Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh NovelR50589 Dildar Maseeha e Dil (Episode 30)
Rate this Novel
Dildar Maseeha e Dil (Episode 30)
Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh
ماہا دروازہ کھولو یار۔۔۔۔” صنم اور صالح کے جانے کے بعد وہ کب سے دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا مگر ماہا ناں تو دروازہ کھول رہی تھی ناں ہی کچھ بول رہی تھی۔۔ جسکی وجہ سے ابتہاج زیادہ پریشان تھا۔۔
ماہا اگر ابکی بار دروازہ ناں کھولا تو میں پھر سے چلا جاؤں گا اور تم چاہے جو مرضی کر لو میں واپس نہیں آؤں گا۔۔۔
ابتہاج نے آخری پینترا آزمایا اسے یقین تھا کہ ابکی بار وہ دروازہ کھول دے گی ۔ اور ایسا ہی ہوا تھا۔۔
ابتہاج نے لب بھینجتے ماہا کے چہرے پر مٹے مٹے آنسوں کے نشانات دیکھے۔۔
روئی کیوں تم۔۔۔۔۔” اپنے بھاری قدم اٹھائے وہ گھبیر بھاری لہجے میں بولتا ماہا کے قریب ہوا تو ماہا نے قدم پیچھے لیتے اسے دیکھا۔۔۔
کیوں بتاؤں ویسے ہی دل چاہ رہا تھا رونے کو اسی وجہ سے روئی ۔۔۔۔۔ وہ ناک چڑھائے بولی تو اسکے انداز اور یوں روٹھنے پر ابتہاج کے چہرے پر مسکان آئی، وہ قدم بڑھائے اسکے قریب ہونے لگا۔ کہ ماہا نے اسکی کوشش بھانپتے قدم پیچھے کو لیے۔۔۔۔۔ ابتہاج نے ایک دم سے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے اسے تھامنا چاہا مگر ماہا اسکی کوشش کو بھانپتے تیزی سے الٹے قدم چلتی پیچھے کو ہونے لگی کہ معا اسکے پاؤں بری طرح سے مُڑا تھا ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ گرتی ابتہاج کا بھاری ہاتھ اسکی کمر کے گرد حائل ہوتے اسے گرنے سے بچا گیا۔۔۔
ابتہاج نے کھینچتے اسکے بائیں ہاتھ کو اپنی مضبوط گرفت میں لیتے گھومتے اسے سینے سے لگایا ۔۔ ماہا کا دل ڈر سے مسلسل کپکپا رہا تھا ۔۔۔ اگر ابتہاج اسے وقت پر ناں تھامتا تو آج ناں جانے کیا ہو جاتا۔۔۔
ابببب ابتہاج۔۔۔۔۔۔” وہ ڈرتے ابتہاج کے کندھوں کو تھامے حراساں سی بولی تو ابتہاج نے اسکی کمر کو سہلاتے اسے پرسکون کیا، جو اس وقت بالکل ڈری ہوئی تھی۔۔
اشششش کچھ بھی نہیں تم ٹھیک ہو ماہا کچھ بھی نہیں ہوا۔۔۔” اسکا ڈر بھانپتے ابتہاج نے نرمی اسکے معصوم چہرے کو ہاتھوں میں بھرتے کہا تھا جبکہ ماہا نے فورا سے کپکپاتے ہوئے سر نفی میں ہلا دیا۔۔۔
نننن نہیں اگر میں گر جاتی تو میرا ببب بچہ ۔۔۔۔۔ابب ابتہاج ممم مجھے کک نن نہیں یہ ہوتا مم مگر ممم میرا بب بے بی۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ ایک بار پہلے بھی اپنے بچے کو کھو چکی تھی ۔۔۔ اسکا دماغ بالکل سن سا پڑ گیا تھا اسکے دل و دماغ میں صرف ایک بات گھوم رہی تھی کہ وہ پھر سے اپنے بچے کو کھو دیتی۔۔۔۔ “
ماہا میری جان کچھ بھی نہیں ہوا ریلیکس رہو میری جان میری زندگی۔۔۔۔” اس وقت ماہا کو سنبھالنا بہت مشکل ہو رہا تھا ابتہاج کیلئے وہ جانتا تھا کہ وہ کس خوف ڈر کے تحت یہ سب کچھ کہہ رہی تھی۔۔ جبھی تو وہ اسے پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔
ابتہاج نے نرمی سے اسکے گرد اپنا مضبوط حصار بنائے ایک دم سے اسکے پھڑپھڑاتے ہوئے ہونٹوں کو اپنی سلگتی گرفت میں لیا تو ماہا کے باقی کے الفاظ اسکے منہ میں ہی دم توڑ گئے ، ابتہاج نے اسکی کمر کو مضبوطی سے تھامے اسے خود میں بھینجا اور پھر نرمی سے اسے اٹھائے وہ بیڈ کی جانب جاتے اسے بیڈ پر لٹائے ماہا کی سانسوں کو خود میں اتارنے لگا۔۔
ماہا اپنے سینے میں اترتی ابتہاج کی دہکا دینے والی سانسوں کو محسوس کرتے پل بھر میں آسکی قربت میں ی۔۔۔۔ ابتہاج کے لمس میں نرمی تھی وہ اسے محبت سے چھوتے اسکا سارا ڈر خوف نکالنا چاہتا تھا جس میں وہ کامیاب بھی ہوا تھا۔۔
ماہا ابتہاج کی قربت میں سب کچھ بھلائے اسکی محبت کو محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔ ابتہاج اسے پرسکون ہوتا دیکھ نرمی سے اسکے ہونٹوں کو آزادی دیے پیچھے ہوا اور ماہا کے سرخ پڑتے چہرے پر آنسوں کے نشانات دیکھتے ابتہاج نے اپنے ہاتھ کی پشت سے ماہا کے رخسار کو سہلایا۔۔۔ ماہا ابتہاج کے ہاتھ کے سخت لمس کو محسوس کرتے بےچین سی ہوتے اسے دیکھنے لگی جو اسکی آنکھوں میں دیکھتا اپنے ہونٹ ماہا کے رخسار پر رکھتے اسکے انسںوں کے نشانات کو چھونے لگا۔
ماہا نے ڈرتے اسکے غیر متوقع ردعمل پر اچانک ہی اپنے ہاتھ میں بیڈ شیٹ کو دبوچا ،۔۔۔
ابتہاج ماہا کے رخسار کو اپنے ہونٹوں سے چھوتے اسکی تھوڑی پر ہونٹ رکھتے اپنا شدت بھرا لمس اسکی تھوڑی پر چھوڑتا اسے لرزا سا گیا ۔۔۔۔
آج کے بعد تم کسی دوسرے کے لئے تو کیا اپنے لیے بھی ان آنکھوں میں آنسوں نہیں لاؤ گی، ابتہاج نے شدت بھرے لہجے سے کہتے ماہا کی جانب دیکھا، جو آنکھیں موندے مجھے لمبے لمبے سانس لے رہی تھی ۔۔
ابببب ابتہاج آپ نے مجھے کیوں نہیں ملنے دیا تھا وہ آنکھوں میں آنسو لائے اسے خفا نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی تو ابتہاج نے گہرا سانس فضا کے سپرد کیا، میں نہیں چاہتا کہ میرے ہوتے ہوئے تم صنم یا پھر کسی بھی تیسرے انسان کے ساتھ ملو یا پھر ان کے ساتھ کوئی تعلق رکھو تمہارا تعلق ، ساری توجہ صرف اور صرف ابتہاج کی ہے میں تمہیں کسی بھی دوسرے انسان کی طرف صرف اپنی محبت کو بانٹنے نہیں دوں گا وہ ماہا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تو ماہا کو اس کے الفاظ پر شدید غصہ آیا اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ یہ اسی کا ابتہاج کہہ رہا تھا شاید آپ جانتے نہیں ہیں کہ اس سارے عرصے میں صنم اور صالح نے میرا کتنا خیال رکھا ہے اگر وہ میرا خیال نہیں رکھتے تو شاید ہی میں آپ کو سہی سلامت ملتی ، کیونکہ آپ کی دوری نے مجھے بالکل پاگل سا کر دیا تھا انہوں نے مجھے ٹوٹنے نہیں دیا تو پھر آپ کیسے مجھے اس سے ملنے سے روک سکتے ہیں وہ میری بہن ہے آپ ایسا کچھ بھی نہیں کر سکتے میرے ساتھ ۔۔”
ماہا کے لہجے میں بے بسی تھی اسے ابتہاج کے کہے پر یقین نہیں آرہا تھا وہ اسے کیسے صنم سے ملنے سے روک سکتا تھا صنم کی آنکھوں میں بے چینی ، بے بسی کو وہ اب تک نہیں بھولی تھی اس نے غصے بھری نگاہوں سے ابتہاج کو دیکھا جس کا چہرہ بالکل سرد و سپاٹ تھا جیسے اسے ان سب چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا تھا۔۔۔
اب جلدی سے اپنا موڈ فریش کرو ہم ابھی سب سے پہلے ڈاکٹر اور پھر شاپنگ پر جائیں گے۔۔۔ ماہا کے چہرے کو ہونٹوں سے چھوتے وہ بالکل نارمل لہجے میں بولا تو ماہا نے لب بھینج لیے بھلا وہ کیوں ایسا کر رہا تھا۔۔۔ اسکا ابتہاج تو ایسا نہیں تھا وہ تو سب سے محبت کرنے والا تھا مگر پھر وہ کیوں صالح پر چلا رہا تھا اور صنم سے ملنے بھی نہیں دیا ۔۔۔۔۔
بعد میں سوچ لینا جو کچھ بھی سوچنا ہوا میں پورا وقت دوں گا تمہیں سوچنے کا ۔۔۔۔ ابتہاج نے نرمی سے ماہا کے رخسار پر ہونٹ رکھتے کہا تو ماہا فورا سے اسے پیچھے کرتے اٹھی تھی۔۔
___________
صنم پلیز خاموش ہو جاؤ۔۔۔۔۔ وہ جب سے ابتہاج اور ماہا سے ملتے آئے تھے صنم مسلسل رو رہی تھی اسے ابتہاج کے لفظوں نے بہت تکلیف دی تھی۔۔۔ اسے کیا معلوم تھا کہ ابتہاج اسکے متلعق ایسی سوچ پالے ہوئے تھا۔۔۔
ابتہاج نے اچھا نہیں کیا صالح مجھے ماہا سے ملنے نہیں دیا آپ کو بھی کتنی باتیں سنائی۔۔۔ وہ بالکل بدل گیا ہے جانے کیوں وہ اتنی نفرت کرنے لگا ہے ہم سب سے ۔۔۔۔ کس نے اسکے دماغ میں یہ سارا ذہر بھرا ہے۔۔
صنم اسکے کندھے پر سر رکھے مسلسل رو رہی تھی ۔
کتنے مان سے اسنے دلاور شاہ سے کہا تھا کہ وہ ماہا کا خیال رکھے گی مگر ابتہاج تو ایسے اسکی بہن کو لے گیا جیسے وہ اسکے اپنے نہیں کوئ بے گانے ہوں جیسے ان سب کے ساتھ اسکا کوئی بھی تعلق نہیں تھا۔۔۔۔
تم خود سے خاموش ہو جاؤ گی کہ میں اپنے طریقے سے تمہیں خاموش کرواؤں صنم۔۔۔۔۔۔ صنم کا یوں رونا بار بار ماہا کو یاد کرنا صالح کو مزید غصہ دلا رہا تھا۔۔۔۔
وہ جن کا سوچ سوچ کے ہلکان ہو رہی تھی وہ تو صنم کے کئے احسان اسکی محبت کے بدلے بڑے اچھے سے پیسے دے کر اسکا احسان ختم کرنا چاہ رہا تھا۔۔
میں بری ہوں اسی وجہ سے میرے ساتھ برا ہو رہا ہے صالح ۔۔۔۔ مجھے ہر کوئی برا سمجھتا ہے میں مانتی ہوں کہ میں نے غلطی کی ہے اسکی سزا بھی تو مجھے مل چکی ہے اور آپ نے بھی تو مجھے اپنایا ہے پھر کیوں ابتہاج نے ایسا کہا کہ میں اپنی بہن سے نہیں مل سکتی ۔۔ کیوں مجھے معاف نہیں کرتے سب۔۔۔۔۔
وہ سسکتے صالح سے اپنا دکھ بانٹ رہی تھیں جبکہ اسکا یوں رونا صالح کو بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا ۔۔
کیا میں ہی کافی نہیں ہوں تمہارے لئے میں ہوں تمہارے ساتھ ہمیں کسی اور کی کوئی ضرورت نہیں اب بس خاموش ہو جاؤ ورنہ یہ ناں ہو کہ میں کچھ غلط کر دوں ۔۔
اپنے ہونٹوں صنم ہے آنسوں کو چنتے وہ گہرے لہجے میں وارننگ دیتے بولا تو صنم نے اپنی سوجھی ہوئی سرخ آنکھوں سے صالح کی جانب دیکھا ۔۔
جس سے آج تک اسے بے غرض محبت ملی تھی۔۔۔۔۔
اب کوئی رونا دھونا نہیں چلے گا ۔۔۔۔ تم صرف اور صرف ریسٹ کرو گی میں تھوڑی دیر میں واپس آ جاؤں گا تو میں خود ہی تمہارا خیال رکھوں گا مگر تب تک تم ناں تو کچھ فضول سوچو گی ناں ہی اپنے انسںوں ضائع کرو گی۔۔۔
صنم کے ماتھے پر ہونٹ رکھتے صالح نے محبت سے سمجھایا تھا ، جو آنکھیں موندے اسکی محبت کو محسوس کر رہی تھی۔۔
صالح نے نرمی سے اسکے گالوں کو سہلاتے اسے پرسکون کیا تو وہ تھوڑی ہی دیر میں اسکے سینے سے لگی نیند کی وادیوں اتری تھی۔۔۔
صالح نے نرمی سے اسے بیڈ پر لٹائے کمفرٹر برابر کیا ۔۔اور پھر کچھ سوچتے وہ دروازہ بند کیے باہر نکلا تھا۔
__________
اب بس مجھے اور نہیں کھانا۔۔۔۔” وہ منہ بگاڑتے سر زور شور سے نفی میں ہلاتے بولی تو ابتہاج نے محبت سے ماہا کے معصوم چہرے کو دیکھا اور پھر گہرا سانس فضا کے سپرد کرتے وہ پلیٹ اپنی جانب کھینچ گیا۔۔
ابتہاج ہم بابا ماما سے ملنے چلیں وہ کتنے خوش ہوں گے یہ جان کر کہ آپ واپس آ گئے ہیں ، ویسے بھی یہاں کافی سردی ہوتی ہے مجھے واپس جانا ہے ماما بابا کے پاس۔۔۔۔”
ابتہاج نے چئیر کی پشت سے ٹیک لگائے ماہا کو بغور دیکھا ۔۔۔۔ایسے کیا دیکھ رہے ہیں آپ ۔۔۔ وہ مشکوک سی کندھے اچکاتے ہوئے بولی ۔۔
” میں نے کہا تھا کہ میں تمہارے اور اپنے درمیان کسی بھی تیسرے کا ذکر نہیں سننا چاہتا میں اب بھی اپنے کہے پر قائم ہوں۔۔۔”
سرخ رنگ کے پاؤں تک جاتے خوبصورت سے اوور کوٹ میں ملبوس وہ ابتہاج کی بات پر ایک دم سے غصے سے لال پڑتے چہرے سے اسے گھورتے اٹھنے لگی مگر ابتہاج نے اسکا ہاتھ تھامتے اسے دوبارہ سے چئیر پر بٹھایا۔۔۔ ابتہاج اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا تھا اسکی ذہنی حالت کے متلعق سب کچھ جاننے کے بعد وہ اب کافی پرسکون تھا کیونکہ ڈاکٹر کے مطابق اب وہ مکمل طور پر ٹھیک تھی اور ویسے بھی ابتہاج کی موجودگی میں اسے کچھ بھی نہیں ہو سکتا تھا۔
ابتہاج اب کافی مطمئن تھا اسکے بعد وہ اسے بہت ساری شاپنگ کرواتے واپسی پر اپنے ساتھ ہوٹل لایا تھا ۔۔ ماہا اسکے ساتھ اسکی موجودگی میں کافی خوش تھی جیسے اب کوئی بھی دکھ تکلیف نہیں آئے گا اسکے قریب۔۔۔۔
ابتہاج آپ کو کیا ہو گیا ہے آپ ایسے تو نہیں تھے آپ کیوں مجھے کسی سے بھی ملنے نہیں دے رہے ۔۔۔ ماہا کی آنکھوں میں حیرت جھنجھلاہٹ تھی بھلا کہاں اس سے پہلے ابتہاج نے اسے روکا تھا یا پھر اسے کسی بھی اپنے سے ملنے نہیں دیا مگر اب اسکا رویہ اور وہ خود بالکل بدل گیا تھا ۔۔۔ ماہا جانتی نہیں تھی کہ یہ سب وہ اپنے خوف ڈر کی وجہ سے کر رہا تھا۔۔۔۔ اپنے ماں باپ کو کھونے کے بعد اب اس میں اتنی سکت نہیں بچی تھی کہ وہ ماہا کو بھی کھو دیتا ۔۔۔
تم چاہے جو مرضی سمجھو ماہا مگر میں کسی کو بھی تمہارے نزدیک آنے کی اجازت نہیں دے سکتا ، تمہارا ہر لمحہ ساری توجہ سب کچھ میرا ہے میں کسی بھی یہ حق نہیں دوں گا کہ وہ تمہیں مجھ سے دور کرے ، وہ بات گھمائے اپنے خدشات چھپاتے ہوئے بولا۔
جبکہ ماہا کا اب فلحال اس وقت اس سے بات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔ جبھی وہ نارضگی سے منہ موڑے اپنی جگہ سے اٹھی تھی ابتہاج نے گہرا سانس فضا کے سپرد کرتے اسے دیکھا اور پھر خود بھی اسکے پیچھے ہی وہ باہر نکل تھا۔۔
گاڑی میں بیٹھی اپنی خفا بیوی کو دیکھ اسنے لب دانتوں تلے دبائے اسے یقین تھا کہ گھر جاتے ہی ماہا کی یہ ناراضگی ختم ہونے والی تھی وہ مسکراتے اپنی آنکھوں پر چشمہ لگائے گاڑی کی جانب بڑھا ۔۔۔
______________
بابا کیا ہوا ہے آپ کو۔۔۔۔؟” وہ متفکر سا ارسم خان سے ملنے ہوٹل آیا تو اسے انکی خراب طبیعت کے بابت پتہ چلا کہ وہ کافی بیمار ہیں۔۔۔۔ جبھی وہ گھبراتا ہوا سا ڈرتے اندر داخل ہوا۔۔۔۔ جہاں بیڈ پر لیٹے ارسم خان تقریباً بے ہوش سے تھے۔۔۔
صالح نے ڈرتے انکے قریب جاتے انکے بازو کو ہلایا ۔۔۔۔ تو وہ بخار میں پھنک رہے تھے ، صالح انکی اس قدر خراب حالات کو دیکھتے گھبرا سا گیا۔۔۔
صالح نے جلدی سے ڈاکٹر کو کال کرتے انکے پاس بیٹھتے ارسم خان کو جھنجھوڑا تو وہ بمشکل سے آنکھیں کھولتا صالح کو دیکھنے لگا۔۔
صص صالح ممم میرے بچے ۔۔۔۔۔” انکی آواز میں گھلی نمی تڑپ کو محسوس کرتے صالح شرمندہ سا ہوتے رہ گیا۔۔
سوری بابا مجھے خیال کرنا چاہیے تھا آپکا ، آپ کو ایسے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔۔۔۔ وہ شرمندہ سا ہوتے بولا تو ارسم خان نے اپنے ہونٹوں پر آتی مسکراہٹ کو ضبط کیا ۔۔۔۔۔
نہیں میرے بچے ایسا مت کہو میں نے ہمیشہ سے تمہیں نہیں اپنایا کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا شاید اسی وجہ سے میرا رب مجھے سزا دے رہا ہے۔۔۔ ” اپنی بند ہوتی آنکھوں کو کھولنے کی سعی کرتے وہ رندھے ہوئے لہجے میں بے بسی سے بولا تو صالح نے انکے ہاتھ کو تھاما۔۔
ایسا کچھ بھی نہیں،، آپ میرے ساتھ چلیں گے ابھی آج کے بعد آپ اپنے بیٹے کے ساتھ رہیں گے ۔۔۔” صالح نے اسے خاموش کراتے کہا تو محبت بھری نگاہوں سے صالح کو دیکھنے لگے جیسے کہ انہیں یقین نہیں تھا کہ صالح انہیں ساتھ لے جائے گا۔۔۔۔
آئیے ڈاکٹر۔۔۔۔” دروازہ ناک کرتے ڈاکٹر کے اندر آنے پر صالح نے جگہ سے اٹھتے ڈاکٹر کو بلایا۔۔۔ جو ارسم خان کے پاس بیٹھتے ہی اسکا معائنہ کر رہا تھا۔
____________
گاڑی جیسے ہی گیٹ سے اندر داخل ہوتے پورچ میں رکی ، ماہا ایک دم سے بنا کچھ کہے دروازہ کھولتے بھاگتی اندر کی جانب بڑھی۔۔
پورے راستے وہ یونہی خاموش بیٹھی رہی تھی اسکی خاموشی ابتہاج کو بہت چھبی تھی مگر وہ فلوقت کچھ بھی کہتے بات مزید خراب نہیں کر سکتا تھا۔
جبھی وہ اسکی خاموشی اور ناراضگی پر چپ تھا۔۔
کبھی بات نہیں کروں گی اتنے برے ہیں آپ ، مجھے منایا بھی نہیں۔۔۔۔۔ ” وہ بڑبڑاتے ہوئے اندر داخل ہوتے سیڑھیاں عبور کرتے اوپر اپنے کمرے کینجانب بڑھ رہی تھی ۔۔۔جو بھی ہو وہ ناراض تھی اور ابتہاج کا فرض تھا کہ اسے مناتا مگر وہ تو ایسے بنا تھا جیسے کوئی سروکار ہی ناں ہو۔۔۔
اپنے ہاتھ میں تھامے شاپنگ بیگز کو سامنے صوفے پر رکھتے ابتہاج نے اپنی سرخ نظروں سے سیڑھیوں سے اوجھل ہوتی ماہا کی پشت کو گھورا اور پھر کوٹ اتارتے دور صوفے کی جانب اچھالتے وہ چلتا اپنی محسوس دفتار سے ایک ہاتھ سے اپنی شرٹ کے اوپری بٹن کو کھولتا وہ سیڑھیاں عبور کرتے کمرے کی جانب بڑھا ۔۔۔
ابتہاج نے اپنے بھاری قدم دروازے کے قریب روکتے گردن گھمائے آگے پیچھے دیکھا پورے گھر میں عجیب سی خاموشی چھائی تھی۔۔۔۔
اسے اندازہ تھا کہ ماہا یقیناً اندر جاتے سن ہو گئی ہو گی جبھی اسکا ابھی تک کوئی ردعمل نہیں ملا تھا۔۔
وہ مسرور سا ہوتے اپنے لبوں پر دلکش سی مسکراہٹ لیے اپنے بائیں ہاتھ سے ہینڈل گھمائے اندر داخل ہوا۔۔۔
ابتہاج کی نظریں سامنے ہی اپنی جانب پشت کیے ساکن سی کھڑی ماہا کی پشت پر پڑی ۔۔۔
اسنے گردن کو ایک اسٹائل سے گھماتے مڑتے دروازہ لاک کیا ۔تو اچانک سے دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز پر ماہا ہوش میں آئی تھی۔۔اسنے سرخ چہرے سے ہربڑاتے پیچھے کی جانب مڑتے ابتہاج کو دیکھا جس کی سرخ جذبات کی آنچ دیتی گہری نظریں ماہا کے نازک وجود پر ٹکی تھی۔۔
اببب ابتہاج یییی یہ یہ سب ۔۔۔۔ وہ ابھی تک بے یقینی کی سی کیفیت میں تھی۔۔۔ ماہا نے ہاتھ اٹھائے اسے سامنے دیوار کی جانب اشارہ کیے پوچھا تو وہ لبوں پر دلکش سی مسکراہٹ سجائے اپنے بھاری قدم اٹھائے خود سے مخض چند قدموں کےفاصلےپر کھڑی ماہا کی جانب بڑھی ۔۔
یہ سب میری بیوٹیفل وائف کے لیے ایک چھوٹا سا سرپرائز ہے جو کہ مجھ پر ادھار تھا۔۔۔ابتہاج نے قریب جاتے جھٹکے سے اسے گھمائے ماہا کی پشت سینے سے لگائے اسکے کان میں سرگوشی کی تو ماہا۔کے چہرے پر شرمیلی سی مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔۔۔
تھینکس آ لاٹ میری جان مجھے دنیا کی سب سے بڑی خوشی دینے کے لیے ، وہ دونوں ہی سامنے دیوار پر لگی بے بی کی خوبصورت سی تصویر کو دیکھ رہے تھے جب اںتہاج نے مسکراتے محبت سے چور لہجے میں اسکے کان میں سرگوشی کرتے اپنے دہکتے ہونٹ ماہا کے کان کی لو پر رکھے ۔۔۔
اسکے لمس پر ماہا کو جھرجھری سی آئی وہ بشمکل سے سرخ چہرے سے مسکرائی تھی۔
اور یہ میری جان کا انعام ______ ابتہاج نے اپنا ہاتھ ماہا کے پیٹ کے گرد لپیٹتے اسکا رخ اپنی جانب کیا ۔ اسکا اشارہ پورے کمرے اور بیڈ کی جانب تھا جسے بے حد خوبصورتی سے گلاب کی پتیوں سے سجایا گیا تھا۔۔
میں بہت خوش نصیب سمجھتا ہوں خود کو کہ میرے خدا نے تمہاری جیسی نیک صابر اور خوبصورت ہمسفر میرے نصیب میں لکھی۔۔۔۔۔
ماہا کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرے وہ گہری سرگوشی میں کہتا اسکے نازک ہونٹوں پر جھکا اپنی طلب پوری کرنے لگا۔۔۔۔ ہوا میں پھیلی گلاب کے پھولوں کی تیز خوشبو، معنی خیز گہری خاموشی میں ماہا کی سانسیں دھوکنی کی مانند چل رہی تھی۔۔
ایک اور سرپرائز بھی ہے مگر وہ میرے لیے ہے۔۔۔ ابتہاج نے نرمی سے اسکے ہونٹوں کو آزادی دیے جھکتے اپنے ہونٹ ماہا کی گردن پر رکھے تو وہ مچل پڑی ، ابتہاج نے اپنی بڑھی ہوئی شیو ماہا کے گال پر سہلائی۔۔۔
تو ماہا نے مضبوطی سے ابتہاج کے کندھوں کو تھاما۔۔ ابتہاج نرمی سے اسے آزاد کیے واپس پلٹا تھا اور دروازہ کھولتے وہ باہر سے دروازے کے پاس رکھا شاپنگ بیگ اٹھائے واپس اندر آیا ماہا نے سوالیہ نظروں سے ابتہاج کو دیکھا جس کے ہاتھ میں شاپنگ بیگ تھا ۔۔
میں تمہیں اس ڈریس میں دیکھنا چاہتا ہوں ماہا ۔۔۔۔۔۔ پلیز جلدی سے پہن۔کے آؤ ۔۔۔۔۔۔ “
ابتہاج نے فرمائشی انداز میں ماہا کینجانب دیکھتے کہا تو ماہا کی پلکیں لرز پڑی گال ایک دم سے دہک پڑے وہ جانتی تھی کہ آج ابتہاج سے بچ پانا نا ممکن تھا۔۔
اببب ابتہاج ااسسس اس کی کک کوئی ضرورت نن نہیں
۔۔۔ ماہا نے شاپنگ بیگ کو دیکھتے انگلیاں چٹخاتے ہوئے کہا تو ابتہاج نے اپنے قدم مزید آگے بڑھائے۔۔۔
ضرورت ہے ماہا یہ میرا سرپرائز ہے میں تمہیں ان کپڑوں میں دیکھنا چاہتا ہوں اب کوئی ارگیو نہیں تم یہ ڈریس پہن کر ابھی باہر آؤ گی ۔۔۔
نہیں تو میں اندر آ جاؤں گا۔۔۔۔” ابتہاج نے بیگ اسکے ہاتھ میں دیے ماہا کے ہاتھ کو تھامتے اسے چینجنگ روم میں چھوڑا۔۔۔۔
میں انتظار کر رہا ہوں۔۔۔۔” اسکے کان میں سرگوشی کرتے وہ جھکتے ہونٹ اسکی گردن پر رکھتا باہر آیا تھا۔۔۔
ماہا نے کپکپاتے ہاتھوں سے دروازہ لاک کرتے ڈریس کھولا تو اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔ اسنے جھرجھری لیتے اس شارٹ سے سلیو لیس گھنٹوں تک جاتی میکسی کو دور پھینکنا چاہا۔۔۔ کہ ابتہاج کی بھاری آواز نے اسے روک دیا۔۔
” اگر ڈریس پھینکی یا پھر ایسے ہی باہر آنے کی کوشش کی تو پھر مجھ سے کسی بھی قسم کی شرافت کی امید مت رکھنا۔۔۔۔۔ ” ماہا نے لب بھنجتے دروازے کو گھورا جیسے سارا قصور اسی کا ہو۔۔۔۔۔
ممم مگر اببب ابتہاج۔۔۔۔۔” شرم سے اسکا پورا وجود لال انگارہ ہوا پڑا تھا وہ کیسے اس چھوٹے سے ڈریس میں اسکے سامنے چلی جاتی۔۔
کوئی اگر مگر نہیں جلدی سے پہنو اور باہر نکلو۔۔۔۔۔۔ ” ابتہاج نے اسے تیز اونچی آواز میں ٹوکا تو ماہا نے بے بسی سے اس ڈریس کو دیکھا۔۔۔
ابتہاج پچھلے بیس منٹ سے دروازے پر کھڑا ماہا کا ویٹ کر رہا تھا۔۔۔ جو ابھی تک باہر نہیں نکلی تھی۔۔۔۔
ابتہاج نے مڑتے دروازے کو دیکھا اس سے پہلے کہ وہ کچھ وارننگ دیتا دروازہ خود بخود ہی کھلا تھا۔
ابتہاج کی دھڑکنیں ساکت سی ہو گئی وہ ساکت نظروں سے ماہا کو دیکھ رہا تھا ، جو اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے خود کو چھپانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔
ابتہاج کی نظروں میں ایک دم سی جذبات کی سرخی دھر آئی۔۔۔۔ کچھ ماحول میں رقص کرتی معنی خیز خاموشی کی وجہ سے وہ مزید بہک رہا تھا۔۔
ابتہاج نے اپنے بھاری قدم اٹھائے ماہا کے وجود کو حصار میں رکھتے اسکے قریب جاتے اسے ہاتھ سے تھامتے اپنے قریب تر کیا۔۔۔۔
ماہا کپکپاتے ہوئے وجود کے ساتھ ابتہاج کے مضبوط حصار میں کھڑی تھی ۔۔۔۔جس کی بے باک نظریں ماہا کے چہرے سے ہوتے اسکے کپکپاتے ہونٹوں پر تھیں۔۔۔ ابتہاج نے نرمی سے اسے اپنی بانہوں میں بھرا تو ماہا اپنے تیز تیز دھڑکتے دل کو پرسکون کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
ابتہاج نے نرمی سے اسے پھولوں سے سجے بیڈ پر لٹایا تو ماہا خود کو مضبوط بنانے کی سعی کرتی اپنے دونوں ہاتھوں میں بیڈ شیٹ کو دبوچا تھا۔۔۔۔
ابتہاج نے اسکی اکھڑتی سانسوں کو محسوس کرتے اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے اسے دور اچھالا۔۔۔ ابب ابتہاج نے اپنے سلگتے ہونٹ جھکتے ماہا کندھے پر ثبت کیے تو ماہا نے گھبراتے اسے پکارا ۔۔ ابتہاج کی شدتیں اسے خوفزدہ کر رہی تھی ۔۔۔۔
جبکہ ابتہاج اسکے کندھے سے سٹرپس اتارتے اپنے ہونٹوں سے ماہا کے وجود کو معتبر کرتے ماہا کی ریڑھ کی ہڈی میں سرسراہٹ سی دوڑا گیا۔۔
ماہا کے خوف کو محسوس کرتے ابتہاج نے نرمی سے ماہا کے ہاتھوں سے بیڈ شیٹ سے آزاد کرتے اپنی بھاری انگلیاں اسکی نازک انگلیوں سے الجھاتے ماہا کے ہونٹوں کو قید کرتے وہ اسے اپنی قربت میں اپنے نزدیک تر محسوس کرنے لگا۔۔۔ ماہا اپنی سانسوں میں اترتی ابتہاج کی دہکتی سانسوں کو محسوس کرتے بے جان سی ہونے لگی۔۔۔۔
رفتہ رفتہ ابتہاج کی شدتیں اسکی محبت میں وہ اسکے حصار میں قید اپنا آپ اسی کے سپرد کر گئی جو ماہا کے وجود کو اپنی محبت سے چھوتا اسے اپنی محبت سے روشناس کروانے لگا۔۔۔
_____________
صالح آپ ٹھیک تو ہیں۔۔۔۔۔!” صنم جو ابھی ابھی صالح کے ساتھ ارسم خان کو کھانا کھلاتے انکے کمرے سے نکلی تھی صالح کے چہرے پر پریشانی بھانپتے صنم نے صالح کے کندھے پر ہاتھ رکھتے متفکر سے لہجے میں پوچھا۔۔
ہاں کچھ نہیں بس بابا کی طبیعت کا سوچ رہا تھا۔۔۔۔تم پریشان ناں ہو میں ٹھیک ہوں میری جان ، تمہیں میری وجہ سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں میں اپنا خیال رکھ سکتا ہوں۔۔۔۔۔
صنم کے چہرے پر اپنے لیے چھائی پریشانی دیکھ صالح نے اسے کھینچتے خود سے لگایا تھا جو ہر کسی کے لئے یونہی متفکر ہو جایا کرتی تھی۔۔۔ کتنی معصوم سی تھی اس کی شہزادی اسکی صنم۔۔۔۔۔ ہر کسی کیلئے ایسے ہی پریشان ہو جاتی تھی مگر ہر کوئی اسے غلط سمجھتا تھا۔
ایک بات تو بتاؤ کھانا کھایا تم نے۔۔۔۔۔صنم کے سر پر بوسہ دیے اسنے جانچنے کے سے انداز میں اسکے چہرے کو دیکھا۔۔۔۔جو کچھ دنوں سے مرجھائی ہوئی سی تھی ۔
نہیں آپ نے نہیں کھلایا اور آپ نے خود بھی تو نہیں کھایا۔۔۔۔
وہ آنکھیں موندے اسکے چوڑے بازو پر سر رکھتے ہوئے بولی تو صالح کو اس پر جی بھر کر پیار آیا۔۔
اوہہہ تو میڈم صالح اسپیشل طریقے سے کھانا چاہتی ہیں۔۔۔
وہ سر ہلاتے اسے ساتھ لیے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔صنم کا چہرہ شرم سے لال پڑنے لگا ۔۔۔۔
میں نے ایسا تو نہیں کہا تھا ۔۔۔ وہ چوری پکڑے جانے پر منمنائی تو صالح کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔۔۔
میں جانتا ہوں میری بیوی بہت شریف ہے وہ کچھ بھی نہیں کہتی۔۔۔۔۔ صالح نے مسکراتے اسے بیڈ پر بٹھائے اسکی ناک پر لب رکھتے کہا۔۔۔۔
ہم باہر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں ۔۔۔۔۔” وہ اچھے سے جانتی تھی اس انسان کو۔۔۔جبھی جلدی سے اٹھتے بولی تو صالح نے اسے کندھوں سے تھامتے دوبارہ سے بٹھایا۔۔
نہیں میری جان اس گھر میں اب تمہارے ایک عدد سسر کی آمد بھی ہو گئی یے۔۔
اور اسی وجہ سے میں نہیں چاہتا کہ انکے سامنے کچھ ایسا ویسا ہو مطلب کہ ہم اپنے کمرے میں آرام سے کھا سکتے ہیں۔۔
وہ اسے صفائی دیتے آخر میں آنکھ دباتے ہوئے کہتا باہر کی جانب نکلا ۔۔۔
صنم اسکے آنے سے پہلے ہی جلدی سے کپڑے لیے شاور لینے گئی۔۔ تھکاوٹ کی وجہ سے اسکا پورا وجود دُکھ رہا تھا ۔۔۔ چہرہ بھی بالکل ذرد سا پڑ رہا تھا جبھی وہ جلدی سے شاور لینے گئی۔۔۔
صالح نے کمرے میں آتے ہی باتھروم کے بند ڈور کو گھورا۔۔۔۔۔ کیونکہ پانی گرنے کی آواز اسے صاف سنائی دے رہی تھی ۔
صالح ٹرے بیڈ پر رکھتے اسکا انتظار کرنے لگا۔۔۔ اس وقت کیا آفت آن پڑی جو تم ابھی شاور لے رہی ہو۔۔۔۔۔۔ اسکے نکلتے صالح نے غصے سے اسکے قریب جاتے استفسار کیا۔۔۔ تو صنم نے سرخ نظروں سے اسے التجائیہ دیکھا۔۔۔۔
طبیعت بوجھل ہو رہی تھی بس۔۔۔ اسی وجہ سے باتھ لیا۔۔۔۔ وہ نرمی سے اسے سمجھانے کے سے انداز میں دیکھتے بولی ، تو صالح کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے کیا ہوا ٹھیک ہو ناں ۔۔۔۔۔۔ “
صالح دوڑتے اسکے قریب گیا ۔۔۔۔ “ارے کچھ بھی نہیں ہوا مجھے میں ٹھیک ہوں بس تھوڑا سا دل بوجھل ہو رہا تھا۔۔ میں ٹھیک ہوں صالح۔۔۔ صنم جانتی تھی کہ وہ پریشان ہو گا جبھی وہ بتا نہیں رہی تھی۔۔۔
صالح بے چین سا اسے گود میں بھرتے بیڈ پر بٹھائے اسکے قریب بیٹھا۔۔۔
کتنی بار کہا ہے کہ میڈ رکھ لیتے ہیں مگر تمہیں میری کوئی بات سمجھ نہیں آتی ۔۔۔۔۔ مگر اب اور نہیں میں کل ہی کسی میڈ کا بندوست کروں گا ۔۔۔۔مگر صالح اسکی کوئی ضرورت نہیں میں ٹھیک ہوں۔۔ صنم اسکی بات کاٹتے منمنائی تو صالح نے اسے سختی سے چپ کروایا۔۔۔۔
بہت مان لی تمہاری مگر اب اور نہیں ۔۔۔۔۔میں تمہاری اور اپنے بچے کی صحت کے ساتھ کوئی رزک نہیں لے سکتا تو اب مجھے روکنے کی کوشش مت کرنا ۔۔۔۔۔ وہ سختی سے گھورتے بولا تو صنم خاموش سی ہو گئی۔۔۔
صالح بابا اور ماما آ رہے ہیں کل۔۔۔۔۔ صالح جو اسے کھانے کھلانے کے بعد اپنے سینے سے لگائے سلا رہا تھا ، اچانک سے صنم کے بتانے پر اسنے اسے گھورا۔۔
کل کی کل دیکھیں گے اب خاموشی سے سو جاؤ ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔۔۔۔ صالح نے اسکے سر پر ہونٹ رکھتے اسے چپ کروایا تو وہ خاموش سی ہو گئی۔۔۔ صالح نے گہرا سانس فضا میں خارج کرتے اپنے سینے سے لگی اپنی زندگی کو دیکھا جو اپنی ساری تھکاوٹ پریشانی اسکے حصار میں بھلائے آرام سے سو رہی تھی۔۔
صالح کو بے ساختہ ہی اس پر جی بھر کے پیار آیا۔۔۔۔۔ جبھی اسنے مسکراتے اسے خود میں بھینج لیا۔۔
