Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kismat Ka Likha (Episode 06)

Kismat Ka Likha by Khanzadi

وہاج کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے کھڑکی کے پاس جا رکا۔

وہ اپنی ہی سوچوں میں گم کھڑا تھا کہ اچانک اس کی نظر کھڑکی کے شیشے پر پڑی۔

شیشے پر ابھرتا عکس دیکھ کر وہاج کی رگیں تن گئیں غصے سے۔

وہ غصے سے واپس پلٹا اور ایک زور دار تھپڑ منیبہ کے گال پر مارا۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس حلیے میں میرے کمرے میں آنے کی اور وہ بھی رات کے اس وقت؟

منیبہ گال پر ہاتھ رکھے ساکن سی کھڑی تھی۔

وہاج اس پر ہاتھ اٹھائے گا ایسا اس نے کبھی سوچا بھی نہی تھا۔

وہ نائٹ ڈریس میں ملبوس وہاج کے سامنے کھڑی تھی۔

وہاج کی نظر اس کے چہرے پر ہی جمی رہی۔۔وہ غصے اور حقارت سے منیبہ کو گھور رہا تھا۔

دفع ہو جاو میرے کمرے سے!

وہاج غصے سے بولتے ہوئے واپس کھڑکی کی طرف پلٹ گیا۔

منیبہ غصے سے وہاج کی طرف بڑھی۔

عمارہ کو تو کبھی منع نہی کیا تم نے اپنے کمرے میں آنے سے!

وہ جب چاہے تمہارے کمرے میں آ سکتی ہے۔

میں کیوں نہی وہاج؟

منیبہ غصے سے چلائی۔

اپنی آواز بند رکھو منیبہ!

دفعہ ہو جاو ابھی اس وقت یہاں سے!

تمہیں تو اپنی عزت کی پرواہ نہی ہے۔مگر مجھے اپنی عزت بہت پیاری ہے۔

وہاج اس کی طرف بنا پلٹے بولا۔

رہی بات عمارہ کی!

“تو ایک بات میں تمہیں صاف صاف بتا دیتا ہوں آج۔

“عمارہ میری بچپن کی محبت ہے”

“جب سے ہوش سنبھالا ہے بس عمارہ کو چاہا ہے میں نے اور آج بھی چاہتا ہوں۔

ممانی جان اورتمہارے دی گریٹ شاہزیب بھائی نے مل کر عمارہ کو مجھ سے دور کیا ہے۔

صرف اور صرف اپنے مفاد کی خاطر!

اپنے مفاد کی خاطر انہوں نے عمارہ کا نکاح کروا دیا شاہزیب سے۔

“یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں عمارہ سے محبت کرتا ہوں۔

دھوکے بازی اور جھوٹ کا سہارا لے کر انہوں نے میری اور عمارہ کی زندگی کے آٹھ برس برباد کر دئیے۔

مگر اب اور نہی!

اب میں خاموش نہی رہوں گا۔

“اپنی محبت کے لیے جنگ لڑوں گا میں!

“پھر چاہے اس کے لیے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے ۔۔۔کچھ بھی۔۔!

میں اپنے ارادوں سے اب پیچھے نہی ہٹنے والا”

اوہ۔۔۔چچچچچ۔۔سو سیڈ!

تم چاہے جو مرضی کر لو عمارہ تمہاری نہی ہو سکتی۔

عمارہ میرے شاہزیب بھائی کے نکاح میں ہے۔

جب تک شاہزیب بھائی اسے طلاق نہی دیں گے تب تک تم اس سے شادی نہی کر سکتے۔

اور شاہزیب بھائی عمارہ کو کبھی طلاق نہی دینے والے۔

بہت افسوس ہو رہا ہے مجھے تمہارے لیے وہاج!

منیبہ۔۔۔جھوٹے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔

فکر مت کرو!

میں ہوں نا تمہارے ساتھ!

تم مجھ سے شادی کر لو۔۔۔!

عمارہ کو بھول جاو!

وہاج غصے سے منیبہ کی طرف پلٹا۔

لگتا ہے پہلے والے تھپڑ کا اثر ختم ہو چکا ہے اور خوراک چاہیے تمہیں۔

“تم جیسی پھول پھول پر منڈلانے والی تتلیاں گھر بسانے کے لائق نہی ہوتیں۔

اور رہی بات شاہزیب کے طلاق دینے کی۔۔۔تو اس سے نمٹنے کا طریقہ ہے میرے پاس!

تم اپنے کام سے کام رکھو اور چلتی بنو یہاں سے۔

اوہ۔۔۔وہاج تم کب سمجھو گے۔

منیبہ وہاج کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے بولی۔

وہاج نے غصے سے منیبہ کو بازو الگ کرنے کے لیے اس کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔

عمارہ دھنگ سی دروازے میں کھڑی دونوں کو دیکھتی رہ گئی۔

آئی ایم سوری!

عمارہ نے منہ دوسری طرف موڑ لیا۔

وہاج نے تیزی سے منیبہ کو خود سے دور دھکیلا۔

عمارہ جیسا تم سمجھ رہی ہو ایسا کچھ نہی ہے!

یہ منیبہ زبردستی۔۔۔!

وہاج تیزی سے عمارہ کی طرف بڑھا۔

اس سے پہلے کے وہاج مزید بولتا۔عمارہ نے اپنی کمرے میں آنے کی وجہ بتا دی۔

آپ کا فون۔۔۔!

باہر ٹیرس پر رہ گیا تھا’

میں تو بس یہ واپس کرنے آئی تھی آپ کو۔

آئی ایم سوری۔۔مجھے دروازہ ناک کر کے آنا چاہیے تھا۔

عمارہ کی آنکھوں میں ایک درد سا تھا’

ٹوٹے ہوئے یقین کا درد!

عمارہ جیسا تم سمجھ رہی ہو ویسا کچھ بھی نہی ہے یارر۔۔۔!

پلیز میرا یقین کرو!

وہاج جیسے اسے اپنے سچے ہونے کا یقین دلا رہا تھا۔

اس کا لہجہ التجاوں بھرا تھا۔

آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں وہاج؟

آپ کی زندگی جیسے چاہے گزارے۔۔۔مجھے کوِئی مسلہ نہی۔

عمارہ چہرے زبردستی پر مسکراہٹ سجائے ایک نظر ڈھٹائی سے پیچھے کھڑی منیبہ پر ڈالتے ہوئے بولی۔

میں چلتی ہوں!

مجھے نیند آ رہی ہے۔صبح بہت کام ہیں۔

عمارہ وہاج کا فون ٹیبل پر رکھتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی۔

رکو عمارہ!

منیبہ کی آواز پر عمارہ پلٹی۔

جیسا تم سمجھ رہی ہو ناں بلکل ویسا ہی ہے!

میں اور وہاج دونوں شادی کرنے والے ہیں بہت جلد!

وہاج نے غصے اور حیرانگی سے منیبہ کی طرف دیکھا۔

“عمارہ یہ جھوٹ بول رہی ہے’اس کی بات پر یقین مت کرنا تم۔

منیبہ ہنسنے لگی۔۔

کیا ہو گیا ہے وہاج؟

اٹس اوکے!

ہم عمارہ پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔

وہ بات کر لے گی گھر والوں سے۔

تم بھی ناں۔۔بہت گھبراتے ہو۔

عمارہ بھابی۔۔۔آپ کریں گی نا بات؟

بھابی کہنے پر عمارہ چونکی!

ہاں۔۔۔میں کر دوں گی بات چچی جان سے!

آپ پریشان نا ہو وہاج!

عمارہ ظبط کی انتہا پر تھی۔

ایک ایک لفظ بولنا بہت بھاری لگ رہا تھا اسے۔

تھینکس بھابی۔۔۔!

منیبہ مسکراتے ہوئے بولی۔

وہاج نے بے یقینی سے عمارہ کی طرف دیکھا۔

عمارہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔

وہاج منیبہ کی طرف پلٹا!

نکل جاو میرے کمرے سے فوراً!

کہی ایسا نا ہو میں تمہاری جان نکال دوں ابھی!

وہاج غصے سے چلاتے ہوئے بولا۔

منیبہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھی۔

جتنا مرضی یقین دلا لو تم اسے اپنی پاکیزگی کا۔

اب وہ تمہارا یقین نہی کرے گی!

ہماری قربت نے اس کے یقین کی کرچیاں بکھیر دی ہیں۔

ویسے چہرہ دیکھنے والا تھا عمارہ کا!

اب وہ اپنے ہی عاشق کی شادی کی بات کرے گی۔

ساتھ ہی منیبہ نے قہقہ لگایا۔

وہاج نے اس کا بازو تھاما اور کھینچتے ہوئے کمرے سے باہر اچانک اس کا بازو چھوڑ دیا۔

منیبہ کمرے کے دروازے کے باہر جا گری۔

وہاج نے غصے سے دروازہ بند کر دیا۔

منیبہ۔۔۔!

مسز حسن بھاگتی ہوئیں منیبہ کی طرف بڑھیں۔

منیبہ کے چہرے پر ایک رنگ آیا اور ایک گیا۔

اس کے تو ہوش اڑ گئے۔

اب کیا جواب دے گی ماما کو کہ رات کے اس وقت نائٹ ڈریس پہنے کیا کر رہی تھی وہاج کے کمرے میں۔

انہوں نے منیبہ کو سہارا دے کر اوپر اٹھایا!

منیبہ ماں کے گلے لگ کر آنسو بہانے لگی۔

وہ اسے ساتھ لیے اس کے کمرے کی طرف بڑھیں۔

منیبہ۔۔میری بچی ہوا کیا ہے آخر؟

تم وہاج کے کمرے کے باہر ایسے کیوں گری ہوئی تھی۔

ماما وہاج بہت برا ہے!

میں اس کے کمرے کے سامنے سے گزر رہی تھی کہ وہ زبردستی مجھے بازو سے کھنچتے ہوئے کمرے میں لے گیا۔

میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی وہاج نے!

منیبہ پھر سے ماں کے گلے لگتے ہوئے جھوٹے آنسو بہانے لگی۔

میں بہت مشکل سے خود کو بچا کر نکلی ہوں وہاج کے کمرے سے۔ماما شاید اس نے آپ کو آتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔

وہاج کی اتنی ہمت!

اس نے میری بیٹی پر بری نگاہ ڈالی۔

میں اسے معاف نہی کروں گی۔ابھی تمہارے بابا سے بات کرتی ہوں اور دھکے مار کر یہاں سے نکلواوں گی اسے۔

بلکہ پولیس کے حوالے کروں گی۔

مسز حسن غصے سے پھنکاری۔

پولیس کا نام سن کر منیبہ کے ہاتھ پیر پھول گئے۔

ننہی۔۔۔ماما آپ ایسا کچھ مت کریں۔

آپ کو میری قسم ہے!

ایسے تو سب سے زیادہ بدنامی میری ہی ہو گی۔

بس ایک اور دن کی تو بات ہے۔پھر ویسے ہی چلے جانا ہے انہوں نے یہاں سے۔

لیکن ماما۔۔۔میں خود سے بھی شرمندہ ہو چکی ہوں۔

وہاج نے اچھا نہی کیا میرے ساتھ!

میرا تو مرنے کو دل چاہ رہا ہے!

منیبہ ماں کے کندھے پر جھوٹے آنسو بہاتے ہوئے بولی۔

نہی میری بچی!

اللہ نا کرے کہ تمہیں کچھ ہو۔

میں ہوں ناں تمہارے ساتھ!

تمہیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہی ہے۔

تم جیسا چاہو گی ویسا ہی ہو گا۔

نہی کرتی میں کسی سے بھی بات۔

تم پریشان مت ہو۔رونا بند کر دو اب۔

میں اپنی نازوں سے پلی بیٹی کو ایسے روتے ہوئے نہی دیکھ سکتی۔

وہ منیبہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولیں۔

ماما آپ بابا سے میری اور وہاج کی شادی کی بات کریں۔

میں وہاج سے بہت محبت کرنے لگی تھی!

مگر آج اس نے جو میرے ساتھ کیا ہے۔ہم دونوں بہت قریب آ چکے ہیں۔

میں اب وہاج کے ساتھ ہی زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔کسی اور سے شادی نہی کر سکتی میں۔

بس اب یہی حل نظر آ رہا ہے مجھے اس دکھ سے باہر نکلنے کا۔

کسی اور شخص کے ساتھ زندگی نہی گزار سکوں گی میں!

منیبہ یہ کیسا حل نکالا تم نے؟

مسز حسن کو منیبہ کی دماغی حالت پر شک ہوا۔

اس شخص کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہو جس نے تمہاری عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

کیسے گزارو گی زندگی اس کے ساتھ؟

تم سو جاو!

تم تھکی ہوئی لگ رہی ہو مجھے!

جو ہوا اسے بھول جاو!

نہی ماما میں نہی بھول سکتی!

آپ بابا سے بات کریں بس!

وہاج کو مجھے اپنی عزت بنانا ہی پڑے گا۔

جو سلوک اس نے میرے ساتھ کیا ہے ناں۔۔مجھے پورا حق ہے کہ میں اس سے نکاح کروں۔

اب کسی اور شخص کو اپنی زندگی میں شامل نہی کر سکتی میں!

مجھ سے نکاح کرنا ہی پڑے گا وہاج کو!

ورنہ میں اس کی جان لے لوں گی اور اپنی بھی!

مسز حسن نے چونک کر منیبہ کی طرف دیکھا۔

منیبہ یہ سب تم کیا کہہ رہی ہو؟

ایسا کیسے ممکن ہے بیٹا؟

زبردستی رشتے نہی جوڑے جاتے!

وہاج تمہیں کبھی خوش نہی رکھ پائے گا بیٹا!

کیوں ماما؟

کیوں نہی خوش رکھ سکے گا وہ مجھے؟

میری عزت پر ہاتھ ڈال سکتا ہے تو نکاح کیوں نہی کر سکتا؟

منیبہ بنا سوچے سمجھے جو دل میں آیا بہتان لگاتی چلی گئی۔

اچھا۔۔۔میں کرتی ہوں بات تمہارے بابا سے اس بارے میں!

یہ شادی کا فنکشن تو گزر جانے دو خیر سے۔

باقی جیسے تمہاری مرضی!

مسز حسن ہار مانتے ہوئے بولیں۔

اب سو جاو تم!

میں چلتی ہوں!

منیبہ کا ماتھا چومتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گئیں۔

منیبہ کا دل تو خوشی سے جھوم اٹھا۔

ایک تیر سے دو شکار!

عمارہ کے دل میں وہاج کے لیے نفرت بھر دی اور ماما کے دل میں بھی وہاج کے لیے نفرت کا بیج بو کر اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئی۔

“عمارہ کمرے میں آ کر پھر سے آنسو بہانے لگی۔وہ دوبارہ ٹیرس پر اس لیے گئی تھی تا کہ وہاج کو سمجھا سکے۔

اسے سمجھائے کے اپنی زندگی میں آگے بڑھے۔۔مگر جب عمارہ وہاں پہنچی تو وہاج وہاں نہی تھا۔

لیکن وہاج اپنا فون وہیں بھول گیا تھا۔

عمارہ نے فون اٹھا لیا اور وہاج کے کمرے کی طرف بڑھی۔

مگر سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی روح تک کانپ گئی۔

وہاج اور منیبہ کی قربت دیکھ کر عمارہ رخ موڑنے پر مجبور ہو گئی۔

“میں کیوں آنسو بہا رہی ہوں؟

اس کی زندگی ہے جس کے ساتھ مرضی گزارے۔اور مجھے تو یہ سب سوچنا بھی نہی چاہیے۔

میرے لیے وہاج کے بارے میں سوچنا بھی گناہ ہے۔

میرا نکاح ہو چکا ہے شاہزیب کے ساتھ!

اس کی امانت ہوں میں!

آج نہی تو کل۔۔۔آخر تو شاہزیب کو میرے پاس واپس آنا ہی ہے۔

کیا ہوا اگر آج تک مجھ سے کبھی فون پر بات نہی کرتے وہ۔

مجھ سے ملنے نہی آئے کبھی!

تو کیا ہوا۔۔۔؟

رشتہ تو باقی ہے ناں!

شاہزیب میرے شوہر ہیں یہی حقیقت ہے۔

میرے دل میں بس ان کا ہی مقام ہونا چاہیے۔

کیا ہوا اگر وہ مجھے یاد نہی کرتے؟

میں تو ان کو یاد کرتی ہوں ناں!

عمارہ پھر سے رونے لگی۔

اب کی بار وہ وہاج کے لیے نہی۔۔شاہزیب کے لیے رو رہی تھی۔

شاہزیب نے نکاح کے بعد سے لے کر اور یہاں سے جانے کے بعد ایک بار بھی پلٹ کر نہی دیکھا۔

ایک بار بھی اس نے گھر والوں سے نہی کہا کہ میری عمارہ سے بات کروا دیں۔

اس نے ایک بار بھی عمارہ کا حال نہی پوچھا کہ کس حال میں ہو!

زندہ ہو یا مر گئی ہو!

وہ تو بس نکاح کے نام پر عمارہ کو پوری زندگی کے لیے اس گھر میں قید کر کے چلا گیا۔

عمارہ نے کبھی کسی سے شکوہ نہی کیا شاہزیب کی اس بے رخی کا۔

کبھی کسی سے اپنے حق کے لیے بات نہی کی۔

کبھی اپنے حق کے لیے آواز نہی اٹھائی!

شاید ڈرتی تھی کہ کہیں اس گھر کا آخری سہارا بھی نا چھن جائے اس سے۔

ماں باپ کی موت کے بعد ان سب کو ہی اپنا سب کچھ مان لیا عمارہ نے۔

عمارہ تب فرسٹ ائیر میں تھی جب اچانک وہاج اسے کالج سے لینے کے لیے پہنچا۔

عمارہ جلدی سے وہاج کی طرف بڑھی!

کیا ہوا۔۔۔اس طرح اچانک کیوں لینے آ گئے آپ مجھے؟

سب خیریت تو ہے ناں؟

وہاج عمارہ کا بازو تھامتے ہوئے اسے گاڑی تک لے آیا۔

عمارہ گاڑی میں بیٹھوں ہمیں ابھی گھر جانا ہے جلدی!

لیکن ہوا کیا ہے؟

وہاج نے عمارہ کی کسی بات کا کوئی جواب نہی دیا۔

عمارہ جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئی۔

گاڑی گھر کے تھوڑی دور ہی روک دی وہاج نے۔۔کیونکہ گھر کے باہر بہت رش تھا۔

عمارہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔

وہ تیزی سے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے باہر نکلی اور گھر کی طرف دوڑی۔

سامنے گیراج میں رکھی دو میتیں دیکھ کر عمارہ وہی گر گئی۔

نہی۔۔اس نے سر نفی میں ہلا دیا۔

وہ چیخ رہی تھی۔۔ رو رہی تھی۔

مگر اس کے ماما،بابا نہی اٹھے۔

صبح ہی تو وہ ان سے مل کر گئی تھی۔

وہ دونوں آج ایک ضروری میٹنگ کے لیے جانے والے تھے۔

گھر سے نکلتے ہوئے عمارہ نے کبھی سوچا نہی تھا کہ اپنے ماں,باپ کو دوبارہ اس حال میں دیکھے گی وہ۔

سب کچھ ختم ہو گیا عمارہ کے لیے۔۔۔اس کی زندگی تو جیسے رک سی گئی۔

وہاج نے اس کا ساتھ نہی چھوڑا۔

وہاج اپنے ماما اور بابا سے اس بارے میں بات کر چکا تھا۔

وہ لوگ چاہتے تھے کہ چالیسویں کے ختم کے بعد بات کریں گے وہ دونوں۔

مگر مسز حسن یہ ساری باتیں سن چکی تھیں۔

ان کے دماغ نے تیزی سے سوچنا شروع کیا۔

اگر عمارہ کی شادی وہاج سے ہو گئی تو عمارہ کی ساری جائیداد وہاج کی ہو جائے گی۔

مسز حسن نے بنا کسی سے بات کیے حسن صاحب کے ساتھ مل کر اپنے بڑے بیٹے شاہزیب کا نکاح عمارہ سے کروا دیا۔

حسن صاحب کو جائیداد والی بات نہی بتائی۔۔بس روتے ہوئے یہ دہائی دی کہ عمارہ ان کے بڑے بھائی اور بھابی کی آخری نشانی ہیں۔

وہ اسے کھونا نہی چاہتیں۔

وہاج کو ولی نے فون پر سب کچھ بتا دیا۔وہاج اس وقت یونیورسٹی میں تھا۔

اس پر یہ خبر کسی قیامت کی طرح ٹوٹی۔

وہ جلدی سے گھر پہنچا مگر دیر ہو چکی تھی۔

عمارہ حسین اب عمارہ شاہزیب بن چکی تھی۔

وہاج تیزی سے عمارہ کے کمرے کی طرف بڑھا۔

بے یقینی سے عمارہ کی طرف دیکھا۔اور سر نفی میں ہلا دیا۔

“عمارہ تم نے دھوکا کیا میرے ساتھ!

وہاج آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کرتے ہوئے تیزی سے وہاں سے نکل پڑا۔

وہ وہاں نہی رکا۔۔۔بلکہ اپنا سامان پیک کرتے ہوئے اپنے گھر اسلام آباد جانے کی تیاری کرنے لگا۔

کبھی سوچا نہی تھا زندگی ایسے رخ پلٹے گی۔

عمارہ کے ساتھ مستقبل کے سارے خواب چکنا چور ہو چکے تھے اس کے۔

عمارہ وہاج کے کمرے کے دروازے میں کھڑی التجائی نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔

وہاج تیزی سے اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھا۔

عمارہ اس کے پیچھے بھاگی۔

وہاج رک جائیں پلیز!

عمارہ نے وہاج کو پکارا۔۔مگر وہ نہی رکا۔

غصے سے بیگ پچھلی سیٹ پر پھینکا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔

عمارہ گاڑی کے سامنے آ رکی!

نہی۔۔۔آپ مجھے ایسے چھوڑ کر نہی جا سکتے!

وہاج غصے سے گاڑی سے باہر نکلا۔

عمارہ کا بازو تھامتے ہوئے اسے گاڑی کے سامنے سے ہٹایا۔

عمارہ۔۔۔میں کس کے لیے رکوں؟

مجھے جانے دو!

مت روکو مجھے!

دعا کرو کہ اس چہرے کو تم دوبارہ کبھی نا دیکھ سکو۔

نہی۔۔۔عمارہ نے بھیگی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے سر نفی میں ہلایا۔

میں مجبور تھی وہاج!

عمارہ نے صفائی پش کرنی چاہی مگر وہاج اس کی بات سنے بغیر ہی گاڑی میں بیٹھ کر تیزی سے گاڑی بھگا کر لے گیا۔

عمارہ بے بسی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

وہاج نے گھر پہنچ کر سب کچھ اپنی ماما کو بتا کر خود کع کمرے میں بند کر لیا۔

مسز احمد نے اسی وقت بھائی کو فون لگایا۔

مگر آگے سے انہیں یہ جواب سننے کو ملا کہ یہ موقع تھا ایسا کہ ہم خوشی منا کر نکاح کرتے۔

بس ایک سادہ سی نکاح کی رسم تھی چند گواہوں کے ساتھ!

انہوں نے غصے سے فون کال کاٹ دی۔

سادہ سی رسم!

بھائی کیسے بتاوں آپ کو آپ کی یہ سادہ سی رسم میرے بیٹے کے لیے وبالِ جان بن چکی ہے۔

اس دن کے بعد وہاج اس گھر میں واپس نہی گیا۔

چند ماہ بعد وہاں سے امریکہ چلا گیا۔

باقی پڑھائی وہاں ہی مکمل کی اور اب آٹھ سال بعد واپس آیا اس گھر میں۔

عمارہ کی خاطر!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *