Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode32

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode32

اگلے دن کیونکہ اتوار تھا۔اسی لئے سب گھر پر تھے۔عورتیں تو کچن میں ہی مصروف تھیں۔باقی مردوں نے بھی کوئی نہ کوئی مصروفیت ڈھونڈی ہوئی تھی۔باقی بچوں کو مصروف رہنے کیلئے کسی مصروفیت کی ضروت نہیں ہوتی۔
“یہاں ہال میں کون ہے؟۔رمشا نے کچن سے آواز دی۔
“میں ہوں پھوپھو ، کوئی کام ہے ؟۔عفان نے ٹی وی دیکھتے ہوئے کہا۔
“ہاں ، یہاں آؤ”۔رمشا نے کہا۔عفان اٹھ کر کچن میں آیا۔
“یہ چائے ذرا فیضان بھیا کو دے آؤ”۔رمشا نے چائے کا کپ عفان کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
“کتنی چائے پیتے ہیں پاپا ، ابھی تھوڑی دیر پہلے تو ناشتے میں پی تھی”۔عفان نے کپ لیتے ہوئے کہا۔اور فیضان کے کمرے کی جانب آیا۔دستک دے کر وہ اندر داخل ہوا تو فیضان سامنے صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ چلا رہا تھا۔
“پاپا یہ لیجئے چائے”۔عفان نے کپ میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
“ہممم! تھینک یو”۔فیضان نے کہا۔وہ کپ رکھ کر جانے لگا۔
“عفان بات سنو”۔فیضان نے پکارا۔
“جی پاپا ؟۔عفان نے رک کر پوچھا۔
“بیٹھو ذرا یہاں”۔فیضان نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے کہا۔وہ سامنے صوفے پر آکر بیٹھ گیا۔
“تم اتنے عرصے سے خوشی کو پسند کرتے تھے تو بتایا کیوں نہیں ؟۔فیضان نے پوچھا۔
“پاپا ! مجھے لگا کہ وہ اسٹیٹس میں ہمارے برابر نہیں ہے ، شاید آپ لوگ نہیں مانیں گے ، اسی لئے نہیں بتایا”۔عفان نے میز کی سطح پر انگلی پھیرتے ہوئے نظریں جھکا کر کہا۔
“ایک بار بات تو کرتے بیٹا”۔فیضان نے کہا۔اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“اچھا خوشی کو بھی تم نے اس بارے میں کبھی کوئی اشارہ نہیں دیا تھا ؟۔فیضان نے پوچھا۔
“نہیں”۔اس نے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا۔
“کیوں ؟۔فیضان نے پوچھا۔
************************************
عفان کیونکہ فیضان کے کمرے میں تھا۔اسی لئے ٹی وی کے ریموٹ پر علیزے نے قبضہ کرلیا تھا۔جبکہ سب کے اپنے اپنے کمروں میں ٹی وی تھا۔پر ہال والے ٹی وی پر لڑائی کرنا ان میں سے اکثر کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔جن میں علیزے ، عفان ، ابریش اور ابرار سر فہرست تھے۔علیزے نے اپنا فیورٹ ڈرامہ لگالیا۔انعم اور فاریہ بھی وہیں صوفے پر بیٹھی ہوئی سبزیاں کاٹ رہی تھی۔کیونکہ ملازم ہونے کے باوجود گھر کا زیادہ تر کام گھر کے فرد ہی کرتے تھے۔اور چھٹی والے دن انعم ، فاریہ اور مومنہ خاص طور پر گھر کے کاموں میں حصہ لیتی تھیں۔علیزے ڈرامہ دیکھنے میں مصروف تھی کہ تب ہی ابرار نے آکر میز پر سے ریموٹ اٹھالیا۔
“خبردار ! اگر تو نے چینل چینج کیا تو منہ توڑ دوں گی میں تیرا ، دفع ہو یہاں سے ، اپنے کمرے میں جاکر دیکھ جو دیکھنا ہے”۔علیزے نے ریموٹ چھینتے ہوئے کہا۔
“علیزے ! یہ کس طرح بات کررہی ہو ؟ اب تم ابرار سے ایسے “تو تڑاک” کرکے بات نہیں کرسکتی ، “آپ جناب” سے بات کیا کرو”۔انعم نے سختی سے کہا۔
“ٹھیک ہے ممی ، خبردار ! اگر آپ نے چینل چینج کیا تو منہ توڑ دوں گی میں آپکا ، دفع ہوجائیں یہاں سے ، اب ٹھیک ہے ممی؟”۔علیزے نے کہتے ہوئے تائید چاہی۔اور ناچاہتے ہوئے بھی وہاں بیٹھی فاریہ کو ہنسی آگئی۔
“رہنے دیں چچی ، اس نے نہیں سدھرنا ، ویسے لاکٹ اچھا لگ رہا ہے آپکا”۔ابرار نے انعم سے کہتے ہوئے آخری جملہ شرارت سے کو کہا۔اور واپس چلا گیا۔
************************************
منگنی کے الگے دن اتوار تھا۔اسی لئے ان لوگوں کی ملاقات نہیں ہوئی۔پھر پیر کو چاروں ہوسپٹل میں ملے۔آج سب سٹوڈنٹس کا پریکٹیکل تھا۔اسی لئے سب ہوسپٹل آئے ہوئے تھے۔ابھی ان لوگوں کا پریکٹیکل شروع نہیں ہوا تھا۔اسی لئے سب کھانے پینے اور گپیں لڑانے میں لگے ہوئے تھے۔ابریش ہوسپٹل کی کینٹین میں جوس لینے آئی تھی۔وہ جوس لے کر پلٹی تو اس کی نظر ایک نوں دس سالہ بچے پر پڑی۔جو کینٹین میں رکھی کھانے پینے کی چیزوں کو بڑی حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ابریش کو اس پر ترس آگیا۔وہ بچے کی پاس آئی۔
“کیا ہوا بیٹا ؟ بھوک لگی ہے کیا؟۔ابریش نے نرمی سے پوچھا۔
“جی بہت زور سے”۔بچے نے کہا۔
“اچھا رکو ، میں کچھ لاتی ہوں کھانے کیلئے”۔ابریش نے کہا۔اور واپس کاؤنٹر پر آکر بچے کیلئے ایک سینڈوچ لیا اور بچے کو لاکر دے دیا۔بچہ سینڈوچ لیتے ہی اس پر ٹوٹ پڑا۔ابریش مسکرا کر کینٹین سے باہر آگئی۔
“کہاں جارہی ہو؟۔مراد نے پوچھا۔
“واپس عفان اور خوشی کی جانب ، کیوں ؟۔ابریش نے بتاتے ہوئے پوچھا۔
“میں بھی وہیں تھا ، پر پھر سوچا کہ تھوڑی دیر کیلئے دونوں کو اکیلا چھوڑ دوں”۔مراد نے بتایا۔
“اوہ ہاں ! چلو تھوڑی دیر بعد چلیں گے واپس”۔ابریش نے کہا۔اور دونوں کینٹین کے قریب لگی بینچ پر بیٹھ گئے۔
“ویسے بہت خوش ہیں ناں دونوں ایک ساتھ”۔ابریش نے کہا۔اور جوس پینے لگی۔
“ظاہر سی بات ہے ، انسان جو چاہتا ہے ، جب وہ اسے مل جائے تو وہ خوش ہی ہوتا ہے”۔مراد نے کہا۔
“ہممم! اللّه کرے ایسے ہی خوش رہیں ، بیچاری خوشی نے بھی بہت پریشانیاں دیکھی ہیں”۔ابریش نے کہا۔
“امین ! اچھا کیا تم خوش ہو ؟۔مراد نے پوچھا۔
“ظاہر سی بات ہے ، انسان جو چاہتا ہے ، جب وہ اسے مل جائے تو وہ خوش ہی ہوتا ہے”۔ابریش نے اسے اسی کا جملہ لوٹایا۔مراد نے کچھ نہیں کہا۔بس خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔اچانک مراد بینچ سے اٹھا اور گھٹنوں کل بل ابریش کے پیروں کے پاس بیٹھ گیا۔وہ حیران ہوگئی۔
“ایم سوری ابریش ، مجھے معاف کردینا”۔مراد نے کہا۔
“مراد ! کیا ہوگیا ہے ؟ کس بات کی معافی مانگ رہے ہو اچانک ، اٹھو سب دیکھیں گے تو کیا سوچیں گے”۔ابریش نے کہا۔
“لوگوں کو چھوڑو ، بس پلیز تم مجھے معاف کردینا”۔مراد نے ابریش کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے کردوں گی ، پر پہلے غلطی تو بتاؤ”۔ابریش نے کہا۔
“اگر مستقبل میں کبھی مجھ سے کوئی غلطی ہوجائے تو اسکے لئے”۔مراد نے بات بنائی۔
“اففو ! مراد ، تم بھی ناں قسم سے حد کرتے ہو”۔ابریش نے کہا۔
“میں وعدہ کرتا ہوں کہ مستقبل میں تمھیں میری ذات سے کوئی دکھ نہیں پہنچے گا ، پر اگر کبھی ایسا ہوگیا کہ میں تمہاری کسی تکلیف کا سبب بنا ، تو تم مجھے معاف کردو گی ناں ؟۔مراد نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“ہاں کردوں گی ، اور پتہ ہے کیوں معاف کردوں گی؟۔ابریش نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“کیوں ؟۔مراد نے پوچھا۔
“کیونکہ
“پتھر کبھی گلاب نہیں ہوتے”
“کورے کاغذ کتاب نہیں ہوتے”
“جو ہوجائے یار سے کوئی غلطی”
“تو پیار میں یار سے حساب نہیں ہوتے”
ابریش نے مسکراتے ہوئے کہا۔
************************************
“ایک بات پوچھوں ؟۔خوشی نے پوچھا۔دونوں اس وقت کوریڈور میں لائن سے لگی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔آس پاس کوئی نہیں تھا۔
“ہممم! پوچھو”۔عفان نے کہا۔
“تمہارے اور میرے اسٹیٹس میں بہت فرق ہے ، پھر بھی تم مجھ سے……..!۔خوشی نے اپنی انگلیوں سے کھیلتے ہوئے دانستہ طور پر بات ادھوری چھوڑ دی۔
“ہاں ! پھر بھی میں تم سے پیار کرتا ہوں ، کیونکہ پیار ، اسٹیٹس ، ذات ، برادری ، ہائیٹ ، ویٹ ، کلر دیکھ کر نہیں کیا جاتا ، یہ تو خودبخود ہوجاتا ہے”۔عفان نے کہا۔
“اگر ایسا تھا ، تو تم نے پہلے کبھی بتایا کیوں نہیں ؟۔خوشی نے پوچھا۔
“کیونکہ میں اگر تمھیں کوئی اشارہ دے کر ، کوئی آس دلا کر اس راستے پر لے آتا ، اور بعد میں جب میرے گھر والے نہیں مانتے ، تو مجھے تمھیں بیچ راستے میں ہی تنہا چھوڑنا پڑتا ، میں اپنے گھر والوں سے بغاوت بھی نہیں کرنا چاہتا تھا ، اور تمھیں بھی بیچ راہ میں لاکر نہیں چھوڑنا چاہتا تھا ، اسی لئے میں نے یہ جذبات بس خود تک ہی محدود کرلئے ، کیونکہ بھلے ہی محبت کرنا ہمارے بس میں نہیں ہوتا ، پر اس محبت پر قابو پانا ، اس خود تک محدود رکھنا ہمارے بس میں ہوتا ہے ، تو میں نے بھی خود پر قابو کرلیا ، اور بجائے تمھیں بھی اس آگ میں جلانے کے ، میں نے یک طرفہ آگ میں جلنا مناسب سمجھا ، جس سے کسی کو نقصان نہیں ہوتا”۔عفان نے بتایا۔خوشی نے کچھ نہیں کہا۔بس نظریں جھکائے اپنی انگلیوں سے کھیلتی رہی۔عفان بھی خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔کہ تب ہی ایک آنسو خوشی کی آنکھ سے نکل کر گال پر پھسلا۔جسے عفان نے دیکھا لیا۔
“خوشی ! کیا ہوا ؟ رو کیوں رہی ہو ؟ میری کوئی بات بری لگی کیا؟۔عفان نے گھبرا کر جلدی سے پوچھا۔
“نہیں ، بری نہیں لگی ، اتنی زیادہ اچھی لگی کہ میرے پاس الفاظ کم پڑگئے ، اسی لئے آنسو سے مدد لینی پڑی”۔خوشی نے آنسو صاف کرتے ہوئے مسکراکر کہا۔
“تمھیں پتہ ہے عفان ، میں بھی تمہارے لئے کچھ ایسا ہی محسوس کرتی تھی ، پر پھر یہ سوچ کر خود کو ڈپٹ دیتی تھی کہ تم میری دسترس سے بہت دور ہو ، میرا اور تمہارا کوئی جوڑ نہیں ، پر مجھے نہیں پتہ تھا کہ خاموش دعائیں بھی قبول ہوجاتی ہیں”۔خوشی نے کہا۔
“ہوجاتی ہیں ، اگر دونوں طرف سے جذبے پاکیزہ اور نیت صاف ہو ناں ، تو “کُن” فرمادیا جاتا ہے”۔عفان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“ہممم! بےشک”۔خوشی نے کہا۔
“چلو ابریش اور مراد کے پاس چلتے ہیں ، ویسے بھی تھوڑی دیر بعد پریکٹیکل شروع ہونے والا ہے ، ورنہ دونوں سوچیں گے کہ ہم شاید یہاں بیٹھے ایک ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھارہے ہیں”۔عفان نے کہا۔
“ہاں چلو ، وہیں چلتے ہیں”۔خوشی نے بھی کہا۔اور دونوں وہاں جانے کیلئے کھڑے ہوگئے۔اور عفان کے ذہن میں کل والا وہ منظر پھر سے تازہ ہوگیا جب فیضان اس سے بات کررہا تھا۔
************************************
“تم اتنے عرصے سے خوشی کو پسند کرتے تھے تو بتایا کیوں نہیں ؟۔فیضان نے پوچھا۔
“پاپا ! مجھے لگا کہ وہ اسٹیٹس میں ہمارے برابر نہیں ہے ، شاید آپ لوگ نہیں مانیں گے ، اسی لئے نہیں بتایا”۔عفان نے میز کی سطح پر انگلی پھیرتے ہوئے نظریں جھکا کر کہا۔
“ایک بار بات تو کرتے بیٹا”۔فیضان نے کہا۔اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“اچھا خوشی کو بھی تم نے اس بارے میں کبھی کوئی اشارہ نہیں دیا تھا ؟۔فیضان نے پوچھا۔
“نہیں”۔اس نے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا۔
“کیوں ؟۔فیضان نے پوچھا۔
“کیونکہ میں اسے کوئی اشارہ دے کر ، سنہرے خواب دیکھا کر ،بعد میں مجبوریوں کا بہانہ بناکر بیچ راہ میں تنہا چھوڑنا نہیں چاہتا تھا”۔عفان نے نظریں جھکائے ہوئے ہی بتایا۔فیضان کو یقین نہیں آرہا تھا کہ اسکا بیٹا یہ بات کررہا ہے۔
“تمھیں پتہ ہے عفان ، میں نے تمہاری ممی سے لو میرج کی ہے ، وہ پہلے اسی ہوسپٹل میں نرس تھیں ، پہلے مجھے ان سے ہمدردی تھی ، پھر آہستہ آہستہ ہمدردی محبت میں بدل گئی ، میں جانتا تھا کہ امی کبھی بھی ایک نرس کو اپنی بہو نہیں بنائیں گے ، پر پھر بھی میں اسے اپنے ساتھ اس راستے پر لے آیا تھا جس پر تم خوشی کو تنہا چھوڑتے ہوئے ڈرتے تھے ، بات جب گھر والوں تک پہنچی تو میں نے انعم کو یہ کہہ کر انکار کردیا کہ میں مجبور ہوں ، میرے گھر والے نہیں مان رہے ، اس وقت سے لے کر دوبارہ مجھ سے ملنے تک اس پر کیا گزری ہوگی میں اندازہ نہیں لگا سکتا ، بھلے ہی میں اسکے ساتھ سنجیدہ تھا ، پر میں اپنی امی کا مزاج بھی تو جانتا تھا ، پھر بھی اپنے جذبات کی آگ پر قابو پانے کے بجائے انعم کو بھی اسکی زد میں لے آیا ، پر آج تم نے تو مجھے بھی ہارا دیا ، تم نے ثابت کردیا کہ ایک مرد کو زیب نہیں دیتا کہ وہ عورت کو سنہرے خواب دیکھائے اور پھر مجبوریوں کو بہانہ بناکر چھوڑ جائے ، بھلے ہی اسکی مجبوریاں حقیقی ہوں ، پر اگر اس راستے پر چل کر منزل تک پہنچنے کی ہمت ہو تب ہی اس پر آگے بڑھنا چاہئے ، ورنہ اس سفر کو شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کردینا بہتر ہے”۔فیضان نے کہا۔
************************************
“ارے تم لوگ یہاں آگئے ، ہم وہیں تو آرہے تھے”۔ابریش نے دونوں کو دیکھ کر کہا۔مراد اور وہ بھی اسی طرف آرہے تھے۔
“چلو اب ساتھ ہی واپس چلتے ہیں ، ویسے بھی پریکٹیکل شروع ہونے والا ہے”۔عفان نے کہا۔کہ تب ہی ایک عورت زور زور سے چیخنے چلانے لگی۔سب اس کی جانب متوجہ ہوگئے۔اور وہاں تھوڑا رش لگ گیا۔
“کیا ہوا آنٹی ؟ کیوں چلا رہی ہیں”۔مراد نے پوچھا۔
“ارے چلاؤں نہیں تو اور کیا کروں ؟۔عورت نے غصے سے کہا۔
“آرام سے بتائیں کہ کیا ہوا ؟۔عفان نے کہا۔
“ارے صبح صبح نیند خراب کرکے ، دو بسیں بدل کر ، تین گھنٹے کا سفر کرکے ، میں یہاں آئی تھی اپنے بیٹے کا ٹیسٹ کرانے”۔عورت نے اپنے برابر میں کھڑے نوں دس سالہ بچے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا۔
“تو پھر ! نہیں ہوا ٹیسٹ ؟۔مراد نے پوچھا۔
“ارے کہاں سے کراؤں ؟ خالی پیٹ ٹیسٹ کرانا تھا ، میں اسکو یہاں چھوڑ کر باتھروم گئی تھی ، کہ پتہ نہیں کس کمبخت نے اسے سینڈوچ کھلا دیا ، اور اس منحوس سے ٹھونس بھی لیا”۔عورت نے کہا۔ابریش نے بےاختیار دونوں ہاتھ منہ پر رکھ لئے۔اور جلدی سے مراد کے پیچھے ہوگئی۔کہ کہیں بچہ اسے پہچان کر اس کی جانب اشارہ نہ کردے۔اس کو یہ حرکت دیکھ کر تینوں ساری کہانی سمجھ گئے اور مسکرانے لگے۔
“یہ حاتم تائی کی جانشیں کبھی نہیں سدھرے گی”۔عفان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
************************************
شام کا وقت ہورہا تھا۔نرمی سے چمکتے سورج اور ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوائیں نے موسم بہت ترو تازہ بنایا ہوا تھا۔اور آسمان پر اپنی آزادی کا جشن مناتے پرندوں کی چہچاہٹ نے ماحول اور خوشگوار کردیا تھا۔
پر اس خوشگوار موسم میں ایک بوڑھا وجود ایک پھولوں سے ڈھکی قبر کے پاس بہت سوگوار بیٹھا ہوا تھا۔یہ تھے صداقت احسان صاحب خضر کے والد۔
“پتہ نہیں ہم ماں باپ کبھی کبھی اولاد کے معاملوں میں اتنے سنگدل کیوں ہوجاتے ہیں ؟ صداقت صاحب نے خود سے کہا۔
“کاش بیٹا میں نے تیری بات مان لی ہوتی ، بس اتنی چھوٹی سی تو خواہش تھی تیری ، پر اپنی اولاد کے آگے میں نے اپنی انا کو ترجی دی ، مجھے معاف کردے ناں میرے بیٹے”۔صداقت صاحب نے مٹی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔وہ روز اس وقت یہاں آتے تھے۔اور ایسے ہی گھنٹوں بیٹھے اس سے باتیں کرتے رہتے تھے۔بلکہ باتیں نہیں کرتے تھے۔معافیاں مانگتے رہتے تھے۔پر اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔سوائے پچھتاوے کے اب انکے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔
************************************
“ایک سال بعد”
ابریش الماری کھولے کھڑی سوچ رہی تھی کہ کیا پہنے؟
“ابریش آپی ! ذرا یہ سوال تو سمجھا دو”۔علیزے نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔اسکے ہاتھ میں بک بھی تھی۔
“اچھا ہوا تم آگئی ، سوال کو چھوڑو ابھی یہاں آؤ ذرا”۔ابریش نے کہا۔
“جی بولیں ! کیا ہوا ؟۔علیزے نے قریب آتے ہوئے پوچھا۔
“یار ڈریس سلیکٹ کرنے میں تھوڑی ہیلپ کردو ، سمجھ نہیں آرہا کہ آج رات کیا پہنوں ؟۔ابریش نے بتایا۔
“کیوں ! آج رات ایسا کیا ہے ؟۔علیزے نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“پتہ نہیں یار ، بس آج کالج میں مراد نے مجھے اور عفان کو کہا تھا کہ رات آٹھ بجے تک ہم ریڈی رہیں ، کہیں چلنا ہے”۔ابریش نے بتایا۔
“کہاں چلنا ہے ؟۔علیزے نے پوچھا۔
“یہ تو مجھے بھی نہیں پتہ ، کہہ رہا تھا کہ سرپرائز ہے”۔ابریش نے کاندھے اچکاتے ہوئے بتایا۔
“اچھا ! آپ ایسا کریں یہ والی ڈریس پہن لیں”۔علیزے نے بلیک کلر کا ایک سوٹ الماری میں سے نکالتے ہوئے کہا۔
************************************
ان سب کی منگنی کو ایک سال ہوچکا تھا۔سب کچھ اپنے معمول پر رواں دواں تھا۔ان لوگوں کی پڑھائی ویسے ہی جاری تھی۔اور خضر کے گھر والوں کا پچھتاوا بھی۔
************************************
“السلام و علیکم”۔مراد نے ہال میں موجود سب لوگوں کو سلام کیا۔
“وعلیکم السلام”۔بڑوں نے جواب دیا۔
“تم اچانک اتنا تیار ہوکر یہاں ؟۔شہلا نے پوچھا۔
“دراصل دادی میں عفان اور ابریش کو پک اپ کرنے آیا ہوں ، ہم تینوں ایک فرینڈ کی برتھ ڈے پارٹی پر جارہے ہیں”۔مراد نے بتایا۔
“تم بیٹھو مراد ، میں ابریش کو بتاتی ہوں کہ تم آگئے ہو”۔فاریہ نے کہا۔
“آنٹی ابریش نے گیلری سے مجھے آتے ہوئے دیکھ لیا تھا ، آرہی ہوگی وہ”۔مراد نے بتایا۔
“چلو بھئی ، آگیا میں”۔عفان نے ہال میں آتے ہوئے کہا۔
“میں بھی آگئی”۔ابریش نے بھی قریب آتے ہوئے کہا۔
“گیارہ بجے سے پہلے واپس آجانا سب”۔فیروزہ نے تائید کی۔
“جی جی دادی ، آپ بےفکر رہیں جلد ہی آجائیں گے”۔مراد نے یقین دلایا۔
“چلیں اب ؟۔عفان نے کہا۔
“ہاں چلو ، اچھا ! ہم لوگ چلتے ہیں ، الله حافظ”۔مراد نے کہا۔
“الله حافظ”۔بڑوں نے کہا۔اور تینوں باہر نکل گئے۔
************************************
“یار یہ ہم خوشی کے گھر کیوں آئے ہیں ؟۔عفان نے مراد کو خوشی کے گھر کے قریب کار روکتے دیکھ کر ناسمجھی سے پوچھا۔
“خوشی کو پک اپ کرنے”۔مراد نے اپنی جیکٹ کی جیب سے موبائل نکالتے ہوئے بتایا۔اور نمبر ڈائل کرنے لگا۔
“ہاں خوشی ، آجاؤ باہر ، ہم آگئے ہیں”۔مراد نے کہا۔اور لائن کاٹ کر موبائل واپس جیب میں رکھ لیا۔عفان اور ابریش ناسمجھی سے سب سمجھنے کی کوشش کررہے تھے۔تھوڑی دیر بعد خوشی بھی آگئی۔اور کار کا دروازہ کھول کر پچھلی نشست پر ابریش کے ساتھ بیٹھ گئی۔مراد ڈرائیونگ سیٹ پر تھا۔اور عفان اسکے برابر والی فرنٹ سیٹ پر۔
“کہاں جارہے ہیں ہم؟۔خوشی نے پوچھا۔
“پتہ نہیں”۔ابریش نے کہا۔اور مراد نے کار آگے بڑھا دی۔
************************************
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *