Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode14

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode14

“ٹک ٹک ٹک”۔عفان نے دروازے پر دستک دی۔
“آجاؤ”۔اندر سے فیضان کی آواز آئی۔عفان دروازہ دھکیلتا ہوا اندر داخل ہوا۔فیضان سامنے صوفے پر بیٹھا ہوا تھا۔اور انعم بیڈ پر۔
“آپ نے مجھے بلایا پاپا؟۔عفان نے پوچھا۔
“ہممم! بیٹھو”۔فیضان نے اپنے سامنے والے صوفے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔عفان صوفے پر بیٹھ گیا۔
“بات دراصل یہ ہے ، مجھے پتہ چلا ہے کہ تمہارا رویہ کالج میں کسی کے ساتھ ٹھیک نہیں ہے ، کیا یہ سچ ہے ؟ اور اگر ہے تو ایسا کیوں ہے؟۔فیضان نے بتاتے ہوئے پوچھا۔
“یہ سب یقیناً ابریش نے بتایا ہوگا آپکو!۔عفان نے سب سمجھتے ہوئے تائید چاہی۔
“کسی نے بھی بتایا ہو ، وہ اہم نہیں ہے ، اہم یہ ہے کہ ایسی کیا بات ہے جو اپنے کلاس فیلو کے ساتھ ٹھیک برتاؤ نہیں کرتے؟۔فیضان نے عفان کی بات نظر انداز کرکے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔
“کوئی خاص بات نہیں ہے پاپا ، بس جس طرح کچھ لوگ بنا کسی وجہ کے ہی ہمیں پسند ہوتے ہیں ناں ، اسی طرح کچھ لوگ بنا کسی وجہ کے ہمیں ناپسند بھی ہوتے ہیں ، اور خضر کو لے کر میرے ساتھ بھی یہی مسلہ ہے ، اور اسکی آنکھیں بھی اتنی پراسرار سی ہیں کہ اگر آپ بھی دیکھ لیں تو آپکا بھی اس سے بات کرنے کا دل نہیں چاہے گا”۔عفان نے بتایا۔
“یہ تو کوئی ٹھوس وجہ نہیں ہوئی بیٹا ، اور بات کرنا تو دور کی بات ، اگر تم سے اس سے بات نہیں کی جاتی تو خود سے پہل بھلے ہی مت کرو ، پر کم از کم جب وہ تم سے بات کرے تو ٹھیک سے جواب ہی دے دیا کرو ، کہ اسکا دل نا دکھے ، آخر وہ بھی تو انسان ہے ، اب اگر اسکی آنکھیں عجیب سی ہیں تو اس میں اسکی تو کوئی غلطی نہیں ہے ناں ، محض اس بات کو وجہ بنا کر اس سے تلخ برتاؤ کرنا کہاں کا انصاف ہے ؟ اور اس بات کی تو اسلام نے بھی تاکید کی ہے کہ کبھی بھی اپنی ذات سے دوسروں کو تکلیف مت پہنچانا ، کبھی بھی کسی کا دل مت توڑنا ، پھر چاہے وہ دل کسی کافر کا ہی کیوں ناں ہو ، ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ تو اپنے دشمنوں سے بھی اتنے اعلی اخلاق سے پیش آتے تھے ، اور ہم کیسے امتی ہیں ، جو مسلمان ہوتے ہوئے ایک دوسرے مسلمان کا دل نہیں رکھ سکتے ، اور خود کو عاشقِ رسول ﷺ کہتے ہیں ، انکی سنتوں پر تو ہم سے عمل ہوتا نہیں ہے ، اور باتیں جان دینے کی کرتے ہیں ، ابریش میرے پاس اس امید پر آئی تھی کہ اگر میں تمھیں سمجھاؤں گا تو تم میری بات ضرور مانو گے ، مطلب کہ اسے یقین تھا کہ تم میرا مان نہیں توڑو گے ، اور مجھے بھی امید ہے کہ تم میری بات مانو گے ، ٹھیک کہا ناں میں نے؟۔فیضان اسے اچھی طرح سمجھاتے ہوئے آخر میں تائید چاہی۔
“جی پاپا”۔عفان نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے کہا۔
“شاباش ، اور بتاؤ ، پڑھائی صحیح جارہی ہے ؟ کوئی مسلہ تو نہیں ہے ؟ سب سمجھ میں آرہا ہے؟۔فیضان نے موضوع بدلا۔
“جی پاپا ، اور اگر کچھ سمجھ نہیں آتا تو گھر میں اتنے سارے ڈاکٹرز ہیں ان میں سے کوئی مدد کردیتا ہے”۔عفان نے بتایا۔
“ہممم! اور پیپر کب سے شروع ہورہے ہیں؟۔فیضان نے پوچھا۔
“پرسوں سے ، پہلا پیپر ہے پرسوں”۔عفان نے بتایا۔
“ٹھیک ہے ، اچھے سے تیاری کرو ، اور پڑھائی کو پڑھائی کی طرح ہی سمجھ کر پڑھنا ، خود پر حاوی کرکے پریشر ککر مت بن جانا ، کچھ سمجھ نا آئے ، کوئی مسلہ ہو تو بلاجھجھک ہم سے کہہ دینا ، ٹھیک ہے!۔فیضان نے سمجھاتے ہوئے تائید چاہی۔
“جی پاپا”۔عفان نے صوفے سے اٹھتے ہوئے کہا۔
“اب میں جاؤں؟۔عفان نے پوچھا۔
“ہاں جاؤ ، اور زیادہ دیر جاگ کر پڑھتے بھی مت رہنا”۔فیضان نے کہتے ہوئے تاکید کی۔
“جی ٹھیک ہے ، گڈ نائٹ ، شب بخیر”۔عفان نے کہا۔اور کمرے سے باہر چلا گیا۔فیضان بھی صوفے سے اٹھ کر بیڈ پر آگیا۔
“کیا لگتا ہے تمھیں ، اثر ہوا ہوگا اس پر میری باتوں کا؟۔فیضان نے کمبل اوڑھتے ہوئے پوچھا۔
“بالکل ، دنیا مکافات عمل ہے ، جب تم نے ساری زندگی اپنے ماں باپ کی فرمابرداری کی ہے ، تو پھر تمہاری اولاد تمہاری نافرمانی کیسے کرسکتی ہے”۔انعم نے کہا۔
“ہممم! میری فرمابرداری کی زد میں تو تم بھی آچکی ہو”۔فیضان نے شرارت سے کہا۔انعم نے کچھ نہیں کہا۔بس مسکرا کر لائٹ آف کردی۔
********************************
رات کا دوسرا پہر شروع ہوچکا تھا۔تمام انسان و چرند پرند اس وقت نیند کی آغوش میں تھے۔سیاہ آسمان کے سینے پر اللّه کے حکم سے آدھا سفید چاند چمک رہا تھا۔جس کی چاندنی کھڑکی سے راستہ بنا کر کمرے میں داخل ہورہی تھی۔اور بیڈ پر لیٹے خضر پر پڑرہی تھی۔خضر بھی بہت محویت سے چاند دیکھنے میں مصروف تھا۔اس کی نظریں چاند پر تھیں پر سوچیں کہیں اور تھیں۔جس کی وجہ سے اسے نیند نہیں آرہی تھی۔وہ مسلسل آج کالج میں ہونے والے واقعے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔اور اس پورے واقعے میں مرکزی کردار ابریش کا تھا۔خضر کو ابریش کا اسکی حمایت کرنا بہت اچھا لگا تھا۔اور اسکے ذہن میں مسلسل ابریش کی باتیں گونج رہی تھیں۔
“عفان ! یہ کیا بدتمیزی ہے!۔ابریش نے غصے سے کہا۔
“تم اس سے کس طرح بات کررہے ہو”۔ابریش نے ہنوز غصے سے کہا۔
“خضر ! رکو میری بات سنو”۔ابریش نے خضر کی جانب جاتے ہوئے اسے پیچھے سے پکارا۔وہ وہاں سے سیدھا اسکے پیچھے آئی تھی۔
“ایم ویری ویری سوری خضر ، عفان کی طرف سے میں تم سے معذرت چاہتی ہوں”۔ابریش نے کہا۔
“میں جانتی ہوں کہ عفان کے رویے سے تمہارا دل دکھا ہے ، پر مراد ٹھیک کہہ رہا تھا ایکسیڈنٹ کی وجہ سے عفان تھوڑا چڑچڑا ہوگیا ہے ، ورنہ وہ ایسا ہے نہیں”۔ابریش نے وضاحت کی۔
“تھینکس ، تم بہت اچھے ہو”۔ابریش نے کہا۔خضر کو ابھی تک ابریش کا کہا ہر جملہ اپنے کانوں میں گونجتا محسوس ہورہا تھا۔
“قبول ہے ساری دنیا کی مخالفت ہمیں”
“بدلا ایک شخص کا ہمارے حق میں کہنے کے”
********************************
نیلے آسمان کے کشادہ سینے پر پیلا چمکتا ہوا سورج اللّه کے حکم سے نمودار ہوچکا تھا۔جس سے منجمند ہوئی شے واپس حرکت میں آنا شروع ہوگئیں تھیں۔معمول کے مطابق سٹوڈنٹس کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا تھا۔عفان اور ابریش بھی کالج میں داخل ہوئے اور کلاس کی جانب جانے لگے۔دونوں میں ابھی تک کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔عفان فیضان کے کہنے کے مطابق فیصلہ کرکے آیا تھا کہ آج خضر سے اپنے گزشتہ رویے کیلئے معذرت کرلے گا۔پر خضر ابھی تک اسے کہیں نظر نہیں آیا تھا۔تو بریک ٹائم میں ملنے کا سوچ کر عفان ابریش کے ساتھ کلاس میں ہی چلا گیا۔کیونکہ آج دونوں کلاس شروع ہونے سے آدھا گھنٹہ قبل نہیں بلکہ دس منٹ قبل آئے تھے۔
********************************
اب سعدیہ کی برداشت جواب دے گئی تھی۔اور اس نے سوچ لیا تھا کہ اب طلحہ سے دو ٹوک بات کرکے ہی رہے گی۔بچوں کو اسکول بس میں روانہ کرکے سعدیہ کمرے میں آئی تو حسب معمول طلحہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا تیار ہورہا تھا۔
“یہ آپ اتنا تیار ہوکر آفس کیوں جانے لگے ہیں؟۔سعدیہ نے چبھتے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
“تمھیں کیا مسلہ ہے میرے تیار ہونے سے؟۔طلحہ نے اپنے اوپر پرفیوم چھڑکتے ہوئے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔
“مجھے مسلہ صرف آپکے تیار ہونے سے نہیں ، اور بھی بہت سی باتوں سے ہے”۔سعدیہ نے کہا۔
“تو یہ تمہارا مسلہ ہے ، میرا نہیں”۔طلحہ نے پرفیوم کی شیشی واپس رکھتے ہوئے لاپرواہی سے کہا۔
“بس بہت ہوگیا طلحہ ، آج فیصلہ کر ہی دیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟سعدیہ نے جوش سے کہا۔
“یار سعدیہ پلیز صبح صبح میرا موڈ مت خراب کرو”۔طلحہ نے کہا اکتائے ہوئے لہجے میں کہا۔
“نہیں ، آج فیصلہ ہوکر رہے گا کہ آخر آپ چاہتے کیا ہیں ؟ کیوں اتنا بدل گئے ہیں آپ !۔سعدیہ نے اپنی بات پر اڑتے ہوئے کہا۔
“میں بدل گیا ہوں؟۔طلحہ نے سعدیہ کی جانب گھوم کر شہادت کی انگلی اپنی جانب کرتے ہوئے پوچھا۔
“ہاں ، آپ بدل گئے ہیں ، ایسے تو نہیں تھے آپ پہلے”۔سعدیہ نے کہا۔
“مجھے الزام دینے سے پہلے خود پر بھی ایک نظر ڈالو ، اور پھر فیصلہ کرو کہ کون بدلا ہے ، تم مجھے کہہ رہی ہو ، پر ذرا یہ بتاؤ کہ کیا تم خود بھی اب وہ پہلے والی سعدیہ ہو؟۔طلحہ نے سعدیہ کے قریب آتے ہوئے تلخی سے کہا۔وہ حیرانگی سے اسے دیکھتی رہی۔
“پورا دن آرام سے بیٹھ کر سوچو کے کون بدلا ہے!۔طلحہ نے کہا۔اور اپنا بریف کیس اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔سعدیہ وہیں کھڑی سوچ میں پڑگئی۔
********************************
ایک پیریڈ اوور ہونے کے بعد سب سٹوڈنٹس کلاس سے باہر نکل رہے تھے۔ابریش خوشی کے ساتھ سیدھی کینٹین کی جانب چلی گئی۔بنا عفان اور مراد سے کوئی بات کیے۔عفان خضر سے بات کرنے کا موقع ڈھونڈ رہا تھا۔پر پیریڈ اوور ہوتے ہی خضر کلاس سے باہر نکل کر پتہ نہیں کہاں چلا گیا تھا۔تو عفان اسے یہاں وہاں دیکھنے لگا۔
“کسے ڈھونڈ رہے ہو؟۔مراد نے معنی خیزی سے پوچھا۔
“کسی کو نہیں ، چلو لائبریری چلتے ہیں”۔عفان نے کہا۔اور دونوں لائبریری کی جانب جانے لگے۔
لائبریری میں زیادہ لوگ نہیں تھے۔یہاں آکر دونوں بک لے کے ایک ٹیبل کے گرد کرسی کھنچ کر بیٹھ گئے۔اور نوٹس بننے لگے۔کہ تب ہی انہیں ایک دوسری بک کی ضرورت پڑی۔جسے لینے کیلئے عفان اٹھا۔وہ بک شیلف کے پاس آکر بک ڈھونڈنے لگا۔اس بات سے یکسر بےخبر کہ اسکے پیچھے والا بک شیلف کسی بھی وقت اس پر گرسکتا تھا۔وہ یہاں وہاں بک ڈھونڈتا رہا کہ تب ہی اس ہلتے ہوئے بک شیلف پر دوسری جانب سے کسی سٹوڈنٹ نے بے دھیانی میں ٹیک لگالی۔اور وہ پورا بک شیلف کتابوں سمیت عفان کے اوپر آیا۔پر اس سے قبل کے عفان بک شیلف کی نیچے دبتا کسی نے جلدی سے اسے وہاں سے کھنچ لیا۔اور دھڑام کی زور دار آواز کے ساتھ بک شیلف سامنے والے بک شیلف کو بھی لے کر زمین بوس ہوگیا۔شیلف گرنے کی آواز سن کر سب بھاگے بھاگے اس طرف آئے۔عفان ابھی تک ہکابکا کھڑا تھا۔باہر سے بھی سٹوڈنٹس اور ٹیچرز آگئے تھے۔جن میں ابریش بھی شامل تھی۔
“تم ٹھیک ہو عفان؟۔مراد نے پوچھا۔اسکی آواز پر یکدم وہ چونکا۔
“اں ہاں ، ہاں ٹھیک ہوں”۔عفان نے کہا۔
“اور خضر تم؟۔مراد نے پوچھا۔اسکے کہنے پر عفان نے چونک کر اپنی دائیں جانب دیکھا۔
“ہاں میں بھی ٹھیک ہوں”۔خضر نے کہا۔
“شکر ہے عین وقت پر خضر نے تمھیں بچالیا ، ورنہ ابھی ابھی ٹھیک ہوئے تھے تم ، پھر زخمی ہوجاتے”۔مراد نے کہا۔
“مجھے تم نے بچایا ہے؟۔عفان نے خضر کی جانب دیکھ کر حیرانگی سے پوچھا۔ابریش بھی تب تک قریب آچکی تھی۔
“ہاں ! میں یہاں کھڑا بک دیکھ رہا تھا کہ تب ہی میری نظر ہلتے ہوئے بک شیلف پڑی ، جس کے قریب تم کھڑے تھے ، تو جلدی سے آکر تمھیں ہٹالیا”۔خضر نے بتایا۔عفان نے آگے بڑھ کر خضر کو گلے لگالیا۔مراد اور ابریش حیرانگی سے اسے دیکھتے رہے۔خود خضر بھی حیران تھا۔
“تھینک یو یار ، اور سوری”۔عفان نے گلے لگے ہوئے ہی کہا۔
“پر کس لیے؟۔خضر نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“میں نے تمہارے ساتھ اتنا برا برتاؤ کیا ، اسکے لئے سوری ، اور تم نے پھر بھی مجھے بچایا اسکے لئے تھینکس”۔عفان نے الگ ہوتے ہوئے بتایا۔
“نہیں یار ، کوئی بات نہیں”۔خضر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“اوہ مائی گاڈ ! یہ سب کیسے ہوگیا؟۔پروفیسر صاحب نے لائبریری میں داخل ہوکر حیرانگی سے کہا۔
“اب لائبریرین کی خیر نہیں”۔مراد نے آہستہ سے کہا۔
********************************
“اففو ! اب بس بھی کردو سعدیہ ، کب سے صرف روئے ہی جارہی ہو”۔فائزہ نے کہا۔سب خواتین اس وقت ڈرائینگ روم میں بیٹھی ہوئی تھیں۔اور سعدیہ نے انہیں طلحہ کے بدلے ہوئے رویے کے بارے میں سب بتا دیا تھا۔
“رؤں نہیں تو اور کیا کروں امی ! ابھی بتایا ناں میں نے آپکو طلحہ کے بارے میں”۔سعدیہ نے روتے ہوئے کہا۔
“تمہاری بات ٹھیک ہے ، پر رونا دھونا بھی تو مسلوں کا حل نہیں ہوتا ناں!۔رمشا نے کہا۔
“ہممم! بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے رمشا”۔ممتاز نے تائید کی۔
“تو پھر میں اور کیا کروں ؟ طلحہ میرے منہ پر بول کر گئے ہیں صبح کہ میں بدل گئی ہوں ، آپ لوگ بتائیں کہاں سے بدلی ہوں میں؟۔سعدیہ نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“بالکل ٹھیک کہا ہے طلحہ نے”۔فاریہ نے روم میں آتے ہوئے کہا۔
“فاریہ تم اس وقت یہاں!۔فیروزہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
“کچھ ضرور فائلیں لینے آئی تھی ممی ، کہ رونے دھونے کی آواز سن کر یہاں آگئی”۔فاریہ نے ایک صوفے پر بیٹھتے ہوئے بتایا۔
“کیا کہہ رہی تھی تم ! کیا ٹھیک کہا ہے طلحہ نے؟۔شہلا نے واپس موضوع کی جانب آتے ہوئے پوچھا۔
“یہی کے سعدیہ بدل گئی ہے”۔فاریہ نے بتایا۔
“یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں چچی ، میں نے طلحہ اور بچوں کے پیچھے اپنا آپ فراموش کردیا ، انکی دھوبن ، باورچن ، سب بن گئی ، انھیں کسی شکایات کا موقع نہیں دیا ، اور آپ کہہ رہی ہیں کہ میں بدل گئی ہوں!۔سعدیہ نے حیرانگی سے کہا۔
“ہاں ، تم نے یہی تو غلطی کی ہے کہ اپنا آپ فراموش کردیا ، اسکی دھوبن ، باورچن ، سب بن گئی ، پر محبوبہ نہیں بنی”۔فاریہ نے کہا۔
“کیا مطلب ؟۔سعدیہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“مطلب کہ تمھیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا ، تم ایک بیلنس رکھتی ، پر تم بیوی کے کردار سے نکل کر پوری طرح ماں کے کردار میں ڈوب گئی ہو ، تمھیں صرف بچوں کی فکر رہتی ہے ، بچوں کا پیپر ہے ، بچوں کے نمبر اچھے آنے چاہئے ، بچے یہ ناں کریں ، بچے وہ ناں کریں ، بچوں کیلئے یہ کرنا ہے ، بچوں کیلئے وہ کرنا تھا ، بس بچے بچے بچے”۔فاریہ نے کہا۔
“تو اس میں غلط ہی کیا ہے؟۔فائزہ نے پوچھا۔
“بھابھی غلط یہ ہے کہ یہ سب حد سے بڑھ گیا ہے ، اور حد سے بڑھی ہوئی کوئی بھی چیز ہو ٹھیک نہیں ہوتی”۔فاریہ نے بتایا۔
“تم خود ایمانداری سے بتاؤ سعدیہ کہ تم نے آخری بار طلحہ کو آئی لو یو کب بولا تھا؟۔فاریہ نے یکدم سعدیہ سے پوچھا۔اور سب کے سامنے یکدم اس سوال پر سعدیہ جھینپ گئی۔
“یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں چچی!۔سعدیہ نے جھجھکتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک کہہ رہی ہوں ، کچھ عورتوں کے ساتھ ناں یہی مسلہ ہوتا ہے ، کہ دکان والوں سے قیمتیں کم کروانے سے لے کر ، عورتوں کو زچگی میں آسانی کے ٹوٹکے بتانے تک سب باتیں ان سے کرلی جاتی ہیں ، پر جہاں بات شوہر سے پیار محبت کی باتیں کرنے کی آتی ہے تو انکے پاس لفظوں کا قحط پڑجاتا ہے ، شوہر کیلئے تیار ہونے کا کہو تو ان سب باتوں کو “چونچلے” کہہ کر جان چھڑالی جاتی ہے ، آخر کیوں ؟ کچھ لوگوں کا کہنا ہوتا ہے کہ اب تو شادی ہوگئی ہے ، اب سنج سنوار کر اور اپنا خیال رکھ کر کیا کرنا ہے ! کونسا ہمارے رشتے آنے ہیں ، ارے کوئی انھیں سمجھاؤ کہ اب تو صحیح وقت ہے سجنے سنوارنے کا ، آپ لوگ سب ایمانداری سے بتائیں کہ شادی کے شروع کے دنوں والی سعدیہ میں ، اور اب کی سعدیہ میں فرق آیا ہے یا نہیں؟۔فاریہ نے کہتے ہوئے آخر میں سب سے تائید چاہی۔
“ہاں ٹھیک کہہ رہی ہے یہ ، بہت فرق آگیا ہے ، پہلے جب طلحہ کے آفس سے آنے کا وقت ہوتا تھا تو سعدیہ ہلکا پھلکا تیار ہوکر شام میں خود اسکا استقبال کرتی تھی ، اسے چائے وغیرہ بھی خود دیتی تھی ، پر اب تو سجنا سنوارنا دور کی بات ، سعدیہ بچوں میں اتنی کھوئی ہوئی ہوتی ہے کہ اسے پتہ بھی نہیں چلتا طلحہ آفس سے آچکا ہے”۔فائزہ نے فاریہ کی تائید کرتے ہوئے بتایا۔سعدیہ خاموشی سے سب سنتی رہی۔
“صرف کھانے پینے کا خیال رکھنا ، بچے سمبھالنا ہی کافی نہیں ہوتا ، یہ سب کام تو ایک ملازمہ بھی کرسکتی ہے ، کیا ضرورت پڑی ہے مرد کو شادی کی ، مرد پاگل ہے جو شادی کرکے بیوی بچوں کی زمیداری بلاوجہ ہی اپنے اوپر لیتا ہے ، اپنے کام کاج کیلئے وہ ملازمہ رکھ سکتا ہے ، جسمانی ضرورت کیلئے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرسکتا ہے ، پر اسلام نے شادی کا حکم دیا ، مرد شادی کرتا ہے ، کیوں ؟ تا کہ اسے ایک ایسا ساتھی ملے جو اسکا ہر دکھ درد ، خوشی غم ، غصہ محبت سب بانٹ سکے ، اللّه پاک نے پہلے صرف آدم علیہ السلام کو تخلیق فرمایا ، پر انکی تنہائی و بےسکونی کی وجہ سے انھیں بیوی کی روپ میں ایک ساتھی دیا گیا ، اللّه پاک نے خود قرآن پاک میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے
ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ وَاَنْتُم لِبَاسٌ لَّھُنَّ
“وہ تمہاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس”
(سورۃ البقرہ آیت ۱۸۷)
لہٰذا بات کی گہرائی کو سمجھو ، اور ایک ملازمہ بننے کے بجائے بیوی بنو ، اور بیوی بننے سے پہلے اپنے شوہر کی محبوبہ بنو ، اسکی دوست بنو”۔فاریہ نے سمجھایا۔
“ہممم! آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ، تو اب میں کیا کروں؟۔سعدیہ نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“اب تم سب سے پہلے اپنا حلیہ درست کرو ، اپنے ویٹ کو تھوڑا قابو میں کرو ، کچھ ڈائٹینگ اور منی ایکسرسائز سے ، طلحہ سے تمہارا جھگڑا ہوا ہے ، تو اس سے بات کرنے میں پہل کرو ، ہوسکتا ہے کہ وہ اتنی جلدی نہیں مانے ، پر کوشش کرو ، اور جاری رکھو ، تم ضرور کامیاب ہوگی”۔فاریہ نے مشورہ دیتے ہوئے کہا۔
“پر سب کچھ سعدیہ ہی کرے ، طلحہ کو بھی تو کچھ کرنا چاہئے ناں”۔رمشا نے کہا۔
“دیکھو رمشا مرد کا مقام ازل سے ہی عورت سے آگے ہے ، عورت کو مرد کا تابع بنایا گیا ہے ، مرد کو حاکم ، اسی لئے دونوں کی برابری کی ضد بحث کرنا فضول ہے ، دوسری بات کے عورت سارا دن گھر میں ہوتی ہے ، جبکہ مرد کا آدھا وقت گھر سے باہر گزرتا ہے ، اور باہر دن بھر میں ناجانے مردوں کا سامنے کیسی کیسی عورتوں سے ہوتا ہوگا ، میرے شوہر تو مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں ، مجھے ان پر پورا بھروسہ ہے ، بیوی کا صرف یہ کہہ دینا اور خود سے یکسر لاپرواہ ہوکر ماسی بن جانا ٹھیک نہیں ہے ، کیونکہ کوئی بھی مرد ، بلکہ انسان کتنا ہی شریف ، کتنا ہی ایماندار کیوں نا ہو ، ایک بار تو کسی انوکھی چیز کو دیکھ کر اسکا دل مچلتا ہے ، اسکا بھی دل چاہتا ہے کہ کاش یہ میرے پاس بھی ہو ، یا جو میرے پاس ہے وہ اس جیسا ہو ، میں یہ نہیں کہہ رہی کہ سب مرد برے ہوتے ہیں ، پر شیطان بہت برا اور ہمارا کھلا دشمن ہے ، اور اسکا سب سے پسندیدہ عمل میاں بیوی کے درمیان جھگڑا کروانا ہے ، تو ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو ہتیار بنا کر وہ وار کرتا ہے ، اور اس وار سے بچنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ جن باتوں کی جانب وہ غلط راستے سے راغب کرتا ہے ، وہ باتیں خود میں صحیح راستے سے پیدا کرلو ، مثلاً مرد باہر صاف ستھری سجی سنواری ہوئی عورت کو دیکھ کر متاثر ہوتا ہے ، تو تم گھر میں ہی سجنا سنوارنا شروع کردو ، مرد کو باہر کسی عورت کے دو میٹھے بول مائل کرتے ہیں ، تو تم گھر میں اسکے ساتھ چار میٹھے بول بولنا شروع کردو ، جب یہ سب چیزیں اسے گھر میں ہی میسر ہوں گی تو وہ باہر پھر کیوں جائے گا؟ اسکی ایک مثال یوں بھی دی جاسکتی ہے کہ جب آپکے گھر میں ہی میٹھے پانی کا کنواں ہو ، تو کیا آپ باہر سے پانی بھر کر لائیں گے ؟ نہیں ناں ، باہر کے پانی کی آپکو تب ضرورت پڑے گی جب کنواں خشک ہوجائے گا ، لہٰذا کنوئے کو خشک مت ہونے دو”۔فاریہ نے سمجھایا۔
*********************************
“اوہ ہو ! تو فائنلی اب آپ لوگوں کی دوستی ہو ہی گئی ہے تو اسی خوشی میں ، کیوں ناں کچھ میٹھا ہوجائے!۔خوشی نے کہا۔چاروں اس وقت کینٹین میں خوشی کے پاس تھے۔
“ضرور ، نیکی اور پوچھ پوچھ”۔مراد نے کہا۔
“یہ لیں جی ، یہ کچھ کپ کیکس ہیں ، جو کہ میں نے بنائے ہیں ، اب آپ لوگ جلدی سے ٹیسٹ کرکے بتائیں کہ کیسے ہیں ، تا کہ پھر کل سے میں یہ بھی کینٹین میں رکھنا شروع کردوں”۔خوشی نے چار کپ کیک کاؤنٹر پر رکھتے ہوئے کہا۔
“اوہ ! یعنی ایک تیر سے دو شکار ، منہ بھی میٹھا ، اور ٹیسٹینگ بھی”۔ابریش نے کیک اٹھاتے ہوئے کہا۔
“جی بالکل”۔خوشی نے مسکرا کر کہا۔سب نے کیک کی بائٹ لی۔
“واؤ یار ! بہت اچھا ہے ، کل سے رکھنا یہ بھی”۔عفان نے کیک کھا کر کہا۔باقی تینوں نے بھی اسکی تائید کی۔
“دیکھا میں کہتی تھی ناں کہ آہستہ آہستہ تمہاری سب سے دوستی ہوجائے گی ، اب جیسے ہم لوگوں سے ہوگئی ہے ، ایسے ہی اور لوگوں سے بھی ہوجائے گی”۔ابریش نے خضر سے کہا۔
“نہیں ، اب مجھے اور کسی سے دوستی نہیں کرنی ، میرے لئے بس تم لوگ ہی کافی ہو ، اور ویسے بھی کہتے ہیں کہ دوست ایک ہو ، پر مخلص ہو”۔خضر نے کہا۔
“ہممم! اچھا تم لوگوں کو پتہ ہے خضر بہت اچھا پینٹر اور اسکیچ آرٹسٹ بھی ہے”۔ابریش نے بتایا۔
“اچھا ! ہاں ویسے ابریش نے اپنی ایک ڈائگرام دیکھائی تو تھی ، جو تم نے بنائی تھی”۔عفان نے کہا۔
“اچھا ! میں نے نہیں دیکھی ، مجھے بھی دیکھانا”۔مراد نے کہا۔
“ایسا کرتا ہوں کہ کل لے کر آتا ہوں اپنی پینٹنگز تم لوگوں کو دیکھانے کیلئے”۔خضر نے کہا۔
“ہممم! یہ ٹھیک ہے ، ویسے ابریش کی ڈائگرام تم نے کیوں بنائی تھی؟۔ خوشی نے پوچھا
“ہممم! یہ بہت لمبی کہانی ہے بچوں”۔ابریش نے کہا۔
“تو سنا دیں امی جان ، ابھی کلاس شروع ہونے میں ٹائم ہے”۔خوشی نے کہا۔
“ہاں تو ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سر مجھے ڈائگرام بناکر لانے کا کہا………!۔ابریش پھر شروع سے سب کو تفصیل بتانے لگی۔
پانچوں کی آپس میں دوستی ہوگئی تھی۔
بظاہر سب کچھ ٹھیک تھا ، پر کیا سب کچھ سچ میں ٹھیک تھا ؟
یا پھر اب صحیح معنوں میں بگڑنے والا تھا ؟
“نہ جانے اس کہانی میں”
“اب کونسا موڑ آئے گا”
“کون کیا کھوئے گا”
“کون کیا پائے گا”
“یہ ہم نہیں جانتے”
“یہ تو وقت ہی بتائے گا”
********************************
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *