Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan NovelR50802 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode09
Rate this Novel
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode01 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode02 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode03 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode04 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode05 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode06 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode07 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode08 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode09 (Watching)Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode10 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode11 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode12 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode13 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode14 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode15 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode16 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode17 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode18 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode19 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode20 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode21 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode22 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode23 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode24 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode25 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode26 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode27 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode28 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode29 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode30 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode31 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode32 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode33 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode34 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Last Episode
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode09
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode09
کیونکہ عفان زخمی تھا۔اسی لئے ابریش کو ڈرائیور کالج چھوڑنے آیا تھا۔اور راستے میں کار کا ٹائر پنکچر ہونے کی وجہ سے ابریش تھوڑی لیٹ ہوگئی تھی۔جیسے ہی کار کالج کے گیٹ کے باہر رکی۔ابریش فل سپیڈ سے کلاس کی جانب بھاگی۔ثاقب سر کلاس میں نہ صرف آچکے تھے۔بلکہ لیکچر بھی شروع کردیا تھا انھوں نے۔
۔”? May i come in sir ” ۔ ابریش نے پھولتی ہوئی سانسوں کے درمیان کلاس کے گیٹ پر رک کر پوچھا۔
“آپ دس منٹ لیٹ ہیں”۔سر نے گھڑی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
۔”Yes sir , i know “۔ابریش نے کہا۔
“سوری ، پر کار کا ٹائر پنکچر ہونے کی وجہ سے لیٹ ہوگئی ہوں سر ، ورنہ میں ہمیشہ ہی ٹائم پر کلاس میں ہوتی ہوں”۔ابریش نے وضاحت کی۔
“ٹھیک ہے ، آجائیں ، پر نیکسٹ ٹائم خیال رکھیے گا”۔سر نے کہا۔
“تھینک یو سر”۔ابریش کہتی ہوئی کلاس میں داخل ہوگئی۔اور اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گئی۔
۔”So Class , Lets Continue The Topic , We Are Talking About…….!۔ابریش کے بیٹھتے ہی سر نے لیکچر دوبارہ شروع کردیا۔
****************************
کلاس ختم ہونے کے بعد ابریش اب کینٹین کی جانب جارہی تھی۔
“السلام و علیکم ابریش”۔کسی نے پیچھے سے کہا۔ابریش رک کر پلٹی۔مراد پیچھے کھڑا مسکرا رہا تھا۔
“وعلیکم السلام”۔ابریش نے کہا۔
“آج اکیلی آئی ہو ، عفان نہیں آیا ، کیوں ؟۔مراد نے پوچھا۔
“ہاں وہ دراصل کل کالج سے واپسی جاتے ہوئے راستے میں ہماری کار کا ایک چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا ، تو عفان کو تھوڑی چوٹ آئی ہے ، اسی لئے وہ نہیں آیا”۔ابریش نے بتایا۔
“اوہ گاڈ ! ابھی کہاں ہے وہ ؟ ہوسپٹل میں ؟۔مراد نے تشویش سے پوچھا۔
“نہیں نہیں ، گھر پر ہی ہے ، کل ہوسپٹل سے ٹریٹمنٹ کرواکر گھر لے آئے تھے اسے”۔ابریش نے بتایا۔
“اچھا ! تو کہیں بہت زیادہ چوٹ تو نہیں آئی اسے؟۔مراد نے پوچھا۔
“نہیں ، بس سیدھے پیر پر ، اور اسٹیئرینگ سے ٹکرانے کی وجہ سے ہلکی سی سر پر چوٹ آئی ہے”۔ابریش نے بتایا۔
“اوہ ! اللّه پاک جلد ہی تندرستی دے اسے”۔مراد نے کہا۔
“امین”۔ابریش نے کہا۔
“تو تم بھی تو کل عفان کے ساتھ ہی تھی ، پر ماشاءاللّہ تم تو ٹھیک ہو!۔مراد نے کہا۔
“ہاں ، کیونکہ میں پچھلی سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی ناں ، اسی لئے میں بچ گئی”۔ابریش نے بتایا۔
“چلو اچھی بات ہے ، ٹھیک ہے پھر اب میں چلتا ہوں ، شام میں گھر آؤں گا مراد سے ملنے ، تمھیں کوئی مسلہ تو نہیں ہے ناں؟۔مراد نے پوچھا۔
“نہیں ، مجھے بھلا کیا مسلہ ہوگا؟۔ابریش نے کاندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
“ایسے ہی ، پر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے تمھیں مجھ سے ملنا ، بات کرنا اچھا نہیں لگتا”۔مراد نے کہا۔
“نہیں ، ایسا کچھ نہیں ہے ، تمہارا وہم ہوگا ، میں تو سب سے ہی ایسے ملتی ہوں”۔ابریش نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“ہاں پر خضر سے کچھ زیادہ ہی اچھے سے ملتی ہو”۔مراد نے جتاتے ہوئے انداز میں کہا۔ابریش کے ہونٹوں سے یکدم مسکراہٹ غائب ہوگئی۔
“سوری ، مذاق کررہا تھا میں ، سوری ، پلیز سیریس مت ہو”۔مراد نے جلدی سے کہا۔
“وہ دراصل عفان اکثر اسی بات پر تم سے الجھتا ہے ناں ، تو میں نے سوچا آج عفان کی کمی میں پوری کردوں”۔مراد نے شرارت کے ساتھ وضاحت کی۔
“بہت ہی بیکار مذاق تھا”۔ابریش نے سنجیدگی سے کہا۔
“اچھا ناں ، پلیز سوری ، اب دوبارہ نہیں کروں گا ، پرامس”۔مراد نے کہا۔
“ہممم! اب جاؤں میں؟۔ابریش نے پوچھا۔
“ہاں ضرور ، پھر ملاقات ہوگی”۔مراد نے کہا۔ابریش واپس کینٹین کی جانب جانے کیلئے مڑگئی۔اور مراد اسکو جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔
***********************
“ہائے ابریش”۔وہ کینٹین کے قریب پہنچی ہی تھی کہ کسی نے پکارا۔وہ رک کر پلٹی۔
“سوری ، میرا مطلب السلام و علیکم”۔خضر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“وعلیکم السلام”۔ابریش نے کہا۔
“آج آپ اکیلی ، آپکے کزن نظر نہیں آرہے خریت ہے؟۔خضر نے پوچھا۔
“دراصل کل ہمارا ایک چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا ، اس میں عفان تھوڑا زخمی ہوگیا ہے ، تو اسی لئے وہ نہیں آیا”۔ابریش نے بتایا۔
“اوہ ! اللّه پاک جلد ہی صحت دے انھیں”۔خضر نے کہا۔
“امین”۔ابریش نے کہا۔
“آپ کینٹین میں جارہی تھیں؟۔خضر نے پوچھا۔
“جی ظاہر ہے ، یہ راستہ کینٹین ہی جاتا ہے”۔ابریش نے کہا۔
“جی ، اچھا میں چلتا ہوں ، اگر کبھی کسی مدد کی ضرورت پڑے تو میں حاضر ہوں”۔خضر نے کہا۔
“جی ضرور ، شکریہ”۔ابریش نے بھی مسکرا کر کہا۔اور کینٹین میں چلی گئی۔خضر اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔
************************
“السلام و علیکم خوشی”۔ابریش نے کاؤنٹر پر آتے ہوئے کہا۔
“وعلیکم السلام ، آج اکیلی ہی آئی ہو ، عفان کہاں ہے؟۔خوشی نے کسٹمر کو ڈیل کرتے ہوئے پوچھا۔
“ارے یار ! ایسا کرتی ہوں کہ اپنے گلے میں ایک بورڈ لٹکا لیتی ہوں وجہ لکھ کر کہ عفان کالج کیوں نہیں آیا”۔ابریش نے چڑ کر کہا۔
“غصہ کیوں کررہی ہو یار ، میں نے تو بس ایک بات پوچھی ہے”۔خوشی نے کہا۔
“ارے یار جو مل رہا ہے یہی پوچھ رہا ہے کہ عفان کیوں نہیں آیا ، عفان کہاں ہے ؟۔ابریش نے بتایا۔
“ہاں تو تم دونوں ہمیشہ ساتھ ساتھ ہی رہتے ہو ناں ، اب تم اکیلی دکھو گی تو سب سوال تو کریں گے ناں”۔خوشی نے کہا۔
“ہممم! ٹھیک کہہ رہی ہو ، دراصل کل کالج سے واپسی جاتے ہوئے راستے میں ہماری کار کا ایک چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا ، تو عفان کو تھوڑی چوٹ آئی ہے ، اسی لئے وہ نہیں آیا”۔ابریش نے بتایا۔
“کیا ! ایکسیڈنٹ ! اب وہ کیسا ہے ! اور کہاں ہے ؟۔خوشی نے تشویش سے پوچھا۔
“ارے ٹھیک ہے ، گھر پر ہے ، زیادہ کوئی بڑی چوٹ نہیں آئی ہے”۔ابریش نے بتایا۔
“ہممم! اللّه پاک جلد ہی اسے صحت و تندرستی دے”۔خوشی نے کہا۔
“ہممم! امین”۔ابریش نے بھی کہا۔
“اچھا بتاؤ کیا کھاؤ گی؟۔خوشی نے کسٹمر کو ڈیل کرکے ابریش کی جانب آتے ہوئے پوچھا۔
“جو تم کھیلا دو”۔ابریش نے کہا۔
“ہائے ابریش ! آج تم اکیلی ، عفان کہاں ہے ؟۔ احتشام (کلاس فیلو) نے کاؤنٹر پر آکر پوچھا۔ابریش اور خوشی ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرادیں۔
*****************************
“بیکار سی بات ! آپ کو کسی اور میں دلچسپی ہونے لگی ہے ، آپ نے چھپ چھپ کر اس سے ملنا ، اسکے ساتھ گھومنا شروع کردیا ہے ، اور آپ کہہ رہے ہیں بیکار سی بات!۔سعدیہ نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے تلخی سے کہا۔
“فار گاڈ سیک سعدیہ ! بس بھی کرو ، ایسا کچھ نہیں ، میں کہہ چکا ، پر تم بلاوجہ بات کو بڑھائے جارہی ہو”۔طلحہ نے برہمی سے کہا۔
“جھوٹ کو بار بار دہرانے سے وہ سچ نہیں ہوجاتا طلحہ صاحب”۔سعدیہ نے تلخی سے کہا۔
“مطلب تمھیں مجھ پر بھروسہ نہیں ؟ تمھیں لگتا ہے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں؟۔طلحہ نے پوچھا۔
“مجھے لگتا نہیں ہے ، ایسا ہی ہے”۔سعدیہ نے ڈھیٹ پن سے کہا۔
طلحہ اس وقت اپنے آفس روم میں بیٹھا ہوا تھا۔اور اسکے ذہن میں کل رات سعدیہ سے ہونے والی ضد بحث کی بازگشت گونج رہی تھی۔جب سے سعدیہ کے ساتھ اسکی ضد بحث شروع ہوئی تھی۔اسکا کام میں بھی دل نہیں لگ رہا تھا۔طلحہ نے بےدلی سے پین رکھ کر فائل بند کردی۔اور کرسی کی پشست سے سر ٹکا لیا۔
“مے آئی کم ان سر؟۔سیما نے روم میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔
“یس ، کم ان”۔طلحہ نے واپس سیدھے ہوتے ہوئے کہا۔سیما روم میں آکر کرسی کھنچ کر بیٹھ گئی۔
“کیا بات ہے سر ؟ آج اتنی بڑی ڈیل سائن ہوئی ہے ، اور آپ خوش ہونے کے بجائے ، اتنے اپ سیٹ لگ رہے ہیں”۔سیما نے پوچھا۔
نہیں بس ایسے ہی ، تھوڑا سر میں درد ہے”۔طلحہ نے ٹالا۔
“کسی اچھے سے ریسٹورنٹ میں چل کر کافی پی لیں سر ، تھوڑا مائنڈ فرش ہوجائے گا”۔سیما نے مشورہ دیا۔
“ریسٹورنٹ کی وجہ سے ہی تو یہ سارا وبال کھڑا ہوا ہے”۔طلحہ نے خودکلامی کی۔
“سوری سر ، کیا کہا؟۔سیما نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“کچھ نہیں ، میں کہہ رہا تھا کہ ریسٹورنٹ جانے کی کیا ضرورت ہے ، میں یہاں ہی پی لوں گا”۔طلحہ نے کہا۔
“ٹھیک ہے ، اچھا سر آج آپکی مسٹر انیب رضا کے ساتھ اپئنٹمینٹ ہے چار بجے”۔سیما نے یاد دلایا۔
“اوہ ہاں ! میں تو بھول ہی گیا تھا ، تھینکس یاد دلانے کیلئے”۔طلحہ نے کہا۔
“ایٹس اوکے سر ، میرا تو کام ہے یہ”۔سیما نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“اچھا اب میں چلتی ہوں سر ، میں بس آپکو آج کی ڈیل کی مبارک باد دینے ، اور اپئنٹمینٹ کا یاد دلانے آئی تھی”۔سیما نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“جی ، تھینکس”۔طلحہ نے کہا۔سیما مسکرا کر چلی گئی۔اور طلحہ نے پھر فائل کھول لی۔کیونکہ ایسے بیٹھے بیٹھے سوچتے رہنے سے کوئی فائدہ تو نہیں ، البتہ نقصان ضرور ہوتا۔اسی لئے تھوڑی دیر کیلئے سب باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے طلحہ پوری زمیداری سے کام کرنے لگا۔تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
“یس کم ان”۔طلحہ نے لیپ ٹاپ پر کام کرتے ہوئے کہا۔تب ہی پیون ہاتھ میں کافی کا مگ لے کر روم میں داخل ہوا۔
“سر یہ کافی مس سیما نے آپکے لئے بھجوائی ہے”۔پیون نے بتایا۔طلحہ کو حیرت ہوئی۔
“ٹھیک ہے ، رکھ دیجئے”۔طلحہ نے میز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔پیون نے مگ میز پر رکھا اور واپس چلا گیا۔طلحہ غیرارادی طور پر میز پے رکھے دھواں اڑاتے مگ کو بغور دیکھنے لگا۔
“بے وجہ کوئی الزام لگ جائے تو کیا کیجئے”
“پھر یوں کیجئے کہ وہ جرم کر ہی لیجئے”
******************************
“السلام و علیکم دادیز”۔ابریش نے ہال میں داخل ہوکر وہاں موجود ساری خواتین کو سلام کیا۔
“وعلیکم السلام ، یہ دادیز کیا ہے؟۔فیروزہ نے جواب دیتے ہوئے پوچھا۔
“ارے سب دادیاں ایک جگہ جمع ہے ناں ، تو دادی کی جمع دادیز”۔ابریش نے شرارت سے کہا۔
“صحیح جارہی ہے یہ نئی نسل”۔ممتاز نے کہا۔
“اچھا کھانے میں کیا بنا ہے آج؟۔ابریش نے کھڑے کھڑے ہی پوچھا۔
“مٹر پلاؤ ، اور قیمہ مٹر”۔فیروزہ نے بتایا۔
“کیا ! دونوں چیزوں میں مٹر”۔ابریش نے دکھ و حیرانگی سے کہا۔
“ارے تنگ کررہی ہے تمہیں یہ ، چکن پلاؤ ، اور کباب بنے ہیں”۔شہلا نے بتایا۔
“اوہ ! اپ نے تو ڈرا ہی دیا تھا دادی ، تھینکس بڑی دادی ، میں ابھی فرش ہوکر آتی ہوں”۔ابریش نے شکر کا سانس لیتے ہوئے کہا۔اور اوپر اپنے کمرے کی جانب چلی گئی۔
“صرف شکل ہی نہیں ، پسند بھی فاریہ کی طرح ہے اسکی کھانے پینے میں”۔ممتاز نے کہا۔
“ہممم! پر عقل اور سلیقہ نہیں ہے اس جیسا”۔شہلا نے کہا۔
“ابھی تو بچی ہی ہے بھابھی ، آہستہ آہستہ وہ بھی آجائے گا”۔فیروزہ نے کہا۔
***************************
“ٹوئینکل ٹوئینکل لٹل سٹار”
“اور بھئی بندر کیسا ہے تیرا حال؟۔ابریش نے عفان کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔عفان بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے کوئی کتاب پڑھ رہا تھا۔
“ویسا ہی ہے ، جیسا دیکھ کر گئی تھی ، تم اپنا حال سناؤ ، کیسا رہا آج کا دن میرا بنا؟۔عفان نے کتاب بند کرتے ہوئے پوچھا۔
“اف ! پوچھوں مت ، اتنا مزہ آیا ناں کہ کیا بتاؤں”۔ابریش نے عفان کے پیروں کے پاس بیٹھتے ہوئے جھوٹ بولا۔
“اچھا ! ایسا کیا ہوگیا آج؟۔عفان نے پوچھا۔
“کچھ نہیں یار ، دماغ خراب کردیا تھا سب نے تیرا پوچھ پوچھ کر”۔ابریش نے سچ بتایا۔
“اچھا ! کون پوچھ رہا تھا میرا ؟۔عفان نے پوچھا۔
“کیا مطلب کون کون ! سب ہی پوچھ رہے تھے ، اور سب مطلب سب”۔ابریش نے کہا۔
“سب کا کچھ نام بھی ہوگا”۔عفان نے کہا۔
“ہاں ، مراد ، احتشام ، صبا ، کائنات ، شازیہ ، اِزنا ، فوزیہ ، مہک ، عبدل باسط ، زویا ، نمرہ ، ناصر ، نومی ، آمنہ ، ماہم”۔ابریش نے سب کے نام گنوائے۔
“ویسے ایک بات تو میں نے ابھی نوٹ کی ، لڑکیوں نے زیادہ پوچھا ہے تیرے بارے میں ، ٹھرکی”۔ابریش نے کہا۔
“بس ، صرف انہی لوگوں نے پوچھا میرا؟۔عفان نے پوچھا۔
“ہاں ، بس انہی لوگوں نے پوچھا”۔ابریش نے اپنی لٹ سے کھیلتے ہوئے کہا۔
“ارے ہاں ! پوچھا تھا ناں کسی اور نے بھی !۔اچانک ابریش نے جوش سے کہا۔
“اچھا ! کس نے ؟”۔عفان نے پوچھا۔
“خضر نے بھی پوچھا تھا”۔ابریش نے بتایا۔
“اس باگڑ بلے کو کیا ضرورت پڑی تھی!۔عفان نے منہ بناکر کہا۔
“یار کلاس فیلوز ہیں ہم ، اسی ناطے پوچھ لیا اس نے”۔ابریش نے کہا۔
“آپی ! جلدی نیچے آؤ ، نانا نانی آئے ہیں”۔ابرار نے کمرے میں داخل ہوکر پرجوش انداز میں کہا۔
“ہیں ! سچی !۔ابریش نے کھڑے ہوتے ہوئے خوشگوار حیرت سے کہا۔اور جلدی سے ابرار کے ساتھ نیچے کی جانب بھاگی۔عفان نے پھر کتاب کھول لی۔
*************************
“السلام و علیکم نانا نانی”۔ابریش نے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہوئے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام جیتی رہو ، خوش رہو”۔اسجد صاحب نے کھڑے ہوکر ابریش کو سینے سے لگاتے ہوئے کہا۔پھر ابریش اسجد صاحب سے الگ ہوکر آئمہ کے آگے جھکی۔
“وعلیکم السلام ، خوش رہو”۔آئمہ نے ابریش کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ابریش بھی وہیں ایک صوفے پر بیٹھ گئی۔ڈرائنگ روم میں پہلے سے ہی شہلا ، فیروزہ ، ممتاز ، اور فائزہ موجود تھیں ، باقی مرد حضرت تو اس وقت آفس میں تھے۔
“آج آپ لوگ اچانک یہاں !، میرا مطلب آپ لوگ اکثر تب ہی آتے ہیں ناں جب مما بابا ہوسپٹل سے واپس آجاتے ہیں”۔ابریش نے پوچھتے ہوئے کہا۔
“ہاں دراصل کل فاریہ نے تمہاری نانی کو عفان کے ایکسیڈنٹ کا بتایا تھا ، تو بس اسی کی عیادت کیلئے آئے ہیں”۔اسجد صاحب نے بتایا۔
“اوہ اچھا ! تو چلیں ، عفان کے کمرے میں چلتے ہیں پھر”۔ابریش نے کہا۔
“ارے رکو ، ابھی ابھی تو آئے ہیں یہ لوگ ، سعدیہ اور رمشا کچن میں چائے بنا رہی ہیں ، چائے وغیرہ پینے دو آرام سے ، پھر مل لیں گے ، عفان کہیں بھاگا تھوڑی جارہا ہے”۔شہلا نے کہا۔
“اچھا چلیں ٹھیک ہے ، پر آپ لوگ ابھی تو نہیں جائیں گے ناں ، رات تک جائیں گے ناں؟۔ابریش نے پوچھا۔
“نہیں بیٹا ، ہم تو بس عفان کی طبیعت پوچھنے آئے ہیں ، تھوڑی دیر تک چلے جائیں گے ہم”۔اسجد صاحب نے کہا۔
“یہ کیا بات ہوئی بھائی صاحب ، اتنی جلدی نہیں جانے دیں گے ہم ، آرام سے رات کا کھانا کھا کر جائیے گا آپ لوگ”۔فیروزہ نے کہا۔
“ہاں اور نہیں تو کیا ، مما سے بھی مل لیجئے گا”۔ابرار نے بھی کہا۔
“بلکہ میں مما کو فون کرکے بتا دیتی ہوں ، جلدی آجائیں گے وہ لوگ”۔ابریش نے کہا۔
*************************
عفان کے ایکسیڈنٹ کی خبر ملتے ہی سب کی آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا آج۔دوپہر میں پہلے اسجد اور آئمہ آئے۔پھر کچھ دیر بعد تابش اور دانش بھی فیملی کے ساتھ آئے۔اور مغرب کے بعد احمر ناہید اور مراد بھی آگئے۔عفان کی عیادت کے بہانے کافی ٹائم بعد سارے اس طرح اکھٹا ہوئے تھے۔یوں گھر میں خاصی رونق لگ گئی تھی۔اور کافی دیر تک یہ محفل جمی رہی۔
*************************
“کتنا مزہ آیا ناں آج ، اچھی خاصی رونق لگ گئی تھی گھر میں”۔ابریش نے کہا۔وہ اس وقت علیزے کے کمرے میں موجود تھی۔اور دونوں بیڈ پر بیٹھی پاپ کارن کھاتے ہوئے باتیں کررہی تھیں۔
“ہممم! عفان بھائی کی وجہ سے ہوئی تھی رونق ، انکی عیادت کے بہانے ہی یہ اچھا خاصا گیٹ ٹو گیدر ہوگیا”۔علیزے نے بھی تائید کی۔
“یہ آئیڈیا اچھا ہے ،اب جب بھی کبھی اس طرح کے گیٹ ٹو گیدر کا موڈ ہوگا ، پھر کسی کو ٹھوک دیں گے”۔ابریش نے شرارت سے کہا۔
“ویری فنی”۔علیزے نے کہا۔
“اتنی جلدی ٹائم گزر گیا ، اور ساڑھے دس بج گئے ، چلو اب سونے کی تیاری کرتے ہیں ، پھر صبح کالج بھی تو جانا ہے”۔ابریش نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا۔
“ہممم! میرا بھی کل ٹیسٹ ہے”۔علیزے نے کہا۔
“اوہ نہیں یار”۔ابریش نے سر دونوں ہاتھوں میں گراتے ہوئے کہا۔
“کیا ہوا ؟۔علیزے نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“مجھے کل ڈائگرام بناکے لے کر جانی ہے”۔ابریش نے بتایا۔
“تو جائیں بنالیں ، ابھی ٹائم ہے تو”۔علیزے نے کہا۔
“نہیں یار ، میری ڈرائینگ اچھی نہیں ہے ، اسی لئے مجھ سے یہ ڈائگرام وغیرہ نہیں بنتی”۔ابریش نے بتایا۔
“تو اس سے پہلے بھی تو بنائی ہوگی ناں کبھی نا کبھی تو!۔علیزے نے پوچھا۔
“نہیں ، اس سے پہلے بھی ہمیشہ عفان ہی بنا کر دیتا ہے ، اور آج مصروفیت میں میرے ذہن سے بالکل نکل گیا کہ مجھے عفان سے ڈائگرام بنوانی ہے”۔ابریش نے بتایا۔
“اوہ ! اور بھیا تو اب دوائی کھا کر سو گئے ہیں”۔علیزے نے بتایا۔
“اب کیا کریں گی آپ؟۔علیزے نے تاسف سے پوچھا۔
“پتہ نہیں”۔ابریش نے کہا۔
“ایسا کرو تم بنا دو”۔ابریش نے یکدم جوش سے کہا۔
“نہیں بھئی نہیں ، مجھے تو معاف ہی کریں ، میں بس اپنی ڈائگرامز بنالیتی ہوں یہی بہت ہے”۔علیزے نے صاف انکار کیا۔
“ابے یار ، اب کیا کروں”۔ابریش نے دکھ سے کہا۔
“ایک آئیڈیا ہے ، آپ ایسا کرنا کہ سر سے بولنا میں نے ڈائگرام بنائی ہے ، پر وہ بک گھر پر رہ گئی ہے”۔علیزے نے آئیڈیا دیا۔
“واہ ! میں کوئی پرائمریری کی سٹوڈنٹ نہیں ہوں جو یہ بچوں والا بہانہ چل جائے گا ، اور ویسے بھی ثاقب سر بہت سخت ہیں ان سب معاملوں میں”۔ابریش نے بتایا۔
“بس تو پھر آپ خود ہی جیسے تیسے کچھ بنا کر لے جائیں ، کم از کم نہ سے ہاں تو ہوگا”۔علیزے نے کہا۔
“ہممم! چلو تم تو سو ، کرتی ہوں میں کچھ”۔ابریش نے بیڈ پر سے اٹھتے ہوئے کہا۔
“ہممم! گڈ نائٹ ، شب بخیر ، اینڈ گڈ لک”۔علیزے نے کہا۔
“گڈ نائٹ ، شب بخیر”۔ابریش نے بھی کہا۔اور روم سے باہر آگئی۔اپنے کمرے میں جانے سے قبل ابریش عفان کے کمرے کی جانب آئی۔اس نے آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر جھناکا۔کمرے میں زیرو پاؤر کا نائٹ بلب جل رہا تھا۔اور عفان دوائیوں کی زیر اثر گہری نیند میں تھے۔ابریش نے واپس دروازہ آہستہ سے بند کیا۔اور ایک ٹھنڈی آہ بھر کر اپنے کمرے کی جانب چلی گئی۔
***************************
حسب معمول طلحہ سونے سے قبل بیڈ پر لیپ ٹاپ لے کر بیٹھا آفس کا کام کررہا تھا۔اور حسب معمول سعدیہ بچوں کے کمرے سے ہوکر آکے بنا طلحہ سے کوئی بات چیت کیے دوسری جانب کروٹ لے کر لیٹ گئی تھی۔تھوڑی دیر میں کام ختم کرکے طلحہ نے لیپ ٹاپ آف کیا اور خود بھی سونے کیلئے لیٹ گیا۔کب تب ہی سائیڈ ٹیبل پر رکھے اسکے موبائل پر میسیج کی ٹون بجی۔اس نے سائیڈ لیمپ کی روشنی میں دیوار پر لگی گھڑی پر ٹائم دیکھا تو گیارہ بج رہے تھے۔اس نے موبائل اٹھا کر میسیج چیک کیا تو سیما کا “گڈ نائٹ” میسیج آیا تھا۔یہ سیما کا تقریباً روز کا ہی معمول تھا کہ وہ طلحہ کو گڈ نائٹ اور گڈ مارننگ کے میسیجیز کرتی تھی۔پر وہ دھیان نہیں دیتا تھا اگنور کر دیتا تھا۔اس نے ایک نظر اپنے برابر میں لیٹی سعدیہ کی جانب دیکھا۔جو دوسری جانب کروٹ لئے پتہ نہیں سو رہی تھی یا جاگ رہی تھی۔پھر دوبارہ موبائل کی جانب متوجہ ہوگیا۔اور سیما کے گڈ نائٹ میسیج کا جواب دے کر موبائل واپس سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔اور آنکھیں بند کرلی۔تھوڑی دیر میں پھر میسیج ٹون بجی۔اس نے پھر میسیج چیک کیا تو سیما نے خوشگوار حیرت کا اظہار کیا تھا طلحہ کے جواب دینے پر۔طلحہ نے پھر اسکے میسیج کا جواب دیا۔اور تھوڑی دیر یہ پیغامات کا سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا۔اور بظاہر سوتی ہوئی سعدیہ کا سارا دھیان بھی بار بار بجتی میسیج ٹون پر ہی تھا۔
******************************
جاری ہے
