Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode06

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode06

“مطلب کہ اسلام میں اس طرح کے کھیل حرام ہیں ، جن میں شرط لگی ہو ، جن میں لڑائی جھگڑا ہاتھا پائی ہو ، یا جن کو کھیلنے کیلئے مردوں کو اپنے ستر یعنی ناف سے نیچے سے لے کر گھٹنوں تک کا حصہ کھولنا پڑے ، ایسے کھیل اسلام میں حرام ہیں ، دوسری صورت میں اگر آپکی نماز قضا نہیں ہورہی ، کسی کی دل آزاری نہیں ہورہی ، تو آپ اس طرح کے ان ڈور گیم کھیل سکتے ہیں ، اتنی اجازت ہے ، کیونکہ آج کل حالت بہت خراب ہیں ، اگر اس طرح کے ان ڈور گیمز پر بھی پابندی لگا دی جائے تو بچے پاگل ہوجائیں گے ، اور گھر سے باہر بھاگیں گے ، لہٰذا نماز کا اور باقی دینی فرائض کا خیال رکھتے ہوئے محض کبھی کبھی تفریح کیلئے اس طرح کے کھیل کھیلنے کی اجازت ہے ، مگر صرف کچھ وقت کیلئے ، اسکو بھی ہر وقت لے کر نہیں بیٹھنا چاہئے ، اس سے وقت کا ضائع ہوتا ہے ، اور وقت ضائع کرنے والے کام اسلام میں ممنوع ہیں ، اور اگر یہ لڈو اور کیرم وغیرہ کو بھی شرط لگاکر ، نماز قضا کرکے ، وقت ضائع کرکے کھیلو گے ، تو پھر یہ بھی حرام ہوجائے گا ، لہٰذا ان باتوں کا خاص خیال رکھ کر ، حد میں رہ کر کھیلنا چاہئے”۔فیروزہ نے سمجھایا۔
“ہممم! تھینک یو دادی ، بتانے کیلئے”۔علیزے نے کہا۔
“چلو یاروں ، لڈو بھی کافی دیر سے کھیل رہے ہیں ، اب کچھ اور کھیلیں؟۔ابرار نے پوچھا۔
“کچھ اور کیا کھلیں؟۔علیزے نے پوچھا۔
“چلو کہیں باہر چلتے ہیں”۔عفان نے کہا۔سب لوگوں کو تجویز پسند آئی۔
“آپکو پتہ ہے دادی ! کل میرا بہت ضروری ٹیسٹ ہے ، آج بہت اچھے سے تیاری کرنی ہوگی مجھے ، ذرا بھی لاپرواہی نہیں کرسکتی”۔ابریش نے باآواز بلند بظاہر فیروزہ سے کہا۔پر جتانا وہ کسی اور کو چاہ رہی تھی۔کل سے ابریش عفان سے بات نہیں کررہی تھی۔
“اچھا ! تو پھر دھیان سے تیاری کرو”۔فیروزہ نے کہا۔
“جی بالکل ، وہی کررہی ہوں”۔ابریش نے کہا۔
“یار چھوڑو ، باہر نہیں جاتے ، بلاوجہ تھک جائیں گے ، پھر کل ٹیسٹ کی تیاری کرنے کی ہمت نہیں رہے گی”۔عفان نے ابریش کا اشارہ سمجھتے ہوئے کہا۔
“تو پھر کیا کریں ؟۔مسکان نے پوچھا۔
“کل کے ٹیسٹ کی تیاری”۔سعدیہ نے ان لوگوں کے قریب آتے ہوئے کہا۔
“چھٹی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بالکل ہی پڑھائی کو بھول جاؤ پیپر نزدیک ہیں تم لوگوں کے “۔سعدیہ نے کہا۔
“بھئی مما ، چھٹی کے دن کون پڑھتا ہے؟۔حذیفہ نے مخالفت کی۔
“پاپا ، دیکھیں مما کہہ رہی ہیں پڑھو ، آج تو چھٹی ہے ناں”۔مسکان نے طلحہ کی جانب بھاگتے ہوئے کہا۔جو ابھی ابھی ہال میں آیا تھا۔
“کیا ہوگیا ہے سعدیہ ! چھٹی کے دن تو بچوں کو آزادی سے کھیلنے دو”۔طلحہ نے کہا۔
“کیوں ! عفان اور ابریش بھی تو پڑھتے ہیں چھٹی کے دن”۔سعدیہ نے کہا۔
“انکی بات الگ ہے ، یہ دونوں میڈیکل کالج کے سٹوڈنٹس ہیں ، انکو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے ، پر حذیفہ اور مسکان تو ابھی صرف پرائمریری میں ہیں ، فرق ہے ان لوگوں کی پڑھائی میں”۔طلحہ نے کہا۔
“مرضی ہے ، پھر جب ریزلٹ ٹھیک نہیں آئے گا تو مجھے بلیم مت کیجئے گا”۔سعدیہ نے کہا۔اور بنا طلحہ کی بات سنے واپس چلی گئی۔
“چھوڑو بچوں ، تم لوگ کھیلو”۔طلحہ نے کہا۔
“کیا کھیلیں پاپا ! لڈو کھیل کر بھی بور ہوگئے ہیں”۔حذیفہ نے کہا۔
“چلو سب کرکٹ کھیلتے ہیں”۔حیدر نے ہال میں آتے ہوئے کہا۔حیدر نے سر پر کیپ پہنا ہوا تھا۔اور دستانے پہنے ہاتھوں میں بیٹ بال پکڑا ہوا تھا۔سب یکدم خوشی سے کھڑے ہوگئے۔
“ارے ! دماغ خراب ہوگیا ہے کیا؟۔فیروزہ نے کہا۔
“اس میں دماغ خراب ہونے والی کونسی بات ہے ممی ، چلو بچوں پوری فیملی کو اکھٹا کرو اور آؤ لان میں”۔حیدر نے فیروزہ کو کہتے ہوئے بچوں کو کہا۔اور سب کے ساتھ لان کی جانب چلا گیا۔ابریش بھی کتاب رکھ کر سب کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔اور تھوڑی دیر میں سب لوگ لان میں جمع ہوگئے۔اور پھر عصر کی اذان ہونے تک لان میں اچھل کود مچا رہا۔
************************
رات کے ساڑھے نوں بج رہے تھے۔احمر کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا۔اور ناہید اس وقت مراد کے کمرے میں رکھے صوفے پر بیٹھی مراد کے سر پر تیل لگاتے ہوئے اس سے باتیں کررہی تھی۔مراد صوفے سے ٹیک لگا کر نیچے کارپٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔
“کتنے روکھے ہورہے ہیں مراد تمہارے بال”۔ناہید نے مراد کے سر پر تیل لگاتے ہوئے کہا۔
“کبھی خود سے بھی اپنے آپ پر دھیان دے دیا کرو”۔ناہید نے کہا۔
“آپ ہیں ناں مجھ پر دھیان دینے کیلئے ، مجھے کیا ضرورت”۔مراد نے کہا۔
“میں ہمیشہ نہیں رہوں گی ، اور جب میں نہیں رہو گی پھر کیا کرو گے!۔ناہید نے پوچھا۔
“پھر اپنی بیوی سے کرواؤں گا یہ سب”۔مراد نے شرارت سے کہا۔
“بدتمیز ! ماں سے ایسے بات کرتے ہیں!۔ناہید نے مراد کے سر پر چپت لگاتے ہوئے کہا۔
“مذاق کررہا ہوں ، اچھا ایک بات پوچھوں؟۔مراد نے کہا۔
“ہممم! پوچھو”۔ناہید نے ہنوز اسکے سر پرمالش کرتے ہوئے کہا۔
“آپ نے اور ڈیڈ نے ہوسپٹل کیوں چھوڑ دیا ؟۔مراد نے پوچھا۔مراد کے سر پر چلتے ناہید کے ہاتھ بےاختیار رک گئے۔
“میرا مطلب کہ آپ لوگوں کے جو پرانے ساتھی ہیں ، جیسے حیدر اور فیضان انکل وغیرہ ، وہ لوگ تو ابھی بھی ہوسپٹل سے منسلک ہیں ، تو پھر آپ دونوں نے کیوں چھوڑ دیا؟۔مراد نے وضاحت کرتے ہوئے پھر پوچھا۔
“بس تھی کچھ بات ، جسکی وجہ سے ہمارے لائسنس منسوخ کردیے گئے تھے”۔ناہید نے بتایا۔
“کیا وجہ تھی؟۔مراد نے پوچھا۔
“دراصل تمہارے ڈیڈ اور مجھ سے ، ایک اپریشن میں کچھ لاپرواہی ہوگئی تھی ، جسکی وجہ سے اس پیشنٹ کی جان چلی گئی تھی ، اسی لئے ہمارے لائسنس منسوخ کردیے گئے”۔ناہید نے جھوٹ بولا۔
“ہممم! تو اب دوبارہ کچھ نہیں ہوسکتا؟۔مراد نے پوچھا۔
“نہیں ، پر اب تم دھیان سے پڑھو ، اور ہم سے بھی زیادہ اچھے اور کامیاب ڈاکٹر بنو ، سمجھے”۔ناہید نے دوبارہ مالش کرتے ہوئے کہا۔
“جو حکم مام”۔مراد نے کہا۔
************************
پیریڈ ختم ہونے کے بعد سب سٹوڈنٹس کلاس سے باہر نکل رہے تھے۔ابریش اور عفان بھی گراؤنڈ کی جانب جارہے تھے۔
“ایکسکیوزمی!۔پیچھے سے کسی نے پکارا۔دونوں رک کر پلٹے۔خضر دونوں کے قریب آیا۔
“یہ لیجئے ، آپکی نوٹ بک ، بہت بہت بہت شکریہ آپکا”۔خضر نے نوٹ بک ابریش کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
“ارے ! اتنی جلدی کاپی کرلیا آپ نے!۔ابریش نے بک لیتے ہوئے حیرانگی سے کہا۔
“جی ، پوری رات جاگ کر کرلیا”۔خضر نے بتایا۔اسکی آنکھوں سے بھی لگ رہا تھا کہ وہ رات بھر کا جاگا ہوا ہے۔
“پر جاگنے کی کیا ضرورت تھی ! میں نے کہا تھا ناں کہ آرام سے کرلینا”۔ابریش نے کہا۔
“نہیں ، بس آپ نے دے دی تھی بک ، یہی بہت احسان ہے آپکا”۔خضر نے کہا۔
“اچھا آپکا نام کیا ہے ویسے؟۔خضر نے پوچھا۔
“ویسے میرا نام ابریش ہے ، اور ایسے بھی میرا نام ابریش ہے”۔ابریش نے شرارت سے کہا۔
“نائس نیم ، اور آپکا؟۔خضر نے کہتے ہوئے عفان سے پوچھا۔عفان نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“انکا نام عفان ہے ، اور یہ میرے کزن ہیں”۔ابریش نے بتایا۔
“اوکے ، اچھا اب میں چلتا ہوں ، آپ لوگ بھی جہاں جارہے تھے جائیں ، ڈسٹرب کرنے کیلئے معذرت ، اور ایک بار پھر بہت شکریہ”۔خضر نے کہا۔اور آگے بڑھ گیا۔
“یہ منہ پر بارہ کیوں بجائے ہوئے ہیں؟۔ابریش نے خضر کے جانے کے بعد عفان سے کہا۔عفان نے کوئی جواب نہیں دیا۔اور آگے بڑھ گیا۔ابریش بھی کاندھے اچکا کر اسکے پیچھے چلی گئی۔
**************************
“ارے واہ ، کیا خوشبو آرہی ہے ؟ کیا پک رہا ہے؟۔ابرار نے کچن میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔
“کھانا پک رہا ہے ، نظر نہیں آرہا؟۔رمشا نے کڑھائی میں چمچ چلاتے ہوئے کہا۔
“اوہ ! یہاں کھانا پکتا ہے ! مجھے تو لگا یہاں فٹ بال کھیلی جاتی ہے چچی”۔ابرار نے مصنوئی حیرت سے کہا۔
“تمھیں کوئی کام ہے؟۔سعدیہ نے پوچھا۔
“نہیں بھابھی ، بس کھانے کی خوشبو سے بھوک بھڑک اٹھی ہے ، تو کچھ مل سکتا ہے؟۔ابرار مدعے پر آیا۔
“نہیں ، ابھی ٹائم ہے کھانا بننے میں ، ابھی گوشت گلنا باقی ہے ، اپنی بھوک کنٹرول کرنے کیلئے کوئی فروٹ وغیرہ کھالو”۔رمشا نے کہا۔
“دے دیں کچھ فریج سے نکل کر”۔ابرار نے کہا۔
“خود لے لو آگے بڑھ کر ، ہم کام کررہے ہیں”۔سعدیہ نے کہا۔
“مما کی غیر موجودگی میں مجھے ڈانٹنے ڈپٹنے کا کام بہت اچھا سے کر لیتی ہیں آپ لوگ”۔ابرار نے آگے بڑھ کر فریج سے ایک سیب نکالتے ہوئے کہا۔
“ہاں تو تمہارے کام ہی ایسے ہوتے ہیں ، صحیح ڈانٹتی ہیں فاریہ چچی تمھیں”۔سعدیہ نے کہا۔ابرار سیب دھو کر کچن سے باہر آگیا۔اور سیب کھاتے ہوئے ہال میں رکھے صوفے پر بیٹھ گیا۔
“کیا کررہے ہو ابرار ؟۔فیروزہ نے ہال میں آتے ہوئے پوچھا۔
“سیب کھا رہا ہوں دادی ، کھائیں گی آپ؟۔ابرار نے پوچھا۔
“نہیں ، یہ سیب کھا کر لان میں جاکے پودوں کو پانی دے دو”۔فیروزہ نے کہا۔
“کیا ! پر میں کیوں ! مالی بابا کہاں ہیں؟۔ابرار نے حیرانگی سے کہا۔
“انکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ، اس لئے آج ذرا تم دیکھ لو یہ کام ، ٹھیک ہے”۔فیروزہ نے کہا۔اور آگے بڑھ گئی۔ابرار سیب کھا کر لان میں آگیا۔شام کے پانچ بج رہے تھے۔موسم بہت دل فریب ہورہا تھا۔ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔تیز اور گرم دھوپ اب ہلکی اور نرم ہوگئی تھی۔اور فضا میں جابجا پرندوں کا غول پر پھیلائے اپنی آزادی کا جشن منارہا تھا۔ابرار نے لان میں آکر پائپ اٹھایا اور پودوں کو پانی دینے لگا۔کہ تب ہی اسکی نظر کچھ فاصلے پر گھانس پر بیٹھی علیزے پر پڑی۔وہ ریجسٹر گھانس پر رکھ کر اپنا کچھ کام کررہی تھی۔ابرار کچھ دیر تو ایسے ہی اسکو دیکھتا رہا۔پھر اچانک اسکو مستی سوجھی۔
“میری قسمت کے ، ہر اک پننے پے”
“میرے جیتے جی ، بعد مرنے کے”
“میرے ہر اک پل ، ہر اک لمحے میں”
“تو لکھ دے میرا اسے”
ابرار نے بلند آواز میں گانا گانا شروع کردیا۔ابرار کی آواز پر علیزے نے سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔ابرار بظاہر انجان بناہوا پودوں کو پانی ڈالتے ہوئے اور کن انکھیوں سے اسے دیکھتے ہوئے گانا گاتا رہا۔
“ہر کہانی میں ، سارے قصوں میں”
“دل کی دنیا کے ، سچے رشتوں میں”
“زندگانی کے ، سارے حصوں میں”
“تو لکھ دے میرا اسے”
ابرار ہنوز پوری آواز ، طاقت ، اور سر لگا کر آس پاس سے بےخبر پودوں کو پانی ڈالتے ہوئے اریجیت سنگھ بنا ہوا تھا۔
“اے خدا ، اے خدا”
“جب بنا اسکا ہی بنا”
“اے خدا ، اے خدا”
“جب……………! ابرار جیسے ہی گاتے گاتے پلٹا تو بچاہوا گانا اسکے منہ میں ہی رہ گیا۔کیونکہ پیچھے حیدر پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“کیا ہورہا ہے ؟ یہ اتنا گلا پھاڑ پھاڑ کر خدا کو کیوں یاد کررہے ہو؟۔حیدر نے پوچھا۔
“بابا…وہ…میں تو….یہ کہہ رہا تھا کہ
“اے خدا میرے ابو سلامت رہیں”
“اے خدا میرا ابو سلامت رہیں”
ابرار نے جلدی سے پٹری بدلی۔حیدر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
“آپ لوگ جلدی آگئے آج بابا!۔ابرار نے موضوع بدلا۔
“ہممم! آج مہمان آرہے ہیں ناں گھر پر ، اس لئے”۔حیدر نے بتایا۔پھر ایک نظر علیزے اور ابرار پر ڈال کر حیدر پلٹ گیا۔
“اے خدا ، اے خدا”
“جب بنا اسکا ہی بنا”
اور گانا گاتے ہوئے حیدر اندر کی جانب چلا گیا۔ابرار حیرانگی سے حیدر کو جاتا ہوا دیکھتا رہا۔ہوش کی دنیا میں وہ علیزے کے فلک شگاف قہقے سے آیا۔ابرار نے علیزے کی جانب دیکھا تو وہ دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھے بری طرح ہنس رہی تھی۔ابرار کچھ دیر تو اسے غصے سے دیکھتا رہا۔پھر پائپ پٹخ کر وہ بھی اندر چلا گیا۔
***************************
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *