Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan NovelR50802 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode34
Rate this Novel
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode01 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode02 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode03 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode04 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode05 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode06 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode07 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode08 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode09 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode10 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode11 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode12 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode13 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode14 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode15 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode16 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode17 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode18 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode19 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode20 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode21 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode22 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode23 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode24 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode25 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode26 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode27 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode28 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode29 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode30 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode31 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode32 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode33 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode34 (Watching)Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Last Episode
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode34
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode34
مراد اور ازر سے وہ مسلسل رابطے میں تھا۔پھر مراد نے اسے بتایا کہ اس نے وہ ہینڈی کیم اسکے گھر والوں تک پہنچا دیا ہے ، اور سب بہت شرمندہ ہیں۔پر کیونکہ خضر تب تک کسی مقام تک نہیں پہنچا تھا۔اسی لئے وہ پس پردہ ہی رہا۔کچھ وقت بعد خضر کی بنائی گئی پینٹنگز اچھی قیمتوں میں سیل ہونے لگی۔اس نے کچھ مقابلے بھی جیتے۔
اور پھر اب جب خضر نے چھوٹا سا ہی صحیح پر اپنی محنت سے پینٹنگ کی دنیا میں اپنا نام بنالیا تھا۔تو اب وقت آگیا تھا اس “راز” پر سے پردہ اٹھا دیا جائے۔
**************************************
“اور اس طرح سے اب میں آپ لوگوں کے سامنے ہوں”۔خضر نے ساری کہانی (سوائے مراد کے ابریش سے بدلا لینے والی بات کے) سب کو سنا کر آخر میں کہا۔سب خاموشی و حیرانگی سے اسکی باتیں سن رہے تھے۔
“تو جب تم نے یہ سب کچھ امی ابو کی وجہ سے کیا تھا ، تو پھر نوٹ میں ابریش کا نام کیوں لیا تھا ؟۔رخسانہ بھابھی نے پوچھا۔
“کیونکہ بھابھی میں ابریش کو بھی یہ سبق دینا چاہتا تھا کہ یوں غیر مردوں سے خوش اخلاقی سے پیش آنے پر ایسا بھی ہوسکتا تھا ، پھر جب ابریش کے نام پر سو سائیڈ نوٹ لکھنے کے بعد اس پر کیس ہوا اور اسکو عقل آگئی تو ان سب کی جو اصلی وجہ ہینڈی کیم میں تھی ، وہ مراد نے عفان کے ہاتھوں آپ لوگوں تک پہنچا دی ، اور یوں ایک تیر سے دو شکار ہوگئے”۔خضر نے مراد کے کہنے کے مطابق کہا۔
“بیٹا تمھیں اندازہ نہیں ہے کہ یہ احساس مجھے کس طرح دن رات نگل رہا تھا ، کہ میری انا کے آگے میں نے اپنا بیٹا قربان کردیا ، میں گھنٹوں سجدے میں روتا رہتا تھا ، کہ کاش ایک بار تم سے معافی مانگ سکوں”۔صداقت صاحب نے بتایا۔خضر کچھ لمحے تو انھیں دیکھتا رہا۔پھر بنا یہ سوچے سمجھے کہ آس پاس کافی لوگ موجود ہیں خضر صداقت صاحب کے پیروں پر گرگیا۔
“آپ بھی مجھے معاف کردیں ابو”۔خضر نے سرجھکا کر کہا۔آس پاس کے لوگ ان کی جانب متوجہ ہوگئے۔
“نہیں میرے بیٹے ، اٹھ جا ، میں تجھ سے ناراض نہیں ہوں”۔صداقت صاحب نے اسے واپس کھڑا کرتے ہوئے کہا۔
“اگر میں خودکشی کا ناٹک کرنے کے بجائے گھر چھوڑ کر چلا جاتا ، تو تب شاید آپ کو اپنی غلطی کا احساس نہیں ہوتا ، بلکہ آپ مجھ سے اور بدگمان ہوجاتے ، میں نے بس اسی لئے یہ قدم اٹھایا تا کہ آپکو احساس ہوجائے ، ابو میں تھک گیا تھا”۔خضر نے کہا۔اسکی آنکھوں سے آنسوں نکل رہے تھے۔صداقت صاحب نے اسے پھر گلے سے لگالیا۔
“کتنے سیلفش ہو تم خضر ، والدین سے ملتے ہی بیوی کو بھول گئے”۔مراد نے کہا۔سب اس کی جانب متوجہ ہوئے۔مراد ایک وہیل چیئر پر بیٹھی ہوئی لڑکی کے عقب میں کھڑا تھا۔
“اوہ سوری ! بس بتانے ہی والا تھا ، ابو یہ میری بیوی ہے رباب”۔خضر نے صداقت صاحب سے الگ ہوتے ہوئے بتایا۔سب کو ایک اور جھٹکا لگا۔
“السلام و علیکم”۔وہیل چیئر پر بیٹھی رباب نے مسکراتے ہوئے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام ، تم نے شادی کب کی؟۔صداقت صاحب نے اسے جواب دیتے ہوئے خضر سے پوچھا۔
“چھے مہینے پہلے ، رباب بھی ایک اسکیچ آرٹسٹ ہے ، اور ہماری ملاقات بھی پینٹنگ کلاسیس میں ہی ہوئی تھی ، جہاں سے ہم پینٹنگ اور اسکیچینگ سیکھ رہے تھے”۔خضر نے بتایا۔
“ماشاءاللّه ! بہت خوشی ہوئی ، بیٹا تمہارے گھر والے کہاں ہیں ؟۔آسیہ نے کہتے ہوئے رباب سے پوچھا۔
“آنٹی میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے ، میں ایدھی ہوم میں پلی بڑی ہوں”۔رباب نے تاسف سے بتایا۔
“تمہارا اس دنیا میں کوئی نہیں تھا ، پر اب سب ہیں”۔صداقت صاحب نے اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے شفقت سے کہا۔
“سب جانتے بوجھتے تم نے بھی ہمیں اندھیرے میں رکھا ازر”۔آسیہ نے کہا۔
“اندھیرے میں رکھا ، تب ہی تو اب یہ روشنی آئی ہے سب کی زندگیوں میں”۔ازر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“دل تو میرا بھی تجھے جوتے جوتے مارنے کا چاہ رہا ہے ، اتنا بڑا راز چھپایا تو نے مجھ سے”۔عفان نے مراد کا ہاتھ مروڑتے ہوئے کہا۔
“کیا کررہا ہے چھوڑ ، لگ رہی ہے مجھے”۔مراد نے کہا۔عفان نے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا۔
“اس دن پارک میں تجھے سب کچھ بتانے کے ارادے سے ہی بلایا تھا ، پر جب آدھی بات سن کر ہی تو نے میری دھلائی شروع کردی ، تو پھر میں نے بھی سوچ لیا کہ تجھے بھی آدھی بات ہی بتاؤں گا”۔مراد نے آہستہ آواز میں عفان سے کہا۔کہ کوئی اور نہ سن سکے۔عفان اسے گھور کر رہ گیا۔پھر جب تک پارٹی چلتی رہی سب وہاں موجود رہے۔آسیہ اور صداقت صاحب تو ایک منٹ کیلئے بھی خضر سے دور ہونے کو تیار نہیں تھے۔پارٹی کے بعد تو دونوں بضد ہوگئے تھے کہ خضر انکے ساتھ چلے۔بہت مشکل سے ازر اور خضر نے انھیں سمجھایا کہ وہ کل تک رباب کو لے کر ہمیشہ کیلئے واپس گھر آجائے گا۔پھر ازر انھیں لے کر گھر چلا گیا۔اب ایک کونے میں بس خضر ، رباب ، ابریش ، مراد ، عفان اور خوشی کھڑے ہوئے باتیں کررہے تھے۔
“جو بھی ہوا ، اچھا ہوا ، اگر ایسا نہ ہوتا تو مجھے اتنی اچھی بیوی کیسے ملتی”۔خضر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“نہیں ، مجھے اتنا شوہر کیسے ملتا پھر”۔رباب نے کہا۔
“اور تم لوگوں کو ایک مزے کی بات بتاؤں !۔
“ہاں بالکل بتاؤ”۔عفان نے کہا۔
“سب لوگوں کو میری آنکھوں سے وحشت ہوتی تھی ، پر رباب کو میری آنکھیں ہی سب سے زیادہ پسند ہیں ، بلکہ اسے سب سے پہلے میری آنکھوں پر ہی کرش ہوا تھا”۔خضر نے مسکراتے ہوئے بتایا۔
“واہ ! یہ تو بہت اچھی بات ہے”۔خوشی نے کہا۔
“ویسا شروع سے لے کر آخر تک یہ سارا شیطانی پلان مراد کا تھا”۔عفان نے کہا۔
“ہممم! اس سے تو میں بہت ناراض ہوں”۔ابریش نے کہا۔
“مجھ سے بعد میں ناراض ہو لینا ، ابھی فلحال سب یہاں سے چلنے کی کرو ، سب جا چکے ہیں”۔مراد نے کہا۔
“ہاں ، ابھی تو چلتے ہیں ، پر خضر کل یار تم پلیز کالج آجانا ، پھر سے پرانی یادیں تازہ کریں گے”۔عفان نے کہا۔
“چل ٹھیک ہے”۔خضر نے کہا۔اور پھر سب خضر سے اگلے دن ملاقات کا وعدہ لے کر اپنی اپنی منزلوں کی جانب روانہ ہوگئے۔
**************************************
سب سٹوڈنٹس کلاس لے کر باہر نکل رہے تھے۔یہ چاروں بھی کینٹین کی جانب ہی جارہے تھے۔
“ایکسکیوزمی !۔کسی نے پکارا۔چاروں رک کر پلٹے۔
“میرا نام خضر احسان ہے ، میں یہاں نیا ہوں ، تو کیا پچھلا کام کوور کرنے کیلئے مجھے آپ لوگ اپنے نوٹس دے دیں گے؟۔خضر نے پوچھا۔اور سب مسکرادیے۔
“بس صرف نوٹس ! تیرے لئے تو جان بھی حاضر ہے”۔عفان نے کہا۔
“نہیں ، مجھے فالتو چیزوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے”۔خضر نے مصنوئی بےنیازی سے کہا۔
“اوہ ہو ! چل گراؤنڈ میں چلتے ہیں”۔عفان نے کہا۔پھر پانچوں گراؤنڈ میں آکر اسی پیڑ کے نیچے اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ گئے۔
“ایسا لگتا ہے جیسے سب کل کی ہی بات ہے ، اور پلک جھپکتے ہی کتنا کچھ ہوگیا”۔عفان نے کہا۔
“ہممم! پتہ ہے ، کہتے ہیں ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ، پر میری کامیابی کے پیچھے ایک مرد ہے ، آج میں جس مقام پر ہوں ، اور ایک خوشحال و مطمئن زندگی گزار رہا ہوں ، تو اسکی وجہ صرف اور صرف مراد ہے”۔خضر نے کہا۔
“اگر اس رات مراد وہاں نہ آتا تو شاید آج میں یہاں نہیں ہوتا”۔خضر نے کہا۔
“نہیں یار ، تم یہاں اپنے ٹیلینٹ کی بنا پر ہو ، میں نے تو بس تمہاری تھوڑی سی مدد ہی کی ہے”۔مراد نے کہا۔
“کچھ بھی ہو ، پر میں ہمیشہ تمہارا احسان مند رہوں گا ، اور ابریش کا بھی ، کیونکہ سب سے پہلے ابریش سے ہی میری دوستی ہوئی تھی ، پھر تم لوگ ملے”۔خضر نے کہا۔
“ہاں ، اور اس دوستی کی بھی اچھی قیمت ادا کی تم نے مجھے”۔ابریش نے کہا۔
“ضروری تھی ، یہ سب تو بھلے ہی ایک ناٹک تھا ، پر اس میں ہر اس لڑکی کیلئے سبق تھا جو لڑکوں سے دوستی کرنا برا نہیں سمجھتی ، پر در حقیقت لڑکا اور لڑکی کی دوستی کے ایسے بہت سے نقصانات ہوسکتے ہیں ، کہ ایک لڑکی تو بس لڑکے کو دوست سمجھ کر اس سے بات چیت کرتی ہے ، پر لڑکا اسے غلط رنگ دے دیتا ہے ، اور بعد میں ایسے اور اس جیسے بہت سے حادثے ہوسکتے ہیں ، تو لہٰذا سب کی بھلائی اسی میں ہے کہ پودے کو پیڑ بننے سے پہلے ہی کاٹ دو ، یعنی ایسی دوستیاں کرو ہی نہ جن میں رسک ہو ، اور سب سے بڑھ کر اسلام میں منع ہو”۔خضر نے کہا۔
“ہممم! ٹھیک کہہ رہے ہو ، مما نے بھی مجھے بہت سمجھایا ہے”۔ابریش نے کہا۔
“اچھا تمھیں پتہ ہے خضر ! جب تم نے یہ خودکشی والا ناٹک کیا ناں ، تو اسکے کچھ ہی ٹائم بعد ابریش پر ایک جن عاشق ہوگیا تھا ، اب تم نے تو سوسائیڈ نوٹ اسی لئے لکھا تھا ناں کہ ابریش پر پولیس کیس بنے گا ، ابریش کو سبق مل جائے گا ، اور کچھ ہی دنوں میں معملا رفع دفع ہوجائے گا ، اور وہ واپس آنے والی بات اس پائنٹ آف ویو سے لکھی تھی کہ اس طرح واپس آؤ گے ، پر جب ابریش پر وہ جن عاشق ہوا تو ہم سب کو لگا کہ تمہاری روح واپس آگئی ہے ، اور تو اور ایک ڈھونگی بابا نے بھی آکر سب کو ڈرا دیا تھا کہ سب کچھ تمہاری روح ہی کررہی ہے ، کیونکہ سوسائیڈ نوٹ والی بات گھر کی اس ملازمہ کو بھی پتہ تھی ناں جو اس ڈھونگی بابا کو لے کر آئی تھی ، اسی لئے اس بابا نے اندھیرے میں تیر چلا کر سب کو ڈرا دیا تھا ، اور حیدر انکل سے پیسے بھی لے گیا تھا ، وہ تو پھر بعد میں ابریش کی دادا جی کسی پیر صاحب کو لے کر آئے ، اور انھوں نے ساری وضاحت کی کہ یہ روح وغیرہ کچھ نہیں ہوتی ، بلکہ ابریش پر شاید کوئی جن حاوی ہے ، اور پھر پتہ نہیں ان پیر صاحب نے ایک رات میں ایسی کیا پڑھائی کی اللّه کے حکم سے اگلے دن ہی ابریش ٹھیک ہوگئی”۔خوشی نے ساری تفصیل بتائی۔
“ہیں واقعی ! پر تمھیں یہ ساری تفصیل کیسے پتہ چلی؟۔خضر نے حیرانگی سے کہتے ہوئے پوچھا۔
“عفان نے بتائی تھی”۔خوشی نے بتایا۔
“اچھا تم بتاؤ ، کہ تم اور رباب پہلی بار کب ملے ؟ شادی تک بات کیسے پہنچی ؟ اور پڑھائی جاری ہے یا چھوڑ دی؟۔عفان نے موضوع بدلا۔
“میڈیکل کی فیلڈ تو چھوڑ دی ہے بس ، باقی پڑھائی جاری ہے ، اور پینٹنگ کا شوق تو مجھے تھا ، اپنے کام میں مزید نکھار لانے کیلئے میں نے پینٹنگ اور اسکیچینگ کی کلاسیس بھی لینا شروع کردی ، وہیں مجھے رباب ملی ، اسے بھی اسکیچینگ کا شوق تھا ، مجھے جس چیز نے اس کی جانب متوجہ کیا ، وہ تھی اسکی معذوری ، جس کی وجہ سے اکثر لوگ اسے حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے ، تو مجھے اپنا آپ یاد آتا تھا ، کہ مجھے بھی اکثر میری آنکھوں کی وجہ سے لوگ وحشت کی نگاہوں سے دیکھتے تھے ، جس طرح میری مدد کرنے سے سب کتراتے تھے ، ایسے ہی کوئی اسکی بھی مدد نہیں کرتا تھا ، تب میں نے سوچا کہ جو میرے ساتھ ہوا ، وہ میں اسکے ساتھ نہیں ہونے دوں گا ، اور ایک دو ملاقاتوں کے بعد ہی اسے شادی کی پیشکش کردی ، جسے اس نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر قبول کرلیا ، شاید وہ بھی کسی سہارے کے انتظار میں تھی ، وہ ایدھی ہوم میں رہتی تھی ، اور میں ہوسٹل میں ، اسی لئے میں نے ایک چھوٹا سا گھر رینٹ پر لے لیا ، اور نکاح کرکے ہم وہاں شفٹ ہوگئے ، اور یقین مانو ، پھر تو مجھے ایسا لگا کہ مجھے دنیا میں ہی جنت مل گئی ہے ، حقیقی معنوں میں پیار کسے کہتے ہیں ، یہ مجھے رباب سے شادی کے بعد پتہ چلا ، ابریش سے ہونے والی جس وقتی انسیت کو میں پیار سمجھا تھا ، وہ پیار نہیں تھا ، میری زندگی بہت پرسکون گزر رہی تھی ، ایسا لگتا تھا کہ جیسے میں اور رباب دو ادھوری کہانیاں تھے ، جو ایک دوسرے سے مل کر مکمل ہوگئیں ، ازر بھائی اور مراد کو ان سب کا علم تھا ، بلکہ ہمارے نکاح میں یہ دونوں گواہوں کی طور پر شریک بھی تھے ، اور وہ گھر بھی مراد نے ہی ڈھونڈا تھا ، پھر آہستہ آہستہ پینٹنگ کی دنیا میں میری پہچان بننے لگی ، ابھی تو ان سب کا آغاز ہی تھا ، میں اور آگے بڑھ کر واپس آنا چاہتا تھا ، پر پھر ازر بھائی نے بتایا کہ ابو بہت بیمار رہنے لگے ہیں ، اور کہیں زیادہ دیر نہ ہوجائے ، اسی لئے یہ سوچ کر میں منظر میں واپس آگیا”۔خضر نے تفصیل بتائی۔
“ساری باتیں ٹھیک ہیں ، پر ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی ، کہ مراد تم اس رات اچانک خضر کے گھر کیوں گئے تھے ؟ وہ بھی کھڑکی سے ؟۔ابریش نے پوچھا۔اسکے کہنے پر مراد اور عفان نے ایک دوسرے کو دیکھا۔کیونکہ اصل حقیقت تو صرف یہ دونوں ہی جانتے تھے۔
“ہاں یار ، یہ بات تو میرے ذہن میں بھی نہیں آئی ، تم اس رات وہاں کرنے کیا آئے تھے؟۔خضر نے پوچھا۔کیونکہ وہ بھی لاعلم تھا۔
“دراصل اس سے پہلے بھی ایک بار ہمارے فرسٹ سیمیسٹرز ختم ہونے کے بعد ہم لوگ ایسے ہی رات کو چھپ کر پارٹی میں گئے تھے ، تو اس رات بھی میرا پارٹی کا موڈ ہورہا تھا ، اسی لئے میں نے سوچا کہ پہلے خضر کو اسکے گھر سے پک اپ کرتا ہوں ، اور پھر عفان کو پک اپ کرکے تینوں پارٹی کریں گے ، پر خضر کے گھر پر یہ سارا تماشا ہوگیا تو پھر میں وہاں سے سیدھا گھر ہی آگیا”۔مراد نے جھوٹ بولا۔
“ہممم! اچھا ، تو یعنی آخر کار اب سب کی زندگیوں میں ہیپی اینڈینگ ہوگئی ہے”۔ابریش نے کہا۔
“ابھی کہاں سے اینڈینگ ، ابھی تو کتنا کچھ باقی ہے ، ابھی ہم چاروں کی پڑھائی مکمل ہونی ہے ، پھر ہم ڈاکٹر بنے گے ، اور ہماری شادیاں ہونی ہیں”۔مراد نے کہا۔
“ہاں ، وہ سب تو ہے ، پر یہ جو ساری ٹینشن چل رہی تھی اسکی ہیپی اینڈینگ ہوگئی”۔ابریش نے کہا۔
“ہممم! اچھا ویسے کالج میں نمبروں اور پوزیشن کے معملے میں بھلے ہی میں تم لوگوں سے پیچھے رہا ، پر شادی کے معملے میں تم سے جیت گیا میں”۔خضر نے کہا۔
“ہاں یہ تو ہے ، اور مجھے تو لگتا ہے کہ ہماری شادی میں یہ اپنے بچوں سمیت شرکت کرے گا”۔عفان نے کہا۔
“اچھا رباب کو یہ جو پرابلم ہے یہ پیدائشی ہے کیا ؟۔ابریش نے پوچھا۔
“نہیں ، بچپن میں ایک ایکسیڈنٹ کی وجہ سے وہ معذور ہوگئی ہے ، پر اسکی ڈیلیوری کے بعد ان شاءاللّه بہت جلد میں اسکا اپریشن کرواؤں گا ، جس سے کہ وہ عام لوگوں کی طرح چل پھر سکے گی”۔خضر نے بتایا۔
“ہیں ڈیلیوری !۔ابریش نے حیرانگی سے کہا۔
“مطلب تم پاپا بننے والے ہو ؟۔عفان نے بھی حیرت سے پوچھا۔
“سچی !۔چاروں نے حیرانگی سے یک زبان پوچھا۔
“ہممم! مچی”۔خضر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
**************************************
یہ تو محض ایک کہانی تھی۔جو ہر کہانی کی طرح اپنے انجام کو پہنچ گئی۔پر ہمارے ارد گرد ایسی لاتعداد زندہ کہانیاں گردش کرتی ہیں۔
ناہید نے اپنی بہن سے جھوٹ بولا غلط بیانی کی ، جس کی وجہ سے مراد گمراہ ہوگیا ، اور غلط راستے پر نکل پڑا ، اسی لئے غلط بیانی نہیں کرنی چاہئے۔
مراد نے غصہ دیکھایا ، جو اس کی عقل کو کھاگیا ، اور بات کو اپنی مرضی کا معنی و مفہوم پہنا کر بدلا لینے نکل پڑا ، پر حقیقت آشکار ہونے پر ساری بازی ہی پلٹ گئی ، پر وقت رہتے ہی وہ سب ٹھیک کرنے میں کامیاب ہوگیا ، ورنہ اسکے پاس سوائے پچھتاوے کے اور کچھ نہیں بچتا ، اسی لئے کوئی بھی بات سن کر بنا تصدیق کے ہی اس پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے ، اور بھروسہ کر بھی لیا ہے تو خود سے کوئی فیصلہ کرکے اس پر صحیح کی مہر لگا کر اسے عملی جامہ نہیں پہنانا چاہئے۔
ابریش نے ہمدردی میں آکر خضر کی مدد کی ، پر اس سے اتنی خوش اخلاقی سے پیش آگئی کہ خضر کی سوچ کو دوسرا رخ مل گیا ، اسی لئے اسلام نے غیر مردوں سے خوش اخلاقی سے پیش آنے والی عورتوں کو سب سے زیادہ بداخلاق قرار دیا ہے ، کیونکہ اسلام کے ایک احکام کے پیچھے بھی دس مصلحتیں پوشیدہ ہیں ، جنہیں ہم ناقص عقل انسان نہیں سمجھ سکتے۔
خضر کو کبھی اپنے گھر سے وہ خاص توجہ اور پیار نہیں ملا جس کا ہر بچہ حقدار ہوتا ہے ، اسی لئے وہ ابریش کی ہمدردی کو پیار سمجھ بیٹھا ، اسی لئے ماں باپ کو ہمیشہ اپنے بچوں کو اتنا پیار ، اتنا مان ، اتنا اعتماد دینا چاہئے ، کہ کوئی اور اسکا مقابلہ نہ کرسکے۔
خضر کی آنکھوں کی وجہ سے اکثر لوگ اس سے دور بھاگتے تھے ، اور اسکی پراسرار شخصیت کی وجہ سے اکثر لوگوں کو کہانی پڑھتے ہوئے ایسا لگا ہوگا کہ جیسے سب کے پیچھے وہی ہے ، کیونکہ ہم انسان کے ظاہری حلیے سے اسے جج کرنے لگ جاتے ہیں ، جبکہ وہ بھی سب کی طرح عام انسان ہی تھا ، بس اسکی تخلیق ذرا سی مختلف تھی ، اور ہم انسانوں میں تو عادت ہوتی ہے ہر چیز میں نقص تلاش کرنے کی ، اسی لئے اگر کوئی انسان دکھنے میں یا کسی اور چیز میں دوسروں سے مختلف ہو تو ضروری نہیں ہے کہ اس میں کچھ گڑبڑ ہی ہے ، وہ بھی ایک انسان ہے ، اسکے سینے میں بھی دل ہے ، جو شاید ہمارے اس طرح کی رویوں کی وجہ سے ٹوٹ سکتا ہے ، اسے بھی اللّه نے بنایا ہے ، اور اللّه پاک کی بنائی ہوئی کوئی بھی چیز عیب دار یا مذاق کیلئے نہیں ہوتی۔
خضر ڈاکٹر نہیں بننا چاہتا تھا ، وہ دوسرا پیشہ اپنانا چاہتا تھا ، پر اسکے والدین نے اسے اجازت نہیں دی ، یہ سوچ کر ہماری اولاد کو بھی دوسروں کی اولاد کی طرح یا اس سے بھی آگے نکلنا ہے ، ارے زندگی کوئی ریس نہیں ، زندگی تو نام ہے سیکھنے سیکھانے ، گر کر اٹھنے کا ، اٹھ کر گرنے کا ، احساس کرنے کا ، پر جب وہ ان سب سے دلبرداشتہ ہوکر بہت دور چلا گیا (ناٹک کرتے ہوئے) تب سب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ، اور کسی کے چلے جانے کے بعد احساس نہیں صرف پچھتاوا ہوتا ہے ، اسی لئے احساس کرنا ہے تو زندگی میں ہی کرو ، یہ تو ایک کہانی تھی ، اور مراد کے صحیح وقت پر وہاں آجانے سے خضر بچ گیا ، پر ضروری نہیں ہے کہ حقیقت میں بھی ایسا ہو ، کیا پتہ اس ریس سے تنگ آکر روز کتنے ہی لوگ خودکشی کا سوچتے ہوں ؟
