Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode11

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode11

سعدیہ کمرے میں داخل ہوئی تو “حسب معمول” طلحہ اسے بیڈ پر سرہانے سے ٹیک لگا کر بیٹھا ، لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ لئے موبائل پر ٹائپنگ کرتا ہوا ملا۔سعدیہ بھی خاموشی سے اپنی واحد چین اتار کر آکے بیڈ پر بیٹھ گئی۔اور کمبل کی سلوٹوں سے کھیلنے لگی۔وہ طلحہ سے کچھ بات کرنا چاہ رہی تھی۔جسے طلحہ نے بھی محسوس کرلیا تھا۔پر جان بوجھ کر انجان بنا ہوا تھا۔
“بات سنیں!۔سعدیہ نے ہمت کرکے پکارا۔پر طلحہ ہنوز انجان بنا رہا۔
“طلحہ ! آپ سے بات کررہی ہوں میں”۔سعدیہ نے دوبارہ کہا۔
“ہممم! بولو”۔طلحہ نے نظریں موبائل پر جمائے ہی کہا۔
“وہ ایک ہفتے بعد نادیہ (چھوٹی بہن) کی منگنی ہے ، تو امی چاہ رہی ہیں کہ میں کل سے ہی رکنے آجاؤں”۔سعدیہ نے بتایا۔
“تو ! میں کیا کروں؟۔طلحہ نے آئبرو اچکا کر سپاٹ لہجے میں بنا اسکی جانب دیکھے پوچھا۔
“آپ سے اجازت چاہئے ، کہ چلی جاؤں بچوں کو لے کر امی کے گھر؟۔سعدیہ نے بتاتے ہوئے پوچھا۔
“میری کوئی اہمیت تھوڑی ہے تمہاری نظروں میں ، میں کون ہوتا ہوں تمھیں کچھ کہنے والا ، تمہارا جو دل چاہے کرو ، آئی ڈونٹ کیئر”۔طلحہ نے طنزیہ انداز میں اس کی جانب دیکھ کر کہا۔اور بنا اسکا جواب سنے منہ تک کمبل اوڑھ کر دوسری جانب کروٹ لے کر لیٹ گیا۔سعدیہ کچھ لمحے ایسے ہی اس کمبل میں لپٹے وجود کو دیکھتی رہی۔پھر ایک ٹھنڈی آہ بھر کر آنسو ضبط کرتے ہوئے وہ بھی سونے کیلئے لیٹ گئی۔
*******************************
معمول کے مطابق سب سٹوڈنٹس کلاس لے کر بریک تک کینٹین اور گراؤنڈ کی جانب جارہے تھے۔ابریش بھی معمول کے مطابق کینٹین پر آئی۔
“السلام و علیکم خوشی”۔ابریش نے کاؤنٹر پر آکر کہا۔
“وعلیکم السلام”۔خوشی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“کیا بات ہے خوشی ! کچھ دنوں سے تم مجھے بہت اپ سیٹ لگ رہی ہو ، کوئی مسلہ ہے تو مجھے بتاؤ ، شاید میں تمہاری کچھ مدد کردوں”۔ابریش نے دوستانہ لہجے میں کہا۔
“نہیں یار ، ایسی کوئی بات نہیں ہے ، تمہارا وہم ہوگا”۔خوشی نے جھوٹ بولا۔
“ٹھیک ہے ، مت بتاؤ ، تم دوست سمجھتی ہی نہیں ہو ، ورنہ بتادیتی”۔ابریش نے ناراضگی سے کہا۔اور جانے کیلئے پلٹی۔
“اچھا رکو ابریش ، بتاتی ہوں”۔خوشی نے جلدی سے کہا۔ابریش رک کر پلٹی اور دوبارہ کاؤنٹر کے قریب آئی۔
“بتاؤ جلدی سے”۔ابریش نے کہا۔
“ایسے نہیں ، اندر آؤ”۔خوشی نے کاؤنٹر سے اندر آنے والا چھوٹا سا گیٹ کھولتے ہوئے کہا۔اسکے ابو اس وقت کینٹین میں نہیں تھے۔ابریش اندر آگئی۔
“بیٹھو”۔خوشی نے ایک کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ابریش اس پر بیٹھ گئی۔خوشی بھی ابریش کی جانب رخ اور کاؤنٹر کی جانب پشست کرکے کھڑی ہوگئی۔
“بات دراصل یہ ہے ابریش کہ تم جانتی تو ہو کہ ابو صبح سے لے کر دوپہر تک یہاں کام کرتے ہیں ، پھر دوپہر سے لے کر رات تک اوور ٹائم ملا کر ایک فیکٹری میں کام کرتے ہیں ، اور اتنی محنت وہ صرف اسی لئے کرتے ہیں تا کہ میں ڈاکٹر بن سکوں”۔خوشی نے کہا۔
“ہاں جانتی ہوں ، تو پھر؟۔ابریش نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“تو یہ کہ جس فیکٹری میں وہ کام کرتے تھے اسکے مالک کو کچھ نقصان ہوگیا ہے ، جس کی وجہ سے فیکٹری بند ہوگئی ہے ، میری فیس کیلئے ابو نے ایک جگہ کمیٹی ڈالی ہوئی تھی ، پر فیکٹری بند ہونے کی وجہ سے وہ کمیٹی بھر نہیں پائے ، اور دیکھتے ہی دیکھتے سیمیسٹرز آگئے ، اب اگر میری فیس نہیں بھری گئی تو میں سیمیسٹرز میں نہیں بیٹھ پاؤں گی، اور میری ساری محنت ، یہ پورا سال سب ضائع ہوجائے گا ، بس اسی لئے پریشان ہوں”۔خوشی نے نظریں اپنی انگلیوں پر جمائے انگلیاں مروڑتے ہوئے ساری بات بتائی۔
“بس ، اتنی سی بات کو لے کر پریشان تھی تم!۔ابریش نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“یہ آپ بڑے لوگوں کیلئے اتنی سی بات ہے ، ہم غریبوں کیلئے بہت بڑی بات ہے”۔خوشی نے پھیکی سی ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔
“اتنی زور سے تھپڑ ماروں گی ناں ابھی ، خبردار جو اگر تو نے دوبارہ یہ بڑے چھوٹے کی بات کی تو”۔ابریش نے خوشی کے بازو پر مکا مارتے ہوئے کہا۔
“اچھا سوری بھئی ، اب نہیں بولوں گی”۔خوشی نے کہا۔
“تم فکر مت کرنا ، نہ تمہارا سال ضائع ہوگا ، اور نہ تمہاری محنت ، میں آج ہی مما سے بات کرتی ہوں”۔ابریش نے کہا۔
“نہیں ابریش ، اگر ایسا ہی کرنا ہوتا تو میں بہت پہلے ہی تم سے یہ بات کہہ دیتی ، پر میں نے یہ سب تمہارے بار بار اسرار پر اور اپنا بوجھ ہلکا کرنے کیلئے تمھیں بتایا ہے ، اسی لئے نہیں کہ تم…….!۔
“بوجھ ہلکا کرنے کیلئے بتایا ہے ناں ، تو بوجھ ہی ہلکا کررہی ہوں”۔ابریش نے خوشی کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
“نہیں ابریش ، مجھے اچھا نہیں لگے گا”۔خوشی نے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا۔
“اچھا ادھار سمجھ کر لے لو ، بعد میں جب ہوں گے تو واپس کردینا ، یہ ٹھیک ہے”۔ابریش نے خوشی کی خوداری کو مدنظر رکھتے ہوئے تجویز پیش کی۔خوشی چند لمحے خاموشی سے ابریش کو دیکھتی رہی۔پھر اچانک اسکے گلے لگ گئی۔
“کہیں سنا تھا کہ مصیبت میں کام آنے والے اچھے دوست اللّه پاک کی بہت بڑی نعمت ہوتے ہیں ، آج دیکھ بھی لیا ، تھینک یو یار”۔خوشی نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔ابریش نے کچھ نہیں کہا۔بس مسکرا کر اسکی پیٹھ سہلانے لگی۔
“ٹک ٹک ٹک ، اگر آپ لوگوں کو رومانس سے فرصت مل گئی ہو تو پلیز کسٹمر کو بھی دیکھ لیں”۔مراد نے چابی سے کاؤنٹر بجاتے ہوئے کہا۔دونوں جلدی سے الگ ہوگئیں۔
*******************************
ابریش اب کینٹین سے واپس جارہی تھی۔
“ابریش جی !۔خضر نے قریب آتے ہوئے کہا۔
“السلام و علیکم”۔خضر نے کہا۔
“وعلیکم السلام”۔ابریش نے بھی ساتھ چلتے ہوئے جواب دیا۔
“میں نے آپکو کہا تھا ناں کہ اپنے بنائے ہوئے اسکیچیز اور پینٹنگ دیکھاؤں گا ، تو وہی لے کر آیا ہوں”۔خضر نے بتایا۔
“اچھا لے بھی آئے!۔ابریش نے حیرانگی سے کہا۔
“جی ، چلیں گراؤنڈ میں چلتے ہیں پھر دیکھاتا ہوں”۔خضر نے کہا۔
“ٹھیک ہے ، چلو”۔ابریش نے بھی کہا۔اور دونوں گراؤنڈ کی جانب آنے لگے۔ابریش نے تو کل اخلاقاً ہی موضوع بدلنے کیلئے یہ بات بولی تھی۔پر اسے امید نہیں تھی کہ خضر سچ مچ یہ سب لے بھی آئے گا۔گراؤنڈ میں آکر دونوں ایک پیڑ کے نیچے بیٹھ گئے۔خضر نے اپنے کاندھے سے بیگ اتارا اور اس میں سے کچھ فولڈ ہوئے کاغذ نکالے۔
“یہ دیکھیں ، یہ میرا بنایا سب سے پہلا اسکیچ ، جب میں دس سال کا تھا تب بنایا تھا میں نے یہ اسکیچ”۔خضر نے ایک اسکیچ سامنے کرتے ہوئے بتایا۔اس اسکیچ میں ایک آدمی اور عورت دو بچوں کے ہمرا کھڑے تھے۔اور ساتھ ہی ان لوگوں کے نام بھی لکھے ہوئے تھے۔
“یہ میری فیملی ہے ، یہ میرے ابو ہیں صداقت احسان ، یہ امی ہیں ، آسیہ صداقت ، یہ میرا بڑا بھائی ہے عذر ، اور یہ میں ہوں خضر”۔اس نے اسکیچ میں سب کا تعارف کرایا۔
“یہ میری بنائی ہوئی پہلی پنٹنگ ہے ، گیارہ سال کی عمر میں بنائی تھی یہ میں نے”۔خضر نے بتایا۔پھر یک کے بعد دیگر اسکیچیز اور پنٹنگ خضر اسے دیکھاتا رہا۔اور بتاتا بھی رہا کہ کونسی پینٹنگ کب بنائی تھی۔یہ سب دیکھاتے ہوئے خضر کوئی معصوم سا بچہ لگ رہا تھا۔جیسے کتنے عرصے بعد اسے کوئی باتیں شیئر کرنے والا دوست ملا ہو۔اور اگر خضر ایک سیکنڈ کیلئے بھی رکا تو شاید یہ دوست چلا جائے گا۔ابریش رول کھاتے ہوئے سب دیکھتی رہی۔
“واہ یار ، تم تو بہت زبردست اسکیچ آرٹسٹ اور پینٹر ہو ، میں تو اگر ساری زندگی بھی لگا دوں تو اسکا آدھا بھی نا بنا پاؤں”۔ابریش نے کہا۔
“تھینک یو”۔خضر نے سب کاغذ واپس فولڈ کرتے ہوئے کہا۔
“تمہاری فیملی میں بس تم چار لوگ ہی ہو؟ابریش نے پوچھا۔
“نہیں ، بڑے بھائی کی شادی ہوگئی ہے ، تو پہلے چار سے پانچ ہوئے ، اور ابھی ایک سال پہلے ہی پانچ سے چھے ، مطلب میرے بھائی کا بیٹا ہوا ہے”۔خضر نے بتایا۔
“اوہ اچھا اچھا”۔ابریش نے رول کھا کر ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا۔
“ویسے اگر برا نا مانوں تو ایک بات بولوں؟۔ابریش نے پوچھا۔
“جی جی بولیں”۔خضر نے کہا۔
“میں برائی نہیں کررہی ، نا ہی طنز مار رہی ہوں ، بس جو محسوس کیا ہے وہ کہہ رہی ہوں ، کلاس میں تمہاری کارکردگی دیکھ کر ، اور یہاں یہ سب دیکھ کر جہاں تک مجھے اندازہ ہوا ہے کہ تمھیں ڈاکٹر کی فیلڈ میں دلچسپی نہیں ہے ، تمہاری دلچسپی کہیں اور ہے ، ٹھیک کہا ناں !۔ابریش نے تہمید باندھتے ہوئے تائید چاہی۔
“جی ، دراصل مجھے اسکیچ آرٹسٹ اور پینٹر بننے کا شوق تھا ، پر میرے والدین کا کہنا ہے اس سے مجھے مستقبل میں کچھ فائدہ نہیں ہوگا ، اس لئے ان کی خواہش تھی کہ میں بھی بھیا کی طرح ڈاکٹر بنوں ، تو پھر اس طرح میں یہاں آگیا”۔خضر نے گھانس نوچتے ہوئے بتایا۔
“اوہ ! اچھا”۔ابریش نے تاسف سے کہا۔
“تھینک یو”۔خضر نے کہا۔
“ہیں ! تھینک یو ! پر کس لئے؟۔ابریش نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“اتنی دیر میرے ساتھ بیٹھ کر میری بات سنی تم نے ، اوہ سوری آپ نے”۔خضر نے کہا۔
“اوہ ! کوئی بات نہیں خیر ہے ، اور تم مجھے “تم” بھی کہہ سکتے ہو”۔ابریش نے کہا۔
“تھینکس”خضر نے کہا۔
“دراصل میں نے جب سے کالج جوائن کیا ہے ، تمہارے سوا کوئی مجھ سے ٹھیک سے بات ہی نہیں کرتا ہے ، پتہ نہیں کیوں ؟۔خضر نے پھر گھانس نوچتے ہوئے کہا۔
“ہممم! ہوتا ہے اکثر ایسا ، کہ سٹوڈنٹس جلد ہی کسی نئے آنے والے سٹوڈنٹ سے فرینک نہیں ہوتے ، آہستہ آہستہ دوستی ہوجائے گی تمہاری سب سے”۔ابریش نے کہا۔خضر خاموشی سے گھانس نوچتا رہا۔
اچھا اگر برا نا مانوں تو ایک بات کہوں!۔ابریش نے پوچھا۔
“ہاں ہاں ضرور”۔خضر نے کہا۔
“تمھیں پتہ ہے ، اسلام میں تصویر کشی کرنا حرام ہے”۔ابریش نے بتایا۔
“کیا !۔خضر نے حیرانگی سے کہا۔
“ہاں ، اور اس حوالے سے کچھ حدیث بھی موجود ہیں جیسے
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
[qh]( قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً)[/qh](صحیح البخاری، اللباس، باب نقض الصور، ح:5953، 7559 وصحیح مسلم، اللباس، باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان …،ح:2111)
“اللہ تعالی فرماتا ہے: اس سے بڑا ظالم کون ہو گا جو میری تخلیق جیسی تخلیق کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے لوگ ایک ذرہ، ایک دانہ یا ایک جو ہی بنا کر دکھلائیں۔”(2)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہھا سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
[qh](أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ القِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ)[/qh](صحیح البخاری، اللباس، باب ما وطئی من التصاویر، ح:5954 و صحیح مسلم، اللباس، تحریم تصویر صورۃ الحیوان …، ح:2107)
“قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو ہو گا جو (چیزوں کو بنانے اور پیدا کرنے میں) اللہ تعالی کی تخلیق کی مشابہت کرتے ہیں۔”(3)
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
[qh](كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ، يَجْعَلُ لَهُ، بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا، نَفْسٌ يُّعَذِّبُ بِهَا فِي جَهَنَّمَ)[/qh](صحیح البخاری، البیوع، باب بیع التصاویر التی لیس فیھا روح…، ح:2225، 5963، 7042 و صحیح مسلم، اللباس، باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان …، ح:2110)
“ہر مصور جہنم میں جائے گا۔ اس کی بنائی ہوئی ہر تصویر کے بدلے میں ایک جان بنائی جائے گی جس کے ذریعہ سے اس (مصور)کو جہنم میں عذاب دیا جائےگا۔”(4)
ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
([qh]مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ)[/qh](صحیح البخاری، اللباس، باب من صور صورۃ کلف یوم القیامۃ…، ح:5963 وصحیح مسلم، اللباس، باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان …، ح:2110)
“جس نے دنیا میں کوئی تصویر بنائی ، اسے قیامت کے دن اس تصویر میں روح پھونکنے کا حکم دیا جائے گا مگر وہ اس میں روح ہر گز نہ پھونک سکے گا۔”(5)
ابو الھیاج اسدی کہتے ہیں علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا:
([qh](أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَدَعَ صُورَةٌ إِلَّا طَمَسْتَهَا وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ)[/qh](صحیح مسلم، الجنائز، باب الامر بتسویۃ القبر، ح:969)
“کیا میں تمہیں اس کام پر نہ بھیجوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا ۔ وہ یہ کہ تم کسی تصویر کو مٹائے بغیر اور کسی بلند قبر کو زمین کے برابر کیے بغیر نہ چھوڑنا”۔(6)
ابریش نے حوالے دے کر سمجھایا۔
“تمہاری بات ٹھیک ہے ، پر میں نعوذباللّه شرک کی نیت سے یہ تصویریں نہیں بناتا”۔خضر نے کہا۔
“ہاں تمہاری بات ٹھیک ہے ، پر اتنے حدیثوں میں جب ممنوع قرار دیا گیا ہے تو بحث کی گنجائش ہی نہیں بچتی ، اور علما کرام کی بہت بڑی اکثریت اس بات کی تصدیق کرتی ہے ، اور اگر تمھیں میری بات پر بھروسہ نہیں تو کسی عالم دین سے اسکے بارے میں رائے لے لو ، تمھیں پتہ ہے سعودیہ عرب میں تصویر بنانا جرم ہے ، اور خاص طور پر جاندار کی آنکھیں ، اگر کبھی پڑھائی کے دوران کسی ٹیچر کو تصویر کی ضرورت پیش آجائے تو ٹیچر کو بس اتنے اجازت ہوتی ہے کہ بنا آنکھوں کے تصویر بنالیں ، اور جلد از جلد اسے مٹا دیں”۔ابریش نے بتایا۔
“ہممم! تو اب میں کیا کروں پھر؟۔خضر نے تاسف سے پوچھا۔
“اب تم ایسا کرو کہ کسی جاندار کی تصویر مت بنانا ، کبھی زیادہ دل چاہے ، تو سمندر کی ، پہاڑوں کی ، گھروں کی تصویر بنالینا ، پر جاندار کی تصویر سے گریز کرنا”۔ابریش نے سمجھایا۔
“ہممم! کوشش کروں گا ، تھینکس بتانے کیلئے”۔خضر نے کہا۔
“کوئی بات نہیں ، اچھا اگر تم برا نہ مانو تو ایک اور بات پوچھوں؟۔ابریش نے پوچھا۔
“ہاں ہاں بالکل اس میں اجازت لینے والی کونسی بات ہے”۔خضر نے کہا۔
“تمہاری فیملی میں سب کی آنکھیں ایسی ہی ہیں جیسی تمہاری ہیں ، بلی جیسی؟۔ابریش نے جھجھکتے ہوئے پوچھا۔
نہیں ، صرف میری ہی آنکھیں ایسی ہیں ، امی بتاتی ہیں جب میں پیدا ہوا تھا ، اور میں نے پہلی مرتبہ آنکھیں کھولی تھیں ، تو سب مجھے دیکھ کر پریشان ہوگئے تھے ، پھر کافی ڈاکٹروں سے میرے والدین نے اس بارے میں رائے لی ، تو ڈاکٹرز نے کہا کہ سو فیصد انسانوں میں سے ایک فیصد انسانوں کی آنکھیں قدرتی طور پر ایسی ہوتی ہیں ، اس میں کوئی پریشان ہونے والی بات نہیں ہے ، میرے گھر والے تو سمجھ گئے ، پر ہر کوئی تو نہیں سمجھ سکتا ناں ، اسی لئے میری ڈراؤنی آنکھوں کی وجہ سے بچپن میں بچے مجھے اپنے ساتھ نہیں کھیلاتے تھے ، کوئی مجھ سے دوستی نہیں کرتا تھا ، اور وہی سب اب تک میرے ساتھ ہورہا ہے”۔خضر نے پھیکی سی ہنسی ہنستے ہوئے بتایا۔
“اوہ ! تو یہ کوئی عیب تو نہیں ہے جو لوگ تم سے دور بھاگتے ہیں ، بلکہ یہ تو تمھیں قدرت کا عطا کردہ ایک خوبصورت تحفہ ہے ، جو تمھیں باقی سب سے منفرد بناتا ہے ، لوگ تو نقلی لینس لگاتے ہیں اپنی آنکھیں خوبصورت بنانے کیلئے ، پر تمھیں قدرتی طور پر ایسی آنکھیں ملی ہوئی ہیں”۔ابریش نے کہا۔
“لوگ لینس لگاتے ہیں خوبصورت بننے کیلئے ، میری طرح ڈراؤنا بننے کیلئے نہیں”۔خضر نے پھیکی پن سے ہنستے ہوئے کہا۔
“اب اتنی بھی بری نہیں ہیں تمہاری آنکھیں ، خیر اگر تم ان کے ساتھ ایزی فیل نہیں کرتے تو سادے سے لینس لگالو ، جس سے تمہاری آنکھیں عام لوگوں کی طرح لگیں”۔ابریش نے کہتے ہوئے مشورہ دیا۔
“لگائی تھی ایک دو بار ، پر اس میں بھی الجھن ہونے لگی تھی تو نکال دی”۔خضر نے بتایا۔
“ارے چھوڑو ، تم جیسے ہو ٹھیک ہو ، تمھیں بھی باقی سب کی طرح اللّه پاک نے بنایا ہے ، اور اللّه پاک کی بنائی ہوئی کوئی بھی چیز کبھی عیب دار نہیں ہوسکتی ، اسی لئے لوگوں کی باتوں پر دھیان مت دو ، تم جیسے ہو بالکل ٹھیک ہو”۔ابریش نے سمجھایا۔خضر مسکرادیا۔
“خیر ، چلیں کلاس کا ٹائم ہونے والا ہے”۔ابریش نے بیگ کاندھے پر ڈالتے ہوئے کہا۔
“ہاں ، چلتے ہیں”۔خضر نے بھی اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے کہا۔دونوں اٹھ کر کلاس کی جانب جانے لگے۔اور پیڑ کے عقب میں کھڑا مراد بھی کلاس کی جانب چلا گیا۔
*****************************
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *