Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dildar Maseeha e Dil (Last Episode)

Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh

لاؤ اسے۔۔۔۔۔۔!” کوریڈور میں داخل ہوتے اپنے بائیں بازو کے کف فولڈ کرتے چہرے پر حدردجہ سپاٹ تاثرات سجائے بھاری بوٹوں میں قید اپنے بھاری قدم آگے رکھتے بولا،

اسکا لہجہ بے لچک تھا۔۔۔ آنکھوں میں غضب کی سرخی منڈلا رہی تھی۔۔۔اسکا پور پور کسی زخمی ہوتے شیر کی مانند تھا جسکے کھجاڑ میں ہاتھ ڈالتے زور دار تمانچہ مارا گیا ہو۔۔۔۔

ان سب چیزوں سے وہ کئی بار پہلے بھی ٹوٹ چکا تھا مگر جو مزہ ٹوٹ کے جڑنے میں صالح خان کو ملتا تھا بھلا وہ دنیا کی وفاداری میں کہاں تھا ایسی لذت ایسا سرور تھا کہ اسکا پور پور اب لہو لہان ہو رہا تھا کرب کی انتہا تھی جسے وہ برادشت کرتا اپنے تنے اعصاب سے اس اندھیرے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔

انسپیکٹر نے آگے بڑھتے احتراما جلدی سے دروازہ کھولا اور فورا سے ایک جانب ہوا۔۔۔۔۔ وہ دراز قد سے جھکتا اندر داخل ہوا۔۔۔۔کمرے میں پھیلے اس ملگجے سے اندھیرے میں واحد روشنی دیوار کی ایک جانب لگی لالٹین کی تھی جس کے آگے پیچھے مچھر ایسے منڈلا رہا تھا جیسے شہد کے اوپر مکھیاں منڈلاتی ہیں ۔

اہ۔۔۔۔۔۔” صالح خان جو سرد نظروں سے کمرے کا جائزہ لینے میں مصروف تھا اچانک سے اپنے پاؤں میں کسی کے گرنے کی آواز کے پر اسکا سینہ پھولا ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ گئیں۔۔۔

بہت شوق ہے تجھے لوگوں کی عزتوں کو ہاتھ لگانے کا۔۔۔۔۔” اپنے سیاہ ٹخنوں سے اوپر تک جاتے بھاری بوٹ کی نوک سے مقابل گرے اس شخص کی تھوڑی کو اونچا کیے وہ بھپرے لہجے میں غرایا، عماد سہمتے اپنی خون سے لت پت آنکھوں سے صالح خان کو دیکھنے لگا۔۔

جس کا لہجہ وخشیوں کی طرح بے تاثر تھا،انداز میں ایسی سرد مہری کے عماد کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہریں برپا ہوئیں، وہ نہیں جانتا تھا کہ آخر صالح خان کیسے اور کیونکر اس تک پہنچا تھا مگر پچھلے دو گھنٹوں سے اسے جانوروں کی طرح پیٹا گیا تھا اسکا انگ انگ درد سے لبریز تھا۔۔

ایسے جیسے جسم کے جس بھی حصے کو چھوا جائے گا وہ زخموں سے چور عماد کی موت کو اور قریب کر دے گا۔۔۔ دیکھ میں تجھے کچھ بھی نہیں کروں گا بس مجھے یہ بتا دے کہ تجھے کس نے سپاری دی تھی ابتہاج اور ماہا کو مارنے کی۔۔۔۔” وہ اب اسے لالچ دیتا آفر کرنے لگا۔۔۔

کککک کسی نے بھی نہیں میں نے کک کچھ بھی نہیں کیا۔۔۔۔!” صالح کی بات سنتا وہ لٹھے کی مانند سپید ہوا، یہ بات ہی اسکی ٹانگوں سے جان نکالنے کو کافی تھی کہ صالح خان کا ہاتھ اسکی گردن تک پہنچ آیا تھا اب اسے موت سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا وہ خوف و دہشت سے زرد پڑنے لگا۔۔۔۔۔

اششش ری لیکس عماد لگتا ہے تمہاری یاداشت خاصی کمزور ہے تو تمہاری اطلاع کیلئے عرض ہے کہ تمہارے وہ کتے جو ابتہاج اور ماہا کی بو سونگھتے پِھر رہے تھے وہ غلطی سے صالح خان کے ہتھے چڑھ چکے ہیں۔۔ان کو ایک ہاتھ پڑا تھا طوطے کی طرح تیرا نام بک دیا اور اب تم بتاؤ کیسے خاطر مدارت کروں۔۔۔۔؟”

عماد کے بالوں کو مضبوطی سے سخت گرفت میں لیتے کھینچتا وہ ہنستے پوچھ رہا تھا جبکہ عماد کو اپنی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھاتا دکھائی دے رہا تھا دماغ جیسے کام کرنے سے مفلوج ہو چکا ہو۔۔۔

نننن نہیں ایسے کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔!” وہ موت کے خوف ڈر سے کرب ناک آواز میں چیختا کوئی پاگل دکھ رہا تھا۔۔

صالح کو اسکی حالت پر افسوس ہوا وہ تاسف سے گردن نفی میں ہلائے مڑا تھا، عماد کو لگا کہ شاید وہ اسے چھوڑ کر جا رہا تھا مگر اسکا وجود شل ہوتے نیلا پڑنے لگا جب سامنے سے دو کانسٹیبلز کو آتا دیکھا جن کے ہاتھ میں ایک موٹا سا ڈنڈا تھا ، اسکے ساتھ ساتھ نمک اور مرچ کے بڑے بڑے پیکٹ تھامے عماد کو باندھنے کا سامان لیے وہ سیدھا صالح کے پاس آئے ۔۔۔

قیامت تک لوگ یاد رکھے گے تمہیں عماد۔۔ کہ ایک شخص تھا جس نے وفاداری نبھائی وہ بھی ایسے کہ اسکے وجود پر جانوروں کی طرح تشدد کیا گیا مگر وہ اپنی وفاداری نبھاتا نبھاتا اللہ سے نبھا کر گیا۔۔۔”

صالح کا لہجہ اکھڑ تھا افسوس تاسف سے لبریز وہ ہاتھ میں اس بھاری ڈنڈے کو تھامے عماد کو الٹا لٹکانے کا اشارہ کیے اس ڈنڈے کو گھمائے دیکھنے لگا۔۔۔

ممم میرے پاس مت آؤ،ممم میں کچھ نہیں جانتا پپپپ پلیز۔۔۔۔ !” عماد خلق کے بل چیخا تھا وجود میں باقی ساری ہمت دم توڑ چکی تھی۔۔۔ مگر اسکی پرواہ کسے تھی۔۔

صالح جانتا تھا ک ابتہاج ماہا کو کسی سیو جگہ لے گیا ہو گا وہ مطمئن تھا ان دونوں کی جانب سے، مگر اس بار وہ خود ہی اس بات کی تہہ تک جانا چاہتا تھا کہ آخر ایسا کونسا شخص ہے جو ابتہاج کو برباد کرنا چاہ رہا تھا۔۔۔

نننن نہیں رررر رکو ببب بتاتا ہوں ممم مجھے مت مارو میں سب بتاتا ہوں۔۔۔۔!” خون سے لت پت وجود کے ساتھ وہ مزید ناں سہتے بے بسی کرب سے چیخا تھا۔۔۔ اسکی بات پر صالح کے ہونٹ مسکائے تھے ۔۔۔۔صالح نے گردن موڑے ان کانسٹیبلز کو اشارہ کیا جو سمجھتے سر ہلائے وہاں سے نکلے تھے۔۔۔

____________

سیاہ بھاری بوٹوں میں مقید اسکے پاؤں کی ٹک ٹک کی آواز سے ماحول میں عجیب سا ارتعاش پیدا ہو رہا تھا ۔۔۔۔ جیل کی کال کوٹھری جسے خاص طور پر ابتہاج نے مختص کیا تھا اندر بیٹھا وجود ہمیشہ کی طرح اسکی آہٹ پر دم سادھے عجیب بے تاثر نگاہوں سے دروازے کو دیکھنے لگا اسکے دونوں ہاتھوں زنجیروں سے بندھے ہوئے تھے۔۔۔۔ چہرے پر آنے والے کا خوف دخشت جانے کیا کیا سمایا ہوا تھا۔۔۔

معا وہ ڈر سے چیخا تھا جب چررر کی آواز کے ساتھ کوٹھری کا دروازہ کھلا۔۔۔ اسکی نظریں اندر آتے وجود کے سیاہ بوٹوں میں مقید پاؤں پر پڑی وہ خوف سے لٹھے کی مانند زرد ہونے لگا۔۔۔چہرے پر تاریک سائے لہرائے تھے۔۔۔۔۔

کیسی رہی اس بار کی انجوائے منٹ ڈئیر کزن۔۔۔۔۔۔۔!” مخصوص بھاری روبعدار آواز میں وہ ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے اطمینان سے سمیر کے سوجھے چہرے کو دیکھتے بولا۔۔ جو ابتہاج کے ڈر سے کانپ رہا تھا ۔۔

حالت دیکھ کر لگتا ہے کافی اچھا رہا ہو گا۔۔۔۔۔۔!” اسکی ادھڑی شکست خوردہ حالت دیکھ ابتہاج نے مسکراتے گہرہ طنز کیا۔۔۔ آنکھوں میں شریر سے تاثرات تھے۔۔۔

کیونکہ آج وہ سہی معنوں میں سکون میں تھا ۔۔اپنی ماہا کی تکلیف کا باعث بنے اس دردندے کو اذیت ناک زندگی میں دیکھ اسکا روم روم سکون میں تھا۔۔۔۔۔

مممم مجھے معاف کر دو ابتہاج پپپ پپلز جانے دو مجھے۔۔۔۔” سمیر ہمیشہ کی طرح روتا بلکتا اسے پاؤں پکڑنے کو آگے بڑھا تھا مگر دونوں اطراف سے بندھے ہاتھوں کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو پایا تھا۔۔

معافی چاہیے تمہیں_____” ابتہاج جبڑے بھینجتا قدم قدم اٹھائے اسکے قریب تر ہوا۔۔۔۔ جو سنتے سر زور سے ہاں میں ہلا گیا۔۔

تو پہلے یہ بتا کہ تیرے ساتھ وہ تیسرا شخص کون تھا جس نے اتنی بڑی تیاری رچائی، تجھے جیل سے نکلوانے میں بھی اسی کا ہاتھ تھا اور میرے ماں باپ کو مارنے بھی۔۔۔۔” ابتہاج نے آگے بڑھے اسکے بالوں کو نوچتے چہرہ اونچا کیے غراتے ہوئے پوچھا ۔۔۔

اسکے انداز پر سمیر کانپ کے رہ گیا۔۔۔

نننن نہیں مجھے کچھ نہیں پتہ۔۔۔۔۔۔!” وہ نظریں چرائے جھوٹ بول گیا کہ ابتہاج نے سنتے تاسف سے اسے دیکھا۔۔۔۔

اچھا جب تجھے کچھ خبر نہیں ہے تو پھر تجھے زندہ رکھنے کا فائدہ۔۔۔۔۔؟” ابتہاج نے سرد لہجے میں کہا اور ساتھ ہی گن نکالتے سمیر کے ماتھے پر رکھی۔۔۔۔۔

گڈ بائے سمیر۔۔۔۔۔” وہ مسکراتا ٹریگر دبانے لگا کہ معاً سمیر نے ڈرتے اسے روکا۔۔۔

ببببب۔بتاتا ہوں۔۔۔۔۔!” وہ چیختے ہوئے بولا تو ابتہاج کے لبوں پر قاتلانہ مسکراہٹ بکھری۔۔

_________

وہ کچن میں کھڑی ایک ہاتھ کمر پر ٹکائے سنجیدگی سے پورے کچن کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔ ابتہاج کو گئے ہوئے کافی وقت ہو چکا تھا اور اب تک شاید وہ واپس بھی آ جاتا۔۔۔۔ مگر ماہا کو ابھی تک سمجھ نہیں آ سکا تھا کہ وہ کیا بنائے۔۔۔۔

پرپل کلر کی کھلی گھٹنوں تک جاتی شارٹ فراق کے ساتھ وائٹ کیپری پہنے بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بنائے دوپٹہ شانوں پر رکھے وہ رف سے حلیے میں بھی کافی خوبصورت دکھ رہی تھی ممتا کے اس نئے روپ نے اسے الگ ہی رنگوں سے مزین کیا تھا کہ وہ پہلے سے زیادہ خوبصورت دکھ رہی تھی۔۔۔

ماہا کا بھرا بھرا وجود ابتہاج گردیزی کے دل کی دھڑکنوں کو نئے سرے سے منتشر کرتا تھا اور وہ ہمیشہ کی طرح اپنی من مانیوں سے اسکی خوبصورتی کو سراہتا اپنی محبت سے اسکے پور پور کو بھگوتا تھا۔۔ ابتہاج کا سوچتے ہی ایک شرمیلی سی مسکراہٹ نے ماہا کے ہونٹوں کا احاطہ کیا۔۔۔۔!’

دماغ سے ساری سوچوں کو جھٹکتے ماہا نے آگے ہوتے فریج کھولا تو سب سے پہلی نظر اسکی تازہ فروٹس اور کھانے کے سامان پر پڑی جو کہ شاید ابھی ہی رکھا گیا تھا ۔۔۔۔وہ متاثر ہوئے بنا ناں رہ سکی ۔۔۔جانتئ تھی یہ سب ابتہاج نے کیا ہو گا۔۔۔۔

ماہا مسکراتے سر جھٹکتے مٹن کڑاہی بنانے کا سوچتے مٹن نکالے کاؤنٹر پر رکھتے اب باقی کا سارا سامان ایک جگہ اکٹھا کرنے لگی۔۔۔

ابتہاج کے ساتھ سے وہ بلکل بہتر ہو چکی تھی۔۔۔ابتہاج گردیزی نے اپنی محبت کا ایسا سحر ماہا پر پھونکا تھا کہ اسے ابتہاج کے سوا ساری دنیا ہی بےمعنی لگتی تھی۔۔۔

وہ محویت سے سارا سامان تیار کرتے دیگچی گیس پر رکھتے آئل ڈالتے اپنے کام میں مصروف ہوئی ابتہاج کے آنے سے پہلے وہ اچھے سے ہر چیز تیار چاہتی تھی تاکہ وہ ابتہاج کو سرپرائز کر سکے ۔۔۔جبھی وہ پھرتی سے ہاتھ چلا رہی تھی۔۔۔

آدھے گھنٹے کی مشقت کے بعد وہ گیس آف کرتے باقی کا سارا سامان سمیٹے باہر نکلی، روٹیاں وہ ساتھ ہی ڈال چکی تھی۔۔۔تھکاوٹ محسوس کرتے وہ دوبارہ سے اسی روم۔میں آئی جہاں وہ ابتہاج کے ہمراہ مقیم تھی۔۔

سرخ رنگ کا خوبصورت سا کرتا نکالتے وہ شاور لینے سوچ واشروم میں گھسی تھی۔۔۔ دس منٹ تک وہ فریش سی بالوں کو تولیے سے رگڑتے باہر آئی تو پہلی نظر مرر میں دکھتے اپنی عکس پر پڑی۔۔۔۔

یہ رنگ کافی جچ۔رہا تھا ماہا پر وہ بہت کم ایسے شوخ رنگ پہنتی تھی آج بھی فریش کلر کا سوچ اسنے پہن لیا تھا مگر اب خود کو دیکھتے وہ خود بھی حیران تھی۔۔۔

ابتہاج کی نظروں کا سوچتے ہی ماہا کے گال شرم سے گلابی ہوئے تھے وہ سر جھٹکتے بالوں کو خشک کرتے روم سے نکلی۔۔۔۔

ابتہاج جو ابھی اپنے ضروری کام نپٹاتے گھر واپس آیا تھا ایک ہاتھ میں کوٹ تھامے دوسرے سے موبائل کان سے لگائے وہ ٹرانس کی سی کیفیت میں سیڑھیوں سے اترتی اپنی نکھری نکھری بیوی کو دیکھ جیسے سن ہو گیا تھا۔۔۔۔۔

فون کال پر موجود شخص ہیلو ہیلو کرتے رابطہ منقطع کر چکا تھا مگر یہاں ہوش کسے تھا۔۔۔ ماہا جو اپنی ہی روانی میں احتیاط سے سیڑھیاں اترتے نیچے آئی تو پہلے نظر خود کو والہانہ نظروں سے دیکھتے ابتہاج گردیزی پر پڑی وہ چونکی بھی مگر اسے سامنے پاتے وہ اسکی نظروں سے خود میں سمٹتی اسی کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔

ابتہاج کی نظریں سر تا پاؤں اپنی بیوی کو سراہ رہی تھیں۔۔۔

آپ کب آئے۔۔۔۔؛” اسکے قریب جاتے ماہا نے معصومیت سے سوال کیا تو ابتہاج نے مسکراتے کوٹ پیچھے موجود صوفے کی جانب اچھالا۔۔

جب آپ اپنے قاتل روپ میں بنا ہتھیاروں کے اترتے سیدھا میرے دل میں اتری تبھی۔۔۔۔” ابتہاج نے بنا تردد اپنا بھاری ہاتھ ماہا کی کمر کے گرد حائل کیے اسے کھینچتے سینے سے لگایا تو ماہا کی سانسیں دھوکنی کی مانند تیز تیز چلنے لگی۔۔

ابتہاج نے چہرہ اسکے گیلے بالوں میں چھپایا تو ماہا نے تھوک نگلتے اپنا حلق تر کیا۔۔۔

ابببب ابتہاج۔۔۔۔۔۔؛” اپنے چہرے پر اسکے شدت بھرے لمس پر ماہا مچلتے اسے گریبان سے تھامے احتجاج کرتے بولی تو ابتہاج نے ہونٹ اسکے رخسار پر رکھے ۔۔۔۔۔

جی جانِ ابتہاج۔۔۔۔۔ابتہاج کا لہجہ مخمور تھا جزبات سے بھاری گھبیر لہجہ کہ ماہا کی ریڑھ کی ہڈی میں سرسراہٹ سی دوڑی۔۔۔ وہ تھوک نگلتے خود کو ابتہاج سے بچانے کی راہ تلاشنے لگی مگر وہ جانتی تھی آج ابتہاج سے بچ پانا نا ممکن تھا۔۔۔۔

مم میں نے کک کھانا بنایا ہے کھانا کھائیں_____!” ابتہاج کے ہونٹوں کا لمس اپنی تھوڑی پر محسوس کرتی وہ گھبراہٹ شرم کے ملے جلے تاثرات سے بولی تو ابتہاج کو اپنی نازک سی جان پر ترس آیا جبھی نرمی سے جھکتے اسے بانہوں میں سمیٹے وہ کچن کی جانب بڑھا ۔۔۔۔

مجھے کوئی اعتراض نہیں ڈارلنگ۔۔۔۔۔تم اپنا کھانا آرام سے کھاؤ اسکے بعد آج میری باری ہے۔۔۔۔” ماہا کو چئیر پر بٹھائے وہ مسکراتا اسکے پیشانی پر بوسہ دیے معنی خیز لہجے میں بولا تو ماہا کی پلکیں لرز پڑی۔۔۔وہ سر جھکائے سانس فضا کے سپرد کرتے خود میں ہمت پیدا کرنے لگی۔۔۔۔

ابتہاج اسکی حالت سے محفوظ ہوتے اسکے قریب۔ بیٹھا اور بے حد نرمی سے ماہا کا ہاتھ تھامے لبوں سے لگایا۔۔۔۔

ماہا اپنی بکھرتی سانسوں کو سنبھالتے ابتہاج سے نظریں چرائے اب کھانا ڈش میں نکالتے ابتہاج کے سامنے رکھتے اسے دیکھنے لگی جو ابھی تک ٹک ٹکی باندھے اسے ہی گھور رہا تھا۔۔۔۔ ابتہاج کھا کر بتائیں کیسا بنا ہے۔۔۔۔۔!”ابتہاج کے بازو کو تھامے وہ لاڈ سے بولی تو ابتہاج نے محبت سے ماہا کی پیشانی پر بوسہ دیے اسے خود سے لگایا۔۔۔۔۔۔

“ماہا نے بنایا ہے تو اچھا بنا ہو گا وہ مسکراتا اسکے گال کو اپنے ہاتھ کی پشت سے سہلاتے بولا تو ماہا نے اسے گھورا ابتہاج لب دبائے سرینڈر کیے اب کھانے کی طرف متوجہ ہوا تھا ماہا کا دھیان اسی کی جانب تھا جو محویت سے نوالہ بنائے کھاتا اب ماہا کے پریشان چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔

اچھا نہیں بنا کیا___؟” وہ رونے جیسے ہو چکی تھی۔۔۔

ابتہاج نے مسکراتے سر نفی میں ہلایا تو ماہا نے سکون کی سانس فضا کے سپرد کی۔۔۔

بہت زیادہ اچھا بنا ہے میری سوچ سے بھی زیادہ اچھا۔۔۔۔۔” ماہا کے ہاتھ کو تھامے وہ محبت سے چومتے اسے مسکرانے پر مجبور کر گیا۔۔۔۔۔

ابب ابتہاج_____” ابتہاج جو کھانے کے بعد جھکتے اسے گود میں اٹھائے اوپر کمرے کی جانب بڑھا تھا ماہا نے لرزتے اسکے گلے میں بانہیں ڈالے اسے پکارا۔۔۔۔

جی جانِ ابتہاج____” ابتہاج نے جھکتے ماہا کے ہونٹوں کو ہلکے سے چھوا تو ماہا کا چہرہ شرم و حیا سے دہکتا انگارہ بن گیا۔۔

الفاظ جیسے ختم ہو گئے تھے اسے سمجھ ناں آئی کہ وہ کیا کہے۔۔۔۔ اب اتنا اچھا کھانا بنایا ہے تو انعام تو بنتا ہے۔۔۔۔۔۔” وہ معنی خیزی سے اسکے کان میں جھکتے سرگوشی کرتے ماہا کو شرمانے پر مجبور کر گیا ۔۔

ماہا نے شرم سے دہکتا اپنا لال انگارہ چہرہ ابتہاج کے سینے میں چھپایا تو ابتہاج کا قہقہ خاموش فضا میں ارتعاش برپا کر گیا۔

__________

فون پر ہوتی مسلسل بیل پر ابتہاج نے ماتھے پر بل ڈالے مندی مندی آنکھیں کھول اپنے حصار میں دیکھا۔۔؟ جہاں وہ چہرے پر دنیا جہاں کی معصومیت لیے ابتہاج کے سینے سے لگی پڑی تھی۔۔

ابتہاج کے چہرے پر خوبصورت رنگ بکھرنے لگے۔۔۔۔۔ ماہا کے ساتھ گزارا ایک ایک خوبصورت لمحہ اسکی آنکھوں میں خمار کی سرخی تیزی سے بڑھا گیا۔۔ ایک دم سے کروٹ بدلتے ابتہاج نے ہاتھ تکیے پر دائیں بائیں رکھتے۔جھکتے اس پر سایہ سا کیا۔۔۔ ماہا کے چہرے پر پھیلی سرخی ابتہاج کے دل کی دھڑکنیں پھر سے منتشر ہوئی تھی۔۔ بے ساختہ ہی اسنے جھکتے ماہا کی تھوڑی پر لب رکھے، ماہا کسمسائی مگر آنکھیں بند تھیں۔۔۔

ابتہاج اسکی بند آنکھوں کو دیکھ اپنے ہونٹوں سے اسکے ایک ایک نقش کو چھوتا مدہوشی سے اسکے ہونٹوں کو قید کیے اسکی مدہوش کرتی خوشبو کو خود میں اتارنے لگا۔۔۔

اپنے ہونٹوں پر کسی کے دہکتے لمس، سینے میں اٹکتے سانس پر ماہا نے جھٹ سے آنکھیں کھولی تو خود پر سایہ بنے ابتہاج کو دیکھ وہ ہاتھ اسکے سینے پر رکھتے اسے پیچھے کرنے لگی۔۔ اسکی مزاخمت ابتہاج کو ناگوار گزری تھی جبھی ماہا کے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیے وہ مدہوش سا اسکی سانسوں کو خود میں اتارنے لگا۔۔۔

گڈ مارننگ جان۔۔۔۔۔۔” ماہا کے سانس رکنے پر وہ پیچھے ہوتے محبت سے بولا جبکہ ماہا نے غصے سے اسے گھورتے رخ موڑا تھا۔۔ مجھے مارننگ وش نہیں کرو گی۔۔۔۔”ماہا کے رخ موڑنے پر وہ لب دانتوں تلے دبائے شریر لہجے میں گویا ہوا۔۔۔

ہو گئی آپ کی مارننگ کر لی اپنی من مانی اب پیچھے ہٹیں میں فریش ہو لوں۔۔۔۔”ماہا نے ناک چڑھاتے نروٹھے پن سے کہا تو ابتہاج نے قہقہ لگاتے اسے خود میں بھینجا۔۔۔

ابھی تو آغاز کیا تھا اور تم ہو کہ خفا ہو رہی ہو۔۔۔۔۔۔” ماہا کی گردن پر اپنے ہونٹوں کا سلگتا لمس چھوڑتے وہ اسے بے بس کرنے لگا۔۔۔ ابتہاج بب باہر کوئی ہے۔۔۔۔۔؛” معا ڈور بیل کی آواز پر ماہا نے شکر بھرا سانس لیتے اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کی۔۔۔ ابتہاج نے سخت نظروں سے اسے گھور تو ماہا اسکے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ کھلکھلا اٹھی۔۔۔۔۔

آتا ہوں ابھی رکو ذرا تم کرتا ہوں تمہیں سیٹ۔۔۔۔۔” وہ مصنوعی غصے سے اسے وارن کرتا وارڈروب سے شرٹ نکالتے باہر کی جانب نکلا۔۔۔جبکہ اسے نکلتا دیکھ ماہا جھٹ سے جگہ سے اٹھتے فریش ہونے واشروم میں گھسی تھی۔

____________

اسلام علیکم بیٹا۔۔۔۔۔!” صنم جو انہماک سے اپنے کمرے کی صفائی میں مصروف تھی اچانک سے ارسم خان کی متفکر آواز کو سنتے وہ چونکتے مڑی تھی سامنے ہی دروازے کے بیچ ارسم خان چہرے پر دنیا جہاں کی فکر لئے کھڑا تھا۔۔

صنم کا دل تیزی سے دھڑکا تھا وہ تیزی سے چلتے انکے قریب ہوئی۔۔۔

و علیکم السلام انکل ___ کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے آپ پریشان لگ رہے ہیں مجھے ۔۔۔۔!” وہ متججس سے ہوتے پوچھنے لگی۔۔۔۔ دل میں عجیب سے وسوسے بھی تھے کہ سب ٹھیک ہو۔۔۔۔

بیٹا کچھ بھی ٹھیک نہیں۔۔۔۔ ” ارسم خان نے نم آنکھوں سے اسے دیکھتے کہا تو صنم مزید سہم سی گئی۔۔۔

انکل ہوا۔کیا ہے پلیز جلدی بتائیں مجھے۔۔۔۔۔۔” وہ پریشانی سے چلتے انکے قریب تر ہوئی تھی۔۔۔جو آنسوں پونچھ رہے تھے۔۔۔۔ بیٹا وہ ماہا اور ابتہاج کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے صلاح ادھر ہی ہے انکے پاس ۔۔۔۔۔۔۔ اور۔مجھے اس نے کہا ہے کہ میں آپ کو لاؤں اپنے ساتھ۔۔۔۔۔”

وہ پریشانی سے صنم کو دیکھتا سنجیدگی سے بولا تو صنم نے گھبراتے اسے دیکھا۔۔۔انکل کیا ہوا ہے میری ماہا ٹھیک تو ہے ۔۔۔۔؟” وہ متفکر سے ماہا کا سوچتے ہی دھڑکتے دل سے خوفزدہ سی ہوتے پوچھنے لگی۔۔۔۔

آنکھوں میں ایک۔دم سے جانے کتنے آنسوں آئے تھے۔۔۔۔ وہ لب بھینجتے اپنے آنسوں پر کنٹرول کرنے لگی۔۔۔۔۔۔ بیٹا وہ ٹھیک ہے بس تمہیں یاد کر رہی ہے چلو میرے ساتھ۔۔۔۔” نفرت سے ابتہاج اور ماہا۔کا۔سوچتے وہ جلدی سے بولا تو صنم نے فورا سے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔

انکل میں صالح کو کال کر لوں۔۔۔۔صنم نے فون پکڑتے ان سے کہا تو ارسم خان گھبراتے اسکے نزدیک ہوا اور جھپٹتے اسکے ہاتھ سے فون چھینا۔۔۔۔۔

ییی یہ کیا کر رہی ہو بیٹا۔۔۔۔وہ آگے ہی پریشان ہے اور اب مزید ہو گا تم چلو ادھر جا کر ہی مل لینا۔۔۔” وہ اسے سمجھاتے فون آرام سے لیتے اپنی جیب میں رکھ گیا۔۔۔۔

صنم نے سر ہاں میں ہلایا اور پھر جلدی سے اپنی چادر نکالتے خود پر لپیٹتے وہ باہر کو نکلی۔۔۔۔

__________

تم کیا لینے آئے ہو یہاں۔۔۔۔۔!” اپنے سامنے کھڑے صالح کو دیکھ ابتہاج نے ماتھے پر بل ڈالے نفرت سے اسکے قریب جاتے کہا تھا۔۔۔۔صالح نے سنتے گہرا سانس فضا کے سپرد کیا، وہ جانتا تھا کہ ابتہاج کا اس پر یقین کر پانا نا ممکن تھا۔۔۔۔

بات کرنے آیا ہوں میں کیا ہم بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں۔۔۔۔؟” ابتہاج کو دیکھتا وہ نرمی سے بولا تو ابتہاج نے اسے گھورا۔۔۔۔ ہمممم کہو کیا بات ہے۔۔۔۔؟” کچھ سوچتے وہ گہرہ ہنکارہ بھرتے بولا۔۔۔۔۔تو صالح نے ماہا کو ڈھونڈنا چاہا جو کہ یہاں تھی ہی نہیں۔۔۔

ابتہاج تم اور ماہا خطرے میں ہو تم دونوں پر جان لیوا حملہ ہوا ہے اور اب بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔میں تمہیں اور ماہا۔کو لینے آیا ہوں تم چلو میرے ساتھ میں تمہیں کسی سیو جگہ پر چھوڑ آؤں گا۔۔۔۔۔”

صالح نے اسے جلدی سے حالات کی سنگینی سے آگاہ کیا وہ نہیں چاہتا تھا کہ ابتہاج خود اس۔معاملے میں پڑے وہ خود ہی سب کچھ حل کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔

مجھے معلوم ہے سب کچھ صالح خان۔۔۔۔ اور میں اپنی بیوی اور بچے دونوں کا خیال رکھ سکتا ہوں۔۔۔۔ ابتہاج نے دو ٹوک انداز میں لہجہ سخت بنائے کہا تھا۔۔۔ جبکہ صالح سنتے لب بھینجتے رہ گیا۔۔۔

کیا تم جانتے ہو کہ یہ سب کچھ کس نے کیا۔۔۔۔۔!” وہ ہنستا صالح کی لاعلمی پر طنز کرنے لگا۔۔۔۔۔صالح نے اپنی سرخ لہو ہوتی آنکھوں کو۔میچتے خود پر ضبط کیا۔۔۔۔

جانتا ہوں یہ سب کچھ کرنے والا میرا باپ ارسم خان ہے۔۔۔۔ ” جس نے اپنی مظلومیت کا ڈھونگ رچا کر میرے جذبات کو تباہ کیا۔۔۔ تمہارے ماں باپ کی موت سے لے کر ماہا کی کڈنیپنگ ، سب میں میرے باپ کا ہاتھ ہے۔۔۔۔۔” وہ شرمندہ سا نظریں زمین پر گاڑھے ہوئے بولا جبکہ ابتہاج نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔

اور پھر سرد سانس فضا کے سپرد کیے اسکے قریب جاتے صالح کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔ یہ میری جنگ ہے صالح ،تم ان۔سب میں مت الجھو۔۔۔۔۔۔ میں سب کچھ ہینڈل کر لوں گا۔۔۔۔” ابتہاج نے اسے نرمی سے سمجھایا ۔۔۔۔ جانتا تھا کہ اس وقت وہ خود اپنے باپ کے دھوکے سے ٹوٹا ہوا تھا۔۔۔۔

اگر تم یہ سب جان چکے ہو تو یقینا وہ بھی جانتا ہو گا۔کہ۔تم سچ سے واقف ہو ۔۔۔۔۔۔ تمہیں سب سے پہلے صنم کو سیو کرنا ہو گا۔۔۔۔۔” وہ اسے سنجیدگی سے سمجھانے لگا کیونکہ اسے یقین تھا کہ کہ اب وہ کھل کر اپنی دشمنی نبھائے گا۔۔۔۔

صنم کے نام پر صالح کے دماغ میں جھماکا سا۔ہوا وہ تو ابتہاج سے بات کرنے کے چکر میں صنم کو بھول ہی چکاتھا۔۔۔

کیا ہوا صالح پریشان کیوں ہو ۔۔۔۔۔؟ صنم کہاں ہے۔۔۔۔؟”اسکے چہرے کی اڑی رنگت کو دیکھ ابتہاج نے جلدی سے پوچھا۔۔۔یہ مت کہنا کہ تم صنم کو گھر پر ہی چھوڑ کر آئے ہو۔۔۔…” ابتہاج کو خدشہ تھا کہ اگر وہ گھر میں اکیلی ہوئی تو اس وقت ارسم خان اسے کڈنیپ کر چکا ہو۔گا۔۔۔۔

اوہ شٹ ڈیم کال کرو گھر۔۔۔۔۔۔” ابتہاج نے جلدی سے کہا تھا صالح نے کپکپاتے ہاتھوں سے فون نکالتے گھر کال کی۔۔۔دلاور صاحب اور منیبہ بیگم واپس جا چکے تھے اس وقت صنم اکیلی تھی گھر پر۔۔۔۔

ہاں ہیلو صنم سے بات کروائیں۔۔۔۔” میڈ کے فون اٹھانے پر صالح نے دھڑکتے دل سے خوفزدہ ساہوتے کہا تھا۔۔۔۔ دل میں عجیب سے وسوسے تھے۔۔۔۔

صاحب وہ تو بڑے صاحب۔ کے ساتھ گئی ہیں۔۔۔۔۔؛” صالح سنتے ہی لڑکھڑا سا گیا۔۔۔۔۔۔ فون اسکے ہاتھ سے چھوٹتے زمین بوس ہوا تھا۔۔۔کیا ہوا ہے صالح۔۔۔۔۔؟” ابتہاج اسے یوں دیکھ گھبراتا اسکے قریب ہوا اور اسے بازوؤں سے جھنجھوڑتے صنم کی بابت پوچھنے لگا اگر صنم کو کچھ ہوا تو ماہا کیسے برداشت کرتی یہ غم۔۔۔۔۔

ابتہاج یہ صرف تمہاری نہیں اب سے میری بھی جنگ ہے ۔۔۔۔ میری صنم کو کڈنیپ۔کر کے اچھا نہیں کیا ارسم خان نے ابھی تک اسنے صرف اپنے بیٹے کو دیکھا۔ہے اب وہ صالح خان کا اصلی روپ دیکھے گا۔۔۔۔۔”

صالح نے نفرت سے دانت پیستے غراتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ ابتہاج کا غصے سے برا حال تھا۔۔۔ اب تو معاملہ آر یا پار کا تھا۔۔۔۔۔

ابتہاج تم رکو ۔۔۔۔۔ ماہا کے پاس۔۔۔۔میں خود جاتا ہوں۔۔۔۔۔” صالح ماہا کو سوچ اسے رکنے کا کہنے لگا ۔۔۔۔ ماہا سیو ہے یہاں پر اسکی فکر مت کرو میری مرضی کے بنا کوئی پرندہ بھی یہاں پر نہیں مار سکتا ۔۔

وہ مسکراتا اسے آگاہ کیے ماہا کو آگاہ کرنے گیا۔۔۔

صالح بےچینی سے چکر کاٹتے خود کو۔پرسکون کرنے۔لگا۔۔۔۔۔ اگر میری صنم کو ذرا سی بھی انچ ائی تو پھر تمہارے اتنے ٹکروں کروں گا کہ گن پانا نا ممکن ہو گا۔۔۔۔۔”

وہ نفرت سے اسے سوچتے تنفر سے کہتا ابتہاج کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔۔

____________

کوئی ہے ۔۔۔۔ انکل____؟” کمرے میں پھیلے گھپ اندھیرے میں وہ حواس بافتہ سی ڈرتے آگے پیچھے پھیکے اندھیرے کو دیکھ بولی تھی۔۔۔۔۔۔ صنم نے ڈرتے خوف سے اپنے ہاتھوں کو ہلایا مگر اسکے دونوں ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔۔۔۔ اننن انکل۔۔۔۔؟” ڈر و دخشت سے اسکا برا حال تھا۔۔۔۔ وہ سہمی نظروں سے اپنے آس پاس دیکھتی اونچی آواز میں چیختے ارسم خان کو بلانے لگی۔۔۔۔۔

اسے یاد تھا کہ۔راستے میں اسے روتا دیکھ ارسم خان نے پانی کی بوتل اسے تھمائی تھی صنم۔نے صرف دو گھونٹ پانی پیا تھا اسکے بعد اسے خود بھی کچھ یاد نہیں تھا کہ کیا ہوا تھا۔۔۔۔؟”

اور اب جب وہ ہوش میں آئی تو خود کو یوں کرسی سے۔بندھا دیکھ اسکے حواس سلب ہو چکے تھے۔۔۔ صص صالح آپ کہاں ہیں۔۔۔۔؟” روتے ہوئے اسے بلانے لگی۔۔۔۔۔جو اس کا مسیحا تھا اسکا دلدار

۔۔۔۔۔۔۔۔” کمرے میں پھیلے اندھیرے۔کو دیکھ صنم کا سانس بند ہونے لگا تھا آنکھوں سے آنسوں بہتے اسکے رخسار کو بھگو رہے تھے۔۔ معاً دروازہ کھلنے کی آواز کے ساتھ پر صنم سانس روکے سامنے دیکھے گئی جہاں سے ایک دم سے تیز روشنی کے اندر داخل ہی صنم نے جلدی سے آنکھیں میچیں۔۔۔۔۔

کیسی ہو بہو۔۔۔۔۔۔؟” ارسم خان اسے آنکھیں ڈر سے میچے دیکھ مسکراتا اندر داخل ہوا۔۔۔۔ صنم نے آرام خان کی آواز سنتے جھٹ سے آنکھیں پھیلائے سامنے دیکھا جہاں کمرے میں ایک دم سے تیز روشنی کے پھیلنے کے ساتھ ہی سامنے کھڑے ارسم خان کو دیکھ صنم کی آنکھوں میں حیرانگی پھیلی۔۔۔

انن انکل یہی یہ سب کککک کیا ہے ممم مجھے کھولیں ممم میرے ہاتھوں میں درد ہے۔۔۔۔۔!” وہ روتے ہوئے ارسم خان کو دیکھے بولی تھی۔۔ جو سنتا قہقہ لگائے صنم کی جانب دیکھتے افسوس سے سر نفی میں ہلا گیا۔۔

آپ تو ممم مجھے مم ماہا کے پاس لے کر جانے والے تھے تو پھر یہ سب کک کیا ہے۔۔۔۔۔؟”اسکا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ چکا تھا۔۔۔ دماغ جس بات کی تصدیق کر رہا تھا دل اسے ماننے سے انکاری تھا۔۔۔۔

ہاہاہاہا یہی تو تمہاری معصومیت تمہیں آج یہاں تک لے آئی میری بچی۔۔۔۔۔۔”اسکا لہجہ مذاق اڑاتا تھا،۔ صنم کا چہرہ تاریک پڑا تھا وہ دم سادھے اسے دیکھے گئی۔۔۔۔ جانتی ہو سب کچھ اچھا جا رہا تھا مگر تمہارا شوہر وہ صالح اسے صبر نہیں ہے بلکل بھی ، ہر معاملے میں ٹانگ اڑانے کی عادت ہے، اب دیکھو ناں میں نے اگر ابتہاج کے باپ اور ماں کو مارا تو اس سے صالح کو کیا لینا دینا، اگر میں نے اسے مارا تھا تو اسکے پیچھے بھی تو وجہ تھی ناں ہر جگہ ہر کوئی بس کاشان کاشان کرتا تھا

اسکی وجہ سے میں ہمیشہ دوسرے نمبر پر رہا___۔ہر۔جگہ اسی کی تعریفیں اسی کا چرچا ، پھر بزنس میں بھی ہر جگہ وہ چھا گیا میں تو کہیں نہیں تھا۔۔۔ پھر میں نے سوچا کہ کیوں ناں میں اس کاشان کو ختم کر کے اس کی جائیداد کو اپنے نام کر لوں اور پھر پھر میں نے اسے مار بھی دیا۔۔۔۔

مگر وہ ابتہاج بچ گیا مجھے اسے بھی مارنا پڑا مگر وہ بڑا کمینہ نکلا۔بچ گیا سالا اور اب دیکھو مجھے اسکی وجہ سے اپنی ہی بہو کو کڈنیپ کرنا پڑا اور وہ بھی ایسی حالت میں۔۔۔”وہ سخت افسوس کرتے گردن نفی میں ہلائے صنم کے نزدیک کرسی کھینچتے بیٹھا۔۔

صنم نے لب بھینجتے آنکھیں مضبوطی سے میچ لیں۔۔۔۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کچھ کر دے اس شخص کا۔۔۔”

کک کھولو مجھے۔۔۔۔۔۔”وہ روتی نفرت سے اپنے وجود میں اٹھتے درد کی وجہ سے چیخی۔۔ ” ارے بیٹا صبر کرو، تمہیں تکلیف نہیں دوں گا۔۔۔ آخر کو تم میرے بیٹے کی بیوی ہو اوپر سے ماں بننے والی ہو۔۔۔۔ بس ایک بار مجھے اپنے خودسر بیٹے اور ابتہاج سے بات کرنی ہے جیسے ہی وہ اپنی جائیداد میرے نام کرے گا ویسے ہی میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔۔۔”

وہ پچکارتا صنم کے رونے سے سرخ چہرے ہوئے چہرے کو دیکھ بولا۔۔۔ صنم نے اپنی سرخ نفرت بھری نظروں سے اسے دیکھ نفرت سے سر جھٹکا ۔۔۔۔۔

بھول ہے تمہاری۔۔۔۔۔ وہ ایسا کبھی نہیں کریں گے اور تم اپنے گندے ارادوں میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکو گے۔۔۔!” وہ نفرت سے شیرنی بنی بنا خوف ڈر کے غرائئ تھی۔۔۔۔۔اسے دیکھ ارسم خان داد دیے بنا ناں رہ سکا۔۔۔

کیا بات ہے بہو بیٹا موت کے منہ میں کھڑی ہو اور پھر بھی اتنا حوصلہ۔۔۔۔۔” وہ مسکراتا اسے داد دیتے تالی بجائے بولا۔۔۔۔ مگر تمہارے لئے کچھ خاص ہے میرے پاس، پہلے تو مجھے لگا تھا کہ ایسا کچھ نہیں کروں مگر اب تمہارے منہ سے اتنی تعریف سن کر مجھے مجبوراََ ایسا کرنا۔پڑے گا۔۔۔۔۔

وہ پل بھر میں پتھریلے تاثرات سے سرد لہجے میں چہرے پر وخشی سرد پن سجائے بولا تو صنم کا وجود سن سا ہوگیا۔۔۔۔ ارسم خان نے مڑتے دروازے کی جانب دیکھا جہاں دو بڑے بڑے آدمی کھڑے تھے۔۔۔۔ ذرا لے چلو میری بہو کو۔۔۔۔”

اسنے اشارہ کرتے صنم کو دیکھتے کہا تھا صنم نے شل۔ہوتے اعصاب سے سر نفی میں ہلا دیا۔۔ وہ دونوں آگے بڑھے تھا اور ایک ایک جانب سے کرسی کو مضبوطی سے تھامے وہ۔ہوا میں اوپر اٹھائے باہر کو نکلے۔۔۔

چھوڑو مجھے کمینے وخشی انسان۔۔۔۔۔ کچھ حاصل نہیں کر سکو گے تم دیکھنا۔۔۔۔ اس دولت کے لالچ میں تم نے اتنی زندگیاں تباہ کیں تمہیں تو موت بھی نصیب نہیں ہو گی۔۔۔۔اپنوں کو کھانے والے حیوان ہو تم درندے بے حس۔۔۔۔۔۔” صنم غصے سے چیختی اونچی آواز میں ارسم۔کو کوس۔رہی تھی ۔۔ جو سنتا تاسف سے سر نفی میں ہلائے ابتہاج کو۔کال کر رہا تھا۔۔۔

___________

پچھلے ایک گھنٹے سے وہ بے بس سی بندھی ہوئی تھی۔۔۔۔ اسکے اعصاب بری طرح سے شل ہو چکے تھے ، وجود میں جان باقی ناں رہی ہو جیسے، شاور سے گرتا یخ ٹھنڈا برف کی مانند پانی صنم کے وجود کو برف کا کر چکا تھا۔۔۔ اسکا سر بھاری ہوتے ایک جانب لڑکھ چکا تھا۔۔۔ ہاتھ اور پاؤں رسیوں سے بندھے ہونے کے باوجود بھی اس ٹھٹرا دینے والے پانی کے باعث سرخ ہو رہے تھے۔۔۔۔

پورا وجود ایسے تھا جیسے خون جم سا گیا ہو۔۔۔۔ صنم کی آنکھیں بند ہو رہی تھی۔۔۔۔ صالح کا چہرہ اسکی آنکھوں کے پردے پر لہراتا اسے مسکرانے پر مجبور کر رہا تھا۔۔۔ ایک ایک حسین پل صالح کی محبت اسکا جنون اسکا شدت بھرا لمس ، اپنی سانسوں میں اترتی اسکی دہکتی سانسوں کے وہ لمحات کیا کچھ نہیں تھا صنم کے پاس، صالح کو یاد کرتے اسکی محبت چاہت پر صنم کی آنکھیں اس ٹھنڈے پانی میں بھیگ رہی تھی۔۔۔

سرخ و سفید چہرہ بلکل نیلا پڑ چکا تھا ہونٹ نیلے سرخی مائل تھے،جیسے وجود میں موجود سارا خون کسی نے نچوڑ دیا ہو۔۔۔مگر چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی اپنے صالح کو یاد کرتے ایک عجب سی مسکان تھی جو اس وقت اسکے چہرے پر دیکھ سامنے کھڑا ارسم خان بےچین ہو رہا تھا۔۔۔

اسے لگا تھا کہ وہ روئے گی گڑگڑائے بھی مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا بلکہ وہ تو خوش تھی بے حد خوش جیسے دنیا کی سب سے بڑی خوشی کو اسنے پا لیا ہو۔۔۔

معا آہٹ ہوئی تھی ارسم خان جو شیشے کے دروازے سے اندر صنم کو دیکھ رہا تھا اسنے مڑتے پیچھے کو دیکھا جہاں پر ابتہاج اور صالح دونوں ہی موجود تھے مگر اسکے آدمیوں نے انہیں گھیرا ہوا تھا گنز انکے چاروں اطراف تھیں۔۔

آؤ آؤ ویلکم ابتہاج گردیزی ویلکم صالح خان۔۔۔۔۔وہ خباثت سے مسکراتا بولا تو ابتہاج اور صالح نے اپنے بازوؤں ان آدمیوں سے چھڑواتے نفرت سے ارسم خان کو دیکھا۔۔۔۔

صنم کہاں ہے ارسم خان۔۔۔۔۔!”صالح خود کو چھڑواتا خون آلود نگاہوں سے قہر برساتے لہجے میں پوچھتا آگے کو بڑھا تھا مگر ارسم خان کے آدمیوں نے اسے فورا سے جھپٹ لیا تھا۔۔۔جو بری طرح سے غصے میں خود کو چھڑوانے کی کوشش کرتا ارسم خان کو مسکرانے پر مجبور کر گیا۔۔۔

اہا بیٹا باپ سے ایسے بدتمیزی سے بات نہیں کرتے۔۔۔۔وہ ہنستا اسے پچکارنے لگا جس کے سر پر خون سوار تھا۔۔۔وہ میری بھی تو بہو ہے وہ دیکھو کتنا خیال رکھا ہے میں نے اپنی بہو اور پوتے کا۔۔۔۔۔وہ مسکراتے اسے پیچھے موجود دروزے کی جانب اشارہ کرتے بولا تو صالح کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا۔۔

وہ سانس روکے پیچھے دیکھنے لگا مگر جیسے ہی اسکی نظریں صنم کے پانی سے بھیگے بےہوش وجود پر پڑی صالح خان کی دلخراش دھاڑ سے سارا اپارٹمنٹ لرز پڑا۔۔۔۔ وہ چیختا کسی بھپرے شیر کی طرح خود کو چھڑوانے کی سعی کرنے لگا۔۔۔

میں چھوڑوں گا نہیں تمہیں ارسم خان تم باپ ہونے کے نام پر دھبہ ہو۔۔۔ایک گندے غلیظ انسان میں آج جان سے مار دونگا تمہیں۔۔۔۔۔۔وہ بھپرتا ارسم خان کو دیکھتے سرخ چہرے سے چیخا تھا۔۔۔

ارے ارے بیٹا اتنا غصہ وہ بھی اپنے باپ کیلئے چلو تم بیٹے ہو معاف کر دوں گا پہلے کام کی بات کرتے ہیں تو ابتہاج سائن کرو گے پراپرٹی کاغذات پر یا نہیں۔۔۔۔۔” وہ سپاٹ چہرے سے کسی جانور کی طرح ابتہاج کو دیکھتے غرایا۔۔۔۔۔

ابتہاج نے اپنی سرخ آنکھوں کو۔میچتے ماہا کو یاد کیا جو جانے کیسے صنم مصیبت میں ہے یہ جان چکی تھی ۔۔۔وہ جب صالح سے کہتا ماہا کے پاس گیا تھا تو آگے اسے روتا دیکھ وہ تڑپتے اسکے قریب گیا مگر وہ کسی بن پانی مچھلی کی مانند مچلتی اس سے اپنا آپ چھڑواتے صنم سے ملنے کی ضد کرنے لگی۔۔

جیسے تیسے اسے دلاسہ دیے وہ بمشکل سے خاموش کرواتا صالح کے ساتھ آیا تھا مگر وہ جانتا تھا کہ پیچھے اسنے رو رو کے خشر بگاڑ لیا ہو گا۔۔۔۔

کاغذ دو۔۔۔۔۔۔” وہ سپاٹ لہجے میں سرد سانس فضا کے سپرد کرتے بولا تو صالح جو اس وقت بکھرا ہوا تھا سرخ چہرے سے کھڑا تھا اسنے مڑتے بے یقینی سے اسے دیکھا۔۔۔۔

ابتہاج تم ایسا کچھ بھی نہیں کرو گے۔۔۔۔۔” وہ چیختے اسے منع کرنے لگا ۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ ارسم خان اس کے بعد انہیں ذندہ نہیں چھوڑے گا۔۔۔

ارے چپ کرو تم ۔۔ورنہ وہ دیکھ رہے ہو بیوی کا حال اگر چاہتے ہو اسکی سانسوں کی ڈور جو لڑکھ چکی ہے وہ ٹوٹ ناں جائے تو چپ چاپ کرنے دو اسے۔سائن۔۔۔۔۔ ہاں ابتہاج ادھر آؤ اگے۔۔۔۔” وہ تفصیل سے صالح کو آگاہ کرتے پیپیرذ سامنے موجود ثیبل۔پر رکھتے ابتہاج کو بلانے لگا جو خود کو ان آدمیوں سے چھڑواتا اب آگے بڑھا تھا۔۔۔

کہاں کرنے ہیں سائن۔۔۔ ” کاغذات دیکھتے وہ جبڑے بھینجتے پوچھنے لگا۔۔۔ ابتہاج رک جاؤ ۔۔۔۔۔” صالح نے اسے ٹوکا۔۔تو وہ گردن گھمائے اسے اشارہ کرتے پھر سے ارسم خان کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔۔

یی یہاں کرو۔۔۔۔ ” وہ خوشی س چہکتا اپنی آنکھوں میں دولت کی چمک لیے جلدی سے بولا۔۔۔ابتہاج نے ایک نظر میز پر رکھی اسکی گن کو دیکھا اور جھکتے سائن کرنے کے بہانے وہ جھپٹتے گن اٹھائے مڑتے ان آدمیوں کو شوٹ کرنے لگا۔۔

ایک۔دم سے ماحول میں سنسنی سی پھیل گئ۔۔۔ صالح خود کو چھڑواتے اب اپنی گن نکالتے جلدی سے ان آدمیوں کو سنبھلنے کا موقع دیے بنا ہے درپے وار کر رہا تھا۔۔

ارسم خان اپنے سامنے اپنے آدمیوں کی لاشیں دیکھ سن سا ہو۔گیا۔۔۔صالح بھاگتے صنم کی جانب بھاگا تھا ۔۔۔۔جبکہ ابتہاج کو اپنی جانب آتا دیکھ ارسم پھرتی سے وہاں سے بھاگنے لگا مگر ابتہاج نے دوڑتے آگے بڑھتے جھکتے اسکے پاوں پر وار کیا وہ اوندھے منہ زمین پر گرتے درد سے کراہنے لگا۔۔۔

ننننن نہیں اببب ابتہاج ممم مجھے معاف کر دو۔۔۔۔۔” اپنے پاؤں کو ابتہاج کے ہاتھ میں دیکھتے وہ ڈر سے سپید پڑا گڑگڑانے لگا۔۔۔ جبکہ ابتہاج نے سپاٹ چہرے سے اس شیطان کو نفرت سے دیکھا۔۔۔ اگر تجھے جائیداد کا ہی لالچ تھا تو توُ پہلے کہتا وہ انکار نہیں کرتا تجھے ، مگر توں نے مجھ سے میرا کل اثاثہ چھین لیا میرے ماں باپ کو چھین لیا اور تو اور میرے بچے کو ختم کیا میری ماہا کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کی۔۔۔۔

گزرے وقت کی کرچیاں اسکی آنکھوں میں اشتعال کو بڑھا رہی تھیں ۔۔وہ بھینجے جبڑوں سے اسے دیکھ ایک دم سے گن اسکے پاوں کی ہتھیلی پر رکھتے فائر کر گیا کہ فضا میں ارسم خان کی دلدوز چیخیں گونجنے لگی۔۔۔۔وہ تڑپتا مچلتا خود کو چھڑوانے لگا مگر ابتہاج کی گرفت سخت تھی۔۔۔

ابتہاج نے کسی اچھوت کی طرح اسکے پاؤں کو تھاما اور پھر دوسرے پاؤں پر بھی ایسے ہی فائر کرے اسے چلنے سے معذور کر دیا۔۔۔۔۔ وہ چیختا بلکتا درد سے تڑپتے وجود سے خود کو چھڑوانے کی سعی کرتا معافیاں مانگ رہا تھا جسکا ابتہاج پر کوئی اثر نہیں تھا وہ اطمینان سے اسکے ہاتھوں پر پھر اسکی ٹانگوں پر وار کرتے اب اسے بلکل بے بس کر چکا تھا۔

ابتہاج نے مڑتے صالح ہو دیکھا جو بکھری حالت میں اپنی بانہوں میں صنم کے بے ہوش وجود کو بھرے باہر نکلا تھا۔۔۔ دیکھ لو ارسم خان تمہاری حوس تمہیں کہاں لے آئی ہے ۔۔دولت کے لالچ میں اندھا ہو کر تم نے اپنا سب کچھ گنوا دیا، بیوی بیٹے کسی بھی رشتے کا پاس نہیں رکھا اب دیکھو ناں تو یہ دولت تمہیں موت سے بچا رہی ہے اور ناں ہی یہ دولت تمہیں روزِ محشر میں اللہ سے بچائے گی۔۔۔”.

وہ افسوس بھری آخری نظر ارسم خان کے تڑپتے وجود پر ڈالے سرد سانس فضا کے سپرد آگے بڑھا تھا۔۔۔ ارسم خان اسے جاتا دیکھ سن سا خاموش ہو گیا۔۔۔۔

ابھی وہ شکر بھرا سانس لیتا کہ اس سے پہلے ہی ابتہاج نے مڑتے اسکے ماتھے پر بیچوں بیچ نشانہ لیا۔۔ ہوا میں ٹھاہ کی آواز کے ساتھ ارسم خان کی آخری چیخ گونجی تھی۔۔۔۔

__________

****دو سال بعد*****

ابتہاج جلدی کریں ہمیں نکلنا بھی ہے،،،”ماہا جو اس وقت بلیک پاؤں تک جاتی میں ملبوس اپنی گود میں اپنے ڈیڑھ سالہ فیض گردیزی کو اٹھائے ہوئے تھی۔

ابتہاج کو دیکھ جلدی سے چلنے کا کہا جو کہ ابھی تک شیشے کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا،،ماہا کی آواز سنتے ہی ابتہاج کے خوبصورت ہونٹوں پر دلکش سی مسکراہٹ بکھر گئی،

ابتہاج نے شیشے سے اپنے ساتھ نظر آتے اپنی بیوی اور چھوٹی شہزادی کے مکمل عکس کو دیکھ دل ہی دل میں۔ نظر اتاری، وہ تینوں اس وقت بلیک کلر میں تھے،

ناٹ فئیر ماہا بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے تیار کیا تم نے مگر شوہر اسکا ذرا سا بھی خیال نہیں۔۔۔:”

اپنی ڈریس پینٹ کی جیب میں ہاتھ پھنسانے وہ گردن نفی میں ہلائے چلتا ان دونوں کے قریب آتا شکایتی لہجے میں بولا تو ماہا نے لب دانتوں تلے دبائے ابتہاج کو دیکھ فیض کے گال پر لب رکھے،

جو باپ کا سرخ چہرے دیکھ کھلکھلاتی ماہا کی گردن میں منہ چھپا گیی،،

بس کوئی کسر نہیں چھوڑنا تم مجھے اس کے سامنے جلانے کی،،،وہ جلا بھنا ماہا کو دیکھ تاسف سے گردن نفی میں ہلائے بولا،،

ابتہاج ایسا نہیں ہے فیض آپ کی بیٹی ہے آپ دیکھیں بالکل آپ پر گئی ہے آنکھیں دیکھیں اسکی اور بال دیکھیں بس کسی کی بری نظر ناں لگے میں بیٹی کو،،

ابتہاج کے بالوں کو اپنے ہاتھوں سے سنوارتے وہ پھر سے ان ڈائریکٹ وے سے اپنی شہزادی کی تعریف کرنے لگی،

فیض آنکھوں میں شرارت لئے اپنے باپ کو دیکھنے لگی اسکے دیکھنے پر ابتہاج نے گردن ہلائے اسے محسوس اشارہ دیا،

جسے وہ فورا سے سمجھ گئی یہ ان دونوں کا سیکرٹ تھا جو کہ اتنی چھوٹی سی عمر میں بھی فیض گردیزی اپنے باپ کی کہی ہر بات کو بنا اسکے بولنے کے بھی سمجھ جاتی تھی،

فیض نے جلدی سے اپنے چھرے پر اپنے چھوٹے چھوٹے سفید ہاتھ رکھتے آنکھیں بند ہونے کا اشارہ دیا جسے دیکھ ابتہاج مسکراتا ماہا کے قریب ہوا،

اس سے پہلے کہ ماہا ان دونوں باپ بیٹی کے اشارے کو سمجھتی،ابتہاج جلدی سے اسکے قریب ہوتے ماہا کے ہونٹوں پر جھکا، ماہا حیرت سے آنکھیں پھیلائے ابتہاج کو۔دیکھنے لگی جو مسکراتا اب پیچھے ہوتا اپنے بال سیٹ کر رہا تھا،

ماہا نے سرخ چہرے سے فیض کو دیکھا جو کہ ہنوز ہاتھ چہرے پر رکھے ہوئے اسے بے حد پیاری لگی مگر وہ بمشکل سے نظریں چرائے اسکے ہاتھوں کو پیچھے کیے فیض کو خود میں بھینچے ابتہاج کو دیکھنے لگی،

آپ سے تو کسی اچھے کام کی امید نہیں آپ ابھی سے میری بچی کو خراب کر رہے ہیں،وہ غصے سے ماتھے پر بل لائے بولی تو ابتہاج نے جلدی سے فیض کو گود میں بھرا،،

میرا شیر بیٹا ہے باپ کی کہی ہر بات کو اچھے سے سمجھتی ہے میری گڑیا،، اور ویسے بھی میری گڑیا جانتی ہے،کہ اسکی ماں خود تو میرے ہاتھ آتی نہیں تو کیوں ناں میں ہی باپ کی مدد کر دوں بس اتنی سی بات ہے،،

فیض کو اٹھائے اپنے سامنے کیے ابتہاج نے ماہا کو اپنے ساتھ لگایا، کتنی رونق ہوئی تھی صرف ایک ننھی سی جان کے انکے گھر آنے پر،،سب غم تکلیفیں مٹ گئی تھیں اور اب زندگی ایک نئے سفر پر گامزن تھی جہاں خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔۔

فیض اپنے ماں باپ کو دیکھ رونے کی تیاری میں تھی کیونکہ اسے عین کے پاس جانا تھا اتنی چھوٹی سی عمر میں۔ بھی ان دونوں کی محبت مثالی تھی،

چلیں صنم اور صالح بھائی انتظار کر رہے ہونگے،،” ماہا نے فیض کے گلابی گالوں کو محبت سے چھوتے اسے جلدی سے یاد کروایا کیونکہ آج صنم اور صالح کی چھوٹی سی جان عین کی سالگرہ تھی،

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

صالح درعازہ کھولیں خدا کیلئے ٹائم ہو رہا ہے کب سے آپ اندر گھسے ہیں، صنم کب سے دروازہ پیٹتے دانت پیستے اب تھکتے بولی تھی،

وہ دو گھنٹوں سے اندر تھے اور صنم کی نو اینٹری تھی اب تو وہ بھی دیکھنا چاہتی تھی کہ آخر ایسا کیا کر رہے ہیں دونوں باپ بیٹی کہ ابھی تک دروازے بند تھا،،

صالححح۔۔۔۔۔” صنم نے غصے سے زور دار آواز لگائی اسکی بات منہ میں ہی رہ گئی جب صالح نے جلدی سے دروازہ کھولا اور مسکراتے صنم کے غصے سے سرخ چہرے کو دیکھا،

کہاں ہے عین۔۔۔” صنم نے غصے سے آگے پیچھے دیکھتے عین کو ڈھونڈتے کہا تھا جو کہ صالح کے پیچھے چھپی ہوئی تھی،صنم نے گردن گھمائے پیچھے دیکھنا چاہا مگر صالح نے جلدی سے اسے پیچھے کیا ایسے کیسے اپنی پرنسز کو تمہارے سامنے کروں پہلے آنکھیں بند کرو،،

صالح کے نئے شوشے پر صنم نے ایبرو اچکائے اسے گھورا،، جب سے عین اس دنیا میں آئی تھی صالح کا دن اور رات ایک کے ساتھ شروع ہوتا تھا اور صنم کو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ان دونوں کے بیچ کوئی اجنبی ہو،،

اتنے نخرے مجھے نہیں دیکھنا وہ منہ پھلائے کہتے واپس جانے لگی کہ صالح نے اسے روک لیا،،

آج تو میری پرنسز کا دن ہے پلیز جانم۔۔۔” صنم کا گہری نظروں سے دیکھتا وہ التجائیہ ہوا تو صنم نے سینے پر ہاتھ باندھے سر ہاں میں ہلایا،،

اور جلدی سے آنکھیں بند کیں،،

ٹن ٹراں۔۔۔۔۔۔”عین کو اٹھائے صنم کے سامنے کرتے صالح اونچی آواز میں پرچوش سا بولا،تو صنم نے آنکھیں کھولے سامنے دیکھا تو ایک پل کو وہ آنکھیں جھپکنا بھول گئی تھی بلیک کلر کے باربی فراک میں ملبوس چھوٹے چھوٹے بالوں کا جوڑا بنائے سر پر پرنسز تاج پہنے وہ صنم کا۔عکس دکھ رہی تھی،

صنم نے نم آنکھوں سے مسکراتے اسے صالح سے لیتے خود میں بھینچا،

مما فیض آئی،، عین نے جلدی سے بےتابی سے فیض کے متعلق پوچھا تو صالح اور صنم دونوں ہی اسکی بےتابی پر مسکرا دیے،،

بیٹا وہ تو آ چکی ہے اپنی عین کا ویٹ کر رہی ہے،،اپ چلو اسکے پاس چکتے ہی،صنم اسے اٹھائے باہر جانے لگی کہ صالح نے اسے پیچھے سے پکڑا، عین آپ جاؤ پرنسز فیض کے پاس ڈیڈا اور ماما ابھی آتے ہیں ،

صالح نے اسکے ماتھے پر گواہ دیے کہا تو وہ سر ہلائے باہر کو نکلی تھی،،

اب کیا ہے چھوڑیں بھی صالح،،صالح نے صنم کو مضبوطی سے خود میں بھینچا تو وہ منہ بنائے بولی، ایسے کیسے چھوڑ دوں، میری محبت بہت حاصل ہے

صنم۔کیونکہ میرے پاس اتنی پیارے دل کی مالک میری معصوم سی صنم ہے جسے میں اپنی جان سے بھی بڑھ کر محبت کرتا ہوں، میں خدا کا شکر گزار ہوں کہ اسنے میرے نصیب میں تمہیں لکھا،،

صنم کے چہرے پر اپنا محبت بھرا لمس چھوڑتا وہ دل کی گہرائی سے بولا تھا،،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *