Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode05

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode05

“تم نے جھوٹ کیوں بولا عفان ، نوٹس ہیں تو ہمارے پاس”۔ابریش نے خضر کے جانے کے بعد پوچھا۔
“بس ایسے ہی ، مجھے وہ لڑکا کچھ ٹھیک نہیں لگتا ، آنکھیں دیکھی ہیں اسکی”۔عفان نے کہا۔
“آنکھوں سے کیا ہوتا ہے عفان ، ابھی ایک ہی دن تو ہوا ہے اسے جوائن کیے ہوئے ، تمھیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا ، وہ بیچارہ کتنی امید سے آیا تھا ہمارے پاس”۔ابریش نے کہا۔
“اچھا ! اگر وہ اتنا ہی اچھا ہے تو کلاس میں کسی اور نے کیوں نہیں دے دیے اسکو نوٹس ، اور نوٹس تو دور کی بات ، وہ اتنا عجیب سا ہے کہ کلاس میں کوئی اسکے ساتھ بیٹھنے بھی نہیں مانگ رہا تھا ، سر نے زبردستی بیٹھایا تھا”۔عفان نے کہا۔ابریش نے کچھ نہیں کہا۔اور دونوں پھر سے کلاس کی جانب جانے لگے۔
**************************
“گڈ مارننگ سر”۔سیما نے روم میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
“گڈ مارننگ”۔طلحہ نے سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“سر کل کی میٹنگ میں پریزینٹ کرنے کیلئے یہ فائل ریڈی ہے ، آپ ایک بار چیک کرلیجئے گا”۔سیما نے ایک سرخ رنگ کی فائل میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
“ہممم! ٹھیک ہے ، میں چیک کرلوں گا”۔طلحہ نے فائل اٹھاتے ہوئے کہا۔
“اوکے ، اور سر ایک بات اور کہنی تھی”۔سیما نے کہا۔
“جی بولیں!۔طلحہ نے کہا۔
“سر آپ پر ناں یہ بیلو کلر بہت سوٹ کرتا ہے”۔سیما نے طلحہ کی ڈارک بیلو شرٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔سیما کے کہنے پر طلحہ نے غیرارادی طور پر اپنی شرٹ کی جانب دیکھا۔
“تھینکس”۔طلحہ نے کہا۔
“ویلکم”۔سیما نے مسکراتے ہوئے کہا۔اور روم سے باہر نکل گئی۔
************************
ایک پیریڈ اوور ہوچکا تھا۔سب سٹوڈنٹس اگلے پیریڈ تک کینٹین اور گراؤنڈ میں گھوم رہے تھے۔ابریش واش روم گئی ہوئی تھی۔واش روم سے آکر اس نے دیکھا تو عفان گراؤنڈ میں اپنی جگہ پر نہیں تھا۔ابریش کو لگا کہ شاید کسی دوست کے ساتھ ہوگا۔ابریش اسے یہاں وہاں ڈھونڈنے لگی۔کہ تب ہی وہ اسے ایک کونے میں مراد کے ساتھ کھڑا نظر آیا۔بجائے اس کی جانب جانے کے۔ابریش کاندھے اچکاکر کینٹین کی جانب جانے لگی۔
“ایکسکیوزمی فرینڈ”۔ابریش کو خضر کی آواز آئی۔ابریش نے پلٹ کر دیکھا تو خضر کلاس کے کسی لڑکے سے مخاطب تھا۔خضر کی پشست ابریش کی جانب تھی۔
“میں آپکا نیو کلاس فیلو ہوں خضر”۔خضر نے اپنا تعارف کرایا۔
“جی جانتا ہوں کل سر نے تعارف کروایا تھا”۔لڑکے نے جواب دیا۔
“جی ، دراصل دوست بات یہ ہے کہ مجھے نوٹس کی ضرورت ہے ، کیا آپ ایک دن کیلئے دے دیں گے؟۔خضر نے عاجزی سے پوچھا۔
“سوری یار ، پر میرے تو خود اپنے نوٹس مکمل نہیں ہیں ، میں کافی دن سے چھٹی پر تھا”۔لڑکے نے کہا۔اور ابریش کو حیرت ہوئی۔کیونکہ وہ لڑکا جھوٹ بول رہا تھا۔وہ تو ریگولر کالج آرہا تھا۔
“اوہ ! چلیں کوئی بات نہیں”۔خضر نے تاسف سے کہا۔وہ لڑکا جلدی سے آگے بڑھ گیا۔خضر بھی وہاں سے جانے لگا۔
“ایکسکیوزمی خضر!۔ابریش نے پکارا۔خضر رک کر پلٹا۔ابریش اسکے قریب آئی۔اور اپنے بیگ سے کچھ نکالنے لگی۔
“یہ لو”۔ابریش نے اپنی نوٹ بک خضر کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
“یہ کیا ہے؟۔خضر نے پوچھا۔
“وہی جو تمھیں چاہئے ، نوٹس ہیں”۔ابریش نے کہا۔
“پر اس وقت آپکے فرینڈ نے تو کہا تھا کہ……..!
“ہاں وہ مجھے بعد میں یاد آیا کہ میرے پاس بھی نوٹس ہیں”۔ابریش نے خضر کی بات کاٹتے ہوئے جھوٹ بولا۔
“تھینک یو ، تھینک یو سو مچ ، میں کل تک یہ کاپی کرکے آپکو واپس کردوں گا”۔خضر نے نوٹ بک لیتے ہوئے خوشی سے کہا۔
“ارے کوئی بات نہیں ، آرام سے کرلو تم کاپی”۔ابریش نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“تھینک یو ، تھینک یو سو مچ”۔خضر نے پھر تشکر آمیز لہجے میں کہا۔
“اچھا اب میں چلتی ہوں”۔ابریش نے کہا۔اور واپس کینٹین کی جانب جانے لگی۔خضر بھی آگے بڑھ گیا۔
“یہ کیا حرکت تھی؟۔ابریش کو اپنے عقب سے آواز آئی۔ابریش پلٹی تو پیچھے مراد اور عفان کھڑے تھے۔
“کونسی حرکت؟۔ابریش نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“جب میں نے اسے منع کردیا تھا تو پھر تم نے اسے نوٹس کیوں دیے؟۔عفان نے پوچھا۔
“کیونکہ اسے ضرورت تھی”۔ابریش نے کہا۔
“پر تمھیں کیا ضرورت تھی اسے اپنی نوٹ بک دینے کی!۔عفان نے تھوڑی سختی سے کہا۔
“کلاس شروع ہونے میں ٹائم ہے ، کیوں ناں کینٹین چل کر کچھ کھالیں!۔مراد نے دونوں کو الجھتے ہوئے دیکھ کر موضوع بدلا۔
“مجھے نہیں کھانا”۔ابریش بولتے ہوئے تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔عفان اسے غصے سے دیکھ کر رہ گیا۔
**************************
انعم اس وقت ہوسپٹل میں اپنے روم میں بیٹھی کام کررہی تھی۔
“ٹک ٹک ٹک”۔دروازے پر دستک ہوئی۔
“کم ان”۔انعم نے فائل پر کام کرتے ہوئے کہا۔
“گڈ آفٹر نون”۔فیضان نے روم میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
“تمھیں کب سے اجازت لینے کی ضرورت پڑگئی؟۔انعم نے فیضان کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“ضروری کام کررہی ہو؟۔فیضان نے انعم کا سوال نظر انداز کرکے کرسی کھنچ کر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں ، کچھ خاص نہیں ، بس ایک پیشنٹ کی کیس ہسٹری چیک کررہی تھی ، تم بتاؤ ، کوئی کام تھا کیا؟۔انعم نے بتاتے ہوئے پوچھا۔
“ہممم! چلو آئسکریم کھاکر آتے ہیں”۔فیضان نے کہا۔انعم نے حیرانگی سے فیضان کی جانب دیکھا۔
“اس وقت ، خریت؟۔انعم نے حیرانگی سے پوچھا۔
“ہاں کیوں ! اس وقت گناہ ملے گا کیا آئسکریم کھانے سے؟۔فیضان نے کہا۔
“نہیں پر…….!
پر کچھ نہیں ، چلو اٹھو ، ابھی کوئی خاص کام نہیں ہے ، تھوڑی دیر تک واپس آجائیں گے”۔فیضان نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا۔اور انعم کو بھی ہاتھ سے پکڑ کر کھڑا کرلیا۔
************************
فاریہ اپنے روم میں کام میں مصروف تھی۔کہ تب ہی ٹیبل پر رکھا پی ٹی سی ایل بجا۔فاریہ نے کام کرتے ہوئے ہی ریسور اٹھا کر کان سے لگایا۔
“السلام علیکم ، جی کون؟۔فاریہ نے کہا۔
“وعلیکم السلام ، جی ایک مریض بات کررہا ہوں”۔دوسری جانب سے حیدر کا جواب آیا۔حیدر نے اپنے روم کے پی ٹی سی ایل سے کال کی تھی۔
“جی بتائیں ، کیا مرض ہے آپکو؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“کچھ عجیب سا مرض ہے ،
“بھوک نہیں لگتی کچھ کھانے کے بعد”
“نیند نہیں آتی سوکر اٹھنے کے بعد”
“گیلا ہوجاتا ہوں نہانے کے بعد”
“کچھ نظر نہیں آتا آنکھیں بند کرنے کے بعد”
حیدر نے کرسی پر جھولتے ہوئے بتایا۔
“ساری رات دھوپ میں بیٹھو ، ٹھیک ہوجاؤ گے”۔فاریہ نے کہا۔اور ریسیور رکھ دیا۔حیدر نے دوبارہ کال کی۔فاریہ نے پھر ریسیور کان سے لگایا۔
“آج شام میرے ساتھ کافی پر چلیں گی؟۔حیدر نے پوچھا۔
“نہیں ، کافی پر چلنے سے میرے پیر جل جائیں گے”۔فاریہ نے کہا۔اور پھر ریسیور رکھ دیا۔حیدر دوبارہ کال کرنے والا تھا کہ تب ہی پیشنٹ آگیا۔حیدر ریسیور رکھ کر سیدھا ہوگیا۔
***********************
“تمہیں یاد ہے ، شادی سے پہلے ، اور نکاح کے بعد کتنی دفعہ ایسے آئسکریم کھانے آئے ہیں ہم لوگ”۔فیضان نے کہا۔دونوں اس وقت ایک ریسٹورنٹ میں آمنے سامنے بیٹھے آئسکریم کھارہے تھے۔
“ہممم! بالکل یاد ہے ، بھلا کیسے بھول سکتی ہوں”۔انعم نے کہا۔
“وہ بھی کیا دن تھے ناں”۔فیضان نے کہا۔
“اوہ ! فیضان!۔انعم نے یکدم چونک کر کہا۔
“کیا ہوا ، آئسکریم میں کوئی کانٹا آگیا کیا؟۔فیضان نے پوچھا۔
“نہیں ، وہ دیکھو طلحہ ، تمہارے پیچھے”۔انعم نے آنکھوں سے فیضان کے عقب میں اشارہ کیا۔فیضان نے بھی ہلکا سا مڑ کر دیکھا تو ان سے کچھ فاصلے پر طلحہ اور ایک لڑکی ایک ٹیبل پر آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔
“یہ تو سیما ہے”۔فیضان نے کہا۔
“کون سیما ؟۔انعم نے پوچھا۔
“طلحہ کی سیکریٹی”۔فیضان نے بتایا۔
“تو دونوں یہاں کیا کررہے ہیں؟۔انعم نے تشویش سے کہا۔
“مچھلیاں پکڑ رہے ہیں ، کیسی باتیں کرتی ہو تم بھی ، وہی کررہے ہیں جو ہم کررہے ہیں ، نظر نہیں آرہا آئسکریم کھا رہے ہیں دونوں”۔فیضان نے کہا۔
“”اففو ! میرا مطلب کہ ہم تو ہسبنڈ وائف ہیں ، ہمارا اس طرح یہاں بیٹھنا سمجھ میں آتا ہے ، پر یہ دونوں…….!۔انعم نے دانستہ طور پر بات ادھوری چھوڑدی۔
“ہوسکتا ہے کسی کلائینٹ سے ملنے آئے ہوں ، ہوتا ہے اکثر کچھ ڈیلیں کافی شاپس یا ریسٹورنٹ وغیرہ میں بھی ہوتی ہیں ، ہر بات کو مثبت پہلو سے دیکھنا چاہئے ، ہر بات میں منفی پہلو نہیں تلاش کرنا چاہئے”۔فیضان نے کہا۔
“اب چھوڑو انھیں ، آئسکریم کھاؤ پگھل رہی ہے ، پھر واپس بھی تو جانا ہے”۔فیضان نے دھیان دلایا۔
***********************
رات کا تیسرا پہر تھا۔ہر سو دل دہلا دینے والا سناٹا براجمان تھا۔اور آج بھی وہ سایہ اس خوفناک سناٹے سے بے نیاز اپنے کام میں مشغول تھا۔پر آج وہ زمین نہیں کھود رہا تھا۔آج وہ اس گڑھے کے پاس بیٹھا تیز تیز زیرِ لب کچھ پڑھ رہا تھا۔کافی دیر وہ ایسے ہی بیٹھا پڑھتا رہا۔پھر کھڑا ہوگیا۔اور قبرستان سے باہر جانے لگا۔اب اسکے لبوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ تھی۔
**********************
آج اتوار تھا۔شام کے چار بج رہے تھے۔اور سب لوگ چھٹی ہونے کی وجہ سے گھر پر تھے۔عورتیں تو حسب معمول کچن میں ہی مصروف تھی۔اتوار کو جہاں باقی سب کی کاموں سے چھٹی ہوتی ہے۔وہیں ان لوگوں کی برعکس عورتوں کا کام زیادہ بڑھ جاتا ہے۔مرد حضرت بھی کسی نا کسی کام میں مشغول تھے۔بچوں کا تو کام ہی دن رات کھیلنا کودنا ہوتا ہے۔عفان اور ابرار ہال میں بیٹھے باقی سب کے ساتھ لڈو کھیل رہے تھے۔جبکہ ابریش ایک صوفے پر کتاب کھول کر بیٹھی ہوئی تھی۔
“یس ! میں جیت گیا!۔اچانک عفان بہت زور سے چلایا۔
“کوئی نہیں ، چیٹینگ کی ہے آپ نے ، ہیں ناں دوستوں!۔ابرار نے کہتے ہوئے باقی سب سے تائید چاہی۔
“اچھا ! کیا ثبوت ہے تمہارے پاس کہ میں نے چیٹینگ کی ہے!۔عفان نے پوچھا۔اور سب ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے۔
“ارے بچوں ! یہ تم لوگ کیا کررہے ہو!۔ممتاز نے ان لوگوں کے قریب آتے ہوئے کہا۔
“لڈو کھیل رہے ہیں چھوٹی دادی”۔علیزے نے بتایا۔
“نہیں بیٹا ، بری بات ، لڈو نہیں کھیلنا چاہئے”۔ممتاز نے قریب صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“ہیں ! پر کیوں چھوٹی دادی؟۔عفان نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
“کیونکہ اسلام میں لڈو کھیلنا حرام ہے”۔ممتاز نے کہا۔
“نہیں ممتاز ، ایسا نہیں ہے”۔فیروزہ نے قریب آتے ہوئے کہا۔اور وہیں ایک صوفے پر بیٹھ گئیں۔
“کیا مطلب بھابھی؟۔ممتاز نے پوچھا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *