Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Last Episode

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Last Episode

لہٰذا اپنے بچوں پر رحم کریں ، انھیں سمجھیں ، یہ دیکھیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں ، یہ نہ سوچیں کہ لوگ کیا کہیں گے ؟ لوگوں کا تو کام ہی ہے کہنا ، لوگ زیادہ سے زیادہ ایک دن بولیں گے ، ایک ہفتہ بولیں گے ، ایک مہینہ بولیں گے ، یا پھر ایک سال ، پر ایک دن وہ سب کچھ بھلا کر اپنی زندگیوں میں مگن ہوجائیں گے ، آپکے غم سے یا اس بات سے کہ آپ نے کیا کھویا کیا پایا لوگوں کو کوئی سروکار نہیں ہوتا ، انھیں بس باتیں بنانے سے مطلب ہے ، لہٰذا انکی باتوں پر دھیان دے کر خود پر اور اپنے پیاروں پر ظلم مت کیجئے۔
مانا کہ کبھی بھی کوئی بھی والدین اپنی اولاد کا برا نہیں چاہتے ، پر کچھ والدین ایسی بھی ہیں جو یہ نہیں سوچتے کہ انکی اولاد کیا چاہتی ہے ، اگر اولاد کی چاہت جائز ہے تو اسے پورا کرنے میں حرج ہی کیا ہے ؟ اور اگر چاہت ناجائز ہے تو اسے پیار سے سمجھایا بھی تو جاسکتا ہے ، پیار سے تو پھول پودے بھی مزید نکھر جاتے ہیں ، جنگلی جانور دوست بن جاتے ہیں ، تو اولاد کیوں نہیں سمجھے گی ؟ اسے سمجھاؤ تو صحیح ، اعتماد تو دو ، اہمیت تو دو۔
سعدیہ کو لگا کہ شادی کے شروع کے سالوں میں ہی بس شوہر کو اہمیت دینی ہوتی ہے ، باقی بعد میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ سب چیزیں “چونچلے” ہوجاتی ہیں ، جس کی وجہ سے طلحہ کا جھکاؤ دوسری جانب بڑھ گیا۔اسلام میں عورت کو شوہر کیلئے خاص طور پر زیبائیش اختیار کرنے کا حکم اسی لئے دیا گیا ہے ، تا کہ وہ دوسری جانب راغب نہ ہو۔ اور کسی بےبنیاد سی بات کو وجہ بنا کر شک نہیں کرنا چاہئے ، ہر بات کو مثبت پہلو سے دیکھنا چاہئے۔ورنہ وہی ہوتا ہے جو سعدیہ کے ساتھ ہوا۔
اکثر لڑکے لڑکیوں کو سنہرے خواب دیکھا کر ایک نئی ڈگر پر لے جاتے ہیں ، اور پھر جب لڑکی پوری طرح اس احساس میں ڈوب جاتی ہے تو لڑکوں کو خیال آتا ہے کہ “گھر والے نہیں مانیں گے”
لڑکوں کو پہلے سے کیا نہیں پتہ ہوتا ہے کہ میرے گھر والوں کا مزاج کیسا ہے ؟ مانا کے کسی کا اچھا لگنا ایک بے اختیار فعل ہے ، پر خود پر تو اختیار ہوتا ہے ناں ! جیسے عفان نے کیا خود پر ، اگر وہ چاہتا تو اپنے جذبات سے خوشی کو آگاہ کرسکتا تھا ، پر اسے جب اس بات کا علم نہیں تھا کہ پتہ نہیں اس راستے کی منزل ہے بھی یا نہیں ؟ تو اس نے خاموش رہنے میں ہی سب کی عافیت جانی۔پر کیونکہ دونوں طرف سے جذبے پاکیزہ اور نیت صاف تھی اسی لئے انھیں آسانی سے انکی منزل مل گئی ، اگر عفان خوش کو اپنے جذبات سے آگاہ کردیتا ، تو دونوں میں باتیں ہونے لگتی ، ملاقاتیں ہونے لگتی ، خوشی اس سفر میں بہت آگے نکل جاتی ، پر اگر گھر والے نہیں مانتے تو یہ سفر بھی ادھورہ رہ جاتا ، خوشی بھی ٹوٹ جاتی ، اور دونوں گناہگار الگ ہوتے۔
کہانی پڑھتے ہوئے کئی لوگوں کو مراد کا کردار شاید اچھا نہیں لگا ہو ، کیونکہ اس نے ایک غلط فہمی کا شکار ہوکر غلط قدم اٹھالیا تھا ، پر اپنی غلطی کا احساس ہونے پر اسکا ازالہ بھی کیا ، اور خضر کو بھی حرام موت مرنے سے بچا کر ایک خوشگوار زندگی کی جانب لے آیا۔عفان کی پوشیدہ محبت کو بھی اسکی منزل تک لے آیا۔ابریش بھی واپس پہلے جیسی ہوگئی اسکی وجہ سے۔جب اس راز پر سے اٹھا کہ ابریش کی حالت کا زمیدار مراد ہے تو فوراً ہی کچھ لوگوں نے اس پر غلط کی مہر لگا کر اسکے لئے کیسی کیسی سزائیں سوچ لی ہوں گی بجائے اسے اپنی غلطی سدھارنے کا موقع دینے کے ، بلکہ صرف مراد ہی نہیں ، بہت سے کرداروں نے کہانی میں کئی رنگ بدلے ، جس پر پوری حقیقت جانے بنا ہی کافی لوگوں نے اپنی جانب سے اندازے لگا کر ، انھیں غلط سمجھ لیا ، ہم لوگ یہی تو کرتے ہیں کہ اپنی غلطی پر اپنے لئے بہت اچھے وکیل ، اور دوسروں کی غلطی پر انکے لئے ایک بہت ظالم جج بن جاتے ہیں ، بنا یہ سوچے سمجھے کہ جس نے یہ سب بگاڑا ہے وہ سدھار بھی تو سکتا ہے ، جس سے غلطی ہوئی ہے وہ ازالہ بھی تو کرسکتا ہے۔جو کوئی کچھ بھی کررہا ہے پتہ نہیں اسکے پیچھے کیا مقصد پوشیدہ ہو؟
کچھ لوگوں کا ماننا ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی روح واپس آسکتی ہے یہ بات ماننا کہ مرنے کے بعد بھی روحیں بدلا لینے ، یا ادھورے کام پورے کرنے آتی ہیں ، ان باتوں پر خالص یقین رکھنا ہندؤں کا عقیدہ ہے ، کیونکہ ہندو اور مسلمانوں کی تقسیم سے قبل سب ساتھ ہی رہتے تھے ، اسی لئے ہمارے اکثر بوڑھے انکے عقیدوں پر یقین کرتے تھے ، اور پھر پاکستان بننے کے بعد جب ان بوڑھوں کی نسلیں چلنا شروع ہوئیں تو ان میں سے اکثر لوگوں نے اپنی نسلوں میں بھی یہ عقیدے پروان چڑھانے شروع کردیے ، اور پھر یہ سلسلہ نسل در نسل چل نکلا، آپ لوگوں نے اکثر دیکھا یا سنا ہوگا کہ لوگ اس قسم کی باتوں پر یقین رکھتے ہیں کہ بلی کا رونا یا راستہ کاٹنا اچھی بات نہیں ، خالی قینچی چلانے سے گھر میں جھگڑے ہوجاتے ہیں ، دیوار پر کوا چلائے تو کوئی آنے والا ہوتا ہے ، اگر کوئی کنوارہ لڑکا یا لڑکی پتیلے میں سے کھانا چکھ لے تو کہتے ہیں کہ اسکی شادی میں بارش ہوجاتی ہے ، غرض اس طرح کی لاتعداد من گھڑت باتیں آپ نے اکثر دیکھی اور سنی ہوں گی ، اب سوال یہ ہے کہ ان باتوں کا قرآن و حدیث میں تو کہیں بھی ذکر نہیں ہے ، اگر ایسا کچھ ہوتا تو سب سے پہلے ہمارے نبی ﷺ ہمیں ان باتوں سے آگاہ کرتے ، جبکہ انھیں تو بھیجا ہی ہمارے لئے رہنما بناکر ہے ، وہ اسی لئے تو دنیا میں تشریف لائے تھے تا کہ انسانوں کو اس جہالت کے اندھیرے سے نکال کر شعور کی روشنی میں لاسکیں ، پر ہم پھر دوبارہ انہی رسموں کو زندہ کررہے ہیں جن کا خاتمہ کرنے کیلئے ہمارے نبی ﷺ کو بھیجا گیا۔لہٰذا ان سب باتوں پر یقین نہ کریں ، آپ انسان ہیں مسلمان ہیں ، اللّه پاک نے آپکو سوچنے سمجھنے کی اور صحیح غلط پہچاننے کی صلاحیت اسی لئے دی ہے تا کہ آپ اسے استمعال کرتے ہوئے جہالت کے اندھیروں سے خود بھی نکلیں اور دوسروں کو بھی نکالیں۔
سب لوگوں کو حتیٰ کہ خضر کو بھی یہی لگتا ہے کہ ابریش پر اچانک کوئی جن عاشق ہوگیا تھا ، جو ابوبکر نورانی صاحب کی وجہ سے چلا گیا ، پر حقیقت صرف عفان اور مراد کو معلوم ہے ، کچھ “راز” اگر پردے میں ہی رہیں تو بہتر ہوتا ہے ، اوراسی لئے ان دونوں نے خود سے عہد کیا ہے کہ اس “راز” کو ہمیشہ “راز” ہی رکھنا ہے۔
غرض ہر بار کی طرح اس بار بھی ، اور ہر کہانی کی طرح اس کہانی میں بھی ، بہت سارے چھوٹے بڑے سبق تھے۔جنہیں ہر باشعور انسان نے محسوس کیا ہوگا۔اور کاش ان پر عمل بھی کرلے۔
“جہاں سوال کے بدلے سوال ہوتا ہے”
“وہاں سے محبتوں کا زوال ہوتا ہے”
کسی کو اپنا بنانا ہنر ہی صحیح”
“کسی کا بن کر رہنا کمال ہوتا ہے”
“ختم شد”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *