تھا آپ کو دیر تک جاگنے کی عادت ہے۔
وہاج سفید شلوار قمیض پہنے قمیض کے بازو فولڈ کیے ہوئے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ سجائے عمارہ کے سامنے کرسی کھینچتے ہوئے بیٹھ گیا۔
عمارہ اس کی مسکراتی آنکھوں کا سامنا نا کر سکی وہ نظریں جھکا گئی۔
وہ سمجھ گئی وہاج نماز پڑھ کر آیا ہے۔
وہاج کی نظر اس کی گود میں بیٹھے خرگوش پر پڑی۔
تم ابھی تک خرگوش کے ساتھ کھیلتی ہو!
ابھی تک یہ عادت نہی بدلی تمہاری۔
وہاج نے اس کے ہاتھ سے خرگوش لے کر اٹھا لیا۔سو سویٹ۔
خرگوش کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔
جی۔۔عمارہ نے مختصر جواب دیا۔
کچھ عادتیں زندگی بھر نہی بدلتی۔
جیسے آپ آج بھی سفید شلوار قمیض میں نماز پڑھتے ہیں۔
آپ کی یہ عادت ابھی تک نہی بدلی۔
“جیسا کہ تم میرا آج بھی اتنا ہی خیال رکھتی ہو جتنا آٹھ سال پہلے رکھتی تھی۔
“آٹھ سال گزرنے کے باوجود تم نے میرے کمرے کی ایک بھی چیز اِدھر سے اُدھر نہی ہلنے دی۔
میری ہر ایک چیز کو سنبھال کر رکھا۔
“ایسا تو ایک بیوی ہی کر سکتی ہے اپنے شوہر کے لیے”
عمارہ کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑنے لگا۔
اس نے سوچا نہی تھا کہ وہاج ہر ایک چیز کو اتنی باریکی سے نوٹ کرے گا۔
عمارہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
بس کر دیں وہاج!
اب آپ حد سے گزر رہے ہیں۔
“میں شاہزیب کی منکوحہ ہوں”
آپ شاید یہ بات بھول رہے ہیں۔۔مگر میں آپ کو یاد کروا دوں کہ میرا نکاح شاہزیب سے ہو چکا ہے آٹھ سال پہلے۔
“ایک زبردستی کا نکاح!
وہاج نے عمارہ کو ٹوکا۔وہ خرگوش کو زمین پر آزاد کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
“ایک زبردستی کا بندھن جس میں تم آٹھ سال پہلے بندھی تھی۔
جو میرے گلے کا پھندا بن گیا۔
“میری محبت کو پاوں تلے روند کر تم اس بندھن میں بندھ گئی۔
“کیا مل گیا تمہیں بھی اس زبردستی کے بندھن سے؟
بس دکھ ہی تو ملے ہیں!
نا عزت ملی نا اپنائیت۔
بس عمارہ اب اور نہی!
اس زبردستی کے رشتے کو ختم کر دو اب!
“یہ میری زندگی ہے وہاج احمد!
“آپ ہوتے کون ہیں میری زندگی کے فیصلے کرنے والے”
ایک لمحے میں عمارہ وہاج کو اس کی حیثیت باور کروا گئی۔
“سہی کہا تم نے!
“یہ بات مجھ سے پوچھنے کی بجائے اپنے آپ سے پوچھو ‘جواب مل جائے گا تمہیں۔
تمہاری زندگی میں میری کیا اہمیت ہے یہ میں کل رات اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں۔
وہ سب بس انسانیت کے ناطے کیا میں نے۔۔
بس کر دو عمارہ!
وہاج نے اسے مزید بولنے سے روکا۔
“آپ کو جو سمجھنا ہے سمجھتے رہیں مجھے کوئی فرق نہی پڑتا”
ٰعمارہ تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گئی۔
“تمہیں فرق پڑتا ہے عمارہ اور یہ بات بہت جلد ثابت کروں گا میں۔
وہاج بھی اندر کی طرف بڑھ گیا۔
(جاری ہے)
