Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan NovelR50802 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode21
Rate this Novel
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode01 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode02 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode03 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode04 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode05 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode06 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode07 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode08 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode09 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode10 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode11 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode12 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode13 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode14 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode15 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode16 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode17 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode18 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode19 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode20 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode21 (Watching)Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode22 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode23 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode24 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode25 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode26 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode27 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode28 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode29 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode30 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode31 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode32 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode33 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode34 Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Last Episode
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode21
Ik Aur Raaz Season 2 by Faryal Khan Episode21
رات کا ناجانے کونسا پہر تھا۔جب کسی آہٹ پر ابریش کی آنکھ کھلی۔وہ ڈائری لکھتے لکھتے اسی پر سر رکھ کر سوگئی تھی۔اس نے ڈائری اور پین ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل کی دراز میں رکھا۔اور صحیح سے لیٹ کر کمبل اوڑھنے ہی لگی تھی کہ گیلری سے کچھ گرکر ٹوٹنے کی آواز آئی۔
خضر نے نوٹ میں یہ بھی لکھا تھا کہ وہ جارہا ہے ، پر واپس آنے کیلئے”۔ابریش کو یکدم مراد کی بات یاد آئی۔
“یااللّه ! کہیں خضر کی روح سچ مچ میں تو واپس نہیں آگئی ہے”۔ابریش نے دل میں سوچا۔اور خوفزدہ نظروں سے کھڑکی کو دیکھتے ہوئے آیت الکرسی پڑھنے لگی۔کہ تب ہی کھڑکی پر بہت واضح دستک ہوئی۔ابریش نے اپنی چیخ روکنے کیلئے دونوں ہاتھ کس کر منہ پر رکھ لئے۔اسکا دل بہت زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ہلکی ہلکی دستک ہنوز جاری تھی۔اور دستک کبھی کھڑکی پر ہورہی تھی کبھی دروازے پر۔
“ابریش !۔اب کی بار کسی نے باقاعدہ اسکا نام پکارا۔ابریش نے ڈر کر بیٹھے بیٹھے ہی منہ تک کمبل اوڑھ لیا۔اور سانس روک کر بیٹھ گئی۔جیسے کہ اگر اس نے سانس لی تو بھوت آکر اسے پکڑ لے گا۔دستک اب رک گئی تھی۔اور بالکل خاموشی چھاگئی تھی۔وہ سوچنے لگی کہ کمبل سے باہر نکلے یا نہیں۔
“ٹک ٹک ٹک ! ابریش میں ہوں مراد”۔اب کی بار دستک کے ساتھ آواز آئی۔ابریش کمبل سے نکل کر دوپٹہ اوڑھتی ہوئی کھڑکی کے پاس آئی۔اور جلدی سے کھڑکی کھولی۔باہر سچ میں مراد ہی تھا۔
“حد ہوتی ہے یار ، کب سے کھڑکی بجا رہا تھا ، آوازیں دے رہا تھا پر تم سن ہی نہیں رہی تھی ، کتنی بےخبر سوتی ہو”۔مراد نے کھڑکی کھلتے ہی شکوہ کیا۔
“سو نہیں رہی تھی ، ڈر گئی تھی ، مجھے لگا خضر کی روح آگئی ہے”۔ابریش نے بتایا۔
“کیا ! سچ میں؟۔مراد نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
“ہاں تو”۔ابریش نے کہا۔
“بڑی ڈرپوک ہو”۔مراد نے مذاق اڑایا۔
ابریش تنک کھڑکی بند کرنے لگی۔مراد نے جلدی سے کھڑکی پکڑلی۔
“ارے ارے رکو تو صحیح ، میں اتنی مشکل سے آیا ہوں اور تم بات ہی نہیں کررہی”۔مراد نے جلدی سے کہا۔
“ہاں تو تم میرا مذاق جو اڑا رہے ہو ، اور اس وقت یہاں اس طرح کیوں آئے ہو؟۔ابریش نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“اچھا سوری ! اب نہیں اڑاؤں گا مذاق ، وہ میں دوست کے گھر سے واپس جارہا تھا ، راستے میں تمہارا گھر آیا تو سوچا تم سے ملتا چلوں”۔مراد نے کہتے ہوئے بتایا۔
“واہ ! یہ کونسا وقت اور طریقہ ہے ملنے کا؟۔ابریش نے طنز مارا۔
“ابھی صرف ایک ہی تو بجا ہے رات کا ، اور یہ میرا طریقہ ہے”۔مراد نے آخری جملہ فخر سے کہا۔
“مل لئے ناں ! تو پھر جاؤ اب”۔ابریش نے کہا۔
“وہ تم سے ایک بات کہنے آیا ہوں”۔مراد نے گمبھیر لہجے میں کہا۔
“کونسی بات؟۔ابریش نے پوچھا۔
“وہ بات دراصل یہ ہے کہ…………!۔
“ٹک ٹک ٹک”۔مراد کچھ کہنے ہی والا تھا کہ کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔ابریش نے گھبرا کر جلدی سے کھڑکی بند کردی۔
“ابریش آپی دروازہ کھولو”۔ابرار کی آواز آئی۔اس نے جلدی سے آکر دروازہ کھولا۔
“کیا ہوا ابرار ! سب خیریت ہے؟۔ابریش نے تشویش سے پوچھا۔
“آپی مجھے کوئی سایہ سا آپکے کمرے کی گیلری کے پاس محسوس ہوا ہے”۔ابرار نے بتایا۔ابریش سمجھ گئی اس نے مراد کا سایہ دیکھا ہوگا۔
“نہیں تو ، گیلری میں تو کچھ بھی نہیں ہے ، ابھی میں کھڑکی بند کرکے ہی تو آرہی ہوں ہوا کیلئے کھولی ہوئی تھی میں نے”۔ابریش نے جھوٹ بولا۔
“پر آپی میں نے بہت عجیب و غریب سایہ آپکے کمرے کی جانب بڑھتا دیکھا ، اور وہ کوئی…..وہ کوئی انسان نہیں لگ رہا تھا”۔ابرار نے پراسرار انداز میں کہا۔
“ابرار ! تم ڈرا رہے ہو مجھے؟۔ابریش نے آئبرو اچکا کر پوچھا۔
“نہیں آپی گاڈ پرامس ، میں نے دیکھا ہے تب ہی تو آیا ہوں”۔ابرار نے اپنی بات پر زور دیا۔
“میرے بچے کچھ نہیں ہے گیلری میں تمہارا وہم ہوگا ، اب سو جاؤ جاکر بہت رات ہوگئی ہے”۔ابریش نے اسکے گال کھنچتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے ، پر صحیح سے بند کرکے سوئیں گا کھڑکی دروازے”۔ابرار نے تاکید کی۔
“جی ابا جان”۔ابریش نے شرارت سے کہا۔ابرار اپنے کمرے میں چلا گیا۔وہ جلدی سے دروازہ بند کرکے کھڑکی کی جانب آئی۔پر تب اسکی حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہی جب اس نے دیکھا کہ باہر کوئی نہیں تھا۔اس نے یہاں وہاں دیکھا پر مراد کہیں نہیں تھا۔
“شاید چلا گیا”۔اس نے زیر لب کہا۔اور کھڑکی بند کرکے واپس اپنے بیڈ پر آکر لیٹ گئی۔دوسری جانب گیلری میں ایک سایہ سا لہرایا پھر دھوئیں کی شکل اختیار کرکے ہوا میں تحلیل ہوگیا۔
*********************************
سورج آسمان کے سینے پر اس وقت اپنی پوری شان سے براجمان تھا۔سٹوڈنٹس کا کالج آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔علیزے اور ابرار بھی کار میں کالج کی جانب رواں دواں تھے۔دونوں پڑھتے تو الگ کالجز میں تھے۔پر کیونکہ علیزے کا کالج راستے میں پڑتا تھا اسی لئے ابرار کی ڈیوٹی تھی اسے اسے جاتے ہوئے ڈراپ کرنا اور واپسی پر پک اپ کرنا۔
“تمھیں پتہ ہے ابر ، جس دن ابریش آپی کے ساتھ وہ لڑکے والا تماشا ہوا تھا ناں ، اس دن میری دوست ماہین کی منگنی تھی ، پر اس سارے تماشے کی وجہ سے میں جانہیں سکی ، میری سب دوستیں گئیں تھیں ، اور بتا رہی تھیں کہ اتنا مزہ آیا تھا منگنی میں”۔علیزے نے بتایا۔وہ ابرار کو کبھی کبھی ابر کہتی تھی۔ابرار نے علیزے کی بات پر دھیان نہیں دیا بس خاموشی سے ڈرائیونگ کرتا رہا۔
“ابرار ! ۔علیزے نے جواب نا پاکر پکارا۔
“اں ہاں ! کیا ہوا؟۔ابرار نے یکدم چونک کر پوچھا۔
“وہی تو میں پوچھ رہی ہوں کہ کیا ہوا ؟ میں تم سے بات کررہی ہوں اور تم جواب ہی نہیں دے رہے ہو”۔علیزے نے کہا۔
“سوری ! میں نے سنا نہیں ، کیا کہہ رہی تھی تم؟۔ابرار نے پوچھا۔
“کچھ خاص نہیں ، تم بتاؤ ، کوئی پریشانی ہے کیا؟۔علیزے نے پوچھا۔
“ہاں یار ، ایک بات تنگ کررہی ہے”۔ابرار نے کہا۔
“کونسی بات ؟۔علیزے نے پوچھا۔
“کل رات قریب ایک ڈیڑھ بجے میں نیٹ ورک پرابلم کی وجہ سے اپنی گیلری کی کھڑکی میں کھڑا فون پر اپنے دوست سے بات کررہا تھا ، تب ہی اچانک مجھے ایسا لگا کہ آپی کے کمرے کے باہر عجیب دھواں سا اڑ رہا ہے ، میں نے اپنا وہم سمجھ کر نظر انداز کردیا ، پر پھر تھوڑی دیر بعد میں نے دیکھا کہ ایک بہت ہی زیادہ عجیب سا سایہ نما آپی کے کمرے کی جانب بڑھ رہا ہے ، اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ میرا وہم نہیں تھا ، میں جلدی سے آپی کے کمرے کی طرف بھاگا اور گیٹ بجا کر انھیں باہر بلا کر بتایا کہ میں نے ایسا سب دیکھا ہے ، آپی نے کہا کہ گیلری میں کچھ نہیں ہے ، انھوں نے ابھی ابھی کھڑکی بند کی ، اور کہا کہ میرا وہم ہوگا ، میں کمرے میں واپس آگیا ، پر میں یقین سے کہہ سکتا ہوں وہ میرا وہم نہیں تھا ، وہاں سچ میں کچھ تھا”۔ابرار نے تفصیل بتائی۔
“اوہ ! تو تم نے اور کسی کو بتایا اس بارے میں؟۔علیزے نے حیرانگی سے پوچھا۔
“نہیں ، بتاؤں گا بھی تو سب وہم قرار دے کر نظر انداز کردیں گے”۔ابرار نے کہا۔
“پر پھر بھی ، کسی بڑے کے علم میں لانا ضروری ہے یہ بات ابر”۔علیزے نے کہا۔
“کس کو بتائیں ؟۔ابرار نے پوچھا۔
“تینوں دادیوں میں سے کسی کو بتا دیتے ہیں”۔علیزے نے مشورہ دیا۔
“پر کونسی دادی کو بتائیں ؟ بڑی دادی (شہلا) کو ، دادی (فیروزہ) کو ، یا چھوٹی دادی (ممتاز) کو؟۔ابرار نے پوچھا۔
“ہممم! ایسا کرتے ہیں کہ چھوٹی دادی کو بتادیتے ہیں ، وہ آرام سے سن لیتی ہیں سب کی بات”۔علیزے نے مشورہ دیا۔
“ٹھیک ہے ، تو آج ہی کالج سے واپس آکر ان سے بات کرتے ہیں”۔ابرار نے کار علیزے کے کالج کے گیٹ کے باہر روکتے ہوئے کہا۔
*********************************
“کیسی طبیعت ہے اب؟۔مراد نے پوچھا۔
“الحمدللہ ! اب تو بالکل ٹھیک ہوں”۔عفان نے بتایا۔کلاس کے بعد دونوں باتیں کرتے ہوئے کینٹین کی جانب جارہے تھے۔ابریش بھی خوشی کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے ان سے تھوڑے فاصلے پر چل رہی تھی۔
“عفان !۔سر وحید نے اسے پکارا۔
“یس سر ؟۔عفان نے رک کر پوچھا۔باقی تینوں بھی رک گئے۔
“آپکی والدہ ڈاکٹر ہے ناں؟۔سر نے پوچھا۔
“جی سر”۔عفان نے کہا۔
“ذرا یہاں آئیں میرے ساتھ ، کچھ بات کرنی ہے آپ سے”۔سر نے کہا۔اور عفان کو سٹاف روم کی جانب لے گئے۔یہ تینوں کینٹین میں آگئے۔خوشی کام میں مصروف ہوگئی تو دونوں جوس اور سینڈوچ لے کر ایک ٹیبل کے گرد کرسی کھنچ کر بیٹھ گئے۔
“کل رات اچانک تم کہاں چلے گئے تھے؟۔ابریش نے پوچھا۔
“کیا ! کہاں سے چلاگیا تھا میں؟۔مراد نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“کل رات جب میں کھڑکی بند کرکے دروازے پر ابرار سے بات کرنے گئی ، پھر میں نے واپس آکر دیکھا تو تم گیلری میں نہیں تھے ، کہاں چلے گئے تھے اتنی جلدی؟۔ابریش نے بتاتے ہوئے پوچھا۔
“کیا کہہ رہی ہو ؟ کونسی کھڑکی کس کی گیلری؟۔مراد نے الجھ کر پوچھا۔
“مراد ! کل رات ایک ڈیڑھ بجے کے قریب تم میرے کمرے کی گیلری میں تھے اسکی بات کررہی ہوں میں”۔ابریش نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔
“کیا ہوگیا ہے ، تم ایک ڈیڑھ بجے کی بات کررہی ہو ، کل تو میں سر درد کی وجہ سے دس گیارہ بجے تک ہی سوگیا تھا ، ورنہ عموماً میں بارہ ایک بجے تک سوتا ہوں ، اور تم کہہ رہی ہو کہ میں تمہاری گیلری میں تھا ، ناممکن آبی”۔مراد نے بتایا۔
“تم مذاق کررہے ہو ، مجھے ڈرا رہے ہو ناں!۔ابریش نے کہا۔
“خدا کی قسم آبی میں سچ کہہ رہا ہوں ، اور تمھیں میری بات پر یقین نہیں ہے ناں ، تو رکو ایک منٹ”۔مراد نے کہا۔اور پینٹ کی جیب سے موبائل نکال کر کسی کا نمبر ڈائل کرکے فون سپیکر پر کردیا۔بیل جارہی تھی۔
“ہیلو ، ہاں مراد بولو؟۔سپیکر سے ایک نسوانی آواز ابھری۔
“ہیلو مام ! کل رات ایک ڈیڑھ بجے کے قریب میں کہاں تھا؟۔مراد نے پوچھا۔
“کیا ؟ دماغ ٹھیک ہے ، یہ کیسا سوال ہے؟۔ناہید نے حیرانگی سے کہا۔
“ارے مام میرا ایک دوست کہہ رہا ہے کہ رات ایک ڈیڑھ بجے میں گھر سے باہر تھا ، اسے میری بات پر یقین ہی نہیں آرہا ، آپ بتائیں میں کہاں تھا؟۔مراد نے بتاتے ہوئے پوچھا۔
“تم اپنے کمرے سو رہے تھے ، میں نے خود سونے سے پہلے دیکھا تھا تمھیں کمرے میں آکر”۔ناہید نے بتایا۔مراد نے ابریش کی جانب دیکھا جو چہرے پر حیرانگی و ناسمجھی کے آثار لئے سب سن رہی تھی۔
“ٹھیک ہے ، بس یہی پوچھنا تھا”۔مراد نے کہا۔
“ٹھیک ہے ، اور بات سنو ! کالج سے سیدھا گھر آنا ، دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی کرنے مت نکل جانا”۔ناہید نے تاکید کی۔
“جی جی ٹھیک ہے ، اچھا الله حافظ”۔مراد نے کہا۔اور لائن کاٹ دی۔
“بس سن لیا ! اب آیا یقین؟۔مراد نے موبائل واپس جیب میں رکھتے ہوئے پوچھا۔ابریش کے چہرے کا تو رنگ ہی اڑگیا تھا۔
“اگر وہ تم نہیں تھے ، تو پھر کون تھا؟۔ابریش نے حیرانگی سے کہا۔
“کیا ہورہا ہے؟۔عفان نے کرسی کھنچ کر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“ایک ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھارہے تھے ، کہ تم آگئے بیچ میں”۔مراد نے شرارت سے کہا۔
“عجیب پاگل ہو دونوں ، سامنے سینڈوچ رکھا ہے ، اور اسے چھوڑ کر دونوں قسمیں کھارہے تھے”۔عفان نے بھی اسی انداز میں کہا۔
“تمھیں کیا ہوا ؟ چہرے کا رنگ کیوں اڑا ہوا ہے؟۔عفان نے ابریش سے پوچھا۔
“ارے بیچاری کا فون گر کر آف ہوگیا ہے ، اسی لئے پریشان ہے”۔مراد نے جھوٹ بولا۔
“اوہ ہو ! اس میں بھلا پریشانی کی کیا بات ہے ، دوسرا لے لینا”۔عفان نے کہا۔
“تم بتاؤ ، تمھیں سر نے کیوں بلایا تھا؟۔مراد نے موضوع بدلا۔
“سر کو اپنی وائف کیلئے اپائینٹمینٹ چاہئے تھا ممی”۔عفان نے بتایا۔
“لو ! تو ہوسپٹل جاکر لینا چاہئے ناں”۔مراد نے کہا۔
“ہر شخص شارٹ کٹ کے چکر میں ہے یار”۔عفان نے کہا۔
*********************************
کالج سے آنے کے بعد علیزے اور ابرار موقے کی تلاش میں تھے کہ کب ممتاز انھیں اکیلی ملیں اور دونوں اس پر حملہ (مطلب بات) کریں۔اور آخر کار لنچ کے بعد دونوں کو یہ موقع مل گیا۔جب سب لوگ آرام کرنے کے غرض سے اپنے اپنے کمروں میں تھے۔ممتاز اس وقت اپنے کمرے میں اکیلی تھیں۔
“ٹک ٹک ٹک”۔ابرار نے دروازے پر دستک دی۔
“آجاؤ “۔اندر سے ممتاز کی آواز آئی۔دونوں دروازہ دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ممتاز سرہانے سے ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی تھیں۔اور ملازمہ انکے پیر دبا رہی تھی۔
“ڈسٹرب تو نہیں کیا چھوٹی دادی آپکو؟۔ابرار نے پوچھا۔
“ارے نہیں بیٹا ، بولو کچھ کام تھا کیا؟۔ممتاز نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“جی ، کچھ ضروری بات کرنی ہے آپ سے”۔علیزے نے کہا۔
“ہممم! بیٹھو ، پھر بتاؤ کیا بات ہے”۔ممتاز نے کہا۔دونوں سامنے رکھے صوفوں پر بیٹھ گئے۔اور بات شروع کرنے کیلئے لفظ سوچنے لگے۔
“اب بولو بھی کچھ”۔ممتاز نے دونوں کو خاموش دیکھ کر کہا۔
“وہ چھوٹی دادی ، دراصل بات یہ ہے کہ کل رات میں ناں قریب ایک ڈیڑھ بجے………………!۔پھر ابرار نے کل رات کا سارا واقعی ممتاز کے گوش گزر کردیا۔جسے وہ اور ملازمہ حیرانگی سے سنتی رہی۔
“اور میں یقین سے کہہ رہا ہوں دادی وہ سب میرا وہم نہیں تھا ، اور یہ جو کچھ دنوں سے ابریش آپی عجیب و غریب باتوں کا ذکر کررہی ہیں وہ بھی انکا وہم نہیں ہوگا ، وہ سچ کہہ رہی ہیں”۔ابرار نے ساری بات بتا کر آخر میں کہا۔
“تو تم لوگوں کا مطلب ہے کہ یہ کوئی بھوت پریت کا چکر ہے؟۔ممتاز نے پوچھا۔
“جی ، شاید”۔دونوں نے یک زبان کہا۔
“بیگم صاحبہ ، اگر اجازت ہو تو ایک بات بولوں؟۔ رانی (ملازمہ) نے کہا۔
“ہممم! بولو”۔ممتاز نے کہا۔
“میں ناں ایک پیر صاحب کو جانتی ہوں ، انہی سب مسلوں کا علاج کرتے ہیں ، اگر آپ کہیں تو میں ان سے بات کروں؟۔رانی نے پوچھا۔
“ابھی رک جاؤ ، پہلے میں نادر کے ابو سے بات کرلوں ، پھر بتاتی ہوں”۔ممتاز نے کہا۔
*********************************
“فاریہ ! “۔حیدر نے سوچوں میں گم فاریہ کو پکارا۔اسکی آواز پر وہ یکدم چونکی۔
“گھر آگیا کیا ؟۔فاریہ نے چونک کر پوچھا۔اور خود ہی کھڑکی سے باہر دیکھا۔کار روڈ پر رواں دواں تھی۔
“نہیں ، پر میں کچھ دنوں سے دیکھ رہا ہوں کہ تم کچھ ڈسٹرب لگ رہی ہو”۔حیدر نے کہا۔
“ابریش کی وجہ سے پریشان ہوں یار”۔فاریہ نے سر سیٹ کی پشست سے ٹکاتے ہوئے کہا۔
“کیا ہوا ابریش کو ؟ ٹھیک تو ہے وہ”۔حیدر نے کہا۔
“ابھی کچھ دنوں سے جو حرکتیں ہیں اسکی ، بار بار کسی نا کسی چیز سے ڈر جاتی ہے ، کبھی کہیں کچھ نظر آجاتا ہے ، ان سب کو لے کر فکرمند ہوں”۔فاریہ نے بتایا۔
“دراصل اس نے خضر والے معملے کو بہت زیادہ اپنے ذہن پر حاوی کرلیا ہے ، بس اور کوئی بات نہیں ہے ، تم فکر مت کرو”۔حیدر نے تسلی دی۔فاریہ ایک گہرا سانس لے کر رہ گئی۔
*********************************
معمول کے مطابق کھانا کھا کر سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں آگئے تھے۔عدنان صاحب بھی اپنے بیڈ روم میں رکھی راکینگ چیئر پر بیٹھے کوئی کتاب پڑھ رہے تھے۔اور ممتاز بیڈ پر بیٹھی ان سے بات کرنے کیلئے لفظ جوڑ رہی تھیں۔
“سنیں !۔ممتاز نے پکارا۔
“ہممم! بولو”۔عدنان صاحب نے کتاب پڑھتے ہوئے ہی کہا۔
“آپ سے ایک بات کرنی ہے”۔ممتاز نے کہا۔
“سن رہا ہوں بولو”۔عدنان صاحب نے کہا۔
“دراصل آج ابرار اور علیزے نے مجھے بتایا کہ………………..!۔
پھر ممتاز نے شروع سے ساری باتیں انھیں بتادی۔عدنان صاحب کتاب بند کرکے پوری طرح ان کی جانب متوجہ ہوگئے۔
“اب اس سے پہلے کہ بات زیادہ بگڑے ، میرے خیال میں ہمیں کسی سے مدد مشورہ لینا چاہئے”۔ممتاز نے ساری بات بتاکر آخر میں کہا۔عدنان صاحب سوچ میں پڑگئے۔
“رانی ذکر کررہی تھی کسی پیر صاحب کا ، معلوم کروں انکے بارے میں؟۔ممتاز نے پوچھا۔
“ٹھیک ہے ، معلوم کرو ، میں بھی باقی سب سے مشورہ کرتا ہوں کل”۔عدنان صاحب نے کہا۔
*********************************
“میری زندگی کی کتاب کا”
“ہے ورق ورق یوں سجا ہوا”
“سرِ ابتدا ، سرِ انتہا”
“تیرا نام دل پے ہے لکھا ہوا”
ابریش نے ڈائری میں شعر لکھا۔وہ اپنے بیڈ پر کہنیوں کے بل اوندھی لیٹی ہوئی تھی۔اس نے کل ہی ڈائری لکھنا شروع کی تھی۔اور کل سے اب تک وہ اسی طرح کے لاتعداد شعر ڈائری میں لکھ چکی تھی۔یہ شعر لکھنے کے بعد ابریش پین تھوڑی پر ٹکائے پھر کچھ سوچنے لگی۔تب ہی اسے عفان سے ہونے والی اپنی ایک گفتگو یاد آئی۔جو لکھنے کے حوالے سے ہی تھی۔
“سنو میری رائٹنگ ٹیبل پر سے ڈائری اور پین دے دو میرا”۔عفان نے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔
“کیا لکھتے رہتے ہو تم یہ ہر وقت؟۔ابریش نے ٹیبل پر سے ڈائری اٹھاتے ہوئے پوچھا۔
“ابھی تمہاری سمجھ میں نہیں آئے گا”۔عفان نے کہا۔
“تو پھر کب آئے گا؟۔ابریش نے پوچھا۔
“جب تمہاری حالت بھی میری طرح ہوگی”۔عفان نے کہا۔
“کیسی ہے تمہاری حالت؟۔ابریش نے پوچھا۔
“کہا ناں ابھی تم نہیں سمجھ سکتی ، چھوڑو ان باتوں کو ، ڈائری دو میری”۔عفان نے ہاتھ بڑھا کر کہا۔
ابریش کے ذہن میں کچھ عرصے قبل کا منظر تازہ ہوگیا۔
“عفان نے کہا تھا کہ مجھے یہ لکھنے لکھانے کی باتیں تب سمجھ میں آئیں گی جب میری حالت بھی اسکی طرح ہوجائے گی ، ابھی تو مجھے میری حالت دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے جیسے مجھے مراد سے…………تو کیا عفان بھی کسی سے…….!
سوچتے سوچتے اور کڑییاں ملاتے ہوئے یکدم ابریش کے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔
“پر کس سے ؟۔ابریش نے سوچا۔
“ٹک ٹک ٹک”۔اچانک کھڑکی پر دستک ہوئی۔وہ گھبرا کر جلدی سے اٹھ بیٹھی۔اور گھڑی کی جانب دیکھا۔جہاں گھڑی کے کانٹے ساڑھے گیارہ بجنے کی اطلاع دے رہے تھے۔
“ٹک ٹک ٹک”۔کھڑکی پر دوبارہ دستک ہوئی۔اسے کل والا واقعی یاد آگیا۔کل بھی پتہ نہیں کون مراد کے روپ میں اس سے مل کر چلا گیا تھا۔دستک مسلسل ہورہی تھی۔ابریش کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے ؟ تب ہی اسکی نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھے پانی کے گلاس پر گئی۔یہ گلاس فاریہ رکھ کر گئی تھی۔اس نے اس پانی پر سورہ مزمل پڑھ کر دم کیا تھا۔اور ابریش کو تاکید کی تھی کہ سونے سے قبل اسے پی لے اور بچا ہوا پانی تھوڑا تھوڑا دیواروں پر چھڑک دے۔وہ جلدی سے بیڈ سے اتری اور لبالب بھرا ہوا گلاس اٹھا کر کھڑکی کی جانب آئی۔جہاں مسلسل دستک ہورہی تھی۔کیونکہ اس نے سنا اور پڑھا تھا کہ ایسی چیزیں اللّه کے نام سے بھاگتی ہیں۔اس نے ڈرتے ڈرتے ایک ہاتھ سے کھڑکی کھولی اور بنا ایک بھی لمحہ ضائع کیے پانی دستک دینے والے پر اچھال دیا۔مراد گیلا ہوگیا۔
“یہ کیا کِیا آبی کی بچی”۔مراد نے کوفت سے کہا۔ابریش نے اسکی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور زور زور سے آیت الکرسی پڑھنے لگی۔
“ارے آبی ڈرو نہیں ، میں ہوں مراد”۔مراد نے کہا۔ابریش ہنوز آنکھیں بند کیے آیت الکرسی پڑھتی رہی۔پوری پڑھ کر جب اس نے آنکھیں کھولی تو مراد سینے پر ہاتھ باندھے وہیں کھڑا تھا۔
“میں کوئی جن بھوت نہیں ہو جو اللّه کا نام سن کر بھاگ جاؤں گا”۔مراد نے اطمینان سے کہا۔
“جھوٹ ، اب میں بیوقوف نہیں بنوں گی”۔ابریش نے کہا۔
“ارے یار میں مراد ہی………..!۔
“ہٹو ! دور رہو”۔مراد نے ابریش کو بازؤں سے پکڑنے کیلئے ہاتھ آگے بڑھائے جنہیں ابریش نے فوراً جھٹک دیا۔جس کی وجہ سے اسکے ناخن مراد کے ہاتھ پر لگ گئے۔اور ہلکا سا خون نظر آنے لگا۔
“یہ دیکھو ! اب تو یقین آیا کہ میں بھوت نہیں ہوں ، اگر بھوت ہوتا تو میرا خون نہیں نکلتا”۔مراد نے اپنا ہاتھ آگے کرتے ہوئے کہا۔ابریش بغور اسکے ہاتھ کو دیکھنے لگی۔
“مطلب تم سچ مچ مراد ہی ہو”۔ابریش نے کہا۔
“جی بالکل”۔مراد نے کہا۔
“تو پھر اس وقت ، اس طرح یہاں کیا کرنے آئے ہو؟۔ابریش نے پوچھا۔
“یہی تماشا دیکھنے ، مجھے اندازہ تھا کہ مجھے یہاں دیکھ کر تم ایسا ہی کچھ کرو گی”۔مراد نے شرارت سے کہا۔
“دفع ہو یہاں سے”۔ابریش نے کہا۔اور زور سے کھڑکی بند کردی۔
“ارے آبی بات تو سنو ! اچھا سوری ! یار مذاق کررہا تھا میں”۔مراد نے آواز لگائی۔پر ابریش ٹس سے مس نہیں ہوئی۔
“سنو تم سے کچھ کہنا آیا ہوں میں”۔مراد نے بند کھڑکی سے سر ٹکاکر کہا۔ابریش بھی دوسری جانب ایسے ہی سرٹکا کر کھڑی ہوگئی۔
“مجھے پتہ ہے تم سن رہی ہو ، اور یہ بھی پتہ ہے کہ جو میں کہنے آیا ہوں وہ بھی شاید تم جانتی ہو”۔مراد نے کہا۔ابریش مسکرانے لگی۔اور دل ہی دل میں کہنے لگی کہ
“جلدی بول بھی دو اب”۔
“چھوڑو ، جاؤ نہیں بول رہا میں”۔مراد نے کہا۔ابریش نے جلدی سے ہاتھ کھڑکی کی لاک کی جانب بڑھایا۔پر پھر رک گئی۔اور واپس ہاتھ پیچھے کھنچ لیا۔کہ تب ہی کھڑکی کے نیچے سے ایک لفافہ اندر آیا اور ابریش کے پیر کے پاس گرا۔ دوسری جانب خاموشی چھاگئی تھی۔اس نے جھک کر لفافہ اٹھایا اور دھڑکتے دل کے ساتھ اسے کھولا۔اسکے اندر سے ایک کاغذ نکلا۔جس پر صرف ایک جملہ لکھا ہوا تھا۔
“مجھے مرنے سے پہلے ، تمہارے ساتھ جینا ہے”۔
یہ پڑھ کر ابریش بےاختیار خوشی سے مسکرادی۔اس نے کھڑکی کھول کر دیکھا تو باہر کوئی نہیں تھا۔وہ گیلری کا دروازہ کھول کر باہر آئی تو اندھیرے میں ایک سایہ اسے دیوار پھلانگتا ہوا دیکھائی دیا۔جو دیوار پر چڑھ کر باہر کی جانب کود گیا۔ابریش مسکرا کر واپس اندر آگئی۔
*********************************
جاری ہے
