Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode16

Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode16

********************************
زندگی کے ساحل پر وقت کی کچھ لہریں آکر گزری۔وقت کچھ آگے بڑھا۔ان پانچوں کے سیمیسٹرز ختم ہوگئے تھے۔اور اب یہ لوگ اپنے رزلٹ کو لے کر بہت پرجوش تھے۔سوائے خضر کے۔
سعدیہ میں آیا بدلاؤ کام کرگیا تھا۔طلحہ بالکل تو نہیں ، پر اب تھوڑا تھوڑا واپس لائن پر آرہا تھا۔
********************************
“یاروں مجھے تو پکا یقین ہے کہ میرا رزلٹ بہت زبردست آنے والا ہے”۔عفان نے کہا۔پانچوں اس وقت کالج کے گراؤنڈ میں اسی مخصوص پیڑ کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔
“ہممم! مجھے بھی اپنی کارکردگی پر پورا بھروسہ ہے”۔خوشی نے پریقین لہجے میں کہا۔
“میرا تو جب رزلٹ آئے گا تو میں ڈیڈ سے اپنے لئے کار مانگوں گا”۔مراد نے بھی کہا۔
“اور میرا رزلٹ دیکھ کر تو مما بابا بہت خوش ہوں گے”۔ابریش نے بھی کہا۔
“چھوڑو یاروں ، کچھ اور بات کرو”۔خضر نے منہ بناکر کہا۔
“تم ایسا کرنا خضر ، کہ رزلٹ والے دن اپنے امی ابو کا آلاتِ تشدت مثلاً بیلٹ ، چپل ، بیلن ، جھاڑو ، ہینگر یہ سب چھپا دینا”۔مراد نے مشورہ دیا۔اور اسکے مشورے پر خضر کے سوا سب ہنس دیے۔جبکہ خضر اسے گھورنے لگا۔
“اڑا لو ، تم لوگ بھی میرا مذاق اڑا لو”۔خضر نے منہ بسور کر کہا۔
“ارے مذاق کررہے ہیں ، چھوڑ یہ سب باتیں ، ابھی فلحال چپس کھا اور مزے اڑا”۔عفان نے خضر کے کاندھے کے گرد بازو حائل کرتے ہوئے کہا۔اور چپس کا پیکٹ اس کی جانب بڑھایا۔
********************************
“ہیلو !۔طلحہ نے لیپ ٹاپ پر کام کرتے ہوئے فون کان سے لگایا۔
“کیسے ہیں ؟۔دوسری جانب سے سعدیہ نے پیار سے پوچھا۔طلحہ نے بےاختیار موبائل کان سے ہٹا کر نمبر چیک کیا۔
“ہیلو طلحہ ! آپ سن رہے ہیں؟۔سعدیہ نے جواب نہ پاکر کہا۔
“ہاں ہاں ، سن رہا ہوں ، بولو”۔طلحہ نے موبائل دوبارہ کان سے لگا کر کہا۔
“کیا کررہے تھے؟۔سعدیہ نے پوچھا۔
“آفس میں ہوں تو کام ہی کررہا ہوں گا”۔طلحہ نے کہا۔
“ہممم! یہ بھی ہے”۔سعدیہ نے کہا۔
“فون کیوں کیا تم نے؟۔طلحہ نے پوچھا۔
“ایسے ہی ، آپکی یاد آرہی تھی”۔سعدیہ نے کہا۔طلحہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“اچھا یہ بتائیں آج ڈنر میں کیا کھانے کا موڈ ہے آپکا؟۔سعدیہ نے پوچھا۔
“کیوں ؟۔طلحہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“آپکا جو بھی دل چاہ رہا ہوگا آج وہی بناؤں گی کھانے میں”۔سعدیہ نے بتایا۔
“کچھ بھی بنالو”۔طلحہ نے لاپرواہی سے کہا۔
“ایسا کرتی ہوں کہ کوفتے بنالیتی ہوں ، آپکو پسند ہیں ناں!۔سعدیہ نے کہا۔
“ہممم! ٹھیک ہے”۔طلحہ نے کہا۔
“پھر باہر سے کھانا کھا کر مت آئیے گا آپ ، اچھا اپنا خیال رکھیے گا ، اور جلدی آئیے گا ، الله حافظ”۔سعدیہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا۔اور لائن کاٹ دی۔طلحہ کو ابھی تک حیرانگی ہورہی تھی۔
“ٹک ٹک ٹک”۔تب ہی دروازے پر دستک ہوئی۔
“یہ کم ان”۔طلحہ نے کہا۔سیما دروازہ دھکیلتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔
“گڈ آفٹر نون”۔سیما نے کرسی کھنچ کربیٹھتے ہوئے کہا۔
“گڈ آفٹر نون ، جی کہئے!۔طلحہ نے پوچھا۔
“کیا کہوں؟۔سیما نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“جس کام سے آئی ہیں وہ بتائیں”۔طلحہ نے کہا۔
“کسی کام سے نہیں آئی میں ، اس سے پہلے بھی تو کتنی بار میں بنا کام کے ہی آپکے روم میں آئی ہو”۔سیما نے بتایا۔طلحہ نے کچھ نہیں کہا۔
“اچھا ویسے آج رات آپ فری ہیں؟۔سیما نے پوچھا۔
“کیوں ؟۔طلحہ نے آئبرو اچکا کر پوچھا۔
“میں سوچ رہی تھی کہ کیوں ناں آج بھی ہم ڈنر باہر کریں!۔سیما نے اپنا ارادہ ظاہر کیا۔
“نہیں”۔طلحہ نے صاف انکار کردیا۔
“پر کیوں ! اس دن بھی تو ہم نے باہر ڈنر کیا تھا!۔سیما نے پوچھا۔
“اس دن کی بات اور تھی ، تب ہم وہاں کلائینٹ سے ملنے گئے تھے ، اور مجھے بھوک بھی لگ رہی تھی اسی لئے ڈنر کرلیا تھا ، آج ایسی کوئی بات نہیں ہے ، گھر پر میری وائف ڈنر پر میرا انتظار کررہی ہوگی”۔طلحہ نے بتایا۔
“ٹھیک ہے ، جیسی آپکی مرضی”۔سیما نے منہ بسور کر کہا اور اپنی دال نہ گلتی دیکھ اٹھ کر واپس چلی گئی۔طلحہ بھی دوبارہ کام کی جانب متوجہ ہوگیا۔سعدیہ کے محنت رنگ لارہی تھی۔
********************************
شام میں حسب معمول طلحہ گھر پہنچا تو اسے صاف ستھری ہنستی مسکراتی سعدیہ اپنی منتظر ملی۔سعدیہ شام کے چائے اسکے اور اپنے لئے بناکر لائی اور دونوں نے ہلکی پھلکی باتیں کرتے ہوئے ایک ساتھ چائے پی۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے ڈنر کا وقت ہوگیا وہ سب بھی ہوسپٹل سے آچکے تھے تو پھر سب ڈائنینگ روم میں ڈنر کیلئے اکھٹے ہوگئے۔
********************************
“تم کھانا نہیں کھارہی سعدیہ؟۔طلحہ نے سعدیہ کو صرف سوپ پیتے ہوئے دیکھ کر پوچھا۔
“بھابھی آج کل ڈائٹینگ پر ہیں”۔عفان نے بتایا۔
“ہیں ! سچ میں؟۔مومنہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
“جی ، میرا ویٹ بہت ہوگیا ہے ناں”۔سعدیہ نے بتایا۔
“ارے پاگل ہوگئی ہو ! کوئی وزن نہیں بڑھا ، بالکل ٹھیک تو ہو تم”۔مومنہ نے کہا۔
“پر پھر بھی تائی میرا دل مطمئن نہیں ہورہا تھا”۔سعدیہ نے بتایا۔
“چلو جیسی تمہاری مرضی ، پر خیال رکھنا ، کیونکہ اکثر ڈائٹینگ کی وجہ سے کمزوری بھی ہوجاتی ہے”۔مومنہ نے تاکید کی۔سعدیہ نے اثبات میں سرہلادیا۔
“پیپر کیسا ہوا تم لوگوں کا؟۔فیضان نے پوچھا۔
“بہت زبردست”۔عفان اور ابریش نے یک زبان بتایا۔
“گڈ”۔فیضان نے کہا۔پھر ڈنر سے فارغ ہوکر حسب معمول چائے کا دور چل نکلا۔سب ہال میں جمع تھے۔سعدیہ نے سب کو چائے دی اور خالی ٹرے لے کر واپس جاہی رہی تھی کہ اچانک اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھاگیا۔اسے زمین گھومتی ہوئی محسوس ہوئی وہ مزید توازن برقرار نہیں رکھ پائی اور نیچے گرگئی۔سب جلدی سے اٹھ کر بھاگے طلحہ سعدیہ کو اٹھا کر کمرے میں لایا۔مومنہ اور فاریہ اسے چیک کرنے لگی۔
********************************
خضر اپنی مخصوس رائٹنگ ٹیبل پر بیٹھا ہوا تھا۔اور کاغذ پر بڑی دل جمی اور توجہ سے کچھ نقش نگاری کرنے میں مصروف تھا۔اور آج اس نے کمرے کی ساری لائٹ بند کرکے صرف ٹیبل پر رکھا ہوا لیمپ جلایا ہوا تھا کہ کہیں کوئی اسے جاگتا دیکھ کر یہاں نہ آجائے۔تھوڑی دیر اور کاغذ پر پنسل چلانے کے بعد اس نے پنسل ٹیبل پر رکھی اور کاغذ کو اٹھا کر بغور دیکھنے لگا کہ کہیں کوئی غلطی تو نہیں ہوئی ہے ناں!۔اسے سب کچھ بالکل ٹھیک لگا۔
“میں کل ہی اسے سب بتا دوں گا”۔خضر نے کاغذ کو دیکھتے ہوئے کہا۔اور بڑی احتیاط سے کاغذ کو ایک ریجیسٹر میں رکھ کر اپنے کالج بیگ میں ڈال لیا۔اور لیمپ آف کرنے ہی لگا تھا کہ کھڑکی پر کھٹ پٹ محسوس ہوئی۔اس نے پلٹ کر دیکھا تو مراد کھڑکی سے کمرے میں داخل ہوا تھا۔خضر اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔
“مراد ! تم اس وقت یہاں ! وہ بھی ایسے!۔خضر نے حیرانگی سے کہا۔مراد تب تک اندر آچکا تھا۔اسکے حلیے سے لگ رہا تھا جیسے وہ کہیں جانے کیلئے تیار ہے۔
“ہاں میں ، اور تم کھڑکی بند کرکے نہیں سوتے؟۔مراد نے پوچھا۔
“نہیں ، کھلی ہی رکھتا ہوں ، پر تم اس وقت تیار ہوکر ، اس طرح اس وقت یہاں کیا کرنے آئے ہو؟۔خضر نے بتاتے ہوئے پوچھا۔
“تمھیں لینے آیا ہوں”۔مراد نے بتایا۔
“کیا ! پر کیوں ؟۔خضر نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“ارے سیمیٹرز ختم ہونے کی خوشی میں پارٹی کررہے ہیں آج ہم”۔مراد نے بتایا۔
“پارٹی ! اس وقت ! دماغ ٹھیک ہے ! اور ہم کون ؟۔خضر نے پوچھا۔
“پارٹی اسی وقت ہوتی ہے ، اور ہم کا مطلب میں ، تم اور عفان”۔مراد نے بتایا۔
“وہ بھی یہاں ہے؟۔خضر نے حیرانگی سے کہا۔
“ہاں ، باہر گاڑی میں انتظار کررہا ہے ، چلو تم جلدی سے کپڑے بدلو ، پھر چلتے ہیں”۔مراد نے کہا۔
“پاگل ہوگئے ہو ، اگر میرے ابو نے دیکھ لیا تو میرے ساتھ ساتھ تم دونوں کی بھی خیر نہیں”۔خضر نے کہا۔
“ایک بج رہا ہے رات کا ، سب سو رہے ہیں ، کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا اور ہم جاکر آ بھی جائیں گے”۔مراد نے کہا۔
“پر یہ اگر پتہ چل گیا تو!۔خضر نے خدشہ ظاہر کیا۔
“نہیں پتہ چلے گا ، بلکہ اپنی تسلی کیلئے ایک بار اپنے امی ابو کے کمرے کے باہر سے نظر مار کر آجاؤ ، پتہ چل جائے گا کہ وہ لوگ سو رہے ہیں یا نہیں”۔مراد نے مشورہ دیا۔
“پر یار”۔خضر نے کہا۔
“ابے جا ناں”۔مراد نے اسے بازو سے پکڑ کر کمرے سے باہر نکالا۔خضر ڈرتے ڈرتے دبے پاؤں صداقت صاحب کے کمرے کے باہر آیا۔انکے کمرے کی لائٹ بند تھی اور خراٹوں کی آواز باہر تک آرہی تھی۔خضر جلدی سے واپس آیا۔
“کیا ہوا ! سو رہے ہیں ناں خراٹے مار کر!۔مراد نے تائید چاہی۔
“ہاں ! پر تمھیں کیسے پتہ ؟۔خضر نے پوچھا۔
“تمہارے کمرے سے پہلے انکے کمرے کی کھڑکی آتی ہے ، تو جب میں یہاں آرہا تھا تو سن لیا تھا میں نے”۔مراد نے بتایا۔
“اب یہ باتیں چھوڑو ، اور جلدی سے کپڑے بدلو”۔مراد نے کہا۔
“یار یہ ٹھیک تو ہیں”۔خضر نے اپنے سادہ سے پینٹ اور ٹی شرٹ کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“پاگل ہے کیا ! پارٹی میں جارہے ہیں ، لنگر لوٹنے نہیں ، کپڑے بدل”۔مراد نے کہا۔خضر نے جلدی سے الماری میں سے ایک دوسرا پینٹ شرٹ نکالا اور چینج کرنے واشروم چلا گیا۔تب تک مراد اسکے کمرے کا جائزہ لینے لگا۔یہ ایک دو منزلہ کافی اچھا گھر تھا۔پوری فیملی نیچے کے فلور پر رہتی تھی۔اوپر کا فلور بطور گیسٹ ہاؤس استمال ہوتا تھا۔اور ابھی جس کھڑکی سے مراد اندر آیا تھا وہ لان میں کھلتی تھی۔خضر کے کمرے میں ایک سنگل بیڈ ، ایک ڈریسنگ ٹیبل ، اور ایک رائٹنگ ٹیبل تھی۔اور دیوار پر جگہ جگہ اسکی بنائی پینٹنگ اور اسکیچز لگے ہوئے تھے۔خضر واشروم سے نکل کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آیا۔جلدی سے بال بنائے اور دراز سے اپنی گھڑی نکالی۔
“چلو میں تیار ہوں”۔خضر نے گھڑی پہنتے ہوئے کہا۔
“ایک چیز رہ گئی”۔مراد نے بیڈ پر سے اٹھتے ہوئے کہا۔
“کیا ؟۔خضر نے ناسمجھی سے پوچھا۔مراد ڈریسنگ ٹیبل کے پاس آیا اور پرفیوم کی شیشی اٹھا کر خضر پر چھڑک دی۔
“اب ٹھیک ہے ، چلو”۔مراد نے کہا۔خضر دروازے کی جانب بڑھا۔
“وہاں کہاں جارہے ہو؟۔مراد نے پوچھا۔
“باہر ، تم نے ہی تو کہا ہے”۔خضر نے بتایا۔
“پاگل ہے کیا ، پھر واپسی پر رات کے تین چار بجے تیری امی دروازہ کھولیں گی کیا ! کھڑکی سے چل ، اور یہاں سے ہی آنا واپس”۔مراد نے کہا۔دونوں کھڑکی کی جانب آئے۔پہلے مراد باہر نکلا۔پھر خضر۔
“اپنے ہی گھر سے کیسے چوروں کی طرح جانا پڑرہا ہے”۔خضر نے باہر نکلتے ہوئے کہا۔پھر دونوں جلدی سے لان عبور کرکے مین گیٹ کی جانب آئے۔جہاں چوکیدار خراٹے لینے میں مصروف تھا۔
“دروازہ تو اندر سے بند ہے ، تم اندر کیسے آئے تھے؟۔خضر نے پوچھا۔
“دیوار پھلانگ کر”۔مراد نے بتایا۔پھر خضر نے آہستہ سے دروازہ کھولا۔اور دونوں بنا آواز کیے باہر آگئے۔مراد اسے لے کر تھوڑی دور کھڑی کار کی جانب آیا۔خضر پچھلی نشست پر بیٹھ گیا۔اور مراد آگے۔عفان ڈرائیونگ سیٹ پر تھا۔
“ابے کیا نہلا دھلا کر تیار کررہا تھا تو اسے ، جو اتنی دیر لگ گئی!۔دونوں کے بیٹھتے ہی عفان نے کہا۔
“ارے ڈر ہی اتنا لگ رہا تھا اسکو ، اتنی مشکل سے لایا ہوں”۔مراد نے بتایا۔عفان نے آہستہ سے کار سٹارٹ کی۔
“یار لوگ صحیح کہتے ہیں ، تم امیر زادے بہت بگڑے ہوئے ہوتے ہو”۔خضر نے کہا۔
“ہم امیر زادے ہیں ، اور یہ غریب ہیں ، انکے والد بینک میں مینیجر ہیں ، بڑا بھائی ہارٹ سرجن ہے ، ایک پوش علاقے میں گھر ہے ، اور یہ غریب ہے ، واہ ، تیرے جیسی غریب خدا سب کو دے”۔مراد نے سب گنواتے ہوئے کہا۔کار اب مین روڈ پر آچکی تھی۔
“اچھا ناں ، ویسے جا کہاں رہے ہیں ہم؟۔خضر نے پوچھا۔
“کلب”۔مراد نے کہا۔
“کیا ! یار میں نہیں جاؤں گا ، ابھی گاڑی روکو ، میں واپس جارہا ہوں”۔خضر نے کہا۔
“ارے مذاق کررہا ہے یہ تمہارے ساتھ ، انس (کلاس فیلو) کے فارم ہاؤس پر پارٹی ہے ، ہم لوگ اور کچھ دوست اور ہیں ، وہیں جارہے ہیں”۔عفان نے بتایا۔
“اوہ ! پھر ٹھیک ہے”۔خضر نے کہا۔
“ویسے تم دونوں بھی ایسے چوری چھپے ہی گھر سے نکلے ہو؟۔خضر نے پوچھا۔
“نہیں ، ہمارے گھر والے ہمیں گیٹ تک سی آف کرنے آئے تھے ، اور عفان کی ممی نے تو اسے دہی چینی بھی کھلائی تھی یہاں آنے سے پہلے”۔مراد نے طنزیہ انداز میں کہا۔
“تم لوگوں کے ساتھ رہ کر میں بھی بگڑ جاؤں گا مجھے لگتا ہے”۔خضر نے کہا۔اور ہاتھ بڑھا کر ٹیپ ان کردیا۔
********************************
کسی نرم سے احساس کے زیر اثر سعدیہ کسمسائی۔اور آہستہ آہستہ آنکھیں کھولی۔آنکھیں کھولتے ہی اسے چھت پر لگا پنکھا گھومتا ہوا نظر آیا۔وہ کچھ دیر خالی ذہن سے اسے تکتی رہی۔پھر آہستہ آہستہ اسکا ذہن بیدار ہونا شروع ہوا۔وہ اپنے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔اور اسکے اوپر کمبل ڈلا ہوا تھا۔اس نے دائیں جانب دیکھا تو طلحہ اس کی جانب ہی کروٹ لے کر لیٹا ہوا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“اب ٹھیک ہو؟۔طلحہ نے پوچھا۔
“ہممم! کیا ہوگیا تھا مجھے؟۔سعدیہ نے پوچھا۔
“کمزوری کی وجہ سے چکر آگئے تھے تمھیں ، کچھ دن سے تم ٹھیک طرح کھانا پینا نہیں کھا رہی ہو ناں اس لئے”۔طلحہ نے بتایا۔سعدیہ نے کچھ نہیں کہا۔
“کیوں کررہی ہو یہ سب؟۔طلحہ نے پوچھا۔
“آپ کیلئے”۔سعدیہ نے بتایا۔
“کیا ! میرے لئے ! پر کیوں؟۔طلحہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“کیونکہ آپ کو واپس پہلے والی سعدیہ چاہئے تھی ناں”۔سعدیہ نے بھی طلحہ کی جانب کروٹ لیتے ہوئے بتایا۔
“اففو ! ارے لڑکی پہلی والی سعدیہ کا مطلب ویٹ میں نہیں کہا تھا ، میں نے نیچر میں کہا تھا”۔طلحہ نے اسکی عقل پر ماتم کرتے ہوئے کہا۔
“مطلب آپکو میرے ویٹ سے کوئی مسلہ نہیں ہے؟۔سعدیہ نے پوچھا۔
“نہیں ، بالکل نہیں”۔طلحہ نے کہا۔
“تو پھر آپ اتنے بدلے بدلے سے کیوں تھے؟۔سعدیہ نے شکوہ کیا۔
“کیونکہ تم جو صرف بچوں کی ماں بن کر رہ گئی تھی ، اس بات کو یکسر نظر انداز کرکے کہ تمہارا ایک عدد شوہر بھی ہے”۔طلحہ نے بتایا۔
“تو اب میں واپس پہلے جیسی ہوگئی ہوں ناں!۔سعدیہ نے تائید چاہی۔
“ہاں ، تمھیں پتہ ہے مجھے اس دن بہت دکھ ہوا تھا جب تم نے مجھ پر شک کیا تھا ، پھر میں نے دل میں سوچ لیا تھا کہ اب جبکہ تمھیں شک ہوگیا ہے تو میں تمہارا شک یقین میں بدلوں گا ، پر پتہ ہے یہ سب کرتے ہوئے اندر ہی اندر کوئی کسک سی تھی ، میرا دل مطمئن نہیں تھا ، اور پھر تم واپس پہلے جیسی ہوگئی تو سارے مسلے ہی حل ہوگئے”۔طلحہ نے بتایا۔
“ایم سوری ، پر پرامس کہ اب ایسا کچھ نہیں کروں گی”۔سعدیہ نے کہا۔
“کوئی بات نہیں ، غلطی میری بھی ہے ، مجھے بھی تمھیں شروع میں ہی آرام و تحمل سے وہ سمجھانا چاہئے تھا جو میں تم سے چاہتا تھا”۔طلحہ نے کہا۔
“کوئی بات نہیں ، اب تو ہمیں سمجھ آگئی ہے ناں”۔سعدیہ نے کہا۔
“ہممم! اچھا اب کل سے یہ ڈائٹینگ وغیرہ چھوڑو ، ایسے ہی ٹھیک ہو تم ، بلکہ کل ہم بچوں کے ساتھ کہیں باہر چلتے ہیں”۔طلحہ نے کہا۔
“جو حکم سرکار”۔سعدیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
********************************
پیریڈ اوور ہوتے ہی سب سٹوڈنٹس ایسے باہر بھاگے جیسے کوئی قیدی جیل سے رہا ہونے پر بھاگتا ہے۔
“دیکھو تو ذرا ، کیسے بھاگتے ہیں سارے کلاس ختم ہوتے ہی”۔ابریش نے کتابیں سمیٹتے ہوئے کہا۔
“ہممم! اچھا میں کینٹین میں جارہی ہوں ، آجانا تم لوگ”۔خوشی نے بیگ کاندھے پر لٹکاتے ہوئے کہا۔اور کلاس سے باہر نکل گئی۔
“ابریش ہم گراؤنڈ میں ہیں ٹھیک ہے”۔عفان نے کہا جو مراد کے ساتھ باہر جانے کی تیاری میں تھا۔
“میں خوشی کے پاس جارہی ہوں ، اسکے ساتھ ہی آؤں گی گراؤنڈ میں”۔ابریش نے بتایا۔
“ٹھیک ہے ، چلو خضر ہم چلیں”۔عفان نے ابھی تک بیٹھے ہوئے خضر سے کہا۔
“ہاں ، تم لوگ چلو ، میں واشروم سے ہوکر آتا ہوں”۔خضر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔دونوں باہر نکل گئے۔ابریش بھی باہر جانے لگی۔
“ابریش ! بات سنو”۔خضر نے قریب آتے ہوئے کہا۔
“ہممم! بولو”۔ابریش نے کہا۔
“مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے”۔خضر نے بتایا۔
“ہاں ہاں بولو”۔ابریش نے کہا۔
“یہاں نہیں ، کہیں سکون سے”۔خضر نے کہا۔
“چلو کینٹین میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں”۔ابریش نے کہا۔
“پر وہاں تو خوشی ہوگی”۔خضر نے کہا۔
“وہ تو کاؤنٹر پر ہوگی ، اور اسکے ہونے سے کیا مسلہ ہے؟۔ابریش نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“کچھ نہیں ، چلو وہیں چلتے ہیں”۔خضر نے کہا۔پھر دونوں ساتھ کینٹین میں آگئے۔اور خضر ابریش کو لے کر ایک کونے کی ٹیبل پر آکر بیٹھ گیا۔
“ہاں ، بولو کیا بات ہے؟۔ابریش نے پوچھا۔
“یہ بات میں بہت عرصے سے تم سے کہنا چاہ رہا تھا”۔خضر نے تہمید باندھی۔
“ہاں ہاں تو بولو ، میں سن رہی ہوں”۔ابریش نے کہا۔خضر نے جلدی سے کاندھے سے بیگ اتارا ، اس کی زپ کھولی اور کچھ ڈھونڈنے لگا۔مطلوبہ چیز نکل کر اس نے بیگ واپس بند کرکے کاندھے پر لٹکالیا۔
“یہ لو ، یہ تمہارے لئے”۔خضر نے ایک فولڈ ہوا کاغذ اس کی جانب بڑھایا۔ابریش نے ناسمجھی سے کاغذ لے کر کھولا۔اور کاغذ پر بنا نقش دیکھ کر حیران رہ گئی۔کاغذ پر اسی کا اسکیچ بنا ہوا تھا۔
“میں نے منع کیا تھا ناں جاندار کی تصویر بنانے سے”۔ابریش نے کہا۔
“ہاں پر یہ آخری ہے ، بہت دل سے بنایا تھا یہ میں نے”۔خضر نے کہا۔
“ٹھیک ہے ، پر آخر بار ہاں”۔ابریش نے کہا۔
“ہممم! ایک چیز اور بھی ہے”۔خضر نے کہا۔
“وہ کیا؟۔ابریش نے پوچھا۔خضر نے اپنی جیکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک خوبصورت سا سرخ گلاب نکالا۔
“آئی لو یو ابریش”۔خضر نے پھول اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔ابریش تو ہکابکا رہ گئی تھی۔
“ابریش !۔خضر نے دوبارہ پکارا۔
“اں ہاں ہاں!۔ابریش نے چونک کر کہا۔
“کچھ تو بولو”۔خضر نے کہا۔
“کیا بولوں……میری تو کچھ سمجھ….یہ سب کیسے…..!۔ابریش نے ناسمجھی کی کیفیت میں بےربط کہتے ہوئے بات ادھوری چھوڑ دی۔
“تمھیں برا لگا کیا؟۔خضر نے پھول ٹیبل پر رکھتے ہوئے پوچھا۔جو ابھی تک ابریش نے نہیں تھما تھا۔
“نہیں برا نہیں لگا ، پر مجھے اس کی امید بھی نہیں تھی”۔ابریش نے اپنی حیرانگی پر قابو پاتے ہوئے کہا۔اور کاغذ فولڈ کرکے ہاتھ میں پکڑلیا۔
“میں سمجھ سکتا ہوں ، پر تمھیں یاد ہے پہلی مرتبہ جب تم نے مجھے نوٹس دیے تھے ، جب سب انکار کرچکے تھے ، تب سے ہی میں ایسا محسوس کرنے لگا تھا ، کیونکہ تم ہی وہ واحد انسان ہو جسے مجھے سے وحشت نہیں ہوتی ، میری باتیں سن لیتی ہو ، مجھ سے باتیں کرلیتی ہو ، اخلاق سے پیش آتی ہو ، تمہاری وجہ سے ہی مجھے خوشی ، عفان اور مراد جیسے دوست بھی ملے ، اور مجھے نہیں لگتا کہ تمہارے علاوہ میں کسی اور کے ساتھ خوش رہ پاؤں گا ، تو کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟۔خضر نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“خضر تم غلط سمجھ رہے ہو ، وحشت نا ہونے کا ، تمہاری باتیں سننے کا ، تم سے باتیں کرنے کا ، اخلاق سے پیش آنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ میں تم سے پیار کرتی ہوں ، میں تو مراد اور عفان کے ساتھ بھی ایسے ہی پیش آتی ہوں ، پر اسکا مطلب یہ تو نہیں کہ میں ان سے یا تم سے پیار کرتی ہوں ، دوستوں کے ساتھ بھی تو ایسے ہی پیش آتے ہیں ، اور تم تینوں میرے بہت اچھے دوست ہو بس ، اور کچھ نہیں”۔ابریش نے سمجھایا۔خضر کی آنکھوں میں جلتے امید کی دیے یکدم ماند پڑگئے۔
“دیکھو خضر ، ہوسکتا ہے تمھیں غلط فہمی ہوگئی ہو ، اور اچھا کیا کہ تم نے بتا دیا ، تا کہ اب جلد از جلد یہ غلط فہمی دور ہوجائے گی ، تم بہت اچھے لڑکے ہو ، پر میرے دل میں تمہارے لئے ایسی کوئی جذبات نہیں ہیں ، ایم سوری”۔ابریش نے تحمل سے کہا۔خضر نے کچھ نہیں کہا۔بس نظریں جھکائے ٹیبل پر انگلیاں پھیرتا رہا۔
“یہ اسکیچ بہت زبردست ہے ، میں رکھ لوں؟۔ابریش نے موضوع بدلا۔
“رکھ لو ، تمہارے لئے ہی تو بنایا ہے”۔خضر نے پھیکے پن سے ہنستے ہوئے کہا۔
“اوہ ہو ، ہم وہاں گراؤنڈ میں تم لوگوں کا انتظار کررہے تھے ، اور تم لوگ یہاں ڈیٹ مار رہے ہو”۔عفان نے اچانک آکر کہا۔دونوں چونک گئے۔مراد بھی اسکے ساتھ تھا۔
“ارے نہیں نہیں ، ہم تو خوشی کے فری ہونے کا ویٹ کررہے تھے”۔ابریش نے جلدی سے جھوٹ بولا۔
“اوکے اوکے ، ہم بھی مذاق ہی کررہے تھے ، تم تو سیریس ہوگئی”۔عفان نے کہا۔
“یہ پھول یہاں؟۔مراد نے ٹیبل پر رکھا پھول اٹھاتے ہوئے کہا۔
“وہ…وہ یہ پہلے سے ہی یہاں رکھا ہوا تھا”۔ابریش نے پھر جھوٹ بولا۔
“چلو دوستوں ، اب میں فری ہوں”۔خوشی نے قریب آتے ہوئے کہا۔اور سب کنٹین سے باہر جانے لگے۔جبکہ مراد کافی گہری نظروں سے خضر کا جائزہ لے رہا تھا۔جو بجھا بجھا سا لگ رہا تھا۔
********************************
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *