Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode19

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode19

عفان نے فون پر مراد کو بھی خضر کے بارے میں بتا دیا تھا۔جسے سن کر وہ بھی شاک میں آگیا تھا۔اس نے یہ بات احمر کو بتائی اور ابھی دونوں “علی ولا” کے ڈرائینگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔
“آج کل کے بچوں نے تو ، محبت ، شادی ، زندگی ، موت کو مذاق سمجھ لیا ہے”۔احمر نے کہا۔
“ٹھیک کہہ رہے ہو یار ، بتاؤ یہ بھی کوئی عمر ہوتی ہے ان سب حرکتوں کی ، ان چند لوگوں کی وجہ سے ماں باپ کی اکثریت پھر اپنے بچوں اور بھروسہ کرنے سے ڈرتی ہے”۔فرقان نے بھی تائید کرتے ہوئے کہا۔
“ابریش کا کیا کہنا ہے اس بارے میں؟۔احمر نے پوچھا۔
“یہی کہ اس نے اس لڑکے سے ایسی کوئی بدتمیزی نہیں کی تھی کہ وہ خودکشی ہی کرلے ، اسے اندازہ نہیں تھا کہ بات اتنی بڑھ جائے گی”۔فرقان نے بتایا۔
“وہ لڑکا تم دونوں کا کلاس فیلو تھا ناں ! تم دونوں بتاؤ کہ کس طرح کا لڑکا تھا وہ؟۔فیضان نے مراد اور عفان سے پوچھا۔
“ٹھیک ہی تھا پاپا ، بس اسکی آنکھیں عام لوگوں سے ذرا مختلف تھیں تو لوگ ذرا اس سے کم ہی بات چیت کرتے تھے”۔عفان نے بتایا۔
“کیا مطلب ؟ کیسی تھیں اسکی آنکھیں؟۔احمر نے پوچھا۔
“مطلب کہ ڈیڈ بلی کی طرح تھی اسکی آنکھیں ، کہ اس سے پہلی مرتبہ ملنے میں خوف آتا تھا”۔مراد نے بتایا۔
“اور شروع میں تو میں اور مراد بھی اس سے گریز ہی کرتے تھے ، پر وہ ہیں ناں حاتم تائی کی جانشیں ابریش صاحبہ ، پہنچ گئیں تھیں اسکی مدد کرنے ہمدردی میں آکر”۔عفان نے بتایا۔
“اور اسی ہمدردی کے جذبے کو میرے خیال میں اس نے غلط رنگ دے دیا”۔مراد نے بات مکمل کی۔
“یار مجھے تو رہ رہ کر وہ سو سائیڈ نوٹ تشویش میں مبتلا کررہا ہے جو اس لڑکے نے لکھا ہے خودکشی سے پہلے”۔فیضان نے کہا۔
“کیا لکھا ہے؟۔احمر نے پوچھا۔
اس نے لکھا تھا کہ ” مجھے سیدھے راستے پر چل کر میری چاہت نہیں ملی ، اب مجبورً مجھے یہ راستہ اختیار کرنا پڑرہا ہے ، میں جیتے جی اسے حاصل نہیں کرسکا ، پر اب مر کر بھی اسے نہیں چھوڑوں گا ، میں جارہا ہوں ابریش ، پر واپس آنے کیلئے” اسکا کیا مطلب ہوسکتا ہے ؟ اب مرنے کے بعد بھلا وہ کیسے واپس آسکتا ہے؟۔فیضان نے بتاتے ہوئے کہا۔سب سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
“مرنے کے بعد واپس آنے کا ایک ہی طریقہ ہے”۔مراد نے کہا۔
“کونسا طریقہ؟۔عفان نے پوچھا۔
“بنا جسم کے ، صرف روح”۔مراد نے بتایا۔
***********************************
خضر کی موت میں یہ بات واضح تھی کہ اس نے خودکشی کی ہے۔لہٰذا شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی۔اسی لئے بنا پوسٹ مارٹم کے ہی عشاء بعد اسکی تدفین کردی گئی۔جس میں “علی ولا” کے تمام مرد حضرت احمر اور مراد بھی شامل تھے۔
“صداقت صاحب ، آپ سے کچھ بات کرنی ہے”۔حیدر نے پکارا۔سب لوگ اب تدفین کے بعد قبرستان سے واپس جارہے تھے۔
“جی بولیں”۔صداقت صاحب نے کہا۔حیدر انھیں لے کر ایک سائیڈ پر دیوار کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔
“دیکھئے صداقت صاحب ، اولاد کی تکلیف کیا ہوتی ہے ، میں سمجھ سکتا ہوں ، میرے بھی بچے ہیں ، جب انھیں کوئی چھوٹی سی بھی تکلیف پہنچتی ہے تو میں اور میری بیوی تڑپ اٹھتے ہیں ، اور آپ نے تو اپنا جوان بیٹا کھویا ہے ، میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ تکلیف میں ہیں ، پر کچھ ضروری باتیں بھی ہیں جن کو واضح کرنا بہت ضروری ہے”۔حیدر نے تہمید باندھی۔
“آپ ایک بار باپ کی نہیں ایک عام انسان کی حیثیت سے سوچیں کہ ان سب میں میری بیٹی کی غلطی کہاں ہے؟ ٹھیک ہے کہ بچے ایک ساتھ پڑھتے تھے ، ساتھ اٹھتے بیٹھتے ، ہنسی مذاق میں آپکے بیٹے نے کچھ الگ محسوس کرنا شروع کردیا ہو ، پر میری بیٹی نے تو اسے ان سب پر نہیں اکسایا ناں ! وہ تو بس اسے اپنا دوست سمجھتی تھی ، اس دوستی کو غلط رنگ آپکے بیٹے نے دیا ہے ، اور نا صرف غلط رنگ دیا ہے ، بلکہ حقیقت آشکار ہونے پر غلط قدم بھی اٹھالیا ، اب کچھ بھی کرنے سے آپکا بیٹا تو واپس نہیں آئے گا ناں ! اور اسلام میں بھی خودکشی اسی لئے حرام ہے کیونکہ اس میں اپنا ہی نقصان ہوتا ہے ، اب ہم صرف اسکی مغفرت کی دعا ہی کرسکتے ہیں ، آپ سمجھ رہے ہیں ناں میری بات!۔حیدر نے کہتے ہوئے تائید چاہی۔
“جی بالکل ، سمجھ رہا ہوں ، آپکی بات درست ہے کہ اب کچھ بھی کرنے سے میرا بیٹا تو واپس نہیں آئے گا ، اور دیکھا جائے تو اس میں آپکی بیٹی کی بھی کوئی غلطی نہیں ہے ، میں کل ہی یہ کیس واپس لے لوں گا”۔صداقت صاحب نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔
“اللّه آپکی مشکل آسان کرے ، آپکے بیٹے کی مغفرت فرمائے ، اور آپ لوگوں کو صبر دے”۔حیدر نے کہا۔
“امین”۔صداقت صاحب نے کہا۔
“چلیں ابو”۔ازر نے آکر کہا۔پھر صداقت صاحب اور ازر حیدر سے گلے مل کر اپنی گاڑی کی جانب چلے گئے اور حیدر اپنی گاڑی کی جانب آگیا۔جہاں فیضان اسکا منتظر تھا۔
“کیا بات کررہے تھے تم ان سے؟۔حیدر کے کار میں بیٹھتے ہی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے فیضان نے پوچھا۔
***********************************
فاریہ عشاء کی نماز پڑھ کر اٹھی تو ابریش سامنے ہی صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔
“کیا ہوا ؟۔فاریہ نے جائے نماز طے کرتے ہوئے پوچھا۔
“ڈر لگ رہا تھا”۔ابریش نے بتایا۔
“کس سے؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“پتہ نہیں”۔ابریش نے کہا۔فاریہ نے جائے نماز اپنی جگہ پر رکھی اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔
“ادھر آؤ”۔فاریہ نے اسے بلایا۔وہ آہستہ سے چلتے ہوئے اسکے سامنے آکر بیٹھ گئی۔
“کیا ہوا ہے ؟ کیوں پریشان ہو ؟ حیدر نے کہا ہے ناں کہ پریشان مت ہو”۔فاریہ نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔ابریش کچھ دیر تو ایسے ہی خاموش بیٹھی رہی۔پھر فاریہ کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی۔
“یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے ناں!۔ابریش نے کہا۔
“ہاں”۔فاریہ نے کہا۔ابریش نے چونک کر سر اٹھاکے فاریہ کی جانب دیکھا۔پھر واپس سر اسکی گود میں رکھ لیا۔
“تمھیں پتہ ہے اسی لئے اسلام لڑکا اور لڑکی کی دوستی کی اجازت نہیں دیتا ، کیونکہ شیطان آدم ذات کو نقصان پہنچانے کیلئے ایسے ہی کسی موقے کی تاک میں ہوتا ہے ، تم نے ہمدردی میں آکر بطور دوست اس کی جانب ہاتھ بڑھایا ، یہ ایک چنگاری تھی ، پھر شیطان نے اس چنگاری کو ہوا دے کر بھڑکتی ہوئی آگ بنا دیا ، جس میں وہ لڑکا جل گیا ، اور شاید تم بھی جل سکتی تھی ، اسلام کے چھوٹے سے چھوٹے احکام کے پیچھے بھی بہت بڑی بڑی مصلحتیں پوشیدہ ہیں ، جو ظاہر ہے کہ ہر انسان کے سمجھ میں نہیں آسکتی ، بطور مسلمان بنا کسی کیا ، کیوں ، کس لئے اور کیسے ، کے ہمیں بس اللّه کے حکم پر عمل کرنا چاہئے ، پر ہم یہودیوں کی طرح ہر بات میں لاجک کے پیچھے پڑجاتے ہیں ، اللّه پاک کی مصلحتیں ایک راز ہیں ، اور بجائے اس راز پر سے پردہ اٹھانے کی جدوجہد کرنے کے ، ہمیں خود کو اللّه کے حکم پر چلانے کی جدوجہد کرنی چاہئے ، جو کہ ہم نہیں کرتے ، ابھی اگر یہی بات کسی سے کہو کہ ایک لڑکا اور لڑکی کی دوستی کی اسلام اجازت نہیں دیتا ، تو آگے سے اسکا جواب ہوگا کہ “کونسے زمانے میں جی رہی ہو تم ، آج کل سب چلتا ہے ، سب دوستی کرتے ہیں ، اس میں کوئی بری بات نہیں ہے” پر انھیں کوئی یہ بھی تو بتاؤ کہ یہ بات اللّه خود بھی قرآن میں فرماتا ہے
اور ہم نے ان میں سے اکثروں میں (عہد کا نباہ) نہیں دیکھا۔ اور ان میں اکثروں کو (دیکھا تو) نافرمان ہی دیکھا
سورة الأعراف ١٠٢
اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں) اگر تم ان کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں الله کا رستہ بھلا دیں گے
سورة الأنعام ١١٦
ان آیتوں سے یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ ایسے لوگ بہت بڑی تعداد میں تمھیں ملیں گے جو تمھیں دین کی راہ سے بھٹکائیں گے ، جیسے کہ تم کالج جاتی ہو ، تو ہوسکتا ہے اکثر لڑکیاں تمہارے کپڑوں اور چادر کو دیکھ کر کہتی ہوں کہ یا کیا پرانے زمانے کا فیشن کیا ہوا ، دادی اماں لگ رہی ہو ، تمھیں تو کپڑے پہننے کا سینس ہی نہیں ہے ، اور وغیرہ وغیرہ ، یا پھر لڑکوں سے دوستی کرنا کوئی بری بات تو نہیں ، وہ کونسا تمھیں کھا جائے گا ، ہم صرف اچھے دوست ہیں اور اس طرح کی بے شمار باتیں تمھیں گمراہی کی جانب کھینچیں گے ، پر تمھیں خود سے یہ عہد کرنا ہے کہ جب اللّه نے اس کام کا منع کیا ہے تو کوئی نا کوئی مصلحت ضرور ہوگی ، بطور مسلمان تمہارا کام لاجک تلاش کرنا نہیں ، بلکہ صرف عمل کرنا ہے ، اور اس عمل کی جزا صرف اللّه پاک دے گا ، اور ضرور دے گا”۔فاریہ نے اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے سمجھایا۔
“پر مما خضر سے شروع میں کوئی بات ہی نہیں کرتا تھا ، بیچارہ نوٹس کیلئے پریشان تھا ، میں نے تو بس اسکی مدد کی تھی”۔ابریش نے بتایا۔
“میں نے بتایا ناں ابھی کہ تم نے ہمدردی میں آکر بطور دوست مدد کرنے کیلئے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا ، یہ ایک چنگاری تھی ، پھر شیطان نے اس چنگاری کو ہوا دے کر بھڑکتی ہوئی آگ بنا دیا ، اگر تمہیں اس پر اتنا ہی ترس آرہا تھا تو تم عفان سے کہہ دیتی ، وہ دے دیتا”۔فاریہ نے کہا۔
“کہا تھا اس سے ، پر اس نے نہیں سنی میری بات”۔ابریش نے بتایا۔
“چلو تم نے دے بھی دیا تھا ، تو تمھیں اسکے ساتھ اتنے نرم اخلاق سے پیش نہیں آنا چاہئے تھا کہ اسکی سوچ کو دوسرا رخ ملے ، تمھیں پتہ ہے اسلام میں سب سے بداخلاق عورت وہ ہے جو نامحرم مردوں سے خوش اخلاقی سے پیش آئے ، اسلام نے مردوں سے خوش اخلاقی سے پیش آنے سے کیوں منع کیا ؟ اسی لئے تا کہ مرد اپنی حد میں رہے ، عورت کی خوش اخلاقی کو کوئی غلط رنگ نا دے ، جیسا کہ اس لڑکے نے دیا”۔فاریہ نے کہا۔
“پر اب تو غلطی ہوگئی ناں”۔ابریش منمنائی۔
“ہممم! غلطی ہوگئی ، تم سے بھی ، اور مجھ سے بھی ، مجھے تمھیں پہلے ہی ان باتوں سے ذرا تفصیل سے آگاہ کرنا چاہئے تھا ، پر مجھے لگا کہ شاید سرسری طور پر تمھیں سمجھانا ہی کافی ہوگا ، خیر جو ہوگیا سو ہوگیا ، اب آگے احتیاط کرنا ابریش”۔فاریہ نے کہا۔
“جی مما”۔ابریش نے کہا۔
“اور ایک بات ، کہ نامحرم تمہارے لئے عفان بھی ہے ، بھلے ہی وہ تمہارے چاچو کا بیٹا ہے کزن ہے تمہارا ، پر نامحرم ہے ، میں یہ نہیں کہہ رہی کہ عفان کا کردار خراب ہے ، وہ بھی میرے بیٹے جیسا ہے ، پر ہے تو تمہارے لئے نامحرم ، اور شیطان کبھی ایسے موقے ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ، جیسا میں نے تمھیں پہلے سمجھایا ، لہٰذا یہاں بھی تھوڑی احتیاط برتنا ، آئی سمجھ!۔فاریہ نے سمجھایا۔
“جی ، سمجھ گئی”۔ابریش نے کہا۔
“چلو اب جاؤ جاکر سو ، صبح کالج نہیں جانا کیا؟۔فاریہ نے کہا۔
“نہیں مما ، بالکل بھی دل نہیں چاہ رہا ، پولیس نے پرنسپل سے ہمارے گھر کا ایڈریس لیا تھا ، اور صبا پرنسپل کی بھانجی ہے ، لہٰذا کل تک یہ بات پورے کالج میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل جائے گی کہ خضر نے میری وجہ سے خودکشی کی ہے ، میں سب کا سامنا نہیں کرسکوں گی”۔ابریش نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“ابریش کبوتر مت بنو”۔فاریہ نے کہا۔
“کیا مطلب؟۔ابریش نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“مطلب کہ کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتا ہے ، اور سوچتا ہے کہ خطرہ ٹل گیا ، اور تمہارے بھی اس طرح کالج ناں جانے سے لوگ خاموش نہیں ہوجائیں گے ، بلکہ اور زیادہ باتیں بنائیں گے ، لہٰذا بزدلوں کی طرح چھپو مت ، جب تم نے کچھ کیا ہی نہیں ہے ، تو ڈر کس بات کا ؟ سامنا کرو سب کا ڈٹ کے”۔فاریہ نے سمجھایا۔ابریش سوچ میں پڑگئی۔
“آہ ! ٹھیک ہے”۔ابریش نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔کہ تب ہی باہر سے گاڑیوں کے ہارن کی آواز آئی۔
“آگئے وہ لوگ بھی”۔فاریہ نے کہا
***********************************
سب لوگ کھانا وغیرہ کھا کر آپ اپنے اپنے کمروں میں جاچکے تھے۔فاریہ بھی کمرے میں آئی تو حیدر وہاں موجود نہیں تھا۔اس نے گیلری میں جھانکا تو حیدر کسی سوچ میں گم سگریٹ پی رہا تھا۔فاریہ آہستہ سے قریب آکر حیدر کی پشست سے سر ٹکا کر کھڑی ہوگئی۔حیدر یکدم چونکا اور ایک گہری سانس لے کر سگریٹ باہر پھینک دی۔
“کیا سوچ رہے ہو؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“کچھ خاص نہیں”۔حیدر نے کہا۔
“ایم سوری حیدر”۔فاریہ نے کہا۔
“کیا ! سوری ! پر کیوں ؟۔حیدر نے فاریہ کی جانب گھومتے ہوئے ناسمجھی سے پوچھا۔
“پچیس سال پہلے ، جب سب تمھیں خرد کی موت کا زمیدار سمجھ رہے تھے ، حتیٰ کہ میں بھی ، تب تم پر کیا گزری ہوگی ، اس بات کا احساس آج ابریش کو دیکھ کر ہوا ہے مجھے”۔فاریہ نے بتایا۔
“آج احساس ہوا ہے ! مطلب کہ یہ پچیس سال تم نے کیا میرے ساتھ سمجھوتے پر گزارے ہیں؟۔حیدر نے حیرانگی سے پوچھا۔
“نہیں نہیں ، میرا وہ مطلب نہیں تھا ، تب مجھے صرف اندازہ تھا ، پر اب مجھے احساس ہوا ہے”۔فاریہ نے جلدی سے وضاحت کی۔
“ہممم! ویسے کیا تمھیں بھی ایسا نہیں لگ رہا جیسے کرداروں کی رد و بدل کے ساتھ کہانی واپس پچیس سال پیچھے چلی گئی ہے؟۔حیدر نے پوچھا۔
“ہاں ، بالکل ایسا ہی لگ رہا ہے ، اور ساتھ ہی ساتھ ڈر بھی لگ رہا ہے”۔فاریہ نے تائید کرتے ہوئے کہا۔
“کس بات کا ڈر؟۔حیدر نے پوچھا۔
“پچیس سال پہلے جب تم پر یہ الزام لگا تھا ، تب میں آئی تھی تم سے بدلا لینے ، آج پچیس سال بعد ابریش پر الزام لگا ہے ، تو اب کون………..!۔فاریہ نے دانستہ طور پر بات ادھوری چھوڑی۔
“مجھ سے بدلا لینے خرد کی کزن آئی تھی ، اور پھر میں نے اسے واپس جانے نہیں دیا ، تو اب کیا ابریش سے بدلا لینے خضر کا کوئی کزن آئے گا ؟ اگر ایسا ہے تو اسکا مطلب ہمیں ہمارا داماد ملنے والا ہے!۔حیدر نے مصنوئی حیرت سے کہا۔
“مذاق مت کرو حیدر ، میں سیریس ہوں”۔فاریہ نے حیدر کے سینے پر مکا مارتے ہوئے کہا۔
“مت ہو سیریس ، یہ سب تمہارا وہم ہے ، کچھ نہیں ہوگا ، تم بلاوجہ ہی ڈر رہی ہو”۔حیدر نے سمجھایا۔
“اللّه کرے ایسا ہی ہو”۔فاریہ نے آہستہ سے کہا۔
***********************************
رات کا دوسرا پہر شروع ہوچکا تھا۔ہر طرف سناٹے کا راج تھا۔آسمان پر موجود چاند بادلوں کی قید سے نکلنے کی جدوجہد میں تھا۔جس میں کبھی وہ کامیاب ہوجاتا۔اور کبھی ناکام۔دور ویرانوں سے درندوں کی آتی آوازوں نے ماحول پر اور وحشت طاری کررکھی تھی۔ابریش اپنے بیڈ پر سو رہی تھی۔کمرے میں زیرو پاؤر کا بلب جل رہا تھا۔کہ تب ہی وہ نیندوں میں کسمسائی۔اور دوسری جانب کروٹ لی۔جبکہ کمرے میں اے سی چل رہا تھا۔پر پھر بھی اسے پسینے آنے لگے تھے۔اب اس نے نیندوں میں بائیں جانب کروٹ لی۔اب اسکا کمبل آہستہ آہستہ سرک کر اسکے سینے سے پیٹ پر آگیا تھا۔
“ابریش !۔کسی نے عین اسکے کان میں سرگوشی کی۔سرگوشی اتنی خوف ناک تھی کہ وہ ڈر کر اٹھ بیٹھی۔اور آس پاس دیکھنے لگی۔پر وہاں کوئی نہیں تھا۔اسے لگا کہ اس نے شاید پھر کوئی خواب دیکھا ہے۔وہ واپس لیٹنے ہی لگی تھی کہ کھڑکی کا پٹ خودبخود زور سے کھل کر بند ہوا۔ابریش بری طرح گھبراگئی۔ابھی وہ خوف زدہ نظروں سے کھڑکی کو دیکھ ہی رہی تھی کہ………!
“ابریش! ۔اسکے بال اڑے اور پھر کسی نے عین کان میں سرگوشی کی۔اس نے نے گھبرا کر دونوں ہاتھوں سے کمبل مضبوطی سے پکڑلیا۔
“ک…ک…ک….کو…کون…ہے؟۔ابریش نے بامشکل خوف زدہ سی نظروں سے یہاں وہاں دیکھتے ہوئے کہا۔پر آس پاس کوئی حرکت نہیں ہوئی۔اچانک اسے ایسا محسوس ہوا جیسے بیڈ کا گدا کسی کے بیٹھنے سے اندر دھنسا ہے۔جیسے کوئی چیز گھٹنوں اور پنجوں کے بل چل کر اسکے قریب آرہی ہے۔ابریش جلدی سے کمبل سمیت ہی بیڈ سے اتری۔اب بیڈ پر کچھ محسوس نہیں ہورہا تھا۔اچانک پیچھے سے اسکے بال اڑے۔جبکہ کمرے میں ہوا کا کوئی گزر ہی نہیں تھا۔اس نے پلٹ کر دیکھا تو پیچھے کوئی نہیں تھا۔کہ تب ہی سامنے سے گلدان ہوا میں اڑتا ہوا آیا۔ابریش لمحے کے ہزارویں حصہ میں نیچے جھکی اور گلدان دیوار پر لگ کر ٹوٹ گیا۔پھر اچانک کمرے کی لائٹیں خودبخود جلنے اور بند ہونے لگی۔اب ابریش کی برداشت جواب دے گئی۔وہ جلدی سے کمرے سے باہر بھاگی اور سیدھا فاریہ کے کمرے کی جانب آئی۔اور زور زور سے دروازہ پیٹنے لگی۔حیدر اور فاریہ ہڑبڑا کر اٹھے۔اور دروازے کی جانب بھاگے۔دروازہ کھولتے ہی ابریش حیدر کے سینے سے لگ کر رونے لگی۔دونوں ہکابکا سے اسے دیکھ رہے تھے۔
“ابریش ! ابریش ! کیا ہوا بیٹا؟۔حیدر نے اسکا سرسہلاتے ہوئے پوچھا۔زور زور سے دروازہ بجنے کی آواز سن کر انعم اور فیضان بھی کمرے سے باہر آگئے تھے۔
“ابریش کیا ہوگیا ہے کچھ تو بتاؤ”۔فاریہ نے پوچھا۔
“بابا…وہ کمرے میں…!۔ابریش بس اتنا ہی بول پائی۔
“کیا ہوا کمرے میں؟۔فاریہ نے تشویش سے پوچھا۔ابریش بس روئے ہی جارہی تھی۔
“آؤ میرے ساتھ ، میں دیکھتا ہوں کہ کیا ہے کمرے میں”۔حیدر نے کہا۔
“نہیں میں نہیں جاؤں گی”۔ابریش نے کہا۔
“اچھا تم یہاں ہی رکو ، میں دیکھتا ہوں”۔حیدر نے کہا۔ابریش حیدر سے الگ ہوکر فاریہ سے چپک کے کھڑی ہوگئی۔انعم اور فاریہ اسکے حواس بحال کرنے کی کوشش کرنے لگی۔جبکہ فیضان اور حیدر ابریش کے کمرے کی جانب گئے۔کمرے میں سب کچھ اپنی جگہ پر بالکل ٹھیک تھا۔جو کمبل بیڈ سے اترنے کی وجہ سے نیچے فرش پر گرگیا تھا وہ سلیقے سے بیڈ پر رکھا ہوا تھا۔کمرے کی لائٹیں آف تھیں صرف نائٹ بلب جل رہا تھا۔اور جو گلدان ٹوٹ کر بکھرا تھا اب اسکا بھی وہاں کوئی نام و نشان نہیں تھا۔حیدر اور فیضان واپس آئے۔ابریش انعم اور فاریہ کے ساتھ صوفے پر ڈری سہمی سی بیٹھی ہوئی تھی۔
“کچھ بھی تو نہیں ہے بیٹا کمرے میں ، آپ بلاوجہ ڈر رہی ہو”۔حیدر نے کہا۔
“نہیں بابا ، کمرے میں کوئی تھا ، کسی نے دو مرتبہ میرا نام بھی لیا تھا”۔ابریش نے کہا۔
“بیٹا تم نے کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا ہوگا”۔فیضان نے کہا۔
“نہیں چاچو ، میں نے کوئی خواب نہیں دیکھا ، یہ سچ ہے”۔ابریش نے کہا۔
“اچھا چلو آؤ میں تمہارے ساتھ چلتی ہوں”۔فاریہ نے کہا۔
“ٹھیک ہے ، آپ میرے ساتھ ہی سوجائیں”۔ابریش نے کہا۔
“اچھا ٹھیک ہے چلو”۔فاریہ نے کہا۔دونوں اٹھ کر اسکے کمرے میں آگئیں۔انعم اور فیضان بھی واپس اپنے کمرے میں چلے گئے۔ابریش بیڈ پر فاریہ سے چپک کر لیٹ گئی۔فاریہ اسکا سر سہلاتے ہوئے قرانی آیتیں پڑھتی رہی۔
***********************************
“اللّهُ اکبر اللّهُ اکبر”۔مسجد سے اذانِ فجر کی صدائیں بلند ہوئیں۔اور تب ہی سائیڈ ٹیبل پر رکھے ابریش کے موبائل میں بھی الارم بجنے لگا۔فاریہ نے یکدم ہڑبڑا کر آنکھیں کھولی۔ابریش اسکے سینے سے لگی سو رہی تھی۔فاریہ نے ہاتھ بڑھا کر موبائل اٹھایا اور الارم بند کیا۔
“ابریش ! ابریش !۔فاریہ نے آہستہ آہستہ پکارا۔
“اں ہممم!۔ابریش نیندوں میں کسمسائی۔
“اٹھو بیٹا ، فجر کا وقت ہوگیا ہے”۔فاریہ نے کہا۔ابریش نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولی۔اور فاریہ سے الگ ہوئی۔
“میں وضو بناکر آجاؤں ، پھر تم چلی جانا ، ٹھیک ہے”۔فاریہ نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔ابریش نے اثبات میں سرہلایا۔فاریہ اٹھ کر باتھروم چلی گئی۔جبکہ ابریش نے دوبارہ آنکھیں موند لی۔تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ کسی کی نظروں کے حصار میں ہے۔ابریش نے کروٹ بدل کر آنکھیں کھولی تو اسکو پردے پر دو نقطے چمکتے ہوئے محسوس ہوئے۔اس نے تھوڑا اور غور کیا تو وہ دو آنکھیں تھیں۔جو اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔ابریش ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔
“جاؤ ابریش ، وضو بنالو”۔تب ہی فاریہ کہتے ہوئے باتھروم سے باہر آئی۔
“مما…مما وہ دیکھیں ، وہاں پردے کے پیچھے کوئی ہے”۔ابریش نے پردے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔فاریہ نے اسکے تعقب میں دیکھا۔وہاں کچھ نہیں تھا۔
“کچھ بھی تو نہیں وہاں”۔فاریہ نے کہا۔
“ہے مما ہے ، کچھ تو ہے ، آپ دیکھیں ناں”۔ابریش نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔فاریہ ایک گہرا سانس لے کر پردے کی جانب آئی اور پردہ ہٹایا۔
“دیکھو ! کچھ بھی تو نہیں ہے”۔فاریہ نے کہا۔ابریش حیرانگی سے وہاں دیکھنے لگی۔
“وہم ہے سب تمہارا ، چلو اب اٹھو اور وضو بناؤ جاکر”۔فاریہ نے کہا۔ابریش پرسوچ انداز میں بیڈ سے اتر کر باتھروم کی جانب چلی گئی۔اور فاریہ جائے نماز بچھانے لگی۔
***********************************
“چلو جلدی جلدی ناشتہ ختم کرو ، کسی بھی وقت اسکول بس آنے والی ہوگی”۔سعدیہ نے ناشتے سے کھیلتی مسکان کو کہا۔
“ممی مجھے بوئل ایگ نہیں کھانا ، ہاف فرائی ایگ کہاں ہے؟۔علیزے نے کہا۔صبح ہوچکی تھی۔اور اس وقت “علی ولا” کی ناشتے کی میز پر ہنگامے چل رہے تھے۔
“بھئی چائے کہاں رہ گئی؟۔طلحہ نے کہا۔
“بس ابھی لائی”۔سعدیہ نے کہا۔
“آج اورینج جوس نہیں بنایا؟۔عفان نے پوچھا۔
“ابریش ! بیٹا کیا ہوا ؟ ناشتہ کرو ، کیا سوچنے لگی؟۔فیروزہ نے خاموشی بیٹھی ابریش کو ٹوکا۔
“جی کررہی ہوں دادی”۔ابریش نے چونک کر کہا۔اور ناشتے کی جانب متوجہ ہوگئی۔
“اگر طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو آج چھٹی کرلو کالج کی ، صرف میں چلا جاتا ہوں”۔عفان نے چائے کا گھونٹ لے کر کہا۔
“نہیں نہیں ، ٹھیک ہوں میں ، اور ناشتہ بھی کرچکی ، چلیں اب؟۔ابریش نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“ہاں چلو”۔عفان نے چائے ختم کرکے کہا۔
“اچھا الله حافظ”۔ابریش نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“الله حافظ ، دونوں اپنا خیال رکھنا”۔فیروزہ نے تاکید کی۔اور دونوں اثبات میں سرہلاکر باہر کی جانب بڑھ گئے۔
***********************************
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *