Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh NovelR50589 Dildar Maseeha e Dil (Episode 06)
Rate this Novel
Dildar Maseeha e Dil (Episode 06)
Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh
ماہا کا نکاح ہو چکا تھا چاروں طرف مبارکباد کا شور تھا اس شو رو غل میں ایک معصوم کی سسکیاں گم ہو کر رہ گئی تھیں ۔۔۔ زندگی نے بھی عجیب کھیل کھیلا تھا کہ سارے پاسے ہی پلٹ دیے ۔۔۔۔۔ ابھی ماہا
اپنی قمست کی ستم ظریفی پر مزید ماتم کرتی جب ابتہاج گردیزی کی بھاری آواز گونجی ۔۔۔۔۔ ابتہاج دلاور صاحب کے سامنے سرخ آنکھوں سے ماہا کو دیکھتا فوری رخصتی کا مطالبہ کر رہا تھا ۔۔۔۔ ابتہاج کی بات پر ماہا سہم کر اپنی ماں کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔ جو خود انجانے خوف لیے دلاور صاحب کو دیکھ رہیں تھیں کہ آخر وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔۔۔۔ دلاور صاحب نے ایک نظر ماہا پر ڈالی اور ابتہاج کا شانہ تھپتھپاتے ہوئے بولے
“بلکل برخوردار لے جاو تمہاری امانت ہے “
ان کے لفظوں پر ماہا بے یقینی سے باپ کو دیکھ رہی تھی جو دو پل میں اس کی زندگی بدل چکے تھے اور اب ۔۔ ایک ان چاہے رشتے میں باندھ کر رخصت کر رہے تھے ۔۔۔۔ ماہا نے شکوہ کناں نظر روتی ہوئی ماں پر ڈالی اور بنا کسی کی جانب دیکھے ٹہرے ہوئے لہجے میں بولی ۔۔۔۔ میں تیار ہوں رخصتی کے لیے لیکن میری ایک شرط ہے۔۔۔۔۔ ماہا کی بات پر ابتہاج کے ماتھے پر بلوں کا اضافہ ہوا اس نے اوپر سے نیچے تک ماہا کو دیکھا ۔۔۔۔ اتنی سی لڑکی ا”ابتہاج گردیزی “کے سامنے شرائط رکھ رہی تھی
ماہا نے اس کی نظروں پر دھیان نہ دیا ور نہ کب کی بیہوش ہو جاتی
“میری یہ شرط ہے کہ اس گھر سے رخصت ہونے کے بعد میں اس گھر کے ہر فرد کے لیے مر جاونگی خواہ وہ کوئی بھی ہو ۔۔۔۔۔ میں مر بھی جاوں تو میرے گھر والوں کو میرا جنازہ نہ دیکھنے دیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
اس نازک سی لڑکی کی بات پر جہاں ابتہاج ششد ر سا اسے دیکھ رہا تھا وہیں دلاور صاحب اور منیبہ بیگم پتھر کی مورت بنے سامنے کھڑی ماہا کو دیکھ رہے تھے اس۔۔ وقت سب سے زیادہ برا حال دلاور صاحب کا تھا ۔۔۔۔۔ وہ تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے ماہا اتنی بڑی بات اتنی آسانی سے کر جائے گی ۔۔۔ اس کا چہرہ اس وقت ہر تعصر سے خالی تھا جیسے تمام حسیں ختم ہو چکی ہوں ۔۔۔۔
ماہا نے ایک غلط نگاہ کسی پر نہ ڈالی اور ابتہاج کے پیچھے قدم بڑھانے لگی ۔۔۔ دلاور صاحب نے سر پر ہاتھ رکھنا چاہا پر ماہا پیچھے ہٹ گئی ۔۔۔۔آج اس گھر میں اگر کسی کی موت ہوئی تھی تو وہ “ماہا دلاور شاہ”کے جذبوں کی اس کی امیدوں کی اس کے خوابوں کی ۔۔۔آہ ۔۔۔۔ بس یہ نازک سی گڑیا کسی مطلب پرست کی خودغرضی کی نظر ہو گئی ۔۔۔ منیبہ بیگم دروازے تک آئیں پر ماہا نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا
مسز گردیزی نے انہیں تسلی دی کہ جو ہونا تھا وہ تو ہو ہی چکا ہے اب بس اچھے نصیبوں کے لیے دعا کرو ۔۔۔
ماہا گاڑی میں بیٹھ چکی تھی ڈرائیونگ سیٹ پر ابتہاج اور کاشان گردیزی جبکہ بیک سیٹ پر ماہا اور مسز گردیز ی تھیں ۔۔۔۔۔پندرہ منٹ کی مسافت کے بعد گاڑی ایک شاندار محل کے آگے رکی ۔۔۔ ابتہاج بنا کچھ بولے جھٹکے سے دروازہ کھولتا باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔ مسز گردیزی کو ابتہاج کی حرکت پر جی بھر کے تاو آیا آخر کیسے وہ نئی نویلی دلہن کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے ۔۔۔۔ کاشان گردیزی بھی پریشان تھے کہ کہیں جلد بازی میں غلط فیصلہ تو نہیں کر بیٹھے انہوں نے ماہا کے سر پر ہاتھ رکھا اور اسے بازوں کے گھیرے میں لیے اندر چلے آئے پورا گھر رنگارنگ روشنیوں سے جگمگا رہا تھا ۔۔۔۔ پر ماہا تو بے حس بنی ان کے ساتھ چلے جارہی تھی اسے کیا سروکار تھا ان چیزوں سے اس کے پاس کچھ ہوتا ۔۔۔ تو اسے محسوس ہوتا ایک ہی دن میں وہ تو ساری زندگی کی جمع پونجی اپنے ماں باپ لٹا چکی تھی ۔۔۔۔ اور ستم یہ کہ لب پر خاموشی کا قفل ضروری تھا ورنہ کہا ں جاتا ماں باپ کا مان ۔۔۔۔۔ جس کے خاطر یہ سب ہوا ۔۔۔۔۔ ماہا کے اندر باہر صرف تلخی پھیل چکی تھی ۔۔۔ ہوش تو اسے تب آیا جب صباء گردیزی اسے اپنے ساتھ لیے ایک سجے سجائے کمرے میں لے آئیں کمرہ اپنی خوبصورتی کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔۔۔۔ ہر چیز یہاں رہنے والے شخص کے اعلی زوق کی نشاندہی کر رہی تھی ۔۔۔ ماہا کی نظر سیدھا گلاب کے پھولوں سے سجے بیڈ پر پڑی اس کی سانسیں سینے میں ہی کہیں دب گئیں ۔۔۔۔۔ یہ سوچ ہی اسے ختم کرنے کے لیے کافی تھی کہ آج وہ کسی اور کی نہیں اپنی بہن کی جگہ بیٹھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ صباء بیگم نے ماہا کو بیڈ پر بٹھایا اور اس کے ہاتھ تھامتی سمجھانے کے انداز میں گویا ہوئیں ۔۔۔۔
“دیکھو میرا بچہ میری اپنی کوئی بیٹی نہیں لیکن ایک عورت ہونے کے ناتے اس وقت تمہاری جو حالت ہے میں اسے بخوبی سمجھ سکتی ہوں لیکن جو ہونا تھا ہو چکا اب اسے ایک برا خواب سمجھ کر بھولنے کی کوشش کرو ۔۔۔ ورنہ سوائے پچھتاوے کے کچھ ہاتھ نہیں آنا۔۔۔ میرا بیٹا غصے کا تیز ہے لیکن اس کا دل صاف ہے آئینے کی طرح ۔۔۔۔ اپنے دل میں کبھی کوئی بد گمانی مت لانا ۔۔۔ ہم بھی تمہارے والدین کی طرح ہیں ۔۔۔۔ “
ان کی باتیں ماہا کے دل کو خون خون کر گئیں تھیں سگے ماں باپ نے تو کوئی اہمیت نہ دی اور ۔۔۔ یہاں اب اس کے سامنے بیٹھی وہ پر وقار عورت اسے ماں کا لمس محسوس کرانا چاہ رہی تھی پر وہ تو ہر احساس سے عاری تھی ۔۔۔ کچھ محسوس ہوتا تو کرتی ۔۔۔۔
صباء بیگم نے اس کی پیشانی چومی اور ابتہاج کو بھیجنے کا کہہ کر چلی گئیں ۔۔۔۔۔
_______
صنم گھر سے نکل کر سیدھا روکی کے فلیٹ میں آئی تھی جہاں روکی بڑی بے چینی سے اس کا ہی انتظار کر رہا تھا صنم کو دیکھتے ہی روکی اس کی جانب لپکا اور اسے باہوں میں بھر لیا ۔۔۔۔۔ صنم اس کی اچانک پیش و رفت پر گڑ بڑا کر اپنا آپ چھڑا گئی روکی نے بھی بنا کوئی بات کیے اسے خود سے الگ کیا اور بیتابی سے اس سے پوچھنے لگا
“صنم تم پراپرٹی کے پیپرز تو لائی ہو نہ ۔۔۔”
روکی کی بات ہر صنم نے مسکراتے ہوئے کچھ پیپرز نکال کر روکی کے سامنے لہرائے جنہیں دیکھ کر روکی کی آنکھوں میں چمک بڑھ گئی تھی ۔۔۔۔ یعنی اس کا پلین کامیاب رہا تھا ۔۔۔۔
روکی نے جھپٹنے کے انداز میں اس کے ہاتھ سے پیپرز لیے اور غور سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔ پر جلد ہی سمبھل کر صنم کو دیکھا جو اسے ہی نہار رہی تھی ۔۔۔۔۔ روکی نے صنم کو کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کیا اور اس کے چہرے پر جھولتی آوارہ لٹوں کو اپنے ہاتھ سے پیچھے کرنے لگا صنم اس کی حرکت پر ساکت سی اسے پیچھے دھکیلنے لگی جب روکی کی خمار آلود آواز اس کے کانوں میں پڑی ۔۔۔. .
“جانم میری صنم ۔۔۔ آج میں بہت خوش ہوں مجھے میری صنم مل گئی مجھےا ب اور کچھ نہیں چاہیے روکی صنم کو ایسے ہی اپنے حصار میں لیے کھڑا تھا صنم نے اپنی پوری طاقت سے اسے دھکا دیا ۔۔۔۔ وہ جتنی بھی بولڈ سہی لیکن اس طرح بغیر کسی رشتے کے روکی کے اس قدر قریب جانا اسے بری طرح جھنجھوڑ گیا تھا ۔۔۔
صنم روکی کی آنکھوں میں بڑھتی سرخی سے سہم کر اسے نرمی سے سمجھانے لگی
“روکی میں تمہاری ہی ہوں ۔۔۔۔ مجھے تم پر پورا یقین ہے لیکن. روکی بس تم میری خوشی کے لیے جلدی سے نکاح کر لو تاکہ میں اور تم اپنی ساری زندگی ایک ساتھ گزار سکیں ۔۔۔ پھر ہمیں کوئی بھی الگ نہیں کر پائے گا “
صنم۔کی آواز محبت سے چور تھی ۔۔۔ اس کے ارد گرد صرف روکی کی محبت تھی جس کی اسے بہت بھاری قیمت چکانی تھی ۔۔۔۔ محبتیں کبھی رسوا نہیں کرتیں رسوا انسان کی نیت کرتی ہے محبت میں آپ کتنے اچھے ہیں یہ ضروری نہیں لیکن آپ کی نیت آپ کا دل کتنا پاک ہے یہ ضروری ہے اور جب محبت ہی کھوٹ ہو کسی کے جذبات کا قتل کر کے اپنی نام نہاد محبت کا مینار سجایا گیا ہو ۔۔۔تو پھر رسوائی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا ۔۔
_______
ماہا ابتہاج کے کمرے میں سکڑِ ی سمٹی سی بیٹھی تھی جب اچانک کلک کی آواز سے دروازہ کھلا ۔۔۔ماہا کی سانسیں رک سی گئی تھیں بھاری قدموں کی چاپ اپنے قریب محسوس کرکے ۔۔۔۔ دل کے دھڑکنیں جیسے ساکت ہونے کو تھیں
ابتہاج نے خون آشام نظروں سے اپنی سیج پر بیٹھی ماہا کو دیکھا جو گھونگھٹ ڈالے اسی کے انتظار میں تھی ابتہاج کا خون فشار بلند ہو چکا تھا اسے رہ رہ کر صنم کی بیو فائی یاد آرہی تھی پہلی بار ۔۔۔۔ زندگی میں پہلی بار اس نے کسی شخص کو اپنی زندگی میں لانے کا سوچا تھا اس کے ساتھ سہانے سپنے بنے تھے پر ۔۔۔ آخر میں ملا کیا صرف دھوکا ۔۔۔۔ کیسے ۔۔۔ وہ کسی اور سے محبت کر سکتی تھی ۔۔۔ ابتہاج چار قدموں کا فاصلہ ایک قدم میں طے کرتا ماہا کے سر پر آکھڑا ہوا اور ایک ہی جھٹکے سے اس کا بازو کھینچ کر بیڈ سے اتار دیا ۔۔۔ ماہا کو ابتہاج کی انگلیاں اپنے بازو میں پیوست ہوتی محسوس ہوئیں ۔۔۔ تکلیف سے اس کی آنکھیں بھر آئیں تھیں ۔۔۔۔ جب ابتہاج گردیزی نے ماہا کے کان میں صور پھونکا
“ہمت تو بہت دکھائی ہے ویسے اپنی اوقات سے بھی زیادہ ۔۔۔۔ مجھے آج محسوس ہوا کہ میں کتنا بڑا بیوقوف تھا نہ جو تمہاری بہن کی محبت میں پڑا ۔۔۔ جبکہ حقیقت تو کچھ اور ہی تھی ۔۔۔۔ ارے تم بہنوں نے تو طوائفوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔۔۔ ایک بہن جو اپنے ہی نکاح سے اپنے یار کے ساتھ بھاگ گئی اور دوسری اسی کے ہونے والے شوہر کی سیج سجا کر بیٹھی ہے ۔۔۔۔. آفرین ہے تم بہنوں پر ۔۔۔۔ ویسے مجھ سے پہلے کتنے لوگوں کی منظور نظر رہ چکی ہو . . آخر ہو تو اسی نامزاد کی بہن ۔۔۔ جس نے میری روح کو ایسا زخم دیا ہے جس کی ٹیسیں اب ساری زندگی تم بھگتو گی ۔۔۔ بہت شوق چڑھا تھا نہ میری سیج سجانے کا تو آج میں صحیح معنوں میں تمہیں سیج سجانے کا مطلب سمجھاوں گا ۔۔۔۔
ابتہاج کے ایک لفظ نے ماہا دلاور شاہ کی ذات کے پر خچے اڑا کر رکھ دیے تھے اس کی ذات بے معنی کر دی تھی ۔۔۔۔ وہ بدکردار تو نہ تھی پر جو سزا ماں باپ نے چنی تھی اسے بھگتنا تو ہر حال میں تھا
ماہا کی ہچکیاں بندھ گئیں تھیں ۔۔۔ پر ابتہاج اب بھی خاموشی سے اپنی سرخ آنکھیں اس کے دلہن بنی سراپے پر ٹکائے ہوئے تھا کھڑی ستوان ناک ،بھیگی گھنیری پلکیں ،نازک پتلے ہونٹ گندمی رنگت ۔۔۔ آخر ایسا کیا تھا جو مام ڈید نے اسے میرے لیے چنا ۔۔۔۔ ابتہاج نے کوفت زدہ ہو کر اس کا رونا دیکھا اور بلکل اچانک ہی اسے باہوں میں بھرے اپنے بیڈ کی طرف لیجانے لگا ۔۔۔۔ ماہا کا دل اس کے اگلے قدم کو سوچ کر ہی پھٹا جا رہا تھا وہ بری طرح سے جھٹپٹاتی ابتہاج سے دور جانے کے لیے مزاحمت کرنے لگی پر ابتہاج نے اس کی چیخوں کو نظر انداز کرتے بیڈ پر پٹخا اور الماری کی جانب بڑھ گیا وہ جو سمجھ رہی تھی کہ ابتہاج آج اس سے صنم کا بدلہ لیکر رہے گا اسے الماری کی جانب بڑھتے دیکھ منہ پر ہاتھ رکھے اپنی سسکیاں دبانے لگی ۔۔۔۔ ابتہاج مڑا تو اس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت لکڑی کا ڈبہ تھا ۔۔۔۔ ماہا نے اپنی بھیگی پلکیں اٹھا کرا س کی طرف دیکھا ابتہاج نے وہ بوکس ماہا کے سامنے رکھا اور پاسورڈ لگا کر وہ لاک کھولا ۔۔۔ جیسے ہی ماہا کی نظر بوکس کے اندر پڑی شے پر پڑی اس کی آنکھیں چندھیا سی گئیں وہ بیش قمیت لاکٹ تھا جو نیلے اور کالے ہیروں سے جڑا ہوا تھا بڑی خوبصورتی سے اس میں ابتہاج کا اے اور صنم کا ایس لکھا ہوا تھا ۔۔۔ ماہا اس کی ساری کاروائی بڑے غور سے دیکھ رہی تھی ۔۔ ابتہاج نے وہ لاکٹ بوکس سے نکالا اور ماہا کی گردن کی زینت بنا دیا ماہا ششدر سی اسے دیکھ رہی تھی جس کی آنکھیں سرد تاثر لیے اسی کو نہار رہی تھیں ۔۔۔۔
ابتہاج نے اس کی آنکھوں میں الجھن دیکھ خود ہی بولنا شروع کیا۔۔۔.
“اب تم جیسی کم عقل لڑکی سوچ رہی ہو گی کہ یہ بیش قیمت لاکٹ میں نے تمہیں کیوں دیا ۔۔۔ تو اب میرے ایک لفظ کو دھیان سے سننا ۔۔۔ یہ لاکٹ تمہاری بھگوری بہن کے لیے بنوایا تھا اب ظاہر ہے اس کی جگہ تم نے میری سیج سجائی ہے تو یہ لاکٹ بھی تمہارا ہوا۔۔۔۔ اور ہاں یہ لاکٹ کبھی تمہاری گردن سے اترا تو زندہ گاڑھ دونگا ۔۔۔ ارے ایسے کیوں دیکھ رہی ہو آخر تمہیں بھی تو پتا چلے تڑپ کیا ہوتی ہے ۔۔۔
ماہا بے یقین نظروں سے ابتہاج کو دیکھ رہی تھی یعبی وہ اسے صنم کے عوض ہر جذبے کو اس کی عزت نفس کو اپنے بدلے کی نظر کرے گا۔۔۔۔۔
ماہا کی نظروں میں بے یقینی تھی ۔۔۔ ابتہاج نے ایک ہاتھ ماہا کی کمر کے گرد ہائل کیا ماہا اگلے ہی پل اس کے حصار میں تھی ابتہاج کے کلون کی تیز مہک نے ماہا کے اوسان خطا کر دیے تھے ابتہاج کی گرفت ماہا کی کمر پر انتہائی سخت تھی ماہا کو لگ رہا تھا اس کی پسلیاں ٹوٹ جائیں گی ۔۔۔۔ ابتہاج نے ماہا کی گردن میں منہ چھپایا ماہا کی سانسیں اور حواس اس کا ساتھ چھوڑنے لگے ابتہاج کی گرم سانسیں ماہا کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑا گئیں تھیں ۔۔۔۔ ماہا کے آنسو روانی سے بہنے لگے اس نے کب سوچا تھا ابتہاج کی اس قدر قربت کا۔۔۔ اس کا سانس بری طرح اکھڑ رہا تھا اس سے پہلے کہ ابتہاج کوئی انتہائی قدم اٹھا کر اسے اپنے بدلے کی آگ میں جھلساتا ماہا ہو ش و حواس سے بیگانہ اس کی باہوں میں جھول گئی ۔۔۔۔ نازک سی جان پہلے ہی اپنوں کے ستم کی ماری تھی ۔ ۔ اوپر سے ہمسفر کے اس قدر بھیانک روپ نے اس کی ذات سے جینے کی خواہش چھین لی تھی ۔۔۔ وہ ہار کے اپنی آنکھیں موند گئی تھی ۔۔۔ جیسے کہہ رہی ہو کہ اپنے ستم کی ہر حد آزما لو میں ۔۔۔ حاضر ہوں ۔۔۔
__________
Epi pr comments and likes krein tbhi mera epi likhny ka dil krta hai thanks readers for your precious words and love ![]()
![]()
#Dildaar_ Masihaye_ Dil
#Episode_No _6_part_2
writer_Faiza_Sheikh
Did’nt copy paste without my permission
ابتہاج نے ماہا کے بیہوش ہونے پر نخوت سے سر جھٹکا ایک پل کو ضمیر نے ملامت کی کہ اس نازک سی جان کا کیا قصور ہے لیکن اگلے ہی پل سارے جذبات انتقام کے جذبے پر غالب آنے لگے ابتہاج نے سائیڈ ٹیبل سے پانی کا جگ اٹھایا اور اسے ماہا پر الٹ دیا پر یہ دیکھ اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ماہا کہ وجود میں بے نام سی جنبش بھی نہ ہوئی وہ ویسے ہی ساکت پڑی تھی اب ابتہاج کو واقعی پریشانی نے آن گھیرا ایک نظر اس کے بکھرے سراپے پر ڈالی ۔۔۔ اسے خود ٙ شرمندگی محسوس ہوئی کہ کیا کرنے جا رہا تھا ۔۔۔ ابتہاج کو یہ تشویش ہوئی کہ اگر اسے کچھ ہو گیا تو اپنے مام ڈیڈ ۔۔۔ کو کیا جواب دیگا
ابتہاج نے جلدی سے اپنے فیملی ڈاکٹر اریبہ کو کال کی جو کہ اس کی کافی اچھی دوست بھی تھیں ۔۔۔ ابتہاج کی ایک ہی کال پر اگلے دس منٹ میں ڈاکٹر اریبہ گردیزی ہاوس میں تھیں ۔۔۔ اریبہ ،ابتہاج کے کہے مطابق سیدھا اسی کے روم میں آئی اور جیسے ہی نظر. بے سدھ پڑی ۔۔۔ ماہا کی جانب اٹھی اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ماہا کی ٹوٹی چوڑیاں ۔۔۔ پھیلا کاجل ،مدہم پھیلی لپسٹک ۔۔۔ اسے یقین کرنے میں دقت ہوئی کہ ۔۔۔ ماہا کی یہ حالت ابتہاج نے کی ہے اریبہ نے انتہائی افسوس سے ماہا کی حالت کو دیکھآ اور ابتہاج سے بعد میں نپٹنے کا سوچ کر ماہا کا ٹریٹمینٹ شروع کیا ۔۔۔۔ ماہا کا پورا جسم بخار کی شدت سے تپ رہا تھا ۔۔۔ اریبہ نے اس کا مکمل چیک اپ کیا اور انجیکشن لگا کر ابتہاج کے سامنے آکھڑی ہوئی ۔۔۔ ابتہاج اب بھی زمین پر نظریں گاڑھے نہ جانے کیا کھوج رہا تھا
“ابی ۔۔۔ مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی یہ کیا حیوانیت دکھائی ہے تم نے۔۔۔ کیسا جاہلوں والا سلوک ہے یہ ۔۔۔ تمہِیں زرا گلٹ بھی نہیں کہ تم نے کیا کیا ہے۔۔۔۔ “
اریبہ نے دکھ سے ماہا کو دیکھتے ہوئے کہا
ابتہاج نے سرخ انگارہ آنکھیں لیے اریبہ کی جانب دیکھا ۔۔۔۔ اور اسے ساری کہانی بتاتا چلا گیا .۔۔۔ جہاں اریبہ کو صنم کی خود غرضی پر ۔۔۔۔ اس سے نفرت محسوس ہوئی وہیں اس کی جگہ ماہا کی حالت دءکھ کر دل سے اس معصوم سی لڑکی پر رحم آیا کیونکہ وہ تو بے قصور تھی ۔۔۔۔ اور کم عمر بھی ۔۔۔ ابتہاج کے چہرے پر پتھریلے تعصرات بتا رہے تھے کہ اس کے ارادے کس قدر خطرناک ثابت ہونے والے ہیں ۔۔۔
ابتہاج نے اریبہ کو باہر تک چھوڑا اور واپس کمرے میں آکر دروازہ لاک کیا ۔۔۔۔
ابتہاج ماہا کے سرہانے بیٹھا اس کے سجے سنورے روپ کو خونخوار نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔۔ کتنی چاہ سے لیا تھا یہ لہنگا میں نے میری خوشیوں کو ۔۔۔ نگل گئی تم ۔۔۔۔۔۔ اگر تم نہ ہاں کرتی نکاح کے لیے تو میں صنم کو ڈھونڈ لیتا ۔۔۔۔
ابتہاج دل میں خود سے مخاطب تھا ۔۔۔۔ جب ماہا۔نے کسمساتے آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔ اس نے آنکھِیں کھولنی چاہیں پر اسے اپنی آنکھوں پر بھاری بوجھ محسوس ہوا ۔۔۔ جیسے کسی نے بھاری پتھر رکھ دیا ہو ۔۔۔ ماہا نے مشکل سے تھوڑی سے پلکیں اٹھا کر اپنے دائیں جانب دیکھا جہاں سے آتی مردانہ کلون کی خوشبو اس کے حواس سلب کر رہی تھی ۔۔۔ پر اپنے برابر میں لیٹے ابتہاج کو دیکھ ۔۔۔اس کا دل دھک سے رہ گیا ۔۔۔۔۔ابتہاج بڑی گہری نظروں سے اس کا جائزہ لے رہا تھا ماہا کی سانس سینے میں ہی کہیں دب کر رہ گئیں ۔۔۔ ابتہاج اسے آنکھیں کھولتا دیکھ اس پر جھکا بڑے غور سے اس کے نقوش میں گھلتی سرخی ملاحظہ کر رہا تھا ابتہاج نے بے درد ی سے ماہا کے کان میں لٹکے آویزے کھینچے ۔۔۔ماہا کی اچانک حملے پر چیخ نکل گئی ۔۔۔۔ ابتہاج کا ہاتھ اب ماہا کے دوسرے کان کی جانب بڑھ رہا تھا جب ماہا بری طرح روتے اسے خود سے دور کرنے لگی ۔۔۔۔ اس کا پورا چہرہ درد سے سرخ پڑ چکا تھا ۔۔۔۔۔ پر ابتہاج تو آج بے حسی کی تمام حدیں پار کر نے والا تھا ماہا کی سسکیاں اس کے کام میں خلل پیدا کر رہی تھیں ابتہاج نے اپنے لبوں سے ماہا کی سسکیوں کا گلا گھونٹا ۔۔۔۔ ابتہاج کے لب جیسے ہی ماہا کے لبوں سے مس ہوئے ماہا کے روم روم میں کرنٹ پھیل گیا سانسیں جیسے سینے میں دب کے رہ گئیں تھیں زندگی میں پہلی بار کوئی مرد اس کے اس درجہ قریب آیا تھا کہ اس کی سانسوں کی تپش اپنی سانسوں میں گھلتی محسوس کر رہی تھی ماہا کی جان تب آدھی ہوئی جب ابتہاج کی شدت میں جنونیت نے پناہ لی ابتہاج اپنا سارا غصہ اپنی تکلیف چھوڑے جانے کا دکھ سب کا حساب ماہا سے لے رہاتھا ماہا نے ہلکان ہوتی جان سے ہمت کر کے اسے خود سے دور دھکیلا اور لڑ کھڑاتے قدموں سے واش میں جاکر بند ہو گئی ۔۔۔۔ ماہا کے جانے کے بعد ابتہاج کو احساس ہوا کہ وہ کیا کر رہا تھا بے ساختہ اس کا ہاتھ اہنے لبوں پر گیا جہاں ٹھری نمی نے اسے ہوش کی دنیا میں لا پٹخا ۔۔۔۔ اس نے نخوت سے سر جھٹکا اور روم سے منسلک سٹڈی روم کی جانب بڑھ گیا واش روم میں بیٹھی ماہا اپنی بے بسی پر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ماہا کپکپاتی ٹانگوں سے اٹھ کر آئینے کے سامنے آگئی اور جیسے ہی نظر اپنے چہرے پر پڑی تو ساکت رہ گئی بکھرا حولیہ پھیلا کاجل کان اور ہونٹوں سے بہتا خون ۔۔۔۔ وہ کسی اور دنیا کی باسی ہی لگ رہی تھی جس سے اس کا سب کچھ چھین لیا گیا ہو۔۔۔ ماہا خود میں چلنے کی بھی ہمت مفقود پا رہی تھی ۔۔۔۔ وہ وہیں دروازے سے ٹیک لگاکر بیٹھی اپنی قسمت پر ماتم کناں تھی پر حیرت کی بات تھی کہ سب اس کی آنکھوں سے ایک آنسو نہ نکلا اسے ابتہاج کے دیے زخموں سے زرا تکلیف نہ ہو ئی جتنا اس کے لفظوں نے اسے ازیت پہنچائی تھی ۔۔۔
اگلے دن ماہا کی آنکھ کھلی تو وہ بیڈ پر سوئی ہوئی تھی ماہا کے دماغ میں رات کی ساری باتیں کسی فلم کی طرح چلنے لگیں اس نے گہرا سانس بھر کر اپنے ساتھ لیٹے وجود کو نظر انداز کرنا چاہا پر ابتہاج گردیزی کی انا کو یہ بھی کہاں گوارہ تھا ابتہاج نے ایک ہی جھٹکے سے اسے خود ہر گرایا ۔۔۔۔ ابتہاج اپنی سرخ گہری آنکھوں سے ماہا کو دیکھ کم گھور زیادہ رہا تھا ایسا ماہا کو لگا کل کے اس کے لفظ ماہا کے دماغ میں گونجنے لگے ماہا نے نفرت سے ابتہاج کی طرف دیکھا اور ہر زور مزاحمت کرنے لگی
دور رہیں مجھ سے نفرت ہے مجھے آپ سے مت گرائیں خود کو اتنا۔۔۔۔ آپ کی شکل سے بھی گھن آتی ہے مجھے کیا چاہتے ہیں مر جاوں میں۔۔ کیوں بار بار میرے سامنے آکر میری روح کی دھجیاں بکھیرتے ہیں مر جاوں گی میں مت کریں۔۔۔۔
ماہابول رہی تھی جب ابتہاج نے گر جدار آواز میں اسے روکا۔۔۔۔۔بسسسسسس ماہاابتہاج بسس اب اگر تم نے ایک لفظ بھی اپنے ان خوبصورت لبوں سے ادا کیا تو میں انہیں کچھ بولنے کے قابل نہیں چھوڑونگا ۔۔۔نفرت کرتی ہو نہ مجھ سے بہت ۔۔۔۔۔ ہاہاہا پر یہ بھول گئی ڈارلنگ تمہارے پور پور پر صرف میرا حق ہے میرا جب دل چاہے کا تم سے راحت حاصل کرونگا اور تم مجھے نہیں روک سکتی۔۔۔۔۔ وہ الگ بات ہے کہ مجھے تم جیسی بدکردار عورت کے وجود میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی۔۔۔۔ تم جیسی عورتیں تو بس دل بہلانے کا سامان ہوا کرتی ہیں ۔,۔۔۔۔جو کسی بھی مرد کی ضرورت پوری کرنے کو ہر وقت تیار رہتی ہیں۔۔۔۔ابتہاج اپنا سارا زہر لفظوں کے ذریعے مہر میں اتار رہا تھا
تم تو سرے بازارررر۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی ابتہاج کچھ اور بولتا جب اچانک کمرے میں چٹاخ کی آواز گونجی ابتہاج نے ششدر سا ماہا کی نظروں میں دیکھا جہاں صرف حقارت تھی ۔۔۔نفرت کی چنگاریاں تھیں اک پل کو ابتہاج کا دل زور سے دھڑکا ۔۔۔ پر دوسرے ہی پل ابتہاج مہر کوبالوں سے گھسیٹتے ہوئے واش روم میں لے گیا اور شاور اون کر دیا سردی میں ٹھنڈا یخ پانی مہر کے جسم کو لرزنے پر مجبور کر رہا تھا لیکن وہ بنا ڈرے ابتہاج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھ رہی تھی
ابتہاج نے داد دینے کے انداز میں آئبرو اچکائی اور کچھ سوچ کر لب تمسخرانہ مسکراہٹ میں ڈھل گئے ۔۔۔
بہت ہمت آگئی ڈارلنگ ۔۔۔۔پر میں جانتا ہوں کہ تمہیں کیسے ٹھیک کرنا ہے ۔۔۔۔۔ابتہاج بولتے ہوئے ماہاکی کان کی کو پر سختی سے اپنے دانت گاڑھ گیا۔۔۔۔۔اس کی حرکت پر ماہانے خاموشی کا قفل چڑھائے اپنے آنسو بہنے سے روکے اب وہ اس بے رحم شخص کے سامنے اپنے آنسو بہا کر بے مول نہیں ہونا چاہتی تھی ۔۔۔
____________________
کے ڈی آج اپنے پرسنل فلیٹ میں آیا تھا جس کا پتا صرف کے ڈی کو تھا یہ ایک کمرے کا منظر ہے جہاں ہر طرف ایک خوبصورت لڑکی کی تصاویر دیوار پر آویزاں ہیں اس کی خوبصورتی کسی بھی مرد کو پل میں گھائل کر سکتی تھی
تم محبت کی سب سے خوبصورت تصویر ہو ۔۔۔ آہہہ پر مجھے خوبصورتی کو قید کرنا پسند ہے بہت جلد تم بھی میری پسندیدہ چیزوں میں شامل ہو جاوگی ۔۔۔ تمہاری خوبصورتی کو ۔۔۔ تمہارا یہ محبوب دن رات سراہے گا ۔۔۔ کتنا دلکش ہوگا وہ لمحہ جب تم ٹوٹ کر مجھے چاہو گی اور میں تم میں اپنے رنگ بھر دونگا ۔۔۔۔۔ ہاہا کیسی پاگلوں جیسی باتیں کر رہا ہوں میں ۔۔۔۔
لیکن میںنن تووو پاگلللل نہی ہوں ۔۔۔ ہاں میں پاگل نہی ہوں میں ننے. تو میں نے تو پیار کیا ہے ہاں بہت پیار کرتا ہوں ۔۔۔ میں میں کبھی نہی چھوڑونگا اسے آنا ہوگا میرے پاس ہر حال میں ہر قیمت پر میری محبت کو اس کی منزل دینی ہوگی ۔۔۔۔۔ میری ہر سانس کو اپنی خوشبو سے مہکانا ہوگا میرے وجود کو اپنی پناہ گاہ بنانا ہوگا ۔۔۔۔۔
میری سانسوں کو جینے کی وجہ دینی ہو گی مجھے بتانا ہوگا کہ تم صرف میری ہو ۔۔۔ صرف میری ۔۔۔۔ میں آرہا ہوں میری ڈول اب تمہیں مجھ سے کوئی الگ نہیں کر پائے گا
______
دو ماہ بعد
روکی نے صنم سے کورٹ میرج کر لی تھی روکی روز صنم کو اپنی بر بریت کا نشانہ بناتا اور پھر استعمال شدہ ٹشو کی طرح ایک کونے میں پٹخ دیتا اس کی حالت بہت بری تھی صنم کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ روکی ایسا نکلے گا آج اسے اپنے باپ کی شدت سے یاد آئی تھی روکی کی ہر غلط حرکت وہ آج تک اپنی محبت میں برداشت کرتی آئی تھی لیکن آج اسی محبت کے ہاتھوں تباہ ہو کر رہ گئی تھی ایک نامحرم کی محبت میں اپنے باپ کو زندگی اور موت کے حوالے کر آئی تھی اس سے برا اور کیا ہو سکتا تھا محبت نے جو کیا ۔۔۔۔ وہ الگ روکی اب آئے دن اپنے ساتھ اپنے شرابی دوستوں کو بھی گھر لانے لگا تھا میری ازیت کا گواہ صرف میرا رب تھا جس کے سامنے میری سانسیں رو ز میرے جسم کا ساتھ چھوڑتیں اور میں ٹھری ڈھیٹ ہڈی کسی بھی طرح نہ مرتی
“درد “کی بہت سی قسمیں ہوتی ہیں
پر درد کی سب سے پر ازیت قسم وہ ہوتی ہے جب انسان کسی پر اعتبار کرتا ہے اس کی توجہ کا طلبگار بن جاتا ہے ہر آہٹ پر نظریں ٹکنے لگ جاتی ہیں محبت دور کھڑی ان منچلوں کے پاگل پن سے محفوظ ہوتی مسکرانے لگتی ہے درد سے۔۔۔ ایسا درد جس کی ابتداء بہت میٹھے زہر سے ہوتی ہے اور انتہا کسی کی سانسوں کے قہر پر ہوتی ہے ۔۔۔ جسم میں جان باقی رہے نہ رہے چاہے جانے کا ارمان باقی رہتا ہے جہاں۔۔ محبت کے باسی فضاوں میں گیت گاتے ہیں وہیں فریبی چہرے ۔۔۔ ان کی ہنسی اڑاتے ہیں ۔۔۔۔ طلب اور مان دو ایسی چیزیں ہیں جن کے لیے انسان کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہوتا ہے
پہلی چیز انسان کو خود سے باغی کرتی ہے تو دوسری ساری دنیا بھلا دیتی ہے ۔۔۔ کسی کی آگ جیسی محبت کسی معصوم کے خوابوں کو نوچ دیتی ہے تو کہیں ۔۔ کسی شہزادی کو موت کے حوالے کیا جاتا ہے
جب آپ کسی کو میسر آنے لگیں تو اس کی نظر میں آپ اپنی قیمت کھو دیتے ہیں پر ہر کسی کو فوری دستیاب ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم پاگل ہیں ۔۔۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کتنے اہم ہیں
