Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode18

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode18

وعلیکم السلام”۔بڑوں نے جواب دیا۔
“ابرار نہیں اٹھا ابھی تک”۔حیدر نے جوس کا جاگ اٹھاتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں ، رات میں حکم دے کر سوئے تھے نواب صاحب کے آج سنڈے ہے ، لہٰذا انھیں کوئی نہ جگائے”۔فاریہ نے بتایا۔
“چلو چھٹی والے دن تو حق بنتا ہے”۔حیدر نے کہا۔
“صاحب ! باہر پولیس آئی ہے”۔ملازم نے آکر بتایا۔سب دنگ رہ گئے۔
“کیا ! پولیس ! پر کیوں؟۔ارسلان صاحب نے حیرانگی سے کہا۔
“پتہ نہیں بڑے صاحب”۔ملازم نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
“چلو چل کر دیکھتے ہیں”۔ہمدان صاحب نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔سب مرد حضرت اٹھ کر باہر چلے گئے۔
“اللّه خیر کرے”۔ممتاز نے کہا۔
************************************
“جی انسپکٹر ! سب خریت تو ہے ! آپ لوگ یہاں؟۔ارسلان صاحب نے باہر آکر پوچھا۔
“محترمہ ابریش خان کا گھر یہی ہے ناں؟۔بڑی بڑی مونچھوں اور لٹکے ہوئے پیٹ والے ادھیڑ عمر انسپکٹر نے پوچھا۔
“جی یہی ہے ، کیوں؟۔ارسلان صاحب نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“کل رات خضر احسان نامی ایک لڑکے نے خودکشی کرلی ہے ، اور اپنے سو سائیڈ نوٹ میں واضح طور پر بتایا ہے کہ یہ قدم اس نے محترمہ ابریش کے انکار سے دلبرداشتہ ہوکر اٹھایا ہے ، لہٰذا انکے گھر والوں نے محترمہ ابریش صاحبہ کے خلاف ایف۔آئی۔آر درج کروائی ہے”۔انسپکٹر نے بتایا۔سب پر تو گویا بم گرگیا۔
“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ! آپکو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ، ہوسکتا ہے انھیں نے کسی اور ابریش کا کہا ہو”۔ہمدان صاحب نے کہا۔ اتنے میں باقی گھر والے بھی تشویش کے ہاتھوں مجبور ہوکر باہر آگئے۔
“انھوں نے ابریش خان بنتِ حیدر علی خان کے خلاف ہی رپورٹ درج کروائی ہے ، ہمیں کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی ہے ، لہٰذا انھیں ہمارے ساتھ پولیس اسٹیشن چلنا ہوگا”۔ انسپکٹر نے کہا۔
“ہرگز نہیں ، ناممکن ، آپ لوگ میری بیٹی کو کہیں نہیں لے کر جائیں گے”۔حیدر نے سختی سے کہا۔
“دیکھیں چلنا تو انہیں پڑے گا”۔انسپکٹر نے اپنی بات پر زور دیا۔
“ہرگز نہیں ، آپکو جو بات کرنی ہے ہم سے یا ہمارے وکیل سے کریں آپ ، اور جب تک ہمیں سارے معملے کے بارے میں ٹھیک سے آگاہ نہیں کیا جاتا تب تک آپ لوگ کچھ نہیں کریں گے “۔فرقان نے کہا۔
“ٹھیک ہے ، تو پھر آپ لوگ چلیں ہمارے ساتھ ، اور لڑکے کے گھر والوں سے خود بات کرلیں”۔انسپکٹر نے کہا۔پھر حیدر ، فیضان ، فرقان ، ارسلان ، ہمدان اور عدنان یہ لوگ پولیس اسٹیشن چلے گئے اور باقی سب اندر آگئے۔
“یہ سب کیا تھا ابریش ؟ کیا تم جانتی ہو کسی خضر کو؟۔فاریہ نے پوچھا۔ابریش نے اثبات میں سرہلایا۔
“وہ لوگ کونسے انکار کی بات کررہے تھے ابریش؟۔فاریہ نے مزید پوچھا۔ابریش نے رونا شروع کردیا۔
“ابریش یہ رونے دھونے کا وقت نہیں ہے ، جواب دو”۔فاریہ نے اسے بازؤں سے پکڑتے ہوئے کہا۔
“بچی گھبرا گئی ہے فاریہ ، رک جاؤ ، آرام سے پوچھو”۔فیروزہ نے ٹوکا۔
“علیزے جلدی سے پانی لے کر آؤ”۔انعم نے کہا۔علیزے جلدی سے کچن کی جانب بھاگی۔فیروزہ نے ابریش کو ہال میں رکھے صوفے پر بیٹھا دیا۔علیزے پانی لے کر آئی تو اسے پانی پلایا۔
“تم بتاؤ عفان ، کون ہے یہ خضر؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“چچی خضر ہمارا کلاس فیلو ہے”۔عفان نے بتایا۔
“تو ابریش کے کونسے انکار سے دلبرداشتہ ہوکر اس نے خودکشی کی ہے؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“یہ تو مجھے بھی نہیں پتہ چچی”۔عفان نے لاعملی ظاہر کی۔فاریہ غصے سے ابریش کو دیکھ کر رہ گئی۔عفان ابریش کے برابر بیٹھ گیا۔وہ اب چپ ہوگئی تھی۔
“ابریش ! دیکھو صحیح سے بتاؤ کہ آخر بات کیا ہے ؟ تم نے کس بات سے انکار کیا تھا خضر کو؟۔عفان نے آرام سے پوچھا۔
“اس دن جب میں اور خضر کینٹین میں بیٹھے ہوئے تھے اور تم دونوں بعد میں آئے تھے ، تو میں نے جھوٹ کہا تھا کہ ہم خوشی کا انتظار کررہے تھے ، دراصل خضر کو مجھ سے کچھ بات کرنی تھی اسی لئے وہ مجھے وہاں لے کر گیا تھا”۔ابریش نے بتایا۔
“کیا بات کرنی تھی؟۔عفان نے پوچھا۔
“اس نے کہا کہ….کہ وہ مجھے پسند کرنے لگا ہے ، اور مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے ، جس پر میں نے اسے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ میرے دل میں اسکے لئے ایسے کوئی جذبات نہیں ہے ، میں اسے بس تمہاری اور مراد کی طرح دوست ہی سمجھتی ہوں ، اور کچھ نہیں”۔ابریش نے بتایا۔سب حیرانگی سے اسے دیکھنے لگے۔
“پھر ! پھر اس نے کیا کہا؟۔عفان نے پوچھا۔
“کچھ نہیں ، پھر تم لوگ آگئے تھے ، اور اس دن کے بعد سے دوبارہ اس متعلق کوئی بات نہیں ہوئی”۔ابریش نے بتایا۔
“اتنی بڑی بات ہوگئی ، اور تم نے مجھے بتانا بھی گوارا نہیں کیا!۔فاریہ نے کہا۔
“مما مجھے لگا کہ اتنی بڑی بات نہیں ہے ، پر مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنا بڑا قدم اٹھالے گا”۔ابریش نے کہا۔
“بس اب دعا کرو کہ یہ مسلہ جلد از جلد حل ہوجائے”۔فیروزہ نے کہا۔
************************************
یہ لوگ پولیس اسٹیشن پہنچے تو وہاں خضر کے والد اور بڑے بھائی پہلے سے ہی ایس۔ایچ۔او کے کمرے میں موجود تھے۔
“سر یہ ابریش صاحبہ کے والد اور باقی گھر والے ہیں ، یہ لوگ آپ سے بات کرنا چاہتے تھے”۔انسپکٹر نے بتایا۔
ٹھیک ہے ، تم جاؤ”۔ایس۔ایچ۔او نے کہا۔انسپکٹر سرہلاکر باہر چلا گیا۔
“یہ میری بیٹی پر کیا بےبنیاد الزام لگایا جارہا ہے؟۔حیدر نے سختی سے پوچھا۔
“یہ الزام بےبنیاد نہیں ہے خان صاحب ، پختہ ثبوت ہیں ہمارے پاس ، یہ مسٹر صداقت احسان ہیں ، لڑکے کے والد ، اور یہ مسٹر ازر احسان ہیں لڑکے کے بڑے بھائی ، انہیں بتائیں صداقت صاحب کے ماجرا کیا ہے؟۔ایس۔ایچ۔او نے تعارف کراتے ہوئے کہا۔
“آج صبح معمول کے مطابق جب خضر ناشتہ کرنے کمرے سے باہر نہیں آیا تو میری اہلیہ اسے جگانے گئیں ، پر اس نے دروازہ نہیں کھولا ، ہم سب کو کافی تشویش ہوئی تو ڈوبلیکیٹ چابی سے دروازہ کھولا ، کمرے میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ خضر اپنی رائٹنگ ٹیبل کے قریب کرسی پر بےسدھ پڑا ہوا تھا ، اور اسکے بائیں ہاتھ سے کافی خون نکل کر زمین پر پڑا ہوا تھا ، ہم سب ہی سکتے میں آگئے ، اور میری اہلیہ یہ دیکھ کر رونے لگی ، تب ہی ازر نے رائٹنگ ٹیبل پر رکھا ایک کاغذ اٹھایا ، جس میں خضر نے اپنی خودکشی کی وجہ بیان کی تھی ، پھر ہم نے فوراً پولیس کو اطلاع کی ، پولیس نے کالج کے پرنسپل سے آپ لوگوں کا پتہ لیا ، اور اب معملا آپ لوگوں کے سامنے ہے”۔صداقت صاحب نے تفصیل بتائی۔
“تو ان سب میں میری بیٹی کا کیا قصور ہے؟۔حیدر نے کہا۔
“میں بتاتا ہوں ، یہ وہی نوٹ ہے جو ہمیں خضر کے گھر سے ملا ہے ، اس میں لکھا ہے کہ
“دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جسے موت کا نام سن کر ہلکی سی بھی وحشت نہ ہوتی ہو ، پر کبھی کبھی ہم ایسے مقام پر پہنچ جاتے ہیں ، جہاں موت کو گلے لگانے سے زیادہ آسان کام اور کوئی نہیں لگتا ، اور کبھی کبھی ہمیں اس مقام تک پہنچانے میں ان لوگوں نے اہم کردار ادا کیا ہوتا ہے ، جن کا مقام ہمارے دل میں بہت بلند اور معتبر ہوتا ہے ، ابریش کا مقام بھی میرے دل میں بہت بلند تھا ، میں نے بڑے پیار سے اس سے اپنی خواہش کا اظہار کیا جسے اس نے بڑی بےدردی سے رد کردیا ، میں ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا ، پر میرے پاس اب کوئی راستہ بھی نہیں بچا ہے ، مجھے سیدھے راستے پر چل کر میری چاہت نہیں ملی ، اب مجبورً مجھے یہ راستہ اختیار کرنا پڑرہا ہے ، میں جیتے جی اسے حاصل نہیں کرسکا ، پر اب مر کر بھی اسے نہیں چھوڑوں گا ، میں جارہا ہوں ، پر واپس آنے کیلئے”
“خضر احسان”
ایس۔ایچ۔او نے بلند آواز میں نوٹ پڑھ کر سنایا۔حیدر کو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ماضی پھر خود کو دہرا رہا ہے۔اسے پچیس سال قبل کا ایسا ہی ایک منظر یاد آگیا۔جب وہ ایسے ہی ایک پولیس اسٹیشن میں خرد کا مجرم بنا ہوا تھا۔
“ٹھیک ہے کہ اس لڑکے نے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا ، میری بیٹی نے انکار کردیا ، بس بات ختم ، اس لڑکے نے یہ حرکت خود اپنی مرضی سے کی ہے ، میری بیٹی کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے”۔حیدر نے کہا۔ تھوڑی دیر بعد حیدر کا وکیل بھی آگیا۔ پھر کافی دیر تک ان لوگوں کے درمیان ضد بحث چلتی رہی۔جس میں آدھا دن گزر گیا۔
************************************
وہ لوگ صبح دس بجے گھر سے نکلے تھے۔اور اب عصر کے وقت گھر میں داخل ہوئے تھے۔انہیں واپس آتا دیکھ کر باقی گھر والے بھی ہال میں جمع ہوگئے۔
“کیا ہوا حیدر ؟ آخر یہ ماجرا کیا ہے؟۔فاریہ نے پوچھا۔حیدر ایک گہری سانس لے کر وہیں صوفے پر بیٹھ گیا۔باقی سب بھی وہیں صوفوں پر بیٹھ گئے۔
“وہی جو پولیس بتا رہی تھی کہ ایک لڑکے نے ابریش کے انکار سے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کرلی ہے”۔حیدر نے بتایا۔
“تو پھر ہوا کیا اس معملے کا ؟ کیا وہ لوگ پھر آئیں گے؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“نہیں ، پر یہ کیس چلتا رہے گا”۔حیدر نے بتایا۔
“ایسا لگ رہا ہے جیسے پچیس سال پہلے والے قصہ دوبارہ دہرایا جارہا ہے”۔فائزہ نے کہا۔
“کونسا قصہ امی؟۔طلحہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“ارے پچیس سال پہلے حیدر کے ساتھ بھی تو خرد کی وج…….!
“فائزہ ! سب بہت تھک گئے ہیں ، جاکر سب کیلئے چائے بناؤ”۔جاوید نے فائزہ کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
“میں بنا دیتی ہوں ابو”۔سعدیہ نے کہا۔اور کچن میں چلی گئی۔حیدر نے ایک کونے میں خاموشی کھڑی ابریش کی جانب دیکھا۔جو بنا کسی قصور کے مجرموں کی طرح سر جھکائے کھڑی تھی۔حیدر کو بےاختیار پچیس سال قبل والا اپنا آپ یاد آگیا۔
“ابریش !۔حیدر نے پکارا۔
“جی بابا”۔ابریش نے پوچھا۔
“یہاں آکر بیٹھو”۔حیدر نے اپنے برابر صوفے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔وہ آہستہ سے چل کر آکے حیدر کے برابر میں بیٹھ گئی۔
“پریشان مت ہو ، اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے”۔حیدر نے اپنی کے گرد بازو حائل کرتے ہوئے کہا۔ابریش جو کب سے ضبط کیے ہوئے تھی۔نرمی کی تھوڑی سی حرارت پاتے ہی اسکے جمے ہوئے آنسو پگھلنا شروع ہوگئے۔وہ حیدر کے سینے سے لگ کر رونے لگی۔
“بابا مجھے قسم سے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنا بڑا قدم اٹھالے گا ، میں نے تو اسے بہت آرام سے سمجھایا تھا”۔ابریش نے روتے ہوئے کہا۔
“ہوتا ہے بیٹا ، کچھ لوگ ایسے معاملوں میں خودغرض ہی بن جاتے ہیں ، پر تم پریشان مت ہو ، ہم سب ہیں تمہارے ساتھ ، کوئی غلطی نہیں ہے اس میں تمہاری”۔حیدر نے اسکا سرسہلاتے ہوئے کہا۔فاریہ کو اب اپنی بیٹی کی حالت دیکھ احساس ہورہا تھا کہ جب حیدر کو خرد کی موت کا زمیدار ٹہرایا جارہا تھا تو اس پر کیا گزری ہوگی۔
************************************
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *