Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan NovelR50802 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode23
Rate this Novel
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode01 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode02 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode03 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode04 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode05 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode06 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode07 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode08 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode09 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode10 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode11 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode12 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode13 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode14 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode15 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode16 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode17 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode18 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode19 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode20 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode21 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode22 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode23 (Watching)Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode24 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode25 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode26 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode27 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode28 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode29 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode30 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode31 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode32 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode33 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode34 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Last Episode
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode23
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode23
“مجھے تمہارے گھر کا جائزہ لینا ہے”۔بابا جی نے گھر کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“جی آئیے”۔عدنان صاحب نے کہا۔اور سب لوگ اندر کی جانب بڑھ گئے۔بابا جی سب سے آگے چل رہے تھے۔باقی سب ان کے پیچھے آرہے تھے۔وہ ہال کے وسط میں آکر کھڑے ہوگئے۔اور کچھ پڑھتے ہوئے یہاں وہاں دیکھنے لگے۔پھر وہ باقی سب کو یہاں ہی رکنے کا اشارہ کرکے سیڑھیوں کی جانب بڑھے اور کچھ پڑھتے ہوئے اوپر چڑھنے لگے۔سب لوگ ناسمجھی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔تھوڑی دیر میں اوپر کا جائزہ لے کر بابا جی واپس آئے۔انکے تاثر اب پہلے سے بھی زیادہ سنجیدہ تھے۔
“وہ اس گھر میں داخل ہوچکا ہے”۔بابا جی نے بتایا۔سب کے چہروں پر پریشانی کے آثار نمایاں ہوگئے۔
“تو پھر اب ؟ ان سب کا حل کیا ہے بابا جی؟۔ارسلان صاحب نے پوچھا۔
“تھوڑا مشکل ہے ، پر ناممکن نہیں”۔بابا جی نے کہا۔
“آپ بتائیں ، ہم سے جو بن پڑے گا ہم کریں گے”۔ہمدان صاحب نے کہا۔
“بکری کی کلیجی ، تازہ ذبح ہوئے بکرے کی سری”۔بابا جی نے کہا۔
“بابا جی تو دعوت کے موڈ میں ہیں”۔ابرار نے علیزے کے کان میں سرگوشی کی۔علیزے نے اسے کونسی مار کر چپ رہنے کا کہا۔
“ایک انسانی کھوپڑی ، پیدا ہوئے بچے کی نال ، اور چار کیلیں ، یہ پانچوں چیزیں میرے پاس لانی ہوں گی ، میں ان پر پڑھائی کروں گا ، پھر اسی گھر کے ایک فرد کو یہ ساری چیزیں رات کے تیسرے پہر قبرستان میں لے جا کر ایک پرانی قبر کے پاس گاڑنی ہوں گی ، اور اسی فرد کو چالیس راتوں تک روز وہاں جاکر چِلا کاٹنا ہوگا ، تب جاکر اس روح سے پیچھا چھوٹے گا”۔بابا جی نے تفصیل بتائی۔جسے سن کر سب خوفزدہ نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
“اور ایک بات ، عمل میں ذرا سی بھی کوتاہی نہیں ہونی چاہئے ، ورنہ جان بھی جاسکتی ہے ، اور مصیبت بڑھ سکتی ہے”۔بابا جی نے مزید کہا۔
“آپکی بات ٹھیک ہے بابا جی ، پر اسکے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے ؟ اگر ہم سے کوتاہی ہوگئی تو اسکا ازالہ ممکن ہے کیا؟۔ارسلان صاحب نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں ، اسکا کوئی ازالہ نہیں ہے”۔بابا جی نے کہا۔سب پریشان ہوگئے۔
“ہاں پر ایک راستہ ہے”۔اچانک بابا جی نے کہا۔
“وہ کیا بابا جی؟۔ارسلان صاحب نے جلدی سے پوچھا۔
“یہ چلا میں خود کاٹ لوں گا ، بس تم مجھے وہ سامان لادو ، یا پھر مطلوبہ رقم مجھے دے دو سامان کیلئے”۔بابا جی نے کہا۔
“یہ طریقہ ٹھیک ہے ، آپ چلا کاٹیں گے تو کوئی کوتاہی بھی نہیں ہوگی”۔ارسلان صاحب نے کہا۔
“ہاں بالکل ، آپ بس رقم بتادیں کہ کتنی چاہئے ہوگی”۔ہمدان صاحب نے بھی تائید کرتے ہوئے کہا۔
*********************************
“میری تو سمجھ سے باہر ہے کہ آخر آپ سب کو ہو کیا گیا ہے ؟۔حیدر نے کہا۔
مغرب ہوچکی تھی اور سب لوگ اب ہال میں بیٹھے “مزاکرات” کررہے تھے۔
“تو بیٹا اس میں حرج ہی کیا ہے ؟ اچھی بات ہے کہ مسلہ بڑھنے سے پہلے ہی ختم ہوجائے گا”۔ہمدان صاحب نے کہا۔
“کونسا مسلہ پاپا ؟ اس لڑکے نے نوٹ میں لکھ دیا کہ وہ واپس آئے گا ، اس بابا نے کہہ دیا کہ وہ واپس آگیا ہے ، اور آپ لوگوں نے مان لیا ! آپ لوگ خود اپنی عقل لگائیں بھلا ایسا کیسے ہوسکتا ہے ؟۔حیدر نے کہا۔
“ہوسکتا ہے ، بابا میں نے اکثر فلموں میں دیکھا ہے کہ جو لوگ خودکشی کرتے ہیں انکی روح ایسے ہی واپس آجاتی ہے ، اور پھر کوئی بابا جی آکر اس روح کو بھاگاتے ہیں”ابرار نے کہا۔
“اس ٹی وی نے بھی بہت دماغ خراب کیا ہوا ہے سب کا ، پتہ نہیں کیا کیا خرافات لوگوں کے ذہنوں میں آرہی ہے اس سے ، لگتا ہے یہ کیبل بھی کاٹوانا پڑے گا”۔حیدر نے غصے سے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔اور اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب چلا گیا۔باقی سب ایک دوسرے کو دیکھ رہ گئے۔
*********************************
رات کے ڈنر کے بعد سب لوگ اب سونے کے غرض سے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے۔ابریش بھی کمرے میں آکر الماری کی جانب آئی۔اور کل کالج پہن کر جانے کیلئے کپڑے ڈیسائیڈ کرنے لگی۔اس نے ایک نیلے رنگ کا سوٹ نکالا۔پر یہ دیکھ کر اسے بہت حیرت ہوئی کہ سوٹ پر جگہ جگہ سوراخ موجود تھے۔اس نے دوسرا سوٹ نکالا۔اس پر بھی ایسے ہی سوراخ تھے۔پھر اس نے ایک ایک کرکے سارے سوٹ نکال کر بیڈ پر پھیلا دیے۔ سب میں اسی طرح کے سوراخ تھے۔اسے بہت حیرانگی ہورہی تھی۔
ابھی وہ یہ سب سوچ ہی رہی تھی کہ کمرے کی لائٹ ان آف ہونے لگی۔پھر بند ہی ہوگئیں۔تب ہی ابریش کو اندھیرے میں کہیں سے ایسی آواز آتی محسوس ہوئی کہ جیسے کوئی ہڈیاں چبا رہا ہے۔اس کا دل کانپ گیا۔وہ باہر بھاگنے ہی لگی تھی کہ کسی چیز نے اسکے پیر جکڑلئے وہ منہ کے بل زمین پر گری۔وہ چیخنا چاہ رہی تھی پر اسکے حلق سے آواز ہی نہیں نکل رہی تھی۔اچانک اسے محسوس ہوا جیسے اسکے آس پاس دھواں پھیل رہا ہے۔اور اسکا جسم بھاری ہونے لگا۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاگیا۔
*********************************
“علیزے ! ابریش کو بھی بلاتی ہوئی آنا ناشتے کیلئے”۔فاریہ نے نیچے سے اوپر آواز ماری۔
“ٹھیک ہے چچی”۔علیزے نے کہا۔اور سیدھا نیچے آنے کے بجائے ابریش کے کمرے کی جانب آئی اور دروازے پر دستک دے کر اسے پکارا۔پر کوئی جواب نہیں آیا۔علیزے نے ہنڈل گھومایا تو دروازہ کھل گیا۔وہ اندر داخل ہوئی تو سامنے کا منظر دیکھ کر اسکے ہوش اڑ گئے۔بیڈ پر کپڑے بکھرے ہوئے تھے۔اور ابریش زمین پر بےہوش پڑی تھی۔
“آپی ! آپی !۔علیزے نے اسکے گال تھپتھپاتے ہوئے پکارا۔اور اسکا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔اسکا جسم بالکل سرد ہورہا تھا۔
“ممی ، پاپا ، چاچو ، چچی ، جلدی آئیں”۔علیزے نے آواز ماری۔کہ تب ہی یکدم ابریش نے آنکھیں کھولی۔اور علیزے کو دیکھنے لگی۔اسکی آنکھوں کی پتلیاں ہی نہیں تھیں۔بالکل سفید ہورہی تھیں اسکی آنکھیں۔علیزے ڈر گئی۔ابریش نے یکدم ایک ہاتھ سے علیزے کو اتنی زور سے دھکا دیا کہ وہ گھسٹتی ہوئی پیچھے دیوار سے جالگی۔تب تک باقی لوگ بھی کمرے میں آچکے تھے۔ابریش بھی کھڑی ہوگئی اور انہی لوگوں کی جانب دیکھنے لگی۔اسکا دوپٹہ پتہ نہیں کہاں تھا ؟ کھلے بال بکھرے ہوئے تھے۔آنکھوں کی پتلیاں غائب تھیں۔اور وہ غراتے ہوئے انہی لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔اسکے اس حالت میں دیکھ کر سب کے اوسان خطا ہوگئے۔
“ابریش بیٹا یہ……….!۔حیدر کہتے ہوئے اس کی جانب بڑھا پر ابریش نے اسے ایک ہی ہاتھ سے اتنی زور سے دھکا دیا کہ حیدر اڑتا ہوا ڈریسنگ ٹیبل کے پاس جاکر۔ڈریسنگ ٹیبل کا کونا اسکے سر پر لگنے سے اسکے سر سے خون نکلنے لگا۔
“حیدر !۔فاریہ چیختی ہوئی اسکے پاس بھاگی۔باقی سب نے بھی سہارا دے کر اسے اٹھایا۔
“ابریش ! یہ کیا ہوگیا ہے تمھیں ؟۔عفان نے حیرانگی سے آگے بڑھتے ہوئے کہا۔
“وہیں رک جا ، ہاتھ مت لگانا اسے”۔ابریش نے غصے سے ہاتھ اٹھا کر مردانہ آواز میں کہا۔ابریش کے منہ سے مردانہ آواز سن کر سب ہکابکا رہ گئے۔
“کون ہو تم ؟۔فاریہ نے سختی سے پوچھا۔
“کون ہوں میں ؟ ہاہاہاہاہاہاہاہا “۔ابریش نے اسی آواز میں کہا اور زور سے قہقہے لگانے لگی۔کہ تب ہی یکدم فیضان اور ابرار نے پیچھے سے جاکر اسکے دونوں ہاتھ پکڑلئے۔
“چھوڑ مجھے چھوڑ ، میں کہتا ہوں چھوڑ”۔ابریش اسی آواز میں چلائی۔حیدر اور عفان بھی اسے قابو کرنے آگے آئے اور بڑی مشکل سے اسے بیڈ پر لیٹا کر رسی سے باندھ دیا۔
“میں کہتا ہوں کھول مجھے”۔وہ مسلسل چلارہی تھی۔فیروزہ نے بلند آواز آیت الکرسی پڑھنا شروع کردی۔
“منہ بند کر بڑھیا”۔ابریش غصے سے اسی آواز میں چلائی۔پر فیروزہ نے اور بلند آواز میں پڑھنا شروع کردیا۔علیزے نے تو باقاعدہ رونا شروع کردیا تھا۔چیختے چیختے اچانک ابریش بےہوش ہوگئی۔
“حیدر یہ سب کیا….؟۔فاریہ نے بس اتنا ہی کہا۔اور رونے لگی۔باقی سب بھی پریشان تھے کہ یہ کیا ہوگیا ؟ اب کیا ہوگا ؟ اب کیا کریں ؟
*********************************
جاری ہے
