Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan NovelR50802 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode13
Rate this Novel
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode01 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode02 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode03 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode04 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode05 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode06 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode07 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode08 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode09 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode10 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode11 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode12 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode13 (Watching)Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode14 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode15 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode16 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode17 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode18 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode19 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode20 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode21 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode22 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode23 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode24 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode25 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode26 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode27 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode28 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode29 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode30 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode31 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode32 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode33 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode34 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Last Episode
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode13
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode13
“ٹک ٹک ٹک”۔ابریش نے دروازے پر دستک دی۔
“آجاؤ”۔اندر سے آواز آئی۔ابریش دروازہ دھکیلتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔فاریہ سامنے صوفے پر لیپ ٹاپ لے کر بیٹھی ہوئی تھی۔حیدر اس وقت کمرے میں نہیں تھا۔اسی لئے یہ موقع ابریش کو بالکل مناسب لگا۔
“مما آپ سے ایک بات کرنی ہے”۔ابریش نے فاریہ کے برابر صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“ہممم! بولو”۔فاریہ نے لیپ ٹاپ پر کام کرتے ہوئے کہا۔
“وہ بات دراصل یہ ہے کہ میری کالج کی دوست خوشی کو تو آپ جانتی ہی ہیں”۔ابریش نے بات شروع کی۔
“ہممم! جانتی ہوں ، پھر؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“تو پھر یہ کہ اسکے ابو جس فیکٹری میں ملازم تھے وہ فیکٹری بند ہوگئی ہے ، جس کی وجہ سے وہ خوشی کی فیس کیلئے ڈالی گئی کمیٹی نہیں بھر سکے ، اور سیمیسٹرز……!
“سیمیسٹرز شروع ہونے والے ہیں ، اگر خوشی کی فیس نہیں بھری گئی تو وہ سیمیسٹرز میں نہیں بیٹھ پائے گی ، اسی لئے تم اس معملے میں اسکی مدد کرنا چاہتی ہو ، ہے ناں !
حیدر نے ابریش کی بات مکمل کرتے ہوئے تائید چاہی۔اور اسکے برابر میں ہی صوفے پر آکر بیٹھ گیا۔ابریش نے اثبات میں سرہلایا۔
“ٹھیک ہے ، کل میں تمہاری فیس کے ساتھ اسکی فیس بھی جمع کروادوں گا”۔حیدر نے کہا۔
“تھینک یو بابا”۔ابریش نے تشکر سے کہا۔
“تھینک یو کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، بس اچھی سی چائے پلادو”۔حیدر نے کہا۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے ، ہر وقت بس چائے چائے”۔فاریہ نے ٹوکا۔
“کیوں بھئی ، میرا دل چاہ رہا ہے”۔حیدر نے کہا۔
“نہیں ، زیادہ چائے صحت کیلئے نقصان دہ ہوتی ہے ، اب بس صبح پینا ، تم جاؤ ابریش کمرے میں”۔فاریہ نے کہا۔ابریش سرہلاکر کھڑی ہوگئی۔
“اچھا گڈ نائٹ ، شب بخیر ، اور شکریہ”۔ابریش نے کہا۔اور روم سے باہر چلی گئی۔
“یار ! تم نے چائے کیوں نہیں پینے دی!۔حیدر نے شکوہ کیا۔
“کیونکہ میرا کافی پینے کا دل چاہ رہا ہے”۔فاریہ نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے کہا۔
“اوہ ہو ! اچھا”۔حیدر نے سمجھتے ہوئے کہا۔
“تم پیو گے؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“ہاں بالکل”۔حیدر نے کہا۔
“ٹھیک ہے ، تو جاؤ ہم دونوں کیلئے بناکر لے آؤ اچھی سی کافی”۔فاریہ نے کہا۔اور صوفے سے اٹھ گئی۔
“یار یہ چیٹنگ ہے ، میں نہیں بنارہا”۔حیدر نے منہ بناتے ہوئے کہا۔اور صوفے سے اٹھ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔فاریہ لیپ ٹاپ چارج پر لگاتے ہوئے مسکرادی۔کیونکہ اسے پتہ تھا کہ حیدر کچن میں کافی بنانے ہی گیا ہے۔
********************************
زندگی کی کتاب میں وقت کے پننے تھوڑا اور آگے پلٹے۔خوشی کی فیس جمع ہوگئی تھی۔عفان بھی اب تیزی سے صحت یابی کی جانب گامزن تھا۔مراد سے ابھی بھی ابریش ویسے ہی کتراتی تھی۔خضر سے اسکی اچھی خاصی بات چیت ہوگئی تھی۔طلحہ اور سیما کے بیچ بھی بےتکلفی بڑھنے لگی تھیں۔جس کی زمیدار کچھ کچھ سعدیہ بھی تھی۔
*******************************
“السلام و علیکم ناظرین ! اس وقت ہم آپکو ایک بہت ہی اہم خبر سے آگاہ کررہے ہیں ، خبر یہ ہے کہ کراچی کے پوش علاقے کے ایک رہائشی ڈاکٹر فیضان علی خان کے صاحبزادے عفان علی خان ، دو ہفتے قبل ایک ایکسیڈنٹ میں زخمی ہوگئے تھے ، جس کے باعث وہ دو ہفتوں تک کالج جانے سے قاصر رہے ، پر تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مسٹر عفان علی خان آج دو ہفتوں بعد پھر سے کالج جانے کیلئے تیار ہیں ، تو آئیں چل کر ان سے انکی رائے جانتے ہیں اس بارے میں”۔علیزے نے روم میں داخل ہوکر کہا۔علیزے عفان کے کمرے میں ہیئر برش کو بطور مائک پکڑے ہوئے رپورٹر کی طرح کامینٹری کررہی تھی۔اور ابرار بطور کیمرہ مین ہینڈی کیم میں یہ سب ریکارڈ کررہا تھا۔
“جی تو مسٹر عفان ، کیسا محسوس کررہے ہیں آپ آج دو ہفتوں بعد کالج جاتے ہوئے؟۔علیزے نے ہیئر برش عفان کے آگے کرتے ہوئے کہا۔جو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا تیار ہورہا تھا۔
“شٹ اپ”۔عفان نے کہا۔اور بال بنانے لگا۔
“ناظرین آپ نے دیکھا کہ مسٹر عفان نے کہا کہ شٹ اپ ، اسکا مطلب ہے کہ انکا ذہنی توازن ابھی بھی درست نہیں ہوا ہے اور……!
“کیا ہورہا ہے سب؟۔انعم نے علیزے کے سر پر چپت لگاتے ہوئے کہا۔اور علیزے کی بات بیچ میں ہی رہ گئی۔
“ممی بھیا دو ہفتے بعد کالج جارہے ہیں ، تو سوچا کہ کیوں ناں کچھ فن ہوجائے”۔علیزے نے بتایا۔
“وہ تو دو ہفتے بعد جارہا ہے ، تمہارا اپنے بارے میں کیا خیال ہے ، خود بھی دو دن سے کالج کی چھٹی کرکے بیٹھی ہوئی ہو ، اسی لئے اب بند کرو یہ تماشا ، اور جلدی سے تیار ہوکر نیچے ڈائنینگ روم میں آؤ ناشتہ کرنے ، اور پھر تم بھی کالج جاؤ”۔انعم نے علیزے کے ہاتھ سے ہیئر برش لیتے ہوئے کہا۔
“تو ناظرین آپ نے دیکھا کہ ہماری رپورٹر کی کافی عزت افزائی ہوگئی ہے ، اور ان پر تشدد کرکے انکا مائک بھی چھین لیا گیا ہے ، جس کی وجہ سے وہ اب رپورٹ کرنے سے قاصر ہیں ، لہٰذا نئی رپورٹر ملتے ہی ہم آپکو آگے کی خبر سے آگاہ کریں گے ، تب تک کیلئے ہمیں اجازت دیں ،
لونگ کو ابھی تک نہیں ملی اسکی لاچی
کیمرہ مین ابرار کے ساتھ کوئی سی بھی نیوز کراچی”۔ابرار نے ہینڈی کیم اپنی جانب گھوما کر کہا۔
“آپ بھی چلیں کیمرہ مین صاحب ، آپکی والدہ محترمہ بھی نیچے آپکی راہ دیکھ رہی ہیں”۔انعم نے کہا۔
“وہیں جارہا تھا چچی ، کہ تب ہی یہ آپکی صاحبزادی نے مجھے ان کاموں میں لگا دیا”۔ابرار نے ہینڈی کیم بند کرتے ہوئے بتایا۔
“اور آپ فرمبرداروں کی طرح لگ بھی گئے ان کاموں میں”۔عفان نے گھڑی پہنتے ہوئے کہا۔
“جی بس مجھ سے کسی کو انکار نہیں کیا جاتا”۔ابرار نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
“پکا ناں اب ٹھیک ہو تم عفان ، اگر اب بھی پیر میں درد ہے تو آرام کرلو ، تمہارے پاپا سے میں بات کرلوں گی”۔انعم نے عفان کی جانب آتے ہوئے کہا۔
“ارے نہیں ممی ، اب تو بالکل ٹھیک ہوں میں ، اور چھٹی کا بھی اب کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا ، تین دن بعد پہلا پیپر ہے ہمارا”۔عفان نے کہا۔
“چلو ٹھیک ہے ، اب جلدی سے آکر ناشتہ کرلو”۔انعم نے عفان کے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔عفان نے مسکرا کر اثبات میں سرہلادیا۔انعم کمرے سے باہر چلی گئی۔اور عفان بھی بیگ لے کر نیچے جانے کیلئے کمرے سے باہر آگیا۔
******************************
“یہ تم کالج جانے کیلئے تیار ہورہے ہو یا پارٹی میں جانے کیلئے؟۔ناہید نے کمرے میں آکر حیرانگی سے مراد کو دیکھ کر پوچھا۔جو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا تیار ہورہا تھا۔
“کالج جانے کیلئے ، پر اس طرح جانے سے آپکی بہو ملنے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں”۔مراد نے شرارت سے کہا۔
“اچھا ! تو پھر ملی کوئی”۔ناہید نے کمر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔
“ہممم! ایک ہے تو نظر میں”۔مراد نے گھڑی پہنتے ہوئے معنی خیزی سے کہا۔
“اچھا ! سچ میں ! کون ہے ؟ میں جانتی ہوں کیا اسے؟۔ناہید نے حیرانگی سے کئی سوال پوچھ ڈالے۔
“ارے صبر میری پیاری اماں جان ، میں نے کہا ہے کہ ابھی نظر میں ہے ، یہ نہیں کہا کہ جگر کے پاس ہے ، اور میرے جگر کے پاس جو ہے ، وہ ہو تم”۔مراد نے ناہید کو بازؤں سے پکڑتے ہوئے شرارت سے کہا۔
“سچی بتاؤ مراد ، کیا سچ میں ایسا کچھ ہے؟۔ناہید نے مراد کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے پوچھا۔
“کیوں ! آپکی نظر میں کوئی ہے کیا ؟۔مراد نے پوچھا۔
“ہاں”۔ناہید نے کہا۔
“اچھا ! سچ میں ! کون ہے ؟ میں جانتا ہوں کیا اسے؟۔مراد نے حیرانگی سے کئی سوال پوچھ ڈالے۔
“ارے صبر میرے لعل ، میں نے کہا ہے کہ ابھی نظر میں ہے ، یہ نہیں کہا کہ جگر کے پاس ہے ، اور میرے جگر کے پاس جو ہے ، وہ ہو تم”۔ناہید نے مراد کو بازؤں سے پکڑتے ہوئے شرارت سے اسی کے انداز میں کہا۔
“اچھا ! مطلب ہماری کیٹ اور ہم ہی پر اٹیک”۔مراد نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھتے ہوئے آئبرو اچکاکر کہا۔
“جی بیٹا جی ، چلو اب جلدی سے تیار ہوکر ڈائنینگ روم میں آؤ ، اور پرفیوم تھوڑا کم لگایا کرو ، یہ اپنے اوپر چھڑکنے کیلئے ہوتا ہے ، نہانے کیلئے نہیں”۔ناہید نے مراد کے گال پر تھپکی دیتے ہوئے کہا۔مراد نے مسکرا کر اثبات میں سرہلادیا۔ناہید روم سے باہر چلی گئی۔مراد بھی اپنا بیگ لے کر باہر آگیا۔
********************************
بچوں کی اسکول بس آچکی تھی۔سعدیہ بچوں کو روانہ کرکے کمرے میں آئی تو طلحہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا تیار ہورہا تھا۔اور ساتھ ہی ساتھ سیٹی پر کوئی دھن بھی گنگنا رہا تھا۔سعدیہ نے ایک نظر اسے دیکھا۔پھر بیڈ ٹھیک کرنے لگی۔بیڈ پر پڑا گیلا تولیہ اٹھا کر اس نے اپنی جگہ پر رکھا۔ تکیے اور چادر ٹھیک کیے۔اور وقفے وقفے سے اسے بھی دیکھتی رہی۔طلحہ اب پرفیوم میں تقریباً نہا چکا تھا۔سعدیہ نے محسوس کیا تھا کہ کچھ عرصے سے طلحہ اب اس کی جانب سے بالکل لاپرواہ ہوتا جارہا تھا۔وہ روز تیار ہوکر جلدی آفس چلا جاتا تھا۔اور دیر سے گھر آنے کے بعد بھی اپنے موبائل میں مصروف رہتا تھا۔سعدیہ نے ایک دو بار بولنے کی کوشش کی پر پھر خاموشی ہی رہی۔سعدیہ ابھی کن انکھیوں سے طلحہ کا جائزہ لے ہی رہی تھی کہ تب ہی طلحہ کا سائیڈ ٹیبل پر رکھا فون بجا۔سعدیہ کیونکہ بیڈ کے قریب ہی تھی اسی لئے اس نے کالر کا نام باآسانی پڑھ لیا۔وہ سیما کی کال تھی۔طلحہ نے جلدی سے آگے بڑھ کر فون اٹھایا۔اور کال ریسیو کرکے فون کان سے لگایا۔
“ہاں بولو؟۔طلحہ نے پوچھا۔
“بس گھر سے نکل ہی رہا ہوں ، تھوڑی دیر میں آیا ، اوکے سی یو”۔طلحہ نے کہا۔اور لائن کاٹ کر موبائل کوٹ کی جیب میں رکھ لیا۔میز پر رکھا اپنا بریف کیس اٹھایا ایک نظر شیشے میں خود کو دیکھا۔اور بنا سعدیہ کی جانب دیکھے یا اس سے کوئی بات کیے وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔سعدیہ بس اسے جاتا ہوا دیکھ کر رہ گئی۔
********************************
سب سٹوڈنٹس کا معمول کے مطابق کالج آنے کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ابریش اور عفان بھی کار سے اتر کر کالج کے اندر داخل ہوئے اور گراؤنڈ کی جانب آگئے۔جہاں مراد عفان کو دور سے ہی نظر آگیا تھا۔مراد بھی انہیں دیکھ کر ان کی جانب آیا۔
“ویلکم بیک یار”۔مراد نے عفان کو دیکھ کر دونوں ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا۔عفان بھی مسکرا کر اسکے گلے لگ گیا۔
“تھینک یو یار”۔عفان نے الگ ہوتے ہوئے کہا۔
“شکر ہے تم واپس آگئے ، ورنہ ان دو ہفتوں میں بالکل ہی اکیلا ہوگیا تھا میں”۔مراد نے کہا۔
“کیوں ! میرے ساتھ ساتھ کیا باقی پورا کالج بھی چھٹی پر گیا ہوا تھا دو ہفتوں سے!۔عفان نے پوچھا۔
“نہیں یار ، پر تمہارے سوا کسی کو اتنے اچھے سے جانتا نہیں ہوں ناں ، اور نہ ہی کسی سے اتنی بات چیت ہے ، اسی لئے بور ہوگیا تھا”۔مراد نے بتایا۔
“ابریش کو تو جانتے ہی ہو ، اس سے بات چیت کرلیتے”۔عفان نے کہا۔
“میں تو کرلیتا ، پر یہ ہی نہیں کرتی تھیں ، انہیں “دوسروں” سے بات چیت کرنے سے ہی فرصت نہیں تھی”۔مراد نے ابریش کی جانب دیکھ کر طنزیہ انداز میں کہا۔ابریش نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“دوسرا کون؟۔عفان نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“السلام و علیکم”۔خضر نے ان لوگوں کے قریب آتے ہوئے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام”۔ابریش اور مراد نے جواب دیا۔
“کیسے ہیں آپ عفان ؟ آپکو دیکھا تو سوچا آپکی طبیعت پوچھ لوں ، پتہ چلا تھا مجھے آپکے ایکسیڈنٹ کا”۔خضر نے کہا۔
“ٹھیک ہوں اسی لئے یہاں کھڑا ہوں”۔عفان نے اُکھڑے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔
“جی ، ٹھیک کہا آپ نے ، کافی خوشگوار حیرت ہوئی آپکو واپس ماشاءاللّه اتنی جلدی واپس دیکھ کر”۔خضر نے عفان کے لہجے کو نظر انداز کرکے مسکراتے ہوئے کہا۔
“کیوں ! ورنہ تم نے کیا سوچا تھا؟۔عفان نے چبھتے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
“عفان ! یہ کیا بدتمیزی ہے!۔ابریش نے غصے سے کہا۔
“میں نے تم سے بات نہیں کی”۔عفان نے کہا۔
“ہاں پر تم اس سے کس طرح بات کررہے ہو”۔ابریش نے ہنوز غصے سے کہا۔
“کیسے بھی کروں ، میری مرضی”۔عفان نے بھی برہمی سے کہا۔
“خضر آپ برا مت ماننا ، پر دراصل ایکسیڈنٹ کی وجہ سے عفان تھوڑا چڑچڑا ہوگیا ہے ، ورنہ یہ ایسا ہے نہیں”۔مراد نے بات سمبھالنے کیلئے جلدی سے وضاحت کی۔
“جی نہیں ، میں ایسا ہی ہوں”۔عفان نے ڈھیٹ پن سے کہا۔
“کوئی بات نہیں ، اگر آپکو مجھ سے بات کرنا اچھا نہیں لگتا تو میں چلا جاتا ہوں ، کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے”۔خضر نے کہا۔
“جی ، مہربانی ہوگی آپکی”۔عفان نے طنزیہ لہجے میں کہا۔خضر وہاں سے چلا گیا۔
“عفان تم حد سے بڑھ رہے ہو ، تم نے اچھا نہیں کیا”۔ابریش نے غصے سے کہا۔اور وہ بھی وہاں سے چلی گئی۔
“ریلکس یار ، کیا ہوگیا ہے؟۔ابریش اور خضر کے جانے کے بعد مراد نے کہا۔
“یار اس باگڑ بلے کو دیکھ کر پتہ نہیں بلاوجہ ہی میرا پارا ہائی ہوجاتا ہے”۔عفان نے سرجھٹکتے ہوئے کہا۔
“ہوتا ہے ، جس طرح کچھ لوگ بنا کسی وجہ کے ہی ہمیں پسند ہوتے ہیں ناں ، اسی طرح کچھ لوگ بنا کسی وجہ کے ہمیں ناپسند بھی ہوتے ہیں ، پر جس طرح آپ اپنی یکطرفہ پسندیدگی کو بس اپنے تک رکھ کر باقی سب سے پوشیدہ رکھتے ہیں ، اسی طرح اپنی ناپسندیدگی کو بھی اپنے تک ہی رکھنا چاہئے ، اور خاص طور پر جب سامنے والے کا رویہ دوستانہ ہو”۔مراد نے سمجھایا۔عفان نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“خیر چھوڑو یہ سب باتیں ، آؤ اپنے باقی دوستوں سے تو مل لو”۔مراد نے خود ہی موضوع بدلا۔
“میرا دل نہیں چاہ رہا”۔عفان نے کہا۔
“ارے تمہارے دل کی تو ایسی کی تیسی ، چلو تم”۔مراد نے عفان کو بازو سے پکڑتے ہوئے کہا۔اور ایک جانب لے گیا۔
********************************
“خضر ! رکو میری بات سنو”۔ابریش نے خضر کی جانب جاتے ہوئے اسے پیچھے سے پکارا۔وہ وہاں سے سیدھا اسکے پیچھے آئی تھی۔خضر رک کر پلٹا۔
“ایم ویری ویری سوری خضر ، عفان کی طرف سے میں تم سے معذرت چاہتی ہوں”۔ابریش نے کہا۔
“ارے نہیں نہیں ، تم کیوں سوری کہہ رہی ہو”۔خضر نے جلدی سے کہا۔
“میں جانتی ہوں کہ عفان کے رویے سے تمہارا دل دکھا ہے ، پر مراد ٹھیک کہہ رہا تھا ایکسیڈنٹ کی وجہ سے عفان تھوڑا چڑچڑا ہوگیا ہے ، ورنہ وہ ایسا ہے نہیں”۔ابریش نے وضاحت کی۔
“میں سمجھ سکتا ہوں ، اسی لئے میں نے بھی زیادہ بات نہیں بڑھائی اور وہاں سے ہٹ گیا”۔خضر نے کہا۔
“ہممم! پر پھر کہہ رہی ہوں پلیز اسکی بات کا برا مت ماننا”۔ابریش نے کہا۔
“ارے نہیں مانوں گا ، بےفکر رہو”۔خضر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“تھینکس ، تم بہت اچھے ہو”۔ابریش نے کہا۔
“ہاں ، اتنا اچھا کہ سب مجھ سے دور بھاگتے ہیں”۔خضر نے پھیکی سی ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔ابریش نے کچھ نہیں کہا۔
“اچھا چلتا ہوں ، کلاس میں ملاقات ہوگی”۔خضر نے خود ہی کہا۔
“ہممم! ضرور”۔ابریش نے مسکراتے ہوئے کہا۔
*******************************
ابریش نے عفان سے پھر پورا دن کوئی بات نہیں کی۔اور گھر آکر بھی وہ بے چینی سے فیضان کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔جیسے تیسے اس نے وقت گزارہ اور جیسی ہی گھڑی نے رات کے آٹھ بجائے ایک ایک کرکے تینوں کاریں کار پورچ میں آکر رکی۔پورا دن انتظار کرتے کرتے یہ وقت آیا۔پر ابھی ابریش کو کھانے تک اور انتظار کرنا تھا۔
کھانے کے بعد سب نے حسب معمول ہال میں اکھٹے چائے پی اور تھوڑی سی گپ شپ کے بعد سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔
********************************
انعم ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے ہاتھوں پر نائٹ کریم لگا رہی تھی۔فیضان کمرے میں داخل ہوا اور اپنا موبائل چارج پر لگانے لگانے لگا۔
“تم نے اے سی نہیں ان کیا ابھی تک انعم!۔فیضان نے متلاشی نظروں سے اے سی کا ریموٹ ڈھونڈتے ہوئے کہا۔
“نہیں ، تمھیں ہی زیادہ گرمی لگتی ہے ، اور پلیز نارمل ڈیگری پر رکھنا اے سی ، تم اتنا تیز کردیتے ہو ایسا لگتا ہے مری میں ہیں ہم”۔انعم نے ہنوز کریم لگاتے ہوئے کہا۔فیضان ریموٹ ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔اس نے اے سی ان کیا اور ریموٹ بیڈ پر اچھالتے ہوئے انعم کے عقب میں آکر کھڑا ہوگیا۔
“ویسے کچھ زیادہ اثر نہیں ہوا ہے ناں ہم پر وقت کا!۔فیضان نے شیشے میں نظر آتے دونوں کے عکس کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“ہممم! کیوں نہیں ہوا ؟۔انعم نے بھی شیشے میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“کیونکہ ہم نے اثر لیا ہی نہیں”۔فیضان نے کہا۔
“ٹک ٹک ٹک”۔تب ہی دروازے پر دستک ہوئی۔فیضان نے آکر گیٹ کھولا تو سامنے ابریش کھڑی تھی۔
“ڈسٹرب کرنے کیلئے سوری چاچو ، پر آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے”۔ابریش نے کہا۔
“ہممم! آؤ اندر”۔فیضان نے سائیڈ پر ہوتے ہوئے کہا۔ابریش اندر آگئی۔
“ارے ابریش تم اس وقت ! خریت تو ہے!۔انعم نے حیرانگی سے پوچھا۔
“جی چچی خیریت ہے ، بس چاچو سے ایک ضروری بات کرنی ہے”۔ابریش نے بتایا۔
“بیٹھو ، فیضان نے صوفے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ابریش بیٹھ گئی۔اور وہ خود بھی سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔انعم بھی تشویش کے مارے فیضان کے برابر میں آکر بیٹھ گئی۔
“بات دراصل یہ ہے چاچو کہ ایک خضر احسان نامی لڑکے نے حال ہی میں ہمارا کالج جوائن کیا ہے ، اور وہ ہمارا کلاس فیلو بھی ہے ، پر اسکی آنکھیں ہم عام انسانوں کی طرح نہیں ہیں ، بلی کی طرح لگتی ہیں ، جس کی وجہ سے وہ تھوڑا پراسرار لگتا ہے ، اور لوگ اس سے دور ہی رہتے ہیں ، شروع میں اسے کچھ نوٹس کی ضرورت پڑگئی تھی ، تو کوئی وہ بھی دینے کو تیار نہیں تھا اسے ، یہاں تک کے عفان نے بھی اس سے جھوٹ بول کر اسے انکار کردیا تھا ، پر میں نے اسے نوٹس دے دیے تھے ، وہ دن ہے اور آج کا دن ہے ، عفان نے ایک بار بھی اس سے صحیح طریقے سے بات نہیں کی ، حالانکہ اسکا رویہ عفان کے ساتھ بہت دوستانہ ہے ، پر عفان ہمیشہ اس سے اُکھڑا اُکھڑا رہتا ہے ، اور آج تو عفان نے حد ہی کردی ، خضر اسکی طبیعت پوچھنے آیا تو تب بھی عفان نے اس سے صحیح سے بات نہیں کی ، تو میں یہاں اسی لئے آئی ہوں کہ آپ عفان کو سمجھائیں کے اپنا رویہ درست کرے اسکے ساتھ ، آخر وہ بھی تو انسان ہے ، اب اگر اسکی آنکھیں عجیب سی ہیں تو اس میں اسکی تو کوئی غلطی نہیں ہے ناں ، محض اس بات کو وجہ بنا کر اس سے تلخ برتاؤ کرنا کہاں کا انصاف ہے ؟ اور اس بات کی تو اسلام نے بھی تاکید کی ہے کہ کبھی بھی اپنی ذات سے دوسروں کو تکلیف مت پہنچانا ، کبھی بھی کسی کا دل مت توڑنا ، پھر چاہے وہ دل کسی کافر کا ہی کیوں ناں ہو ، ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ تو اپنے دشمنوں سے بھی اتنے اعلی اخلاق سے پیش آتے تھے ، اور ہم کیسے امتی ہیں ، جو مسلمان ہوتے ہوئے ایک دوسرے مسلمان کا دل نہیں رکھ سکتے ، اور خود کو عاشقِ رسول ﷺ کہتے ہیں ، انکی سنتوں پر تو ہم سے عمل ہوتا نہیں ہے ، اور باتیں جان دینے کی کرتے ہیں ، یہ سب باتیں اگر میں عفان سے کروں گی تو عمل کرنا تو دور کی بات ، وہ پوری سنے گا بھی نہیں ، اسی لئے آپ سے ریکویسٹ کرنے آئی ہوں چاچو کے پلیز عفان کو سمجھائیں ، آپ باپ ہیں آپکی بات مان لے گا وہ”۔ابریش نے ساری تفصیل بتا کر کہا۔فیضان اور انعم خاموشی سے اسکی باتیں سن رہے تھے۔
“آپ لوگوں اگر میری باتوں کا برا لگا ہو تو بہت معذرت ، پر چاچو یہ سب میں عفان کے بھلے کیلئے ہی کہہ رہی ہوں”۔ابریش نے دونوں کو خاموش دیکھ کر پھر کہا۔
“نہیں بیٹا ، ہمیں برا نہیں لگا ، بلکہ بہت اچھا لگا ، کیونکہ اپنے ہی تو اپنوں کے برے بھلے کے بارے میں سوچتے ہیں ، تم فکر مت کرو ، میں عفان کو سمجھادوں گا”۔فیضان نے ایک شفیق مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
“تھینک یو سو مچ چاچو”۔ابریش نے خوش ہوکر کہا۔
“کوئی بات نہیں ، جب تم اپنے کمرے میں جاؤ تو عفان کو کہتی ہوئی جانا کہ میں نے بلایا ہے”۔فیضان نے کہا۔
“جی ٹھیک ہے ، ڈسٹرب کرنے کیلئے معذرت ، شب بخیر ، گڈ نائٹ “۔ابریش نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔اور کمرے سے باہر چلی گئی۔
“ماشاءاللّه بچی سمجھدار ہوگئی ہے”۔انعم نے کہا۔
“ہممم! آخر بھتیجی کس کی ہے”۔فیضان نے مصنوئی اکڑ سے کہا۔
********************************
“کوئی ایسا پل بھی ہوا کرے”
“میں کہا کروں وہ سنا کرے”
“میری فرصتیں میرے مشغلے”
“سب ہی اپنے نام کیا کرے”
“کوئی بات ہو کسی شام کی”
“کوئی ذکر ہو کسی رات کا”
“جو سنانے بیٹھو اسے کبھی”
“وہ سنے تو سن کر ہنسا کرے”
“جو میں کہوں چلو اس نگر”
“جہاں جوگنوؤں کا ہجوم ہو”
“وہ پلٹ کر دیکھے میری طرف”
“اور مجھ کو پاگل کہا کرے”
“کوئی ایسا پل بھی ہوا کرے”
عفان اپنے بیڈ پر اوندھ لیٹا ہوا ڈائری کے سفید پننے قلم سے سیاہ کرنے میں مصروف تھا۔کہ تب ہی ابریش نے کمرے کا دروازہ کھولا۔
“تمھیں فیضان چاچو بلارہے ہیں”۔ابریش نے بنا کسی تہمید کے دروازے پر ہی کھڑے کھڑے کہا۔اور عفان کا جواب سنے بغیر ہی دروازہ بند کرکے واپس چلی گئی۔وہ صبح سے عفان سے بات نہیں کررہی تھی۔عفان نے بھی کوئی پیش قدمی نہیں کی تھی۔
“جی چاہتا ہے تجھے چیر دوں اے دل”
“نہ تو رہے مجھ میں ، نہ وہ رہے تجھ میں”
عفان نے ایک آخر شعر ڈائری میں لکھا۔اور ڈائری رکھ کر فیضان کے پاس جانے کیلئے اٹھ کھڑا ہوا۔
********************************
جاری ہے
