Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dildar Maseeha e Dil (Episode 09,10)

Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh

صنم نے مندی مندی آنکھیں کھولیں تو اس نے خود کو ہاسپیٹل میں پایا سر میں اٹھتی درد کی ٹیسوں کو نظر انداز کرتی وہ اپنے ارد گرد دیکھنے لگی ساتھ بینچ پر بیٹھے روکی کو سوئے دیکھ صنم کی آنکھیں ضبط کے باوجود بہنے لگیں زندگی نے اسے جس مقام پر لاکھڑا کیا تھا جہاں سے واپسی نا ممکن تھی صنم کی سسکیوؑ پر روکی کی آنکھ کھلی ۔۔۔۔ صنم کو ہوش میں دیکھتے اس نے سکون کا سانس لیا۔۔۔۔۔ صنم یک ٹک روکی کو اپنی سرخ آنکھوں سے دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں میں عجیب سا دل دہلا دینے والا تعصر تھا جسے روکی نے دھڑکتے دل سے محسوس کیا ۔۔۔۔ مگر یہ احساس پل بھر کا تھا وہ واپس اپنے خول میں سمٹ چکاتھا ۔۔۔

“کیا ہے کیوں اس طرح دیکھ رہی ہو؟۔۔۔ ہاں بتاو مجھے کیا حرکت تھی یہ تمہاری یہ جو زبان ہے نہ ڈارلنگ اس کا یوز زرا کم ہی کیا کرو میرے سامنے وارنہ کسی دن بے موت ماری جاوگی ۔۔۔۔۔ میرے ہاتھوں “

روکی مسلسل صنم کو گھورتا دیکھ ۔۔۔ اپنا ہاتھ اس کے ڈرپ لگے ہاتھ پر رکھتا نیچی آواز میں غرایا ۔۔۔۔ روکی کے دباو پر صنم۔کے ہاتھ سے خون رسنے لگا تھا لیکن اس کو وجود میں درد کا زرہ برابر احساس نا جاگا ۔۔ روکی نے خود ہی اس کے ہاتھ سے خون صاف کیا . ۔۔۔ وہ بس یہی بات سوچ رہا تھا کہ صنم کوئی ری ایکٹ کیوں نہیں کر رہی ۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں موجود ویرانی نے اک پل کو روکی کی ۔۔۔ دنیا ہلا دی تھی مگر صرف ایک پل محض ایک پل ۔۔۔۔ روکی کت حساب سے محبت ہونے میں اور اسے ختم کرنے میں صرف ایک ہی پل لگتا ہے ۔۔۔۔۔ جو وہ بخوبی کرتا تھا

روکی شام اگلی صبح تک صنم کو ڈسچارج کرا کر اپنے فلیٹ لے آیا تھا ۔۔۔۔ صنم نے ویسے ہی چپی سادھ رکھی تھی اب تو روکی بھی اس کی خاموشی سے تنگ آگیا تھا ۔۔ اسے کچھ عجیب لگ رہا تھا بہت ۔۔۔ عجیب ۔۔۔ جو وہ محسوس کر رہا تھا ۔۔۔

روکی نے صنم کو اس کے حال پر چھوڑا اور اپنے پرائیویٹ روم میں آکر حرام شے خود میں انڈیلنے لگا ۔۔۔ کہ شاید اس سے ہی کچھ سکون حاصل ہوجائے ۔۔۔ پر کافی دیر شراب سے بھی جب سکون نہ ملا تو اس نے صنم کو اپنے سکون کا انتخاب کیا

روکی روم میں آیا ۔۔۔

تو صنم بیڈ پر چت لیٹی چھت پر ناجانے کیا تلاش کر رہی تھی روکی لڑکھڑاتے قدموں سے اس کے قریب چلا آیا صنم اب بھی نے حس و حرکت تھی اس نے اک نظر مڑ کر دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا تھا ۔۔۔ روکی بڑی دلجمعی سے ہاتھوں پر چہرہ ٹکائے اسے دیکھنے میں مصروف تھا ۔۔۔۔ اس کی نظروں کی تپش تھی یا برداشت کی آخری حد۔۔۔ صنم نے اک جھٹکے سے خود پر سے کمفرٹر دور اچھالا اور باہر کی جانب قدم بڑھانے لگی ۔۔۔

اپنے سامنے سے صنم کو۔جاتے دیکھ اس کے اندر کے حیوان نے پل میں انگڑائی لی

ایک ہی جست میں روکی صنم تک پہنچا اور شدت سے اسے خود میں بھینچتے اس کے چہرے پر جھک گیا ۔۔۔۔۔ صنم زخمی شیرنی بنی اس کی گردن میں اہنے ناخن گاڑھتی اسے تکلیف دینے لگی ۔۔۔۔ صنم پر زور مزاحمت کرتی خود کو آزاد کرانے لگی ۔۔۔ پر روکی پر تو جیسے جنون سوار تھا ۔۔۔ خود کا نظر انداز کیے جانا اس سائیکو سے کہا برداشت ہوا تھا ۔۔۔۔ دل چاہا تھا ساری دنیا کو آگ لگا دے ۔۔۔

صنم بے بس سی خود کو حالات کے دھاروں پر بہنے کے لیے چھوڑ چکی تھی ۔۔۔۔ اس کے وجود میں اب کوئی بھی مزاحمت کی طاقت موجود نہیں تھی ۔۔۔۔ روکی کی قربت آج اسے صرف ایک گہری کھائی لگی ۔۔۔ جہاں وہ اپنے ماں باپ کی عزت ۔۔ بہن کا پیار ۔۔۔ اپنوں کا ساتھ سب مردہ کر چکی تھی ۔۔۔۔ صنم کی نظروں میں اپنے باپ کا مسکراتا چہرہ گھومنے لگا ۔۔۔۔ اس نے اپنی پوری طاقت لگا کر خود کو روکی کی گرفت سے آزاد کرایا ۔۔۔۔ اور ڈریسنگ ٹیبل سے پر فیوم کی بوتل اٹھا کر روکی کو دے ماری ۔۔۔۔۔۔ روکی درد سے کراہتا نیچے بیٹھتا چلا گیا۔۔۔ صنم نے اسے ایسے ہی چھوڑا اور خود باہر کی جانب بھاگی ۔۔۔۔ آج اس کے پاس یہاں اس قید سے نکلنے کا آخری موقع تھا ۔۔۔۔ورنہ وہ جانتی تھی کہ جو وہ کر چکی ہے روکی بھوکے کتوں کی طرح اسے نوچ ڈالے گا ۔۔۔۔ پر اب وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی ۔۔۔ اتفاق سے روکی آج لاک کر نا بھول گیا تھا صنم نے جلدی سے سٹڈی روم کے لاکر سے کچھ پیسے لیے تاکہ یہاں سے نکل سکے اور فلیٹ سے نکلتی چلی گئی ۔۔۔۔۔۔

کبھی ان کے در کبھی در بدر

غم عاشقی تیرا شکریہ میں کہاں کہاں سے گزر گئی ۔۔۔

____________________

ماہاکچن میں کھڑی اپنے لیے سینڈوچ بنا رہی تھی جب صباء بیگم کچن میں چلی آئیں ۔۔۔ اور ماہا کو کام۔کرتا دیکھ خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوئیں انہیں اچھا لگا تھا ماہاکا ایڈجسٹ ہونے کی کوشش کرنا عورت تھیں ۔۔۔ کیسے نا اس کے جذ بات سمجھتی

ماہا انہیں دیکھ کر دل سے مسکرائی اور بولی ۔۔۔

“ماما میں نے سب کے لیے چکن سینڈوچ بنائیں ہیں آپ بیٹھیں میں ابھی لاتی ہوں بس۔۔۔ “

صباء بیگم نے مسکراتے اس کی پیشانی چومی

میری بیٹی کوئی چیز بنائے اور وہ اچھی نہ ہو ایسا کیسے ہو سکتا ہے “

ان کی بات پر ماہا کی مسکراہٹ تھمی اسے شدت سے اپنی ماں کی یاد آئی ۔۔۔۔ انہوں نے ایک بار بھی تو فون نہ کیا تھا ۔۔۔۔ کیا وہ اتنی عر ضاں تھی ان کے لیے کہ ایک بار پوچھنا بھی مناسب نہ سمجھا ماہا زندہ ہے یا مرگئی ۔۔۔

ماہا نے اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو پیچھے دھکیلا اور سینڈوچ ٹرے میں رکھتی باہر چلی آئی سب ہی ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھے ماہا گھبرا گئی

کاشان صاحب کے علاوہ سب تھے سمیر کو ابتہاج مسلسل تنگ کر رہا تھا جس سے وہ منہ پھلائے بیٹھا بہت کیوٹ لگ رہا تھا۔۔۔.

ماہا نے سینڈوچ سرو کیے اور انگلیاں چٹخاتی اپنے اندر کے اضطراب کو کم کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔

صباء بیگم نے ایک بائٹ لیا۔۔۔ اور دل سے ماہا کی تعریف کی

“واہ بیٹا یہ تو بہت ذائقے دار بنے ہیں ۔۔۔ ماشاءاللہ ۔۔۔ خوش رہو ہمیشہ ۔۔۔۔۔ “

صباء بیگم ابھی بول ہی رہی تھیں جب ابتہاج زور سے اپنا سینا مسلتا بری طرح کھانسنے لگا۔۔۔۔

اس کا پورا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا ۔۔۔

صباء بیگم پریشانی سے اس کی جانب بڑھی اور ماہا سے پوچھنے لگیں۔۔۔

“بیٹا کیا آپ نے اس میں بلیک پیپر ڈالی ہے ۔۔۔۔ “

ؓماہا نے پریشان صورت حال دیکھتے فورا ہامی بھری ۔۔۔۔ صباء بیگم نے ابتہاج کو سیدھا لٹایا اور جلدی سے اس کی میڈیسن لے آئیں ۔۔۔ ماہا تو حیرانی سے یہ سب دیکھ رہی تھی کہ آخر ابتہاج کو ہوا کیا ہے ۔۔۔۔

ماہا روتے ہوئے اپنے لب کچلتی ابتہاج کو دیکھ رہی تھی جو بلکل زرد پڑتا آنکھیں بند کیے پڑا تھا۔۔۔

صباء بیگم ماہا کو پریشان دیکھتیں اسے اپنے ساتھ لگاتی بتانے لگیں

“میرا بچہ ابتہاج کو بلیک پیپر سے الرجی ہے بہت سخت اس کی طبیعت خراب ہوجاتی ہے اسی لیے اس کا کھانا بھی میں الگ ہی بنواتی ہوں۔۔۔ بس آئندہ دھیان رکھنا ۔۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تم نے جان بوجھ کر تو ایسا نہیں کیا نہ بس۔۔۔۔ میرا بچہ۔۔۔ بس”

ان کے نرم لہجے پر ماہا کا دل کرلانے لگا۔۔۔. شدت سے دل نے ماں باپ کو پکارا تھا۔۔۔۔

“ناجانے کیسے پرکھتا ہے مجھے میراخدا

امتحان بھی سخت لیتا ہے اور ہارنے بھی نہیں دیتا “

سمیر کی مدد سے ماہا ابتہاج کو کمرے میں لے آئی تھی ماہا کو شرمندگی ہوئی کہ جانے انجانے میں اس کی وجہ سے ابتہاج کو تکلیف ہوئی ابتہاج آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا ۔۔۔ جب اسے اپنے ہاتھ پر نمی محسوس ہوئی ابتہاج نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں تو ماہا کو سامنے پایا جو سر جھکائے رونے میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔

ابتہاج اسے روتا دیکھ فورا اٹھ بیٹھا ۔۔۔۔ اسے یقین کرنامشکل لگ رہا تھا کہ ماہا اس کی تکلیف پر رو رہی ہے ۔۔۔

“کیاہو گیا ہے یار کیوں . . پانی کی ٹنکی بہا رہی ہو ۔۔۔ میں بلکل ٹھیک ہوں مرا نہیں ہوں ۔۔۔”

ابتہاج کی بات پر ماہا نے اپنی سرخ ہتھیلی اس کے لبوں پر رکھے اسے مزید بولنے سے روکا ۔۔۔

پاگلللل ہو گئے ہیں آپ ۔۔۔ کیسی باتیں کر رہے ہیں ابتہاج پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا جس کےتیور دھیرے دھیرے بدل رہے تھے ۔۔۔ ابتہاج کو گھورتے ماہا نے اپناہا تھ پیچھے کھینچا اور بولی

“تیس مار خان بننے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔اچھا میں ۔۔۔ نا منہ توڑ دونگی “

ابتہاج ماہا کی دھمکی پر آنکھیں بڑی کیے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔ ماہا اس کی نظریں محسوس کرتی گڑبڑا گئی ۔۔ اور اٹھنے لگی

ابتہاج نے ایک ہی جست میں اسے خود پر گرایا اور کمر پر ہاتھ باندھے خود کے قریب کر گیا ۔۔۔ ماہا نے دھک دھک کرتے دل پر قابو پاتے اسے خود سے چھڑانا چاہا ۔۔۔۔ ابتہاج اسے مکمل خود پر جھکاتا اس کے گالوں پر لالی بکھیر گیا ماہا نے اپنی بکھرتی سانسوں کو سنبھالتے اسے دھکا دیا اور روم سے نکلتی چلی گئی

_____________

دلاور صاحب ماہا کو رخصت کرکے اپنے کمرے میں بند ہوتے پھوٹ پھوٹ کر شدت سے روئے منیبہ بیگم خود غم سے نڈھال تھیں کہ اچانک زندگی نے کیسا پلٹا کھایا ہے سب تہس نہس ہو کر رہ گیا۔۔۔۔ والدین جب روتے ہیں تو عرش الہی کانپ جاتا ہے ان عظیم ہستیوں و دکھ دینا اپنی زندگی میں ساری زندگی کے دکھ و اذیتیں لکھنے کے مترادف ہے ایسا بھی تو ہو سکتا ہے جو فیصلہ والدین کا ہمیں وقتی تکلیف سے دوچار کر رہا ہے آگے جاکر وہ خوشیوں کی زمانت بن جائے#Diladaar_Masihaye_Dil

#Episode_no_9_part_two

#Writer_Faiza_Sheikh

ماہا کمرے سے باہر آکر گہرے سانس لیتی بولنے لگی

” ناجانے کونسے جن کی روح گھس گئی ہے ان میں جب دیکھو ۔۔۔ چمٹ جاتے ہیں ۔۔۔ ہمہہہ ٹھرکی کہیں کہ ۔۔۔ ویسے ماہا ایک بات ہے یہ ٹھرکی ہے بڑا اچھا ۔۔۔ دیکھو تو کیسے طبیعت خراب ہوئی اور میاں جی کے منہ سے اف بھی نہ نکلا ۔۔۔ ہائے اللہ جی یہ خوبصورت جن مجھ پر عاشق تو نہیں ہوگیا ۔۔۔ مجھے تو شرم آرہی ہے ۔۔۔۔”

ماہا خود سے بڑ بڑا رہی تھی جب کسی نے پیچھے سے کندھے پر ہاتھ مارا. ۔۔ ماہا نے اپنے پیچھے جانی پہنچانی خوشبو محسوس کرکے زبان دانتوں تلے دبائی ۔۔۔

یعنی وہ وہ ساری گوہر افشانیاں سن چکا تھا ۔۔. ماہا نے حلق تر کیا اور پیچھے مڑ کر دیکھنے لگی جہاں ابتہاج آنکھیں چھوٹی کیے اسے گھورنے میں مصروف تھا ماہا نے ۔۔۔ وہاں سے بھاگنا چاہا پر اگلے ہی لمحے خود کو اپنے جن کے حصار میں پایا ۔۔۔ ماہا کی دھڑکنیں ،ابتہاج کو اپنے سینے میں دھڑکتی محسوس ہورہی تھیں ۔۔۔ ماہا نے سخت مزاحمت کرتے خود کو آزاد کرانا چاہا۔۔۔

پر ابتہاج کی گمبھیر آواز اپنی سماعتوں میں رس گھولتی محسوس کرکے پورے جسم کا خون سمٹ کر چہرے پر آٹھرا ۔۔۔۔ ابتہاج ماہا کے کان کے قریب جھکا ناجانے کیا راز و نیاز کرنے میں مصروف تھا

“ہاں تو کیا کہہ رہی تھیں ۔۔۔ ہممم ۔۔۔ میں جن ہوں بتاو کب تمہِیں کھایا میں نے ۔۔ کب تمہاری روح میں اتر کر تمہیں معتر کیا کب ۔۔۔ تمہیں اپنے لمس کی شدتوں ست واقف کرایا ۔۔۔ ہمم بولو ۔۔۔۔

جب پیچھے سے تالیوں کی آواز گونج اٹھی ۔۔۔۔

ماہا ابتہاج کے پیچھے کھڑے سمیر کو دیکھ شرمندگی کے مارے فورا ابتہاج کو دھکا دیتی اوپر بھاگ گئی ۔۔۔۔

سمیر اب بھی شرارتی نظروں سے ابتہاج کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

“برو یار تھم کسنے ہو ۔۔۔ ہاں ایسے کھوئی کھرتا ہے کییا ۔۔ مینے سنا تھی پاکھستانی پیپل مر شیلے ہوتی پر اپ تو اوہ گاڈ یہ میی کیا دیک ری ۔۔ برو اپ کو تھوری سی گھیا نہی آئی سب ان دی ہاوس ہے ابی اور تھم اپھنا سین بنا را ہے ۔۔ناٹ بیڈ”

سمیر کی زبان تیزی کے ساتھ چل رہی تھی ۔۔۔ ابتہاج اسے خونخوار نظروں سے گھورتا اپنے ماں باپ کو دیکھ رہا تھا جو سمیر کی ساری باتیں سن کر اپنی ہنسی دبارہے تھے __وہ بھی ابتہاج تھا کسی کی نا رکھنے والا ۔۔۔

“او انگریزی بندر گھٹیا آدمی “مرشیلے نہی!’شرمیلے ‘ہوتا ہے اور وہ مجھ میں بچپن سے ہی موجود نہیں ہے ہاں تیری گارنٹی ہے تو دوپٹا اوڑھ لیا کر ایسا کچھ دیکھے تو۔۔اور ہم پاکستانی ہیں سب سے پہلے اضافے کا سوچتے ہیں اسی لیے ہماری آبادی بڑھتی ہے تمہاری طرح نہیں ہیں ۔۔۔ اور مجھ میں گھیا ہے یا کدو تو اس سے دور رہ یہ تیری سمجھ سے باہر کی بات ہے ۔۔لاسٹ تھنگ ۔۔۔ اردو کی ٹانگیں نا توڑا کر تو۔۔۔ توبہ ہے حیاء کو گھیا ہی بنا دیا ۔۔۔”

اللہ ہی بچائے ایسی اردو سے ۔۔۔ ابتہاج بولتا کھسیانا ہوتا وہاں سے نکل گیا جانتا تھا ورنہ باپ نے خوب ریکارڈ لگانا تھا ۔۔

پیچھے صباء بیگم اور کاشان صاحب کے قہقہے اسے دور تک سنائی دیے ۔۔۔

سمیر کی بولتی بند ہو چکی تھی کتنا سوچا تھا اس نے کہ برو کو بلیک میل کرے گا پر یہاں تو وہ ایشین بلا اس کی بے عزتی کیے جارہا تھا

میں ماما کو بتاتی کہ برو مجے ایسے کرتی “

سمیر بولتاہوا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔۔

صباء بیگم نے دل سے اپنے گھر میں یہ ہنسی قائم رکھنے کی دعا مانگی

__________

صنم کو بھاگتے ہوئے کافی دیر ہوچکی تھی ۔۔۔ بھاگتے بھاگتے اس کے پاوں شل ہوچکے تھے ناجانے اس دوران کتنی بار وہ ٹھوکر کھاکر گری تھی ۔۔۔ پر اسے کوئی ہوش نہیں تھا ۔۔۔ اسے بس کسی بھی طرح روکی سے دور جانا تھا اس کی حوس زدہ نظروں سے بچنا تھا ۔۔۔ صنم ایک درخت کے نیچے کھڑی اپنی سانس بہال کر رہی تھی جب اسے اپنی طرف ایک گاڑی آتی دکھائی دی ۔۔۔ صنم کو خوف محسوس ہوا کہ کہیں وہ روکی نہ ہو ۔۔۔ صنم اپنے آپ کو اچھے سے چھپاتی درخت کی اوٹ میں ہوگئی ۔۔۔ وہ گاڑی وہاں سے گزری تو صنم نے باہر نکل کر جھانکا۔۔۔۔۔ پوری سڑک سنسان تھی اسے اپنے بابا کی شدت سے یاد آئی ۔۔۔ ۔۔۔ جس باپ نے کبھی زمین پر پیر نا رکھنے دیاتھا آج اسی کی بیٹی سڑکوں پر ماری ماری پھر رہی تھی ۔۔۔

صنم نے ہمت نا ہاری اور بھاگتے ہوئے ایک جھونپڑی کے قریب آگئی جو اس نے درخت کی اوٹ سے ہی دیکھی تھی صنم نے سوچا کہ شاید اسے وہاں سے کچھ مدد مل جائے ۔۔۔ صنم نے جھونپڑی کے باہر ایک بچے کو دیکھا جو مٹی میں کھیل رہاتھا ۔۔۔۔ صنم کو دیکھ کر وہ بچہ اس کی طرف آنے کے لیے ہمکنے لگا ۔۔۔ صنم نے جھٹ سے بچے کو اٹھا لیا بغیر اس کے میلے کچیلے کپڑوں پر دھیان دیے۔۔۔ بچہ صنم کے پاس آتا کھلکھانے لگا

اتنے میں بچے کی ماں باہر آئی اور صنم کے ہاتھ میں بچہ دیکھ اس سے پوچھنے لگی کہ کون ہے وہ؟یہاں کیوں آئی ؟

صنم نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے اور روتے ہوئے بولی

“پلیز باجی میری مدد کریں مجھے ایک آدمی اغواء کرنا چاہتا ہے . . میں اسی سے چھپتی یہاں چلی آئی مجھے بس کچھ پیسے دے دیں میں اپنے بابا کے پاس جانا چاہتی ہوں ۔۔۔ وہ آپ کو بہت سارے پیسے دینگے “

صنم کی بات سن کر عورت کو بھی شاید اس پر ترس آگیا وہ اندر گئی اور ہاتھ میں دو نوٹ لے آئی

اور صنم کے ہاتھ میں پکڑاتی بولی

کہ دیکھو بی بی میں زیادہ امیر تو نہیں ہوں محنت مزدوری سے کماتی ہوں ۔۔۔ مگر تم واقعی مصیبت میں لگ رہی ہو ۔۔۔ یہ پیسے لو۔۔۔ اور صبح کی گاڑی یہاں سے جاتی ہے ۔۔۔ جہاں جانا ہو چلی جانا آج رات یہاں بسر کرلو۔۔۔

صنم نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اس جھونپڑی میں چلی گئی

__________

آج ابتہاج نے کسی میٹنگ کے سلسلے میں ہوٹل جانا تھا پر طبیعت کی وجہ سے ۔۔کاشان صاحب نے انکار کردیا ان کا کہنا تھا یا تو وہ خود ساتھ چلیں گے یا ماہا کو ساتھ لے جاو۔۔۔.

اب ابتہاج باپ کو تو ساتھ لیجا نہیں سکتا تھا جانتا تھا کہ وہ کبھی بھی اسے وہ ڈیل کرنے نہِِیں دینگے جس طرح وہ کرنا چاہتا ہے

مجبورا اس نے ماہا کو تیار ہونے کا کہا

ابتہاج مسلسل دس منٹ سے بلیک ڈنر سوٹ میں مکمل تیار کھڑا ماہا کا انتظار کرہا تھا ۔۔۔ اسے سخت غصہ آرہا تھا ماہا پر جو ناجانے کتنی دیر سے ڈریسنگ روم میں بند تھی ۔۔۔

آخر کار ابتہاج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور اس نے دھڑا دھڑ ڈریسنگ کا دروازہ بجایا ماہا نے فوراً دروازہ کھولا ۔۔۔

ابتہاج جو اس پر غصہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔۔ ماہا کو دیکھتا اپنی جگہ سٹل کھڑا رہ گیا۔۔

ماہا بلیک کلر کی ساڑھی جس کا بلاوز نیوی بلیو پلین ویلویٹ کاتھا فل سلیو بلیک ساڑھی ،ڈیپ ریڈ لپسٹک سے سجے یاقوتی لب۔۔۔ کانوں میں پہنے بلیک ائیر رنگز وہ ابتہاج کے دل پر بجلیاں گرا رہی تھی ۔۔۔۔

ابتہاج بنا پلکیں جھپکائے اسے دیکھ رہا تھا وہ لگ ہی قیامت رہی تھی ایک بات جو ابتہاج نے غور کی تھی وہ تھی اس کے بال جو اس نے بلیک ہی سکارف میں اسٹائلش طریقے کور کیے ہوئے تھے ساڑھی کو بھی بہت اچھے سے کیری کیا ہوا تھا کہیں سے بھی اس کے جسم کے نشیب و فراز اتنے نمایاں نہیں ہو رہے تھے ۔۔۔ ابتہاج ٹرانس کی کیفیت میں اس تک آیا اور اس کی پیشانی پر اپنا دہکتا لمس چھوڑا ۔۔ ماہا نے سختی سے آنکھیں میچیں ۔۔۔۔ اور اس لمحے کو خود میں تحلیل ہوتا محسوس کرنے لگی کتنا پر سکون لمحہ ہوتا ہے نہ جب آپ اپنے ہمسفر کی نظروں میں اپنے لیے عزت و احترام دیکھیں چاہت دیکھیں ایک انوکھا جذبہ روح تک کو سر شار کر جاتا ہے ۔۔۔ جیسے اب کسی چیز کی کمی نہ رہی ہو سب مکمل ہوگیا ہو۔۔۔۔۔

ابتہاج پیچھے ہوا اور پورے استحقاق سے ماہا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے باہر آیا سیڑھیوں سے اترتے ان کی نظر صباء بیگم پر پڑی جو کوئی ٹاک شو دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔ ماہا نے ان سے اجازت چاہی ۔۔۔ ماہا اور ابتہاج کو شادی کے بعد پہلی بار اس طرح سجا سنورہ دیکھ بے ساختہ ان کے دل سے ماشاءاللہ نکلا ۔۔۔ وہ دونوں ایک ساتھ بے حد خوبصورت لگ رہے تھے جیسے ایک دوسرے کے لیے بنے ہوں۔۔۔ صباء بیگم نے دونوں کو خوب دعاوں سے نوازہ اور ابتہاج کو ماہا کا خیال رکھنے کی تاکید کی ۔۔۔ جو بھی تھا ماہا کو اپنی ساس سے بے پناہ محبت تھی ان کا منصفانہ رویہ ان کا احترام مزید بڑھا دیتا تھا ۔۔۔۔

ابتہاج نے ماہا کے لیے گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولا ۔۔ ماہا کنفیوز سی فرنٹ سیٹ ہر بیٹھی اپنی انگلیاں چٹخانے لگی ۔۔ ابتہاج نے ایک نظر اس کے دلکش نقوش کو دیکھا پر ماہا کو اپنے لبوں پر تشدد کرتا دیکھ ابتہاج کی آنکھوں میں عجیب سی چمک پیدا ہوئی اسے ماہا کی حرکت اپنی جانب کھینچ رہی تھی ۔۔۔۔ ابتہاج بنا کچھ بولے ماہا کے یخ پڑتے ہاتھوں کو تھام کر اپنی طرف کھینچا اور اس کے ریڈ لپسٹک سے سجے لبوں پر اپنے لب ثبت کر دیے ماہا ابتہاج کے اچانک حملے پر بوکھلا کر اسے خود سے دور کرنے لگی پر تب تک ابتہاج اس کی سانسوں میں اپنی سانسیں بری طرح الجھا چکا تھا ۔۔۔ ناجانے ماہا کے پاس کونسا نشہ تھا وہ قریب آتے ہی مدہوش ہونے لگتا وہ لڑکی ابتہاج گردیزی کی عادت بنتی جارہی تھی ۔۔۔ ابتہاج گردیزی کو لمحہ لمحہ اس کی طلب ہونے لگی تھی ۔

Episode _no_10

ماہا اور ابتہاج جیسے ہی ہوٹل میں داخل ہوئے ہر طرف رنگ و بو کا سماں تھا

درمیان میں بنے راؤنڈ شیپ کے سٹیج پر لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈالیں—ڈانس کرنے میں مصروف تھے

ڈم لائٹس اور میوزک ماحول کو فسوں خیز بنا رہا تھا

لڑکے لڑکیوں کی اتنی نزدیکی دیکھ ماہا نے نا محسوس انداز میں نظروں کا رخ بدل لیا

گال تو پہلے ہی ابتہاج کی شدت یاد سے دہک رہے تھے—اور کچھ سامنے کا منظر دیکھ شرم سے سرخ پڑ گئے تھے

ہے ابتہاج کیسے ہیں آپ—ابتہاج کے بزنس پارٹنر نے آکر اسے گلے ملتے ہوئے کہا تو ابتہاج نے بھی مروتا مسکرا کر حال پوچھا

“اس بیوٹی سے انٹرڈیوس نہیں کروائے گے آپ”اپنی نظریں ماہا کی من موہنی صورت پر گاڑھتے ہوئے کہا تو ابتہاج نے اپنی مٹھیاں غصے سے بھینچی

اور اپنا بازو ماہا کی کمر میں لپیٹ کر اسے خود کے قریب کر لیا

جبکہ ماہا اس اچانک افتاد پر بھونچکا رہ گئی

اپنی کمر کی جلد میں دھنستی ابتہاج کی انگلیاں کا لمس جسم میں کپکپاہٹ طاری کر گیا

“کیوں نہیں—شی از مائے وائف– مائے لو آف لائف—سرد لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر ادا کیا جبکہ اس دوران ماہا کی کمر پر سخت بڑھتی جا رہی تھی

“اوو آئی سی—وہ شخص کھسیانہ سا ہنس کر ایک نظر ماہا کہ دلکش سراپے پر ڈال کر چلا گیا

“ابب-ابتہاج مجھے تکلیف ہو رہی ہے” ماہا کی نم آواز جیسے ہی کانوں سے ٹکرائی تو ابتہاج نے چونک کر اسے دیکھا

اس شخص کی نظریں ماہا پر مرکوز دیکھ کر ابتہاج گردیزی کو اپنے وجود میں شرارے پھوٹتے محسوس ہو رہے تھے اور خود پر ضبط کرنے کے چکر میں وہ ماہا پر اپنی گرفت سخت سے سخت کرتا چلا گیا تھا

اب ماہا کی نم آنکھیں دیکھ سرعت سے اپنی گرفت ہلکی کی اور ہلکے سے اس کی کمر سہلا کر تکلیف کا ازالہ کرنا چاہا

جس پر ماہا نے ایک جھرجھری لے کر ابتہاج کا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹا کر دو قدم کا فاصلہ بنایا

“مم—میں ٹھیک ہوں”شرم سے دہکتے چہرے کو جھکا کر کپکپاتے ہونٹوں سے کہا تو ابتہاج گردیزی کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ اپنی رینگ گئی

ماہا کو ایک سائیڈ پر بٹھا کر ابتہاج اپنے کچھ بزنس پارٹنرز سے بات کرنے میں مصروف ہوگیا

لیکن وقتاً فوقتاً نظریں ماہا کے چہرے کا بھی طواف کر رہی تھی

کہ تبھی ڈانس کرتا ہوا ایک شخص ماہا کے پاس آیا اور اسے ہاتھ کے اشارے سے سٹیج کی طرف اشارہ کرتا دکھا

جس سے ابتہاج کو اندازہ ہوگیا کہ وہ اسے ڈانس کا کہہ رہا ہے

جس پر ابتہاج کو اپنے دماغ کی شریانیں پھٹتی محسوس ہوئی اس سے پہلے وہ جا کر اس شخص کا حشر بگاڑتا—اس سے پہلے ہی وہ شخص ماہا کے انکار پر پلٹ گیا تھا

ماہا کا انکار سے ابتہاج گردیزی کو اپنے رگ و پے میں سکون سرائیت کرتا محسوس ہوا

دھیمے مگر مضبوط قدم اٹھاتا وہ ماہا کی جانب بڑھا جو اب اپنے ہاتھ دیکھنے میں مگن تھی

“وڈ یو لائک ڈانس ود می” ابتہاج نے ایک ہاتھ پیچھے کمر پر اور دوسرا ہاتھ ماہا کے آگے کرتے ہوئے محبت سے چور لہجے میں ڈانس کی آفر کی تو

ماہا نے اپنی روشن آنکھوں سے اپنے سامنے کھڑے مغرور شہزادے کو دیکھا جو صرف اس کا تھا

مگر وہ ڈانس نہیں کرتی تھی—اور اتنے سارے لوگوں کے سامنے ماہا کو تو سوچ کر ہی پسینے آنے لگے

“ابتہاج ایکچولی میں ڈانس نہیں کرتی—سوری میں نہیں کر سکتی”نظریں جھکا کر مدھم آواز میں کہا تو ماہا کا صاف انکار سن کر ابتہاج نے ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچی

اور جبراً مسکرا کر ماہا کے جھکے سر کو دیکھا

اور اثبات میں سر ہلا کر لمبے لمبے ڈنگ بھرتا وہاں سے غائب ہو گیا

ساری لائٹس آف ہونے پر ماہا نے گھبرا کر اردگرد نگاہ دوڑائی ابھی وہ ڈر کے مارے چیختی کہ سٹیج کے درمیان میں سپوٹ لائٹ آن ہوئی

جہاں ایک کپل کھڑا ہوا تھا—لڑکے پر ماہا کو ابتہاج کا گمان ہوا—اور کچھ ہی دیر میں وہ گمان سچ ثابت ہوا جب ڈانس کرتے ہوئے ابتہاج نے اپنا رخ ماہا کی طرف کیا

جو پھٹی پھٹی نگاہوں سے ابتہاج کو دیکھ رہی تھی

جبکہ سٹیج کے پاس کھڑے لوگ تالیاں مارتے ہوئے ان کے ڈانس کو انجوائے کر رہے تھے

حسد اور رقابت کی لہر ماہا کو اپنے وجود میں سرایت کرتی محسوس ہوئی

جب کہ ابتہاج کی سرد نظریں خود پر محسوس کر کہ ماہا نے اپنا رخ کاؤنٹر کی طرف کر لیا

ایک چور نگاہ پیچھے دوڑائی تو اس لڑکی کو ابتہاج کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے دیکھا

جس پر ابتہاج نے قہقہہ لگایا اور اس لڑکے کو اپنی مضبوط بازو پر گرا کر اس کے کان میں سرگوشی کی

ماہا کی برداشت بس یہی تک تھی

اپنے سامنے رکھی ہوئی ڈرنکس کو پانی سمجھ کر وہ اپنے اندر ابلتے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے انڈیلنے لگی

مگر تھوڑی دیر میں اپنا سر گھومتا ہوا دکھائی دیا تو سر جھٹک کر دوبارا پیچھے دیکھا

جہاں ہر چیز ڈبل نظر آرہی تھی

اپنے لڑکھڑاتے قدم ڈی جے کی جانب بڑھائے

“اے سنو—ڈی جے کو اشارے سے اپنی طرف بلاتے ہوئے کہا تو وہ ماہا کی طرف جھکا

“یہ گانا بند کرو اور کچھ ایسا لگاؤ جو آگ لگا دے”لڑکھڑاتے ہوئے لہجے میں کہا تو ڈی جے نے ماہا کی سرخ ہو رہی آنکھوں کو دیکھ کر اثبات میں سر ہلایا

کہ تبھی گانا چینج ہونے پر اور لوگوں کے کسی کی جانب متوجہ پر ابتہاج نے پلٹ کر دیکھا

آنکھ سرمے نال لدی ہوئی نار دی

کھنچ کھنچ کے نشانے سیدھے ماردی

تیری تھوڑی بوتی داروں آج لگی سونیاں

تھوڑی بوتی داروں آج لگی سوہنیا

تایو گورا مکھ ہویا اگیار ورغا

منڈیاں نوں سولی اوتے ٹنگی رکھدا اے

میرا نکھرا اے تکھی تلوار ورگا

ماہا کو ڈانس کرتے اور سب مردوں کو اس کی جانب متوجہ دیکھ ابتہاج کی رگیں غصے سے تن گئی

تن فن کرتا ماہا کے پاس پہنچا اور اسے بازو سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا

جس سے ماہا لہرا کر کٹی ہوئی ڈال کی طرح ابتہاج کے سینے سے آٹکرائی

ابھی ابتہاج غصہ کرتا اس سے پہلے ہی ماہا نے اپنی بانہیں اس کے گلے میں ڈال کر اسے ساکت کر دیا تھا

مجھے چھوڑی لگے تُو انگار سی

کھنچ کھنچ کے نشانے تبھی مار سی

آجا میرے نال اک واری نچ سوہئینے

میرے نال اک واری نچ سوہنیے

تینوں فیل کروا میں سٹار ورگاں

میوزک کی تیز آواز – فسوں خیز ماحول اور اپنی پناہوں میں نرم نازک خوشبوؤں میں بسا وجود ابتہاج گردیزی کو اپنے حواسوں پر چھاتا محسوس ہوا

مدہوشی کے عالم میں اپنا بازو ماہا کی کمر میں لپیٹ کر اسے خود میں بھینچ کر چہرہ اس کی گردن میں چھپا لیا

اپنا دہکتا ہوا لمس ماہا کی گردن پر چھوڑا تو ماہا نے کسمکسا کر ابتہاج کو دور کرنا چاہا—ابھی ابتہاج گردیزی بہکتا کہ میوزک بند ہونے اور لوگوں کی ہوٹگ اور تالیوں کی آواز پر ہوش میں آکر ماہا سے دور ہوا

جبکہ خمار لیے ہوئی نظریں ماہا کے چہرے پر گڑھی ہوئی تھی

————–

سب سے ایکسکیوز کر کہ جب ابتہاج باہر آیا تو اسے یقین ہو گیا کہ میڈم نے ڈرنک کی ہوئی ہے

ابھی ابتہاج گاڑی کا دروازا کھول کر ماہا کو اندر بٹھاتا کہ اس نے دروازا بند کر کہ اس سے ٹیک لگا کر ابتہاج کو اپنی جانب کھینچا

جس پر ابتہاج منہ کھولیں آج ماہا کا بے باک انداز دیکھ رہا تھا

“ماہا چلو—تم نے ڈرنک کی ہوئی ہے طبعیت خراب ہو جائے گی—ماہا کے ہونٹوں کے اردگرد انگلی پھیرتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہا کیونکہ ماہا کو اس طرح سجے سنورے دیکھ کر ابتہاج گردیزی کو اپنا دل بے قابو ہوتا محسوس ہورہا تھا

“مجھے نہیں جانا گھر یہی رہنا ہے آپ کے ساتھ”—ماہا نے منہ بسور کر کہا تو ابتہاج نے خمار آلود نظروں سے اسے دیکھا

اور ماہا کی کمر میں بازو لپیٹ کر اسے خود میں بھینچا

“آپ مجھ سے پیار نہیں کرتے نا”اپنی مخروطی انگلیوں کو ابتہاج کے وجیہہ چہرے کے نقوش پر پھیرتے ہوئے شکوے بھرے لہجے میں کہا تو ابتہاج نے چونک کر ماہا کو دیکھا

“اور تمہیں کیوں لگا کہ میں پیار نہیں کرتا”—ابتہاج نے مسکراتے ہوئے حیرت سے استفسار کیا

“کیونکہ ہمارا بےبی نہیں ہے نا”مایوسی سے ابتہاج کے کالر پر انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا تو ابتہاج نے منہ کھولے ماہا کو دیکھا

“اور یہ کس نے بتایا ہے کہ بےبی پیار کرنے سے آتا ہے”ابتہاج نے پوچھ کر ہونٹ دانتوں تلے دبایا

“میری فرینڈ کا بےبی ہوا تھا نا تو اس نے بتایا کہ اسے پری دے کر گئی ہے—تو میں نے کہا مجھے کب دے گی—تو اس نے کہا جب تمہارا شوہر تمہیں پیار کریں گا—نشے میں ڈوبی آنکھیں ابتہاج کی گہری آنکھوں میں گاڑھ کر کہا تو ابتہاج کے دل نے بیٹ مس کی

“کتنے بےبی چاہئے میری جان کو” اپنا سر ماہا کے سر سے ٹکاتے—ماہا کی مدھم سانسوں میں گہری سانس بھرتے ہوئے بوجھل لہجے میں سرگوشی کی

تو ماہا نے اپنے دونوں ہاتھ کھول کر بچوں کی تعداد کا بتایا جس پر ابتہاج کا مدھم قہقہہ گونجا

ماہا کے ہونٹوں کو نرمی سے چھو کر پیچھے ہٹا اور ماہا کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں قید کر لیے

اور یہ نہیں بتایا فرینڈ نے کہ پیار کیسے کرنا ہے—ابتہاج نے آنکھیں چھوٹی کرکہ پوچھا تو ماہا نے جھٹ ہاں میں سر ہلایا

تو ابتہاج نے اپنی مسکراہٹ چھپائی

“کیسے”سوالیہ لہجے میں آبرو آچکا کر پوچھا تو ماہا نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھی

جس پر ابتہاج نے اپنے ہونٹوں کو ؤاو کی شیپ میں کیا

اور سمجھ کر اثبات میں سر ہلایا

“تو تمہیں یہ نہیں بتایا جسے بےبی چاہئے ہوتا ہے وہ خود پیار کرتا ہے—ابتہاج نے ماہا کے چہرے پر انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا تو ماہا نے حیرانگی سے دیکھا

“میں آپ کو پیار کروں گی تو آجائے گا بےبی” ماہا نے خوشی اور حیرت کی ملی جلی کیفیت میں کہا تو ابتہاج نے جھٹ اثبات میں سر ہلایا تو

ماہا نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں بھرا جس پر ابتہاج کو حیرت ہوئی—اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ بچوں کے پیچھے اتنی پاگل ہے

ابھی وہ اپنے خیالات سے چونکتا کہ اپنے ہونٹوں پر نرم لمس محسوس ہوا

ماہا ابتہاج کے ہونٹوں کو چھوکر جیسے ہی پیچھے ہٹنے لگی ابتہاج نے اس کی کمر میں ہاتھ لپیٹ کر اسے خود میں بھینچ لیا

اور اپنے ہونٹ ماہا کے ہونٹوں پر رکھ کر گرفت سخت کر دی

جس پر ماہا نے ابتہاج کے کالر کو دونوں ہاتھوں میں دبوچ کر خود کر گرنے سے بچایا

ابتہاج کی شدت پر ماہا کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی

جبکہ ابتہاج مدہوش سا ماہا کے نازک پنکھڑیوں جیسے گلابی بھرے بھرے ہونٹوں پر اپنے شدتیں نچھاور کر رہا تھا

ماہا کی سانسوں میں اپنی دہکتی سانسوں کو —اور ماہا کی مدھم سلگتی سانسوں کو قطرہ قطرہ خود میں انڈیلتے سب کچھ فراموش کر بیٹھا تھا

ماہا کے بگڑے تنفس کو محسوس کر کہ ابتہاج نے نرمی سے اپنے ہونٹ ماہا کے ہونٹوں سے جدا کیا

جس پر ماہا نے گہرے گہرے سانس لیتے اپنا سر ابتہاج کے سینے سے ٹکا دیا –اپنی مخمور نظروں سے ماہا کے کپکپاتے وجود کو دیکھا اور اس کی پشت سہلائی

“پہلے خود تو بڑی ہوجاؤ—اتنی سی شدت پر یہ حال ہے— ابتہاج نے تاسف سے سر ہلاتے ہوئے کہا اور ماہا کا چہرہ اپنے سامنے کیا

اپنی شدتوں کی وجہ سے ماہا کی بکھری لپسٹک کو ہاتھ کے انگھوٹھے سے صاف کیا اور اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ کر اسے گاڑی میں بٹھایا

اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھا تو ماہا نے ابتہاج کے کندھے پر سر ٹکا کر آنکھیں موند لی جسے دیکھ ابتہاج کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی

——————–

صنم بس میں بیٹھی تو اتنے دن کی تھکن کے باعث اس کی آنکھ کب لگی اسے اندازہ ہی نا ہوا

تبھی ایک عورت اس کے ساتھ آکر بیٹھی جبکہ عورت کے ساتھ موجود لڑکا آگے بیٹھ گیا

عورت نے اردگرد نگاہ دوڑا کر اندازہ لگانا چاہا کہ وہ اکیلی ہے یا کسی کے ساتھ جب یقین ہو گیا کہ وہ اکیلی ہے تو مسکراتے ہوئے آگے بیٹھے لڑکے کو دیکھا

اور جب کنڈکٹر پیسے لینے آیا تو اس نے صنم کا کرایہ بھی اپنی طرف سے دیا کہ اسے بھی لگے کہ وہ ان کے ساتھ ہے جس پر کنڈکٹر پیسے لے کر چلا گیا

تھوڑی دیر بعد بس ایک ویران سی جگہ پر رکی تو عورت نے ہڑبڑا کر صنم کو اٹھایا

لڑکی اترو سٹاپ آگیا

جس پر صنم ہڑبڑا کر اٹھی اور اردگرد کا جائزہ لیے بغیر جلدی سے نیچے اتری اور اس کے پیچھے ہی وہ عورت اور لڑکا بھی اترے

حواس اس قدر سلب تھے کہ اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا اور اپنے سامنے انجان جگہ دیکھ صنم کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی

اسے لگا شاید کنڈکٹر نے غلطی سے اتار دیا ہو

ابھی وہ پلٹتی کے بس کے چلنے کی آواز آئی

نہیں روکو مجھے جانا ہے—بس کے پیچھے بھاگتے ہوئے صنم نے کہا تو ان دونوں نے اس کی حالت پر قہقہہ لگایا

جو زمیں بوس ہو چکی تھی

اپنے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس کر کہ صنم نے پلٹ کر دیکھا تو ایک عورت اور لڑکا اس کے پاس کھڑے بغور اسے دیکھ رہے تھے

“یہ کک—کونسی جگہ ہے—مجھے اپنے گھر جانا ہے—اپنی تکلیف بھلائے سسکتے ہوئے کہا تو انہوں نے قہقہہ لگایا

“گھر نہیں رانی اب تجھے اپنے محل میں لے کر جائے گے”لڑکے نے صنم کے بال مٹھی میں دبوچتے ہوئے کہا

جس پر صنم نے سسکتے ہوئے خود کو چھڑوانا چاہا

تبھی اس لڑکے نے ایک رومال صنم کے ناک پر رکھا جا کے باعث وہ کچھ دیر میں ہی حوش خرد سے بیگانہ ہو گئی

کہاں رہ گیا کام چور ابھی تک گاڑی نہیں لایا—اس عورت نے جھنجھلاتے ہوئے کہا

جبکہ اس لڑکے کی حوس ذدہ نظریں صنم کے دلکش وجود کا طواف کر رہی تھی

—————

ماہا کو بانہوں میں اٹھائے جیسے ہی ابتہاج لاونج میں داخل ہوا تو کاشان گردیزی اور صبا گردیزی کی اس پر نظر گئی تو انہوں نے مسکراتے ہوئے اپنے بیٹے کو دیکھا

“لو بیگم یہاں ہم اپنے پوتے پوتیوں کا انتظار کر رہے ہیں—اور یہاں یہ بیگم کو ہی بچہ بنائے گھوم رہے ہیں”—کاشان میں نے ہستے ہوئے کہا تو صبا گردیزی بھی مسکرا دی

“آپ کہ بہو تو پہلے بڑی ہو جائیں پھر بچے بھی آجائیں گے” ابتہاج نے سر جھٹکتے ہوئے کہا تو صبا گردیزی نے مسکراہٹ چھپائی

“تمہیں کیوں چھوٹی لگتی ہے—اچھی بجلی جوان جہاں ہے”—کاشان گردیزی نے بیٹے کو چھیڑتے ہوئے کہا

تو ابتہاج نے ہونٹ بھینچ کر اپنی بانہوں میں سو رہی بیوی کو دیکھا

“وہ انہیں کیا بتاتا کہ اس کی بیوی کس کر کہ پریوں سے بچے مانگ رہی ہے”سر جھٹک کر کاشان گردیزی کو دیکھا جو مسکراتی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہے تھے

“یہ بچپنا کیا کم کے کہ آپ کی بہو کو پانی اور ڈرنک مین فرق نہیں پتا”ابتہاج نے تاسف سے سر ہلاتے ہوئے کہا

تو کاشان گردیزی نے قہقہہ لگایا

“مجھے لگا شاید کچھ اور”

کاشان گردیزی کی بات پر صبا گردیزی نے گھور کر انہیں دیکھا

“تم جاؤ بیٹا تھک گئے ہوگے”—صباء بیگم نے ابتہاج کو دیکھ کر کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلا کر قدم سیڑھیوں کی جانب بڑھائے

کمرے میں لا کر ماہا کو بیڈ پر لٹایا اور خود ڈریسنگ روم میں جا کر کپڑے چینج کیے

اور کبرڈ سے ماہا کے کپڑے نکال کر لایا

بیڈ پر ماہا کے قریب بیٹھ کر اس کے سراپے پر نگاہ دوڑائی

ہاتھ بڑھا کر سر پر لپیٹا حجاب اتارا

تو جسم کی رعنائیاں واضح ہونے لگی جس پر ابتہاج کو اپنے گلے میں کانٹے چبتے محسوس ہوئے

اپنی بے لگام ہوتی آنکھوں اور جزبات پر بندھ باندھ کر لائٹ آف کہ اور پھر بنا کسی ہچکچاہٹ کے ماہا کا ڈریس چینج کیا

سائیڈ لیمپ ان کر کہ ماہا کے قریب ہی نیم دراز ہو کر اسے بانہوں میں بھنچ لیا

جبکہ ہونٹوں پر ماہا کی باتیں سوچتے دلکش مسکراہٹ رقص کرنے لگی

—————–

صنم کی آنکھ کھلی تو خود کو ایک خوبصورت سے کمرے میں پایا بیڈ کے اردگرد سفید جالی لگی ہوئی تھی

اپنے چکراتے سر کو سنبھال کر صنم نیچے اتری اور اردگرد نگاہ دوڑا کر جگہ کا جائزہ لینا چاہا

قدم دروازے کے پار سے آتی آوازوں کی جانب بڑھائے

جیسے ہی دروازا تھوڑا سا کھولا تو نظریں سامنے کھڑی لڑکیوں کے ہجوم پہ گئی

جو بیہودہ لباس پہنے سر جھکائے کھڑی تھی

جبکہ سامنے صوفے پر تین مرد اور ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی

یہ لڑکی ہمارے کوٹھے کی سب سے مشہور لڑکی ہے

مرد کو کیسے خوش کرنا ہے بہت اچھے سے جانتی ہے

ایک رات کے پچاس ہزار لیتی ہے

وہ آگے بھی کچھ کہہ رہی تھی مگر صنم کو اپنا وجود بے جان ہوتا محسوس ہوا

جلدی سے دروازا بند کر کہ اس سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی

آنسو تواتر سے بہتے چہرہ بھگو رہے تھے

اپنی بدقسمتی پر دھاڑیں مار مار کر رونے کا دل چاہ رہا تھا

ذلت کا راستہ اختیار کیا تھا تو اب ذلت ہی مقدر بن گئی تھی

جتنا بھاگنے کی کوشش کرتی تھی قسمت اسی ذلت کے پاس لا چھوڑتی تھی

اپنی بے بسی پر روتی وہ سسکنے لگی

——————-

ابھی ابتہاج کو آنکھیں موندیں تھوڑی سی دیر ہوئی تھی کہ اپنے سینے پر ماہا کے ہاتھوں کا لمس محسوس کر کہ آنکھیں کھول کر اسے دیکھا

جو ابتہاج کو گدگدی کرنے کی کوشش کر رہی تھی

ہاتھ بڑھا کر لیمپ اون کیا تو ماہا نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر منہ بسورا

اور اٹھ کر بیٹھ گئی

“تم سو کیوں نہیں رہی”ابتہاج نے نے سنجیدہ لہجے میں کہا کیونکہ ماہا کی نیند کا خمار لیے سرخ آنکھیں اور بہکا بہکا لاپروا سا انداز ابتہاج کے دل میں ہلچل پیدا کر رہا تھا

“باج میرا کھیلنے کا دل کر رہا” ابتہاج کے نام کا قتل کرتے ہوئے کہا تو ابتہاج نے خونخوار نظروں سے ماہا کو گھورا

“نشے میں ہو تو اس کا یہ مطلب تھوڑی ہوا کہ شوہر کا نام بھول جاؤ گی”ماہا کو گھورتے ہوئے کہا تو ماہا نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے ابتہاج کو دیکھا

“باج—باج—باج—باج—باج—ماہا نے بیڈ پر اٹھ کر چھلانگیں لگاتے—ابتہاج کو چراتے ہوئے زور زور سے کہا

تو ابتہاج نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا اور خود کو پیچھے کو نیم دراز ہوگیا

جس کے باعث ماہا—ابتہاج کے سینے پر گری

“اب بول کے دکھاؤ پھر بتاتا ہوں تمہیں”ابتہاج نے گھورتے ہوئے کہا تو ماہا نے رونی شکل بنا کر اسے دیکھا

جس پر ابتہاج نے کمر سے اپنی گرفت ہٹا کر اٹھ کر بیٹھا

“کیا کھیلنے کا دل کر رہا ہے تمہارا”ماہا کے بال کان کے پیچھے اڑستے ہوئے محبت سے چور لہجے میں کہا تو ماہا نے سوچنے کے انداز میں تھوڑی پر انگلی رکھی

جس پر ابتہاج نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا

“پری اور بے بی والی”ماہا نے کافی سوچنے کے بعد جواب دیا تو ابتہاج نے اس کی سوئی ایک ہی جگہ اٹکے دیکھ تاسف سے سر جھٹکا

“کوئی اور گیم نہیں کے کیا”ابتہاج نے جھنجھلاتے ہوئے کہا تو ماہا نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کو دھکا دیتے ہوئے نفی میں سر ہلایا

“آپ پیاری سی پری بنو جو بے بی دے کر جاتی ہے”ابتہاج کے سینے پر انگلیاں پھیرتے ہوئے—خمار آلود نظریں ابتہاج کی آنکھوں میں گاڑھتے ہوئے سرگوشی کی تو ابتہاج کو اپنا دل کانوں میں دھڑکتا محسوس ہوا

“یا مجھ سے بہت سارا پیار کر لو کہ مجھے ایک ساتھ کافی بے بی مل جائے ہم پری کو نا بلائیں”— ابتہاج کی ٹی شرٹ کو گریبان سے کھینچتے ہوئے کہا تو ابتہاج نے اپنے خشک پڑتے حلق کو تر کیا

“آج یہ لڑکی اسے مارنے کا ارادہ کیے بیٹھی تھیں—وہ تو نشے میں بہکی ہوئی تھی مگر ابتہاج گردیزی کو بن پیئے اپنی قربت سے بہکا رہی تھی

“ابتہاج کو کھوئے کھوئے محسوس کر کہ اور اپنی باتوں کے اگنور ہونے پر ماہا نے اپنے دانت ابتہاج کی ناک پر گاڑھ دیے جس پر درد سے بلبلا تے ہوئے ابتہاج نے ماہا کو پیچھے کیا

“اففف ماہا مجھے کھانے کا ارادہ ہے کیا”اپنی ناک کو پکڑتے ہوئے ابتہاج نے کہا

تو ماہا کھکھلا کر ہنس پر

اور ابتہاج کا ہاتھ ناک سے ہٹا کر اس کے قریب ہوئی

“میرا سچی میں دل کرتا ہے آپ کو کھا جاؤ—اپ کہ اس مغرور ناک کو—گال اور ان ہونٹوں کو—بہکے بہکے لہجے میں کہتی ابتہاج کے نقوش کو دیوانوں کی طرح چھو رہی تھی

جس پر ابتہاج کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئی

“تو روکا کس نے ہے کھا لو” ابتہاج نے خمار آلود لہجے میں کھوئے ہوئے کہا تو

ماہا نے اپنا حلق تر کر کہ ابتہاج کے ہونٹوں کو دیکھا

انہیں اپنی مخروطی انگلیوں سے چھوا تو گدگدی سی محسوس ہوئی

اپنے ہونٹ ابتہاج کے قریب کیے تو ابتہاج نے اپنی آنکھیں موند لی

مگر اگلے ہی پل نیند سے جھلاتی ہوئی ماہا اس کے سینے پر گری تو ابتہاج نے گہری سانس بھر کر اسے دیکھا

اور نفی میں سر ہلاتے لائٹ آف کی اور ماہا کو خود میں بھینچ کر سونے کی کوشش کی

——————-

بابا مجھے بتا رہی تھی—کہ تم اور ابتہاج بھائی رات لیٹ نائٹ گھر پہنچی— سمیر نے ہمیشہ کی طرح انگلش کی ٹانگ توڑتے ہوئے کہا تو ماہا پل میں سرخ ہوئی

وہ صبح سے اٹھ کر ابتہاج سے چھپتی پھر رہی تھی اپنی کارستانیاں یاد کر کہ ڈوب مرنے کا دل کر رہا تھا

“ہاں وہاں ان کے کچھ دوست مل گئے تو دیر ہوگئی” ماہا نے نرم لہجے میں کہا تو سمیر نے مسکرا کر اسے دیکھا

میں سن رہی تھی خالا سے کہ برو تمہیں اپنا بازو میں اٹھا کر لائی تھی

سمیر نے سنجیدہ لہجے میں کہا تو ماہا کے چہرے پر پل میں گلال بکھرا

نن—نہیں—مطلب شاید میں تو سو رہی تھی—ماہا نے ہڑبڑا کر جو منہ میں آیا بول دیا

تو سمیر کا قہقہہ گونجا

تم سرمانے کا کوشش کر رہی ہے نا—سمیر نے تنگ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہتے اس کی ٹوٹی پھوٹی اردو سن ماہا کا دل کیا اپنا سر دیوار میں مار کے

اس کی باتیں ایسی تھی کہ نا وہ شرما سکتی تھی نا غصے سے چلا سکتی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *