Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode07

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode07

“اے خدا ، اے خدا”
“جب بنا اسکا ہی بنا”
حیدر گانا گاتے ہوئے اندر کی جانب چلا گیا۔ابرار حیرانگی سے حیدر کو جاتا ہوا دیکھتا رہا۔ہوش کی دنیا میں وہ علیزے کے فلک شگاف قہقے سے آیا۔ابرار نے علیزے کی جانب دیکھا تو وہ دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھے بری طرح ہنس رہی تھی۔ابرار کچھ دیر تو اسے غصے سے دیکھتا رہا۔پھر پائپ پٹخ کر وہ بھی اندر چلا گیا۔
**************************
“ارے ! آپ لوگ اتنی جلدی آگئے ہوسپٹل سے؟۔ابریش نے اس وقت ان لوگوں کو ہال میں بیٹھا دیکھ کر پوچھا۔اور خود بھی وہیں ایک صوفے پر بیٹھ گئی۔
“ہممم! آج ہوسپٹل میں کسی کو زیادہ کام بھی نہیں تھا ، اور پھر ناہید لوگ بھی ڈنر پر آرہے ہیں ، تو اسی لئے”۔فاریہ نے بتایا۔
“اچھا ! کون کون آرہا ہے؟۔ابریش نے پوچھا۔
“ناہید ، احمر اور مراد”۔فاریہ نے بتایا۔
“تو یہ اچانک انکو ڈنر پر بلانے کا خیال کیوں آیا؟۔ابریش نے پوچھا
“بھئی مراد اتنے عرصے بعد واپس آیا ہے ، دوسرا وہ ہمارے فیملی فرینڈ ہیں ، اور کافی ٹائم سے اس طرح کی کوئی ملاقات بھی نہیں ہوئی ، تو بس اسی لئے بلالیا”۔فیضان نے بتایا۔
“تم سی۔آئی۔ڈی والوں کی طرح اتنے سوال جواب کیوں کررہی ہو؟۔حیدر نے پوچھا۔
“ارے نہیں بابا ، بس ایسے ہی پوچھ رہی تھی”۔ابریش نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“اچھا اب اگر پوچھ گچھ سے فرصت مل گئی ہو تو چائے پلادو اچھی سی”۔حیدر نے کہا۔
“بابا یہ اچھی سی مت بولا کریں ، پھر میرا دل نہیں چاہتا چائے بنانے کا ، ایسا لگتا ہے جیسے کہ ہمیں جتایا جارہا ہو کہ پچھلی دفعہ اچھی نہیں بنی تھی”۔ابریش نے کہا۔
“اچھا بھئی ، غلطی ہوگئی ، صرف چائے ہی پلادو”۔حیدر نے کہا۔
“اور آپ لوگ بھی پیئں گے چائے؟۔ابریش نے صوفے سے اٹھتے ہوئے باقی سب سے پوچھا۔
“اگر آپ پلادیں گی تو پی لیں گے”۔فرقان نے کہا۔ابریش سرہلاکر کچن میں چلی گئی۔
“ارے ! آپ لوگ اتنی جلدی آگئے ہوسپٹل سے؟۔عفان نے ان لوگوں کے قریب آتے ہوئے کہا۔
“لو ، اب اسے انٹرویو دو”۔حیدر نے کہا۔
****************************
“مراد یہ کیا حال بنایا ہوا ہے کمرے کا؟۔ناہید نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے حیرانگی سے کہا۔پورے بیڈ پر کپڑے بکھرے ہوئے تھے۔الماری کھلی ہوئی تھی۔سارے جوتے بھی باہر پڑے ہوئے تھے۔
“مام کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا کہ کیا پہنوں؟۔مراد نے ناسمجھی سے کہا۔
“اتنے سارے کپڑے تو ہیں ، پہن لو کچھ بھی”۔ناہید نے بیڈ پر پھیلے کپڑوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“آپ کچھ سلیکٹ کردیں ، میری تو سمجھ میں نہیں آرہا ہے”۔مراد نے کہا۔
“اففو ! ڈنر پر جارہے ہیں ہم ، تمہارا رشتہ دیکھنے نہیں جارہے جو تمھیں سجنے سنورنے کی اتنی فکر ہوگئی ہے ، پہن لو کچھ بھی “۔ناہید نے کہا۔
“ہاں پر پھر بھی ، پہلی مرتبہ انکے گھر جارہا ہوں ، فرسٹ امپریشن اچھا پڑنا چاہئے ناں”۔مراد نے کہا۔
“لندن جانے سے پہلے بھی گئے ہو تم ایک دو بار”۔ناہید نے کہا۔
“تب تو میں بچہ تھا مام ، اب بات الگ ہے ، خیر آپ پلیز جلدی سے کچھ سلیکٹ کردیں”۔مراد نے کہا۔
“اففو ! تم بھی ناں سمجھ سے باہر ہو”۔ناہید نے کہا۔اور بیڈ پر بکھرے ہوئے کپڑوں میں سے کچھ ڈھونڈنے لگی۔
“لو یہ پہن لو”۔نہیں نے ایک بلیک جینس اور ڈارک بیلو ٹی شرٹ مراد کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔مراد نے کپڑے لے لئے۔
“اور ساتھ یہ جیکٹ پہن لینا”۔ناہید نے بلیک کلر کی لیدر کی جیکٹ بھی اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
“اوکے ، تھینک یو مام”۔مراد نے جیکٹ لیتے ہوئے کہا۔
“اب جلدی سے تیار ہو ، ایک گھنٹے بعد نکالنا ہے ہمیں”۔ناہید نے کہا۔اور کمرے سے باہر چلی گئی۔مراد بھی چینج کرنے چلا گیا۔
**************************
“بھئی مزہ آگیا ، بہت اچھا بنا تھا کھانا”۔احمر نے کہا۔سب لوگ اب کھانا کھانے کے بعد ڈرائینگ روم میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔
“یہ سارا کریڈیٹ جاتا ہے رمشا چچی اور سعدیہ بھابھی کو ، انہوں نے ہی بنایا ہے کھانا”۔ابرار نے بتایا۔
“اور سلاد رائتہ میں نے اور ابریش آپی نے بنایا ہے”۔علیزے نے بھی بتایا۔
“واہ ! بڑا مشکل کام کیا ہے”۔ابرار نے کہا۔
“تمھیں کھانا پکانا آتا ہے ابریش؟۔ناہید نے پوچھا۔
“نہیں ، ابریش کو صرف کھانا آتا ہے”۔عفان نے کہا۔
“کیسی باتیں کررہے ہیں آپ میری آپی کے بارے میں عفان بھائی ، وہ صرف کھاتی نہیں پکاتی بھی بہت اچھا ہے ، پر کھانا نہیں ، دماغ”۔ابرار نے بھی شرارت سے کہا۔ابریش بس دونوں کو گھور کر رہ گئی۔
“ابریش کو ابھی اتنا پرفیکٹ کھانا بنانا نہیں آیا”۔فاریہ نے بتایا۔
“ہممم! ایک بار ابریش نے مٹن پلاؤ بنایا ، پر بغیر مٹن کا ، مطلب کہ پہلی مرتبہ کھانا بنانے کی خوشی میں یہ اس میں مٹن ہی ڈالنا بھول گئیں تھیں”۔عفان نے بتایا۔
“تو کیا ہوا ، کشمیری چائے میں بھی تو کشمیر نہیں ہوتا”۔حیدر نے کہا۔
“یہ کیا بیکار کی باتیں شروع کردی ہیں تم لوگوں نے”۔فیروزہ نے ٹوکا۔
“اچھا بیکار کی نہیں ، کام کی باتیں کرتے ہیں ، اور سناؤ ، تم تینوں کی دوستی ہوگئی ہے؟ ایک ہی کالج اور کلاس میں ہو ناں تینوں”۔حیدر نے کہتے ہوئے ابریش ، مراد اور عفان سے پوچھا۔
“جی میری اور مراد کی تو ہوگئی ہے”۔عفان نے کہا۔
“اور ابریش کی؟۔حیدر نے پوچھا۔
“ان کے مزاج ہی نہیں ملتے”۔عفان نے طنزیہ انداز میں کہا۔
“چلو آہستہ آہستہ مل جائیں گے”۔احمر نے کہا۔
“تم کچھ بولتی نہیں ہو کیا ابریش؟۔ناہید نے پوچھا۔
“کیا بولوں آنٹی؟۔ابریش نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“کچھ بھی ، جیسے ہم بول رہے ہیں”۔عفان نے کہا۔
“جی نہیں ، میں باقی سب کی طرح فالتو بکواس نہیں کرتی”۔ابریش نے بھی طنزیہ لہجے میں کہا۔
“وقت بھی کتنی تیزی سے گزرتا ہے ، ہماری آنکھوں کے سامنے پلنے والے ، ہماری گودوں میں کھیلنے والے چھوٹے چھوٹے سے یہ بچے کتنی جلدی بڑے ہوگئے”۔مومنہ نے کہا۔
“اچھا جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ، مراد ابریش سے ایک سال چھوٹا ہے ناں!۔فیضان نے کہا۔
“ہاں ، جب مراد پیدا ہوا تھا ، تب ابریش ایک سال کی تھی ، اور عفان دو سال کا تھا”۔فاریہ نے بتایا۔
“اور جس دن مراد پیدا ہوا تھا اسی دن میری رمشا ، تابش اور عائشہ کی مانگنی بھی تھی”۔نادر نے بھی مزید بتایا۔
“ہممم! لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ ابریش سے چھوٹا ہے ، ایسا لگتا ہے ابریش اس سے چھوٹی ہے”۔انعم نے کہا۔
“ہممم! بس ایک سال کا ہی تو فرق ہے ، اور ویسے بھی لڑکے اپنی عمر سے بڑے ہی لگتے ہیں”۔فیضان نے کہا۔
“ہممم! ٹھیک کہا ، اور اب نہ صرف بچے بڑے ہوگئے ہیں ، بلکہ سب کی مصروفیت بھی بہت بڑھ گئی ہیں ، اب ہماری ہی مثال لے لیں ، پہلے کتنا ملنا جلنا تھا ہمارا ، اور اب تو بس فون پر ہی رابطہ ہوتا ہے ، یا پھر آج اکھٹا ہوئے ہیں سب”۔احمر نے کہا۔
“ہممم! دراصل پہلے سب ہوسپٹل میں ہی ہوتے تھے ناں ، اسی لئے مصروفیت کے باوجود بھی اتنا پتہ نہیں چلتا ، پر جب سے معملات بگڑے تو فاصلے بھی بڑھ گئے”۔مومنہ نے کہا۔پر بولنے کے بعد اسے احساس ہوا کہ اسے یہ نہیں بولنا چاہئے تھا۔
“میرے خیال میں مراد کچھ بور ہورہا ہے ناں!۔فاریہ نے ماحول کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے موضوع بدلا۔
“ارے نہیں نہیں ، وہ تو آپ بڑے بات کررہے تھے تو اسی لئے خاموش تھا”۔مراد نے جلدی سے کہا۔
“ایک کام کرو ، تم لوگ بور ہوجاؤ گے اب سب بڑوں کے بیچ ، اسی لئے جاؤ مراد کو اپنے ساتھ لے جاؤ ، اپنی گیدرینگ بنالو”۔حیدر نے کہا۔
“ہاں ، آؤ مراد میں تمھیں اپنا کمرہ دیکھاتا ہوں”۔عفان نے بھی کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔ابریش ، ابرار ، علیزے ، اور باقی بھی ینگ جینریشن کھڑی ہوگئی۔یہ لوگ ڈرائینگ روم سے باہر آگئے اور بڑے اپنی باتوں میں مصروف ہوگئے۔
*********************
“وہ شخص مجھے پیارا ہے اسے کہنا”
“وہی جینے کا سہارا ہے اسے کہنا”
“لوگ پیارے ہیں بہت سے مجھ کو”
“مگر وہ سب سے پیارا ہے اسے کہنا”
“محبتیں شکایاتیں عداوتیں اس کی”
“مجھے سب گوارا ہے اسے کہنا”
“چاہنے والے اور بھی ہے لیکن”
“مجھے صرف انتظار تمہارا ہے اسے کہنا”
“ڈوب نا جاؤں تیری چاہت کے سمندر میں”
“وہی ہے میرا کنارہ اسے کہنا”
“زندگی کردی اسکے نام ساری”
“وہ کرکے دیکھے اشارہ اسے کہنا”
“وہ شخص مجھے پیارا ہے اسے کہنا”
“وہی جینے کا سہارا ہے اسے کہنا”
“واہ یار ، زبردست ، تم تو بڑے اچھے شاعر نکلے”۔مراد نے غزل پڑھ کر داد دیتے ہوئے کہا۔عفان مراد کو اپنے کمرے میں لے آیا تھا۔کہ تب ہی مراد نے عفان کی رائٹنگ ٹیبل پر رکھی ڈائری اٹھالی۔اور پہلے ہی صفحے پر یہ غزل مل گئی۔
“میں نے خود سے نہیں بنائی ہے یار ، وہ تو ایک جگہ پڑھی تھی ، اچھی لگی تو لکھ لی”۔عفان نے بتایا۔
“پھر بھی ، تمہارا انتخاب بتا رہا ہے کہ کچھ تو ہے ، بتاؤ کسے کہنا ہے ، میں کہہ دیتا ہوں”۔مراد نے آخری جملہ شرارت سے کہا۔
“نہیں شکریہ ، میں خود کہہ دوں گا”۔عفان نے مراد کے ہاتھ سے ڈائری لیتے ہوئے کہا۔
“مطلب ہے کوئی ، بتا دو یار ، پکا پرامس کسی کو نہیں بتاؤں گا”۔مراد نے رازداری سے کہا۔عفان مراد کو دیکھنے لگا۔
“صرف نام ہی بتا دو ، یا کوئی ہنٹ دے دو”۔مراد نے کہا۔عفان نے ابھی بھی کوئی جواب نہیں دیا۔
“اچھا ویسے وہ جو کوئی بھی ہے ، اسے پتہ ہے تمہاری فیلنگز کے بارے میں؟۔مراد نے پوچھا۔
“نہیں ، اسے نہیں پتہ”۔عفان نے بتایا۔
“اچھا ! تو کیا میں جانتا ہوں اسے ؟ کبھی ملا ہوں اس سے؟۔مراد نے پوچھا۔
“ہاں”۔عفان نے کہا۔
“سچی ! کون ہوسکتی ہے یار؟۔مراد نے سوچتے ہوئے کہا۔
“عفان !۔ابریش نے پکارا۔دونوں نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا۔جہاں ابریش کھڑی تھی۔
“احمر انکل اور ناہید آنٹی آدھے گھنٹے بعد گھر روانہ ہوں گے ، نیچے آجانا ، مما نے کہا تھا بتا دوں”۔ابریش نے بتایا۔
“آنٹی نے عفان کو بتانے کا کہا تھا یا کسی اور کو؟۔مراد نے پوچھا۔
“جس کو بھی کہا ہو ، سن لیا ناں دونوں نے ، اب آجانا تھوڑی دیر میں نیچے”۔ابریش نے کہا۔اور بنا دونوں کا جواب سنے واپس چلی گئی۔
“برا مت ماننا ، تھوڑی سی پاگل ہے یہ”۔عفان نے ابریش کے جانے کے بعد کہا۔
“پھر ٹھیک ہے ، میں پاگلوں کی باتوں کا برا نہیں مانتا”۔مراد نے شرارت سے کہا۔
“اچھا کرتے ہو ، ورنہ پاگلوں کی باتوں کا برا مان کر خود بھی پاگل ہوجاؤ گے”۔عفان نے کہا۔
“یار ویسے کتنا مزہ آتا ہوگا نا تم لوگوں کو ، اتنی بڑی فیملی ہے ، اتنے سارے کزن ہیں”۔مراد نے رشک سے کہا۔
“مزہ آتا ہوگا ! مچھلی بازار بنارہتا ہے ، مزہ تو تمھیں آتا ہوگا ، اکیلے کوئی بھی کچھ کہنے والا نہیں”۔عفان نے کہا۔
“دراصل انسان کی ناں فطرت ہی ایسی ہے ، وہ اپنے حال پر کبھی خوش نہیں رہتا ، اسے ہمیشہ دوسرے خود سے بہتر لگتے ہیں ، اب ہماری ہی مثال لے لو ، پر اگر میں تمہاری جگہ ہوتا ، اور تم میری جگہ تو تب بھی ہم یہی کہتے کہ یار تمھیں کتنا مزہ آتا ہوگا”۔مراد نے کہا۔
“ہممم! صحیح کہہ رہے ہو ، ہم لوگ بھی بڑے ناشکرے ہیں یار”۔عفان نے تائید کی۔
“پرسوں کے ٹیسٹ کی تیاری کرلی تم نے؟۔مراد نے پوچھا۔
***********************
رات کے گیارہ بج رہے تھے۔احمر کی فیملی جاچکی تھی۔اور باقی سب بھی اپنے اپنے کمروں میں تھے۔طلحہ بھی صبح آفس پہن کے جانے کیلئے کپڑے سلیکٹ کررہا تھا۔کپڑے دیکھتے ہوئے اسے اچانک شادی کے شروع کے سال یاد آگئے ، جب سعدیہ خود اسے کپڑے سلیکٹ کرکے دیتی تھی۔طلحہ ابھی انہی سوچوں میں تھا کہ سعدیہ کمرے میں داخل ہوئی۔
“کہاں تھی؟۔طلحہ نے الماری بند کرتے ہوئے پوچھا۔
“بچوں کے بیگ اور یونیفارم ٹھیک کرکے رکھ رہی تھی صبح کیلئے”۔سعدیہ نے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آتے ہوئے بتایا۔اور اپنی چین اتارنے لگی۔طلحہ بھی سعدیہ کے عقب میں آکر کھڑا ہوگیا۔
“سنو!۔طلحہ نے شیشے میں نظر آتے سعدیہ کے عکس کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“ہممم! بولیں !۔سعدیہ نے بھی طلحہ کے عکس کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“میرے کپڑے سلیکٹ کردو ، صبح آفس جانے کیلئے”۔طلحہ نے اپنی تھوڑی سعدیہ کے کاندھے پر رکھتے ہوئے پیار سے کہا۔
“کیا ؟ میں کپڑے سلیکٹ کردوں ! پر کیوں؟۔سعدیہ نے حیرانگی سے طلحہ کی جانب گھومتے ہوئے کہا۔
“کیونکہ شادی کے شروع کے سالوں میں بھی تو تم ہی سلیکٹ کرکے دیتی تھی ناں”۔طلحہ نے بتایا۔
“تب کی بات اور تھی طلحہ ، یہ سب چونچلے بس شادی کے شروع کے دنوں میں اچھے لگتے ہیں ، آپ روز تو خود ہی سلیکٹ کرتے ہیں ، آج بھی کرلیں”۔سعدیہ نے لاپرواہی سے کہا۔اور بنا طلحہ کا جواب سنے واش روم چلی گئی۔
“یہ سب چونچلے بس شادی کے شروع کے دنوں میں اچھے لگتے ہیں”۔طلحہ کے ذہن میں سعدیہ کا جملہ گونجا۔
***********************
ہر طرف دل دہلادینے والا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔اس گھنے جنگل میں وقفے وقفے سے بھیڑیے اور کتے کی خوفناک آوازیں گونج رہی تھیں۔اور آسمان پر موجود گھٹتے ہوئے پیلے چاند نے ماحول پر اور وحشت طاری کی ہوئی تھی۔پسینے میں شرابور ابریش دیوانہ وار ، بنا کسی سمت کے بڑی بڑی جھاڑیوں کے بیچ سے راستہ بناتی ہوئی بس بھاگے جارہی تھی۔جھاڑیوں کی وجہ سے وہ کافی زخمی بھی ہوگئی تھی۔پر وہ ایک پل کیلئے بھی رک نہیں سکتی تھی۔ورنہ اسکا تعقب کرنے والا اسکی سانسیں روک دے دیتا۔ابریش اپنی پھولتی ہوئی سانسوں کو نظر انداز کرکے بس بھاگے جارہی تھی۔اسکی آنکھوں سے آنسوں بھی مسلسل بہہ رہے تھے۔بھاگتے بھاگتے اچانک کسی نے ابریش کے دونوں پیر پکڑ لئے۔اور اسے منہ کے بل زمین پر گرادیا۔ابریش چیخنے لگی۔اور خود کو چھڑانے کی ناکام کوشش کرتی رہی۔پر کوئی اسے بہت بےدردی سے کھینچ کر گھپ اندھیرے میں لے گیا۔جہاں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔تب ہی اچانک ایک نوکیلی چیز ابریش کے پیٹ کے آر پار ہوگئی۔ابریش پوری قوت سے آخری بار چیخی۔
“اللّهُ اکبر ، اللّهُ اکبر”۔ابریش ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔مسجد سے فجر کی اذانوں کی آواز آنا شروع ہوگئی تھی۔وہ پسینے میں شرابور ہورہی تھی۔اسکی سانسیں بہت تیز تیز چل رہی تھیں۔اس نے بےاختیار اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرا۔جہاں تھوڑی دیر قبل کسی نے کچھ گھونپا تھا۔پیٹ پر کچھ نہیں تھا۔سب ٹھیک تھا۔
“شکر ، خواب تھا”۔ابریش نے ماتھے پر سے پسینہ صاف کرتے ہوئے خودکلامی کی۔اور اٹھ کر وضو بنانے چلی گئی۔
****************************
“السلام و علیکم خوشی”۔ابریش نے کاؤنٹر پر آکر کہا۔
“وعلیکم السلام ، کیسی ہو؟۔خوشی نے کاؤنٹر پر موجود ایک کسٹمر کو ڈیل کرتے ہوئے کہا۔
“بالکل فٹ ، تم سناؤ ، کہاں غائب تھی کچھ دنوں سے؟۔ابریش نے پوچھا۔
“بس یار ، بخار تھا ، اسی لئے گھر پر ہی تھی”۔کسٹمر کے جانے کے بعد خوشی نے پوری طرح ابریش کی جانب متوجہ ہوکر بتایا۔
“اوہ ! اچھا یہ لو ، کچھ نوٹس ہیں ، تمہارے کام آجائیں گے”۔ابریش نے کچھ فولڈ ہوئے کاغذ خوشی کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
“تھینک یو یار ، تم لوگ میری اتنی ہیلپ کرتے ہو کہ کبھی کبھی “شکریہ” لفظ بھی بہت چھوٹا لگتا ہے بدلے میں”۔خوشی نے نوٹس لیتے ہوئے تشکر آمیز لہجے میں کہا۔
“کوئی بات نہیں ، شکریہ مت بولو ، اپنے ہاتھوں کا بنا ہوا اسپیشل کیک ہی کھیلا دو”۔ابریش نے شرارت سے کہا۔
“ضرور ضرور ، آج عفان نہیں آیا تمہارے ساتھ ؟ وہ تو ہمیشہ ہو تمہارے ساتھ ہوتا ہے ناں”۔خوشی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“آیا ہے ، پر اسے اب نیا دوست مل گیا ہے”۔ابریش نے منہ بناکر بتایا”
“اچھا ! کون؟۔خوشی نے حیرانگی سے پوچھا”
“ہے ایک نیا سٹوڈنٹ ، مراد نام ہے ، خیر چھوڑو انھیں تمھیں پتہ ہے ، میں نے جو تم سے کیک کی ریسیپی لی تھی ، وہ کیک میں نے اپنے پیرینٹس کی اینیورسیری پر بنایا تھا ، بہت اچھا بنا تھا ، سب کو پسند آیا تھا”۔ابریش نے موضوع بدلتے ہوئے بتایا۔
****************************
خوشی کا تعلق ایک مڈل کلاس طبقے سے تھا۔ماں کا اسکے پچپن میں ہی انتقال ہوگیا تھا۔بس بوڑھے والد تھے۔جو صبح کالج کی کینٹین میں ہوتے تھے۔اور کالج کے بعد ایک فیکٹری میں نوکری کرتے تھے۔خوشی بھی اسی کالج میں پڑھتی تھی۔اور فری ٹائم میں اپنے ابو کے ساتھ کینٹین پر ہی ہوتی تھی۔اور کالج کے بعد وہ کافی جگہ ٹیوشن بھی پڑھاتی تھی۔تا کہ فیس کا بندوبست ہوسکے۔خوشی کو ڈاکٹر بنے کا بہت شوق تھا۔اور اسی شوق کی تکمیل کیلئے وہ دن رات محنت کرتی تھی۔جس میں اکثر ابریش اور عفان بھی اسکی مدد کردیا کرتے تھے۔
***************************
“ہائے ابریش!۔ابریش سیڑھیاں اتار کر گراؤنڈ میں عفان کی جانب جارہی تھی کہ تب ہی کسی نے اسے پکارا۔ابریش سیڑھی پر رک کر پلٹی تو پیچھے خضر تھا۔ابریش اسے نظر انداز کرکے واپس سیڑھیاں اترنے لگی۔خضر کو حیرانگی ہوئی۔
“ارے ! آپ سے بات کررہا ہوں میں”۔خضر نے جلدی سے ابریش کے کے پیچھے آتے ہوئے کہا۔
“میں غیر مسلم سے بات نہیں کرتی”۔ابریش نے ہنوز سیڑھیاں اترتے ہوئے کہا۔
“کیا ! پر الحمدللہ میں مسلمان ہوں”۔خضر نے حیرانگی سے کہا۔
“اچھا ! پر مسلمان آپس میں ملتے وقت ہیلو ہائے نہیں سلام کرتے ہیں”۔ابریش نے رک کر خضر کی جانب گھومتے ہوئے کہا۔
“اوہ گاڈ ! ڈرا ہی دیا تھا آپ نے تو ، سوری ، السلام و علیکم”۔خضر نے سکھ کا سانس لیتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
“وعلیکم السلام ، کہیں کیوں پکارا مجھے؟۔ابریش نے دوبارہ سیڑھیاں اترتے ہوئے کہا۔
“ایسے ہی ، آپ پر نظر پڑگئی تو سوچا ہائے ہیلو کرلوں”۔خضر نے بھی سیڑھیاں اترتے ہوئے بتایا۔
“سوری ہائے ہیلو نہیں ، سلام دعا”۔خضر نے جلدی سے کہا۔ابریش خضر کا انداز دیکھ کر مسکرادی۔
“ایک بات بولوں!۔خضر نے ابریش کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“جی بولیں!۔ابریش نے کہا۔
“کچھ نہیں ، چھوڑیں”۔خضر نے ارادہ ملتوی کرتے ہوئے کہا۔دونوں اب نیچے آچکے تھے۔
“ویسے آپ کہاں جارہی تھیں؟۔خضر نے پوچھا۔
“میں عفان کی جانب جارہی تھی ، گراؤنڈ میں ہے وہ ، پھر تھوڑی دیر بعد کلاس شروع ہونے والی ہے”۔ابریش نے بتایا۔
“اوہ ! ٹھیک ہے ، تو پھر آپ جائیں ، میں بھی چلتا ہوں ، پھر کلاس میں ملیں گے”۔خضر نے کہا۔ابریش سرہلاکر آگے بڑھ گئی۔خضر وہیں کھڑا اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔
**********************
ابریش گراؤنڈ میں آئی تو اسے حسب توقع مراد اور عفان کے پیڑ کے نیچے بیٹھے ہوئے دکھے۔کیونکہ کچھ منٹوں بعد کلاس شروع ہونے والی تھی۔اسی لئے وہ بھی ان دونوں کی ہی جانب آگئی۔جیسے ہی وہ ان دونوں کے قریب پہنچی۔اسے عفان کے کاندھے پر ایک موٹا سا کنکھجورہ رینگتا ہوا دیکھائی دیا۔
“عفان ! کنکھجورہ “۔ابریش زور سی چلائی۔
“دیکھ ! لگڑبگا اور بندر تک ٹھیک تھا ، اب کنکھجورے کا لقب برداشت نہیں کروں گا میں”۔عفان نے انگلی اٹھا کر غصے سے کہا۔
“ابے پاگل تیرے کاندھے پر کنکھجورہ چل رہا ہے ، وہ دیکھ”۔ابریش نے اسکے کاندھے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“ممی ! کنکھجورہ !۔عفان کنکھجورے پر نظر پڑتے ہی چلایا۔مراد نے جلدی سے ریجسٹر کی مدد سے کنکھجورہ عفان کے کاندھے پر سے ہٹایا۔
“کس نے کہا تھا یہاں پیڑ کے نیچے گھس کر بیٹھنے کو ! اتنا بڑا گراؤنڈ کم پڑگیا تھا؟۔ابریش نے کہا۔عفان نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“چلو اب ، کلاس شروع ہونے والی ہے”۔ابریش نے کہا۔دونوں کھڑے ہوگئے۔اور کلاس کی جانب جانے لگے۔
“یار اب سے اس پیڑ کے نیچے نہیں بیٹھیں گے ہم مراد”۔عفان نے کہا۔
****************************
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *