Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode31

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode31

زندگی کی کتاب میں وقت کے کچھ پننے پلٹے۔اور وقت تھوڑا آگے بڑھا۔مراد کو چوٹ لگے اب دو ہفتے ہوگئے تھے۔اور آہستہ آہستہ اب وہ صحت یابی کی جانب گامزن تھا۔پر کالج جانے سے ابھی بھی وہ قاصر تھا۔اسی لئے عفان اسے گھر پر ہی نوٹس وغیرہ لادیتا تھا۔باقی سارے معملات بھی اپنے معمول پر رواں دواں تھے۔
************************************
مراد فلحال اسٹک کے سہارے چل رہا تھا۔وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے ناہید کے کمرے کی جانب آیا۔اور رک کر دروازے پر دستک دی۔
“آجاؤ”۔اندر سے ناہید کی آواز آئی۔وہ دروازہ دھکیلتا ہوا اندر احمر کے استری شدہ کپڑے الماری میں رکھ رہی تھی۔
“ڈسٹرب تو نہیں کیا؟۔مراد نے پوچھا۔
“ارے نہیں نہیں ، یہ کپڑے رکھ کر تمہارے کمرے میں ہی آرہی تھی میں”۔ناہید نے بتایا۔
“خیریت ! کوئی کام تھا کیا ؟۔مراد نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“ہاں ، ایک ضروری بات کرنی تھی”۔ناہید نے بتایا۔
“جی بولیں “۔مراد نے کہا۔
“پہلے تم بتاؤ ، کوئی بات کرنے آئے تھے کیا تم؟۔ناہید نے پوچھا۔
“جی ، پر پہلے آپ بتا دیں ، پھر میں بتاتا ہوں”۔مراد نے کہا۔
“اچھا ! بات دراصل یہ ہے ، کہ میں تمہاری شادی کے متعلق سوچ رہی تھی ، اور لڑکی بھی پسند کرلی ہے میں نے”۔ناہید نے آخری شرٹ الماری میں رکھتے ہوئے بتایا۔مراد حیران ہوگیا۔
“کون ہے لڑکی ؟۔مراد نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا۔
“ارم ، نگہت باجی کی بیٹی ، تمہاری کزن”۔ناہید نے اس کی جانب آتے ہوئے بتایا۔اور اسکے برابر میں ہی صوفے پر بیٹھ گئی۔
“کیا ! ارم ! پر مام اسکی تو مجھ سے بنتی ہی نہیں ہے ، جتنا عرصہ میں لندن میں رہا ، لڑائی جھگڑے کے سوا اور کچھ نہیں ہوا ہمارے بیچ”۔مراد نے کہا۔
“تب کی بات اور تھی ، بچے تھے تب تم لوگ ، ابھی سمجھدار ہوگئے ہو ، ایڈجسٹ ہوجاؤ گے”۔ناہید نے کہا۔
“پر مام ، وہ تو ہمیشہ سے لندن میں رہنے کی عادی ہے ، وہ یہاں نہیں رہ پائے گی”۔مراد نے کمزور سا جواز پیش کیا۔
“شادی کے بعد سب رہ لیتے ہیں ، خیر اب تم بتاؤ ، کیا بات کرنی تھی تمھیں؟۔ناہید نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“یہی بات کرنی تھی ، میں ارم سے شادی نہیں کرسکتا مام ، میں کسی اور کوئی پسند کرتا ہوں”۔مراد نے بتایا۔ناہید حیران ہوگئی۔
“کیا ! کون ہے وہ ؟۔ناہید نے حیرانگی سے پوچھا۔
“ابریش “۔مراد نے بتایا۔
************************************
“یہ لیجئے ، آپکا آرڈر”۔حیدر اور فیضان نے لنچ کی ٹرے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔اور خود بھی دونوں کرسی کھنچ کر بیٹھ گئے۔
“تھینکس”۔فاریہ اور انعم نے کہا۔چاروں اس وقت بریک میں کینٹین میں موجود تھے۔
“ہاں تو اب بتاؤ کیا بات کرنے کا کہہ رہے تھے تم لنچ سے پہلے؟۔حیدر نے پوچھا۔اور سینڈوچ کھانے لگا۔
“جو بات مجھے کرنی ہے ، یہ صرف میں نہیں چاہ رہا تھا ، انعم کا بھی یہی ارادہ ہے”۔فیضان نے کافی کے مگ کی سطح پر انگلی پھیرتے ہوئے تہمید باندھی۔
“ہاں تو اب بول بھی دے”۔حیدر نے کہا۔
“بات دراصل یہ ہے کہ ہم چاہ رہے تھے کہ ابریش اور عفان کا رشتہ طے کردیں”۔فیضان نے بتایا۔
“کس کے ساتھ ؟۔حیدر نے پوچھا۔
“ایک دوسرے کے ساتھ یار”۔فیضان نے بتایا۔حیدر اور فاریہ حیران ہوگئے۔
“تم دونوں کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے اس رشتے پر؟۔فیضان نے پوچھا۔
“نہیں نہیں بالکل بھی نہیں”۔فاریہ نے خوشگوار حیرت سے کہا۔
“کیا نہیں نہیں ، صبر پہلے ابریش اور عفان سے تو انکی مرضی پوچھ لو”۔حیدر نے کہا۔
“اس میں انکار کرنے والی کونسی بات ہے ، مجھے نہیں لگتا دونوں انکار کریں گے ، بلکہ سچ بتاؤں تو میں بھی یہی چاہتی تھی ، دونوں ایک دوسرے کو اچھے سے جانتے ہیں ، آپس میں دوستی ہے ، اور سب سے اچھی بات کے ابریش کو “علی ولا” سے جانا نہیں پڑے گا ، بس ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں شفٹ ہوجائے گی”۔فاریہ نے کہا۔
“تمہاری بات ٹھیک ہے ، پر ایسے معاملوں میں سب سے پہلی اہمیت لڑکا لڑکی کی مرضی کو دینی چاہئے ، آخر ساری زندگی کا سوال ہے”۔حیدر نے کہا۔
“ٹھیک ہے ، ہم آج ہی پہلے بچوں سے بات کرلیتے ہیں ، پھر بڑوں سے”۔انعم نے کہا۔
************************************
“میری محبت کی نا صحیح”
“میری شاعری کی تو داد دے”
“روز تیرا ذکر کرتا ہوں”
“تیرا نام لئے بغیر”
عفان رائٹنگ ٹیبل کے قریب کرسی پر بیٹھا بڑی محویت سے ڈائری لکھ رہا تھا۔
“عفان !۔فیضان نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پکارا۔
“جی پاپا ؟۔عفان ڈائری بند کرکے کھڑا ہوگیا۔
“ارے بیٹھ جاؤ بیٹھ جاؤ ، ڈسٹرب تو نہیں کیا تمھیں؟۔فیضان نے کہتے ہوئے پوچھا۔اور بیڈ پر بیٹھ گیا۔
“نہیں نہیں ، آپ بتائیں ، کوئی کام تھا تو مجھے بلالیتے”۔عفان نے واپس بیٹھتے ہوئے کہا۔
“نہیں خیر ہے ، میں خود ہی آگیا ، پڑھائی کیسی جارہی ہے تمہاری ؟۔فیضان نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“بالکل ٹھیک چل رہی ہے پڑھائی”۔عفان نے بتایا۔
“پکا ! یا پھر کہیں تم بھی خضر کی طرح زبردستی پڑھ رہے ہو ؟۔فیضان نے پوچھا۔
“ارے نہیں نہیں پاپا ، کوئی زبردستی نہیں پڑھ رہا ، بس ایک دکھ ہے کہ کاش خضر کے ساتھ ایسا نہ ہوتا”۔عفان نے تاسف سے کہا۔
“ہممم! اب جو ہوگیا اسے بدلا تو نہیں جاسکتا بیٹا ، دعا کرو بس تم اپنے دوست کیلئے”۔فیضان نے کہا۔
“اچھا ویسے آپکی نظر میں اس معملے میں غلطی کس کی ہے ؟ خضر کی یا اسکے والدین کی ؟۔عفان نے پوچھا۔
“پہلی غلطی اسکے والدین کی تھی ، کہ جب وہ ڈاکٹر بننا ہی نہیں چاہتا تھا تو اسکے ساتھ زور زبردستی نہیں کرنی چاہئے تھی ، اور دوسری غلطی خضر کی ، کہ وہ مایوس ہوگیا ، وہ بھلے ہی پڑھتا نہیں ، پر اسے یوں اپنی جان نہیں لینی چاہئے تھی”۔فیضان نے کہا۔
“ہممم! ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ”۔عفان نے تائید کی۔
“اچھا مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے”۔فیضان نے بتایا۔
“جی جی بولیں”۔عفان نے کہا۔
“میں اور انعم تمہاری شادی کے بارے میں سوچ رہے ہیں ، اور ہم چاہتے ہیں کہ ابریش کے ساتھ تمہارا رشتہ طے کردیں ، باقی شادی پھر تم لوگوں کی پڑھائی مکمل ہونے کے بعد کریں گے”۔فیضان نے بتایا۔عفان دنگ رہ گیا۔
“کیا ! ابریش سے !۔عفان نے حیرانگی سے کہا۔
“ہاں ، کیوں ! کوئی مسلہ ہے ؟۔فیضان نے پوچھا۔
“جی ، میرا مطلب کہ ابریش تو کسی اور کو پسند کرتی ہے”۔عفان نے کہا۔
“کیا ! کس کو پسند کرتی ہے وہ ؟ تم جانتے ہو اسے ؟۔فیضان نے پوچھا۔
“جی ، مراد کو ، اور ہوسکتا ہے مراد کچھ دنوں میں انکل آنٹی کو اس سلسلے میں یہاں بھیجے”۔عفان نے بتایا۔
************************************
اور پھر وہی ہوا جو عفان نے کہا تھا۔اگلے دن ہی احمر اور ناہید “علی ولا” آگئے تھے۔اور سب کی رضا مندی سے دونوں کا رشتہ طے کردیا تھا۔باقی شادی پڑھائی مکمل ہونے کے بعد ہونی تھی۔دونوں کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔اور انہیں خوش دیکھ کر عفان بھی خوش تھا۔
************************************
“ابریش ! تمھیں پورا یقین ہے کہ یہ بات سچ ہے ؟ مطلب کہیں یہ تمہارا وہم تو نہیں؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“نہیں مما بابا ، بالکل سچ کہہ رہی ہوں”۔ابریش نے کہا۔وہ اس وقت حیدر کے کمرے میں موجود تھی۔
“ٹھیک ہے ، اگر ایسی بات ہے تو میں بات کرتا ہوں فیضان اور انعم سے ، مجھے امید ہے کہ ان دونوں کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا”۔حیدر نے کہا۔
“تھینک یو بابا”۔ابریش نے خوش ہوکر کہا۔
“اچھا اب جاؤ تیار ہو ، کالج نہیں جانا کیا؟۔فاریہ نے کہا۔
************************************
“ہم سوچ رہے تھے کہ کیوں ناں بس گھر کے لوگوں میں ہی ابریش اور مراد کی منگنی کردیں ، آپ لوگوں کا کیا خیال ہے؟۔حیدر نے کہتے ہوئے باقی سب سے تائید چاہی۔سب بڑے اس وقت ڈرائینگ روم میں بیٹھے رات کے کھانے کے بعد چائے پی رہے تھے۔
“ہممم! اچھا خیال ہے ، بات کرلو ناہید اور احمر سے”۔ہمدان صاحب نے کہا۔
“ویسے حیدر بات تو تمھیں کسی اور سے بھی کرنی چاہئے ، کیا پتہ پھر ایک نہیں دو منگنیاں ہوجائیں”۔ممتاز نے کہا۔
“کیا مطلب چچی ؟۔حیدر نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“مطلب کہ ابرار اور علیزے کی بات کررہی ہوں میں”۔ممتاز نے بتایا۔اور سب ہی حیران ہوگئے۔
“کیا ! وہ دونوں ! پر آپکو ایسا کیوں لگتا ہے چچی؟۔فیضان نے حیرانگی سے پوچھا۔
“بیٹا ایک عمر گزرگئی ہے ، اب آنکھیں اتنی تجربے کار ہوگئیں ہیں کہ معملے بھانپ لیتی ہیں ، اسی لئے کہہ رہی ہوں کہ بات کرو دونوں سے ، کیا پتہ بچے تم لوگوں سے بات کرنے میں جھجھک رہے ہوں”۔ممتاز نے کہا۔
“واہ بھئی ! ہمارے پیٹھ پیچھے کیا کیا ہوگیا ہے ، اور ہمیں خبر ہی نہیں”۔حیدر نے کہا۔
“بات کرتی ہوں میں ابھی جاکر علیزے سے”۔انعم نے کہا۔
“ہممم! اور میں ابرار سے”۔فاریہ نے بھی کہا۔
“ویسے اگر اس طرف سے بھی گرین سگنل ملا تو پھر دو نہیں ، تین منگنیاں ہوں گی”۔حیدر نے کہا۔
“تین منگنیاں ! تیسری جوڑی کون ہے؟۔ارسلان صاحب نے حیرانگی سے پوچھا۔
************************************
آج “علی ولا” میں معمول سے ہٹ کر کچھ زیادہ ہی رونق ہورہی تھی۔مغرب کے بعد منگنی کی رسم ہونی تھی۔بھلے ہی منگنی سادگی سے گھر والوں کے درمیان کے لان میں تھی۔پر پھر بھی لان کو ہلکا پھلکا خوبصورتی سے سجادیا گیا تھا۔اور اب سب خود سج سنوار رہے تھے۔آج کی منگنی میں خاص بات یہ تھی کہ آج تین منگنیاں ہونی تھیں۔پر تیسری جوڑی کو خود ہی ابھی تک اپنی منگنی کا علم نہیں تھا۔
************************************
“تیار ہوگیا لگڑبگے ؟۔ابریش نے عفان کے کمرے داخل ہوتے ہوئے کہا۔عفان ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا شرٹ کے بٹن لگا رہا تھا۔ابریش کی آواز پر مڑکر اس کی جانب دیکھا۔وہ تیار تھی۔اس نے ڈارک پیچ کلر کی نگوں سے بھری ٹخنوں تک آتی فراک چوڑی دار پاجامے کے ساتھ پہنی ہوئی تھی۔اور ساتھ ہم رنگ دوپٹہ سلیقے سے سر پر اوڑھا ہوا تھا۔ہلکے پھلکے میک اپ اور جیولری کے ساتھ وہ بہت اچھی لگ رہی تھی۔
“ہاں ، بس تیار ہی ہوں”۔عفان نے کہا۔
“کیا ! تم اسے تیار ہونا کہتے ہو ! دماغ خراب ہوگیا ہے ، یہ کپڑے پہن کر آؤ گے منگنی میں !۔ابریش نے حیرانگی سے کہا۔
“ہاں ! کیوں کیا ہوا ؟ ٹھیک تو ہیں”۔عفان نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“کوئی ٹھیک نہیں ہیں ، جلدی سے بدلو انہیں ، بلکہ رکو ، میں نکال کر دیتی ہوں”۔ابریش نے کہا۔اور الماری کی جانب بڑھی۔اور اس میں سے ایک بیلو کلر کی جینس ، آسمانی رنگ کی شرٹ ، اور سفید کوٹ نکلا۔جو کہ بالکل نئے تھے۔
“لو ! یہ پہنو”۔ابریش نے کپڑے اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
“ممی نے کہا تھا یہ پہننے کو ، پر میری منگنی تھوڑی ہے جو میں اتنا تیار ہوں ، اسی لئے ایسے ہی ٹھیک ہوں میں”۔عفان نے بتاتے ہوئے کہا۔
“تمہاری نہیں ہے پر تمہاری کزن ، تمہاری بہن ، اور تمہارے دوست کی تو ہے ناں ، انکے لئے ہی پہن لو ، اور ویسے بھی چچی نے خاص طور پر آج کیلئے لیا تھا یہ سوٹ ، جب ہم منگنی کی شاپنگ کرنے گئے تھے ، انکا ہی دل رکھنے کیلئے پہن لو”۔ابریش نے کہا۔
“آہ ! اچھا ٹھیک ہے”۔عفان نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔اور اس سے کپڑے لے لیا۔
“گڈ ! اب جلدی سے تیار ہوکر آؤ ہاں”۔ابریش نے کہا۔اور خوشی خوشی باہر چلی گئی۔عفان ایک گہرا سانس لے کر کپڑے چینج کرنے چلا گیا۔
************************************
سب لوگ لان میں جمع تھے۔اور مراد بھی احمر اور ناہید سمیت آچکا تھا۔اور اب تو اسکی طبیعت بالکل ٹھیک ہوگئی تھی۔اسے اسٹک کے سہارے کی بھی ضرورت نہیں تھی اب۔مراد نے بلیک کلر کی جینس کے ساتھ ڈارک پیچ کلر کی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔اور اسکے اوپر بلیک کوٹ۔ابرار اور علیزے بھی تیار تھے۔علیزے نے سی گرین کلر کی نگوں سے بھری قمیض ہم رنگ ٹراؤزر اور دوپٹے کے ساتھ پہنی ہوئی تھی۔اور ابرار نے گرے جینس کے ساتھ وائٹ ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔اور اسکے اوپر ڈارک بیلو لیدر کی جیکٹ۔سب ہی بہت پیارے لگ رہے تھے۔اور اپنی دلی مراد پوری ہونے کی وجہ سے چاروں کے چہروں پر ایک انوکھی سی خوشی رقص کرتے ہوئے انہیں اور دلکش بنا رہی تھی۔عفان بھی تیار ہوکر آچکا تھا۔اور آج کی تقریب میں اسجد اور آئمہ بھی موجود تھے۔
“چلو بھئی ، سب تیار ہوکر آگئے ہیں ، اب منگنی کی رسم کرلیں”۔عدنان صاحب نے کہا۔
“جی ، سب تیار ہیں ، میں بلاتا ہوں سب کو”۔فیضان نے کہا۔
“چلو بچوں آجاؤ سب یہاں”۔فیضان نے سب کو لان کے وسط میں بلایا۔اور رمشا کو کچھ اشارہ کیا۔جسے سمجھتے ہوئے وہ سعدیہ کے ساتھ اندر چلی گئی۔چاروں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہوگئے۔اور باقی سب دائرے کی صورت میں انکے آس پاس کھڑے تھے۔
“عفان تم بھی یہاں آؤ”۔فیضان نے پکارا۔
“جی میں ! پر کیوں ؟۔عفان نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“جی آپ ، کیونکہ آپکی بھی منگنی ہے آج”۔فاریہ نے کہا۔
“کیا ! میری منگنی ! پر کس سے؟۔عفان نے حیرانگی سے پوچھا۔
“ان سے”۔حیدر نے ایک جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔عفان نے اسکے تعقب میں دیکھا تو رمشا اور سعدیہ کے درمیان ڈارک بیلو کلر کی موتیوں سے بھری گھٹنوں تک آتی فراک پہنے خوشی انہی لوگوں کی جانب آرہی تھی۔عفان تو جیسے سکتے میں آگیا تھا۔اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ خواب دیکھ رہا ہے۔
“سرپرائز !۔سب نے یک زبان کہا۔انکی آواز پر وہ یکدم چونکا۔تب تک وہ تینوں بھی قریب آچکی تھیں۔
“کیا ہوا ؟۔فیضان نے کہا۔
“یقین نہیں آرہا ؟۔حیدر نے پوچھا۔
“ہوش گم ہوگئے ؟۔ابریش نے کہا۔
“سکتا طاری ہوگیا ؟۔مراد نے پوچھا۔
“یہ…یہ…سب…کیسے…کب؟۔عفان نے خوشی سے کانپتی آواز میں بےربط پوچھا۔
“کب ، کیسے ، کہاں اور کیوں ؟ یہ ساری باتیں بعد میں ، پہلے ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنا دو سب”۔حیدر نے کہا۔اور پھر زور دار تالیوں کی گونج میں چھیوں نے ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنا دی۔اور خوشی میں باقی سب ایک دوسرے سے گلے ملنے لگے۔
“چلو اب تم لوگ آرام سے بیٹھ کر عفان کو ساری کہانی سنا دو ، پھر تھوڑی دیر بعد سب کھانا کھاتے ہیں”۔حیدر نے کہا۔پھر سب لوگ یہاں وہاں مصروف ہوگئے۔مراد اور ابریش ، عفان اور خوشی کو لے کر ایک ٹیبل کے گرد کرسی کھنچ کر بیٹھ گئے۔
“ہاں ! تو کہاں سے شروع کریں کہانی؟۔مراد نے پرسوچ انداز میں کہا۔
“کہیں سے بھی کردو ، پر کچھ تو بتاؤ”۔عفان نے کہا۔
“ہممم! تو تمھیں زیادہ تنگ نہ کرتے ہوئے شارٹ میں بتاتے ہیں ، بات دراصل یہ ہے کہ مجھے اور مراد کو تم پر شک ہوگیا تھا ، کہ تم کسی کو پسند کرتے ہو پر بتاتے نہیں ہو ، پھر ہم نے اس بات کی کھوج لگانے کا فیصلہ کیا ، اور اس چیز میں جو ہماری سب سے زیادہ معاون مددگار ثابت ہوئی ، وہ تھی آپکی خفیہ ڈائری ، جس میں آپ نے آپ نے سارا راز دفن کیے ہوئے تھے ، میں نے بہت کوشش کے بعد چپکے سے ایک دن وہ ڈائری پڑھ ہی لی ، پر اس ڈائری سے صرف یہ پتہ چل رہا تھا کہ کوئی ہے ، اب کون ہے یہ پتہ لگانا تھا ، میں نے ڈائری رکھ کر باقی جگہوں کی تلاشی لینا شروع کی ، اور خوش قسمتی سے تمہاری رائٹنگ ٹیبل کی دراز میں بالکل پیچھے کرکے اندر کی طرف ، ایک باکس میں سے مجھے خوشی کی تصویر مل گئی ، وہ تصویر خوشی کی برتھ ڈے کی تھی ، جب مراد کے کالج جوائن کرنے سے پہلے ہم نے گراؤنڈ میں ہی ایک چھوٹا سا کیک کاٹ کر اسکی برتھ ڈے سیلیبریٹ کی تھی ، پھر مجھے خیال آیا کہ جب ایکسیڈنٹ کی وجہ سے تم کالج نہیں جاتے تھے ، تو بہانے بہانے سے مجھے کریدتے تھے کہ کس کس نے تمہارے بارے میں پوچھا ؟ مطلب تم جاننا چاہتے تھے کہ خوشی نے تمہارے بارے میں پوچھا یا نہیں ؟ جب تمہاری طرف سے ساری کڑیاں مل گئیں تو پھر میں نے خوشی سے جاننے کی کوشش کی ، کہ کیا وہ بھی ایسا محسوس کرتی ہے ، اور یہاں سے بھی جواب ہاں ہی ملا ، میں مما بابا کو یہ سب بتانے ہی والی تھی کہ میرے ساتھ یہ سب ہوگیا ، اور پھر جب سب ٹھیک ہوا تو میں نے مما بابا کو بتا دیا ، انھوں نے چاچو چچی سے بات کی ، اور پھر گھر کے بڑے تمھیں بنا بتائے خوشی کے گھر تمہارا رشتہ لے کر پہنچ گئے ، اصغر انکل کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا ، اور یوں ہم تمھیں سرپرائز دینے میں کامیاب ہوگئے”۔ابریش نے ساری تفصیل بتائی۔
“تم لوگوں نے اتنی محنت کی ، اور اگر ایسا کچھ نہیں ہوتا تو پھر ؟۔عفان نے ساری بات سن کر کہا۔
“کیسے نہیں ہوتا ! تمہاری پوری ڈائری اس بات کی گواہ تھی ، اور پھر خوشی کی تصویر ، ہمارا اندازہ غلط ہو ہی نہیں سکتا تھا”۔مراد نے کہا۔
“یار اب تو آپ لوگوں کی منگنی ہوگئی ہے ، کالج بھی ساتھ ہی جاتے ہو چاروں ، وہاں کرتے رہنا جی بھر کر باتیں ، ابھی تو ہمارے ساتھ آجاؤ”۔ابرار نے کہا۔
“اسکو اور علیزے کو کوئی اکیلے باتیں نہیں کرنے دے رہا ہوگا ، اسی لئے یہ ہمارے پیچھے پڑگیا ، چلو ہم لوگ بعد میں باتیں کریں گے ، ابھی سب کے پاس چلتے ہیں”۔ابریش نے کہا۔اور چاروں اٹھ کر سب کے پاس آگئے۔
************************************
سب لوگ تھک ہار کر اب اپنے اپنے کمروں میں سونے چلے گئے تھے۔علیزے بھی ابھی ابھی کپڑے چینج کرکے باتھروم سے نکلی تھی۔وہ لائٹ بند کرنے سوئچ بورڈ کی جانب آئی تو اس نے دیکھا کہ ڈریسنگ ٹیبل پر ایک باکس رکھا ہے۔جو پہلے یہاں نہیں تھا۔اسے تشویش ہوئی۔اس نے قریب آکر باکس اٹھایا۔باکس کے اوپر ایک لیٹر رکھا ہوا تھا۔اور لیٹر کے اوپر ایک گلاب کی کلی۔اس نے پہلے لیٹر کھولا اور پڑھنے لگی۔
مجھے فلمی ہیرو کی طرح زیادہ گہری گہری باتیں کرنا نہیں آتی ہیں ، جو دل میں ہے سیدھی طرح بس وہی لکھ رہا ہوں ،تاکہ تمھیں بتا سکوں کہ بھلے ہی تمھیں تنگ کرنا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے ، پر
“میری زندگی میں خوشی”
“تیرے ہی آنے سے ہے”
“آدھی تجھے ستانے سے ہے”
“آدھی تجھے منانے سے ہے”
اور اب آخر میں ایک غزل تمہاری خدمت میں عرض کرنا چاہوں گا ، جو میں نے عین تمہارے ہنستے مسکراتے چہرے کو ذہن میں رکھ کر لکھی ہے ، تو عرض کیا ہے
“یہاں سے دور ایک بستی تھی”
“وہاں کچھ چڑیلیں بستی تھیں”
“ان کے اندر بڑی مستی تھی”
“جب دیکھو تم ہنستی تھی”
“تم جو اتنا ہنستی ہو”
“اسی بستی کی لگتی ہو”
فقط تمہارا نہیں ، بلکہ اپنی کالج کی لڑکیوں کے بھی خوابوں کا شہزادہ ، ابرار علی خان”
علیزے کو لیٹر پڑھ کر ہنسی آگئی۔اس نے لیٹر ٹیبل پر رکھا اور باکس کھولا۔باکس کھولتے ہی ایک چھوٹا سا مینڈک اچھل کر باہر آئی۔اس کی چیخ نکل گئی۔وہ اچھل کر پیچھے ہٹی۔مینڈک شاید باکس کھلنے کے انتظار میں ہی بیٹھا ہوا تھا۔باکس کھلتے ہی فوراً ٹیبل سے نیچے کود کر گیلری کی جانب بھاگا۔علیزے غصے میں باکس اٹھا کر پھینکنے ہی والی تھی کہ اسے باکس کے اندر کسی اور چیز کی موجودگی کا بھی احساس ہوا۔اس نے دیکھا تو باکس کے اندر ایک گولڈ کا لاکٹ تھا۔جس پر چھوٹا سا A لکھا ہوا تھا۔
“سدھرے گا نہیں یہ”۔علیزے نے مسکراتے ہوئے خودکلامی کی۔
************************************
ابرار اپنے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔اور تصور میں علیزے کے تاثرات دیکھ کر محفوظ ہورہا تھا جو باکس کھلنے کے بعد اسکے چہرے پر نمودار ہوئے ہوں گے۔اس نے سوچا کہ فون کرکے اسکی سن گن لیتا ہے۔اس نے موبائل اٹھانے کیلئے ہاتھ سائیڈ ٹیبل کی جانب بڑھایا تو وہاں ایک باکس رکھا ہوا تھا۔جس پر پہلے اسکی نظر نہیں پڑی تھی۔وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔اور باکس کھولا۔باکس کہ اندر پہلے ایک لیٹر تھا۔اور اسکے نیچے ایک بلیک کلر کی قیمتی گھڑی تھی۔ابرار نے باکس واپس رکھ کر لیٹر کھولا۔
کبھی اس طرح ہوا نہیں ہے ، اسی لئے کچھ پتہ نہیں ہے کہ ایسے موقوں پر ایک دوسرے کو کیا دیتے ہیں ، اور کیا کہتے ہیں ، پر پھر بھی دل چاہ رہا تھا تم سے کچھ کہنے کا ، جسے غزل کی صورت پیش کررہی ہوں
“ایک بات کہوں گر سنتے ہو”
“تم مجھے کو کوجے لگتے ہو”
“کچھ پاگل سے کچھ خبطی سے”
“کچھ ڈنگر ڈنگر لگتے ہو”
“حیران سے ہو پریشان سے ہو”
“دیکھنے میں تو تم انسان سے ہو”
لیکن تم مجھ کو جانے کیوں”
“بس بندر بندر سے لگتے ہو”
تمہاری نہیں ، اپنے پاپا کی جان ، علیزے خان”
لیٹر پڑھ کر وہ بےاختیار مسکرادیا۔
“ہمارے ستارے نہ صحیح ، پر کرتوتیں بہت ملتی ہیں”۔ابرار نے مسکراتے ہوئے خودکلامی کی۔
************************************
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *