Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan NovelR50802 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode02
Rate this Novel
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode01 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode02 (Watching)Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode03 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode04 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode05 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode06 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode07 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode08 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode09 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode10 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode11 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode12 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode13 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode14 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode15 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode16 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode17 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode18 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode19 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode20 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode21 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode22 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode23 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode24 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode25 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode26 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode27 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode28 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode29 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode30 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode31 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode32 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode33 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode34 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Last Episode
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode02
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode02
“اچھا میں بس دو منٹ میں آیا”۔فیضان نے جھولے پر سے اٹھتے ہوئے کہا۔اور جلدی سے نیچے کی جانب گیا۔انعم نے نہیں پوچھا کہ وہ کہاں جارہا ہے۔کیونکہ اسے پتہ تھا کہ وہ کہاں گیا ہوگا۔اتنے عرصے میں وہ فیضان کو اتنا تو پہچان ہی گئی تھی۔تھوڑی دیر میں فیضان واپس آیا تو اسکے ہاتھ میں دو ونیلا آئسکریم کے کپ تھے۔انعم یہ دیکھ کر مسکرادی۔
“اب ہم بڑھے ہوگئے ہیں ڈاکٹر صاحب ، ایسی باتیں اچھی نہیں لگتی اب”۔انعم نے فیضان کے واپس بیٹھنے پر مسکراتے ہوئے کہا۔
“کس نے کہا ! کوئی بڑھے نہیں ہوئے ہیں ہم ، یاد ہے اس دن جو علیزے کی دوست نوٹس لینے یہاں گھر آئی تھی ، تو اسے لگا تھا کہ شاید میں عفان ہوں ، علیزے کا بڑا بھائی ہوں ، اور ایسی باتیں اسی طرح اچھی لگتی ہیں ، مطلب شوہر اور بیوی کے درمیان ، نا کہ گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کے درمیان”۔فیضان نے کہا۔
***********************
صبح کے چھے بج رہے تھے۔وہ تھوڑی دیر قبل ہی فجر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی۔آسمان پر اب ہلکی ہلکی روشنی ہونا شروع ہوگئی تھی۔تو وہ اپنا موبائل لے کر گیلری میں آگئی۔اور کسی کا نمبر ڈائل کرکے فون کان سے لگالیا۔اور کال ریسو ہونے کا انتظار کرنے لگی۔
“ہیلو ! کہاں تھے اتنی دیر سے؟۔کال ریسو ہوتے ہی اس نے کہا
“باتھروم میں تھا ، بولو ، اس وقت کیوں فون کیا؟۔مخالف نے بتاتے ہوئے پوچھا۔
“پلان یاد ہے ناں ! پتہ ہے ناں کیا کرنا ہے !۔اس نے پوچھا۔
“ہاں ہاں یاد ہے ، اور کل ہم سب کچھ ڈسکس کرتوچکے ہیں ، پھر اب کیوں پوچھ رہی ہو!۔مخالف نے کہا۔
“ایسے ہی ، بس میں کوئی گڑبڑ نہیں چاہتی کسی کو بھی شک نہیں ہونا چاہئے ، سب کچھ بالکل پلان کے مطابق ہونا چاہئے ، “۔اس نے پرعزم لہجے میں کہا۔
“ہاں ہاں ، کوئی گڑبڑ نہیں ہوگی ، میں وقت پر ہی ہمارے پلان پر عمل شروع کردوں گا”۔مخالف نے کہا۔
“گڈ !۔اس نے کہا۔
*************************
دوپہر کا ایک بج رہا تھا۔اور سب ڈاکٹرز اس وقت لنچ کرنے کینٹین کی جانب جارہے تھے۔فاریہ بھی کوریڈور سے ہوتی ہوئی وہیں جارہی تھی۔
“ایکسکیوزمی !۔کسی نے پکارا۔فاریہ رک کر پلٹی۔
“کیا آپ میرے ساتھ لنچ کرنے چلیں گی ؟۔حیدر نے قریب آتے ہوئے شرارت سے پوچھا۔
“چلیں ! آئی ڈونٹ مائنڈ ، پر صرف لنچ کرنے”۔فاریہ نے بھی قریب آتے ہوئے معنی خیزی سے کہا۔
“اگر کچھ اور موڈ ہے ، تو حکم کریں”۔حیدر نے بھی معنی خیزی سے کہا۔
“اہم اہم ! ایکسکیوزمی ، یہ پبلک پلیس ہے”۔احمر نے قریب آتے ہوئے گلا کھنکھارتے ہوئے کہا۔
“تو ! میں اپنی سگی بیوی سے بات کررہا ہوں”۔حیدر نے کہا۔
“خود تو آپ کرتے نہیں ہیں ، اب دوسروں کو تو کم از کم اپنی لائف انجوئے کرنے دیں”۔ناہید نے بھی ان لوگوں کے قریب آتے ہوئے احمر سے کہا۔
“بھئی ہم اب بوڑھے ہوگئے ہیں ، ہاں ان پر البتہ ابھی بھی جوانی چھائی ہوئی ہے”۔احمر نے شرارت سے کہا۔
“بالکل ، چھائی ہوئی ہے ، اور ایسے ہی چھائی رہے گی”۔حیدر نے کہا۔
“ہممم! بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ یہی تو پختہ عمر ہوتی ہے”۔فیضان نے بھی کہا۔
“کیا ہورہا ہے بھئی ! اتنا ٹریفک کیوں جام ہے یہاں؟۔فرقان اور مومنہ نے بھی ان لوگوں کے قریب آتے ہوئے پوچھا۔
“کچھ نہیں ، بس سب کینٹین کی طرف جارہے تھے ، چلیں بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں”۔فاریہ نے کہا۔اور سب کینٹین کی جانب بڑھ گئے۔
****************
“ویسے بہت اچھا کیا تم دونوں نے ، جو تھوڑی دیر کیلئے یہاں آگئے ، کم از کم پرانی یادیں ہی تازہ ہوگئیں”۔فرقان نے کہا۔ سب لوگ اس وقت کینٹین میں موجود تھے۔
“ہممم! بس یادیں ہی رہ گئیں ہیں ، کاش وقت رہتے ہی میں سمبھال گیا ہوتا”۔احمر نے ایک سرد آہ بھرتے ہوئے کہا۔
“ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ہے یار”۔حیدر نے احمر کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا۔
“وقت بھی کتنی تیزی سے گزرتا ہے ناں ! لگتا ہی نہیں ہے کہ ہم لوگوں کو پچیس سال ہوگئے ہیں ، ایسا لگتا ہے جیسے کل کی ہی بات ہو”۔انعم نے کہا۔
“ہممم! اور اگر کوئی تم لوگوں کو تمہارے بچوں کے ساتھ دیکھ لے ، تو یقین ہی نہیں کرے گا کہ یہ تمہارے بچے ہیں ، ایسا لگتا ہے چھوٹے بہن بھائی ہیں انکے”۔مومنہ نے بھی کہا۔
“ارے بچوں سے یاد آیا ، میں نے سنا کہ مراد واپس آرہا ہے لندن سے ، سچ ہے کیا؟۔فرقان نے پوچھا۔
“جی سچ ہے ، اور ایسا ان میڈم کی وجہ سے ہوا ، مراد ایک ہفتہ پہلے پاکستان آچکا ہے”۔احمر نے ناہید کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“کیا مطلب ؟۔فرقان نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“مطلب کہ انکا دل نہیں لگ رہا اپنے بیٹے کے بغیر ، سب لوگ اپنے بچوں کو اعلی تعلیم کیلئے باہر بھیجتے ہیں ، اور انہوں نے اچھے خاصے لندن میں پڑھتے ہوئے بیٹے کو یہاں واپس بلالیا ہے ، کہ باقی کی پڑھائی یہاں پوری کرو”۔احمر نے بتایا۔
“تو اس میں غلط ہی کیا ہے ، باقی سب کے بچے بھی تو یہاں ہی پڑھ رہے ہیں ، خود ہم نے بھی یہاں ہی پڑھا ہے ، ایک ہی تو بیٹا ہے میرا ، اور وہ بھی اتنی دور ، بس میں نے واپس بلالیا اسے”۔ناہید نے کہا۔
“ہممم! صحیح بات ہے ، کچھ غلط نہیں کیا آپ نے ، تو پھر کب ملوارہے ہیں مراد سے؟۔فاریہ نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“کل ملواتے ہیں ، اسے یہ ہوسپٹل دیکھنے کا بھی بہت شوق ہے ، جہاں ہم نے کام کیا ، تو اسے یہاں ہی لے لاؤں گی کل”۔ناہید نے بتایا۔
****************
رات کے نوں بج رہے تھے۔اور یہ چھیوں ابھی ابھی ہوسپٹل سے واپس آئے تھے۔جیسے ہی یہ لوگ ہال میں داخل ہوئے تو حیران ہوگئے۔ہال کی لائٹیں بند تھیں۔اور ہال میں کوئی بھی نہیں تھا۔ورنہ روز عموماً اس وقت ہال میں چہل پہل ہی رہتی تھی۔
“یہ گھر میں اتنا سناٹا کیوں ہورہا ہے؟۔حیدر نے کہا۔
“پتہ نہیں ، اتنی جلدی سوتے تو نہیں ہیں سب”۔فیضان نے کہا۔
“خدانخواستہ کوئی بات تو نہیں ہوگئی گھر میں!۔مومنہ نے خدشہ ظاہر کیا۔ابھی یہ لوگ ناسمجھی سے سب سمجھنے کی کوشش کرہی رہے تھے کہ زوردار دھماکے کی آواز آئی اور بہت ساری ڈسکو ان سب پر آکر گری۔اور اچانک ہال کی لائٹیں ان ہوگئیں۔
۔”Happy 25th Wedding Anniversary”۔سب نے یک زبان کہا۔اور اب ان لوگوں کو سب سمجھ میں آیا۔
“اچھا ! تو یہ سب تم لوگوں کا پلان تھا!۔حیدر نے اپنے اوپر سے ڈسکو جھاڑتے ہوئے کہا۔
“ان لوگوں کا نہیں ، صرف میرا پلان تھا بابا”۔ابریش (حیدر کی بیٹی)نے چہک کر کہا۔
“اچھا ! یہ سب اکیلے کیا ہے تم نے! اور وہ جو صبح صبح چھے بجے مجھے فون کیا تھا وہ کیا تھا !۔عفان (فیضان کے بیٹے)نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
“نہیں ، پلان میرا تھا ، پر ہیلپ سب نے کی ہے”۔ابریش نے وضاحت کی۔
“یہ کیا پاگل پن ہے ابریش ! بھلا یہ کوئی ہماری پہلی اینیورسیری ہے کیا !۔فاریہ نے کہا۔
“ارے چچی چھوڑیں ان سب باتوں کو ، چلیں اب جلدی سے آکر کیک کاٹیں ناں آپ لوگ ، ابریش آپی اور میں نے مل کر بنایا ہے آپ لوگوں کیلئے کیک”۔علیزے (فیضان کی بیٹی) نے کہتے ہوئے بتایا۔
“ہاں بھئی ! دوپہر سے دونوں کچن میں لگی پڑی ہوئی تھیں ، پتہ نہیں کیا کیا ہے دونوں نے”۔فیروزہ نے بھی بتایا۔
“بھئی اب آئیں ناں جلدی سے کیک کاٹیں ، ہمیں کھانا بھی ہے پھر”۔ابرار (حیدر کے بیٹے) نے کہا۔یہ لوگ ہال میں رکھی ٹیبل کے قریب آگئے۔جس پر ہارٹ شیپ میں ایک ڈبل کیک رکھا ہوا تھا۔اور کیک کے ٹاپ پر 25 کی کینڈلز لگی ہوئی تھیں۔
“یہ لیں چاچو آپکی چھری ، یہ نیچے والا کیک آپ کا اور چچی کا ہے ، اور لیں بابا آپکی چھری ، یہ اوپر والا کیک آپکا اور مما کا ہے”۔ابریش نے دو ریبن بندھی ہوئی چھریاں حیدر اور فیضان کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔دونوں نے چھری لے لی۔
“چلیں اب جلدی سے کاٹیں”۔ابریش نے کہا۔
“کس کو؟۔حیدر نے پوچھا۔
“افو ! بابا کیک کو”۔ابریش نے کہا۔ایک چھری حیدر اور فاریہ نے پکڑی۔ایک چھری انعم اور فیضان نے۔اور کیک کی جانب بڑھائی۔
“ایک منٹ ، ایک منٹ”۔اچانک عفان چلایا۔
“اب کیا ہوا؟۔فیضان نے پوچھا۔
“کینڈلز تو جلائی ہی نہیں”۔عفان نے کہا۔
“افو بھیا ، آپ بھی ناں سارے کام آدھے ادھورے کرتے ہیں ، ابرار جلدی سے کینڈلز جلاؤ”۔علیزے نے عفان سے کہتے ہوئے ابرار کو کہا۔اس نے جلدی سے کینڈلز جلائی۔اور پھر زوردار تالیوں کے بیچ چاروں نے کیک کاٹا۔پہلے چاروں نے ایک دوسرے کو کھلایا۔پھر بڑوں کو۔اور پھر بچوں کو۔
“بس دکھنے میں ہی اچھا لگ رہا ہے کیک”۔عفان نے کیک کھاکر عجیب سا منہ بناکر کہا۔
“ہیں ! اچھا نہیں بنا کیک؟۔ابریش اور علیزے نے افسردگی سے یک زبان پوچھا۔
“ارے نہیں ، بہت اچھا ہے ، تنگ کررہا ہے یہ تم دونوں کو”۔ہمدان صاحب نے کہا۔
“ارے کیوں جھوٹ بول رہے ہیں دادا جی ، بالکل بھی اچھا نہیں ہے ، یہ بھی کوئی کیک ہوتا ہے ! اس سے اچھا تو وہ کیک ہوتا ہے جو کالج کی کینٹین میں تیس روپے کا ملتا ہے”۔عفان نے کیک کھاتے ہوئے کہا۔
“ہاں تو پھر کیوں ٹھونسنے میں لگے ہوئے ہو ! رکھو واپس پھر یہ بچا ہوا پیس ابھی کے ابھی”۔ابریش نے غصے سے کہا۔
“میں تو نہیں رکھ رہا”۔عفان نے ڈھیٹ پن سے کہا۔
“چلو بچوں ، اب کھانا کھالیتے ہیں سب”۔ممتاز نے کہا۔
“ہممم! آپ لوگ کھانا لگائیں ہم لوگ بھی تب تک فرش ہوکر آتے ہیں”۔حیدر نے کہا۔
********************
اگلے دن دوپہر کے دو بج رہے تھے۔ابریش کالج سے آکر اپنے کمرے میں لیٹی کوئی کتاب پڑھ رہی تھی۔کہ تب ہی سائیڈ ٹیبل پر رکھا اسکا فون بجا۔ابریش نے موبائل اٹھا کر دیکھا تو فاریہ کی کال تھی۔
“جی مما!۔ابریش نے موبائل کان سے لگاکر پوچھا۔
“ابریش ! میرے کمرے میں جاؤ ، اور الماری میں دیکھو ایک بیلو کلر کی فائل ہوگی ، سدرہ جلیل نامی پیشنٹ کی ، عفان یا ابرار میں سے کسی سے کہو کہ مجھے یہاں ہوسپٹل آکر دے جائیں، ارجنٹ چاہئے”۔فاریہ نے بتایا۔
“پر مما عفان اور ابرار تو دونوں ہی گھر پر نہیں ہیں ، عباد بھائی بھی دوستوں کے ساتھ گئے ہوئے ہیں ، اور باقی مرد حضرت آفس میں ہیں”۔ابریش نے بتایا۔
“اچھا ! تو پھر ایسا کرو ڈرائیور کے ہاتھ بھیج دو”۔فاریہ نے کہا۔
“میں آجاؤں مما ڈرائیور کے ساتھ فائل لے کر؟۔ابریش نے پوچھا۔
“نہیں ، بس ڈرائیور کو دے دو ، وہ لے آئے گا”۔فاریہ نے کہا۔
“مما پلیز آنے دیں ناں ، فائل ہی تو دینی ہے”۔ابریش نے منت کی
“اچھا ٹھیک ہے ، جلدی آؤ پھر”۔فاریہ نے کہا۔
“اوکے ، بس ابھی آئی”۔ابریش نے خوشی سے کہا۔
****************
ابریش فائل لے کر ہوسپٹل آگئی تھی۔پر فاریہ اپنے روم میں نہیں تھی۔ابریش فاریہ کا انتظار کرنے لگی۔اور ٹیبل پر پڑی چیزوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگی۔تب ہی اسکیتھسکوپ اور فاریہ کا کرسی کی پشست پر ڈلا وائٹ کوٹ دیکھ کر اسکو مستی سوجھی۔ابریش نے کوٹ پہنا اور پروفیشنل ڈاکٹرز کی طرح اسکیتھسکوپ گردن پر ڈال لیا۔اور فاریہ کی کرسی پر بیٹھ کر فائل کھول لی۔کیونکہ مستقبل میں اسے بھی یہی کام کرنا تھا۔تو ٹائم پاس کرنے کیلئے دیکھنے لگی کہ مستقبل میں اسے کیسا لگے گا۔ابریش ابھی انہی سب الٹی سیدھی حرکتوں میں مصروف ہی تھی کہ روم کا دروازہ کھلا۔ابریش نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا۔ایک بائیس تائیس سالہ نوجوان لڑکا کمرے میں داخل ہوا۔ابریش گھبراگئی۔
“السلام و علیکم”۔لڑکے نے بہت ہی مہذب طریقے سے مسکراکر سلام کیا۔ابریش نے کوئی جواب نہیں دیا۔بس گھبرائی ہوئی نظروں سے لڑکے کو دیکھتی رہی۔
“میں نے کہا السلام و علیکم”۔لڑکے نے جواب نا پاکر پھر کہا۔اور ٹیبل کے قریب آگیا۔
“وعل…وعلیکم السلام”۔ابریش نے گھبرا کر جلدی سے جواب دیا۔
“آپ اتنا گھبرا کیوں رہی ہیں ؟ میں آپکو کھا تھوڑی جاؤں گا”۔لڑکے نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“نن…نہیں تو….میں کب ڈری!۔ابریش نے خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
“لگ تو رہا ہے ، ویسے میرے خیال میں نا تو میرے نوکیلے دانت ہیں ، نا لال لال آنکھیں اور نا ہی بڑے بڑے بال ، ہے ناں!۔لڑکے نے کہتے ہوئے تائید چاہی۔ابریش نے کوئی جواب نہیں دیا۔تب ہی روم کا دروازہ کھلا۔ فاریہ اور ناہید اندر داخل ہوئی۔دونوں نے دروازے کی جانب دیکھا۔
“یہ رہا مراد”۔ناہید نے کہا۔
“ماشاءاللّه ! کتنے بڑے ہوگئے ہو”۔فاریہ نے خوشگوار حیرت سے کہا۔
“السلام و علیکم ، جی ، اور کوئی راستہ ہی نہیں تھا بڑے ہونے کے علاوہ”۔مراد نے شرارت سے کہا۔
“وعلیکم السلام ، چلو اچھا کیا یہ راستہ اختیار کرکے۔فاریہ نے بھی مسکراتے ہوئے کہا۔
“مما ! یہ رہی آپکی فائل ، اب میں جاؤں؟۔ابریش نے پوچھا۔
“ہاں ٹھیک ہے ، تم جاؤ”۔فاریہ نے کہا۔ابریش جلدی سے روم سے باہر نکل گئی۔پر اسے ایسا محسوس ہوا کہ کسی کی نگاہوں نے باہر نکلنے تک اسکا پیچھا کیا ہے۔
“آؤ بیٹھو ناں بیٹا”۔فاریہ نے کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
********************
جاری ہے
