Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan NovelR50802 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode26
Rate this Novel
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode01 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode02 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode03 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode04 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode05 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode06 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode07 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode08 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode09 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode10 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode11 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode12 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode13 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode14 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode15 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode16 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode17 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode18 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode19 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode20 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode21 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode22 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode23 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode24 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode25 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode26 (Watching)Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode27 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode28 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode29 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode30 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode31 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode32 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode33 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode34 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Last Episode
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode26
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode26
“آپ لوگ مرنے کے بعد انسانی روح کے واپس آنے پر یقین رکھتے ہیں؟۔انھوں نے دوبارہ پوچھا۔
“جو کچھ بھی ہورہا ہے ، اسے دیکھ کر تو جو یقین نہیں بھی رکھتا تھا اسے بھی یقین آگیا ہے”۔ارسلان صاحب نے کہا۔
“اللّه پاک نے ہر چیز کا ایک نظام بنایا ہے ، جب کسی شخص کا انتقال ہوتا ہے ، تو اسکی روح قبض کرلی جاتی ہے ، پھر جب مردے کو قبر میں اتار کر سب چلے جاتے ہیں تو اسکی روح کا اس کے جسم سے دوبارہ اتنا رابطہ بحال کردیا جاتا ہے کہ وہ سوال کا جواب دے سکے ، اور اپنے عمال کے بدلے میں ملنے والی جزا و سزا محسوس کرسکے ، سوال جواب کے بعد فیصلہ ہوتا ہے ، اگر روح نیک ہوتی ہے تو اسے علین میں رکھا جاتا ہے ، جو کہ اوپر آسمان میں ہے ، اور اگر روح بدکار ہوتی ہے تو اسے سجین میں رکھا جاتا ہے ، جو زمین کے نیچے ہے ، اور اسی طرح قبر میں یا تو جنت سے خوشبو اور ہوائیں آنے لگتی ہیں ، یا پھر جہنم سے عذاب ، یہ باتیں تا قیامت جارہی رہنے والی ہوتی ہیں ، پھر قیامت والے دن فیصلہ ہونا ہوتا ہے کہ اب اسے ہمیشہ کیلئے جنت میں جانا ہے یا جہنم میں ، اب سوال یہ ہے کہ جب مرنے کے بعد روح علین یا سجین میں چلی جاتی ہے ، تو پھر وہ واپس لوٹ کر کیسے آسکتی ہے ؟
کیونکہ علین میں موجود روحیں واپس آنا نہیں چاہیں گی ، اور سجین میں موجود روحیں چاہ کر بھی وہاں سے نہیں نکل سکتی ، کیونکہ وہاں فرشتوں کا سخت پہرا ہوتا ہے ، علین اور سجین کا ذکر اللّه پاک نے قرآن کریم میں بھی کیا ہے ،
“سورہ المطففين” آیت نمبر سات اور آٹھ
سن رکھو کہ بدکارروں کے اعمال سجّین میں ہیں ﴿۷﴾ اور تم کیا جانتے ہوں کہ سجّین کیا چیز ہے؟ ﴿۸﴾
اور علین کا ذکر بھی اسی سورہ میں ہے ، آیت نمبر اٹھارہ اور انیس
(یہ بھی) سن رکھو کہ نیکوکاروں کے اعمال علیین میں ہیں ﴿۱۸﴾ اور تم کو کیا معلوم کہ علیین کیا چیز ہے؟ ﴿۱۹﴾
تو لہٰذا ان باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک بار جو شخص دنیا سے چلا گیا ، پھر وہ واپس نہیں آسکتا ، بصورت دیگر اللّه کے حکم ، اگر اللّه کا حکم ہو ، تو ہی ایسا ممکن ہے ، اور اللّه کے راز وہ خود ہی جانے”۔بزرگ نے بتایا۔
“آپکی بات بالکل ٹھیک ہے ، پر اگر اس لڑکے کی روح واپس نہیں آئی ہے ، تو پھر ابریش کو کیا ہوا ہے ؟۔ہمدان صاحب نے پوچھا۔
“اللّه پاک نے انسان اور فرشتوں کے ساتھ ایک اور مخلوق بھی بنائی ہے ، جنہیں ہم جنات کے نام سے جانتے ہیں ، اور انکا ذکر قرآن میں بھی موجود ہے ، ابریش پر کوئی جن حاوی ہے”۔انھوں نے بتایا۔
“اور یہ سب واپس ٹھیک کیسے ہوگا ؟۔ہمدان صاحب نے پوچھا۔
“تھوڑا وقت لگے گا ، تھوڑا عمل وغیرہ کرنا پڑے گا ، تو ٹھیک ہوجائے گا یہ سب”۔انھوں نے کہا۔
“اور کیا ہمیں یہ بھی پتہ چل سکتا ہے کہ وہ جن ابریش پر کیوں حاوی ہے ؟۔حیدر نے پوچھا۔
“یہ تو وہ خود ہی بتا سکتا ہے کہ وہ اس پر کیوں حاوی ہے ؟ ہاں پر اکثر جن لڑکیوں پر عاشق ہوجاتے ہیں ، تو ہوسکتا ہے تمہاری بیٹی کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا ہو”۔بزرگ نے کہتے ہوئے بتایا۔
“اچھا کیا سورج غروب ہونے کے بعد وہ پھر آجائے گا ؟۔حیدر نے پوچھا۔
“ہاں ، ابھی فلحال بچی کی حالت کے پیش نظر ایسا کرنا ضروری تھا ، پر بہت جلد ہی ہمیشہ کیلئے بھی وہ چلا جائے گا ،ان شاءاللّه”۔انھوں نے کہا۔
“ابھی فلحال مجھے اجازت دیں ، پھر کل آکر مجھ سے ملیں آپ لوگ ، تب تک بچی کی والدہ کو کہیں کہ پانی پر سورہ مزمل پڑھ کر بچی کو پلائیں ، اور مغرب کے بعد جب وہ جن دوبارہ حاوی ہوجائے تو آپ لوگ گھبرایے گا نہیں ، بس کوشش کیجئے گا کہ اسے غصہ نہ آئے”۔بزرگ نے تاکید کی۔
“جی ٹھیک ہے ، بہت بہت مہربانی آپکی کہ آپ یہاں تک آئے ہمارے لئے”۔ارسلان صاحب نے کھڑے ہوتے ہوئے تشکر آمیز لہجے میں کہا۔باقی سب بھی کھڑے ہوگئے۔
“ارے نہیں ، مہربانی کیسی ، مصیبت کے وقت کسی کے کام آجانا بڑی سعادت کی بات ہے ، اللّه پاک کا کرم ہے کہ اس نے مجھ جیسے ناچیز بندے کو یہ سعادت بخشی ہے”۔بزرگ نے مسکراتے ہوئے کہا۔پھر ارسلان صاحب اور ہمدان صاحب انھیں واپس چھوڑنے چلے گئے۔اور یہ سب آپس میں مزاکرات کرنے لگے۔
***********************************
ابریش نے نہاکر کپڑے بدل لئے تھے۔اور فاریہ اس وقت اسے کھانا کھلا رہی تھی۔اسکا دل نہیں چاہ رہا تھا۔پر فاریہ نے پھر بھی تھوڑا بہت کِھلا دیا تھا۔باقی خواتین بھی کمرے میں ہی موجود تھیں۔
“بس مما ، اب اور نہیں کھایا جارہا”۔ابریش نے کہا۔
“اچھا ٹھیک ہے ، پانی پی لو”۔فاریہ نے گلاس اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔اس نے دو گھونٹ پی کر گلاس واپس کردیا۔
“لو علیزے بیٹا ، یہ کچن میں رکھ آؤ”۔فاریہ نے ٹرے اسکو دیتے ہوئے کہا۔وہ ٹرے لے کر چلی گئی۔
“مجھے کیا ہوا ہے مما ؟۔ابریش نے پوچھا۔
“کچھ نہیں بیٹا ، بس کمزوری ہوگئی ہے ذرا سی”۔فاریہ نے کہا۔
“پتہ ہے مما ، مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میں کتنا کام کرکے آئی ہوں ، کتنے پہاڑ توڑ کر آئی ہوں ، بہت دکھ رہا ہے میرا جسم”۔ابریش نے بتایا۔
“آہستہ آہستہ ٹھیک ہوجائے گا ، فکر مت کرو”۔فاریہ نے تسلی دی۔
***********************************
اور پھر وہی ہوا۔غروب آفتاب کے بعد ہی ابریش یکدم بدل گئی۔پر اب ابوبکر نورانی صاحب کے کہنے کے مطابق اسے باندھا ہوا نہیں تھا کہ کہیں اسے غصہ نہ آجائے۔ابریش اپنے بیڈ پر دونوں ہاتھ گھٹنوں کر گرد لپیٹے اور سر گھٹنوں پر رکھے خاموش بیٹھی تھی۔اور اسی مردانہ آواز میں آہستہ آہستہ مسلسل کچھ پڑھ رہی تھی۔جو سمجھ سے بالکل باہر تھا۔فاریہ اور حیدر خاموشی سے صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے۔جبکہ باقی سب باہر تھے۔کیونکہ کمرے میں زیادہ لوگوں کو بھی جانے سے بزرگ منع کرکے گئے تھے۔مغرب سے عشاء ہوگئی ، پر ابریش ہنوز اسی حالت میں بیٹھی کچھ پڑھتی رہی۔ذرا بھی ٹس سے مس نہیں ہوئی تھی۔پھر اچانک وہ بیڈ پر چت لیٹ گئی۔اور چھت کو تکنے لگی۔اور آہستہ آہستہ کمر کو بیڈ سے اٹھانے لگی۔اب اسکا صرف سر اور پاؤں کے تلوے بیڈ پر تھے۔باقی آدھا دھڑ ہوا میں تھا۔اسکو ایسے دیکھ کر فاریہ ڈر گئی۔حیدر بھی پریشان ہوگیا۔
“حیدر اسے روکو ، کہیں ابریش کی ہوئی ہدی نہ ٹوٹ جائے”۔فاریہ نے کہا۔
“سورہ مزمل کا پانی کہاں ہیں؟۔حیدر نے پوچھا۔
“وہ سائیڈ ٹیبل پر جو بوتل رکھی ہے اس میں ہے”۔فاریہ نے بتایا۔
حیدر اٹھ کر آہستہ سے سائیڈ ٹیبل کی جانب آیا۔بوتل اٹھائی اور تھوڑا سا پانی ہتھیلی پر لے کر ابریش پر چھڑکا۔پانی پڑتے ہی وہ ایسا تڑپی جیسے تیزاب پھینک دیا ہو اس پر۔
“دور کر اسے”۔ابریش غضب ناک ہوکر اٹھ بیٹھی اور چلائی۔حیدر بوتل لے کر واپس صوفے پر آگیا۔وہ کچھ دیر تو اپنی بنا پتلیوں کی آنکھوں سے حیدر کو غصے سے دیکھتی رہی۔پھر اوندھی ہوکر بیڈ پر لیٹ گئی۔اور پھر وہی عجیب سی پڑھنے لگی۔
*************************
“اللّه پاک رحم کرے بچی کی حالت پر ، بیچاری ابریش بھی تکلیف میں ہے ، اور سب گھر والے بھی پریشان ہیں”۔ناہید نے کہا۔تینوں گھر واپس آچکے تھے۔اور اس وقت اپنے گھر کے لاؤنچ میں بیٹھے اسی متعلق بات چیت کررہے تھے۔
“وہ جو بزرگ آئے تھے انھوں نے کیا بتایا اس بارے میں؟۔ناہید نے پوچھا۔
“کہہ رہے تھے کہ یہ کوئی روح وغیرہ کا چکر نہیں ہے ، بلکہ اس پر کوئی جن حاوی ہے ، مرنے کے بعد کوئی روح واپس نہیں آسکتی”۔احمر نے پھر آگے کی بھی ساری تفصیل بتائی۔
“اور اگر ابریش کی حالت میں نے اپنی آنکھوں سے نہ دیکھی ہوتی تو شاید میں کبھی یقین نہ کرتا ، کیونکہ ڈاکٹر خالد کے کارنامے اپنی آنکھوں سے جو دیکھے تھے”۔احمر نے کہا۔پر بعد میں اسے خیال آیا کہ وہ بےدھیانی میں مراد کے سامنے خالد کا ذکر کرگیا ہے۔
“کون ڈاکٹر خالد ؟۔مراد نے چونک کر پوچھا۔احمر اور ناہید ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
“میں بتاتی ہوں”۔ناہید نے کہا۔
“ناہید ! کیا ہوگیا ہے”۔احمر نے ٹوکا۔
“بس احمر بہت ہوگیا ، بتانے دیں اب”۔ناہید نے کہا۔پھر ناہید نے بولنا شروع کیا اور پچیس سال قبل کی ساری کہانی اسے تفصیل سے سنادی۔
“تمہارے ڈیڈ کو لگتا تھا کہ یہ سب جاننے کے بعد تمہاری نظروں میں ہماری اہمیت کم ہوجائے گی ، پر میں چاہتی ہوں کہ تم ہمارے ماضی کے سارے رازوں سے واقف ہو ، تا کہ کوئی اور تمھیں ہمارے حوالے سے گمراہ نہ کرسکے”۔ناہید نے ساری بات بتاتے ہوئے کہا۔مراد تو ساری بات سن کر دنگ رہ گیا تھا۔
“مطلب کہ ڈیڈ نے خود سرینڈر کیا تھا ، انہیں حیدر انکل نے گرفتار نہیں کروایا تھا ؟۔مراد نے حیرانگی سے پوچھا۔
“ہیں ! نہیں تو ، کس نے کہا تمھیں ایسا؟۔احمر نے حیرانگی سے پوچھا۔
“نگہت خالہ نے”۔مراد نے بتایا۔
***********************************
“پانچ سال پہلے”
لندن کی سڑکیں برف باری کی وجہ سے سیاہ سے سفید ہوگئیں تھیں۔اٹھارہ سالہ مراد اپنے کمرے کی کھڑکی پر کھڑا زمین پر گرتے برف کے گولوں کو بڑی محویت سے دیکھ رہا تھا۔سورج ابھی ابھی غروب ہوا تھا۔روڈ پر لگی سٹریٹ لائٹیں جل گئیں تھیں۔اب وہ یہ برف باری دیکھتے دیکھتے بور ہوگیا تھا۔اسی لئے کھڑکی کا پردہ لگا کر پیچھے ہٹ گیا۔اور کمرے سے باہر نکل کر کچن کی جانب جانے لگا۔پر لاؤنچ میں پہنچ کر وہ نگہت کے منہ سے احمر اور ناہید کا نام سن کر وہیں رک گیا۔نگہت اپنے شوہر بلال کے ساتھ لاؤنچ میں رکھے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔ان دونوں کی پشست مراد کی جانب تھی۔اسی لئے دونوں نے اسے دیکھا نہیں۔
“یہ احمر اور ناہید بھی سمجھ سے باہر ہیں میری ، سب بھول گئے ہیں کہ ان لوگوں نے کیا کیا تھا ان کے ساتھ”۔نگہت نے کہا۔
“اب چھوڑو بھی ، انکی مرضی ، وہ جس سے چاہیں ملنا ملانا رکھیں ، تمھیں اس سے کیا”۔بلال نے لاپرواہی سے کہا۔
“بلال بہن ہے وہ میری ، مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگتا ہے کہ وہ ان لوگوں سے ملے جلے ، انکی وجہ سے میری بہن کا میڈیکل کا لائسینس کینسل ہوگیا ، میرے بہنوئی کو جیل ہوگئی ، ساری زندگی انکے نام کے ساتھ دھبہ لگ گیا ہے”۔نگہت نے کہا۔مراد کو یہ سن کر حیرت ہوئی کہ احمر کو جیل ہوچکی ہے۔اور ناہید کا لائسنس کینسل ہوگیا ہے۔مراد نے پاس رکھی ٹیبل تھامنی چاہی پر بےدھیانی میں اسکا ہاتھ ٹیبل پر رکھے گلدان سے ٹکرا گیا اور گلدان زمین پر گرگیا۔جس سے دونوں نے چونک کر پیچھے دیکھا۔
“مراد ! تم یہاں کیا کررہے ہو بیٹا ؟۔بلال نے پوچھا۔
“خالہ ڈیڈ کو جیل کیوں ہوئی تھی ؟ اور مام کا میڈیکل کا لائسنس کیوں کینسل ہوگیا ہے؟۔مراد نے حیرانگی سے پوچھا۔نگہت اور بلال ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
“یہاں آؤ سامنے بیٹھو”۔نگہت نے بلایا۔مراد آکر انکے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔
“بیٹا دراصل بات یہ ہے کہ تمہاری پیدائش سے پہلے جس ہوسپٹل میں تمہارے مام ڈیڈ کام کرتے ہیں ناں ، وہیں کہ کچھ ڈاکٹرز انکی کامیابی دیکھ کر جلتے تھے ، جس کی وجہ سے انھوں نے احمر پر الزام لگا دیا کہ وہ ہوسپٹل کے ایک سینئر ڈاکٹر کے ساتھ مل کر لوگوں کے اعضا بچتا ہے ، جس کی وجہ سے نہ صرف دونوں کے میڈیکل کے لائسنس کینسل ہوگئے ، بلکہ احمر کو جیل بھی ہوگئی”۔نگہت نے ساری تفصیل بتائی۔
“کیا نام تھا ان ڈاکٹرز کا جنہوں نے یہ الزام لگایا تھا؟۔مراد نے پوچھا۔
“ڈاکٹر حیدر اور اسکی وائف ڈاکٹر فاریہ “۔نگہت نے بتایا۔
“اور تمہیں پتہ ہے اتنا سب ہونے کے باوجود بھی وہ دونوں ان لوگوں سے ملتے ہیں ، ابھی تک یاری دوستی ہے ان لوگوں کی آپس میں ، بیٹا تمہارے اماں ابا میری تو سنتے ہی نہیں ہیں ، تم ہی واپس جاکر سمجھانا انھیں”۔نگہت نے کہا۔
“جی ضرور خالہ”۔مراد نے کہا۔
***********************************
“یا میرے خدایا ! باجی نے یہ ساری باتیں تمھیں بتادی تھیں”۔ناہید نے مراد کی بات سن کر سر پکڑتے ہوئے کہا۔
“جی ، اور آپ کہہ رہی ہیں کہ یہ سب سچ نہیں ہے”۔مراد نے کہا۔
“نگہت باجی نے مراد سے ایسا کیوں کہا؟۔احمر نے ناسمجھی سے کہا۔
“کیونکہ میں نے انھیں ایسا کہا تھا”۔ناہید نے بتایا۔
“کیا ! تم نے ؟ پر کیوں ؟۔احمر نے حیرانگی سے پوچھا۔
“کیونکہ میں چاہتی تھی کہ میرے میکے میں میرے شوہر کی کچھ تو عزت برقرار رہے ، اسی لئے بجائے اصل بات بتانے کے ، میں نے باجی کو یہ جھوٹی کہانی سنادی تھی ، پر مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ مراد کو یہ سب بتادیں گی”۔ناہید نے بتایا۔
“اور دیکھا آپ نے ! اسی لئے میں ہمیشہ آپ سے کہتی رہتی تھی کہ مراد کو سب بتادیتے ہیں ، پر آپ نے سنی نہیں ، اچھا ہوا کہ آج ساری باتیں واضح ہوگئیں”۔ناہید نے کہا۔
“اور تمھیں یہاں سے دور لندن ہم نے اسی لئے بھیجا تھا کہ ڈاکٹر خالد کے کچھ دوسرے ساتھی اسکے جیل جانے کے بعد ہمارے دشمن ہوگئے تھے ، اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ تم انکی نظر میں آؤ ، اسی لئے تمھیں یہاں سے دور بھیج دیا ، پھر جب حالت سمبھلے تو تمھیں واپس بلالیا۔احمر نے بتایا۔دونوں ابھی بات کر ہی رہے تھے کہ مراد اٹھ کر باہر کی جانب بھاگا۔
“مراد ! کہاں جارہے ہو؟۔احمر نے آواز دی۔
“غلطی سدھارنے”۔مراد کہتا ہوا باہر بھاگا۔دونوں ناسمجھی سے ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔
***********************************
رات ہوچکی تھی۔اس سنسان سڑک پر اس وقت یہ بائیک اپنی فل سپیڈ سے دوڑ رہی تھی۔تھوڑی ہی دیر میں بائیک اس ویرانے سے گھر کے آگے رکی۔جو بہت سارے درختوں کے بیچ اکیلا کھڑا تھا۔وہ بائیک سے اتر کر جلدی سے گیٹ کی جانب آیا اور زور زور سے دستک دینے لگا۔
“کون ہے ؟۔اندر سے آواز آئی۔
“جنگلی بلی”۔اس نے کہا۔تھوڑی دیر میں دروازہ کھلا۔وہ اندر داخل ہوا۔
“کیا بات ہے ؟ تم اس وقت یہاں ؟۔بوڑھے نے پوچھا۔
“میں نے آپکو ابریش پر جو بھی عمل کرنے کا کہا تھا اسے روک دیں ، اور سب کچھ واپس پہلے جیسا کردیں”۔مراد نے التجا کی۔
“دماغ ٹھیک ہے تمہارا لڑکے ، یہ کوئی بچوں کا کھیل ہے ، جو جب جی چاہا شروع کردیا ، جب جی چاہا ختم کردیا”۔بوڑھے نے غصے سے کہا۔
“جانتا ہوں یہ کوئی کھیل نہیں ہے ، پر مجھ سے غلطی ہوگئی ہے ، پلیز یہ سب روک دیں”۔مراد نے منت کی۔
“ناممکن ، اتنے عرصے کا چلا کاٹ کر جس جن کو قابو کرکے میں نے اس لڑکی کے پاس بھیجا ہے ، اب کل صبح وہ اسکی جان لے کر ہی واپس جائے گا”۔بوڑھے نے بتایا۔مراد یہ سن کر کانپ گیا۔
“نہیں پلیز ، آپ تو اتنے بڑے عامل ہیں ، کچھ کیجئے ، اسے روکیں”۔مراد نے التجا کی۔
“اچانک تمھیں کیا ہوگیا ہے ، کل تک تو تم خود اس لڑکی کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے؟۔بوڑھے نے پوچھا۔
“ہاں ، پر کل تک ، آج مجھے پر حقیقت کا انکشاف ہوگیا ، آج مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ، آج مجھے اس سے………….اس سے پیار ہوگیا ہے ، میں اسے کھونا نہیں چاہتا”۔مراد نے کہا۔بوڑھا خاموشی سے مراد کو دیکھتا رہا۔
“پلیز کوئی راستہ کوئی حل تو ہوگا ناں ان سب کو روکنے کا”۔مراد نے زمین پر بیٹھ کر اسکے پیر پکڑتے ہوئے منت کی۔بوڑھے کو اس پر ترس آگیا۔
“ایک راستہ ہے ، پر بہت مشکل”۔بوڑھے نے کہا۔
“کتنا بھی مشکل ہو ، میں چلوں گا اس پر ، بس آپ بتائیں”۔مراد نے کھڑے ہوتے ہوئے بےتابی سے کہا۔
“آج رات زوال کے وقت ، یعنی بارہ بجے ، تمھیں اسی قبرستان جانا ہوگا ، جہاں آج سے پہلے تم میری دی ہوئی چیزیں دبا کر آئے تھے ، پھر اسی جگہ پر بیٹھ کر کچھ خاص چیزیں پڑھتے ہوئے وہی چیزیں باہر نکالنی ہوں گی ، اور کچھ خاص منتر پڑھتے ہوئے انہیں وہیں جلانا ہوگا ، تو وہ جن واپس چلا جائے گا اس لڑکی کو چھوڑ کر بنا اسکی جان لئے”۔بوڑھے نے بتایا۔
“ٹھیک ہے ، میں تیار ہوں”۔مراد نے جلدی سے کہا۔
“یہ سب سننے میں بہت آسان لگ رہا ہے ، پر کرنا بہت مشکل ہے ، تم سے پہلے بھی دو لوگوں نے اچانک ایک عمل کو روکنے کا کہا تھا ، میں نے انھیں بھی یہی حل بتایا ، پر ان میں سے ایک تو وہیں مرگیا تھا ، جبکہ دوسرا ساری زندگی کیلئے اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا ، تمہارے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے”۔بوڑھے نے بتایا۔
“مجھے اپنی جان کی کوئی پرواہ نہیں ہے ، مجھے ہر حال میں ابریش کو بچانا ہے”۔مراد نے کہا
***********************************
عفان اپنے کمرے میں بےچینی سے یہاں وہاں ٹہل رہا تھا۔اس سے بھی ابریش کی حالت نہیں دیکھی جارہی تھی۔پر اسے کوئی راستہ بھی تو نہیں مل رہا تھا ابریش کو اس مصیبت سے نکالنے کا۔وہ ایسے ہی ٹہلے جارہا تھا کہ تب ہی سائیڈ ٹیبل پر رکھا اسکا فون بجا۔اس نے آکر موبائل اٹھایا تو سکرین پر مراد کا نام لکھا ہوا تھا۔
“ہاں مراد بولو!۔عفان نے فون کان سے لگا کر کہا۔
“تھوڑی دیر کیلئے اپنے گھر کے پیچھے والے پارک میں آؤ”۔مراد نے کہا۔
“کیا ! پارک میں ! وہ بھی اس وقت ! کیوں ؟۔عفان نے حیرانگی سے پوچھا۔
“آؤ تو صحیح کچھ ضروری بات کرنی ہے”۔مراد نے کہا۔
“تو یار گھر آجاؤ ، پارک میں ملنے کی کیا تک ہے ، وہ بھی اس وقت”۔عفان نے کہا۔
“یار گھر پر بات نہیں ہوسکے گی ، تم بس جلدی یہاں آؤ ، زیادہ وقت نہیں ہے میرے پاس”۔مراد نے کہا۔
“اچھا ٹھیک ہے ، آتا ہوں”۔عفان نے کہا۔اور لائن کاٹ کر باہر کی جانب بڑھا۔
***********************************
“دماغ ٹھیک ہے ! اس وقت یہاں کیوں بلایا ہے مجھے؟۔عفان نے پوچھا۔دونوں اس وقت پارک میں ایک بینچ پر بیٹھے ہوئے تھے۔جس کے نزدیک سٹریٹ لائٹ جل رہی تھی۔
“بات ہی ایسی تھی ، اب جو کچھ بھی میں تمہیں بتانے والا ہوں ، وہ آخر تک خاموشی سے سننا”۔مراد نے کہا۔
“ہممم! بتاؤ “۔عفان نے سنجیدگی سے کہا۔
“تم جانتے ہی ہو کہ میں کافی عرصہ لندن میں رہا ہوں ، اپنی خالہ کے پاس ، اور مام ڈیڈ سے دور ، وہاں میری خالہ نے تمہاری فیملی کا میری نظر میں کچھ غلط نقشہ پیش کیا ، اور مجھے بتایا کہ تمہارے والدین اور چاچو وغیرہ کی وجہ سے میرے ڈیڈ کو جیل ہوئی اور دونوں کا میڈیکل کا لائسنس کینسل کردیا گیا ، مجھے یہ جان کر ان لوگوں پر بہت غصہ آیا ، اور میں نے دل میں عہد کیا کہ انکی وجہ سے میرے مام ڈیڈ کی برسوں کی محنت انکا کریئر برباد ہوا ہے ، اسی لئے میں بھی ان لوگوں کو چین سے نہیں رہنے دوں گا ، میں پاکستان آیا ، اور تم سب سے ملا ، مجھے اندازہ ہوگیا کہ ابریش حیدر انکل اور فاریہ آنٹی کا ویک پائنٹ ہے ، میں نے اسکو نشانہ بنایا ، اور اس پر کالا جادو جیسا ناجائز عمل شروع کروادیا ، پر شروع میں سب کچھ بہت ہلکا ہلکا رہا ، اس عمل پر کاری ضرب چاند گرہن والی رات لگی ، اور کچھ دنوں بعد ابریش پوری طرح اس کی لپیٹ میں آگئی ، وہ جو کچھ بھی کہتی تھی کہ اسے کچھ دیکھا ہے یا اسکے ساتھ کچھ ہوا ہے ، وہ سب سچ تھا ، پر کسی نے یقین نہیں کیا ، اور پھر آخر کار ابریش آج اسکی زد میں آگئی ، اور میرے پلان کے حساب سے سب کو یہی لگا کہ یہ خضر کی روح کررہی ہے”۔مراد نے بتایا۔عفان نے اتنا زور دار مکا کھنچ کر اسے مارا کر وہ منہ کے بل زمین پر جاگرا۔
“گھٹیا انسان ، یہ گری ہوئی حرکت تیری تھی”۔عفان نے اسکا گریبان پکڑ کر اسے زمین پر سے اٹھاتے ہوئے غصے میں کہا۔اور پھر پوری قوت سے ایک اور مکا مارا۔مراد کے ہونٹ اور ناک سے خون نکلنے لگا۔
“عفان میری پوری بات تو سنو”۔مراد نے خود کو چھڑاتے ہوئے کہا۔
“کیا سنوں اور ؟ کچھ چھوڑا ہے تو نے اب سننے سمجھنے کیلئے”۔عفان نے غصے سے کہا۔
“جو کچھ بھی میں نے بگاڑا ہے ، میں اسے صحیح کرنے جارہا ہوں ، جس کیلئے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے”۔مراد نے کہا۔عفان نے کچھ نہیں کہا۔
“اس رات خضر نے جو خودکشی کی ، اسکی اصل وجہ وہ نہیں ہے جو تم سب جانتے ہو”۔مراد نے بتایا۔
“تو پھر کیا تھی اصل وجہ ؟۔عفان نے پوچھا۔مراد بینچ کی جانب بڑھا اور اس پر رکھا ہینڈی کیم اٹھا کر عفان کی جانب بڑھایا۔
“اس میں ہے اصل وجہ”۔مراد نے کیمرہ اسے دیتے ہوئے کہا۔عفان نے ناسمجھی سے کیمرہ تھاما۔اور اسے کھول کر دیکھا۔
***********************************
جاری ہے
