Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode12

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode12

واہ یار ، کیا مووی تھی”۔علیزے نے کہا۔علیزے اور سب بچے اس وقت لیونگ” روم میں بیٹھے ڈزنی مووی
۔”Princes And The Frog” دیکھ رہے تھے۔
“علیزے باجی کیا سچ میں بھی ایسا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شہزادی کسی مینڈک کوئی کِس کرے تو وہ شہزادہ بن جاتا ہے؟۔مسکان نے معصومیت سے پوچھا۔
“نہیں ، یہ سب تو بس ایسے ہی فلموں میں ہوتا ہے”۔علیزے نے کہا۔
“ہیں ! سب جھوٹ ہوتا ہے”۔مسکان نے حیرانگی سے کہا۔
“ہممم! بس فن کیلئے ہوتا ہے ، ہائے پر کاش یہ سب سچ ہوتا”۔علیزے نے ایک میں حسرت سے کہا۔
“ٹرائی کرکے دیکھ لو ، کیا پتہ چانس لگ جائے”۔ابرار نے علیزے کے برابر صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“کیا مطلب؟۔علیزے نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“مطلب کے سچ مچ میں کِس کرکے دیکھ لو کسی مینڈک کو”۔ابرار نے آرام سے مشورہ دیا۔
“کیا بکواس ہے یہ ، ایسا کیسے ہوسکتا ہے”۔علیزے نے لاپرواہی سے کہا۔
“ارے ٹرائی تو کرو”۔ابرار نے کہا۔اور اپنی بند مٹھی عین علیزے کے سامنے کرکے کھول دی۔مٹھی کھولتے ہی اس میں سے مینڈک اچھل کر علیزے کی گود میں آکر گرا۔اور پورا گھر کچھ ہی لمحوں میں فلک شگاف چیخوں سے گونج اٹھا۔
“ممی….ممی….پاپا…..پاپا…..دادی…بچاؤ”۔علیزے خوفزدہ نظروں سے اپنی گود میں ٹر ٹر کرتے مینڈک کو دیکھتے ہوئے مسلسل چیخے جارہی تھی۔اور ابرار ایک کونے میں کھڑا پیٹ پکڑ کر ہنس رہا تھا۔کہ تب ہی حذیفہ نے ہمت دیکھائی اور کوشن کی مدد سے مینڈک کو علیزے کی گود سے ہٹایا۔مینڈک بھی شاید اسی موقے کے انتظار میں تھا۔گود سے اتر کر وہ فوراً پھدکتا ہوا باہر کی جانب بھاگا۔
“یااللّه رحم ! کیا ہوگیا ؟ کیوں شور مچایا ہوا ہے؟۔ممتاز نے روم میں داخل ہوتے ہوئے تشویش سے پوچھا۔انکے پیچھے پیچھے باقی خواتین بھی تشویش زدہ چہروں کے ساتھ روم میں داخل ہوئیں۔
“دادی ، ابرار بھائی نے علیزے باجی کے اوپر مینڈک چھوڑ دیا تھا”۔مسکان نے بتایا۔
“ابرار ، یہ کیا بدتمیزی ہے؟۔شہلا نے بھی آگے آتے ہوئے غصے سے کہا۔
“ارے دادی یہ خود ہی کہہ رہی تھی کہ ہائے کاش یہ سب سچ ہوتا ، تو میں نے کہا کہ ٹرائی کرکے دیکھ لو ، کیا پتہ چانس لگ جائے ، بس اتنی سی بات پر چلا رہی ہے یہ”۔ابرار نے ہنسی روکتے ہوئے وضاحت کی۔
“ایسے مذاق کون کرتا ہے ، ابھی اگر مجھے ہارٹ اٹیک آجاتا تو؟۔علیزے نے غصے سے کوشن ابرار کو مارتے ہوئے کہا۔
“چھوڑو بھئی ان لوگوں کے تماشے تو دن بھر چلتے رہتے ہیں ، چلو سب اپنا اپنا کام کرو”۔فیروزہ نے کہا۔سب واپس چلے گئے۔جبکہ علیزے ٹیبل پر رکھا گلدان اٹھا کر ابرار کو مارنے کیلئے بھاگی۔اور ابرار اپنی کھوپڑی بچاتا ہوا کمرے سے باہر بھاگا۔
***************************
“عفان ! کہاں جارہے تھے ، ابھی گرجاتے ناں”۔ابریش نے عفان کو پکڑتے ہوئے کہا۔جو کے نیچے آتی سیڑھیوں کے پہلے سٹیپ پر قدم رکھتے ہوئے لڑکھڑا کر گرنے والا تھا۔پر تب ہی ابریش نے اسے بازو سے پکڑ لیا۔
“نیچے جارہا تھا ، ابھی بہت زور سے چیخنے کی آواز آئی کسی کی”۔عفان نے بتایا۔کہ تب ہی ابرار لیونگ روم سے باہر نکلا اور ہال عبور کرتا ہوا لان میں بھاگا اور اسکے پیچھے علیزے گلدان اٹھائے بھاگ رہی تھی۔دونوں نے ہی انکی جانب دیکھا۔
“ان کے ہی کارنامے ہوں گے کچھ ، پتہ تو ہے تمھیں دن بھر کچھ نا کچھ چلتا رہتا ہے دونوں کا ، ابھی اگر میں نہیں آتی تو ٹانگ تو پہلے ہی ٹوٹی تھی تمہاری ، پر سیڑھیوں سے گر کر منہ بھی توڑ لیتے اپنا”۔ابریش نے کہا۔
“چلو اب واپس کمرے میں”۔ابریش نے کہا۔اور سہارا دے کر عفان کو واپس اسکے کمرے میں لے آئی۔اور بیڈ پر ٹھیک سے بیٹھا دیا۔
“ویسے تم خود کمرے سے اٹھ کر وہاں تک گئے ، اسکا مطلب کہ اب ماشاءاللّه تم ٹھیک ہورہے ہو”۔ابریش نے بھی بیڈ کے کنارے بیٹھتے ہوئے کہا۔
“ہممم! اللّه کرے ایسا ہی ہو ، بور ہوگیا ہوں گھر میں بیٹھے بیٹھے”۔عفان نے کہا۔
“ہاں ، اور پھر سیمیسٹرز بھی تو شروع ہونے والے ہیں ناں ، اچھا نوٹس کاپی کرلئے تھے تم نے جو میں دیے تھے تمھیں؟۔ابریش نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“ہاں ، کل ہی کرلئے تھے”۔عفان نے بتایا۔
****************************
“اوہ ! پورا دن باہر کتنی بار چائے پیتا ہوں ، پر گھر جیسی بات کہیں نہیں ہوتی”۔احمر نے چائے کا گھونٹ لے کر کہا۔دونوں اس وقت بیڈروم میں رکھے صوفوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوئے چائے پی رہے تھے۔
“مت پیا کریں اتنی چائے ، صحت کیلئے نقصان دہ ہوتی ہے”۔ناہید نے بھی کہا۔اور چائے کا گھونٹ لینے لگی۔
“ہممم! نقصان دہ تو بہت سی چیزیں ہوتی ہیں ، پر ہم جانتے بوجھتے انھیں ترک نہیں کرتے”۔احمر نے ایک گہرا سانس لے کر کہا۔
“کیا مطلب ؟۔ناہید نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“مطلب کہ جو کچھ ہم نے ، بلکہ میں نے ماضی میں ڈاکٹر خالد کے ساتھ مل کر کیا ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ غلط تھا ، میں انکا ساتھ دیتا رہا ، مجھے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا ، اگر میں ایسا نا کرتا تو آج ہم بھی باقی سب کی طرح ہوسپٹل کا حصہ ہوتے”۔احمر نے ہاتھ میں پکڑے چائے کے کپ کو دیکھتے ہوئے تاسف سے کہا۔ناہید کچھ لمحے خاموشی سے احمر کو دیکھتی رہی۔پھر صوفے سے اٹھ کر احمر کے برابر میں آکر بیٹھ گئی۔
“غلطی کرنا غلط بات ہے ، پر اس غلطی پر شرمندہ ہونا ، اور شرمندہ ہوکر آئندہ وہ غلطی نہ دہرانے کا فیصلہ کرنا اچھی بات ہے ، آپ نے غلطی کی ، پر ڈاکٹر خالد کو سزا دلا کر ، اپنی غلطی کی سزا کاٹ کر ، اور آئندہ یہ غلطی دوبارہ نا کرنے کا فیصلہ کرکے آپ اسکا ازالہ کرچکے ہیں ، تو پھر آپ کیوں بار بار ایسی باتیں کرنے لگ جاتے ہیں”۔ناہید نے اپنا ہاتھ صوفے پر رکھے احمر کے ساتھ پر رکھتے ہوئے پیار سے کہا۔
“کیونکہ مجھے تمہارا ایسے دلاسا دینا بہت اچھا لگتا ہے”۔احمر نے شرارت سے کہا۔
“اففو ! آپ بھی ناں احمر”۔ناہید نے جھینپ کر کہا۔
“ویسے ہماری شادی کو تیس سال ہوگئے ہیں ، پر آج بھی تم قسم سے بالکل نئی نویلی دلہن کی طرح شرماتی ہو”۔احمر نے صوفے کی پشست سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔
“وہ سب چھوڑیں ، مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے”۔ناہید نے اپنا چائے کا کپ میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
“دو باتیں کرلو”۔احمر نے چائے کا گھونٹ لے کر کہا۔
“احمر پلیز سیریس”۔ناہید نے کہا۔
“اچھا بولو”۔احمر نے کہا۔
“میں سوچ رہی تھی کہ ہمیں اپنے ماضی کے بارے میں مطلب یہ جو ڈاکٹر خالد وغیرہ کا سارا چکر تھا ، اسکے بارے میں مراد کو بتا دینا چاہئے”۔ناہید نے کہا۔احمر یکدم سیدھا ہوگیا۔
“کیا ! پر کیوں؟۔احمر نے حیرانگی سے پوچھا۔
“کیونکہ کل کو اگر کسی اور سے یہ سب پتہ چلا تو پتہ نہیں وہ کیا سوچے ؟ اور کوئی کس طرح اسے سب بتائے ، تو اس سے بہتر ہے کہ ہم خود ہی اسے سب بتادیتے ہیں”۔ناہید نے کہا۔
“پاگل ہوگئی ہو ناہید ، مراد کو اس بارے میں کچھ پتہ نہیں چلنا چاہئے ، ورنہ اسکی نظروں میں ہماری کیا اہمیت رہ جائے گی ؟۔احمر نے بھی اپنا چائے کا کپ میز پر رکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
“یہی تو میں بھی کہہ رہی ہوں کہ ہم بتائیں گے تو صحیح سے سب سمجھادیں گے ، پر اگر کسی اور نے کسی غلط نظریے سے اسے سب بتادیا تو!۔ناہید نے خدشہ ظاہر کیا۔
“کون بتائے گا ؟ اس بارے میں صرف ہم دونوں ، اور “علی ولا” کے لوگ ہی جانتے ہیں ، ہم نے اسے کچھ نہیں بتایا ، اور “علی ولا” سے بھی کوئی ہماری اجازت کے بغیر ایسی حرکت نہیں کرے گا”۔احمر نے کہا۔
“پر پھر بھی احمر اگر…….!
“اگر مگر کچھ نہیں ، میں نے کہا ناں کچھ نہیں ہوگا ، بیکار کے خدشے مت پالو”۔احمر نے ناہید کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ناہید خاموش ہوگئی۔
“مغرب کا وقت ہونے والا ہے ، دونوں وقت مل رہے ہیں ، مراد کو فون کرو کہ گھر آئے”۔احمر نے موضوع بدلا۔
“آجائے گا ، اب بیچارہ بچہ دوستوں کے ساتھ انجوئے بھی نا کرے”۔ناہید نے حمایت کی۔
“اس تائیس سالہ اونٹ کو تم پلیز بیچارہ بچہ تو نا بولا کرو”۔احمر نے دوبارہ چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے کہا۔
“ٹینگ ٹونگ”۔تب ہی ڈور بیل بجی۔
“لو آگیا تمہارا بیچارہ بچہ”۔احمر نے کہا۔
“ماشاءاللّه بڑی لمبی عمر ہے میرے بچے کی”۔ناہید نے صوفے پر سے اٹھتے ہوئے کہا۔اور احمر گہری سانس لے کر بچی ہوئی چائے پینے لگا۔
******************************
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *