Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode15

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode15

پانچوں کی آپس میں دوستی ہوگئی تھی۔
بظاہر سب کچھ ٹھیک تھا ، پر کیا سب کچھ سچ میں ٹھیک تھا ؟
یا پھر اب صحیح معنوں میں بگڑنے والا تھا ؟
“نہ جانے اس کہانی میں”
“اب کونسا موڑ آئے گا”
“کون کیا کھوئے گا”
“کون کیا پائے گا”
“یہ ہم نہیں جانتے”
“یہ تو وقت ہی بتائے گا”
********************************
سورج اپنا فرض پورا کرکے غروب ہوچکا تھا۔آسمان پر اب تاریکی نے اپنا قبضہ جمعنا شروع کردیا تھا۔اس روڈ پر بھی دور دور تک سناٹا اور اندھیرا ہورہا تھا۔اور اس سناٹے اور اندھیرے کو اس بائیک کی لائٹ اور آواز چیرنے کی کوشش کررہی تھی جو اس اونچے نیچے راستے پر سے ہوتی ہوئی اپنی منزل کی جانب جارہی تھی۔تھوڑا سا سفر اور طے کرنے کے بعد بائیک ایک چھوٹے سے پرانے سے ٹوٹے پھوٹے گھر کے آگے رکی۔اس دور دور تک سنسان پڑی جگہ پر یہ ایک واحد گھر تھا۔اسکے آگے پیچھے دائیں بائیں اور کوئی گھر تو کیا آدم ذات بھی نہیں تھی۔بس آس پاس بڑے بڑے درخت تھے۔یہ گھر لکڑی کی مدد سے بنایا گیا تھا۔گھر کی حالت اتنی بوسیدہ اور ابتر ہورہی تھی کہ اسے دور سے دیکھ کر ہی خوف آتا تھا۔بائیک سوار نے بائیک اسٹینڈ پر لگائی۔اور بائیک سے اتر کر اس گھر کی جانب آیا۔گھر کے اعتراف میں بہت سارے سوکھے پتے بکھرے ہوئے تھے۔جو اس شخص کے پیروں تلے دب کر عجیب سی آواز پیدا کررہے تھے۔دروازے کے قریب پہنچ کر اس نے دستک دی۔
“ٹک ٹک ٹک”
“کون ہے؟۔اندر سے ایک بھاری آواز آئی۔
“جنگلی بلی”۔اس نے کہا۔یہ انکا کوڈورڈ تھا۔دروازو پر کچھ کھڑپڑ ہوئی پھر دروازہ کھل گیا۔وہ شخص اندر داخل ہوگیا۔یہ دو کمروں پر مشتمل ایک بہت چھوٹا سا گھر تھا۔دروازہ کھلتے ہی ایک کمرہ تھا۔اور پھر اس کمرے کے بعد ایک اور کمرہ تھا۔اس گھر میں کہیں کوئی لائٹ نہیں تھی اور نا ہی کوئی سامان تھا۔جس کمرے میں ابھی یہ شخص کھڑا تھا یہ کمرہ بھی بالکل خالی تھا۔بس اس کمرے کے وسط میں زمین پر موم بتیوں سے ایک گول دائرہ بنا ہوا تھا۔جس میں یہ شخص بیٹھا ہوا تھا۔اور دروازہ کھول کر وہ واپس اس دائرے کے اندر آکر بیٹھ گیا تھا۔وہ کوئی پچاس ساٹھ سال کا بوڑھا پر طاقتوار جسم کا مالک انسان تھا۔اسکے گندے بال کندھوں تک آرہے تھے۔اور بڑھی ہوئی داڑھی بھی بہت گندی ہورہی تھی۔اسے دیکھ کر صاف لگ رہا تھا کہ وہ کافی عرصے سے نہایا نہیں ہے۔آنے والا شخص اس بوڑھے کے سامنے ہی زمین پر بیٹھ گیا۔بوڑھا آنکھیں بند کرکے کچھ پڑھنے لگا۔
“بابا ، اور کتنا انتظار کرنا ہوگا مجھے؟۔شخص نے پوچھا۔
“تمہارا مقصد حاصل کرنے میں ، ابھی وقت لگے گا ، جہاں اتنا انتظار کیا ہے ، وہاں کچھ دن اور صحیح”۔بوڑھے نے آنکھیں بند کیے ہوئے ہی کہا۔
“جی آپکی بات ٹھیک ہے ، پر پھر بھی اور کتنا انتظار کرنا ہوگا؟۔شخص نے ادب سے پوچھا۔
“بس چاند گرہن کا انتظار ہے ، چاند گرہن کی رات بس آخری ضرب لگنی ہے ، پھر یہ عمل اپنا اثر دیکھنا شروع کردے گا”۔بوڑھے نے رازداری سے کہا۔
“اور یہ چاند گرہن کب ہوگا؟۔شخص نے پوچھا۔
“نہیں پتہ ، پر بہت جلد ہوگا”۔بوڑھے نے کہا۔اس شخص کے چہرے پر بیزاری کے آثار نمایا ہوگئے۔
********************************
“کیا ہے بھئی ! چینل کیوں چینج کیا ! شو آرہا ہے ناں”۔علیزے نے ابرار سے کہا۔سب لوگ اس وقت ڈرائینگ روم میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔
“تو وقفہ آیا ہے ابھی ، جب شروع ہوگا تو لگا دوں گا”۔ابرار نے چینل بدلتے ہوئے کہا۔
“نیوز لگاؤ ابرار”۔فرقان نے کہا۔ابرار نے نیوز چینل لگادیا۔
“اب ہم آپکو ایک اہم خبر سے آگاہ کررہے ہیں ، خبر یہ ہے کہ ماہرِ فلکیات نے چاند گرہن کے حوالے سے ایک اہم پیش گوئی کردی ہے ، فلکیات سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اکیسویں صدی کا طویل ترین چاند گرہن ستائیس جولائی کو ہوگا ، چاند گرہن رات دس بجکر چودہ منٹ پر شروع ہوگا ، اور اسکا دورانیہ چھے گھنٹے چودہ منٹ ہوگا ، امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق یہ عام چاند گرہن نہیں ہے کیونکہ ایسا شاذو نادر ہی ہوتا ہے “۔نیوز چینل پر یہ خبر آرہی تھی۔
“چاند گرہن ! مطلب وہ جو چاند لال ہوجاتا ہے ناں دادا؟۔ابرار نے پوچھا۔
“ہاں وہی”۔ہمدان صاحب نے کہا۔
“ویسے چند گرہن کے بارے میں کوئی تفصیل پتہ ہے کسی کو؟۔ابریش نے پوچھا۔
“انسانی تاریخ میں چاند گرہن کو ڈر اور کبھی کبھار خوف کے ساتھ دیکھا گیا ہے ، لیکن آج ہم جانتے ہیں کہ چاند کو گرہن اس وقت لگتا ہے جب مکمل چاند زمین کے سایے کے تاریک ترین حصے ‘ امبرا ‘ سے گزرتا ہے ، تاہم آج بھی سپر مون کے ساتھ چاند گرہن کے واقعہ کو مسیحیوں کے ایک گروپ ‘مورمونز’ کی طرف سے خوف کی علامت سمجھا جاتا ہے ، جبکہ دو عیسائی پادریوں جان ہاگی اور بلٹز نے 2014کے ٹیٹراڈ سلسلے کے چار مسلسل مکمل خونی چاند کو قرب قیامت کی نشانی بتایا ، جب چاند گرہن واقع ہوتا ہے تو ہماری زمین ،چاند اور سورج کے ساتھ براہ راست ایک قطار میں آجاتی ہے، یعنی چاند اور سورج کے درمیان زمین حائل ہو جاتی ہے۔ اور چاند اس کے سایے کے عین وسط میں چھپ جاتا ہے۔ چونکہ چاند کے پاس اپنی روشنی نہیں ہے اور وہ سورج سے حاصل ہونے والی روشنی کو منعکس کرتا ہے، لہذا قمری گرہن کے دوران چاند پر سورج کی روشنی زمین کے عکس کی طرف سے بلاک ہوجاتی ہے۔ تاہم زمین کی فضا میں پھیلی سورج کی سرخ روشنی زمین کے کناروں یا ‘رنگ آف ایٹ ماسفئیر’ کے ذریعے چاند تک پہنچتی ہے اور اسے مکمل سیاہ ہونے کے بجائے سرخ رنگ دیتی ہے اور اسی وجہ سے اسے ‘خونی چاند’ یا ‘بلڈ مون’ کہا جاتا ہے”۔فرقان نے تفصیل بتائیں۔
“ہممم! اچھا ہم نے اکثر سنا ہے اور فلموں میں دیکھا ہے کہ چاند گرہن کی رات کو بہت سے عامل بابا وغیرہ کچھ الٹے سیدھے کام کرتے ہیں ، اور کالا جادو وغیرہ کرنے والے اس رات کے انتظار میں رہتے ہیں ، کیا ہے سچ ہے؟۔عفان نے پوچھا۔
“ہاں ! بظاہر یہ چاند گرہن اگر سائینسی اعتبار سے دیکھا جائے تو چاند سورج اور زمین کا ایک ترتیب میں آنے کا نام ہے ، جیسا کہ ابھی فرقان نے بتایا ، پر ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ، ایک ظاہر اور ایک باطن ، اس بات کا ظاہری پہلو تو ہم جانتے ہیں ، پر باطنی پہلو سے ہر کوئی واقف نہیں ہے ، کچھ راز اللّه پاک نے کسی مصلحت کے تحت پردے میں رکھے ہوئے ہیں ، پر انکا وجود ہے ، یہ رات کچھ نا کچھ اثر رکھتی ہے ، اور دنیا میں ہر چیز جوڑی میں بنائی گئی ہے ، ہر چیز کا الٹ موجود ہے ، مثلاً روشنی ہے تو اندھیرا بھی ہے ، سیدھا ہے تو الٹا بھی ہے ، اچھا ہے تو برا بھی ہے ، جہاں ایک طرف چاند گرہن کہ موقے پر اللّه والے لوگ معمول سے زیادہ اللّه کی عبادت میں مشغول ہوتے ہیں ، اسی طرح شیطان مردود کے پوجاری بھی غلط کاموں کیلئے سرگرم ہوجاتے ہیں ، اور جیسا ہم نے اکثر ان راتوں کے بارے میں سنا دیکھا اور پڑھا ہے ، اس میں کچھ کچھ سچائی ہے”۔ہمدان صاحب نے تفصیلی جواب دیا۔
“اچھا اکثر یہ بھی سننے اوردیکھنے میں آیا ہے کہ سورج اور چاند گرہن کے وقت حاملہ خواتین کو کافی احتیاط کی تلقین کی جاتی ہے ، اور تیز دھار آلات سے بھی دور رہنے کا کہتے ہیں ، کیا یہ بھی سچ ہے؟۔سعدیہ نے پوچھا۔
“اللّه پاک نے ہر چیز کی پیش گوئی ، ہر چیز کی ممانیت اور اجازت قرآن حدیث کے ذریعے لوگوں تک پہنچا دی ہے ، لہٰذا اگر اس بات میں کچھ صداقت ہوتی تو قرآن و حدیث میں کہیں نا کہیں اس سے متعلق کوئی اشارہ ضرور ہوتا ، پر ایسا کچھ نہیں ہے ، لہٰذا ان باتوں پر توجہ نہیں دینی چاہئے”۔ممتاز نے جواب دیا۔
“ہممم! اور لوگوں کو چاہئے بس اس رات زیادہ سے زیادہ بس اللّه کی عبادت کریں ، اور بلاضرورت باہر جانے سے گریز کریں”۔شہلا نے مزید کہا۔
“یہ چاند گرہن ستائیس جولائی کو ہوگا ، آج بیس جولائی ہے ، مطلب ایک ہفتے بعد”۔عفان نے حساب لگایا۔
“ارے آپ لوگ بھی یہ کن باتوں میں لگ گئے ، جلدی سے چینل چینج کریں ، شو شروع ہوگیا ہوگا”۔علیزے نے کہا۔
********************************
۔?How To Lose Weigh Quickly”۔سعدیہ نے گوگل پر سرچ کیا۔رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔طلحہ حسب معمول اپنے موبائل میں مصروف تھا۔اور سعدیہ بھی اپنے موبائل میں ان سب کاموں میں مگن تھی۔سعدیہ نے سرچ ریزلٹ چیک کیا۔کچھ ایکسرسائیز اور ڈائٹینگز کے بارے میں لکھا ہوا تھا۔اس نے وہ سب اپنے موبائل میں نوٹ کرلیا۔اور کن انکھیوں سے طلحہ کی جانب دیکھا۔وہ ہنوز موبائل میں مگن تھا۔
“اب میں آپکو واپس پہلے والی سعدیہ بن کر دیکھاؤں گی طلحہ”۔سعدیہ نے دل میں عہد کیا۔اور اپنا موبائل رکھ کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔
********************************
“کیا بات ہے ! آج خوشی بہت خوش لگ رہی ہے”۔ابریش نے کاؤنٹر پر آکر کہا۔
“ہاں بات ہی ایسی ہے”۔خوشی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“اچھا ہمیں بھی بتاؤ”۔ابریش نے کہا۔
“پہلی بات تو یہ کہ میرے ابو کو نئی نوکری مل گئی ہے ، اور دوسری کہ میرا پیپر بہت اچھا ہوا ہے آج”۔خوشی نے بتایا۔
“اوہ ! یہ تو بہت اچھی بات ہے ، بہت مبارک ہو ، اور پیپر تو میرا بھی بہت اچھا ہوا ہے”۔ابریش نے کہتے ہوئے بتایا۔
“ہممم! اور وہ باقی تینوں کہاں ہیں؟۔خوشی نے پوچھا۔
“آرہے ہیں تینوں بھی یہاں ہی باتیں بناتے ہوئے”۔ابریش نے بتایا۔
“آ نہیں رہے آگئے”۔تین نے قریب آکر یک زبان کہا۔
“چلو خضر پینٹنگ لے کر آیا ہے اپنی ، گراؤنڈ میں چل کر دیکھتے ہیں”۔عفان نے کہا۔
“یار میں تو یہاں بیزی ہوں”۔خوشی نے کہا۔
“تو تھوڑی دیر کیلئے آجاؤ ، تب تک انکل سمبھال لیں گے”۔ابریش نے کہا۔
“میں بولتا ہوں انکل سے”۔مراد نے کہا۔اور کاؤنٹر کی دوسری جانب گیا۔جہاں اصغر صاحب تھے۔کینٹین کی دو سائیڈ تھیں۔ایک پر خوشی ہوتی تھی اور ایک پر اسکے ابو۔
“السلام و علیکم”۔مراد نے سلام کیا۔باقی تینوں بھی تب تک اس طرف آگئے۔
“وعلیکم السلام ، جی بیٹا؟۔اصغر صاحب نے کہا۔
“انکل ہم خوشی کے دوست ہیں ، ہم سب گراؤنڈ میں جارہے تھے تو کیا خوشی کو بھی لے جائیں اپنے ساتھ؟۔ابریش نے آگے آکر پوچھا۔
“ہاں ہاں بیٹا ، لے جاؤ ، اس میں بھلا پوچھنے والی کیا بات ہے”۔اصغر صاحب نے کہا۔
“بلکہ میں تو خود اسے کہتا ہوں کہ بریک میں دوستوں کے ساتھ چلی جایا کرو ، پر یہ سنتی ہی نہیں ہے”۔انھوں نے مزید بتایا۔
“شکریہ انکل ، چلو خوشی آؤ جلدی سے”۔ابریش نے کہا۔خوشی کاؤنٹر کی سائیڈ پر بنے چھوٹے سے گیٹ سے باہر آنے لگی۔
“رکو رکو”۔اچانک عفان نے کہا۔
“کیا ہوا؟۔سب نے یک زبان پوچھا۔
“کچھ کھانے پینے کیلئے بھی لیتے چلو یاروں ، اچھا تھوڑی لگے گا ایسے خالی گراؤنڈ میں بیٹھنا”۔عفان نے کہا۔
“اففو ! ڈرا دیا تھا”۔ابریش نے عفان کے کاندھے پر بک مارتے ہوئے کہا۔پھر کچھ کھانے پینے کی چیزیں لے کر پانچوں گراؤنڈ میں آگئے۔اور ایک پیڑ کے نیچے بیٹھ گئے۔خضر نے اپنے بیگ سے پینٹنگز اور اسکیچیز نکالے۔اور ایک ایک کرکے سب دیکھانے لگا۔جسے سب ستائشی نظروں سے دیکھتے ہوئے داد بھی دے رہے تھے۔ ابریش کے کہنے کے مطابق اب اس نے جاندار چیزوں کی تصویر ہٹا دی تھیں۔
“زبردست یار ، تم میڈیکل کی فیلڈ میں غلط آگئے ہو ، تمہاری منزل تو یہ ہے”۔مراد نے کہا۔اسکی بات پر یکدم خضر کے چہرے کی مسکراہٹ ماند پڑگئی۔جس کی وجہ ابریش جانتی تھی۔
“کیا ہوا ؟ کچھ غلط کہہ دیا کیا مراد نے؟۔عفان نے پوچھا۔
“دراصل خود خضر بھی یہی چاہتا تھا کہ وہ پینٹر بنے ، پر اسکے والدین چاہتے ہیں کہ یہ اپنے بڑے بھائی کی طرح ڈاکٹر بنے”۔ابریش نے بتایا۔
“اوہ ! پر یار یہ تو غلط بات ہے ، ہماری فیملی میں میرے والدین ، ابریش کے والدین ، اور میرے تایا تائی یہ لوگ ڈاکٹر ہیں ، انکو دیکھ کر مجھے اور ابریش کو بھی شوق ہوا تو ہمارا ایڈمیشن خوشی خوشی یہاں کروادیا گیا ، جبکہ میری چھوٹی بہن علیزے ، ابریش کے چھوٹے بھائی ابرار ، اور تایا کے دونوں بیٹوں عباد اور عون بھائی کو اس فیلڈ میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اسی لئے ان پر کوئی زبردستی نہیں کی گئی”۔عفان نے بتایا۔
“تمہاری بات ٹھیک ہے ، پر سب کے والدین ایک جیسے نہیں ہوتے”۔خضر نے پھیکی پن سے ہنستے ہوئے کہا۔اور گھانس نوچنے لگا۔
“چھوڑو یہ سب باتیں ، یہ بتاؤ کہ سب کا پیپر کیسا ہوا؟۔ابریش نے موضوع بدلا۔
“میرا تو بہت زبردست ہوا”۔خوشی نے بتایا۔
“اور میرا بھی اے ون گیا ہے”۔عفان نے بھی بتایا۔
“میرا بھی اچھا رہا”۔مراد نے بھی کہا۔
“میرا بھی”۔ابریش نے بھی کہا۔
“اور میرا تو آپ لوگوں کو اندازہ ہوگا ہی”۔خضر نے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا۔خضر کو دیکھ کر باقی سب بھی مسکرادیے۔
********************************
“آپ کھانا نہیں کھارہی بھابھی؟۔علیزے نے پوچھا۔سب خواتی اور بچے اس وقت دوپہر کے کھانے کیلئے ڈائنینگ ٹیبل پر جمع تھے۔
“نہیں یار ، تم لوگ کھاؤ”۔سعدیہ نے ہاٹ پاٹ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔
“بیٹا طبیعت تو ٹھیک ہے ناں تمہاری؟۔ممتاز نے پوچھا۔
“جی دادی ، بس آج سے میں نے ڈائٹینگ شروع کردی ہے ، اب میں دن میں صرف سلاد کھاؤں گی”۔سعدیہ نے بتایا۔
“ہیں ! ڈائٹینگ ! پر کیوں؟۔ابرار نے حیرانگی سے پوچھا۔
“میرا ویٹ بہت ہوگیا ہے ناں”۔سعدیہ نے کرسی کھنچ کر بیٹھتے ہوئے بتایا۔
“صرف سلاد پر گزارہ کرلیں گی آپ سارا دن!۔ابریش نے حیرانگی سے کہا۔
“کرنا پڑے گا چندا”۔سعدیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔سب لوگ کھانے کی جانب متوجہ ہوگئے۔
“اوئے ہوئے ! واہ ! مزہ آگیا ، کیا کھانا بنا ہے”۔عفان نے سعدیہ کو تپانے کیلئے کہا۔
“ہممم! آج تو کھانے کا ٹیسٹ ہی الگ ہے ، زبردست”۔ابرار نے بھی اسکی تائید کرتے ہوئے کہا۔سعدیہ دونوں کو گھورنے لگی۔باقی سب ان ہلکے سے مسکرادیے۔
********************************
خضر اپنے کمرے میں رکھی چھوٹی سی رائٹنگ ٹیبل کے قریب کرسی پر بیٹھا ہوا بہت ہی دل جمی سے کاغذ پر پنسل سے کچھ نقش کرنے میں مصروف تھا۔خضر کو دیکھ کر اس وقت کوئی بھی باآسانی بتاسکتا تھا کہ وہ اس وقت پورے دل سے اس نقش کی تکمیل کرنے میں مصروف تھا۔وہ بڑی مہارت سے کاغذ پر پنسل چلا رہا تھا۔اسکے ہونٹوں پر ایک دھیمی سے مسکراہٹ بھی ٹہری ہوئی تھی۔
“خضر !۔آسیہ (والدہ) نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پکارا۔اس نے بجلی کی سی تیزی سے وہ کاغذ ٹیبل کی دراز میں ٹھونسا۔کہ کہیں آسیہ اس پر بنا نقش دیکھ ناں لیں۔
“کیا کررہے ہو؟۔آسیہ نے قریب آکر پوچھا۔
“کچھ نہیں ، کچھ بھی تو نہیں کررہا”۔خضر نے جلدی سے کھڑے ہوتے ہوئے بتایا۔
“پتہ ہے مجھے کیا کررہے تھے تم ، وہی کاغذ گندے کرنے میں مصروف ہوگے”۔آسیہ نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
“اسے کاغذ گندے کرنا نہیں ، آرٹ کہتے ہیں”۔خضر نے آہستگی سے نیچے دیکھتے ہوئے کہا۔
“اچھا بس بس ، اب زیادہ لیکچر دینے کی ضرورت نہیں ہے ، اب جلدی سے ڈائنینگ روم میں آؤ ، دوپہر کا کھانا نہیں کھانا کیا ! تمہارے ابو بھی پوچھ رہے ہیں تمہارا”۔آسیہ نے کہا۔اور واپس چلی گئیں۔انکے جانے کے بعد خضر نے جلدی سے وہ کاغذ دوبارہ دراز سے نکالا اور اسے صحیح سے ایک ریجسٹر میں رکھ کر پھر واپس دراز میں اندر کرکے رکھ دیا۔اور جلدی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
********************************
“آج پہلا پیپر تھا ناں تمہارا؟۔صداقت صاحب (والد) نے پوچھا۔سب اس وقت کھانے کی میز پر جمع تھے۔
“جی ابو”۔خضر نے بتایا۔
“ہممم! تو کیسا ہوا پھر؟۔صداقت صاحب نے پوچھا۔
“جی…جی اچھا ہوا”۔خضر نے جھوٹ بولا۔
“ہممم! ازر کی 85 پرسنٹیج آئی تھی ، تمہاری مجھے 95 چاہئے”۔صداقت صاحب نے تقریباً حکم ہی دیا۔
“ج….جی..جی ابو”۔خضر نے اٹکتے ہوئے کہا۔
“ویسے میں رات کو ہادی کیلئے دودھ گرم کرنے اٹھتی ہوں تو اکثر تمہارے کمرے کی لائٹ ان ملتی ہے خضر ، کیا کرتے ہو اتنی رات تک؟۔رخسانہ بھابھی نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔
“جی بھابھی….وہ….میں پڑھ رہا ہوتا ہوں”۔خضر نے جھوٹ بولا۔
“پڑھ رہے ہوتے ہو یا بلاوجہ کاغذ گندے کرنا کا عمل جاری ہوتا ہے؟۔صداقت صاحب نے طنزیہ لہجے میں کہا۔خضر نے کوئی جواب نہیں دیا۔بس نظریں جھکائے پلیٹ میں چمچہ چلاتا رہا۔
“سدھر جاؤ صاحبزادے ، کچھ نہیں رکھا ہے یہ بیکار سی پینٹنگ کی فیلڈ میں ، کوئی آمدنی نہیں ہوتی ہے ان پینٹرز کی ، جبکہ ایک ڈاکٹر کا مستقبل روشن ہی روشن ہوتا ہے”۔صداقت صاحب نے پھر وہی ہمیشہ کا گھساپٹا لیکچر دیا۔
“اچھا آج رات میرے ایک دوست نے مجھے اور رخسانہ کو اپنے گھر دعوت پر بلایا ہے ، تم ہم رات کا کھانا وہیں سے کھا کر آئیں گے”۔ازر نے خضر کی شامت آتی دیکھ جھوٹ بول کر موضوع بدلا۔کیونکہ اس گھر میں بس ایک وہی واحد حمایتی تھا خضر کا۔
“ہیں ! یہ اچانک کونسے دوست نے اور کیوں دعوت دی ہے؟۔آسیہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
“ہے ایک دوست ، آپ نہیں جانتی ، اپنی بیٹی کی پہلی سالگرہ پر دعوت رکھی ہے اس نے”۔ازر نے بتایا۔
“اچھا ! تو میں اپنی وہ پنک والی ساڑھی پہن لوں جو ہادی کے عقیقے پر پہنی تھی؟۔رخسانہ نے خوش ہوکر پوچھا۔
“ہاں پہن لو”۔ازر نے کہا۔کیونکہ انھیں کونسا سچ میں جانا تھا۔ابھی شام تک ازر بہانہ بنانے والا تھا کہ دعوت کینسل ہوگئی ہے۔کیونکہ دعوت ہوتی تو جاتے ناں۔اس نے تو خضر پر سے دھیان ہٹانے کیلئے جھوٹ بولا تھا۔
********************************
سعدیہ نے باتھروم سے نکل کر گھڑی کی جانب دیکھا۔پانچ بج رہے تھے۔بس اب کسی بھی وقت طلحہ آفس سے آنے والا تھا۔اس نے تولیہ اپنی جگہ پر رکھا اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آگئی۔آج اس نے جامنی رنگ کا سوٹ پہنا تھا۔یہ رنگ طلحہ کو بہت پسند تھا۔اس نے پہلے اپنے کندھوں سے تھوڑے نیچے آتے گیلے بال ہیئر ڈرائر کی مدد سے سکھائے۔اور انھیں کھلا ہی چھوڑ دیا۔پھر بہت ہلکا سا میک اپ کرکے کانوں میں چھوٹے چھوٹے گولڈ کے جھمکے پہن لئے۔ہاتھوں میں بھی ایک ایک گولڈ کے کنگن ڈال لئے۔اور گلے میں اپنی وہ ہمیشہ والی چین پہن لی۔اور سوٹ کا ہم رنگ دوپٹہ سلیقے سے اوڑھ کر اب وہ شیشے میں اپنا جائزہ لینے لگی۔شیشہ دیکھتے ہوئے اب اسے احساس ہورہا تھا کہ واقعی اس نے خود پر توجہ دینے چھوڑ دی تھی۔وہ خود کو یکسر فراموش کربیٹھی تھی۔طلحہ نے صحیح کہا تھا۔وہ بدل گئی تھی۔
“پاپا آگئے”۔ وہ ابھی انہی سوچوں میں گم تھی کہ باہر سے مسکان کی آواز آئی۔اسکی آواز سن کر سعدیہ بھی کمرے سے باہر آگئی۔ہال میں اس وقت کوئی نہیں تھا۔اور طلحہ دائیں ہاتھ مسکان کو گود میں لئے اور بائیں ہاتھ میں بریف کیس پکڑے اندر آرہا تھا۔
“السلام و علیکم”۔سعدیہ نے طلحہ کے قریب آتے ہوئے مسکرا کر سلام کیا۔وہ سعدیہ کو اس طرح دیکھ کر حیران رہ گیا۔
“وعلیکم السلام”۔طلحہ نے حیرانگی سے جواب دیا۔
“لائیں اپنا بریف کیس دیں”۔سعدیہ نے بریف کیس مانگا۔طلحہ نے بائیں ہاتھ میں پکڑا بریف کیس اسے پکڑا دیا۔سعدیہ نے بریف کیس لے لیا۔
“اسے نیچے اتاریں اور جاکر فرش ہوجائیں ، میں تب تک آپکے لئے چائے بناتی ہوں”۔سعدیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔اور بریف کیس لے کر اندر چلی گئی۔طلحہ کچھ دیر تو ناسمجھی سے سب سمجھنے کی کوشش کرتا رہا۔پھر مسکان کو گود سے اتار کر وہ بھی فریش ہونے چلا گیا۔
********************************
آفتاب غروب ہوچکا تھا۔اور چاند نکل آیا تھا۔اور اس گھنے جنگل کو چاند نے اپنی چاندنی میں نہلا کر اور وحشت ناک بنایا ہوا تھا۔ابریش بڑی بڑی گھنی جھاڑیوں کے بیچ سے راستہ بناتی ہوئی دیوانہ وار بس بھاگے جارہی تھی۔لاتعداد کانٹیں چبھنے کی وجہ سے اسکے پیر خون خون ہوچکے تھے۔سانسیں اتنی بےترتیب ہورہی تھیں کہ شاید ابھی ہی رک جائیں گی۔پر اگر ابریش ایک سیکنڈ کیلئے بھی رکتی تو وہ سچ مچ اسکی سانسیں روک دیتا جو اسی کی گھات لگائے اسکے پیچھے آرہا تھا۔ابریش بھاگے جارہی تھی کہ کسی نے اسے گردن سے دبوچ لیا۔
“نہیں !۔ابریش چیخ مار کر اٹھ بیٹھی۔اس نے پھر برا خواب دیکھا تھا۔اسکی سانسیں بہت تیز تیز چل رہی تھیں۔دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آجائے گا۔وہ کمرے میں اے سی چلنے کے باوجود پسینے میں شرابور ہورہی تھی۔ابریش نے اپنے جسم پر ہاتھ پھیر کر تسلی کی کہ وہ زندہ ہے۔ابھی تھوڑی دیر قبل اس نے خواب دیکھا تھا۔اس نے بےاختیار شکر کا سانس لیا اور گھڑی کی جانب دیکھا۔جہاں تین بج رہے تھے۔اس نے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل پر سے پانی کی بوتل اٹھائی اور منہ سے لگالی۔پانی پینے کے بعد بوتل واپس رکھی اور اچھی طرح کمبل اوڑھ کر آیت الکرسی پڑھ کر پھر سونے کیلئے لیٹ گئی۔
********************************
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *