Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode33

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode33

“یار یہ تو کوئی پینٹنگ کی ایگزیبیشن لگ رہی ہے”۔عفان نے آس پاس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔مراد تینوں کو کسی میوذیم ٹائپ کی جگہ پر لے کر آیا تھا۔
“مراد اب بتا بھی دو کہ آخر تم ہمیں یہاں کیوں لے کر آئے ہو”۔ابریش نے کہا۔
“ایک تو تم تینوں کی جان میں ذرا بھی صبر نہیں ہے ، پورے راستے بھی یہی سوال پوچھ پوچھ کر دماغ کھاگئے تم لوگ میرا”۔مراد نے کہا۔
“ہاں تو بتا دو تم ایک بار ، ہم نہیں پوچھیں گے بار بار ، ہمیں بھی کوئی شوق نہیں ہے حرام چیزیں کھانے کا”۔عفان نے کہا۔
“چپ رہو تھوڑی دیر ، بتاتا ہوں ابھی”۔مراد نے کہا۔اور متلاشی نظروں سے یہاں وہاں کسی کو دیکھنے لگا۔کہ تب ہی اسے ایک جانب ازر اپنی فیملی کے ساتھ نظر آیا۔مراد اس کی جانب بڑھا۔جبکہ یہ تینوں آس پاس لگی پینٹنگز کا جائزہ لینے لگے۔
“السلام و علیکم”۔مراد نے ازر سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
“وعلیکم السلام ، لے آیا میں وعدے کے مطابق امی ابو کو”۔ازر نے آسیہ اور صداقت صاحب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“بہت شکریہ آپکا ، کہ آپ نے میری بات رکھی”۔مراد نے کہا۔
ایکسکیوزمی لیڈیز اینڈ جینٹلمینٹ ، پلیز اٹینشن”۔اسٹیج پر ایک لڑکے نے مائک پر اناؤنسمینٹ کی۔سب اس کی جانب متوجہ ہوگئے۔
“جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ ہماری آرٹ گیلری ہار سال ایک مقابلہ منعقد کرتی ہے ، ہمارے نئے آنے والے پینٹرز کیلئے ، اور مقابلے میں حصہ لینے والی تین تصویروں کو سال کی بہترین تصویر قرار دے کر ان مصوروں کو انعام سے نوازا جاتا ہے ، تا کہ انکی حوصلہ افزائی ہوسکے ، تو اپنی اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ، آئیے اس سال کے تین بہترین مصوروں کو انعام سے نوازا جائے”۔لڑکے نے تفصیل بتائی۔اور ساتھ ہی کچھ لوگوں نے اسٹیج پر تین اسٹینڈ بھی لاکر رکھ دیے۔جن پر رکھی تصویریں سرخ رنگ کے کپڑے سے ڈھکی ہوئی تھیں۔
“تو اس سال جس تصویر نے تیسری پوزیشن اور پچاس ہزار کا انعام جیتا ہے ، وہ ہے یہ”۔لڑکے نے مائک ہاتھ میں لئے کہا اور ساتھ ہی تصویر پر سے کپڑا ہٹایا۔سب تالیاں بجانے لگے۔
“اور اسکے پینٹر کا نام ہے ، مسٹر انیب رضوی ، زوردار تالیاں انکے لئے”۔لڑکے نے بتایا۔سب تالیاں بجانے لگے۔اور ایک کمسن سا لڑکا اسٹیج پر آیا۔جسے ایک گلدستہ اور پچاس ہزار کا چیک دیا گیا۔اور ساتھ ہی مائک بھی کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار کرسکے۔لڑکے نے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور اسٹیج سے اتر گیا۔اسی طرح دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی حمیرا نامی لڑکی کو بھی اسٹیج پر بلا کر پیچھتر ہزار کا چیک اور گلدستہ دیا گیا۔
“اور اب باری ہے اس مصور کی ، جس کی تصویر نے اس سال پہلی پوزیشن اور ایک لاکھ کا انعام جیتا ہے ، انکی بنائی گئی قدرتی منظر کی تصویریں ویسے آج کل کافی پسند بھی کی جارہی ہیں ،تو زوردار تالیاں مسٹر خضر احسان کیلئے”۔لڑکے نے کہا۔اور ساتھ ہی تصویر پر سے کپڑا بھی ہٹادیا۔تصویر میں بہت ہی خوبصورتی سے خدا کے قدرتی نظاروں کو پیش کیا گیا تھا۔ ہال ایک بار پھر تالیوں سے گونج اٹھا۔اور ان لوگوں کو تو اپنی سماعتوں پر یقین ہی نہیں آرہا تھا۔اور رہے سہے ہوش تو ان لوگوں کہ تب اڑے جب خضر مسکراتا ہوا اسٹیج پر انعام لینے آیا۔سب ہکابکا سے اسے دیکھ رہے تھے۔لڑکے نے خضر کو گلدستہ اور چیک دیتے ہوئے مائک دیا۔خضر نے مسکرا کر چیزیں تھامی۔اور سب لوگوں سے گویا ہوا۔
“السلام و علیکم ، سب سے پہلے تو اللّه پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے اس صلاحیت سے نوازا ، اور پھر میرے دوست مراد کا ، اگر وہ صحیح وقت پر میری رہنمائی نہ کرتا تو آج شاید میں یہاں نہیں ہوتا ، اور پھر آپ سب کا کہ میری محنت کو سراہا ، میں زیادہ کچھ نہیں پر سب سے ایک بات کہنا چاہوں گا کہ حالت چاہے کیسے بھی ہوں ، کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہئے ، شکریہ”۔خضر نے کہا۔اور لڑکے کو مائک واپس دیتے ہوئے واپس اسٹیج سے نیچے آگیا۔اور مراد کی جانب آیا۔اور اسکے گلے لگ گیا۔باقی سب تو حیران سے بس سب سمجھنے کی کوشش کررہے تھے۔
“کیا ہوا ؟ حیران ہوگئے مجھے دیکھ کر ، کہا تھا ناں میں نے کہ میں جارہا ہوں ، پر واپس آنے کیلئے”۔خضر نے ان لوگوں کی جانب آتے ہوئے مسکراکر کہا۔
“خضر….تم…زندہ….یہ…..کیسے ؟۔عفان نے حیرانگی سے بےربط پوچھا۔
“خضر ! میرے بچے ، تو یہاں ، یہ سب کیسے؟۔آسیہ نے اسکے قریب آتے ہوئے حیرانگی سے کہا۔اور اسے گلے لگانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔کیونکہ وہ لمبا چوڑا ہونے کی وجہ سے انکی باہوں میں نہیں سما رہا تھا۔خضر نے ہی آسیہ کو سینے سے لگالیا۔
“جی امی ، میں یہاں”۔خضر نے کہا۔
“ابو آپ تو خوش نہیں ہوئے ہوں گے ، کیونکہ آپکا بیٹا بڑا ڈاکٹر نہیں ، ایک معمولی پینٹر بن گیا”۔خضر نے پھیکے پن سے مسکراتے ہوئے کہا۔اور آسیہ سے الگ ہوگیا۔صداقت صاحب کچھ لمحے تو اسے ایسے ہی دیکھتے رہے۔پھر آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگالیا۔
“مجھے معاف کردینا بیٹا ، میں ایک اچھا باپ نہیں بن سکا”۔صداقت صاحب نے کہا۔
“نہیں ابو ، معافی مانگ کر مجھے گنہگار مت کریں”۔خضر نے کہا۔
“پر یہ سب ہوا کیسے ؟ تم تو مر چکے تھے ، تمہاری تدفین خود اپنے ہاتھوں سے کی تھی ہم نے”۔صداقت صاحب نے اس سے الگ ہوتے ہوئے پوچھا۔خضر نے مسکراکر مراد کی جانب دیکھا۔
**************************************
“ایک سال قبل”
خضر باتھروم کی جانب بڑھا۔باتھروم میں بنے شیلف سے بلیڈ اٹھایا اور کمرے میں آگیا۔اپنی رائٹنگ ٹیبل کے قریب رکھی کرسی کھنچ کر اس پر بیٹھ گیا۔اور بلیڈ کو گھوما گھوما کر دیکھنے لگا۔اسکے ذہن میں کئی باتیں گردش کررہی تھیں۔
“پتہ نہیں کیسی اولاد مل گئی ہے مجھے ، کیوں تیری عقل میں میری بات نہیں آرہی ، یہ نتیجہ لائے ہو ؟ تمھیں پتہ ہے ، برابر والے فیصل صاحب کے بیٹے نے ٹاپ کیا ہے اپنے کالج میں ، اور ایک تم ہو ، شرمندہ کرکے رکھ دیا ہے ، ناک کٹوادی ہے ، اب لوگوں کو پتہ چلے گا تو کتنی باتیں بنائیں گے”۔صداقت صاحب نے غصے سے کہا۔یہ ساری باتیں صداقت صاحب نے خضر سے تب کہی تھیں جب اس نے انہیں اپنے رزلٹ کا بتایا تھا۔
“آپ کو اپنی ناک ، اپنی انا ، اپنی عزت زیادہ عزیز ہے ناں ابو ، تو پھر ویسے نا صحیح ، تو ایسے ہی صحیح”۔خضر نے خودکلامی کی۔اپنا بائیاں ہاتھ اپنے آگے کیا۔بلیڈ نس پر رکھی اور آنکھیں بند کی۔دو آنسوں اس کے گالوں پر پھسلے اور پھر……………….!
“خضر ! یہ کیا کررہے ہو؟۔اچانک مراد کی آواز آئی۔خضر نے چونک کر آنکھیں کھولی۔اور اس وقت مراد کو اپنے کمرے میں دیکھ کر حیران رہ گیا۔
“مراد ! تم اس وقت یہاں کیسے آئے !۔خضر نے کرسی پر سے اٹھتے ہوئے حیرانگی سے پوچھا۔
“کھڑکی سے ، پر تم یہ کیا کرنے جارہے تھے ؟۔مراد نے بتاتے ہوئے پوچھا۔
“خودکشی کرنے جارہا تھا میں”۔خضر نے بتایا۔
“کیوں ! دماغ خراب ہوگیا ہے کیا ؟۔مراد نے حیرانگی سے پوچھا۔
“یار مراد میں تنگ آگیا ہوں ابو کے روز روز کے طنز و طعانوں سے ، ہر روز کی بے عزتی سے ، انھیں بس صرف یہی فکر ہے کہ انکے دوستوں اور رشتے داروں کے بچے ٹاپ کررہے ہیں ، اور میری کوئی پوزیشن نہیں آتی ، سب کیا کہیں گے ؟ انھیں اپنی اولاد سے زیادہ اپنی انا عزیز ہے ، اسی لئے میں یہ قصہ ہی ختم کررہا ہوں”۔خضر نے بتایا۔
“یار یہ تو کوئی حل نہیں ہوا مسلے کا ، خودکشی حرام ہے”۔مراد نے کہا۔
“تو یار پھر میں اور کروں بھی تو کیا ؟۔خضر نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے سر دونوں ہاتھوں میں گرا کر کہا۔مراد نے کچھ نہیں کہا۔اور پین ہولڈر کی نیچے اڑتا ہوا صفحہ اٹھا کر پڑھنے لگا۔نوٹ پڑھ کر اس نے واپس وہیں رکھا۔اور پنجوں کے بل اسکے پاس ہی بیٹھ گیا۔
“سچ میں یہی وجہ ہے یا تم ابریش کے انکار سے دلبرداشتہ ہوکر یہ قدم اٹھا رہے ہو؟۔مراد نے پوچھا۔
“نہیں یار ، وہ سب تو بس ایسے ہی غصے میں پتہ نہیں کیا کیا لکھ دیا ہے میں………..کیا ! تمھیں کیسے پتہ کہ ابریش نے مجھے انکار کردیا ہے؟۔خضر نے کہتے ہوئے یکدم چونک کر پوچھا۔
“اس دن تم دونوں کی باتیں سن لی تھیں میں نے ، اور پھر ابھی نوٹ میں بھی تم نے ابریش کے انکار کا ذکر کیا ہے”۔مراد نے بتایا۔
“ہممم! نہیں یہ وجہ نہیں ہے ، دراصل میں ابریش کی دوستی مخلصی اور ہمدردی کو پیار کا رنگ دے دیا تھا ، پر خیر ، اب وہ غلط فہمی بھی دور ہوگئی ہے ، میں ابریش کی وجہ سے ایسا نہیں کررہا ہوں ، بلکہ میں تو بہت شکرگزار ہوں اسکا ، کہ اسکی وجہ سے مجھے تم جیسے دوست ملے ، میں ابو کی جانب سے دکھی ہوں”۔خضر نے بتایا۔
“تو یار تمہارے ایسا کرنے سے فائدہ کس کو ہوگا ؟۔مراد نے پوچھا۔خضر سوچ میں پڑگیا۔
“تو یار پھر میں کیا کروں ؟۔خضر نے پوچھا۔
“ایک آئیڈیا ہے میرے پاس”۔مراد نے کہا۔
“کیسا آئیڈیا ؟۔خضر نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“کل صبح خضر دنیا والوں کیلئے مر جائے گا ، پر درحقیقت وہ زندہ رہے گا”۔مراد نے کہا۔
“کیا ! پر کیسے؟۔خضر نے پوچھا۔
“دیکھو ! تم اپنی نس کاٹ کر خودکشی کرنے جارہے تھے ناں ، تم ابھی بھی یہی کرو گے ، پر ناٹک ، پھر جب تمہارے گھر والے تمھیں ہوسپٹل لے کر جائیں گے تو میں ڈاکٹر کو پیسے دے کر یہ جھوٹ بولنے کا کہوں گا کہ تم مر چکے ہو ، پھر ایک تم سے ملتی جلتی ڈیتھ باڈی کو غسل دے کر اسکی تدفین کردی جائے گی ، سب کی نظر میں تو مر چکے ہو گے ، پر دوسری جانب تم اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزارنا ، جیسی تم چاہتے ہو ، اور جب تم کچھ بن جاؤ اور تمہارے گھر والوں کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوجائے تو تم واپس آجانا”۔مراد نے بتایا۔
“یار سننے میں تو سب بہت آسان لگ رہا ہے ، پر بہت مشکل ہے ، اور اگر سب لوگ اس لاش کو پہچان گئے تو ؟۔خضر نے خدشہ ظاہر کیا۔
“نہیں پہچانیں گے ، ایک تو میت کو کافی لپیٹا ہوا ہوتا ہے ، دوسرا رونے دھونے میں کسی کا اتنا دھیان نہیں جائے گا ، اور میں کوشش کروں گا کی میت تم سے ملتی جلتی ہی ہو”۔مراد نے کہا۔خضر سوچ میں پڑگیا۔
“کیا سوچ رہے ہو ؟ میرا یقین کرو تمہاری خودکشی کی خبر سن کر تمہارے والدین کو بہت پچھتاوا ہوگا ، انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوجائے گا ، تمھیں تمہاری چاہت مل جائے گی”۔مراد نے کہا۔
“ہممم! ٹھیک ہے”۔خضر نے کہا۔
“پر اسکے بدلے تمہیں بھی میرا ایک کام کرنا ہوگا”۔مراد نے کہا۔
“کونسا کام ؟۔خضر نے پوچھا۔
“تم یہاں ایک دوسرا سوسائیڈ نوٹ لکھ کر رکھو ، اور اس میں اپنی خودکشی کی وجہ ابریش کو لکھو”۔مراد نے کہا۔
“پر کیوں ؟۔خضر نے حیرانگی سے پوچھا۔
“کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ ابریش پر یہ الزام لگے ، تب ہی حیدر انکل کو اندازہ ہوگا کہ جب کسی اپنے پر بےبنیاد جھوٹے الزام لگتے ہیں تو کیسا لگتا ہے”۔مراد نے زہر خندا لہجے میں کہا۔
“کیا مطلب ؟۔خضر نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“مطلب پچیس سال پہلے انہوں نے میرے والدین پر بھی انکی کامیابی سے جلتے ہوئے ایسا ہی ایک الزام لگایا تھا”۔مراد نے کہا اور پھر باقی ساری کہانی بھی اسے سنا دی جو اس نے نگہت خالہ سے سنی تھی۔
“اوہ ! یہ تو بہت غلط ہوا تمہارے والدین کے ساتھ ، پر یار انکی غلطی کی سزا تم ابریش کو کیوں دو گے؟ ۔خضر نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“کیونکہ تب ہی انکے سمجھ میں آئے گا کہ جب کسی اپنے کو تکلیف پہنچتی ہے تو کیسا لگتا ہے”۔مراد نے بتایا۔
“پر یار پھر تو سب کو لگے گا کہ میں نے ابریش کی وجہ سے خودکشی کی ہے ، امی ابو کو انکی غلطی کا احساس کیسے ہوگا ؟۔خضر نے پوچھا۔
“صبح صرف تمہارے گھر والوں کو یہ نوٹ ملے گا ، جو تم یہاں رکھو گے ، پھر جب ابریش پر کیس بن جائے گا ، اور ان لوگوں کی عقل ٹھکانے آجائے گی ، تو میں یہ ہینڈی کیم تمہارے گھر والوں تک پہنچا دوں گا ، جس سے ابریش پر لگا الزام بھی ہٹ جائے گا ، اور تمہاری آواز بھی گھر والوں تک پہنچ جائے گی ، اور یوں ہم ایک تیر سے دو شکار کریں گے”۔مراد نے بتایا۔
“ٹھیک ہے”۔خضر نے کہا۔مراد نے اسے صرف یہ بتایا تھا کہ وہ ابریش پر پولیس کیس بنانا چاہتا ہے ، یہ نہیں بتایا تھا کہ اس نے ابریش پر کالا علم کروایا ہوا ہے ، جس پر آخری ضرب آج رات وہ لگانے والا ہے۔
“اچھا تمہارے گھر میں کوئی ایسا شخص ہے جسے ہم اپنے پلان کا حصہ بناسکیں ؟ جو تمہارا ساتھ دے سکے ؟۔مراد نے پوچھا۔
“ہاں ، ازر بھائی کو اعتماد میں لیا جاسکتا ہے”۔خضر نے کہا۔
“ٹھیک ہے ، تو انھیں فون کرو اور اپنے کمرے میں بلاؤ”۔مراد نے کہا۔خضر نے ایسا ہی کیا۔تھوڑی دیر بعد ازر ان لوگوں کے ساتھ تھا۔اور اسے مراد نے سارا پلان بھی بتا دیا تھا۔
“ٹھیک ہے ، میں تم لوگوں کی مدد کرنے کیلئے تیار ہوں ، تا کہ امی ابو کے ساتھ باقی ماں باپ کو بھی یہ سبق مل سکے ، اور مزید بچے اس مقابلے بازی کا شکار ہونے سے بچ سکیں”۔ازر نے کہا۔
“گڈ ! اچھا اب یہ بتاؤ کہ ابھی کسی جانور کا خون مل سکتا ہے؟۔مراد نے پوچھا۔
“ہاں مل سکتا ہے ، اوپر چھت پر ابو نے کچھ کبوتر پالے ہوئے ہیں ، جن میں سے ایک کبوتر آج شام کو ہی مرا ہے ، اسے میں نے یہاں گھر سے کچھ فاصلے پر ہی پھینک دیا تھا ، اگر کسی کتے بلی کا نوالہ نہیں بنا ہوگا تو اسکا خون مل جائے گا”۔خضر نے بتایا۔
“چلو جلدی ، وہ کبوتر لے کر آتے ہیں”۔مراد نے کہا۔اور دونوں کھڑکی کے راستے سے باہر نکلے اور خوش قسمتی سے انھیں وہ کبوتر وہیں مل گیا۔دونوں کبوتر کو اٹھا کے گھر لائے اور اسکا خون ایک برتن میں جمع کرلیا۔کیونکہ ازر ڈاکٹر تھا اسی لئے اس نے بلیڈ کی مدد سے بہت ہی مہارت سے خضر کے ہاتھ پر بس اتنی سی کٹ لگا دی کے پتہ چل جائے یہ سارا خون اس کٹ سے نکلا ہے۔اور فلحال اس پر پٹی باندھ دی۔ازر اور خضر کو سارا پلان سمجھا کر مراد وہاں سے گھر جانے کا کہہ کر قبرستان اپنا کام کرنے چلا گیا۔ازر اپنے کمرے میں آگیا۔ازر کو بھی خضر نے اس نوٹ کا بتا دیا تھا جو وہ مراد کے کہنے پر ابریش کے نام لکھنے والا تھا۔
پھر صبح جب خضر کو اندازہ ہوگیا کہ سب اٹھ چکے ہیں تو اس نے اپنی کلائی پر لگی کٹ سے پٹی کھولی۔اور کبوتر کا خون ہاتھ پر ڈال کر بیٹھ گیا۔سب کمرے میں آئے ازر نے خضر کو چیک کرکے جھوٹ بولا کہ اسکی سانسیں رک گئیں ہیں۔پھر خضر کی موت کی تصدیق کیلئے اسے ہوسپٹل لایا گیا۔وہاں پہلے سے ہی ازر اور مراد نے خضر سے ملتی جلتی ڈیتھ باڈی کا انتظام کرلیا تھا۔ہوسپٹل سے خضر حلیہ بدل کر نکل گیا۔اور مراد کے بتائے ہوئے پتے پر اسکے فارم ہاؤس پر چلا گیا۔دوسری جانب ڈاکٹر نے ازر کے کہنے پر سب سے کہہ دیا کہ خضر مر چکا ہے۔پھر اس نقلی خضر کو کافی اچھی طرح لپیٹ کر گھر لایا گیا۔ازر نے جان بوجھ کر تدفین عشاء کے بعد کروائی تھی۔اس کی پوری کوشش تھی کہ لڑکے کے منہ سے چادر زیادہ نہ سرکے۔اور ایسا ہی ہوا۔آسیہ تو اپنے ہوش و حواس میں ہی نہیں تھیں۔صداقت صاحب بھی غم سے نڈھال تھے۔باقی کوئی اتنا دھیان دینے والا تھا نہیں۔اسی لئے ازر نے مشکل سے بس پانچ منٹ گہوارا گھر کے لان میں رکھوایا ہلکا سا کپڑا ہٹا کر سب کو دیدار کروایا۔کہ کوئی زیادہ پہچان نہ پائے۔اور پھر تدفین کی جلدی مچادی۔کیونکہ ساری زمیداری ازر ہی سمبھال رہا تھا۔اور پھر یوں ایک لاوارث لاش کی تدفین کردی گئی۔
دوسری جانب خضر کچھ عرصے مراد کے فارم ہاؤس پر رہا۔مراد اور ازر اسکے لئے کوئی چھوٹی موٹی نوکری تلاش کرنے لگے۔تب ہی خضر کیلئے مراد کو ایک کال سینٹر میں جاب مل گئی۔خضر نے وہاں جاب شروع کردی۔اور ایک بوائز ہوسٹل میں شفٹ ہوگیا۔اور ساتھ ہی ساتھ اس نے اپنی پینٹنگ بھی جاری رکھی۔اور آہستہ آہستہ پینٹنگ کی چھوٹی سی دنیا میں اپنا نام بنانے میں کامیاب ہوگیا۔
مراد اور ازر سے وہ مسلسل رابطے میں تھا۔پھر مراد نے اسے بتایا کہ اس نے وہ ہینڈی کیم اسکے گھر والوں تک پہنچا دیا ہے ، اور سب بہت شرمندہ ہیں۔پر کیونکہ خضر تب تک کسی مقام تک نہیں پہنچا تھا۔اسی لئے وہ پس پردہ ہی رہا۔کچھ وقت بعد خضر کی بنائی گئی پینٹنگز اچھی قیمتوں میں سیل ہونے لگی۔اس نے کچھ مقابلے بھی جیتے۔
اور پھر اب جب خضر نے چھوٹا سا ہی صحیح پر اپنی محنت سے پینٹنگ کی دنیا میں اپنا نام بنالیا تھا۔تو اب وقت آگیا تھا اس “راز” پر سے پردہ اٹھا دیا جائے۔
**************************************
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *