Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan NovelR50802 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode28
Rate this Novel
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode01 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode02 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode03 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode04 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode05 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode06 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode07 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode08 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode09 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode10 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode11 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode12 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode13 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode14 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode15 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode16 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode17 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode18 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode19 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode20 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode21 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode22 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode23 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode24 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode25 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode26 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode27 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode28 (Watching)Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode29 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode30 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode31 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode32 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode33 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode34 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Last Episode
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode28
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode28
غنودگی میں ڈوبی ابریش نے یکدم آنکھیں کھولی۔اور عجیب عجیب سی آوازیں نکالتے ہوئے تڑپنے لگی۔حیدر اور فاریہ تو وہیں کمرے میں ہی تھے۔پر اسکی آوازیں سن کر باقی لوگ بھی گھبرا کر آگئے تھے۔اس کا جسم اکڑنے لگا تھا۔ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ تکلیف میں ہے۔سب ہی اسے ایسے دیکھ کر پریشان ہورہے تھے۔یکدم اسکے منہ سے سیاہ دھواں نکلنا شروع ہوا جو دیکھتے ہی دیکھتے پورے کمرے میں پھیل گیا۔سب گھبراگئے کچھ دیر تو وہ دھواں ایسے ہی کمرے میں گردش کرتا رہا۔پھر آہستہ آہستہ ہوا میں تحلیل ہوکر غائب ہوگیا۔ابریش بیڈ پر بےسدھ پڑی تھی۔سب جلدی سے اسکے قریب آئے اور اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگے۔اس نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولی۔ابریش اب نارمل حالت میں تھی۔عفان سمجھ گیا کہ مراد نے اپنا کام کردیا ہے۔
***********************************
رات کی تاریکی چھٹ چکی تھی۔بادلوں کی اوٹ سے سورج نکل آیا تھا۔اور اپنی کرنوں سے سب جگہ روشنی پھیلا دی تھی۔معمولات زندگی حرکت میں آنے لگی تھی۔قبرستان میں بنے ایک چھوٹے سے کمرے میں سویا گورکن اور اسکا بھائی بھی اب بیدار ہوچکے تھے۔
دونوں گورکن قبروں کی صفائی کے غرض سے قبروں کی جانب گئے۔ایک دائیں جانب کی صفائی کرنے لگا اور ایک بائیں جانب کی۔کیونکہ جب مرحومین کی ورثہ یہاں فاتحہ خوانی کیلئے آتے تھے ، تو قبر کے آس پاس کچرا وغیرہ دیکھ کر گورکنوں کو ڈانٹتے تھے۔اور اکثر لوگ تو صفائی وغیرہ اور قبر کی دیکھ بھال کیلئے گورکن کو پیسے بھی دیتے تھے۔
سولہ سترہ سالہ لڑکا صفائی کرتے ہوئے اسی قبر کے پاس آیا جہاں کل رات مراد آیا تھا۔صفائی کرتے ہوئے لڑکے کی نظر اوندھے پڑے ہوئے مراد پر پڑی۔وہ جلدی سے بھاگ کر اپنے بڑے بھائی کو بلانے آیا۔
“لالا ! قبرستان میں لاش پڑی ہے”۔لڑکے نے پھولتی ہوئی سانسوں کے درمیان بتایا۔
“اوہ پاگل کا بچہ قبرستان میں لاش ہی تو ہوتا ہے”۔اسکے بھائی نے ہنوز صفائی کرتے ہوئے کہا۔
“اوہ لالا ! قبر کے پاس کوئی آدمی مرا پڑا ہے”۔لڑکے نے وضاحت کی۔
“کیا بات کرتا ہے ! چلو جلدی چلو”۔اب آدمی نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔اور لڑکے کے ساتھ مراد کے پاس آیا۔آدمی نے قریب آکر مراد کو بازو سے پکڑ کر سیدھا کیا۔اسکا پورا چہرہ اور جسم خون میں لت پت تھا۔آدمی نے اپنی شہادت کی انگلی اسکی ناک کے نیچے کرکے سانسیں چیک کی۔
“یااللّه ! اسکا تو سانس ہی نہیں آرہا ہے”۔آدمی نے گھبراکر کہا۔
“اب کیا کریں لالا ؟۔لڑکے نے تشویش سے پوچھا۔
***********************************
“گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے ، بچی پر جو سایہ حاوی تھا ، اب وہ جاچکا ہے”۔ابوبکر صاحب نے بتایا۔ابریش کی حالت دیکھ کر حیدر فجر کے وقت ہی جاکر انھیں یہاں لے آیا تھا۔اور اس وقت وہ ابریش کے کمرے میں موجود تھے۔ابریش بےہوش تھی۔
“اللّه کا شکر ہے لاکھ لاکھ”۔فاریہ نے کہا۔
“آپ نے کچھ عمل کیا ہے کیا ؟ جو ایک رات میں ہی ماشاءاللّه مسلہ حل ہوگیا”۔ہمدان صاحب نے پوچھا۔
“نہیں ، میں نے کوئی عمل نہیں کیا ، یہ سب تو اللّه کے حکم سے ہوا ہے ، جو “کُن” فرماتا ہے اور اگلے ہی لمحے “فیکون” ہوتا ہے”۔ابوبکر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“بے شک”۔سب نے کہا۔
“اب گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے ، بچی کو بس تھوڑی کمزوری ہے ، کچھ دیر تک ہوش آجائے گا ، اور کمزوری بھی جلد ہی دور ہوجائے گی”۔بزرگ نے بتایا۔حیدر اور فاریہ کا رواں رواں اس وقت رب کا شکر گزار تھا۔فاریہ تو جلدی سے شکرانے کے نفل ادا کرنے اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔
***********************************
عفان نے بائیک گھر کے سامنے روکی۔اور اسے اسٹینڈ پر لگا کر کاندھے پر ڈلا اپنا کالج بیگ سمبھالتے ہوئے بائیک سے اتر کر اندر کی جانب بڑھا۔اور ڈور بیل بجائی۔
“جی کس سے ملنا ہے آپکو ؟۔چوکیدار نے آکر پوچھا۔
“میں عفان ہوں ، خضر کا دوست ، میرا کچھ سامان خضر کے پاس رہ گیا تھا ، وہی لینے آیا ہوں”۔عفان نے بتایا۔
“یہاں ہی رکو ، میں بیگم صاحبہ سے پوچھ کر آتا ہوں”۔چوکیدار نے کہا۔اور دروازہ بند کرکے اندر چلے گیا۔عفان وہیں کھڑا انتظار کرنے لگا۔
“آجاؤ اندر”۔چوکیدار نے آکر کہا۔وہ اندر آگیا۔چوکیدار اسے گھر کے لاؤنچ میں چھوڑ کر چلا گیا۔
“جی بیٹا بولو !۔آسیہ نے قریب آتے ہوئے کہا۔
“السلام و علیکم ، آنٹی میں خضر کا کلاس فیلو ہوں عفان ، دراصل میرا ایک ہینڈی کیم خضر کے پاس تھا ، اور اس میں میری کچھ ضروری فوٹوز اور ویڈیوز ہیں ، اسی لئے میں وہ لینے آیا ہوں ، پلیز آپ اسکے کمرے میں دیکھ لیجئے ، ہینڈی کیم ہوگا وہ مجھے لادیں”۔عفان نے جھوٹ بولا۔
“اچھا ، تم رکو میں لاتی ہوں”۔آسیہ نے کہا۔اور اندر کی جانب چلی گئیں۔عفان وہیں کھڑا انتظار کرنے لگا۔تھوڑی دیر بعد آسیہ واپس آئیں۔
“بیٹا کمرے میں کوئی ہینڈی کیم نہیں ہے”۔آسیہ نے کہا۔
“ہوگا آنٹی ، آپ پلیز دوبارہ ٹھیک سے چیک کریں”۔عفان نے کہا۔
“نہیں ہے بیٹا ، میں نے سب جگہ دیکھ لیا ہے”۔آسیہ نے بتایا۔
“آنٹی اس میں بہت ضروری فوٹوز اور ویڈیوز ہیں ، اگر آپ برا نہ مانیں تو ایک بار میں دیکھ لوں آپکے ساتھ چل کر؟۔عفان نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“ٹھیک ہے ، آجاؤ”۔آسیہ نے کہا۔پھر وہ انکی پیروی میں خضر کے کمرے میں آیا۔
“میں پھر الماری میں چیک کرتی ہوں ، تم بھی تب تک دیکھ لو یہاں کہیں”۔آسیہ نے کہا۔اور الماری کی جانب آکر الماری کھول کر چیک کرنے لگیں۔عفان نے اس نے نظر بچاکر جلدی سے اپنے بیگ سے ہینڈی کیم نکالا اور خضر کی رائٹنگ ٹیبل کی دراز میں ڈال دیا۔
“آنٹی الماری کے اوپر چیک کروں میں؟۔عفان نے پوچھا۔
“دیکھ لو”۔آسیہ نے کہا۔عفان رائٹنگ ٹیبل کے پاس رکھی کرسی کھنچ کر الماری کے پاس آیا اور اس پر چڑھ کر ایسے ہی اوپر کا جائزہ لینے لگا۔آسیہ رائٹنگ ٹیبل کے پاس آکر ڈھونڈنے لگی۔اور دراز کھولتے ہی انھیں کیمرہ مل گیا۔
“ارے دیکھو کہیں یہ تو نہیں ہے!۔آسیہ نے کیمرہ نکالتے ہوئے پوچھا۔
“جی آنٹی ، یہی ہے”۔عفان نے کرسی سے نیچے آتے ہوئے کہا۔
“تھینک گاڈ مل گیا”۔عفان نے آسیہ کے ہاتھ سے کیمرہ لیتے ہوئے کہا۔اور جان بوجھ کر انکے سامنے ہی ان کردیا۔جس سے خضر کی بنائی ویڈیو پلے ہوگئی۔
“ارے ! یہ کیا ہے !۔عفان نے انجان بنتے ہوئے کہا۔آسیہ بھی بغور ویڈیو دیکھنے لگیں۔عفان کا پلان کامیاب ہوگیا تھا۔ویڈیو دیکھتے دیکھتے آسیہ رونے لگی۔اور ویڈیو ختم ہونے کے بعد انکے رونے میں شدت آگئی۔عفان نے کیمرہ ٹیبل پر رکھا اور آسیہ کو سمبھالنے لگا۔
“آنٹی سمبھالیں خود کو”۔عفان نے دلاسہ دیا۔
“میرا بچہ اندر ہی اندر مر رہا تھا ، اور مجھے پتہ ہی نہیں تھا”۔آسیہ نے روتے ہوئے کہا۔اور زمین پر بیٹھ گئیں۔عفان بھی گھٹنوں کے بل انکے قریب ہی بیٹھ کر انھیں چپ کرانے لگا۔رونے کی آواز سن کر رخسانہ بھی کمرے میں آگئی۔
“کیا ہوا امی ؟ رو کیوں رہی ہیں ؟۔رخسانہ نے تشویش سے انکے قریب بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“رخسانہ میرا بچہ ، میرا بچہ تکلیف میں تھا”۔آسیہ نے روتے ہوئے کہا۔
“کیا مطلب ؟۔رخسانہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“تم بتاؤ لڑکے ، کیا ہوا ہے ؟۔رخسانہ نے عفان سے پوچھا۔
دراصل میرا ایک ہینڈی کیم خضر کے پاس تھا ، اور اس میں میری کچھ ضروری فوٹوز اور ویڈیوز تھیں ، میں وہی لینے آیا تھا کہ اس ہینڈی کیم میں ہمیں ایک ویڈیو ملی ، جو خضر نے خودکشی سے پہلے بنائی تھی ، اور اس میں بتایا ہے کہ وہ خودکشی صرف ابریش کی وجہ سے نہیں کررہا ہے ، بلکہ وہ ڈاکٹر نہیں بننا چاہتا ، اور اس سے آپ اور اپنے والدین کا دباؤ برداشت نہیں ہورہا ہے اسی لئے اس نے خودکشی کی”۔عفان نے بتایا۔
“اوہ ہو ! پر ہمیں تو صرف ایک نوٹ ہی ملا تھا ، یہ کیمرہ کہاں تھا ؟۔رخسانہ نے حیرانگی سے کہا۔
“کیمرہ دراز میں تھا ، شاید پولیس نے ٹھیک سے تلاشی نہیں لی ہوگی ، اسی لئے کیمرہ نہیں ملا”۔عفان نے بتایا۔
“میں جلدی سے ابو اور ازر کو فون کرتی ہوں”۔رخسانہ نے کہا۔اور اٹھ کر کمرے سے باہر بھاگی۔آسیہ مسلسل روئے جارہی تھیں۔
***********************************
عفان اب اپنی بائیک روڈ پر دوڑاتا ہوا واپس “علی ولا” جارہا تھا۔اس نے اپنا کام کردیا تھا۔خضر کے والدین تک اس کی آواز پہنچ گئی تھی۔اور انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا۔لیکن اب بہت دیر ہوچکی تھی۔انہی سب سوچوں میں گم وہ “علی ولا” پہنچ گیا۔پارکنگ میں اسے احمر کی کار کھڑی ملی۔اور بائیک اسٹینڈ پر لگا کر اندر آیا۔تو سامنے ہال کا منظر دیکھ کر اسے کسی انہونی کا خدشہ ہوا۔سب لوگ ہال میں جمع تھے۔اور چہرے سے سب کافی پریشان لگ رہے تھے۔ناہید تو صوفے پر بیٹھی باقاعدہ رو رہی تھی اور باقی سب انھیں دلاسا دینے میں مصروف تھے۔ابریش کی حالت بھی اب بہتر تھی وہ بھی سب کے ساتھ ہال میں ہی تھی۔
“کیا ہوا پاپا ؟ سب خیریت ہے ؟۔عفان نے تشویش سے پوچھا۔
“نہیں بیٹا خیریت نہیں ہے ، مراد کل رات سے غائب ہے ، احمر نے بتایا کہ کل رات اچانک بہت جلدی میں گھر سے نکلا تھا ، اور ابھی تک واپس نہیں آیا ہے ، فون بھی بند ہے”۔فیضان نے بتایا۔
“مجھے آج پوری رات قبرستان میں گزارنی ہوگی ، اور پتہ نہیں کہ میں کل کا سورج دیکھ بھی پاؤں گا یا نہیں ؟۔عفان کے ذہن میں مراد کی آواز گونجی۔اس نے بےاختیار ابریش کی جانب۔اس کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔جنہیں وہ سب سے چھپانے کی کوشش کررہی تھی۔اور وہ بہت پریشان تھی۔اس نے ابھی تک مراد کا لیٹر بھی اسے نہیں دیا تھا۔عفان جلدی سے اپنے کمرے میں آیا۔اور اپنی رائٹنگ ٹیبل سے وہ لیٹر نکالا اور پڑھنے لگا۔
“آبی !
ہوسکتا ہے کہ جب تک تمھیں یہ خط ملے ، میں اس دنیا میں نہ رہوں ، پر کچھ باتیں ہیں جو میں تم سے کہنا چاہتا ہوں ، اتنے دن جو تکلیف تمہیں ہوئی ، اسکا زمیدار میں تھا ، ایک غلط فہمی کا شکار ہوکر میں نے تمھیں تکلیف پہنچائی ، پر مجھے یہ بھی امید ہے کہ اب جب تم یہ خط پڑھ رہی ہو تو پوری طرح صحت یاب ہوچکی ہوگی ، اللّه کرے تم ہمیشہ ایسی ہی رہو ،
کچھ دنوں سے جو والہانہ پن میں تمہارے ساتھ دیکھا رہا تھا ، وہ سب ایک ڈھونگ تھا ، اور ایسا میں نے اس لئے کیا تا کہ میں تمہارے قریب رہ سکوں ، اور دیکھ سکوں کہ عمل کا اثر تم پر ہورہا ہے یا نہیں ؟ پر میرا یقین کرو ، کہ یہ ڈھونگ کرتے کرتے مجھے سچ میں تم سے پیار ہوگیا ہے ، اور جو اس رات میں نے تمھیں تحریر کو صورت میں کہا تھا ناں کہ “میں مرنے سے پہلے تمہارے ساتھ جینا چاہتا ہوں” وہ سچ تھا ، میں سچ میں تمہارے ساتھ جینا چاہتا تھا ، پر اب تمہارے جینے کیلئے میرا مرنا بہت ضروری ہوگیا ہے ، مجھے معاف کردینا ، اور کبھی کبھی یاد کرلیا کرنا ، چاہے برے لفظوں میں ہی صحیح”۔
“تمہارا گناہگار ، مراد”
عفان نے خط پڑھا۔اور رائٹنگ ٹیبل کی دراز سے لائٹیر نکال کر اسے جلا دیا۔اسکی رکھ واش بیسن میں بہائی۔اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
***********************************
جاری ہے
