Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode03

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode03

“یہ رہا مراد”۔ناہید نے کہا۔
“ماشاءاللّه ! کتنے بڑے ہوگئے ہو”۔فاریہ نے خوشگوار حیرت سے کہا۔
“السلام و علیکم ، جی ، اور کوئی راستہ ہی نہیں تھا بڑے ہونے کے علاوہ”۔مراد نے شرارت سے کہا۔
“وعلیکم السلام ، چلو اچھا کیا یہ راستہ اختیار کرکے۔فاریہ نے بھی مسکراتے ہوئے کہا۔
“مما ! یہ رہی آپکی فائل ، اب میں جاؤں؟۔ابریش نے پوچھا۔
“ہاں ٹھیک ہے ، تم جاؤ”۔فاریہ نے کہا۔ابریش جلدی سے روم سے باہر نکل گئی۔پر اسے ایسا محسوس ہوا کہ کسی کی نگاہوں نے بہت نکلنے تک اسکا پیچھا کیا ہے۔
“آؤ بیٹھو ناں بیٹا”۔فاریہ نے کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
*********************
رات کے نوں بج رہے تھے۔سب ڈاکٹرز اپنی اپنی شفٹ ختم ہونے کے بعد اپنے گھروں کو روانہ ہورہے تھے۔فاریہ نے بھی اپنا موبائل وغیرہ پرس میں ڈالا۔اور باہر آگئی۔باہر آکر فاریہ سیدھی پارکنگ میں آئی۔کہ تب ہی ایک بلیک کلر کی ایک کار زن سے اسکے سامنے آکر رکی۔
“لفٹ چاہئے آپکو؟۔حیدر نے کھڑکی کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے پوچھا۔
“آپ دیں گے؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“آپ مانگیں تو صحیح ایک بار ، جان بھی دے دیں گے”۔حیدر نے کہا۔کہ تب ہی پیچھے کسی کار نے ہارن دیا۔دونوں نے مڑکر دیکھا تو پیچھے کار میں فیضان اور انعم تھے۔
“ایک تو تم ہمیشہ بیچ میں آنا”۔حیدر نے بلند آواز میں کھڑکی سے سر باہر نکال کر فیضان کو کہا۔
“ہاں تو جب آپ لوگ پبلک پلیس پر “اس طرح” کے کام کریں گے تو ایسا ہی ہوگا”۔فیضان نے بھی سر کھڑکی سے باہر نکال کر بلند آواز سے کہا۔فاریہ مسکراکر آکے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔حیدر نے کار آگے بڑھادی۔
“ہممم! اچھا اب کہاں چلیں؟۔حیدر نے پوچھا۔
“کیا مطلب کہاں چلیں ؟ گھر چلو”۔فاریہ نے کہا۔
“اتنا اچھا موسم ہورہا ہے ، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں ، کہیں سمندر پر چلتے ہیں دونوں”۔حیدر نے فاریہ کی جانب جھکتے ہوئے کہا۔
“سامنے دیکھ کر گاڑی چلاؤ ، ورنہ نا گھر جائیں گے ، نا سمندر پر جائیں گے ، سیدھا ہوسپٹل پہنچ جائیں گے دونوں”۔فاریہ نے ہاتھ سے حیدر کا چہرہ واپس ونڈو سکرین کی جانب کرتے ہوئے کہا۔
**********************
“ابریش ! سوئی نہیں تم ابھی تک؟۔فاریہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔ابریش بیڈ پر لیٹی موبائل چلا رہی تھی۔
“بس تھوڑی دیر تک سونے ہی والی تھی مما”۔ابریش نے کہا۔
“ہممم! پڑھائی کیسی جارہی ہے ، کوئی مسلہ تو نہیں ہے ناں؟۔فاریہ نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں ، اور اگر کبھی کوئی مسلہ ہوا بھی تو آپ اور بابا ہیں ناں اسے حل کرنے کیلئے”۔ابریش نے فاریہ کی گود میں سررکھتے ہوئے کہا۔
“ہممم! ایڈجسٹ ہوگئی ہو کالج میں ! میرا مطلب سمجھ میں آرہا ہے سب؟۔فاریہ نے ابریش کی بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے پوچھا۔
“جی ، سب سمجھ میں آرہا ہے ، اور اگر نہیں بھی آتا تو وہ بندر ہیں ناں”۔ابریش نے کہا۔
“بری بات ، عفان کزن ہے ناں تمہارا”۔فاریہ نے ٹوکا۔
“اچھا ناں ، مذاق کررہی تھی ، خیر یہ بتائیں کہ وہ لڑکا کون تھا جو دوپہر میں آپ سے ملنے آیا تھا آپکے روم میں؟۔ابریش نے پوچھا۔
“وہ مراد تھا ، احمر اور ناہید کا بیٹا ، کچھ دن پہلے ہی لندن سے واپس آیا ہے”۔فاریہ نے بتایا۔
“کیا کرنے گیا تھا لندن؟۔ابریش نے پوچھا۔
“پڑھنے بھیجا تھا احمر اور ناہید نے اسے ، پر پھر ناہید سے اسکی پڑھائی مکمل ہونے تک انتظار نہیں ہوا تو اسے واپس بلالیا ، اب باقی کی پڑھائی وہ یہاں ہی مکمل کرے گا ، تمہارے والے ہی کالج میں ایڈمیشن ہوگیا ہے اسکا”۔فاریہ نے بتایا۔
“کب گیا تھا پڑھنے؟۔ابریش نے پوچھا۔
“شاید دس گیارہ سال کی عمر میں”۔فاریہ نے بتایا۔
“اتنے سے بچے کو اکیلے اتنی دور بھیج دیا تھا احمر انکل نے!۔ابریش نے حیرانگی سے کہا۔
“ارے اپنی خالہ کے پاس تھا وہاں”۔فاریہ نے بتایا۔
“اوہ ! تو وہ آپکو کیسے جانتا ہے ؟ اور آپ اسکو کیسے جانتی ہیں؟۔ابریش نے پوچھا۔
“جانے سے قبل ایک دو بار ملے تھے ہم اس سے ، بلکہ ہمارے گھر بھی آیا تھا وہ ، اور پھر اکثر ناہید سے ویڈیو کال پر بھی بات کرتے ہوئے دیکھا ہے”۔فاریہ نے بتایا۔
“مجھے تو نہیں یاد آرہا کہ وہ کب آیا ہے ہمارے گھر”۔ابریش نے کہا۔
“تمھیں تو یہی یاد نہیں ہوتا کہ کل کھانے میں تم نے کیا کھایا تھا ، میری تو سمجھ میں نہیں ہے کہ پتہ نہیں تم ڈاکٹر کیسے بنوگی!۔فاریہ نے کہا۔
“اب ایسا بھی نہیں ہے ، میٹرک میں ٹاپ کیا تھا میں نے پورے اسکول میں ، اور آگے بھی آپ دیکھئے گا سب اچھا ہی ہوگا ان شاءاللّه”۔ابریش نے پرعزم لہجے میں کہا۔
“امین”۔فاریہ نے کہا۔
********************
رات کے بارہ بجنے میں بس ایک منٹ باقی تھا۔طلحہ (جاوید کا بیٹا) بیڈ پر لیپ ٹاپ لے کر بیٹھا ہوا بظاہر تو آفس کا کام کررہا تھا۔پر اسکا سارا دھیان گھڑی اور سعدیہ کی جانب تھا۔سعدیہ بھی بیڈ پر طلحہ کے برابر میں ہی بیٹھی کسی سے فون پر بات کررہی تھی۔
“ٹھیک ہے کومل ، پھر تم کل بھیج دینا ٹیوٹر کو ، میں مل لوں گی ، اگر ٹھیک لگا تو کل سے ہی کہہ دوں گی کہ جوائن کرلیں ، بچوں کے امتحان نزدیک ہی ہیں”۔سعدیہ نے کہا۔
“ہاں ، اوکے ، الله حافظ”۔سعدیہ نے کہا۔اور موبائل کان سے ہٹاکر لائن کاٹ دی۔
“کس سے بات کررہی رہی تھی؟۔طلحہ نے لیپ ٹاپ پر کام کرتے ہوئے پوچھا۔
“کومل تھی ، میری کالج فرینڈ ، اسکے بچے بھی ہمارے بچوں کے ساتھ ہی پڑھتے ہیں ، پچھلے سال اسکے بچوں کا کافی اچھا رزلٹ آیا تھا ، تو میں سوچ رہی تھی کہ ہم بھی اپنے بچوں کیلئے اسی ٹیوٹر کو ہائر کرلیں ، بس اسی سلسلے میں بات کررہی تھی”۔سعدیہ نے تفصیل بتائی۔کہ تب ہی دیوار پر لگی گھڑی سے یکدم “ٹنگ” کی آواز آئی۔دونوں نے گھڑی کی جانب دیکھا۔بارہ بج چکے تھے۔طلحہ نے کن انکھیوں سے سعدیہ کی جانب دیکھا۔کہ شاید وہ کوئی رد عمل دے۔پر سعدیہ لیٹ کر کمبل اوڑھ چکی تھی۔
“تمہیں یاد ہے آج کیا ہے؟۔طلحہ نے ایک آس سے پوچھا۔
“آج ! پیر تھا ، اب منگل شروع ہوگیا ہے ، کیوں؟۔سعدیہ نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“ارے آج تاریخ کیا ہے؟۔طلحہ نے دوبارہ پوچھا۔
“آج تاریخ”۔سعدیہ نے پرسوچ لہجے میں کہا۔اور سائیڈ ٹیبل پر رکھا اپنا موبائل اٹھایا۔
“آج چھے مئی ہے”۔سعدیہ نے موبائل میں تاریخ دیکھتے ہوئے کہا۔
“تو ! پھر یاد آیا کہ آج کیا ہے؟۔طلحہ نے پھر ایک امید سے پوچھا۔
“ارے ہاں ! یاد آیا”۔سعدیہ نے یکدم جوش سے کہا۔طلحہ کو کچھ امید ملی۔
“آج حذیفہ اور مسکان کے اسکول میں پیرنٹس ٹیچر میٹنگ ہے”۔سعدیہ نے بتایا۔طلحہ کی آنکھوں میں جلتے امید کے دیے یکدم ماند پڑگئے۔
“تھینک یو طلحہ آپ نے یاد دلا دیا ، میں تو بھول ہی گئی تھی ، اور یہ دونوں بھی مجھے کبھی نہیں بتاتے ، آپ پلیز صبح آفس جانے سے پہلے میرے ساتھ بچوں کے اسکول چلنا”۔سعدیہ نے کہا۔طلحہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔اور لیپ ٹاپ آف کرنے لگا۔
“میں آپ سے کہہ رہی ہوں طلحہ”۔سعدیہ نے جواب نا پاکر کہا۔
“مجھے کل آفس میں ضروری کام ہے ، جلدی جانا ہے ، تم چلی جانا”۔طلحہ نے لیٹ کر کمبل اوڑھتے ہوئے کہا۔
“پر تھوڑی دیر کی تو بات ہے”۔سعدیہ نے کہا۔
“میں نے کہا ناں ، اب لائٹ بند کردو ، سونا ہے مجھے”۔طلحہ نے دوسری جانب کروٹ لیتے ہوئے کہا۔سعدیہ کچھ دیر تو ناسمجھی سے طلحہ کی پشست کو دیکھتی رہی۔پھر کاندھے اچکاکر سائیڈ لیمپ آف کردیے۔اور خود بھی دوسری جانب کروٹ لے کر سوگئی۔
***********************
کچھ سٹوڈنٹس کلاس میں آچکے تھے۔اور کچھ بھاگتے دوڑتے آرہے تھے۔سر ابھی تک کلاس میں نہیں آئے تھے۔اس لئے یہ کلاس کم اور مچھلی بازار زیادہ لگ رہا تھا۔
“یار تمہاری ڈائگرام کتنی اچھی بنی ہے”۔ابریش نے عفان کے ریجسٹر کو دیکھتے ہوئے ستائشی لہجے میں کہا۔دونوں کلاس میں اپنی جگہ پر موجود تھے۔
“بس ! کبھی غرور نہیں کیا اپنے ٹیلینٹ پر”۔عفان نے مصنوئی اکڑ سے کہا۔
“اس معذور سی شکل پر غرور بنتا بھی نہیں ہے”۔ابریش نے کہا۔
“اچھا ! معذور ! اب تم آنا اپنی کوئی ڈائگرام بنوانے”۔عفان نے برہمی سے کہا۔
“اچھا ناں مذاق کررہی تھی ، تو دل پر لے جاتا ہے یار فوراً”۔ابریش نے عفان کے گال کھنچتے ہوئے کہا۔کہ تب ہی سر کلاس میں داخل ہوئے۔اور سب انسان کے بچے بن کر تمیز سے بیٹھ گئے۔
“گڈ مارننگ سر”۔سب نے یک زبان کہا۔سر کے ساتھ دو نئے لڑکے بھی تھے۔جنہوں نے کاندھے پر بیگ ڈالے ہوئے تھے۔جن میں سے ایک کو تو ابریش پہلی نظر میں ہی پہچان گئی تھی۔
“گڈ مارننگ کلاس ، کلاس یہ ہیں آپکے نئی ساتھی ، یہ ہیں مسٹر مراد احمر ، اور یہ ہیں مسٹر خضر احسان ، آج انکا یہاں فرسٹ ڈے ہے ، تو اب آپ لوگوں کی زمیداری ہے کہ ان سے بھی فرینڈ شپ کریں اور انکی بھی ہیلپ کریں ، اوکے ! انڈرسٹینڈ !۔سر نے کہتے ہوئے تائید چاہی۔
۔”Yes Sir”۔سب نے یک زبان کہا۔
۔”Good ! Murad And Khizar, Now You Can Go And Sit”۔سر نے دونوں سے کہا۔دونوں سرہلاتے ہوئے سیٹس کی جانب آگئے۔خضر ابریش اور عفان کی برابر والی رو میں سے ایک ڈیکس پر بیٹھ گیا۔جس پر پہلے سے صرف ایک لڑکی بیٹھی ہوئی تھی۔اور مراد ان دونوں کے پیچھے والی ڈیکس پر بیٹھ گیا۔جس پر پہلے سے صرف ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا۔ان دونوں کے بیٹھنے کے بعد سر نے پڑھائی کا آغاز کردیا۔
*********************
طلحہ اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹا ہوا تقریباً نیندوں میں ہی تھا۔کہ تب ہی اسکا فون بجا۔وہ ہڑبڑا کر اٹھ گیا۔اور فون اٹھا کر دیکھا۔سکرین پر سعدیہ کا نام لکھا ہوا تھا۔اس نے گھڑی کی جانب دیکھا۔بارہ بج رہے تھے۔اس نے ناسمجھی سے فون ریسو کرکے کان سے لگایا۔
“ہیلو ! سعدیہ، اس وقت کیوں فون کیا ! سب خریت ہے؟۔طلحہ نے پوچھا۔
“ہاں ہاں خیریت ہے ، جلدی سے تھوڑی دیر کیلئے سٹور میں آؤ”۔سعدیہ نے کہا۔
“کیا ! سٹور میں ! وہ بھی اس وقت ! تمہارا دماغ ٹھیک ہے؟۔طلحہ نے حیرانگی سے کہا۔
“ارے زیادہ سوال مت کرو ، بس جلدی سے آؤ تو صحیح”۔سعدیہ نے کہا۔
“اچھا ! آتا ہوں”۔طلحہ نے کہا۔اور فون رکھ کر کمرے سے باہر نکلا۔اور ہال سے ہوتا ہوا سٹور کی جانب جانے لگا۔ہال کی لائٹیں بند تھیں۔بس کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے فانوسوں کے جلنے سے ہلکی ہلکی روشنی ہورہی تھی۔وہ ہال عبور کرکے سٹور میں آیا۔سٹوری میں کوئی نہیں تھا۔بس وہاں رکھی میز پر ایک چھوٹا سا کیک رکھا ہوا تھا۔جس پر موم بتیاں جل رہی تھیں۔
۔”Happy Birthday Dear Husband”۔طلحہ کے عقب سے آواز ابھری۔اس نے پلٹ کر دیکھا تو پیچھے سعدیہ کھڑی ہوئی تھی۔
“اوہ ! تمھیں یاد تھا!۔طلحہ نے سب سمجھتے ہوئے خوشگوار حیرت سے کہا۔
“ظاہر ہے ، اور اسی لئے تو آج میں یہاں رکی تھی کہ تمہیں وش کرپاؤں”۔سعدیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“پر اس سے پہلے بھی میری کتنی سالگرہ گزری ہیں ، تب تو کبھی ایسا نہیں کیا تم نے!۔سعدیہ نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے پوچھا۔
“تب کی بات اور تھی ، اب ہمارا نکاح ہوگیا ہے ، تو اب کی بات اور ہے”۔سعدیہ نے کہا۔
“اچھا ! تو یہ اسپیشل پرٹوکول کیا رخصتی کے بعد بھی ملے گا ؟ یا پھر یہ آفر محدود مدت کیلئے ہے؟۔طلحہ نے شرارت سے پوچھا۔
“اسکی کوئی آخری مدت نہیں ہے ، یہ لامحدود آفر ہے”۔سعدیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“سچی!۔طلحہ نے پوچھا۔
“مچی”۔سعدیہ نے کہا۔طلحہ مسکرانے لگا۔
“گڈ مارننگ سر”۔اچانک ایک نسوانی آواز آئی۔طلحہ نے یکدم خیالوں کی دنیا سے چونک کر آنکھیں کھولی۔سامنے ہی اسکی سیکریٹی سیما ہاتھ میں رنگ برنگی پھولوں کا گلدستہ لئے کھڑی تھی۔
“گڈ مارننگ”۔طلحہ نے سیدھے ہوتے ہوئے کہا۔کیونکہ وہ آنکھیں بند کیے کرسی پر جھولتے ہوئے گزرے دنوں میں کھویا ہوا تھا۔
“یہ آپ کیلئے سر ، ہیپی برتھ ڈے”۔سیما نے قریب آکر گلدستہ اس کی جانب بڑھاتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
“کیا ! میرے لئے ! پر آپکو کیسے پتہ چلا کہ آج میرا برتھ ڈے ہے؟۔طلحہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
“فیس بک سے سر”۔سیما نے بتایا۔
“اوہ ! تھینک یو ، اینڈ پلیز سٹ”۔طلحہ نے گلدستہ لیتے ہوئے کہا۔
“موسٹ ویلکوم سر”۔سیما نے کرسی کھنچ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“اچھا آج ہونے والی میٹنگ کی سب تیاریاں مکمل ہیں ناں؟۔طلحہ نے پوچھا۔
************************
“کینٹین میں چل کر کچھ کھانا ہے ! یا چیزیں لے کر گراؤنڈ میں چلنا ہے؟۔عفان نے کینٹین کی جانب جاتے ہوئے پوچھا۔
“کینٹین میں تو رش ہوگا ، گراؤنڈ میں چلتے ہیں”۔ابریش نے بھی ساتھ چلتے ہوئے کہا۔
“ایکسکیوزمی عفان!۔دونوں کے عقب سے ایک نسوانی آواز ابھری۔دونوں رک کر پلٹے۔پیچھے انکی کلاس فیلو کائنات کھڑی تھی۔
“جی !۔عفان نے پوچھا۔
“مجھے آپکو تھینک یو کہنا تھا”۔کائنات نے قریب آتے ہوئے کہا۔
“تھینک یو ! پر کس لئے؟۔عفان نے پوچھا۔
“وہ آپ نے مجھے اتنی اچھی ڈائگرام جو بنا کر دی ہے ، اسکے لئے بہت بہت تھینکس”۔کائنات نے بتایا۔ابریش معنی خیزی سے عفان کو گھورنے لگی۔
“ارے یہ کوئی اتنی بڑی بات تھوڑی ہے ، کلاس فیلوز میں تو یہ سب چلتا رہتا ہے”۔عفان نے اپنے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔
“نہیں ، کسی بھی کلاس فیلو نے میری اتنی ہیلپ نہیں کی ، جتنی آپ کرتے ہیں ، آپ بہت اچھے ہیں”۔کائنات نے کہا۔عفان نے صرف مسکرانے پر اتفاق کیا۔جبکہ دل ہی دل میں اسے کائنات پر اس وقت بہت غصہ آرہا تھا۔کہ اس نے ابریش کے سامنے ایسی باتیں کرنے کی کیا ضرورت تھی۔
“آپ لوگ کہاں کینٹین جارہے تھے ! میں بھی جوائن کروں آپ لوگوں کو؟۔کائنات نے پوچھا۔
“نہیں نہیں ، ہم کینٹین نہیں جارہے ، ہم تو لائبریری جارہے تھے”۔عفان نے جلدی سے کہا۔
“اوہ ! چلیں آپ لوگ جائیں ، پھر ملاقات ہوگی”۔کائنات نے کہا۔
“اللّه نہ کرے”۔عفان نے خودکلامی کی۔
“سوری ! کیا کہا آپ نے؟۔کائنات نے پوچھا۔
“جی ضرور ملاقات ہوگی ، اچھا الله حافظ”۔عفان نے کہا۔اور کائنات مسکراکر آگے بڑھی گئی۔ابریش ہنوز سینے پر ہاتھ باندھے ہوئے عفان کو گہری نظروں سے گھور رہی تھی۔وہ نظریں چراکر یہاں وہاں دیکھنے لگا۔
“اچھا ! میری ایک چھوٹی سی ڈائگرام بنانے میں تو جان نکلتی ہے تمہاری ، اور یہاں تم نے خدمتِ خلق کی مہم شروع کی ہوئی ہے!۔ابریش نے عفان کا رخ اپنی جانب کرتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا۔
“نہیں ، بس وہ تو ایسے ہی ، بیچاری کی کوئی ہیلپ نہیں کررہا تھا تو ، میں نے کردی”۔عفان نے کاندھے اچکاکر کھسانی ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔
“السلام و علیکم”۔اچانک ایک مردانہ آواز ابھری۔دونوں نے پلٹ کر دیکھا تو پیچھے مراد کھڑا ہوا تھا۔
“وعلیکم السلام”۔عفان نے جواب دیا۔
“کیسے ہیں آپ دونوں؟۔مراد نے پوچھا۔
“جیسے نظر آرہے ہیں ، پر آپ کون؟۔عفان نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“میں مراد ہوں عفان ، آپکا نیو کلاس فیلو ، سر نے بتایا تھا ناں”۔مراد نے بتایا۔
“آپکو میرا نام کیسے پتہ ؟۔عفان نے حیرانگی سے کہا۔
“مجھے تو آپکے پاپا کا نام بھی پتہ ہے ، ڈاکٹر فیضان علی خان”۔مراد نے مسکراتے ہوئے کہا۔عفان مزید حیران ہوگیا۔
“سلام کا جواب ہر مسلمان پر فرض ہے ، پر آپ نے ابھی تک میرے سلام کا جواب نہیں دیا ابریش”۔مراد نے کہا۔
“آپ ان کو بھی جانتے ہیں!۔عفان نے حیرانگی سے کہا۔
“وعلیکم السلام ، چلیں عفان ، ہمیں لائبریری جانا تھا ناں!۔ابریش نے جواب دیتے ہوئے عفان سے کہا۔اور بنا عفان یا مراد کا جواب سنے اسے کھنچتے ہوئے وہاں سے لے گئی۔مراد مسکرادیا۔
*******************
“کون تھا یہ عجیب سا انسان ، سب جانتا ہے ہمارے بارے میں”۔عفان نے پوچھا۔دونوں لائبریری میں بک شیلف کے پاس کھڑے بلاوجہ کتابیں دیکھتے ہوئے سرگوشیوں میں باتیں کررہے تھے۔
“احمر انکل کا بیٹا ہے ، کچھ دن پہلے ہی لندن سے آیا ہے”۔ابریش نے سرگوشی میں بتایا۔
“تو یہاں کیا کررہا ہے؟۔عفان نے پوچھا۔
“جوتے سینے کا ہنر سیکھنے آیا ہے یہاں ، دماغ خراب ہے کیا ، کالج پڑھنے آتے ہیں ناں سب”۔ابریش نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
“ارے تو لوگ پاکستان سے لندن ، امریکہ جاتے ہیں پڑھنے کیلئے ، یہ پاگل لندن سے پاکستان آیا ہے”۔عفان نے کہا۔
“میں نے نہیں بلایا اسے جو تم مجھ سے پوچھ گچھ کررہے ہو ، خود پوچھ لو اس سے اگر اتنا ہی تجسس ہورہا ہے تو”۔ابریش نے چڑ کر کہا۔
“ویسے تمھیں اسکے بارے میں اتنی جانکاری کہاں سے ملی؟۔عفان نے پوچھا۔
“مما نے بتایا ہے”۔ابریش نے کہا۔
“ہممم! پر تمھیں اس طرح سے وہاں سے آنا نہیں چاہئے تھا ، کیا سوچ رہا ہوگا وہ”۔عفان نے کہا۔
“اچھا ! اگر اتنا ہی برا لگ رہا ہے تو جاؤ جاکر دوبارہ مل لو ، وہیں کہیں ہوگا”۔ابریش نے چڑ کر کہا۔اور تیزی سے لائبریری سے باہر جانے لگی۔عفان بھی اسکے پیچھے آیا۔ابریش جیسے ہی لائبریری سے باہر نکلی۔تو اندر کی جانب آنے والے سے ٹکرا گئی۔ٹکرانے والا خضر تھا۔نتیجے میں خضر کے ہاتھ میں پکڑی کتابیں زمین بوس ہوگئیں۔
۔”Oh! I’m Very Very Sorry”۔خضر نے جلدی سے معذرت کی۔عفان بھی وہاں آچکا تھا۔
“نہیں ، سوری تو مجھے بولنا چاہئے ، غلطی میری بھی تھی”۔ابریش نے نیچے جھک کر کتابیں اٹھاتے ہوئے کہا۔خضر بھی نیچے جھک کر کتابیں اٹھانے لگا۔ابریش نے کتابیں سمیٹ کر خضر کی جانب بڑھائی۔
“تھینک یو”۔خضر نے کتابیں لیتے ہوئے کہا۔دونوں اب واپس کھڑے ہوچکے تھے۔
“ویلکم”۔ابریش نے کہا۔اور فوراً نظریں پھیرلی۔خضر لائبریری میں چلا گیا۔ابریش کو اسکی آنکھیں بہت عجیب سی لگیں۔
“کیا ہوا تھا؟۔عفان نے پوچھا۔
“بے دھیانی میں ٹکرا گئی تھی میں اُس سے”۔ابریش نے بتایا۔
“آنکھیں کتنی عجیب سی تھیں اسکی”۔عفان نے کہا۔
“ہممم! بلی کی طرح”۔ابریش نے بھی تائید کی۔
“بلی کی طرح نہیں ، بلے کی طرح ، وہ نر ہے ، مادہ نہیں”۔عفان نے کہا۔
“جو بھی ہے ، ہمیں کیا”۔ابریش نے لاپرواہی سے کہا۔اور دونوں آگے بڑھ گئے۔
********************
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *