Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode10

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode10

اللّه پاک کے حکم سے سورج اپنے معمول کے مطابق آسمان پر شان سے براجمان ہوچکا تھا۔جس سے معمولات زندگی دوبارہ حرکت پر آگئی تھی۔خواہ وہ انسان کی ہو ، جانور یا پرندوں کی۔سٹوڈنٹس کا کالج آنے کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا تھا۔ابریش کار سے اتر کر اپنی چادر اور بیگ سمبھالتی ہوئی کالج میں داخل ہوئی۔ابریش کا تعلق بھلے ہی ایک ہائی کلاس گھرانے سے تھا۔پر وہ ان لڑکیوں کی طرح نہیں تھی جنہیں پتہ ہی نہیں ہے کہ شرم ، حیاء ، دوپٹہ ، پردہ کیا ہوتا ہے ؟ ابریش ہمیشہ ہی مناسب لباس زیب تن کرتی تھی۔اور لباس کے اوپر سر سمیت چادر اوڑھ کر رکھتی تھی۔جو کہ اسے فاریہ نے سیکھایا تھا۔وہ ہمیشہ کلاس شروع ہونے سے آدھا گھنٹہ قبل ہی کالج آجاتی تھی۔تا کہ کسی صورت لیٹ نا ہو۔اور جب سے ٹائر پنکچر ہونے کی وجہ سے وہ ایک بار لیٹ ہوئی تھی۔تب سے اس نے اور احتیاط شروع کردی تھی۔کلاس شروع ہونے میں ابھی آدھا گھنٹہ تھا۔پہلے اس نے سوچا کہ خوشی کے پاس چلی جائے۔پھر خیال آیا کہ اس نے ابھی اپنے ابو کے ساتھ کینٹین کھولی ہوگی تو وہ اس میں مصروف ہوگی۔ابھی اسے ڈسٹرب کرنا ٹھیک نہیں ہے۔اسی لئے وہ گراؤنڈ میں ہی ایک بینچ پر بیٹھ گئی۔درد حقیقت اسے ڈائگرام کی ٹینشن ہورہی تھی۔ابریش نے بیگ سے وہی بک نکالی جس میں علیزے کے کہنے پر اس نے جیسے تیسے ڈائگرام بنالی تھی۔اسے ڈائگرام میں دل بنا کر لانا تھا۔ابریش نے بک کھول کر ایک بار پھر ڈائگرام دیکھی۔اور ایک نظر ڈالتے ہی بک واپس بند کردی۔ ابریش کا ڈائگرام پر دوسری نظر ڈالنے کا دل ہی نہیں چاہا۔
“اگر یہ ڈائگرام میں نے سر کو دیکھائی تو اچھی خاصی بے عزتی ہوجانی ہے”۔ابریش نے خودکلامی کی۔اور خود کو کوستے ہوئے بےدلی سے یہاں وہاں دیکھنے لگی۔کہ تب ہی اسکی نظر ایک جانب سے آتے ہوئے خضر پر پڑی۔
“اچھا میں چلتا ہوں ، اگر کبھی کسی مدد کی ضرورت پڑے تو میں حاضر ہوں”۔ابریش کو یکدم خضر کی کل کہی ہوئی بات یاد آئی۔
“اس سے ہیلپ لیتی ہوں ، میں نے بھی تو مدد کی ہے آخر اس کی”۔ابریش خودکلامی کرتے ہوئے بینچ سے اٹھی۔بیگ کاندھے پر ڈال کر نوٹ بک سینے سے لگائے وہ خضر کی جانب آئی۔خضر اوپر جانے کیلئے سیڑھیاں چڑھنے ہی والا تھا۔
“ایکسکیوزمی خضر!۔ابریش نے پکارا۔خضر پہلے سٹیپ پر ہی رک کر پلٹا۔
“السلام و علیکم ، تم سے ایک بات کرنی ہے”۔ابریش نے کہا۔
“وعلیکم السلام ، جی بولیں”۔خضر نے سٹیپ سے واپس نیچے اترتے ہوئے کہا۔
“دراصل مجھے تمہاری ہیلپ چاہئے”۔ابریش نے کہا۔
“جی جی بولیں ، میں حاضر ہوں ، کیا مدد کرنی ہے؟۔خضر نے پوچھا۔
“وہ جو کل سر نے ڈائگرام بناکر لانے کا کہا تھا تم نے بنالی؟۔ابریش نے پوچھا۔
“جی !۔خضر نے کہا۔
“وہ بات یہ ہے کہ مجھ سے ڈائگرام نہیں بنتی ، تو میری ڈائگرام ہمیشہ عفان ہی بناتا تھا ، پر کل میں اس سے بنوانا بھول گئی ، تو کیا پلیز تم بنادو گے؟۔ابریش نے بتاتے ہوئے پوچھا۔
“بس اتنی سی بات ہے ، جی ضرور بنا دوں گا ، لائیں دیں”۔خضر نے کہا۔
“کیا دوں؟۔ابریش نے پوچھا۔
“اپنی نوٹ بک ، ڈائگرام بنانے کیلئے”۔خضر نے کہا۔
“اوہ ہاں ! سوری ، یہ لو”۔ابریش نے سینے سے لگائی نوٹ بک خضر کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
“چلیں گراؤنڈ میں چلتے ہیں ، وہاں بیٹھ کر بنا دیتا ہوں”۔خضر نے نوٹ بک لیتے ہوئے کہا۔اور دونوں گراؤنڈ میں ایک پیڑ کے قریب بیٹھ گئے۔
“یہ آپ نے بنائی ہے؟۔خضر نے ابریش کی بنائی ڈائگرام دیکھ کر ہنسی ضبط کرتے ہوئے پوچھا۔
“ہاں ، پتہ ہے مجھے تھوڑی عجیب ہے”۔ابریش نے کہا۔
“تھوڑی عجیب ہے ؟۔خضر نے طنزیہ انداز میں ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا۔
“تم مذاق اڑا رہے ہو میرا؟۔ابریش نے تنک کر پوچھا۔
“ارے نہیں نہیں ، میں تو بس ایسے ہی”۔خضر نے جلدی سے کہا۔پر ابریش کی بنائی ڈائگرام دیکھ کر اسکا ہنسی روکنا محال ہورہا تھا۔
“نہیں رہنے دو ، کوئی ضرورت نہیں ہےبنانے کی”۔ابریش نے خضر کا ہنسی روکنے کی وجہ سے لال ہوتا چہرہ دیکھ کر نوٹ بک لیتے ہوئے کہا۔
“ارے آپ غلط سمجھ رہی ہیں ، مجھے کوئی اور بات یاد آگئی تھی اسی لئے ہنسی آرہی ہے”۔خضر نے جھوٹ بولا۔ابریش تیکھی نظروں سے اسے گھورنے لگی۔
“دیکھیں تھوڑی دیر بعد کلاس شروع ہوجائے گی ، ٹائم ضائع ہورہا ہے ، لائیں دیں اپنی بک”۔خضر نے کہا۔وقت کی کمی کے باعث ابریش نے نوٹ بک واپس اسے دے دی۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پندرہ منٹ میں خضر نے بہت ہی زبردست ڈائگرام بنادی۔اور اتنی زبردست تھی کہ عفان نے بھی آج تک اتنی اچھی ڈائگرام نہیں بنائی تھی۔
“یہ لیجئے ، بن گئی”۔خضر نے نوٹ بک ابریش کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
“واؤ ! زبردست”۔ابریش نے ڈائگرام دیکھتے ہوئے ستائشی لہجے میں کہا۔
“تھینک یو سو مچ ، اتنے کم وقت میں اتنی اچھی ڈائگرام بنادی ہے تم نے ، امیزنگ ، تھینک یو”۔ابریش نے کہا۔
“کوئی بات نہیں ، آخر آپ نے بھی تو اتنی مدد کی ہے میری ، اور پھر مجھے اسکیچینگ کا شوق بھی ہے ، اسی لئے جلدی اور اچھی بن گئی”۔خضر نے کہا۔
“ہممم! اسکیچینگ ، مطلب پینٹنگ وغیرہ بھی بناتے ہو تم؟۔ابریش نے پوچھا۔
“جی ، مجھے پینٹنگ اور اسکیچینگ کا بہت شوق ہے ، بلکہ میں تو پینٹر یا اسکیچ آرٹسٹ بنا چاہتا تھا”۔خضر نے چمکتی آنکھوں کے ساتھ مسکراتے ہوئے بتایا۔
“اچھا ! تو پھر میڈیکل کی فیلڈ میں کیا کررہے ہو؟۔ابریش نے پوچھا۔اسکے سوال پر خضر کی چمکتی ہوئی آنکھیں یکدم ماند پڑگئیں۔جسے ابریش نے بھی محسوس کیا۔
“تمھیں اسکیچینگ اور پینٹنگ کا شوق ہے ، تو تم نے اسکیچیز اور پینٹینگز بھی بنائے ہوں گے؟۔ابریش نے خضر کی کیفیت دیکھ کر بات بدلی۔
“جی بالکل ، گھر پر بہت سارے اسکیچیز اور پینٹینگز بنائی ہوئی ہیں میں نے ، آپ دیکھنا چاہیں گی ، لاؤں کل ؟۔خضر نے خوشی سے پوچھا۔
“ہاں ضرور “۔ابریش نے کہا۔
“ٹھیک ہے ، کل لے کر آؤں گا”۔خضر نے کہا۔
“ہممم! کلاس کا ٹائم ہونے والا ہے ، اب چلنا چاہئے ہمیں”۔ابریش نے کہا۔
“ہاں ! چلیں”۔خضر نے بھی کہا۔اور دونوں کلاس میں جانے کیلئے کھڑے ہوگئے۔اور پیڑ کی آڑ میں کھڑا مراد بھی وہاں سے ہٹ گیا جو کافی دیر سے وہاں کھڑا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
***************************
“اور بھئی ہیپی کیا حال ہے؟۔ابریش نے کاؤنٹر پر آکر خوشی سے کہا۔وہ خوشی کو اکثر ہیپی کہتی تھی۔
“ٹھیک تم سناؤ”۔خوشی نے کاؤنٹر پر کام کرتے ہوئے بجھے بجھے سے لہجے میں کہا۔
“کیا بات ہے ؟ سب خریت ہے ؟ تم کافی اپ سیٹ لگ رہی ہو؟۔ابریش نے جانجتی ہوئی نظروں کے ساتھ پوچھا۔
“کچھ خاص نہیں ، اور تم بتاؤ ، عفان کی طبیعت کیسی ہے اب؟۔خوشی نے بات بدلی۔
“ہممم! ٹھیک ہے”۔ابریش نے کہا۔تب ہی کچھ کسٹمرز آگئے۔خوشی ان میں مصروف ہوگئی تو ابریش بھی بس سینڈوچ لے کر وہاں سے آگئی۔
**************************
آفس میں لنچ بریک ہوچکا تھا۔سب لوگ اس وقت کام سے وقفہ لے کر کھانے پینے اور گپ شپ میں مصروف تھے۔سیما باہر کی جانب جارہی تھی۔
“ایکسکیوزمی سیما جی”۔طلحہ نے پکارا۔سیما رک کر پلٹی۔
“جی سر؟۔سیما نے پوچھا۔
“کہاں جارہی ہیں آپ؟۔طلحہ نے پوچھا۔
“لنچ ٹائم ہوا ہے سر ، تو لنچ ہی کرنے جارہی تھی”۔سیما نے بتایا
“جی وہ تو مجھے بھی پتہ ہے ، پر آفس سے باہر کیوں؟۔طلحہ نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“دراصل سر یہاں قریب میں ہی ایک نیا ریسٹورنٹ کھلا ہے ، ابھی کچھ دن پہلے عینی (کولیگ) مجھے وہاں لے کر گئی تھی لنچ کرنے ، بہت ہی ٹیسٹی کھانا ہوتا ہے سر وہاں کا ، تو بس وہیں جارہی تھی”۔سیما نے بتایا۔
“اچھا ! تو اکیلے جارہی ہیں ، عینی کہاں ہے؟۔طلحہ نے پوچھا۔
“سر وہ دو دن کی چھٹی پر ہے ، اسی لئے اکیلی جارہی ہوں میں”سیما نے بتایا۔
“اچھا ! تو اگر آپ برا نہ مانیں تو کیا میں چل سکتا ہوں آپکے ساتھ؟۔طلحہ نے پوچھا۔اسکی آفر پر سیما حیران رہ گئی۔
“کیا ہوا ؟ نہیں جانا چاہتی کیا آپ؟۔طلحہ نے پوچھا۔
“نہیں ، میرا مطلب ہے ہاں ، ضرور سر کیوں نہیں ، چلیں آپ بھی”۔سیما نے خوشگوار حیرت سے کہا۔اور دونوں ہی آفس سے باہر جانے لگے۔
**************************
ابریش خوشی سے زیادہ بات کیے بغیر ہی سینڈوچ لے کر واپس آرہی تھی۔اور سینڈوچ کھاتے ہوئے خوشی کے بارے میں سوچ رہی تھی۔کہ پتہ نہیں وہ اتنی اپ سیٹ کیوں ہے ؟
“کیا سوچ رہی ہو؟۔ابریش کے پہلو سے ایک آواز ابھری۔اس نے چونک کر دیکھا تو مراد اسکے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔
“کچھ خاص نہیں”۔ابریش نے کہا۔
“ہممم! ویسے میں نے کہا تھا ناں کہ تمھیں مجھ سے ملنا اچھا نہیں لگتا ، تب ہی تو کل جب میں عفان کے کمرے میں آیا تو تم وہاں سے چلی گئی”۔مراد نے شکوہ کیا۔
“نہیں ، ایسی بات نہیں ہے ، وہ تو میں اس لئے وہاں سے چلی گئی تھی کہ میں نے سوچا تم دونوں دوست ایزی ہوکر بات کرسکو ، دو لوگوں کے بیچ کسی تیسرے کا ہونا اچھا نہیں لگتا ناں”۔ابریش نے وضاحت کی۔
“ہممم! یہ بات تو ہے ، دو لوگوں کے بیچ کسی تیسرے کا ہونا اچھا نہیں لگتا”۔مراد نے عجیب سے انداز میں ابریش کا جملہ دہرایا۔وہ ناسمجھی سے مراد کی جانب دیکھنے لگی۔پر تب تک دونوں واپس کلاس تک پہنچ چکے تھے۔اسی لئے خاموش ہوگئے
**************************
“ٹھیک کہا تھا ناں سر میں نے ! کھانا ٹیسٹی ہے یہاں کا!۔سیما نے تائید چاہی۔دونوں اس وقت ایک ریسٹورنٹ میں آمنے سامنے بیٹھے لنچ کررہے تھے۔
“ہممم! بالکل ، بہت اچھا ہے”۔طلحہ نے بھی مسکراتے ہوئے تائید کی۔سیما بھی مسکرا کر پھر لنچ کی جانب متوجہ ہوگئی۔طلحہ بغور اسکا جائزہ لینے لگا۔سیما ایک آٹھائیس انتیس سالہ ماڈرن لڑکی تھی۔بہت زیادہ حسین و جمیل نہیں تھی پر کافی حد تک وہ خود کو پرکشش بنا کر رکھتی تھی۔گندمی رنگ تھا۔قد درمیانہ ، سٹیپ کٹنگ کلر ہوئے بال کندھوں تک آتے تھے۔جنہیں وہ ہمیشہ کھلا ہی رکھتی تھی۔وہ ہمیشہ سکن ٹائٹ جینس کے ساتھ گھٹنوں تک آتا ٹاپ پہن کر رکھتی تھی۔اور آج بھی اس نے سکن ٹائٹ جینس کے ساتھ بغیر آستین اور گہرے گلے کا لال رنگ کا ٹاپ پہنا ہوا تھا۔طلحہ کو بےاختیار سعدیہ کا خیال آیا۔شادی کے شروع کے دنوں میں وہ بھی بہت سج سنوار کر خود پر توجہ دے کر رہتی تھی۔طلحہ جب بھی آفس سے واپس آتا تو صاف ستھری سجی سنواری سعدیہ ایک دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ اسکی منتظر ہوتی تھی۔پر اب جب طلحہ آفس سے واپس گھر آتا تو اسے بچوں کے پیچھے خوار خود سے بے خبر ایک لاپرواہ عورت ملتی تھی۔اور اب دلفریب مسکراہٹ تو دور کی بات تھی۔سعدیہ کو تو اکثر یہی نہیں پتہ ہوتا تھا کہ طلحہ گھر آچکا ہے۔
“سر ! ۔سیما نے طلحہ کو خیالوں میں گم دیکھ کر پکارا۔
“اں ! ہاں “۔طلحہ نے یکدم چونک کر پوچھا۔
“کیا ہوا ؟ کیا سوچنے لگے ، کھانا کھائیں ، ٹھنڈا ہوکر اچھا نہیں لگے گا”۔سیما نے دھیان دلایا۔طلحہ اثبات میں سرہلا کر کھانے کی جانب متوجہ ہوگیا۔
**************************
“اسے کہنا مجھے اس کے بغیر رہنا نہیں آتا”
“بہت کچھ ہے دل میں مگر کہنا نہیں آتا”
عفان نے اپنی ڈائری میں شعر لکھا۔وہ اس وقت بیڈ کے سرہانے سے ٹیک لگا کر بیٹھا ڈائری لکھ رہا تھا۔
“سمجھ میں نہیں آتا اسے کیسے بتاؤں”
“بتاؤں بھی یا بس خاموش ہی رہ جاؤں”
“اس کے بنا میں رہ بھی تو نہ پاؤں”
“پر یہ ساری باتیں اس سے کہہ بھی تو نہ پاؤں”
عفان نے ایک اور شعر لکھا۔
“کیا کررہا ہے بندر؟۔ابریش نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔وہ ابھی تھوڑی دیر قبل ہی کالج سے واپس آئی تھی۔
“کچھ خاص نہیں ، تو سنا بندریا ، کیسی گزر رہی ہے میرے بغیر؟۔عفان نے ڈائری بند کرتے ہوئے کہا۔
“بہت ہی مزے میں”۔ابریش نے بیڈ کے کنارے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“تجھے ایک چیز دیکھانی ہے”۔ابریش نے کہا۔
“کیا ! دیکھاؤ؟۔عفان نے پوچھا۔
“یہ دیکھو”۔ابریش نے اپنی نوٹ بک کھول کر عفان کی جانب کرتے ہوئے کہا۔
“میں نے بنائی ہے یہ ڈائگرام”۔ابریش نے مصنوئی اکڑ سے کہا۔
“چل رہنے دے ، پوری دنیا بھی آکر اگر مجھے یہ بات بولے ناں تو بھی میں یقین نہیں کروں گا ، کہ یہ تو نے بنائی ہے”۔عفان نے یقین سے کہا۔
“اچھا ! تو پھر کس نے بنائی ہوگی؟۔ابریش نے پوچھا۔
“پتہ نہیں ، پر تو نے نہیں بنائی”۔عفان نے کہا۔
“خضر نے بنائی ہے”۔ابریش نے بتایا۔
“کیا ! اس بلے نے تیری ڈائگرام کیوں بنائی؟۔عفان نے حیرانگی سے کہا۔
“کیونکہ میں نے کہا تھا ، دراصل کل مہمانوں کی موجودگی میں یاد ہی نہیں رہا مجھے کہ تجھ سے ڈائگرام بنوانی ہے ، صبح ارجنٹ خضر سے بنوائی پھر”۔ابریش نے بتایا۔
“دور رہا کر اس باگڑ بلے سے”۔عفان نے کہا۔
“شٹ اپ ، میں نے تجھ سے مشورہ نہیں مانگا ، بس دیکھانے آئی تھی کہ دنیا میں اور بھی لوگ ہیں جو تجھ سے بھی اچھی اسکیچینگ کرسکتے ہیں”۔ابریش نے کہا۔اور بنا عفان کا جواب سنے اٹھ کر واپس جانے لگی۔
“اور ہاں ! جب یہ فضول میں ڈائری کے پیج گندے کرنے سے فرصت مل جائے تو نوٹس کاپی کرلینا ، پیپرز میں وہ نوٹس ہی کام آئیں گے ، یہ فضول سی باتیں نہیں”۔ابریش نے دروازے پر رک کر کہا۔اور باہر نکل گئی۔عفان نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر پھر ڈائری کھول لی۔
“آج جن باتوں کو تم فضول کہتے ہو”
“کل جب عشق تم پر حملہ آور ہوگا”
“تب پوچھوں گا ان باتوں کی قیمت”
*****************************
دنیا گھوم کر سورج کی جانب سے اب چاند کی جانب آرہی تھی۔آسمان پر اندھیرا ہونا شروع ہوچکا تھا۔سارے چرند پرند اپنے اپنے آشیانوں میں جاچکے تھے۔آج جب وہ اپنے اپنے آشیانوں کو لوٹے تھے تو انکی چونچ میں کل کیلئے کوئی دانہ نہیں تھا۔پر اگلے دن انھیں اسی پر توکل کرکے رزق کی تلاش میں نکلنا تھا جس نے آج انھیں رزق دیا تھا۔اور وہ ذات تو ہے ہی اتنی مہربان کے کبھی سوالی کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتی۔بلکہ بنا مانگے ہی نوازتی رہتی ہے۔صحیح کہتے ہیں کہ توکل سیکھنا ہے تو پرندوں سے سیکھو۔جہاں کچھ مخلوقوں کا غروبِ آفتاب کے بعد اپنے اپنے آشیانوں میں لوٹنے کا وقت ہوگیا تھا۔وہیں کچھ مخلوقوں کا اب اپنے اپنے آشیانوں سے نکلنے کا وقت ہوا تھا۔جن کی وجہ سے حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ “سورج غروب ہوتے وقت اپنے بچوں اور جانوروں کو باہر نہ چھوڑو، اس لیے کہ سورج غروب ہونے کے وقت سے عشا کا اندھیرا چھانے تک شیاطین گھومتے پھرتے ہیں”۔(مسلم)۔
اس وقت اس ویران اور بنجر پارک میں تاحدِ نظر سوکھے بکھرے پتوں کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔جھولے کب کے ٹوٹ چکے تھے۔گھانس کا نام و نشان نہیں تھا۔بس ترتیب سے بنے ٹریک پر جابجا سوکھے پتے بکھرے ہوئے تھے۔جب یہ پارک آباد تھا تو اس ٹریک کو لوگ اکثر واک اور جاگنگ کیلئے استمال کرتے تھے۔پر جب سے یہ پارک ویران ہوا تھا یہاں سوائے چرند پرند ، کتے بیلوں ، اور چرسیوں کے کوئی نہیں آتا تھا۔لوگ اس پارک کی ویرانیت کا زمیدار اس قبرستان کو سمجھتے تھے جو اس پارک کے عقب میں تھا۔وہ کافی پرانا قبرستان تھا۔اور اس کے آگے پارک کی یہ زمین خالی پڑی ہوئی تھی۔کہ کچھ عرصہ قبل ہی ٹاؤن کے زمیدار نے اس زمین کو پارک کیلئے استمعال کرلیا تھا۔پر یہ پارک زیادہ عرصہ آباد نہیں رہ سکا۔اور دیکھتے ہی دیکھتے واپس ویران ہوگیا۔
اس ویرانے میں اس وقت وہ اکیلا وجود ہی ٹریک پر چہل قدمی کررہا تھا۔جس کے قدموں کی زد میں آکر سوکھے پتوں کی چڑچڑاہٹ ماحول کی خاموشی کو چیر تو رہی تھی۔پر ساتھ ہی ساتھ ماحول کو اور وحشت زدہ کررہی تھی۔وہ اس وقت یہاں اس لئے ٹہل رہا تھا کیونکہ تھوڑی دیر بعد جب آسمان پوری طرح تاریکی میں ڈوب جائے گا تب اسے قبرستان جانا ہے۔اور یہی سوچ رہا تھا کہ جو قدم میں نے اٹھالیا ہے وہ صحیح ہے ناں ؟
“ہاں ! صحیح ہے ، میں غلط نہیں کررہا”۔اس نے خودکلامی کی۔
“غلط تو ہمارے ساتھ کیا گیا ہے ، میں تو بس اسی کا حساب کتاب برابر کررہا ہوں”۔اس نے پھر خود سے کہا
“پر صحیح موقع اب بھی میرے ہاتھ نہیں آرہا ہے”۔اس نے پھر زیرِ لب کہا۔
“کوئی بات نہیں ، موقع بھی مل جائے گا ، پر انکے حکم کے مطابق مجھے پیچھے نہیں ہٹنا ہے”۔اس نے خود کو تسلی دی۔اور ایک نظر سر اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھا۔جہاں اب مکمل اندھیرے کا راج تھا۔اور ہونٹوں پر ایک انتقامی مسکراہٹ لئے وہ سوکھے پتوں کو روندتا ہوا پارک سے باہر جانے لگا۔قبرستان جانے کیلئے۔
*********************************
رات کے قریب گیارہ بجنے والے تھے۔خوشی اپنے کمرے میں بیٹھی پڑھ رہی تھی۔یہ دو کمروں اور ایک صحن پر مشتمل ایک چھوٹا سا گھر تھا۔ایک کمرے میں خوشی رہتی تھی۔اور دوسرے کمرے میں اصغر (خوشی کے والد)۔گھر کے در و دیوار اس گھر کے مکینوں کی خستہ حالی کی داستان صاف صاف سنا رہے تھے۔اصغر صاحب نے ادھ کھلے دروازے سے اندر جھانکا۔تو خوشی انھیں بیڈ پر بیٹھی پڑھتی ہوئی نظر آئی۔
“ابھی تک جاگ رہی ہو بیٹا”۔اصغر صاحب نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔
“جی ابو ، سیمیسٹرز شروع ہونے والے ہیں ناں ، تو بس اسی کی تیاری کررہی ہوں”۔خوشی نے بتایا۔
“ہممم! اصغر صاحب کہتے ہوئے بیڈ پر خوشی کے سامنے بیٹھ گئے۔
“بہت محنت کرنی پڑتی ہے ناں تمھیں!۔اصغر صاحب نے بیڈ پر بکھری موٹی نوٹی کتابوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“محنت میں ہی تو عظمت ہے ابو”۔خوشی نے مسکراتے ہوئے کہا
“بالکل ، تمھیں پتہ ہے ! جب تم پانچ سال کی تھی ناں ، تو تمھیں ڈاکٹر کے سامان سے کھیلنے کا بہت شوق تھا ، تب ہی تمہاری امان نے سوچ لیا تھا کہ تمھیں ڈاکٹر بنانا ہے ، کیونکہ خود تو ہم دونوں میاں بیوی اتنے پڑھے لکھے تھے نہیں ، تو ہمارا خواب تھا کہ تمھیں بہت پڑھائیں گے ، تمہاری ماں کو تو قدرت نے مہلت ہی نہیں دی اپنے خوابوں کی تعبیر دیکھنے کی ، دیکھتے ہی دیکھتے فالج انکو نگل گیا ، پر میں جانے سے پہلے اپنا یہ خواب پورا ہوتا دیکھنا چاہتا تھا ، پر اب لگتا ہے کہ یہ خواب ، خواب ہی رہ جائے گا”۔اصغر صاحب نے افسردگی سے کہا۔
“نہیں ابو ، ان شاءاللّه جلد ہی فیس کا بندوبست ہوجائے گا ، آپ پریشان نا ہوں ، اللّه پاک سب اچھا کرے گا”۔خوشی نے تسلی دی۔
“کیسے پریشان نہ ہوں بیٹا ! اچانک سے نوکری چھوٹ گئی ہے ، سوچا تھا کسی دوست سے قرض لے کر تمہاری فیس بھر دوں گا ، پر دوست نے بھی قرض دینے سے انکار کردیا ہے ، اور اگر فیس نا بھری گئی تو تم امتحان میں نہیں بیٹھ پاؤ گی ، تو کیسے پریشان نہ ہوں میں”۔اصغر صاحب نے تاسف سے کہا۔
“جانتی ہوں ابو ، پر یوں مایوس ہونے سے بھی تو کچھ نہیں ہوگا ناں ! اور کوئی بات نہیں ، اگر اس سال فیس نہیں بھر پائی تو اگلے سال پیپر دے دوں گی”۔خوشی نے کہا۔
“بیٹا تمہاری ساری محنت ضائع ہوجائے گی”۔اصغر صاحب نے کہا
“چھوڑیں ان سب باتوں کو ، جو ہوگا دیکھا جائے گا ، دو دن بعد اماں کی ساتویں برسی ہے ، تو میں گھر میں قرآن خوانی رکھنے کا سوچ رہی ہوں”۔خوشی نے موضوع بدلا۔
********************************
سعدیہ کمرے میں آئی تو اس نے طلحہ کو خلافِ معمول بیڈ پر لیٹا ہوا موبائل چلاتا ہوا پایا۔جبکہ عموماً طلحہ اس وقت آفس کا کام کررہا ہوتا تھا۔وہ ڈریسنگ ٹیبل کی جانب آئی۔اور چین اتار کر خاموشی سے اپنے بستر پر لیٹ گئی۔طلحہ ہنوز مسکراتے ہوئے موبائل میں کچھ ٹائپ کررہا تھا۔اس نے کمبل اوڑھا اور دوسری جانب کروٹ لے کر آنکھیں بند کرلی۔تھوڑی دیر میں کال آنے پر طلحہ کا موبائل بجا۔تو وہ اٹھ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔اور ایک گرم سا پانی کا قطرہ سعدیہ کی بند آنکھ سے بہہ کر تکیے میں جذب ہوگیا۔
*******************************
حیدر بیڈ لیٹا ہوا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔
“حیدر جلدی سے نیوز چینل لگاؤ”۔فاریہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے عجلت میں کہا۔
“کیوں کیا ہوگیا ! سب خیر تو ہے ناں”۔حیدر نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے تشویش سے پوچھا۔
“تم بس جلدی سے نیوز لگاؤ”۔فاریہ نے بیڈ کے قریب آکر بےتابی سے کہا۔حیدر نے جلدی سے نیوز لگائی۔
“کیا ہوا ! سب ٹھیک تو ہے”۔حیدر نے نیوز دیکھ کر کہا۔
“ارے یہ چینل نہیں ، جیو نیوز لگاؤ”۔فاریہ نے کہا۔حیدر نے جلدی سے جیو نیوز لگادیا۔
“یہاں بھی سب ٹھیک ہے”۔حیدر نے کہا۔
“یہ دیکھو ، اس نیوز اینکر نے جو سوٹ پہنا ہوا ہے ، مجھے بالکل ایسا ہی سوٹ چاہئے سعدیہ کی بہن کی منگنی میں”۔فاریہ نے کہا۔
“اوہ میرے خدایا !۔حیدر نے سر دونوں ہاتھوں میں گراتے ہوئے کہا۔
**********************************
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *