Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode24

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode24

“میں کہتا ہوں کھول مجھے”۔وہ مسلسل چلارہی تھی۔فیروزہ نے بلند آواز آیت الکرسی پڑھنا شروع کردی۔
“منہ بند کر بڑھیا”۔ابریش غصے سے اسی آواز میں چلائی۔پر فیروزہ نے اور بلند آواز میں پڑھنا شروع کردیا۔علیزے نے تو باقاعدہ رونا شروع کردیا تھا۔چیختے چیختے اچانک ابریش بےہوش ہوگئی۔
“حیدر یہ سب کیا….؟۔فاریہ نے بس اتنا ہی کہا۔اور رونے لگی۔باقی سب بھی پریشان تھے کہ یہ کیا ہوگیا ؟ اب کیا ہوگا ؟ اب کیا کریں ؟
*********************************
“ممی یہ کیا ہوگیا ہے میری بچی کو؟۔فاریہ فیروزہ کے سینے سے لگ کر رو رہی تھی۔ابریش تب سے ہی بےہوش تھی۔یہ لوگ ہال میں آگئے تھے۔مومنہ نے اسکا چیک اپ بھی کرلیا تھا۔سب نارمل تھا۔ہمدان صاحب نے رانی کو بھیجا کہ جلد از جلد انہی بابا جی کو بلاکر لائے۔سب کا پریشانی سے برا حال تھا۔کہ تب ہی عفان کا فون بجا۔مراد کی کال تھی۔
“ہاں مراد ! بولو؟۔عفان نے کال ریسیو کرکے کہا۔
“یار آج تم دونوں ہی کالج نہیں آئے ، سب خیریت ہے ؟۔مراد نے فکرمندی سے پوچھا۔
“نہیں یار ، کچھ خیر نہیں ہے ، ابریش کی حالت بہت خراب ہے”۔عفان نے کہا۔
“کیا ہوا اسے ؟۔مراد نے تشویش سے پوچھا۔
“پتہ نہیں ! صبح علیزے اسے اٹھانے کمرے میں گئی تو وہ فرش پر بے ہوش پڑی تھی ، اچانک سے ہوش میں آئی تو اسکی آنکھیں سفید ہورہی تھیں انکی پتلیاں غائب تھیں ، اور مردانہ آواز میں سب پر چیخنے چلاتے بےہوش ہوگئی ، اور اب صبح سے دوپہر ہوگئی ہے وہ بےہوش ہی پڑی ہے ،یار وہ ہماری ابریش لگ ہی نہیں رہی ہے”۔عفان نے تفصیل بتائی۔
“اوہ مائی گاڈ ! یہ تو بہت عجیب بات ہے ، خیر کالج کی چھٹی ہوگئی ہے ، میں آرہا ہوں وہاں”۔مراد نے کہا۔
“ٹھیک ہے”۔عفان نے کہا۔اور لائن کاٹ دی۔
*********************************
“کیا ہوا مراد ؟ کیوں نہیں آئے دونوں کالج ؟۔خوشی نے مراد کے کال کٹ کرنے کے بعد پوچھا۔دونوں اس وقت چھٹی کے بعد گراؤنڈ میں موجود تھے۔
“ابریش کی حالت خراب ہے ، اسے کچھ ہوگیا ہے”۔مراد نے بتایا۔
“یااللّه خیر ! کیا ہوگیا ہے ؟۔خوشی نے تشویش سے پوچھا۔مراد نے عفان کی بتائی ساری بات اسے بتادی۔
“اب میں بھی وہیں جارہا ہوں”۔مراد نے بتایا۔
“میں بھی چلوں تمہارے ساتھ پلیز”۔خوشی نے کہا۔
“چلو ، پر تمہارے ابو ؟۔مراد نے کہا۔
“وہ فیکٹری چلے گئے ہیں ، میں انہیں فون کردوں گی”۔خوشی نے بتایا۔
“ٹھیک ہے ، چلو پھر جلدی”۔مراد نے کہا۔اور دونوں جلدی سے باہر کی جانب بڑھے۔
*********************************
بابا جی آچکے تھے۔اور اس وقت ہمدان صاحب ، ارسلان صاحب ، اور حیدر سمیت ابریش کے کمرے میں موجود تھے۔باقی سب باہر ہال میں تشویش زدہ سے بیٹھے ہوئے تھے۔مراد اور خوشی بھی یہاں آچکے تھے۔وہ ہنوز بےہوش تھی۔باب جی نے زیر لب کچھ پڑھنا شروع کیا۔پھر بیڈ کے قریب آکر اسکے ماتھے پر اپنا انگوٹھا رکھ کر کچھ پڑھنے لگے۔یکدم ابریش نے آنکھیں کھول دی۔اسکی آنکھیں ہنوز ویسی ہی تھیں۔
“ہاتھ ہٹا”۔ابریش نے اسی مردانہ آواز میں کہا۔بابا جی ہنوز پڑھتے رہے۔اور وہ مچلتی رہی۔یکدم بیڈ کے سرہانے سے باندھا اسکا ایک ہاتھ کھل گیا۔بس یہی موقع اسکے لئے کافی تھا۔اس نے ایک ہاتھ سے ہی بابا جی کو اتنی زور سے دھکا دیا کہ وہ اڑتے ہوئے دور جاگرے۔ارسلان صاحب جلدی سے بابا جی کو سمبھالنے بھاگے۔جبکہ حیدر اور ہمدان صاحب ابریش کو قابو کرنے لگے۔اور کافی جدوجہد سے اسکا ہاتھ باندھ دیا۔بابا جی بھی تب تک سمبھل کر کھڑے ہوچکے تھے۔وہ پھر بیڈ کے قریب آئے۔
“کون ہے تو ؟ کیوں پیچھے پڑا ہے اسکے ؟۔بابا جی نے غصے سے پوچھا۔
“کسی مقصد آیا ہوں میں یہاں ، تو بیچ میں مت آ”۔ابریش نے اسی آواز میں چلا کر کہا۔
“کس مقصد سے ؟۔بابا جی نے زور سے پوچھا۔
“نہیں بتاؤں گا ، نہیں بتاؤں گا ، چلا جا ، چلا جا “۔ابریش نفی میں سرہلاتے ہوئے چلائی۔
“بتانا تو تجھے پڑے گا”۔بابا جی نے کہا۔اور اپنے گلے میں پہنی مالاؤں میں سے ایک بڑی سی مالا اتاری۔اور زور سے کھنچ کر ابریش کے پیٹ پر ماری۔وہ چلا اٹھی۔حیدر یہ منظر دیکھ کر تڑپ گیا۔
“یہ کیا کررہے ہیں آپ میری بیٹی کے ساتھ ؟۔حیدر نے غصے سے کہا۔
“اس وقت یہ تمہاری بیٹی نہیں ہے ، ایک بری روح ہے”۔بابا جی نے کہا۔
“کچھ بھی ہو ، پر آپ اس پر ہاتھ نہیں اٹھائیں گے”۔حیدر نے انگلی اٹھا کر سختی سے تنبیہ کیا۔
“حیدر سمجھنے کی کوشش کرو بیٹا ، معملے کی نزاکت کو سمجھو ابھی”۔ہمدان صاحب نے سمجھایا۔
“کیا سمجھوں پاپا ؟ یہ جاہل انسان میری آنکھوں کے سامنے اتنی بےدردی سے میری بیٹی کو مار رہا ہے ، اور آپ کہہ رہے ہیں سمجھنے کی کوشش کروں ، اگر اس نے ایک بار بھی اس پر اور ہاتھ اٹھایا تو اچھا نہیں ہوگا”۔حیدر نے ہمدان صاحب سے کہتے ہوئے آخر میں بابا جی کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“بابا ! مجھے کیوں باندھا ہوا ہے ؟ کھولیں مجھے درد ہورہا ہے”۔اچانک ابریش نے روتے ہوئے پکارا۔وہ اپنے اصلی حلیے میں واپس آگئی تھی۔حیدر جلدی سے اسکے ہاتھ کھلنے کیلئے آگے بڑھا۔
“روکو اسے ، سمجھاؤ کہ یہ اسکی بیٹی نہیں ہے ابھی ، شیطان کی چال ہے ، اگر اسے کھول دیا تو یہ چھوڑے گا نہیں ہمیں”۔بابا جی نے ہمدان صاحب سے کہا۔حیدر رک کر ابریش کو دیکھنے لگا جو بےبس نظروں سے مدد کیلئے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“نہیں پاپا ، یہ میری ابریش ہی ہے”۔حیدر نے کہا۔
“اچھا ! تو ذرا آیت الکرسی پڑھو اسکے پاس جاکر”۔بابا جی نے طنزیہ انداز میں کہا۔
“تو باز نہیں آئے گا بڈھے”۔یکدم ابریش پرانے والے انداز میں چلائی۔
“دیکھا ! میں نے کہا تھا ناں!۔بابا جی نے کہا۔اور اگر بڑھ کر ہاتھ میں پکڑی مالا زور سے کھنچ کر پھر اسکے پیٹ پر ماری۔وہ پوری قوت سے چلائی۔
اسکی آوازیں باہر ہال میں بھی آرہی تھیں۔جسے سن کر سب اور پریشان ہورہے تھے۔فاریہ اور علیزے کا تو رونا ہی بند نہیں ہورہا تھا۔
“پاپا پلیز ، اس سے بولیں کوئی دوسرا طریقہ آزمالے ، پر یہ نہ کرے”۔حیدر نے اب التجا کی۔ہمدان صاحب باپ تھے اسی لئے باپ کی تکلیف سمجھ سکتے تھے۔
“بابا جی آپ چِلا کاٹنے کا کہہ رہے تھے ناں ، کہ اس سے یہ مسلہ حل ہوجائے گا ، تو آپ وہ عمل کرلیجئے ، بجائے اسے مارنے کے”۔ارسلان صاحب نے کہا۔
“وہ بھی آج سے شروع کروں گا ، پر ابھی بھی تو اس روح کو بھگانا ہے ناں “۔بابا جی نے کہا۔
“ابھی کچھ نہ کریں ، یہ جیسے بندھی ہوئی ہے اسے ایسے ہی چھوڑ دیں ، آپ بس اپنا عمل شروع کریں ، آپکو جتنے پیسے چاہئے میں دوں گا”۔حیدر نے جلدی سے کہا۔
“ٹھیک ہے ، ابھی میں جارہا ہوں ، رات تک چلا شروع کردوں گا ، پر اس سے پہلے مجھے سامان لانا ہوگا ، جس کیلئے چالیس ہزار درکار ہیں”۔بابا جی نے کہا۔
“میں آپکو پچاس ہزار دے دوں گا ، بس مجھے میری بیٹی واپس چاہئے”۔حیدر نے کہا۔بابا جی نے کچھ نہیں کہا۔بس ایک نظر ابریش پر ڈال کر کمرے سے باہر نکل گئے۔وہ ہنوز خود کو چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے غرا رہی تھی۔بابا جی کے پیچھے یہ تینوں بھی کمرے سے باہر آگئے۔ان لوگوں کو باہر آتا دیکھ ہال میں بیٹھے سب لوگ اپنی اپنی جگہوں پر کھڑے ہوگئے۔
“کیا ہوا حیدر ؟ ابریش ٹھیک ہوئی ؟۔فاریہ نے بےتابی سے پوچھا۔
“نہیں ، پر یہ رات کو عمل شروع کریں گے تو وہ ٹھیک ہوجائے گی”۔حیدر نے بتایا۔بابا جی بنا کوئی بات چیت کیے باہر کی جانب بڑھ گئے۔
*********************************
دوپہر سے شام ہوگئی تھی۔اور مراد کے بتانے پر اب تو احمر اور ناہید بھی “علی ولا” آگئے تھے۔ابریش ابھی بےہوش تھی یا سورہی تھی۔پر اسکی حالت میں کوئی سدھار نہیں آیا تھا۔سب ویسے ہی فکرمند تھے۔حیدر نے رانی کے ہاتھوں بابا جی کو پچاس ہزار بھی بھیجوادیے تھے کہ وہ جلد از جلد عمل شروع کریں۔جب احمر کو یہ بابا وغیرہ کا پتہ چلا تو اس نے ان لوگوں کو ٹوکا کہ یہ کن چکروں میں پڑرہے ہو ؟ پر انہیں تو ہر حال میں ، میں ہر قیمت پر اپنی بیٹی صحیح سلامت واپس چاہئے تھی۔اسی لئے احمر خاموش ہوگیا۔خوشی بھی ابھی تک یہاں ہی تھی۔دیکھتے دیکھتے عصر سے مغرب بھی ہوگئی۔اس دوران ابریش وقفے وقفے سے اٹھتی چیختی چلاتی شور مچاتی اور پھر بےہوش ہوجاتی۔فاریہ بھی اب رو رو کر تھک چکی تھی۔کیونکہ اب اندھیرا ہونے لگا تھا اسی لئے اصغر صاحب خوشی کو لینے آگئے تھے۔حیدر وغیرہ سے انھوں نے سرسری سی عیادت کی اور خوشی کو لے کر چلے گئے۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے عشاء بھی ہوگئی۔اب احمر ناہید اور مراد بھی جاچکے تھے۔حالت ایسے تھے کہ کسی کو بھی بھوک نہیں لگ رہی تھی۔لہٰذا ارسلان صاحب نے کو کہا کہ اب تھوڑی دیر سب اپنے اپنے کمروں میں آرام کرلیں صبح سے سب پریشان گھوم رہے تھے۔لہٰذا سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔
*********************************
فاریہ اپنے کمرے میں جائے نماز پر بیٹھی دونوں ہاتھوں میں سرجھکائے مسلسل روئے جارہی تھی۔حیدر ابھی ابھی کمرے میں آیا تھا۔فاریہ کو ایسے دیکھ کر وہ اسکے قریب ہی بیٹھ گیا۔
“بس کرو ، تمہارے رونے سے وہ ٹھیک نہیں ہوجائے گی”۔حیدر نے نرمی سے کہا۔فاریہ نے سر اٹھا کر حیدر کی جانب دیکھا۔اسکی آنکھیں اور ناک سرخ ہورہی تھیں۔اور چہرہ آنسوؤں سے تر۔
“ہوجائے گی ، میرے رونے سے وہ ٹھیک ہوجائے گی ، میں تو صرف ایک دنیاوی ماں ہوں حیدر ، اور مجھ سے اسکی تکلیف برداشت نہیں ہورہی ہے ، تو ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرنے والا اللّه کیسے اسے تکلیف میں چھوڑ دے گا ، اور ماں کی دعائیں کبھی رد نہیں ہوتی”۔فاریہ نے پریقین لہجے میں کہا۔حیدر نے ایسے ہی بیٹھے بیٹھے اسے سینے سے لگایا۔
“وہ کتنا کہتی رہی ہم سے کہ اسکے ساتھ عجیب سی باتیں ہورہی ہیں ، یہ سب اسکا وہم نہیں ہے ، پر ہم نے نہیں مانا ، اگر اسکی بات مان لی ہوتی تو آج وہ اس حالت میں نہ ہوتی”۔فاریہ نے کہا۔
“ہممم! پر اب گزری باتوں پر پچھتانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ، بس اللّه پاک پر یقین رکھ کر دعا کرو اسکے لئے”۔حیدر نے کہا۔
*********************************
رات کے تین بج چکے تھے۔آدھے لوگ اپنے اپنے کمروں میں تھے۔اور ہمدان صاحب ، فیروزہ ، حیدر ، فاریہ ، فیضان ، انعم اور عفان ابریش کے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔اور سب دل ہی دل میں دعائیں کررہے تھے کہ بس خیر سے صبح ہوجائے اور ابریش ٹھیک ہوجائے۔وہ ابھی بےہوش تھی۔عفان بغور اسکو دیکھنے لگا۔بس ایک ہی دن میں وہ برسوں کی بیمار لگ رہی تھی۔عفان کو بےاختیار اپنے اور ابریش کے درمیان ہونے والی ایک ضد بحث یاد آگئی۔جو خضر کی مدد کرنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔
“یہ جو ہمدردی میں آکر ہر کسی کی مدد کرنے کی عادت ہے ناں تمہاری ، دیکھنا ایک دن تمھیں لے ڈوبے گی ، بہت نقصان اٹھاؤ گی تم”۔عفان نے پیچھے مڑ کر ابریش کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“اگر کبھی ڈوبی بھی ناں ، تو مدد کیلئے کم از کم تمہیں نہیں پکاروں گی”۔ابریش نے بھی غصے سے کہا۔عفان کے ذہن میں سارا منظر تازہ ہوگیا تھا۔
“کاش ! میں تمہاری مدد کرپاتا آج”۔عفان نے دل میں تاسف سے سوچا۔
*********************************
سورج کی نرم گرم سی کرنیں کھڑکی پر ڈلے پردوں سے چھن چھن کر کمرے میں داخل ہوتے ہوئے صبح ہونے کی اطلاع دے رہی تھیں۔پرندے بھی رزق کی تلاش میں رازق پر توکل کرکے اپنے اپنے آشیانوں سے نکل چکے تھے۔
سب لوگ صوفوں پر بیٹھے بیٹھے ہی سوگئے تھے۔اور اب آہستہ آہستہ بیدار ہونا شروع ہوئے تھے۔سب سے پہلے فاریہ اٹھ کر بیڈ پر ابریش کے پاس آئی۔اور اسکے چہرے کو چھو کر دیکھنے لگی۔جو کر بالکل سرد ہورہا تھا۔
“حیدر ! اس نے رات سے کوئی حرکت نہیں کی ہے”۔فاریہ نے تشویش سے کہا۔حیدر بھی اٹھ کر بیڈ پر آیا۔اور اسکے ماتھے اور گردن پر ہاتھ رکھ کر دیکھا۔
“ابریش ! ابریش ! آنکھیں کھولو بیٹا”۔حیدر نے اسکے گال تھپتھپاتے ہوئے پکارا۔پر اس نے کوئی چنبش نہیں کی۔
“جلدی سے اسکیتھسکوپ لے کر آؤ فاریہ”۔حیدر نے کہا۔وہ جلدی سے باہر کی جانب بڑھی۔اور اسکیتھسکوپ لا کر حیدر کو دیا۔اس نے اسکیتھسکوپ کان پر لگا کر ابریش کی دھڑکنیں چیک کی۔جو کہ بہت ہی مدھم چل رہی تھیں۔
“کیا ہوا ؟۔فاریہ نے تشویش سے پوچھا۔
“ہارٹ بیٹ بہت سلو ہے اسکی”۔حیدر نے اسکیتھسکوپ کان سے ہٹاتے ہوئے بتایا۔
“اب کیسی ہے ابریش ؟۔ارسلان صاحب نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔انکے پیچھے باقی سب بھی تھے۔
“ابھی تک بےہوش ہے ابو”۔فیضان نے بتایا۔
“ان بابا جی کا تو کوئی پتہ کرو ، عمل شروع کیا کیا انھوں نے شہلا نے کہا۔
“ہاں ، میں رانی کو بھیجتا ہوں کسی کے ساتھ ، معلوم کرنے کیلئے”۔ہمدان صاحب نے کہا۔
“میں چلا جاتا ہوں دادا جی”۔عفان نے کہا۔اور کمرے سے باہر نکل گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *