Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode08

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode08

“عفان ! کنکھجورہ “۔ابریش زور سی چلائی۔
“دیکھ ! لگڑبگا اور بندر تک ٹھیک تھا ، اب کنکھجورے کا لقب برداشت نہیں کروں گا میں”۔عفان نے انگلی اٹھا کر غصے سے کہا۔
“ابے پاگل تیرے کاندھے پر کنکھجورہ چل رہا ہے ، وہ دیکھ”۔ابریش نے اسکے کاندھے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“ممی ! کنکھجورہ !۔عفان کنکھجورے پر نظر پڑتے ہی چلایا۔مراد نے جلدی سے ریجسٹر کی مدد سے کنکھجورہ عفان کے کاندھے پر سے ہٹایا۔
“کس نے کہا تھا یہاں پیڑ کے نیچے گھس کر بیٹھنے کو ! اتنا بڑا گراؤنڈ کم پڑگیا تھا؟۔ابریش نے کہا۔عفان نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“چلو اب ، کلاس شروع ہونے والی ہے”۔ابریش نے کہا۔دونوں کھڑے ہوگئے۔اور کلاس کی جانب جانے لگے۔
“یار اب سے اس پیڑ کے نیچے نہیں بیٹھیں گے ہم مراد”۔عفان نے کہا۔
**************************
“یہ لو انعم”۔فاریہ نے کافی کا مگ انعم کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
“اوہ ! تھینک یو سو مچ”۔انعم نے مگ تھامتے ہوئے کہا۔فاریہ بھی صوفے پر انعم کے برابر میں ہی بیٹھ گئی۔رات کے دس بج رہے تھے۔دونوں اس وقت ہال میں بیٹھی ہوئی تھیں۔
“اللّه کا شکر ہے کہ اس لڑکی کی ڈیلیوری خیریت سے ہوگئی”۔فاریہ نے ایک پیشنٹ کا ذکر کیا۔
“ہممم! میں بھی دل ہی دل میں دعا مانگ رہی تھی بیچاری کیلئے ، اور ماشاءالله بیٹی بھی کتنی پیاری ہوئی ہے ناں اسکی”۔انعم نے بھی تائید کرتے ہوئے کہا۔
“اچھا وہ جو لڑکی اس پیشٹ سے ملنے آئی تھی ، تم اسے اتنا غور سے کیوں دیکھ رہی تھی انعم؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“کچھ نہیں ، بس ایسے ہی”۔انعم نے ٹالا۔اور کافی کا سپ لیا۔
“اگر تم نہیں بتانا چاہتی تو کوئی بات نہیں”۔فاریہ نے کہا۔
“ارے نہیں نہیں ، ایسی بات نہیں ہے”۔انعم نے جلدی سے کہا۔
“دراصل مجھے لگا کہ میں نے اس لڑکی کو پہلے کہیں دیکھا ہے ، بس وہی یاد کرنے کی کوشش کررہی تھی”۔انعم نے بتایا۔
“اچھا ! تو پھر یاد آگیا کہ کہاں دیکھا تھا ؟ کون تھی وہ؟۔فاریہ نے کہتے ہوئے کافی کا سپ لیا۔
“جی ، یاد آگیا ، سیما تھی وہ ، طلحہ کی سیکریٹی”۔انعم نے بتایا۔
“کیا ! طلحہ کی سیکریٹی کو تم کسے جانتی ہو؟۔فاریہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
“ابھی ایک دو دن پہلے میں اور فیضان ایک ریسٹورنٹ گئے تھے ، آئسکریم کھانے ، تو وہیں اسے طلحہ کے ساتھ دیکھا تھا ، تب فیضان نے بتایا تھا کہ وہ طلحہ کی سیکریٹی ہے”۔انعم نے کہا۔
“اچھا ! پر دونوں ریسٹورنٹ میں!۔فاریہ نے تعجب سے کہا۔
“ہممم! مجھے بھی تعجب ہوا تھا ، پر فیضان نے کہا کہ ہوسکتا ہے کسی کلائینٹ سے ملنے آئے ہوئے ہوں ، اکثر ڈیلیں ریسٹورنٹ وغیرہ میں بھی ہوتی ہیں ناں”۔انعم نے بتایا۔
“ہممم! ہوسکتا ہے”۔فاریہ نے کہا۔
“کافی اچھی بنی ہے”۔انعم نے کہا۔
“تھینکس ، حیدر نے کہا تھا بنانے کو ، تو سوچا ہم دونوں کیلئے بھی بنالوں”۔فاریہ نے کہا۔پھر دونوں ہوسپٹل کے متعلق باتوں میں مصروف ہوگئیں۔اور سیڑھیوں کی آڑ میں کھڑی سعدیہ بھی واپس چلی گئی۔جو ان دونوں کی باتیں سن رہی تھی۔
**************************
سعدیہ بچوں کے کمرے سے ہوکر اپنے کمرے میں جارہی تھی۔کہ تب ہی ہال سے گزرتے ہوئے اس نے انعم کے منہ سے طلحہ کا نام سنا تو غیرارادی طور پر وہیں کھڑی ہوگئی۔کیونکہ فاریہ اور انعم کی پشست سعدیہ کی جانب تھی۔اس لئے دونوں نے اسے نہیں دیکھا تھا۔سعدیہ کو انعم کے منہ سے طلحہ کے بارے میں یہ سب سن کر بہت حیرت ہوئی تھی۔اور ابھی وہ کمرے میں بے چینی سے ٹہلتے ہوئے طلحہ کا انتظار کررہی تھی۔کہ تب ہی کمرے کا دروازہ کھلا۔اور طلحہ کمرے میں داخل ہوا۔سعدیہ اسے دیکھ کر رک گئی۔طلحہ نے ایک نظر سعدیہ پر ڈالی۔اور واش روم کی جانب جانے لگا۔
“یہ سیما کون ہے؟۔سعدیہ نے سختی سے پوچھا۔طلحہ یکدم رک کر پلٹا۔
“کیا کہا؟۔طلحہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“میں نے کہا کہ یہ سیما کون ہے ؟۔سعدیہ نے دوبارہ اسی لہجے میں پوچھا۔
“میری سیکریٹی ہے ، پر تم کیوں پوچھ رہی ہو؟۔طلحہ نے عام سے لہجے میں کہا۔
“تو سیکریٹی کے ساتھ آپ ریسٹورنٹ میں کیا کررہے تھے ؟ اسکا کام تو آفس میں ہوتا ہے”۔سعدیہ نے پوچھا۔
“کیا ! میں کب ریسٹورنٹ گیا اس کے ساتھ؟۔طلحہ نے حیرانگی سے کہا۔
“ابھی ایک دو دن پہلے ، خود فیضان چاچو اور انعم چچی نے آپکو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا وہاں اسکے ساتھ آئسکریم کھاتے ہوئے”۔سعدیہ نے غصے سے وضاحت کی۔
“اوہ ! وہ تو ایک کلائینٹ سے فائل سائن کروانی تھی ، اور جن سے کروانی تھی وہ اپنی فیملی کے ساتھ اسی ریسٹورنٹ میں آنے والے تھے ، تو انھوں نے ہمیں بھی وہیں بلالیا ، تب ہی دیکھا ہوگا شاید چاچو چچی نے ، کام کے سلسلے میں گئے تھے ہم وہاں”۔طلحہ نے بتایا۔
“جھوٹ ! کام آفس میں ہوتے ہیں ، ریسٹورنٹ میں نہیں ، جھوٹ بول رہے ہیں آپ”۔سعدیہ نے سختی سے کہا۔
“میں بھلا جھوٹ کیوں بولوں گا ؟ اور مجھے کیا ضرورت پڑی ہے اسکے ساتھ ریسٹورنٹ جانے کی ، تم غلط سمجھ رہی ہو”۔طلحہ نے سمجھایا۔
“نہیں ، میں سب سمجھتی ہوں ، اصل بات یہ ہے کہ آپکا دل بھر گیا ہے اب مجھ سے ، اسی لئے آپ نے اب کوئی اور ڈھونڈ لی ہے اپنا دل بہل………!
“سعدیہ !۔وہ غصے میں بولے جارہی تھی کہ تب ہی طلحہ نے غصے سے اس پر ہاتھ اٹھایا۔اور اسکی بات بیچ میں ہی رہ گئی۔پر اسے تھپڑ نہیں مارا۔طلحہ نے اپنا ہاتھ ہوا میں ہی روک لیا۔
“کیا ہوا ! رک کیوں گئے ، ماریں مجھے ، بس اس کی ہی کمی رہ گئی ہے”۔سعدیہ نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
“میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ تمہاری سوچ اتنی گری ہوئی ہے”۔طلحہ نے برہمی سے کہا۔
“میرے بھی وہم و گمان میں نہیں تھا کہ آپ اتنی گری ہوئی حرکت کریں گے”۔سعدیہ نے طنز مارا۔
“میری حرکت نہیں ، تمہاری سوچ گری ہوئی ہے ، اگر عقل و شعور استمعال کرتی تو کبھی ایسی بات نا کرتی ، مجھے دکھ ہوا یہ سب جان کر”۔طلحہ نے تاسف سے کہا۔اور بنا سعدیہ کی اور کوئی بات سنے تیزی سے دروازہ پٹختے ہوئے کمرے سے باہر چلا گیا۔سعدیہ دونوں ہاتھوں میں سرگرا کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔
***********************
کمرے میں گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔اور خاموشی بھی اندھیرے کے ساتھی تھی۔پر اس خاموشی کو کمرے میں موجود گھڑی کی سوئیوں کی ٹِک ٹِک تھوڑی تھوڑی شکست دے رہی تھی۔اس خاموش اور تنہا ماحول میں ایک وجود راکنگ چیئر پر آنکھیں بند کیے سر کرسی کی پشست سے لگائے ہولے ہولے جھول رہا تھا۔اسکا ذہن اس وقت مختلف سوچوں میں محو تھا۔
“جو کچھ میں نے اب تک کیا ہے ، اور جو کچھ کرنے کا آگے میرا ارادہ ہے ، وہ صحیح ہے ناں !۔اچانک اسے ایک خیال آیا۔اس نے سیدھے ہوکر بیٹھتے ہوئے چونک کر آنکھیں کھول دی۔
“ہاں ہاں صحیح ہے ، اگر وہ ایسا نا کرتے تو مجھے بھی کوئی ضرورت نہیں پڑتی یہ سب کرنے کی”۔اس نے خود ہی اپنے فیصلے کو صحیح مان کر مثبت کی مہر لگادی۔اور دوبارہ سر کرسی کی پشست سے لگاکر آنکھیں موندلی۔
*************************
طلحہ اپنے آفس روم میں کرسی کی پشست سے سر ٹکائے آنکھیں بند کیے بیزار سا بیٹھا ہوا تھا۔کل رات سعدیہ سے ہونے والی ضد بحث کے بعد وہ کافی ڈسٹرب ہوگیا تھا۔اور آفس ٹائم سے پہلے ہی بنا ناشتہ کیے آفس آگیا۔کل رات سے دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔حقیقتاً طلحہ کو سعدیہ کے رویے سے دکھ ہوا تھا۔اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کبھی سعدیہ اس پر شک کرے گی۔
“ٹک ٹک ٹک”۔طلحہ انہی سوچوں میں گم تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
“کم ان”۔طلحہ نے سیدھے ہوکر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“گڈ مارننگ سر”۔سیما کہتی ہوئی روم میں داخل ہوئی۔
“گڈ مارننگ ، پلیز سٹ”۔طلحہ نے کہا۔
“سر یہ آپکے لئے”۔سیما نے ایک چھوٹا سا میٹھائی کا ڈبہ میز پر رکھتے ہوئے کہا۔اور کرسی کھنچ کر بیٹھ گئی۔
“میرے لئے ! پر کیوں؟۔طلحہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“سر ابھی کچھ دن پہلے میری کزن کے یہاں شادی کے پانچ سال بعد بیٹی ہوئی ہے ، اس خوشی میں آج میں نے آفس میں سب کو میٹھائی کھیلائی ہے ، تو آپکو بھی دے دی”۔سیما نے تفصیل بتائی۔
“اوہ ! بہت بہت مبارک ہو ، اللّه پاک بچی کا نصیب اچھا کرے”۔طلحہ نے کہا۔
“امین”۔سیما نے کہا۔
“آج آپ کافی جلدی آگئے سر ، میرا مطلب اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تو”۔سیما نے پوچھا۔
“ہاں وہ بس ایسے ہی کچھ کام تھا اس لئے جلدی آگیا”۔طلحہ نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
“آپ بتائیں ، مسٹر نوشاد آفریدی سے میٹنگ فکس ہوئی ہماری؟۔طلحہ نے پوچھا۔
“یس سر ! کل دوپہر تین بجے میٹنگ فکس ہوئی ہے”۔سیما نے بتایا۔
“گڈ ! سب کچھ پرفیکٹ ہونا چاہئے”۔طلحہ نے تاکید کی۔
“بالکل سر ، آپ بےفکر رہیں ، ہر بار کی طرح اس بار بھی سب بہت اچھے سے ہوجائے گا”۔سیما نے کہا۔
****************************
“میری سمجھ سے باہر ہے کہ آخر تمھیں اس بیچارے سے مسلہ کیا ہے؟۔ابریش نے آگے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے عفان سے کہا۔عفان نے کوئی جواب نہیں دیا۔بس خاموشی سے ڈرائیو کرتا رہا۔دونوں اس وقت کالج سے واپس گھر جارہے تھے۔ابریش اور عفان کی ضد بحث ہوئی تھی اسی لئے ابریش عفان کے ساتھ نہیں بیٹھی تھی۔پیچھے بیٹھ گئی تھی۔
“میں تم سے بات کررہی ہوں عفان”۔ابریش نے جواب ناپاکر دوبارہ کہا۔
“مجھے نہیں کرنی کوئی بات ، اور اس بلے کے بارے میں تو بالکل بھی نہیں”۔عفان نے کہا۔
“یار اب اسکی آنکھیں قدررتی طور پر ایسی ہیں تو اس میں اسکی کیا غلطی ، بری بات ، سب انسان اللّه پاک کی تخلیق ہیں ، کسی کے بھی ظاہری حلیے کی وجہ سے اسے ناپسند نہیں کرنا چاہئے”۔ابریش نے کہا۔
“یہ جو ہمدردی میں آکر ہر کسی کی مدد کرنے کی عادت ہے ناں تمہاری ، دیکھنا ایک دن تمھیں لے ڈوبے گی ، بہت نقصان اٹھاؤ گی تم”۔عفان نے پیچھے مڑ کر ابریش کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“اگر کبھی ڈوبی بھی ناں ، تو مدد کیلئے کم از کم تمہیں نہیں پکاروں گی”۔ابریش نے بھی غصے سے کہا۔عفان نے کوئی جواب نہیں دیا۔اور موڑ مڑنے لگا۔کہ تب ہی سامنے سے ایک ٹرک بےقابو ہوا ان کی جانب آیا۔اس سے پہلے کے عفان خود کو بچانے کیلئے گاڑی دائیں بائیں کرتا ٹرک انکی گاڑی سے ٹکراچکا تھا۔
***************************
ابریش کیونکہ پچھلی نشست پر تھی۔اسی لئے اسے کوئی چوٹ نہیں آئی تھی۔پر ڈرائیونگ سیٹ پر ہونے کی وجہ سے عفان کے پیر اور سر پر چوٹ آگئی تھی۔ایکسیڈنٹ کے بعد ابریش فوراً کچھ لوگوں کی مدد سے عفان کو اسی ہوسپٹل لے آئی تھی جہاں پر یہ سب ڈاکٹر تھے۔اسے ٹریٹمنٹ دے کر پرائیویٹ روم میں شفٹ کردیا گیا تھا۔اس کو کوئی زیادہ سنجیدہ چوٹ تو نہیں آئی تھی۔پر پیر کی چوٹ کی وجہ سے ابھی کچھ وقت کیلئے وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہوگیا تھا۔اور اس وقت فیضان کے ہاتھوں اسکی شامت آئی ہوئی تھی۔
“دھیان کہاں تھا تمہارا ڈرائیونگ کرتے ہوئے؟۔فیضان نے کہا۔
“چاچو غلطی عفان کی نہیں ہے ، وہ تو ٹرک والا ہی اچانک سامنے آگیا تھا”۔ابریش نے بتایا۔
“چھوڑو تم بھی کیا بچے کو ڈانٹ رہے ہو ، شکر کرو کہ کوئی زیادہ بڑا نقصان نہیں ہوا”۔حیدر نے کہا۔
“ہممم! بلکہ ابھی تھوڑی دیر تک عفان گھر بھی جاسکتا ہے”۔فاریہ نے بھی کہا۔
“پر ابھی عفان کالج نہیں جاسکتا ناں!۔ابریش نے پوچھا۔
“بالکل ، جب تک یہ پوری طرح ٹھیک نہیں ہوجاتا یہ گھر سے کہیں نہیں جائے گا”۔انعم نے تائید کی۔
“پر ممی کالج بھی تو ضروری ہے”۔عفان نے کہا۔
“چپ ممی کے بچے ، اس وقت صحت سے زیادہ کچھ ضروری نہیں ہے”۔انعم نے ٹوکا۔
“تم کالج کا کام گھر میں ہی کرلینا ، ابریش مدد کردے گی تمہاری”۔حیدر نے کہا۔
***************************
“اور بھئی شہزادے ، کیسی طبیعت ہے اب تمہاری ، سنا ہے کہیں سے ٹوٹ پھوٹ کر آئے ہو”۔طلحہ نے عفان کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔عفان گھر آچکا تھا۔آدھے لوگ اس وقت اسکے کمرے میں ہی جمع تھے۔طلحہ ابھی ابھی آفس سے آیا تھا۔اسے عفان کے بارے میں پتہ چلا تو اسکی طبیعت پوچھنے آگیا۔
“ٹھیک ہوں اب طلحہ بھائی”۔عفان نے کہا۔
“تم بھی تو ساتھ تھی ابریش ، تمھیں چوٹ نہیں آئی؟۔طلحہ نے پوچھا۔
“نہیں طلحہ بھائی ، کیونکہ میں پیچھے بیٹھی ہوئی تھی ، اور ایکسیڈنٹ کے بعد اسے ہوسپٹل بھی میں ہی لے کر گئی تھی”۔ابریش نے فخر سے بتایا۔
“گڈ ! اچھا میں فرش ہوکر آتا ہوں ، پھر بات کرتے ہیں”۔طلحہ نے کہا۔اور ایک نظر سعدیہ پر ڈال کر کمرے سے باہر آگیا۔
“جاؤ سعدیہ ، شوہر آفس سے تھکا ہارا آیا ہے ، کوئی چائے پانی پوچھو اسے”۔فائزہ نے کہا۔
“وہ کوئی چھوٹے بچے تھوڑی ہیں امی ، ملازمہ ہے تو گھر میں ، وہ پوچھ لے گی”۔سعدیہ نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
“پر بیٹا ملازمہ میں اور بیوی میں فرق ہوتا ہے”۔ممتاز نے سمجھایا۔سعدیہ ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے خاموشی سے اٹھ کر باہر آگئی۔ممتاز اور فائزہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگی۔
***************************
سعدیہ کمرے میں آئی تو طلحہ نہانے گیا ہوا تھا۔سعدیہ کچن میں آئی۔اور ملازمہ کو چائے کا کہہ کر بچوں کے پاس چلی گئی۔جو کہ اس وقت ٹیوٹر کے پاس پڑھ رہے تھے۔اور حکم کے مطابق ملازمہ طلحہ کو چائے دینے آگئی۔
“ٹک ٹک ٹک”۔ملازمہ نے رک کر دروازے پر دستک دی۔
“آجاؤ”۔اندر سے طلحہ کی آواز آئی۔ملازمہ دروازہ دھکیلتی ہوئی اندر آگئی۔طلحہ شیشے کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا۔
“صاحب یہ چائے آپکے لئے”۔ملازمہ نے چائے کا کپ میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
“سعدیہ کہاں ہے؟۔طلحہ نے ہیئر برش ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے پوچھا۔
“جی وہ بچوں کے پاس ہیں”۔ملازمہ نے بتایا۔
“ٹھیک ہے ، جاؤ تم”۔طلحہ نے کہا۔ملازمہ سر ہلاکر چلی گئی۔طلحہ بھی چائے کا کپ لے کر کمرے سے باہر آگیا۔اور عفان کے کمرے کی جانب جانے لگا۔
***************************
بابا ! آپ سے ایک بات کی اجازت چاہئے”۔ابریش نے کہا۔سب لوگ اس وقت ڈائنیگ ٹیبل پر موجود رات کا کھانا کھارہے تھے۔عفان کے ساتھ انعم پہلے ہی اسکے کمرے میں کھانا کھاچکی تھی۔
“بولو ، کس بات کی اجازت؟۔حیدر نے پوچھا۔
“وہ بات دراصل یہ ہے کہ عفان تو ابھی چوٹ کی وجہ سے کچھ ٹائم کالج جا نہیں سکتا ، میں اکیلے ہی جاؤں گی ، تو کیا جب تک عفان کالج نہیں جارہی کار میں ڈرائیو کرلوں”۔ابریش نے کافی لمبی تہمید بند کر جھجھکتے ہوئے پوچھا۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے”۔فاریہ نے صاف انکار کردیا۔
“پر مما مجھے تھوڑی بہت ڈرائیونگ آتی تو ہے ، اور باقی تھوڑی بہت سیکھ لوں گی”۔ابریش نے کہا۔
“نہیں ، عفان کو بھی ڈرائیونگ آتی ہے ، پر دیکھا ناں کیا ہوا ، تمھیں تو میں بالکل ڈرائیو نہیں کرنے دوں گی”۔فاریہ نے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا۔
“بیٹی فاریہ ٹھیک کہہ رہی ہے ، آج کل روڈ پر ٹریفک بہت ہوتا ہے ، ابھی تم نہیں سمبھال پاؤ گی”۔ہمدان صاحب نے بھی تائید کی۔
“ابریش ، بیٹا ابھی ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤ ، جب تمھیں پرفیکٹ ڈرائیونگ آجائے گی پھر تم چلالینا کار ، پر بیٹا ابھی نہیں ، ٹھیک ہے”۔حیدر نے آرام سے سمجھایا۔
“ٹھیک ہے بابا”۔ابریش نے کہا۔
*****************************
رات کے گیارہ بج رہے تھے۔آدھے لوگ اپنے اپنے کمروں میں سونے جاچکے تھے۔اور آدھے جارہے تھے۔بچوں کو سلانے کے بعد سعدیہ اب کمرے میں آئی تھی۔طلحہ حسب معمول بیڈ پر لیپ ٹاپ لے کر بیٹھا ہوا تھا۔اس نے ایک نظر طلحہ پر ڈالی۔اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آکر چین اتارنے لگی۔چین اتار کر وہ بیڈ پر اپنے بستر پر کمبل اوڑھ کر لیٹ گئی۔اور بنا طلحہ سے کوئی بات کیے دوسری جانب کروٹ لے لی۔طلحہ منتظر تھا کہ شاید سعدیہ پہل کرے گی ، کوئی بات کرے گی ، اب تک اسے احساس ہوچکا ہوگا کہ اس نے طلحہ پر بےبنیاد شک کیا ہے۔اور وہ تو دل میں ارادہ کرکے بیٹھا ہوا تھا کہ صرف ایک بار سعدیہ پہل کردے ، اور اپنی غلطی مان لے ، تو وہ سارا معملا رفع دفع کردے گا۔پر سعدیہ نے ایسا کچھ نہیں کیا۔درحقیقت طلحہ کو افسوس ہوا۔اسے سعدیہ سے کچھ اور امید تھی۔اس نے بےدلی سے لیپ ٹاپ آف کرکے سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔
“سعدیہ !۔طلحہ نے پکارا۔اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“سعدیہ تمہیں کہہ رہا ہوں میں”۔طلحہ نے دوبارہ کہا۔
“بولیں !۔سعدیہ نے سیدھے ہوتے ہوئے کہا۔
“تم ابھی تک اس بیکار سی بات کو لے کر بیٹھی ہو؟۔طلحہ نے پیار سے اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔
“بیکار سی بات ! آپ کو کسی اور میں دلچسپی ہونے لگی ہے ، آپ نے چھپ چھپ کر اس سے ملنا ، اسکے ساتھ گھومنا شروع کردیا ہے ، اور آپ کہہ رہے ہیں بیکار سی بات!۔سعدیہ نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے تلخی سے کہا۔
“فار گاڈ سیک سعدیہ ! بس بھی کرو ، ایسا کچھ نہیں ، میں کہہ چکا ، پر تم بلاوجہ بات کو بڑھائے جارہی ہو”۔طلحہ نے برہمی سے کہا۔
“جھوٹ کو بار بار دہرانے سے وہ سچ نہیں ہوجاتا طلحہ صاحب”۔سعدیہ نے تلخی سے کہا۔
“مطلب تمھیں مجھ پر بھروسہ نہیں ؟ تمھیں لگتا ہے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں؟۔طلحہ نے پوچھا۔
“مجھے لگتا نہیں ہے ، ایسا ہی ہے”۔سعدیہ نے ڈھیٹ پن سے کہا۔طلحہ کچھ لمحے تاسف و حیرانگی کے ملے جلے تاثر لے کر سعدیہ کو دیکھتا رہا۔
“ٹھیک ہے”۔طلحہ نے سپاٹ لہجے میں کہا۔اور بنا اور کوئی بات کیے کمبل اوڑھ کر دوسری جانب کروٹ لے لی۔سعدیہ کچھ دیر ایسے ہی اسکی پشست کو دیکھتی رہی۔پھر اس نے بھی کمبل اوڑھ کر دوسری جانب کروٹ لے لی۔اور سونے کی کوشش کرنے لگی۔
“جو تمنا بر نہ آئے عمر بھر”
“عمر بھر اس کی تمنا کیجئے”
“آپ ہی نے دردِ دل بخشہ ہمیں”
“آپ ہی اس کا مداوا کیجئے”
“بے وجہ کوئی الزام لگ جائے تو کیا کیجئے”
“پھر یوں کیجئے کہ وہ جرم کر ہی لیجئے”
****************************
“کیا کررہا ہے لگڑبگے؟۔ابریش نے کمرے میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔عفان بیڈ پر لیٹا ہوا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ابریش سونے سے قبل ایک نظر عفان کو دیکھنے آئی تھی۔
“فٹ بال کھیل رہا ہوں”۔عفان نے کہا۔
“چوٹ لگی ہوئی ہے ، پھر بھی اچھلنے کودنے سے باز نہیں آیا”۔ابریش نے بیڈ کے قریب آتے ہوئے کہا۔اور بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی۔
“میری چھوڑیں ، آپ اپنی سنائیں میں نے سنا کہ آپکی کار ڈرائیو کرنے کی عرضی رد کردی گئی ہے”۔عفان نے تپانے والے میں پوچھا۔
“تجھے کیسے پتہ چلا؟ابریش نے آئبرو اچکاکر پوچھا۔
“میں بھلے سے کمرے میں ہوں ، پر میرے خبری سب جگہ نظر رکھے ہوئے ہیں”۔عفان نے مصنوئی اکڑ سے کہا۔
“اچھا ! تو یہ یقیناً علیزے اور ابرار کا کام ہے”۔ابریش نے کہا۔
“ویسے چچی ٹھیک کہہ رہی ہیں ، ابھی روڈ پر کار سمبھالنا تمہارے بس کی بات نہیں ہے”۔عفان نے کہا۔
“ہاں ہاں پتہ ہے ، ابھی تھوڑی دیر پہلے اچھا خاصا لیکچر سن کر آئی ہوں”۔ابریش نے کہا۔
“لیکچر سے یاد آیا ، کل تو ثاقب سر بہت اہم لیکچر نوٹ کروائیں گے ناں!۔عفان نے کہا۔
“ہممم! تم فکر مت کرو ، میں نوٹ کرلوں گی ، تم کاپی کرلینا”۔ابریش نے کہا۔
ہممم! اب تو تم بھی کچھ ٹائم آرام سے خضر سے بات چیت کرسکتی ہو ، میں جو نہیں ہوں گا تمھیں روکنے ٹوکنے کیلئے”۔عفان نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
“ابھی تو ایک ہی پیر ٹوٹا ، زیادہ بکواس کی تو دوسرا پیر اور منہ دونوں توڑ دوں گی میں تیرا”۔ابریش نے پاس پڑا تکیہ عفان کو مارتے ہوئے کہا۔
“اچھا ناں مذاق کررہا تھا میں”۔عفان نے کہا۔
“دوائی کھالی تم نے؟۔ابریش نے پوچھا۔
“ہممم! ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ممی دے کر گئیں ہیں”۔عفان نے بتایا۔
“چلو تم بھی آرام کرو ، میں بھی سونے جارہی ہوں ، صبح جلدی اٹھنا ہے”۔ابریش نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“سنو میری رائٹنگ ٹیبل پر سے ڈائری اور پین دے دو میرا”۔عفان نے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔
“کیا لکھتے رہتے ہو تم یہ ہر وقت؟۔ابریش نے ٹیبل پر سے ڈائری اٹھاتے ہوئے پوچھا۔
“ابھی تمہاری سمجھ میں نہیں آئے گا”۔عفان نے کہا۔
“تو پھر کب آئے گا؟۔ابریش نے پوچھا۔
“جب تمہاری حالت بھی میری طرح ہوگی”۔عفان نے کہا۔
“کیسی ہے تمہاری حالت؟۔ابریش نے پوچھا۔
“کہا ناں ابھی تم نہیں سمجھ سکتی ، چھوڑو ان باتوں کو ، ڈائری دو میری”۔عفان نے ہاتھ بڑھا کر کہا۔
“لو ، پتہ نہیں کیا کہہ رہے ہو”۔ابریش نے ناسمجھی سے کہتے ہوئے ڈائری عفان کی جانب بڑھادی۔
“تھینک یو”۔عفان نے ڈائری لیتے ہوئے کہا۔
“گڈ نائٹ ، شب بخیر”۔ابریش نے کہا۔اور کمرے سے باہر چلی گئی۔عفان نے اپنی ڈائری کھول لی۔اور کچھ لکھنے لگا۔
“ہم نے محبت کا بھرم سب سے جدا رکھا ہے”
“ذکر تیرا ہے ، پر نام چھپا رکھا ہے”
عفان نے ایک شعر لکھا۔پھر پین تھوڑی پر ٹکا کر کچھ سوچنے لگا۔پھر کسی خیال کہ آتے ہی دوبارہ ڈائری پر کچھ لکھنے لگا۔
“محبت مٹ نہیں سکتی”
“نا کر کوشش مٹانے کی”
“میرے دل کی تمنا ہے”
“تجھے اپنا بنانے کی”
************************
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *