Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode04

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode04

“کیا ہوا تھا؟۔عفان نے پوچھا۔
“بے دھیانی میں ٹکرا گئی تھی میں اُس سے”۔ابریش نے بتایا۔
“آنکھیں کتنی عجیب سی تھیں اسکی”۔عفان نے کہا۔
“ہممم! بلی کی طرح”۔ابریش نے بھی تائید کی۔
“بلی کی طرح نہیں ، بلے کی طرح ، وہ نر ہے ، مادہ نہیں”۔عفان نے کہا۔
“جو بھی ہے ، ہمیں کیا”۔ابریش نے لاپرواہی سے کہا۔اور دونوں آگے بڑھ گئے۔
*******************
“عفان وہ دیکھو ! صبا کی ممی”۔ابریش اور عفان چھٹی کے وقت کالج سے باہر کی جانب جارہے تھے کہ تب ہی ابریش نے ایک جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔عفان نے بھی اسکے تعقب میں دیکھا۔
“تم کیسے جانتی ہو انہیں ؟ اور میں کیا کروں دیکھ کر ؟ مجھے ان سے رشتے داری کرنی ہے کیا؟۔عفان نے لاپرواہی سے کہا۔
“ارے صبا نے ملوایا تھا ایک بار ، اور میرا مطلب کہ صبا ہمیشہ کہتی رہتی ہے ناں کہ ‘میری ممی تو بالکل میری بڑی بہن لگتی ہیں’ اب دیکھو تو ذرا ، کوئی بڑی بہن نہیں لگ رہی ، بلکہ دادی لگ رہی ہیں اسکی”۔ابریش نے صبا کی نقل اتارتے ہوئے کہا۔
“چھوڑو ناں ، تمھیں کیا!۔عفان نے کہا۔
“بڑی بہن تو میری مما لگ لگتی ہیں ، کوئی کہہ ہی نہیں سکتا کہ میں انکی بیٹی ہوں ، بلکہ صرف میری ہی نہیں ہم دونوں کے والدین ہمارے بڑے بہن بھائی ہی لگتے ہیں ، اتنے اچھے سے ان لوگوں نے خود کو مینٹین کیا ہوا ہے”۔ابریش نے فخر سے کہا۔
“اب ایسا بھی نہیں ہے”۔عفان نے کہا۔
“ایسا ہی ہے ، اور میں ثابت کرسکتی ہوں”۔ابریش نے چیلنج کیا۔
“اچھا ! سچ میں؟۔عفان نے رک کر پوچھا۔
“ہاں ، سچ میں”۔ابریش نے بھی رک کر کہا۔
“ٹھیک ہے ، تو کرو ثابت ، اگر تم ہار گئی تو میں پورے ایک دن کیلئے تمہاری ہر بات مانوں گا ، اور اگر تم ہار گئی تو تمیں پورے ایک دن کیلئے میری ہر بات ماننی ہوگی ، بولو ، منظور ہے شرط؟۔عفان نے اپنا ہاتھ ابریش کی جانب بڑھاتے ہوئے چیلنج کیا۔
“ٹھیک ہے ، شرط منظور ہے”۔ابریش نے عفان سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
“آؤ میرے ساتھ”۔ابریش نے کہا۔عفان اسکے پیچھے آنے لگا۔ابریش صبا کی جانب آئی۔
“السلام و علیکم”۔ابریش نے صبا کے قریب جاکر اسکی ممی کو سلام کیا۔
“وعلیکم السلام”۔صبا کی سر سے پاؤں تک میک اپ میں ڈوبی فیشن ایبل ممی نے نزاکت سے جواب دیا۔
“ایکسکیوزمی صبا ، مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے”۔ابریش نے صبا سے کہا۔اور اسے لے کر اسکی ممی سے تھوڑے فاصلے پر آگئی۔عفان بھی کچھ فاصلے پر کھڑا ابریش کے کارنامے دیکھ رہا تھا۔
“ہاں بولو؟۔صبا نے پوچھا۔
“وہ ایکچلی صبا بات یہ ہے کہ میرے بڑے بھیا اور بھابھی کو ناں مجھ پر شک ہے کہ یہاں کالج میں میری بہت سارے لڑکوں سے دوستی ہے ، اور اس بات کی تصدیق کیلئے کل وہ لوگ کالج آئیں گے ، میری فرینڈز سے پوچھ گچھ کرنے ، تو پلیز تم انھیں سمجھادینا کہ ایسا کچھ نہیں ہے”۔ابریش نے مسکین سی شکل بنا کر جھوٹ بولا۔
“اوہ ! ٹھیک ہے ، میں سمجھا دوں گی ، تم فکر مت کرو”۔صبا نے کہا۔
“تھینک یو ، تم بہت اچھی ہو ، اور تم ٹھیک کہتی تھی ، سچ میں آنٹی تمہاری ممی لگ ہی نہیں رہی”۔ابریش نے کہا۔
“(بلکہ دادی لگ رہی ہیں)”۔یہ جملہ ابریش نے دل میں بولا۔
“اوہ تھینکس”۔صبا نے اتراتے ہوئے کہا۔
“اچھا اب میں چلتی ہوں ، بائے اینڈ تھینک یو”۔ابریش نے کہا۔اور وہاں سے آگئی۔
“چلو ، اب چلیں”۔ابریش نے عفان کی جانب آکر کہا۔
“کہاں پورا کیا تم نے چیلنج ؟ اور اس سب سے کیا ہوگا؟۔عفان نے پوچھا۔
“بس تم دیکھتے جاؤ”۔ابریش نے کہا۔
*******************
شام کے چھے بج رہے تھے۔طلحہ اب آفس سے واپس گھر کی جانب جارہا تھا۔باقی سب تو پہلے ہی گھر روانہ ہوچکے تھے۔طلحہ ایک ضروری کام سے رک گیا تھا۔کار ڈرائیو کرتے ہوئے کہیں نا کہیں اسکے دل میں اب بھی ہلکی سی امید باقی تھی کہ شاید سعدیہ کو اسکی سالگرہ یاد ہو ! شاید اب سعدیہ نے اس کیلئے کوئی سرپرائز رکھا ہوا ہو!
ان دونوں کی شادی کو دس سال ہوگئے تھے۔سعدیہ طلحہ کی خالہ زاد تھی۔یعنی فائزہ کی بہن کی بیٹی۔نکاح کے بعد سے لے کر شادی کے شروع کے دو تین سال تک تو سب کچھ ویسا ہی چلتا رہا۔سعدیہ ہمیشہ اسکے لئے کچھ نا کچھ کرتی تھی ایسے موقعوں پر۔طلحہ بھی پیچھے نہیں رہتا تھا۔بلکہ وہ تو ابھی تک کرتا تھا۔پر جب سے دونوں کے بچے ہوئے تھے۔طلحہ نے محسوس کیا تھا کہ غیرارادی طور پر سعدیہ اس کی جانب سے غافل ہوتی جارہی تھی۔اسے بچوں کے سوا ، انکی پڑھائی کی سوا اور کوئی بات یاد ہی نہیں رہتی تھی۔ایسا نہیں تھا کہ طلحہ کوئی اس قسم کا مرد تھا جو ذرا ذرا سی بات پر روٹھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔وہ بھی سمجھتا تھا سعدیہ کی زمیداریاں۔پر سعدیہ صرف ایک ہی زمیداری کو نبھانے میں اتنی غرق ہوگئی تھی۔کہ وہ اپنے دوسرے رشتے اور زمیداری سے غافل ہورہی تھی۔
انہی سب سوچوں کے دوران طلحہ گھر پہنچ گیا۔کار پارک کرکے وہ گھر میں داخل ہوا۔معمول کے مطابق سب ہال میں موجود شام کی چائے پی رہے تھے۔بچے یہاں وہاں کھیلنے میں مصروف تھے۔فاریہ ، حیدر ، انعم ، فیضان ، مومنہ اور فرقان تو ہوسپٹل سے نوں بجے تک آتے تھے۔
“السلام و علیکم”۔طلحہ نے بھی ان لوگوں کے قریب آتے ہوئے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام ، آج دیر سے آئے ، سب کے ساتھ نہیں آئے تم!۔ممتاز نے جواب دیتے ہوئے پوچھا۔
“جی دادی ، وہ کچھ کام تھا اس لئے دیر ہوگئی”۔طلحہ نے بھی وہیں ایک صوفے پر بیٹھتے ہوئے بتایا۔سعدیہ بھی وہیں بیٹھی چائے پی رہی تھی۔
“اچھا ! چائے پیو گے؟۔فائزہ نے پوچھا۔
“جی امی ، پلادیں”۔طلحہ نے کہا۔
۔”Happy Birthday”۔اچانک طلحہ کے عقب سے چند آوازیں ابھری۔طلحہ نے اور سب نے طلحہ کے پیچھے دیکھا تو ، ابریش ، عفان ، علیزے ، ابرار ، حذیفہ اور مسکان ہاتھ میں چھوٹا سا کیک لئے موجود تھے۔
“ارے ! یہ سب کیا ہے؟۔فائزہ نے پوچھا۔
“دادی آج پاپا کا برتھ ڈے ہے”۔چھے سالہ مسکان نے بتایا۔
“اوہ ہو ! آپکو یاد تھا”۔طلحہ نے مسکان کو اپنے قریب کرتے ہوئے پیار سے پوچھا۔
“نہیں پاپا ، ہمیں تو دوپہر میں ابریش آپی نے بتایا کہ آج آپکا برتھ ڈے ہے”۔آٹھ سالہ حذیفہ نے بتایا۔
“جی ، اور ابریش آپی کو فیس بک نے بتایا ہے ، ہے ناں!۔ابرار نے شرارت سے کہا۔
“جی نہیں ، میں نے سب کے برتھ ڈیز لکھ کر رکھے ہوئے ہیں”۔ابریش نے کہا۔
“تو یہ کوئی چھوٹا بچہ ہے ؟ یا اسکی پہلی سالگرہ ہے جو تم لوگ کیک لے کر کھڑے ہوئے ہو؟۔جاوید نے ابریش کے ہاتھ میں پکڑے کیک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“آپکی بات ٹھیک ہے تایا ، پر ایسے ہی بچوں کی ضد تھی”۔ابریش نے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔
“اچھا ! اور بچوں کو چابی کس نے بھری تھی؟۔عفان نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
“ہممم! اور ویسے بھی اسلام میں یہ سالگرہ وغیرہ منانے کا منع ہی ہے ، انسان کی زندگی کا ایک سال کم ہوجاتا ہے ، اور لوگ خوشیاں مناتے ہیں”۔شہلا نے بھی کہا۔شہلا کی بات پر ابریش سمیت علیزے ، ابرار ، حذیفہ اور مسکان کا منہ بھی اترگیا۔
“چلو اب بچے اتنے پیار سے لے ہی آئے ہیں تو کاٹ لو کیک”۔ارسلان صاحب نے پانچوں کے لٹکے ہوئے منہ دیکھ کر کہا۔
“تھینک یو بڑے دادا”۔پانچوں نے خوش ہوکر کہا۔ابریش نے آگے بڑھ کر کیک میز پر رکھا دیا۔طلحہ نے چھری مسکان کے ہاتھ میں پکڑائی اور اسکا ہاتھ پکڑ کر کیک کاٹا۔کیک کاٹ کر اسکو ، حذیفہ کو علیزے ، ابرار ، ابریش اور عفان کو کھلایا۔
“باقی آپ لوگ کھالیں ، میں فرش ہوکر آتا ہوں”۔طلحہ نے صوفے پر سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔اور ایک جتاتی ہوئی نظر سعدیہ پر ڈالتا ہوا کمرے کی جانب چلا گیا۔طلحہ کے دیکھتے ہی سعدیہ نے نظریں چرالیں۔
*******************
“مما پلیز ناں ! صرف ادھے گھنٹے کی تو بات ہے ، بلکہ آدھا گھنٹہ بھی نہیں لگے گا ، بس صرف چند باتیں ہی تو کرنی ہیں”۔ابریش نے منت کی۔فاریہ ہوسپٹل سے واپس آچکی تھی۔ابریش اس وقت ہال میں رکھے صوفے پر بیٹھی فاریہ کے پاس اسکا گھٹنہ پکڑ کر بیٹھی ہوئی اسکی منتیں کررہی تھی۔
“پہلی بات تو یہ کہ شرط نہیں لگانی چاہئے ، اور دوسری بات کہ تمھیں ضرورت ہی کیا تھی ایسی بے تکی شرط لگانے کی عفان سے؟۔فاریہ نے کہا۔
“اب تو لگا چکی ہوں ناں ، مما پلیز مان جائیں ، ورنہ وہ لگڑبگا شرط جیت جائے گا ، اور پورا ایک دن مجھے اسکی بات ماننی پڑے گی ، جو کہ مجھ سے نہیں ہوگا”۔ابریش نے کہا۔
“کیا ہورہا ہے یہ سب؟۔حیدر نے ان لوگوں کے قریب آتے ہوتے ہوئے پوچھا۔
“دماغ خراب ہوگیا ہے آپکی لاڈلی”۔فاریہ نے کہا۔
“حیرت ہے ، ایک چیز نہیں ہے ، اور پھر بھی خراب ہوگئی”۔حیدر نے صوفے پر فاریہ کی برابر میں بیٹھتے ہوئے کہا۔
“اچھا ہوا آپ آگئے بابا ، مما تو سن ہی نہیں رہی ہیں میری بات”۔ابریش نے اب توپوں کا رخ حیدر کی جانب کرلیا۔
“کونسی بات ! اور اٹھو نیچے سے ، یہاں صوفے پر بیٹھ کے بتاؤ ٹھیک سے”۔حیدر نے اپنے برابر میں بچی خالی جگہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ابریش اٹھ کر حیدر کے برابر میں بیٹھ گئی۔حیدر دونوں کے درمیان میں بیٹھا ہوا تھا۔
“بابا ، بات یہ ہے کہ……….!۔پھر ابریش نے ساری تفصیل بتائی۔
“اور اگر وہ پہچان گئی تو؟۔حیدر نے پوچھا۔
“تو وہ لگڑبگا شرط جیت جائے گا ، پر ایسا نہیں ہوگا ، وہ نہیں پہچان پائے گی”۔ابریش نے کہا۔
“چلو ٹھیک ہے”۔حیدر نے ابریش کے گرد اپنا بازو حائل کرتے ہوئے کہا۔
“کیا ہوگیا ہے حیدر ! بجائے اسکو منع کرنے کے ، تم بھی اسکا ساتھ دے رہے ہو”۔فاریہ نے حیرانگی سے کہا۔
“ارے کوئی بات نہیں ، اتنی کوئی بڑی بات بھی نہیں ہے ، تھوڑا بہت فن تو چلتا ہے”۔حیدر نے اپنا دوسرا بازو فاریہ کے گرد حائل کرتے ہوئے کہا۔
“اوہ ! تھینک یو بابا”۔ابریش نے خوش سے حیدر سے چپکتے ہوئے کہا۔
“اہم اہم ! ہم بھی آپ لوگوں کے کچھ لگتے ہیں”۔ابرار نے ان لوگوں کے قریب آتے ہوئے کہا۔
“ایک غلطی ہوگئی تھی ہم سے ، اسی کا صلہ لگتے ہیں”۔حیدر نے کہا۔
“مل گئی فرصت آوارہ گردیوں سے؟۔فاریہ نے کہا۔
“آوارہ گردی نہیں کررہا تھا مما ، دوست کے ساتھ تھا”۔ابرار نے فاریہ کے برابر میں بیٹھتے ہوئے کہا۔اور اسکے کاندھے پر سر رکھ لیا۔
“اوہ ہو ! یہاں تو ‘ہم ساتھ ساتھ ہیں’ چل رہی ہے”۔فیضان نے چاروں کو ایک ہی صوفے پر اس طرح بیٹھے ہوئے دیکھ کر شرارت سے کہا۔اور سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔
“الگ کردو تم”۔حیدر نے کہا۔
“کیوں کردو ! اللّه کرے سب ایسے ہی ہمیشہ ساتھ ساتھ رہیں”۔انعم نے بھی ایک صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“امین”۔سب نے یک زبان کہا۔
**********************
رات کے گیارہ بج رہے تھے۔طلحہ بیڈ کے سرہانے سے ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا فون چلا رہا تھا۔کہ تب ہی سعدیہ کمرے میں داخل ہوئی۔اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جاکر گلے میں پہنی اپنی واحد سونے کی چین اتارنے لگی۔یہ بھی اسے طلحہ نے منہ دکھائی میں دی تھی۔طلحہ کن انکھیوں سے اسے دیکھنے لگا۔سعدیہ نے اب خود پر بھی توجہ دینا کم کردی تھی۔چین اتار کر وہ بھی بیڈ پر آگئی۔اور سرہانے سے ٹیک لگا کر کمبل اوڑھ لیا۔
“تم بھول گئی تھی ناں!۔طلحہ نے ہنوز فون چلاتے ہوئے پوچھا۔
“ہاں…وہ…بس ذہن سے نکل گیا تھا”۔سعدیہ نے جھجھکتے ہوئے کہا۔طلحہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“اور ویسے بھی بڑی دادی ٹھیک ہی کہہ رہی تھیں کہ اسلام میں یہ سالگرہ وغیرہ منانے کا منع ہی ہے ، انسان کی زندگی کا ایک سال کم ہوجاتا ہے ، اور لوگ خوشیاں مناتے ہیں”۔سعدیہ نے بات بنائی۔طلحہ نے موبائل بند کرکے سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔
“اسلام میں سالگرہ ماننا منع ہے ،میاں بیوی کے درمیان اظہارِ محبت نہیں”۔طلحہ نے سعدیہ کی جانب دیکھ کر کہا۔اور لیٹ کر دوسری جانب کروٹ لے کر کمبل اوڑھ لیا۔سعدیہ بس اسے دیکھ کر رہ گئی۔
***********************
رات کے قریب دو بج رہے تھے۔سب لوگ اس وقت دنیا سے بےخبر خوابوں کی دنیا میں تھے۔ابریش بھی اپنے بیڈ پر سورہی تھی۔کمرے میں زیرو پاؤر کا بلب جل رہا تھا۔سوتے سوتے ابریش کروٹیں بدلنے لگی۔پھر بےچین ہوکر موندی موندی آنکھیں کھول دی۔اور سیدھی لیٹ کر اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔ابھی اسکا ذہن پوری طرح سے بیدار نہیں ہوا تھا۔تب ہی ابریش کو ایسا لگا جیسے کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔ابریش نے اپنی بائیں جانب کروٹ لی تو اسے کھڑکی پر لگے پردے پر دو نقطے چمکتے ہوئے محسوس ہوئے۔ابریش نے اور زیادہ غور کیا تو وہ دو چمکتی ہوئی آنکھیں تھیں۔جو ابریش کو ہی دیکھ رہی تھیں۔یہ دیکھ کر ابریش کی اوسان خطا ہوگئے۔وہ چیخنا چاہ رہی تھی۔پر اسکی آواز اسکا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔وہ ان آنکھوں پر سے نظریں ہٹانا چاہ رہی تھی۔پر ہٹا نہیں پارہی تھی۔اٹھ کر بیٹھنا چاہ رہی تھی۔پر ہل نہیں پارہی تھی۔ایسا لگ رہا تھا ان آنکھوں نے اسے اپنے حصار میں جکڑا ہوا ہے۔ابریش کی آنکھوں سے آنسوں نکلنے لگے۔
“کبھی بھی اکیلے ڈر لگے ، تو آیات الکرسی یا پھر سورہ الناس پڑھ لینا”۔ابریش کے ذہن میں یکدم فاریہ کا جملہ گونجا۔جو وہ سونے سے قبل ہمیشہ ابریش اور ابرار کو کہتی تھی۔ابریش نے دل ہی دل میں آیات الکرسی پڑھنا شروع کردی۔
“م..م…مم….مما….مما….بابا”۔ابریش پوری قوت سے چلائی۔اب اس میں تھوڑی ہمت آگئی تھی۔پر وہ آنکھیں ابھی بھی اس پر جمی ہوئی تھیں۔
“مما….بابا…بابا…مما”۔ابریش اور زور سے چلائی۔وہ آنکھیں ہنوز اسے دیکھ رہی تھیں۔اور ابریش ابھی بھی اپنی نگاہیں پھیرنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی۔کہ تب ہی کمرے کا دروازہ کھلا۔حیدر اور فاریہ گھبرائے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔حیدر نے جلدی سے لائٹ جلائی۔اور فاریہ ابریش کے پاس آئی۔
“کیا ہوا ابریش”۔فاریہ نے ابریش کو اٹھاکر بیٹھاتے ہوئے پوچھا۔ابریش فاریہ کے سینے سے لگ کر رونے لگی۔تب ہی پیچھے سے عفان ، فیضان ، انعم ، علیزے ، اور ابرار بھی تشویش زدہ سے کمرے میں آئے۔کیونکہ ان اس کے کمرے قریب قریب ہی تھے۔اس لئے ابریش کی آواز ان لوگوں تک بھی گئی تھی۔
“کیا ہوا حیدر ! ابھی ابریش چیخی تھی ناں!۔فیضان نے تشویش سے پوچھا۔
“ہاں ، پر پتہ نہیں کیا ہوا ہے ، کچھ بتاہی نہیں رہی ہے”۔حیدر نے بتایا۔
“ابریش ، بچے کیا ہوا ہے ! کچھ بتاؤ تو ، کوئی برا خواب دیکھ لیا تھا کیا؟۔فاریہ نے ابریش کا سر سہلاتے ہوئے پوچھا۔ابریش نے روتے ہوئے ہی اپنی شہادت کی انگلی سے پردے کی جانب اشارہ کیا۔سب لوگ اسکے تعقب میں دیکھنے لگے۔عفان نے پردہ ہلایا تو اسکے پیچھے سے ایک کالی بلی نکل کر گیلری کی جانب بھاگی۔
“افو ! بلی سے ڈر گئی تھی!۔عفان نے کہا۔
“پر بلی کمرے میں کیسے آئی؟۔انعم نے کہا۔
“ایسے”۔حیدر نے گیلری کے کھلے ہوئے دروازے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“یہ دروازہ کیسے کھلا ! یہ تو میں بند کرکے گئی تھی سونے سے پہلے”۔فاریہ نے کہا۔
“تم نے کھولا تھا ابریش دروازہ؟۔فاریہ نے پوچھا۔ابریش نے روتے ہوئے اثبات میں سرہلایا۔
“کیوں ! جب میں نے بند…….!
“چلو بس چھوڑو ، بلی ہی تو تھی ناں ، اب بھاگ گئی ہے ، اور ابرار ، گیٹ بند کردو گیلری کا ، اب نہیں آئے گی”۔حیدر نے فاریہ کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ابرار سرہلاکر گیٹ بند کرنے لگا۔
“چلو بس اب چپ ، سو جاؤ آیات الکرسی پڑھ کر”۔فاریہ نے کہا۔
“نہیں ، آپ بھی یہاں ہی سوجائیں ، میں اکیلے نہیں سوؤں گی”۔ابریش نے کہا۔
“اچھا ٹھیک ہے ، پر اب چپ تو کرو ، بلاوجہ سب کو پریشان کردیا رات میں”۔فاریہ نے ابریش کے سر پر ہلکی سی چپت لگاتے ہوئے کہا۔
“تم لوگ بھی سو جاؤ ، بلاوجہ نیند خراب ہوگئی”۔حیدر نے کہا۔
“مجھے تو انعم نے اٹھایا کہ ابریش کے چیخنے کی آواز آئی ہے”۔فیضان نے بتایا۔
“ہممم! تم لوگ بھی گیلری کا دروازہ بند کرکے سویا کرو”۔حیدر نے ابرار ، علیزے اور عفان سے کہا۔تینوں نے اثبات میں سرہلادیا۔سب لوگ واپس چلے گئے۔اور فاریہ ابریش کے ساتھ ہی بیڈ پر لیٹ گئی۔ابریش اس سے چپک کر سوگئی۔
************************
“اب بتائیں آپی صحیح سے کہ رات میں کیا ہوا تھا؟۔ابرار نے پوچھا۔سب لوگ اس وقت ناشتے کی میز پر جمع تھے۔
“کیا ہوا تھا رات میں؟۔فیروزہ نے پوچھا۔
“دادی ، کل رات میں آپی بلی دیکھ کر ڈر گئیں تھیں ، اور کچھ بتاہی نہیں رہی تھیں صحیح سے ، بس روئے جارہی تھیں”۔ابرار نے بتایا۔
“کیا ! کمرے میں بلی کیسے آگئی؟۔ہمدان صاحب نے کہا۔
“گیلری سے ، دراصل کل چاند کی چودہ تاریخ تھی ، کل رات آسمان پر پورا چاند تھا ، اور مجھے پورا چاند دیکھنا بہت پسند ہے ، تو میں نے گیلری کا گیٹ کھول دیا ، اور بیڈ پر لیٹ کر چاند دیکھتے دیکھتے ہی سوگئی ، تب ہی شاید بلی آگئی کمرے میں”۔ابریش نے بتایا۔
“چاند دیکھنے کے چکر میں ، تارے دِکھ گئے تھے کل تمھیں”۔عفان نے شرارت سے کہا۔
“شٹ اپ”۔ابریش نے کہا۔
“ویسے حد ہوتی ہے آپی ، بھلا بلی دیکھ کر بھی کوئی ڈرتا ہے!۔ابرار نے کہا۔
“جس طرح سے کل رات میں نے دیکھی تھی ناں ، میں ہی جانتی ہوں ، اگر تم لوگوں نے دیکھی ہوتی ناں ، تو ابھی ایسے چپڑچپڑ منہ نہیں چل رہا ہوتا تم دونوں کا”۔ابریش نے تپ کر ابرار اور عفان کو کہا۔
“اچھا بس کرو اب ، ناشتے پر دھیان دو ، پھر کالج بھی جانا ہے”۔فاریہ نے ٹوکا۔
“ارے ہاں ، کالج!۔یکدم ابریش کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
“میں ہی جیتوں گی”۔ابریش نے عفان کو اشارہ کیا۔
“دیکھتے ہیں”۔عفان نے بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
**************************
“اوہ مائی گاڈ ! سچ میں ! یہ تمہارے پیرنٹس ہیں ابریش!۔صبا نے حیرانگی سے حیدر اور فاریہ کی جانب دیکھتے ہوئے پھر ابریش کو دیکھ کر کہا۔
“ہاں ، نہیں پہچان پائی تھی ناں تم؟۔ابریش نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ابریش ، صبا ، فاریہ ، حیدر اور عفان ، پانچوں اس وقت کالج گراؤنڈ میں موجود تھے۔ابھی کلاس شروع نہیں ہوئی تھی۔اور ابریش شرط جیت چکی تھی۔
“میں نے عفان سے شرط لگائی تھی کہ تم نہیں پہچان پاؤ گی ، اور میں جیت گئی”۔ابریش نے فخر سے بتایا۔
“ہاں سچ میں یار ، یہ تمہارے پیرینٹس لگ ہی نہیں رہے”۔صبا نے کہا۔
“تو پھر کون لگ رہے ہیں؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“آپ تو بالکل اسکی بڑی بہن لگ رہی ہیں ، آپ دونوں کے چہرے بھی کتنے ملتے ہیں”۔صبا نے کہا۔
“اچھا بھئی ، ہمارا کام ہوگیا ، اب ہم جائیں اپنی ڈیوٹی پر؟۔حیدر نے کہا۔
“جی بابا ، اور تھینک یو آنے کیلئے”۔ابریش نے کہا۔
“چلو ، خیال رکھنا اپنا”۔حیدر نے ابریش کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔پھر حیدر اور فاریہ باہر کی جانب چلے گئے۔صبا اپنی کسی دوست کے پاس چلی گئی۔اور یہ دونوں کلاس کی جانب جانے لگے۔
“ہاں جی تو پھر کیا ارادہ ہے اب؟۔ابریش نے شرارت سے پوچھا۔
“ہار گیا میں ، اب پورا دن جو تم بولو گی وہی کرنا پڑے گا ناں”۔عفان نے ہار مانتے ہوئے کہا۔
“ہممم! تو سب سے پہلے کیا حکم دوں تمھیں!ابریش نے پرسوچ انداز میں کہا۔
“ایکسکیوزمی !۔کسی نے پیچھے سے پکارا۔دونوں رک کر پلٹے۔خضر دونوں کے قریب آرہا تھا۔
“السلام و علیکم”۔خضر نے قریب آکر سلام کیا۔
“وعلیکم السلام”۔دونوں نے یک زبان جواب دیا۔
“مجھے آپ لوگوں کی مدد چاہئے”۔خضر نے کہا۔
“کیسی مدد؟۔عفان نے پوچھا۔
“دراصل مجھے پچھلا کام کوور کرنا ہے ، جس کیلئے مجھے نوٹس چاہئے ، کلاس میں کافی لوگوں سے مانگیں میں نے ، پر سب نے انکار کردیا ، جبکہ سر نے مجھے لازمی کرنے کا کہا ہے ، تو کیا آپ دونوں میں سے کوئی ایک دن کیلئے اپنے نوٹس دے سکتا ہے ، پلیز”۔خضر نے تفصیل بتاکر عاجزی سے کہا۔
“ایک دن میں آپ سارے نوٹس کیسے کاپی کریں گے؟۔ابریش نے حیرت سے پوچھا۔
“کرلوں گا ، پوری رات جاگ کر ، بس آپ لوگ دے دیں پلیز”۔خضر نے کہا۔
“بات دراصل یہ ہے کہ ہم دونوں ایک ہی نوٹ بک استمعال کرتے ہیں ، جو کہ پہلے ہی ہم نے کسی اور دوست کی دی ہوئی ہے ، تو سوری یار”۔عفان نے کہا۔
“تو آپکے دوست کب تک واپس دے دیں گے نوٹس؟۔خضر نے پوچھا۔
“پتہ نہیں ، کل ہی تو دیے ہیں ، شاید ایک دو دن لگ جائیں ، آپ کسی اور سے پتہ کرلیں”۔عفان نے کہا۔خضر کی امید ماند پڑگئی۔
“ٹھیک ہے ، کوئی بات نہیں”۔خضر نے دکھ سے کہا۔اور آگے بڑھ گیا۔
“تم نے جھوٹ کیوں بولا عفان ، نوٹس ہیں تو ہمارے پاس”۔ابریش نے خضر کے جانے کے بعد پوچھا۔
“بس ایسے ہی ، مجھے وہ لڑکا کچھ ٹھیک نہیں لگتا ، آنکھیں دیکھی ہیں اسکی”۔عفان نے کہا۔
“آنکھوں سے کیا ہوتا ہے عفان ، ابھی ایک ہی دن تو ہوا ہے اسے جوائن کیے ہوئے ، تمھیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا ، وہ بیچارہ کتنی امید سے آیا تھا ہمارے پاس”۔ابریش نے کہا۔
“اچھا ! اگر وہ اتنا ہی اچھا ہے تو کلاس میں کسی اور نے کیوں نہیں دے دیے اسکو نوٹس ، اور نوٹس تو دور کی بات ، وہ اتنا عجیب سا ہے کہ کلاس میں کوئی اسکے ساتھ بیٹھنے بھی نہیں مانگ رہا تھا، سر نے زبردستی بیٹھایا تھا”۔عفان نے کہا۔ابریش نے کچھ نہیں کہا۔اور دونوں پھر سے کلاس کی جانب جانے لگے۔
**************************
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *